تفسیر القرآن کریم از عبدالسلام بن محمد
جنت کی دعوت دینے کے بعد اس کی سعادتوں کا ذکر فرمایا۔ اس آیت کریمہ میں {” الْحُسْنٰى “} جو {” أَحْسَنُ“} کی مؤنث ہے، اس کا معنی سب سے اچھا بدلہ ہے اور فرمایا ایک عظیم زائد چیز بھی ہے۔ {” زِيَادَةٌ “} مصدر بمعنی اسم فاعل ہے، اس {” زِيَادَةٌ “} سے مراد اللہ تعالیٰ کا دیدار ہے۔ یہی مفہوم سورۂ نساء (۱۷۳)، نور (۳۸) اور سورۂ ق (۳۵) میں بیان ہو اہے۔ متعدد صحیح احادیث میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کی یہی تفسیر فرمائی ہے، چنانچہ صہیب رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ آیت تلاوت فرمائی: «{ لِلَّذِيْنَ اَحْسَنُوا الْحُسْنٰى وَ زِيَادَةٌ }» اور فرمایا: ”جب جنتی جنت میں اور جہنمی جہنم میں چلے جائیں گے تو اس وقت ایک منادی کرنے والا پکارے گا: ”اے جنت والو! اللہ نے تم سے ایک وعدہ کیا تھا، وہ چاہتا ہے کہ اسے بھی پورا کر دیا جائے۔“ وہ کہیں گے: ” وہ کون سا وعدہ ہے؟ کیا اس نے ہمارے میزان (نیک اعمال کے تول) بھاری نہیں کر دیے؟ کیا اس نے ہمارے چہرے روشن نہیں کردیے، ہمیں جنت میں داخل اور آگ سے محفوظ نہیں کر دیا؟“آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: [فَيُكْشَفُ لَهُمُ الْحِجَابُ فَيَنْظُرُوْنَ إِلَيْهِ، قَالَ: ” فَوَاللّٰهِ! مَا أَعْطَاهُمْ شَيْئًا أَحَبَّ إِلَيْهِمْ مِنَ النَّظْرِ إِلَيْهِ وَلاَ أَقَرَّ بِأَعْيُنِهِمْ] [مسند أحمد: 333/4، ح: ۱۸۹۶۵۔ مسلم، الإیمان، باب إثبات رؤیۃ المؤمنین…: ۱۸۱]”اس وقت ان کے لیے پردہ ہٹا دیا جائے گا اور وہ اپنے پروردگار کا دیدار کریں گے۔“ پھر فرمایا: ”اللہ کی قسم! انھیں اب تک ایسی کوئی نعمت عطا نہیں ہوئی ہو گی جو انھیں اس دیدار سے زیادہ محبوب ہو اور اس میں ان کی آنکھوں کے لیے اس سے زیادہ ٹھنڈک ہو۔“ اس آیت کی تفسیر ایک دوسری آیت اور اس کی تفسیر سے بھی ہو سکتی ہے۔ دیکھیے سورۂ توبہ (۷۲)۔
تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف
تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی
[39] یعنی قیامت کے اس طویل دن میں جس کی مدت اس دنیا کے حساب سے پچاس ہزار برس کے برابر ہے کسی وقت بھی نیک اعمال کرنے والوں کے چہروں پر ایسی سیاہی اور ذلت نہیں چھائے گی جو کفار و فجار کے چہروں پر چھائی ہو گی بلکہ ان کے چہرے تر و تازہ، با رونق اور نورانی ہوں گے۔
تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم
ایک ایک نیکی بڑھا چڑھا کر زیادہ ملے گی ایک کے بدلے سات سات سو تک۔ جنت حور قصور وغیرہ وغیرہ آنکھوں کی طرح طرح کی ٹھنڈک، دل کی لذت اور ساتھ ہی اللہ عزوجل کے چہرے کی زیارت یہ سب اللہ تعالیٰ کا فضل و کرم اور اس کا لطف و رحم ہے۔ بہت سے سلف خلف صحابہ وغیرہ سے مروی ہے کہ زیادہ سے مراد اللہ عزوجل کا دیدار ہے۔
{ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس آیت کی تلاوت کی اور فرمایا: { جب جنتی جنت میں اور جہنمی جہنم میں چلے جائیں گے اور اس وقت ایک منادی کرنے والا ندا کرے گا کہ اے جنتیو! تم سے اللہ کا ایک وعدہ ہوا تھا، اب وہ بھی پورا ہونے کو ہے۔ یہ کہیں گے «اَلْحَمْدُ لِلّٰهِ» ہمارے میزان بھاری ہوگئے، ہمارے چہرے نورانی ہوگئے، ہم جنت میں پہنچ گئے، ہم جہنم سے دور ہوئے، اب کیا چیز باقی ہے؟ اس وقت حجاب ہٹ جائے گا اور یہ اپنے پاک پرودگار کا دیدار کریں گے۔ واللہ کسی چیز میں انہیں وہ لذت و سرور نہ حاصل ہوا ہو گا جو دیدار الٰہی میں ہوگا } }۔ ۱؎ [صحیح مسلم:181]
اور حدیث میں کہ { منادی کہے گا حسنیٰ سے مراد جنت تھی اور زیارت سے مراد دیدار الٰہی تھا }۔ ۱؎ [تفسیر ابن جریر الطبری:17633:سخت ضعیف] ایک حدیث میں یہ فرمان رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے بھی مروی ہے۔ میدان محشر میں ان کے چہروں پر سیاہی نہ ہوگی نہ ذلت ہوگی۔ جیسے کہ کافروں کے چہروں پر یہ دونوں چیزیں ہوں گی۔ [تفسیر ابن جریر الطبری:17633:ضیعف]
غرض ظاہر اور باطنی اہانت سے وہ دور ہوں گے۔ چہرے پر نور دل راحتوں سے مسرور۔ اللہ ہمیں بھی انہیں میں کرے آمین۔
تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں
ولما دعا إلى دار السلام؛ كأن النفوس تشوَّقت إلى الأعمال الموجبة لها الموصلة إليها، فأخبر عنها بقوله: {للذين أحسنوا الحُسنى وزيادةٌ}؛ أي: للذين أحسنوا في عبادة الخالق، بأنْ عبدوه على وجه المراقبة والنصيحة في عبوديَّته، وقاموا بما قدروا عليه منها، وأحسنوا إلى عباد الله، بما يقدرون عليه من الإحسان القوليِّ والفعليِّ: من بذل الإحسان الماليِّ والإحسان البدنيِّ والأمر بالمعروف والنهي عن المنكر وتعليم الجاهلين ونصيحة المعرضين وغير ذلك من وجوه البرِّ والإحسان؛ فهؤلاء الذين أحسنوا لهم الحسنى، وهي الجنة الكاملة في حسنها، وزيادةٌ، وهي النظر إلى وجه الله الكريم، وسماع كلامه، والفوز برضاه، والبهجة بقربه؛ فبهذا حصل لهم أعلى ما يتمنَّاه المتمنُّون، ويسأله السائلون.
ثم ذكر اندفاع المحذور عنهم، فقال: {ولا يَرْهَقُ وجوهَهم قَتَرٌ ولا ذِلَّةٌ}؛ أي: لا ينالهم مكروهٌ بوجه من الوجوه؛ لأنَّ المكروه إذا وقع بالإنسان؛ تبيَّن ذلك في وجهه وتغيَّر وتكدَّر. وأما هؤلاء؛ فكما قال الله عنهم: {تعرِفُ في وجوههم نَضْرَةَ النعيم}، أولئك أصحاب الجنة الملازمون لها هم فيها خالدون، لا يحولون، ولا يزولون، ولا يتغيَّرون.