کتب حدیثالسنن المأثورةابوابباب: جہاد کا بیان
حدیث نمبر: 612
أَنْبَأَنَا مَالِكٌ ، عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ ، عَنِ ابْنِ كَثِيرِ بْنِ أَفْلَحَ ، عَنْ أَبِي مُحَمَّدٍ ، مَوْلَى أَبِي قَتَادَةَ , عَنْ أَبِي قَتَادَةَ الأَنْصَارِيِّ ، أَنَّهُ قَالَ : خَرَجْنَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَامَ حُنَيْنٍ فَلَمَّا الْتَقَيْنَا كَانَتْ لِلْمُسْلِمِينَ جَوْلَةٌ ، قَالَ : فَرَأَيْتُ رَجُلا مِنَ الْمُشْرِكِينَ قَدْ عَلا رَجُلا مِنَ الْمُسْلِمِينَ ، قَالَ : فَاسْتَدَرْتُ لَهُ حَتَّى أَتَيْتُهُ مِنْ وَرَائِهِ حَتَّى ضَرَبْتُهُ عَلَى حَبْلِ عَاتِقِهِ ضَرْبَةً ، فَأَقْبَلَ عَلَيَّ فَضَمَّنِي ضَمَّةً حَتَّى وَجَدْتُ مِنْهَا رِيحَ الْمَوْتِ ثُمَّ أَدْرَكَهُ الْمَوْتُ ، فَأَرْسَلَنِي فَلحِقْتُ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ ، فَقُلْتُ : مَا بَالُ النَّاسِ ، فَقَالَ أَمْرُ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ ، ثُمَّ إِنَّ النَّاسَ رَجَعُوا ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " مَنْ قَتَلَ قَتِيلا لَهُ عَلَيْهِ بَيِّنَةٌ فَلَهُ سَلَبُهُ " ، فَقُمْتُ فَقُلْتُ : مَنْ يَشْهَدُ لِي ؟ ثُمَّ جَلَسْتُ ، ثُمَّ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " مَنْ قَتَلَ قَتِيلا لَهُ عَلَيْهِ بَيِّنَةٌ فَلَهُ سَلَبُهُ " ، فَقُمْتُ وَقُلْتُ : مَنْ يَشْهَدُ لِي ؟ ثُمَّ جَلَسْتُ ، ثُمَّ قَالَ فِي الثَّالِثَةِ فَقُمْتُ ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " مَا لَكَ يَا أَبَا قَتَادَةَ ؟ " فَاقْتَصَصْتُ عَلَيْهِ الْقِصَّةَ ، فَقَالَ رَجُلٌ مِنَ الْقَوْمِ : صَدَقَ يَا رَسُولَ اللَّهِ وَسَلَبُ ذَلِكَ الْقَتِيلِ عِنْدِي فَأَرْضِهِ مِنْهُ ، قَالَ أَبُو بَكْرٍ الصِّدِّيقُ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ : لاهَا اللَّهِ إِذًا لا يَعْمِدُ إِلَى أَسَدٍ مِنْ أُسْدِ اللَّهِ يُقَاتِلُ عَنِ اللَّهِ وَعَنْ رَسُولِهِ فَيُعْطِيَكَ سَلَبَهُ ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " صَدَقَ فَأَعْطِهِ إِيَّاهُ " ، قَالَ أَبُو قَتَادَةَ : فَأَعْطَانِيهِ فَبِعْتُ الدِّرْعَ فَابْتَعْتُ بِهِ مَخْرَفًا فِي بَنِي سَلَمَةَ فَإِنَّهُ لأَوَّلُ مَالٍ تَأَثَّلْتُهُ فِي الإِسْلامِ . قَالَ مَالِكٌ : الْمَخْرَفُ : النَّخْلُ . قَالَ أَبُو جَعْفَرٍ : دَفْعُ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ السَّلَبَ إِلَى أَبِي قَتَادَةَ بِإِقْرَارِ مَنْ هُوَ فِي يَدِهِ دَلِيلٌ عَلَى أَنَّ قَوْلَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " مَنْ قَتَلَ قَتِيلا لَهُ عَلَيْهِ بَيِّنَةٌ فَلَهُ سَلَبُهُ " إِنَّمَا أَرَادَ : مَنْ قَتَلَ قَتِيلا وَلَهُ سَلَبٌ لَيْسَتْ عَلَيْهِ يَدُ الَّذِي يَدَّعِي أَنَّهُ قَاتِلُهُ . وَفِي ذَلِكَ مَا يَدُلُّ عَلَى أَنَّ الإِمَامَ إِذَا قَالَ : مَنْ قَتَلَ قَتِيلا فَلَهُ سَلَبُهُ ، فَأُصِيبَ سَلَبُهُ بِيَدِ رَجُلٍ فَقَالَ : هُوَ سَلَبُ قَتِيلٍ قَتَلْتُهُ وَلَمْ يُعْلَمْ ذَلِكَ إِلا بِقَوْلِهِ ، إِنَّ الْقَوْلَ فِي ذَلِكَ قَوْلُهُ . وَفِي قَوْلِ أَبِي قَتَادَةَ بِمَحْضَرِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَتَرْكِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ النَّكِيرَ عَلَيْهِ : مَنْ يَشْهَدُ لِي ، دَلِيلٌ عَلَى أَنَّ الشَّاهِدَ يَكُونُ شَاهِدًا بِمَا عَلِمَ وَإِنْ لَمْ يَسْتَدْعِهِ ذَلِكَ الْمَشْهُودُ لَهُ .
