کتب حدیثالسنن المأثورةابوابباب: مسلمان کی ہتک عزت کرنے والے کی سزا کا بیان
حدیث نمبر: 607
أَنْبَأَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ سَهْلِ بْنِ سَعْدٍ السَّاعِدِيِّ ، أَنَّ رَجُلا اطَّلَعَ مِنْ حُجْرَةٍ مِنْ حُجَرِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، وَفِي يَدِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِدْرًى وَهُوَ يَحُكُّ بِهِ رَأْسَهُ ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " لَوْ أَعْلَمُ أَنَّكَ تَنْظُرُ لَطَعَنْتُ بِهِ فِي عَيْنِكَ إِنَّمَا جُعِلَ الاسْتِئْذَانُ مِنْ أَجْلِ الْبَصَرِ " .
نوید مجید طیب
سیدنا سہل بن سعد ساعدی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے ایک آدمی نے حجرہ رسول صلی اللہ علیہ وسلم میں سوراخ سے جھانکا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ہاتھ میں کنگھی تھی جس سے آپ صلی اللہ علیہ وسلم سر کھجا رہے تھے، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اگر مجھے معلوم ہوتا تم جھانک رہے ہو تو میں تمہاری آنکھ پھوڑ دیتا اجازت طلب کرنا اسی وجہ سے رکھا گیا ہے کہ نظر (کسی کے پردے پر) نہ پڑے۔“
حوالہ حدیث السنن المأثورة / باب ما يحل من هتك حرمة مسلم / حدیث: 607
تخریج حدیث صحیح بخارى، الاستئذان، باب الاستئذان من أجل البصر، رقم: 624، صحيح مسلم، الآداب، باب تحريم النظر في بیت غیرہ، رقم: 2156۔
حدیث نمبر: 608
أَنْبَأَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ أَبِي الزِّنَادِ ، عَنِ الأَعْرَجِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " لَوْ أَنَّ امْرَأً اطَّلَعَ عَلَيْكَ بِغَيْرِ إِذْنٍ فَخَذَفْتَهُ فَفَقَأْتَ عَيْنَهُ مَا كَانَ عَلَيْكَ جُنَاحٌ " .
نوید مجید طیب
سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اگر کوئی بندہ اجازت کے بغیر تیرے گھر جھانکے اور تم اسے کنکری مار کر اس کی آنکھ پھوڑ دو تو آپ کو کوئی گناہ نہیں۔“
حوالہ حدیث السنن المأثورة / باب ما يحل من هتك حرمة مسلم / حدیث: 608
تخریج حدیث صحیح بخاری، الديات، باب من اطلع فى ........ الخ، رقم: 6902، صحيح مسلم، الآداب، باب تحريم النظر في بيت غيره، رقم: 2158۔
حدیث نمبر: 609
أَنْبَأَنَا عَبْدُ الْوَهَّابِ بْنُ عَبْدِ الْمَجِيدِ الثَّقَفِيُّ ، عَنْ حُمَيْدٍ الطَّوِيلِ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ، " أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ فِي بَيْتِهِ ، وَأَنَّ رَجُلا اطَّلَعَ عَلَيْهِ فَأَهْوَى إِلَيْهِ بِمِشْقَصٍ كَانَ فِي يَدِهِ كَأَنَّهُ لَوْ لَمْ يَتَأَخَّرْ لَمْ يُبَالِ أَنْ يَطْعَنَهُ بِهِ " .
نوید مجید طیب
سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اپنے گھر میں تھے ایک آدمی نے آپ کے گھر میں جھانکا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم تیر کا پھل لے کر لپکے جو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ہاتھ میں تھا لگتا تھا اگر آدمی پیچھے نہ ہٹتا تو آپ اس کی آنکھ پھوڑنے کی پرواہ نہ کرتے۔
وضاحت:
➊ کسی کے گھر میں بغیر اجازت جھانکنا ممنوع اور حرام ہے۔
➋ بعض استثنائی صورتوں میں سے ایک یہ بھی ہے کہ آدمی بغیر اجازت جھانکنے والے کو عدالت کے بغیر سزا دے سکتا ہے۔
➌ بنیادی طور پر اجازت نگاہ کی وجہ سے ہے۔
➍ جھانکنے والے کی آنکھ پھوڑنے سے پھوڑنے والے پر دیت نہ ہوگی۔
حوالہ حدیث السنن المأثورة / باب ما يحل من هتك حرمة مسلم / حدیث: 609
تخریج حدیث صحیح بخاری، الديات، باب من أخذ حقه او اقتص دون السلطان، رقم: 6889، صحيح مسلم، الآداب، باب تحريم النظر في بيت غيره، رقم: 2157۔
حدیث نمبر: 610
أَنْبَأَنَا مَالِكُ بْنُ أَنَسٍ ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ يَزِيدَ اللَّيْثِيِّ ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عَدِيِّ بْنِ الْخِيَارِ أَنَّهُ حَدَّثَهُ ، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ بَيْنَمَا هُوَ جَالِسٌ بَيْنَ ظَهْرَانَيِ النَّاسِ إِذْ جَاءَهُ رَجُلٌ فَسَارَّهُ لَمْ نَدْرِ مَا سَارَّهُ حَتَّى جَهَرَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَإِذَا هُوَ يَسْتَأْذِنُهُ فِي قَتْلِ رَجُلٍ مِنَ الْمُنَافِقِينَ ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حِينَ جَهَرَ : " أَلَيْسَ يَشْهَدُ أَنْ لا إِلَهَ إِلا اللَّهُ وَأَنَّ مُحَمَّدًا رَسُولُ اللَّهِ ؟ " فَقَالَ الرَّجُلُ : بَلَى يَا رَسُولَ اللَّهِ ، وَلا شَهَادَةَ لَهُ ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " أَلَيْسَ يُصَلِّي ؟ " قَالَ : بَلَى وَلا صَلاةَ لَهُ ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " أُولَئِكَ الَّذِينَ نَهَانِيَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ عَنْهُمْ " .