نوید مجید طیب
سیدنا ابو قتادہ انصاری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ غزوہ حنین کے لیے نکلے جب دشمن سے سامنا ہوا تو مسلمانوں میں بھگدڑ مچی میں نے ایک مشرک کو دیکھا کہ ایک مسلمان کو قتل کرنے اوپر چڑھا ہے میں فورا گھوم کر اس کے پیچھے پہنچا تو اس کی گردن پر تلوار دے ماری، وہ میری طرف مڑا اور اس قدر زور سے اس نے مجھے دبایا حتی کہ میری روح نکلنے کو تھی تو اس کو موت نے آدبوچا تب جا کر مجھے اس نے چھوڑا میری ملاقات سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ سے ہوئی میں نے کہا لوگوں کو کیا ہوا سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے کہا اللہ کا حکم، پھر لوگ سنبھلے تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جس نے کسی کافر کو قتل کیا اس پر دلیل لائے اس کافر کا سازو سامان اسے ملے گا۔“ میں کھڑا ہو گیا میں نے کہا میرے حق میں کون گواہی دے گا (کسی نے نہ دی تو) میں بیٹھ گیا پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جس نے کافر مارا ہے دلیل لائے اس کا سازوسامان لے جائے“ میں پھر کھڑا ہو گیا میرے حق میں کون گواہی دے گا؟ (کوئی نہ بولا) تو میں بیٹھ گیا پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے تیسری دفعہ اعلان کیا میں کھڑا ہو گیا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے خود ہی پوچھا: ”ما لک یا ابا قتادہ؟“ ”ابو قتادہ! وہ آپ کا کیا ماجرہ ہے؟“ میں نے قصہ بیان کیا قوم کے ایک آدمی نے کہا اے اللہ کے رسول! قتادہ رضی اللہ عنہ یہ سچ کہہ رہا ہے اس کے مقتول کا سامان میرے پاس ہے اسے میرے حق میں راضی کریں (کہ سامان میرے پاس رہنے دے) تو سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ بول پڑے: ”نہیں اللہ کی قسم! پھر تو کوئی اللہ کا شیر اللہ اور اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف سے نہیں لڑے گا کہ اس کا سامان تجھے دے دیں“ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ابوبکر رضی اللہ عنہ نے سچ کہا، اسے دے دو“ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے سامان ابو قتادہ رضی اللہ عنہ کو لے کر دے دیا سیدنا ابو قتادہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں میں نے زرہ بیچ کر بنی سلمہ کا ایک باغ خریدا اور یہ پہلا مال تھا جو اسلام کے بعد میں نے حاصل کیا مالک رحمہ اللہ کہتے ہیں ”مخرف“ کھجور کے درخت کو کہتے ہیں۔
وضاحت:
➊ غزوہ حنین فتح مکہ کے فوراً بعد آٹھ ہجری کو شوال میں پیش آیا، مسلمانوں کے مد مقابل کفار کے دو جنگجو قبائل ہوازن اور ثقیف تھے۔
➋ غزوہ حنین میں ابتدائی طور پر کفار غالب آئے پھر نصرت الہی سے مسلمانوں کو فتح و نصرت نصیب ہوئی۔ اس کا ذکر کرتے ہوئے اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں: (9-التوبة:25) ﴿لَقَدْ نَصَرَكُمُ اللَّهُ فِي مَوَاطِنَ كَثِيرَةٍ ۙ وَيَوْمَ حُنَيْنٍ ۙ إِذْ أَعْجَبَتْكُمْ كَثْرَتُكُمْ فَلَمْ تُغْنِ عَنكُمْ شَيْئًا وَضَاقَتْ عَلَيْكُمُ الْأَرْضُ بِمَا رَحُبَتْ ثُمَّ وَلَّيْتُم مُّدْبِرِينَ ‎﴿25﴾‏ ثُمَّ أَنزَلَ اللَّهُ سَكِينَتَهُ عَلَىٰ رَسُولِهِ وَعَلَى الْمُؤْمِنِينَ وَأَنزَلَ جُنُودًا لَّمْ تَرَوْهَا وَعَذَّبَ الَّذِينَ كَفَرُوا ۚ وَذَٰلِكَ جَزَاءُ الْكَافِرِينَ﴾ [التوبہ: 25، 26]
یقیناً اللہ تعالیٰ نے بہت سے میدانوں میں تمہیں فتح دی ہے اور حنین کی لڑائی والے دن بھی جب کہ تمہیں اپنی کثرت پر ناز ہو گیا تھا، لیکن اس نے تمہیں کوئی فائده نہ دیا بلکہ زمین باوجود اپنی کشادگی کے تم پر تنگ ہوگئی پھر تم پیٹھ پھیر کر مڑ گئے۔ پھر اللہ نے اپنی طرف کی تسکین اپنے نبی پر اور مومنوں پر اتاری اور اپنے وه لشکر بھیجے جنہیں تم دیکھ نہیں رہے تھے اور کافروں کو پوری سزا دی۔ ان کفار کا یہی بدلہ تھا۔ ➌ میدانِ جہاد میں کافر کو قتل کرنے والے کا سامان (سلَب) قاتل کو ملے گا۔
➍ اسلحہ بیچنا جائز و درست ہے۔
حوالہ حدیث السنن المأثورة / باب الجهاد / حدیث: 612
تخریج حدیث صحیح بخاری، فرض الخمس، باب من لم يخمس من الاسلاب ....... الخ، رقم: 3142، صحیح مسلم، الجهاد والسير، باب استحقاق القاتل سلب القتيل، رقم: 1751۔
حدیث نمبر: 613
أَنْبَأَنَا يُونُسُ بْنُ خَالِدٍ السَّمْتِيُّ ، حَدَّثَنِي عِكْرِمَةُ ، عَنْ إِيَاسِ بْنِ سَلَمَةَ ، عَنْ أَبِيهِ سَلَمَةَ بْنِ الأَكْوَعِ ، قَالَ : كُنَّا مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي غَزَاةٍ غَزَوْنَاهَا ، فَجَاءَ رَجُلٌ طَلِيعَةٌ فَقَتَلَهُ سَلَمَةُ بْنُ الأَكْوَعِ ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " مَنْ قَتَلَ الرَّجُلَ ؟ " قَالُوا : سَلَمَةُ بْنُ الأَكْوَعِ ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " لَهُ سَلَبُهُ أَجْمَعُ " .
نوید مجید طیب
سیدنا سلمہ بن اکوع رضی اللہ عنہ سے روایت ہے ہم نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ہمراہ ایک غزوہ لڑا ایک جاسوس آیا جسے سیدنا سلمہ بن اکوع رضی اللہ عنہ نے قتل کر دیا تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا: ”کس نے قتل کیا؟“ لوگوں نے کہا: سلمہ بن اکوع رضی اللہ عنہ نے تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اس کا سارا ساز و سامان سلمہ بن اکوع رضی اللہ عنہ کا ہے۔“
وضاحت:
➊ یہ غزوہ بنی ہوازن کا واقعہ ہے، جاسوس اونٹ پر آیا، صحابہ رضی اللہ عنہم کے ساتھ کھانا کھایا پھر بھاگنے لگا تو قبیلہ بنو اسلم کا ایک مجاہد سب سے عمدہ سواری پر اس جاسوس کے پیچھے گیا جبکہ سیدنا سلمہ بن اکوع رضی اللہ عنہ پیدل اس کے پیچھے دوڑے تو اونٹنی والے سے پہلے پہنچ گئے، بھاگتے اونٹ کی نکیل پکڑ کر اونٹ کو بٹھا لیا اور جاسوس کی گردن اڑائی۔
➋ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدنا سلمہ بن اکوع رضی اللہ عنہ کا استقبال کیا۔
➌ سیدنا سلمہ بن اکوع رضی اللہ عنہ دنیا کے تیز رفتار آدمی تھے، دوڑتے گھوڑے کو پکڑ لیتے تھے۔
➍ سوار کافروں کو پیدل دوڑ کر تیر کے نشانے لگاتے تھے اور ساتھ فرماتے جاتے: «انا ابن الاكوع واليوم يوم الرضع» [بخاري: 3041] (میں اکوع کا بیٹا سلمہ ہوں اور آج کمینوں کی ہلاکت کا دن ہے)۔
حوالہ حدیث السنن المأثورة / باب الجهاد / حدیث: 613
تخریج حدیث صحیح مسلم، الجهاد والسير، باب استحقاق القاتل سلب القتيل، رقم: 1751۔
حدیث نمبر: 614
عَنْ مَالِكٍ ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ دَخَلَ مَكَّةَ عَامَ الْفَتْحِ وَعَلَى رَأْسِهِ الْمِغْفَرُ ، فَلَمَّا نَزَعَهُ جَاءَهُ رَجُلٌ فَقَالَ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، ابْنُ خَطَلٍ مُتَعَلِّقٌ بِأَسْتَارِ الْكَعْبَةِ ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " اقْتُلُوهُ " .
نوید مجید طیب
سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مکہ میں فتح مکہ کے موقع پر اس حال میں داخل ہوئے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے لوہے کی ٹوپی پہنی تھی جب اتاری تو ایک آدمی آیا کہنے لگا اے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم! ابن خطل کعبہ کے غلاف سے چمٹا ہوا ہے تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اسے قتل کر دو۔“
وضاحت:
➊ معلوم ہوا حرمِ مکی میں بغیر احرام داخل ہونا جائز ہے۔
➋ ابن خطل نے پہلے اسلام قبول کیا بعد ازاں مرتد ہو گیا اور اس نے ایک انصاری صحابی کو بھی قتل کیا تھا۔
➌ امام ابو داؤد رحمہ اللہ فرماتے ہیں: ابن خطل کا نام عبد اللہ ہے اور اس کو سیدنا ابو برزہ اسلمی رضی اللہ عنہ نے قتل کیا تھا۔ [سنن ابی داؤد: 2685]
حوالہ حدیث السنن المأثورة / باب الجهاد / حدیث: 614
تخریج حدیث صحیح بخاری، اجزاء الصيد، باب دخول الحرم ومكة بغير احرام، رقم: 1846، صحیح مسلم، الحج، باب دخول مكة بغير احرام، رقم: 1357۔
حدیث نمبر: 615
أَنْبَأَنَا يُونُسُ بْنُ خَالِدٍ السَّمْتِيُّ ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ بْنِ عُثْمَانَ ، عَنِ الْحَكَمِ بْنِ عُتَيْبَةَ ، عَنْ مِقْسَمٍ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ نَازَلَ أَهْلَ الطَّائِفِ فَنَادَى مُنَادِيهِ : " أَنَّ مَنْ خَرَجَ إِلَيْنَا مِنْ عَبْدٍ فَهُوَ حُرٌّ " . فَخَرَجَ إِلَيْهِ نَافِعٌ وَنُفَيْعٌ ، فَأَعْتَقَهُمَا . سَمِعْتُ الْمُزَنِيَّ يَقُولُ : قَالَ الشَّافِعِيُّ رَحِمَهُ اللَّهُ : كَانَ السَّمْتِيُّ رَجُلا مِنَ الْخِيَارِ فِي حَدِيثِهِ ضَعْفٌ .
نوید مجید طیب
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اہل طائف کے پاس اترے تو آپ نے منادی سے اعلان کروایا: ”جو قلعہ سے غلام اتر کر ہمارے پاس آ جائے وہ آزاد متصور ہوگا“ تو نافع اور نفیع اتر آئے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے دونوں کو آزاد کر دیا۔ امام مزنی رحمہ اللہ کہتے ہیں امام شافعی رحمہ اللہ نے فرمایا: یونس بن خالد اسمتی رحمہ اللہ نیک آدمی ہے، البتہ اس کی حدیث ضعیف ہیں۔
حوالہ حدیث السنن المأثورة / باب الجهاد / حدیث: 615
تخریج حدیث سنن دارمی: 155/2، رقم: 2511، المعجم الكبير للطبراني: 11/ 387، 390، 398، رقم: 12079، 12092، 12118۔
حدیث نمبر: 616
أَنْبَأَنَا عَبْدُ الْوَهَّابِ بْنُ عَبْدِ الْمَجِيدِ الثَّقَفِيُّ ، عَنْ حُمَيْدٍ الطَّوِيلِ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ، قَالَ : سَارَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَى خَيْبَرَ فَانْتَهَيْنَا إِلِيَهَا لَيْلا ، وَكَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا طَرَقَ قَوْمًا لَيْلا لَمْ يُغِرْ عَلَيْهِمْ حَتَّى يُصْبِحَ ، فَإِنْ سَمِعَ أَذَانًا أَمْسَكَ ، وَإِنْ لَمْ يَكُونُوا يُصَلُّونَ أَغَارَ عَلَيْهِمْ حِينَ يُصْبِحُ ، قَالَ : فَلَمَّا أَصْبَحْنَا رَكِبَ وَرَكِبَ الْمُسْلِمُونَ وَخَرَجَ أَهْلُ الْقَرْيَةِ وَمَعَهُمْ مَكَاتِلُهُمْ وَمَسَاحِيهِمْ ، فَلَمَّا رَأَوْا رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالُوا : مُحَمَّدٌ وَالْخَمِيسُ ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " اللَّهُ أَكْبَرُ خَرِبَتْ خَيْبَرُ إِنَّا إِذَا نَزَلْنَا بِسَاحَةِ قَوْمٍ فَسَاءَ صَبَاحُ الْمُنْذَرِينَ " ، قَالَ أَنَسٌ : وَإِنِّي لَرَدِيفٌ لأَبِي طَلْحَةَ وَإِنَّ قَدَمَيَّ لَتَمَسُّ قَدَمَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ .
نوید مجید طیب
سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم رات کے وقت خیبر کی طرف گئے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب رات کو کسی قوم تک پہنچتے تو ان پر حملہ نہ کرتے حتی کہ صبح کر لیتے اگر اذان وہاں سُنتے تو حملہ سے رک جاتے اگر وہ نمازی نہ ہوتے تو صبح ہوتے ہی اُن پر حملہ کر دیتے۔ سیدنا انس رضی اللہ عنہ کہتے ہیں جب ہم نے صبح کی، مسلمان سوار ہوئے بستی والے باہر نکلے ان کے ساتھ ان کی ٹوکریاں اور کدالیں تھیں جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا تو کہنے لگے محمد صلی اللہ علیہ وسلم لشکر لے کر آ گئے ہیں۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اللہ اکبر خیبر برباد ہوا، ہم جب کسی قوم کے میدان میں سر بکف اترتے ہیں تو ڈرائی گئی قوم کی صبح بری ہوتی ہے۔“ سیدنا انس رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں ابو طلحہ رضی اللہ عنہ کے پیچھے سوار تھا (ابو طلحہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پہلو میں تھے) تو میرا قدم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے قدم مبارک کو چھو رہا تھا۔
وضاحت:
➊ جن کفار کو دعوتِ دین پہنچ چکی ہو انہیں میدانِ جنگ میں دوبارہ دعوت دینا ضروری نہیں۔
➋ دشمن کی غفلت سے فائدہ اٹھا کر ان پر حملہ آور ہونا بہترین جنگی تدبیر ہے۔
➌ اذان شعائرِ اسلام میں سے ہے جس سے آبادیوں کے مسلمان ہونے کی خبر ملتی ہے۔
➍ سازشی کفار کے خلاف اقدامی جہاد ضروری ہے۔
➎ غزوہ خیبر سات ہجری محرم الحرام میں یہودیوں کے خلاف ہوا۔
➏ میدانِ جہاد میں نعرہ تکبیر کا بھی اثبات ہوا۔
➐ غزوہ خیبر کے غنائم میں ام المومنین سیدہ صفیہ رضی اللہ عنہا بنت حیی بن اخطب بھی تھیں جنہیں اسلام قبول کرنے پر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے آزاد فرما کر ان سے نکاح فرما لیا تھا۔
حوالہ حدیث السنن المأثورة / باب الجهاد / حدیث: 616
تخریج حدیث صحیح بخاری، الاذان، باب ما يحقن بالأذان من الدماء، رقم: 371، صحیح مسلم، الجهاد، باب غزوة خيبر، رقم: 1365۔
حدیث نمبر: 617
أَنْبَأَنَا مَالِكٌ ، عَنْ ثَوْرِ بْنِ زَيْدٍ الدِّيلِيِّ ، عَنْ أَبِي الْغَيْثِ مَوْلَى ابْنِ مُطِيعٍ , عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ : خَرَجْنَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَامَ خَيْبَرَ فَلَمْ نَغْنَمْ ذَهَبًا وَلا فِضَّةً إِلا الأَمْوَالَ وَالثِّيَابَ وَالْمَتَاعَ ، قَالَ : فَوَجَّهَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَحْوَ وَادِي الْقُرَى ، وَزَعَمَ أَنَّ رِفَاعَةَ بْنَ زَيْدٍ وَهَبَ لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَبْدًا أَسْوَدَ يُقَالُ لَهُ : مِدْعَمٌ ، قَالَ : فَخَرَجْنَا حَتَّى إِذَا كُنَّا بِوَادِي الْقُرَى ، فَبَيْنَمَا مِدْعَمٌ يَحُطُّ رَحْلَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذْ جَاءَهُ سَهْمٌ عَائِرٌ فَأَصَابَهُ فَقَتَلَهُ ، فَقَالَ النَّاسُ : هَنِيئًا لَهُ الْجَنَّةُ ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " كَلا وَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ ، إِنَّ الشَّمْلَةَ الَّتِي أَخَذَهَا يَوْمَ خَيْبَرَ مِنَ الْمَغَانِمِ لَمْ تُصِبْهَا الْمَقَاسِمُ لَتَشْتَعِلُ عَلَيْهِ نَارًا " .