نوید مجید طیب
عبید اللہ بن عدی بن خیار رحمہ اللہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی حدیث بیان کرتے ہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم لوگوں میں بیٹھے تھے ایک آدمی نے آکر سر گوشی کی پتہ نہ چلا کیا سر گوشی ہوئی حتی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اونچی آواز میں بات کی تو پتہ چلا کہ وہ ایک منافق کے قتل کی اجازت مانگ رہا ہے تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے جب آواز بلند کی تو فرما رہے تھے: ”کیا وہ کلمہ نہیں پڑھتا؟“ اس آدمی نے عرض کی: ”کیوں نہیں اے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم لیکن اس کے کلمہ کا کوئی اعتبار نہیں“ تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”کیا وہ نمازی نہیں؟“ آدمی نے کہا: ”کیوں نہیں لیکن اس کی نماز کا کوئی اعتبار نہیں“ تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ان ہی لوگوں کے قتل سے مجھے اللہ تعالیٰ نے منع کیا ہے۔“
حوالہ حدیث السنن المأثورة / باب ما يحل من هتك حرمة مسلم / حدیث: 610
تخریج حدیث مؤطا امام مالك، قصر الصلاة في السفر، باب جامع الصلاة، رقم: 84۔
حدیث نمبر: 611
أَنْبَأَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ مُحَمَّدٍ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرِو بْنِ عَلْقَمَةَ ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " لا أَزَالُ أُقَاتِلُ النَّاسَ حَتَّى يَقُولُوا لا إِلَهَ إِلا اللَّهُ ، فَإِذَا قَالُوا لا إِلَهَ إِلا اللَّهُ عَصَمُوا مِنِّي دِمَاءَهُمْ وَأَمْوَالَهُمْ إِلا بِحَقِّهَا وَحِسَابُهُمْ عَلَى اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ " .
نوید مجید طیب
سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”میں اس وقت تک لوگوں سے لڑوں گا جب تک لوگ اقرار نہیں کر لیتے کہ اللہ کے سوا کوئی الہ نہیں جب «لا اله الا الله» کہہ لیں گے تو اپنے خون اور مال مجھ سے بچالیں گے مگر اس کے حق کے ساتھ اور (باطن میں) ان کا حساب اللہ تعالیٰ پر ہے۔“
وضاحت:
➊ جہاد فی سبیل اللہ کا بنیادی مقصد توحید و سنت کی اشاعت اور اعلاء کلمۃ اللہ یعنی غلبہ دین ہے۔
➋ توحید و رسالت کا اقرار کرنے والے کو مسلمان سمجھا جائے گا۔
➌ مال کے محفوظ ہونے کا مطلب یہ ہے کہ ایسے فرد سے قتال نہیں کیا جائے گا اور نہ اس کے مال کو بطور غنیمت لیا جائے گا۔
«الا بحقها» سے مراد وہ جرائم ہیں جن کی وجہ سے کسی کا خون بہانا جائز ہے۔ مثلاً قاتل کو قصاص میں قتل کرنا، شادی شدہ زانی کو سنگسار کرنا، اور ارتداد کی صورت میں مرتد کو قتل کر دینا۔
➎ اسلام ظاہر پر حکم لگاتا ہے، جو کلمہ نماز پڑھتا ہے ظاہری مسلمان ہے اسے قتل نہ کیا جائے گا اس پر اہل اسلام کے احکام نافذ ہوں گے باطن کا معاملہ اللہ کے سپرد ہے روزِ قیامت اللہ چاہے تو معاف فرما دے اور اگر چاہے تو گناہوں کی سزا دے۔
حوالہ حدیث السنن المأثورة / باب ما يحل من هتك حرمة مسلم / حدیث: 611
تخریج حدیث صحيح مسلم، الايمان، باب الأمر بقتال الناس حتى يقولوا ...... الخ، رقم: 20۔