نوید مجید طیب
سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ خیبر والے سال نکلے ہمیں مال غنیمت میں سونا چاندی نہیں ملا بلکہ اموال (اونٹ بکریاں) کپڑے اور سامان ہاتھ آیا کہتے ہیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم وادی القریٰ کی طرف گئے سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ کا خیال ہے سیدنا رفاعہ بن زید رضی اللہ عنہ نے ایک کالے رنگ کا غلام رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو ہبہ کیا جس کا نام مدعم تھا۔ سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں ہم نکلے حتی کہ وادی القری پہنچے تو غلام رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی سواری کا کجاوہ اتار رہا تھا تو نا معلوم سمت سے ایک تیر آیا جو غلام کو لگا اور وہ قتل ہو گیا لوگوں نے کہا اسے جنت کی بشارت ہو تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ہرگز نہیں مجھے قسم اس ذات کی جس کے ہاتھ میں میری جان ہے جو چادر اس نے خیبر میں مال غنیمت کی تقسیم سے قبل چرائی تھی اس پر آگ کا شعلہ بن کر بھڑک رہی ہے۔“
وضاحت:
➊ غلام کا تحفہ جائز ہے۔
➋ کسی بھی کلمہ گو کو حتمی طور پر جنتی یا جہنمی نہیں کہہ سکتے الا یہ کہ اس پر واضح دلیل موجود ہو۔
➌ دھوکہ دہی اور خیانت (غلول) حرام ہے۔
➍ قرض اور ناحق مال شہید کو بھی معاف نہیں۔ «العياذ بالله»
حوالہ حدیث السنن المأثورة / باب الجهاد / حدیث: 617
تخریج حدیث صحیح بخاری، المغازی، باب غزوة خيبر، رقم: 4197، صحیح مسلم، الایمان، باب غلظ تحريم الغلول، رقم: 1365۔
حدیث نمبر: 618
أَنْبَأَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ ، عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ يَحْيَى بْنِ حَبَّانٍ ، عَنِ ابْنِ أَبِي عَمْرَةَ ، عَنْ زَيْدِ بْنِ خَالِدٍ الْجُهَنِيِّ ، قَالَ : كُنَّا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِخَيْبَرَ فَمَاتَ رَجُلٌ مِنْ أَشْجَعَ ، فَلَمْ يُصَلِّ عَلَيْهِ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، وَقَالَ : " صَلُّوا عَلَى صَاحِبِكُمْ " ، فَنَظَرُوا فِي مَتَاعِهِ فَوَجَدُوا فِيهِ خَرَزًا مِنْ خَرَزِ يَهُودٍ لا يُسَاوِي دِرْهَمَيْنِ .
نوید مجید طیب
سیدنا زید بن خالد الجہنی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے ہم نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ خیبر میں تھے کہ قبیلہ اشجع کا ایک آدمی فوت ہو گیا نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کی نماز جنازہ نہ پڑھائی اور فرمایا: ”اپنے ساتھی کی تم نماز جنازہ پڑھ لو“ (بعد میں) صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے اس کے سامان میں دیکھا تو اس میں یہود کے مونگوں میں سے کچھ مونگے پائے جو دو درہم کے مساوی بھی نہ تھے۔
وضاحت:
➊ مالِ غنیمت تقسیم سے قبل چھپا لینا کبیرہ گناہ ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس آدمی کا جنازہ نہ پڑھایا تاکہ آئندہ لوگوں کے لیے عبرت بنے۔
➋ اہم شخصیات، بڑے علماء اور قوم کے لیڈروں کو مجرموں کے جنازوں میں اہتمام کے ساتھ شریک نہیں ہونا چاہیے۔
➌ ایسے افراد کے جنازے بہر صورت ہوں گے، ان کو بغیر جنازہ پڑھے دفن نہیں کیا جائے گا۔
حوالہ حدیث السنن المأثورة / باب الجهاد / حدیث: 618
تخریج حدیث سنن ابی داؤد، الجهاد، باب فى تعظيم الغلول، رقم: 2710 وقال الالبانی صحیح، سنن ابن ماجه، الجهاد، باب الغلول، رقم: 2848۔
حدیث نمبر: 619
أَنْبَأَنَا عَبْدُ الْوَهَّابِ بْنُ عَبْدِ الْمَجِيدِ الثَّقَفِيُّ ، قَالَ : سَمِعْتُ يَحْيَى بْنَ سَعِيدٍ ، يَقُولُ : سَمِعْتُ مُحَمَّدَ بْنَ يَحْيَى ، يُحَدِّثُ عَنِ ابْنِ أَبِي عَمْرَةَ ، عَنْ زَيْدِ بْنِ خَالِدٍ الْجُهَنِيِّ ، أَنَّ رَجُلا تُوُفِّيَ مِنْ أَصْحَابِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ أَشْجَعَ يَوْمَ خَيْبَرَ ، وَأَنَّهُمْ ذَكَرُوهُ لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَزَعَمَ أَنَّهُ قَالَ لَهُمْ : " صَلُّوا عَلَى صَاحِبِكُمْ " ، فَتَغَيَّرَتْ وُجُوهُ النَّاسِ لِذَلِكَ ، فَزَعَمَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " إِنَّ صَاحِبَكُمْ غَلَّ فِي سَبِيلِ اللَّهِ " . فَفَتَّشْنَا مَتَاعَهُ فَوَجَدْنَا خَرَزًا مِنْ خَرَزِ يَهُودَ وَاللَّهِ مَا يُسَاوِي دِرْهَمَيْنِ .
نوید مجید طیب
سیدنا زید بن خالد الجہنی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے صحابہ میں سے قبیلہ اشجع کا ایک آدمی خیبر میں فوت ہوا تو صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو بتایا آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اپنے ساتھی کی تم نماز جنازہ پڑھ لو (یعنی میں نہیں آتا)“ یہ جواب سن کر لوگوں کے چہروں کے رنگ بدل گئے راوی کا خیال ہے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تمہارے ساتھی نے مال غنیمت میں خیانت کی ہے۔“ ہم نے اس کے سامان کی تلاشی لی تو یہود کے مونگوں میں سے کچھ مونگے ملے، اللہ کی قسم ان کی قیمت دو درہم کے برابر بھی نہیں تھی۔
حوالہ حدیث السنن المأثورة / باب الجهاد / حدیث: 619
تخریج حدیث انظر ما قبله، برقم: 636۔
حدیث نمبر: 620
أَنْبَأَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ ، سَمِعْتُ شَبِيبَ بْنَ غَرْقَدَةَ الْبَارِقِيَّ ، يَقُولُ : سَمِعْتُ عُرْوَةَ بْنَ أَبِي الْجَعْدِ الْبَارِقِيَّ ، يَقُولُ : سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، يَقُولُ : " الْخَيْلُ مَعْقُودٌ فِي نَوَاصِيهَا الْخَيْرُ إِلَى يَوْمِ الْقِيَامَةِ " . قَالَ شَبِيبٌ : فَرَأَيْتُ فِيَ دَارِ عُرْوَةَ سَبْعِينَ فَرَسًا مَرْبُوطَةً .
نوید مجید طیب
سیدنا عروہ بن ابو جعد بارقی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ”قیامت تک گھوڑے کی پیشانی پر خیر و برکت باندھ دی گئی ہے۔“ راوی شبیب رحمہ اللہ کہتے ہیں میں نے عروہ رضی اللہ عنہ کے گھر ستر گھوڑے بندھے ہوئے دیکھے۔
حوالہ حدیث السنن المأثورة / باب الجهاد / حدیث: 620
تخریج حدیث صحیح بخاری، الجهاد، باب الخيل معقود فى نواصيها ...... الخ، رقم: 2850، صحیح مسلم، الامارة، باب الخيل فى نواصيها الخير الى يوم القيامة، رقم: 1873۔
حدیث نمبر: 621
أَنْبَأَنَا مَالِكُ بْنُ أَنَسٍ ، عَنْ نَافِعٍ ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " الْخَيْلُ مَعْقُودٌ فِي نَوَاصِيهَا الْخَيْرُ إِلَى يَوْمِ الْقِيَامَةِ " .
نوید مجید طیب
سیدنا عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ”قیامت تک گھوڑے کی پیشانی میں خیر و برکت ہے۔“
وضاحت:
➊ گھوڑے جہاد میں کام آتے ہیں، جب جہاد قیامت تک باقی ہے تو گھوڑے کی برکت بھی باقی ہے۔
➋ جو جہاد اللہ کے دین کے نفاذ کی خاطر ہو، جس سے مقصود اعلاء کلمۃ اللہ ہو وہ شرعی جہاد ہے اور جو محض زمین پر قبضہ کے لیے ہو جہاں درباروں، مزاروں کا قیام شرک کے اڈے اور شریعت کی بجائے جمہوریت اور اسلامی قانون کی بجائے انگریزی قوانین کا نفاذ ہو وہ شرعی جہاد نہیں ہے۔
➌ محض قتل و غارت گری مقصودِ شرع نہیں بلکہ مفتوحہ علاقے میں اسلامی نظام نافذ کرنا مقصودِ جہاد و مقصودِ شرع ہے۔
حوالہ حدیث السنن المأثورة / باب الجهاد / حدیث: 621
تخریج حدیث صحیح بخارى، الجهاد والسير، باب الخيل معقود في... الخ، رقم: 2849، صحیح مسلم، الامارة، باب الخيل فى نواصيها. ..... الخ، رقم: 1871۔
حدیث نمبر: 622
حَدَّثَنَا سُفْيَانَ بْنِ عُيَيْنَةَ ، حَدَّثَنَا عَاصِمٌ الأَحْوَلُ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ، قَالَ : حَالَفَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَيْنَ الْمُهَاجِرِينَ وَالأَنْصَارِ فِي دَارِنَا ، فَقِيلَ لَهُ : أَلَيْسَ قَدْ قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " لا حِلْفَ فِي الإِسْلامِ " ؟ فَقَالَ : حَالَفَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَيْنَ الْمُهَاجِرِينَ وَالأَنْصَارِ فِي دَارِنَا . قَالَ سُفْيَانُ : فَسَّرَتْهُ الْعُلَمَاءُ : آخَى بَيْنَهُمْ .
نوید مجید طیب
سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمارے گھر میں مہاجرین و انصار کے درمیان عہد و پیماں کروایا تو اُن سے کہا گیا کیا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے خود نہیں فرمایا کہ ”اسلام میں کوئی تحالف نہیں ہے؟“ تو سیدنا انس رضی اللہ عنہ نے فرمایا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمارے گھر میں مہاجرین وانصار کے درمیان تحالف کرایا۔ امام سفیان بن عیینہ رحمہ اللہ کہتے ہیں علماء نے اس تحالف کی تفسیر مواخات کی ہے۔
وضاحت:
زمانہ جاہلیت میں لوگ قسمیں اٹھا کر ایک دوسرے سے وعدے لیتے، جیسے کفار نے مقاطعہ شعب ابی طالب پر قسمیں لیں یا کسی قبیلے سے جنگ پر قسمیں لیتے، تو اسلام نے اس طرح کے باطل تحالف کی نفی کی ہے کہ اسلام میں کوئی حلف نہیں اور جس تحالف کا سیدنا انس رضی اللہ عنہ ذکر کرتے ہیں وہ حق بات، مؤاخات اور بھائی چارہ پر تحالف ہے جو کہ جائز ہے۔
حوالہ حدیث السنن المأثورة / باب الجهاد / حدیث: 622
تخریج حدیث سنن ابی داؤد، الفرائض، باب في الحلف، رقم: 2926 وقال الالباني: صحیح، مسند احمد: 96/20، رقم: 12658 وقال الارنوؤط حديث صحيح۔
حدیث نمبر: 623
عَنْ سُفْيَانَ بْنِ عُيَيْنَةَ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ أَبِي إِدْرِيسَ ، عَنْ عُبَادَةَ بْنِ الصَّامِتِ ، قَالَ : كُنَّا مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي مَجْلِسٍ ، فَقَالَ لَنَا : " بَايِعُونِي عَلَى أَنْ لا تُشْرِكُوا بِاللَّهِ شَيْئًا " وَقَرَأَ عَلَيْهِمُ الآيَةَ . . . . . فَمَنْ وَفَّى مِنْكُمْ فَأَجْرُهُ عَلَى اللَّهِ وَمَنْ أَصَابَ مِنْ ذَلِكَ شَيْئًا فَعُوقِبَ بِهِ فَهُوَ كَفَّارَةٌ لَهُ وَمَنْ أَصَابَ مِنْ ذَلِكَ شَيْئًا فَسَتَرَهُ اللَّهُ عَلَيْهِ فَهُوَ إِلَى اللَّهِ إِنْ شَاءَ غَفَرَ لَهُ , وَإِنْ شَاءَ عَذَّبَهُ .
نوید مجید طیب
سیدنا عبادہ بن صامت رضی اللہ عنہ سے روایت ہے ہم نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی مجلس میں تھے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہم سے فرمایا: ”مجھ سے بیعت کرو کہ اللہ تعالیٰ کے ساتھ ذرہ برابر بھی شرک نہیں کرو گے...“ پھر مذکورہ پوری آیت تلاوت کی۔ (پھر فرمایا) ”تم میں سے جو شخص اس شرط کو پورا کرے گا تو اس کا اجر اللہ تعالیٰ پر ہے اور جو کوئی اس شرط کو توڑے اور اسے سزا مل جائے تو سزا اس کے لیے کفارہ بن جائے گی اور جو مذکورہ جرائم میں ملوث ہوا اور اللہ تعالیٰ نے اس کے جرم پر پردہ ڈال دیا تو اس کا معاملہ اللہ تعالیٰ کے سپرد ہے چاہے تو معاف کر دے چاہے تو عذاب دے۔“
حوالہ حدیث السنن المأثورة / باب الجهاد / حدیث: 623
تخریج حدیث صحیح بخاری، التفسیر باب سورہ الممتحنہ الخ، رقم: 4894، صحیح مسلم، الحدود، باب الحدود کفارات لاھلھا رقم: 1709۔
حدیث نمبر: 624
أَنْبَأَنَا مَالِكُ بْنُ أَنَسٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ دِينَارٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ ، قَالَ : كُنَّا إِذَا بَايَعْنَا رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى السَّمْعِ وَالطَّاعَةِ ، يَقُولُ لَنَا : " فِيمَا اسْتَطَعْتُمْ " .
نوید مجید طیب
سید نا عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے ہم جب سمع و طاعت پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے بیعت کرتے تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہم سے کہتے: ”کہو اپنی استطاعت کے مطابق سمع وطاعت کریں گے“۔
حوالہ حدیث السنن المأثورة / باب الجهاد / حدیث: 624
تخریج حدیث صحیح بخاری، الاحکام، باب کیف یبایع الامام الناس، رقم: 7202، صحیح مسلم، الامارہ، باب البیعہ علی السمع والطاعہ فیما استطاع، رقم: 2940۔
حدیث نمبر: 625
أَنْبَأَنَا مَالِكٌ ، عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ ، أَخْبَرَنِي عُبَادَةُ بْنُ الْوَلِيدِ بْنِ عُبَادَةَ بْنِ الصَّامِتِ ، أَنَّ أَبَاهُ ، أَخْبَرَهُ عَنْ عُبَادَةَ بْنِ الصَّامِتِ ، قَالَ : " بَايَعْنَا رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وسَلَّمَ عَلَى السَّمْعِ وَالطَّاعَةِ فِي الْعُسْرِ وَالْيُسْرِ ، وَالْمَنْشَطِ وَالْمَكْرَهِ ، وَأَنْ لا نُنَازِعَ الأَمْرَ أَهْلَهُ وَأَنْ نَقُومَ أَوْ نَقُولَ بِالْحَقِّ لا نَخَافُ فِي اللَّهِ لَوْمَةَ لائِمٍ " .
نوید مجید طیب
سیدنا عبادہ بن صامت رضی اللہ عنہ سے روایت ہے ہم نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے بات سننے اور ماننے پر بیعت کی تنگی ہو یا آسانی پسند ہو یا ناپسند اور یہ کہ حکمرانوں کے ساتھ حکومت کے بارے میں (اس وقت تک) جھگڑا نہ کریں (جب تک انہیں اعلانیہ کفر کرتا نہ دیکھ لیں) اور ہمیشہ حق کا ساتھ دیں، اللہ کے لیے کسی ملامت کرنے والے کی پرواہ نہ کریں۔
حوالہ حدیث السنن المأثورة / باب الجهاد / حدیث: 625
تخریج حدیث صحیح بخاری، الاحکام، باب کیف یبایع الامام الناس، رقم: 7199، صحیح مسلم، الامارہ، باب وجوب طاعہ الامراء فی غیر معصیہ، رقم: 1709۔
حدیث نمبر: 626
أَنْبَأَنَا عَبْدُ الْوَهَّابِ بْنُ عَبْدِ الْمَجِيدِ الثَّقَفِيُّ ، عَنْ خَالِدٍ الْحَذَّاءِ ، عَنْ أَبِي قِلابَةَ ، عَنْ أَبِي الأَشْعَثِ ، عَنْ عُبَادَةَ بْنِ الصَّامِتِ ، قَالَ : أَخَذَ عَلَيْنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سِتًّا كَمَا أَخَذَ عَلَى النِّسَاءِ : " أنْ لا تُشْرِكُوا بِاللَّهِ شَيْئًا ، وَلا تَسْرِقُوا ، وَلا تَزْنُوا ، وَلا تَقْتُلُوا أَوْلادَكُمْ ، وَلا يَعْضَهَ بَعْضُكُمْ بَعْضًا ، وَأَنْ لا تَعْصُونِي فِي مَعْرُوفٍ أَمَرْتُكُمْ بِهِ فَمَنْ أَصَابَ مِنْكُمْ مِنْهُنَّ وَاحِدَةً فعُجِّلَتْ عُقُوبَتُهُ فَهُوَ كَفَّارَتُهُ وَمَنْ أُخِّرَتْ عُقُوبَتُهُ ، فَأَمْرُهُ إِلَى اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ إِنْ شَاءَ عَذَّبَهُ وَإِنْ شَاءَ غَفَرَ لَهُ " . حَدَّثَنَا الطَّحَاوِيُّ قَالَ : سَمِعْتُ الْمُزَنِيَّ يَقُولُ : سَمِعْتُ الشَّافِعِيَّ رَحِمَهُ اللَّهُ يَقُولُ : مَنْ كَذَبَ عَلَى أَخِيهِ فَقَدْ عَضَهَهُ .
نوید مجید طیب
سید نا عبادہ بن صامت رضی اللہ عنہ سے روایت ہے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہم سے چھ باتوں کا عہد لیا جیسا کہ عورتوں سے بھی لیا: ”اللہ تعالیٰ کے ساتھ ذرہ برابر بھی شرک نہیں کرنا، چوری نہیں کرنی، زنا نہیں کرنا، اپنی اولاد کو قتل نہیں کرنا، ایک دوسرے پر تہمت نہ لگائیں گے، جس بھلائی کا میں حکم دوں میری نافرمانی نہیں کرنی“ تو جو مذکورہ جرائم میں سے کسی کا ارتکاب کر لے اسے دنیا میں سزا مل گئی تو یہ اس کے جرم کا کفارہ ہو جائے گا اور جس کی سزا مؤخر ہوئی اس کا معاملہ اللہ تعالیٰ کے سپرد ہے چاہے تو عذاب کرے چاہے تو معاف کر دے۔ امام شافعی رحمہ اللہ فرماتے ہیں جس نے آدمی پر ایسی بات کہی جو اس میں نہیں تھی تو اس نے اس پر تہمت باندھی (ایک نسخے میں ہے جس نے اپنے بھائی پر جھوٹ باندھا اس نے اسے دانتوں سے کانا / غیبت / تہمت سب معانی اس میں آتے ہیں)۔
وضاحت:
➊ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم اللہ رب العزت کے احکامات پر خلوصِ دل سے عمل پیرا ہونے اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی ہدایات کو دل و جان سے قبول کرنے کی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے بیعت کرتے تھے۔
➋ اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ کیے گئے عہد و پیمان کو پورا کرنا لازم ہے اور یہ کام باعثِ اجر و ثواب ہے۔
➌ کسی گناہ کی دنیا میں تعزیر یا حد کا نفاذ اس کے لیے کفارہ ہے۔
➍ معاشرے میں امن و سکون اور جرائم کے خاتمہ کے لیے حدود و تعزیرات کا نفاذ انتہائی لازم ہے۔
➎ موجودہ دور میں تصوف کے مختلف سلسلوں میں رائج بیعت کے طریقوں کا خیر القرون میں موجود بیعت کے ساتھ کوئی تعلق نہیں ہے، اور یہ بیعتیں محض اپنی اپنی گدی کی رونق کے لیے ہیں۔
حوالہ حدیث السنن المأثورة / باب الجهاد / حدیث: 626
تخریج حدیث سنن ابن ماجہ الحدود، باب الحد کفارہ، رقم: 2603 وقال الالبانی صحیح، مسند احمد: 341/37، رقم: 22669 وقال الارنوؤط اسنادہ صحیح علی شرط مسلم۔
حدیث نمبر: 627
أَنْبَأَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ ، عَنْ نَافِعٍ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، قَالَ : " عُرِضْتُ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَوْمَ أُحُدٍ وَأَنَا ابْنُ أَرْبَعَ عَشْرَةَ سَنَةً فَلَمْ يُجِزْنِي ، وَعُرِضْتُ عَلَيْهِ وَأَنَا ابْنُ خَمْسَ عَشْرَةَ سَنَةً فَأَجَازَنِي يَوْمَ الْخَنْدَقِ " .
نوید مجید طیب
سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں جنگ احد میں میری شرکت کا معاملہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس پیش ہوا میری عمر چودہ سال تھی تو مجھے اجازت نہ ملی اور جنگ خندق میں میری عمر پندرہ سال تھی تو مجھے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے شرکت کی اجازت دے دی۔
حوالہ حدیث السنن المأثورة / باب الجهاد / حدیث: 627
تخریج حدیث سنن ترمذی، الاحکام، باب ماجاء فی حد بلوغ الرجل والمرأة، رقم: 1361 وقال حسن صحیح وقال الالبانی صحیح۔
حدیث نمبر: 628
أَنْبَأَنَا يَحْيَى بْنُ سُلَيْمٍ ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ ، عَنْ نَافِعٍ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِثْلَهُ .
نوید مجید طیب
ایک دوسری سند یحیی بن سلیم رحمہ اللہ عن عبید اللہ بن عمر عن نافع عن ابن عمر رضی اللہ عنہما سے بھی اسی طرح کی حدیث وارد ہوئی ہے۔
وضاحت:
➊ سیدنا عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہما ایک جلیل القدر صحابی ہیں جن کو زبانِ نبوت سے «رجل صالح» کا تمغہ امتیاز ملا۔
➋ اس حدیث سے عہدِ نبوی صلی اللہ علیہ وسلم میں شوقِ جہاد کی اہمیت کا اندازہ ہوتا ہے۔
➌ اس حدیث سے محدثین نے بلوغت کی عمر کا بھی استدلال کیا ہے کہ شرعی طور پر ایک لڑکی یا لڑکا پندرہ سال کی عمر میں بالغ تصور ہوں گے اور انہیں مکلف سمجھا جائے گا۔
حوالہ حدیث السنن المأثورة / باب الجهاد / حدیث: 628
تخریج حدیث انظر ما قبلہ، برقم: 627۔
حدیث نمبر: 629
أَنْبَأَنَا سُفْيَانُ ، حَدَّثَنَا أَيُّوبُ ، عَنْ نَافِعٍ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، " أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَعَثَنَا فِي سَرِيَّةٍ إِلَى نَجْدٍ فَأَصَابَ سَهْمُ كُلِّ رَجُلٍ مِنَّا اثْنَيْ عَشَرَ بَعِيرًا وَنَفَّلَنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَعِيرًا بَعِيرًا " .
نوید مجید طیب
سیدنا عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں ایک فوجی دستہ میں نجد کی جانب روانہ کیا تو ہر آدمی کو مال غنیمت میں بارہ بارہ اونٹ ملے اور ایک ایک اونٹ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے بطور انعام عطاء کیا۔
حوالہ حدیث السنن المأثورة / باب الجهاد / حدیث: 629
تخریج حدیث صحیح بخاری، المغازی، باب السریہ التی قبل نجد، رقم: 4338، صحیح مسلم، الجہاد والسیر، باب الانفال، رقم: 1750,1749۔
حدیث نمبر: 630
أَنْبَأَنَا مَالِكُ بْنُ أَنَسٍ ، عَنْ نَافِعٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ ، " أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَعَثَ سَرِيَّةً فِيهَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ قِبَلَ نَجْدٍ فَغَنِمُوا إِبِلا كَثِيرَةً فَكَانَتْ سُهْمَانُهُمُ اثْنَيْ عَشَرَ بَعِيرًا أَوْ أَحَدَ عَشَرَ بَعِيرًا ثُمَّ نُفِّلُوا بَعِيرًا بَعِيرًا " .
نوید مجید طیب
سیدنا عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے نجد کی طرف ایک فوجی دستہ کاروائی کے لیے بھیجا جن میں میں بھی شامل تھا تو غنیمت میں بہت سے اونٹ ملے ہر ایک کے حصے میں بارہ بارہ اونٹ آئے یا گیارہ گیارہ آئے پھر ایک ایک اونٹ بطور انعام ملا۔
وضاحت:
➊ لشکر کے کسی دستے کو اضافی انعام دیا جا سکتا ہے جس نے بڑے لشکر سے علیحدہ طور پر کوئی خاص جرات مندانہ کاروائی کی ہو۔
➋ یہ انعام بیت المال کے حصہ خمس سے دیا جائے گا۔
➌ حسن کارکردگی پر انعام دینا مسنون اور مستحب عمل ہے۔
حوالہ حدیث السنن المأثورة / باب الجهاد / حدیث: 630
تخریج حدیث صحیح بخاری، فرض الخمس، باب ومن الدلیل علی ان الخمس لنوائب ....... الخ، رقم: 3134، صحیح مسلم، الجہاد والسیر، باب الانفال، رقم: 1749۔
حدیث نمبر: 631
أَنْبَأَنَا يُوسُفُ بْنُ خَالِدٍ السَّمْتِيُّ ، حَدَّثَنِي عِكْرِمَةُ بْنُ عَمَّارٍ ، عَنْ إِيَاسِ بْنِ سَلَمَةَ ، قَالَ أَبُو جَعْفَرٍ : أُرَاهُ عَنْ أَبِيهِ ، قَالَ : كُنَّا مَعَ أَبِي بَكْرٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ فِي غَزَاةٍ أَمَّرَهُ عَلَيْنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَعَرَّسْنَا فَأَمَرَنَا أَبُو بَكْرٍ فَشَنَنَّا الْغَارَةَ عَلَى الْعَدُوِّ صَلاةَ الصُّبْحِ ، فَأَتَيْنَاهُ بِسَبْيٍ ، فَنَفَّلَنِي أَبُو بَكْرٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ مِنَ السَّبْيِ جَارِيَةً حَسْنَاءَ مِنْ أَحْسَنِ النَّاسِ ، فَمَا كَشَفْتُ لَهَا ثَوْبًا حَتَّى قَدِمْتُ الْمَدِينَةَ ، فَلَقِيتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي السُّوقِ ، فَقَالَ : " هَبْ لِيَ الْجَارِيَةَ " فَقُلْتُ : يَا نَبِيَّ اللَّهِ قَدْ أَعْجَبَتْنِي وَمَا كَشَفْتُ لَهَا ثَوْبًا ، قَالَ : فَسَكَتَ ، فَلَمَّا كَانَ مِنَ اللَّيْلِ بَاتَتْ عِنْدِي فَلَمْ أَكْشِفْ لَهَا ثَوْبًا ، فَلَمَّا كَانَ مِنَ الْغَدِ لَقِيَنِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي السُّوقِ ، فَقَالَ : " هَبْ لِيَ الْجَارِيَةَ لِلَّهِ أَبُوكَ ! " فَقُلْتُ : هِيَ لَكَ يَا رَسُولَ اللَّهِ , وَاللَّهِ مَا كَشَفْتُ لَهَا ثَوْبًا ، فَبَعَثَ بِهَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَى مَكَّةَ فَفَادَى بِهَا أُسَارَى مِنَ الْمُسْلِمِينَ كَانُوا فِي أَيْدِي الْمُشْرِكِينَ .
نوید مجید طیب
سیدنا ایاس بن سلمہ اپنے باپ سلمہ بن اکوع رضی اللہ عنہ سے بیان کرتے ہیں ایک غزوہ میں ہم سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ کی قیادت میں گئے جنہیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے قائد مقرر کیا ہم نے پڑاؤ ڈالا تو سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ نے ہمیں حکم دیا کہ دشمن پر نماز فجر کے وقت حملہ کرنا ہے ہم سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ کے پاس ایک لونڈی لائے تو ابوبکر رضی اللہ عنہ نے وہ مجھے انعام دی اور وہ سب سے زیادہ حسینہ تھی، میں نے اس کا کپڑا تک نہ اٹھایا حتی کہ مدینہ آ گئے میری رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے مدینہ کے بازار میں ملاقات ہو گئی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”وہ لونڈی مجھے ہبہ کر دو۔“ میں نے عرض کی وہ مجھے اچھی لگتی ہے میں نے ابھی تک اس کے کپڑے بھی نہیں اتارے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم خاموش ہو گئے جب رات آئی تو لونڈی نے میرے پاس رات گزاری لیکن میں نے اس کے کپڑے نہ اتارے دوسرے دن پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے بازار میں ملاقات ہو گئی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”مجھے لونڈی ہبہ کر دو اللہ تیرے باپ کو برکت دے“ میں نے عرض کی وہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو ہبہ ہوئی اے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم میں نے ابھی تک اس کا کپڑا نہیں اتارا، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس لونڈی کو مکہ کے مشرکین کو دے کر چند مسلمان قیدی چھڑائے۔ ابو جعفر رحمہ اللہ کہتے ہیں امام مزنی رحمہ اللہ نے یہ روایت ایاس بن سلمہ رحمہ اللہ سے بیان کی ہے میرا خیال ہے روایت سلمہ بن اکوع رضی اللہ عنہ ان کے والد سے ہے۔
وضاحت:
➊ بوقت ضرورت کسی سے کوئی چیز تحفتاً مانگی جا سکتی ہے۔
➋ کفار و مشرکین کی قید میں موجود مسلمانوں کی رہائی کی تدابیر کرنا اسلامی حکومت پر فرض ہے۔
➌ قیدیوں کی رہائی کے لیے مال وغیرہ دینا درست ہے۔
➍ مسلمان کو مسلمان کی اذیت و تکلیف پریشان کرتی ہے۔
اخوت اس کو کہتے ہیں، چبھے کانٹا جو کابل میں
تو ہندوستان کا ہر پیر و جواں بے تاب ہو جائے
حوالہ حدیث السنن المأثورة / باب الجهاد / حدیث: 631
تخریج حدیث صحیح مسلم الجہاد والسیر باب التفضیل وفداء المسلمین بالاساری، رقم: 1755۔
حدیث نمبر: 632
أَنْبَأَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ أَيُّوبَ ، عَنْ نَافِعٍ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " لا تُسَافِرُوا بِالْقُرْآنِ إِلَى أَرْضِ الْعَدُوِّ ؛ فَإِنِّي أَخَافُ أَنْ يَنَالَهُ الْعَدُوُّ " .
نوید مجید طیب
سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”قرآن کے ساتھ دشمن کی سرزمین میں سفر نہ کرو مجھے خدشہ ہے کہ دشمن قرآن سے بے حرمتی نہ کرے۔“
حوالہ حدیث السنن المأثورة / باب الجهاد / حدیث: 632
تخریج حدیث صحیح مسلم، الامارہ، باب النہی عن یسافر بالمصحف ...... الخ، رقم: 1869۔
حدیث نمبر: 633
أَنْبَأَنَا مَالِكُ بْنُ أَنَسٍ ، عَنْ نَافِعٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ ، أَنَّهُ قَالَ : " نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ يُسَافَرَ بِالْقُرْآنِ إِلَى أَرْضِ الْعَدُوِّ " .
نوید مجید طیب
سیدنا عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے قرآن کو دشمن کے علاقے میں لے جانے سے منع کیا۔
وضاحت:
➊ کتاب اللہ اور سنت رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی حرمت و توقیر مسلمانوں پر فرض ہے۔
➋ مقدس اوراق کا مسلم معاشرے میں تحفظ یقینی بنانا حکومت اور عوام الناس کی ذمہ داری ہے۔
➌ قرآن اور حدیث کی کتابوں کو ایسی جگہوں پر لے جانا جہاں ان کی بے حرمتی کے امکانات ہوں درست نہیں۔
➍ بے عقل دشمن کتاب اللہ کی اب بھی بے حرمتی کرتے رہتے ہیں کیونکہ ان کی تربیت حیوانی اصولوں پر کی گئی ہے، ان کی چکنی چپڑی دیکھ کر علم سے بے بہرہ نام نہاد دانشور انہیں مہذب قوم کہتے ہیں جب کہ تہذیب نام کی ان میں کوئی شے نہیں، سر عام زنا کرتے ہیں، ماں بہن کو بھی معاف نہیں کرتے، کرپشن اور چور قوم ہے، برصغیر کا سارا خزانہ ان کے بڑوں نے لوٹا، دوسرے ممالک کے اثاثوں پر گزر بسر کرتے آئے، اس کے برعکس تاریخ میں ایسی کوئی مثال موجود نہیں کہ کسی مسلمان نے ان کی تحریف شدہ انجیل کو جلایا ہو یا کسی دوسرے مذہب کی مقدس کتاب سے بے حرمتی کی ہو، اسے کہتے ہیں تربیت، جس کا سہرا مسلم علماء امت کے سر ہے۔
حوالہ حدیث السنن المأثورة / باب الجهاد / حدیث: 633
تخریج حدیث صحیح بخاری، الجہاد باب السفر بالمصاحف الی ارض العدو، رقم: 2990، صحیح مسلم، الامارہ باب النھی ان یسافر بالمصحف الی ارض الکفار، رقم: 1869۔
حدیث نمبر: 634
أَنْبَأَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، عَنِ ابْنِ كَعْبِ بْنِ مَالِكٍ ، عَنْ عَمِّهِ ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " نَهَى عَنْ قَتْلِ النِّسَاءِ وَالْوِلْدَانِ " حِينَ بَعَثَ إِلَى ابْنِ أَبِي الْحُقَيْقِ .
نوید مجید طیب
ابن کعب بن مالک رحمہ اللہ اپنے چاچا سے بیان کرتے ہیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے جب ابن ابی الحقیق کی طرف (فوجی دستہ) بھیجا تو عورتوں اور بچوں کے قتل سے منع کیا۔
وضاحت:
➊ اسلام کا جہاد بھی بڑا مہذب ہے، بے گناہ اور کمزور کو حالت جنگ میں بھی قتل نہیں کرتا الا یہ کہ عورت مزاحمت کرے۔
➋ ابن ابی الحقیق نے خیبر میں عہد شکنی کی جس کی رو سے وہ واجب القتل تھا، اس نے شروط معاہدہ توڑتے ہوئے حیی بن اخطب کا زیورات سے بھرا بورا غائب کر دیا تھا، تو مقدمہ خیانت کبریٰ ثابت ہونے پر صحابہ رضی اللہ عنہم نے اس کی گردن اڑائی اور اس کی عورتوں اور بچوں کو قید کر لیا گیا۔
حوالہ حدیث السنن المأثورة / باب الجهاد / حدیث: 634
تخریج حدیث مسند الحمیدی: 386,385/2، رقم: 874، السنن الکبری للبیہقی: 78,77/9 و معرفہ السنن والآثار لہ: 146/4۔
حدیث نمبر: 635
أَنْبَأَنَا يُوسُفُ بْنُ خَالِدٍ السَّمْتِيُّ ، حَدَّثَنِي إِبْرَاهِيمُ بْنُ عُثْمَانَ الْكُوفِيُّ ، عَنْ عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ عُمَيْرٍ ، قَالَ : سَمِعْتُ عَطِيَّةَ الْقُرَظِيَّ ، يَقُولُ : " عَرَضَنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَوْمَ قُرَيْظَةَ ، فَمَنْ أَنْبَتَ مِنَّا قَتَلَهُ ، وَمَنْ لَمْ يُنْبِتِ اسْتَحْيَاهُ وَسَبَاهُ " .
نوید مجید طیب
سیدنا عطیہ قرضی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے قریظہ والے دن پیش ہوئے، جس جس کے جوانی کے بال اُگے ہوئے تھے اسے قتل کر دیا گیا اور جو نابالغ نکلا اسے زندہ چھوڑ کر قیدی بنا لیا گیا۔
وضاحت:
➊ سیدنا عطیہ رضی اللہ عنہ یہود بنی قریظہ میں سے تھے، نابالغ ہونے کے باعث زندہ بچے اور اسلام لائے۔
➋ بنی قریظہ نے عین حالت جنگ میں خیانت عظمیٰ کا ارتکاب کیا پھر سیدنا سعد رضی اللہ عنہ کو انہوں نے خود منصف تسلیم کیا کہ ہمارا فیصلہ سعد رضی اللہ عنہ کریں۔
➌ سیدنا سعد رضی اللہ عنہ کے فیصلے کے مطابق ان کے بالغ قتل کیے گئے، نابالغ بچے اور عورتیں قیدی بنا لیے گئے۔
حوالہ حدیث السنن المأثورة / باب الجهاد / حدیث: 635
تخریج حدیث سنن ابی داؤد، الحدود، باب فی الغلام یصیب الحد، رقم: 4404، سنن ترمذی، السیر، باب ماجاء فی النزول علی الحکم، رقم: 1584 وقال حسن صحیح وقال الالبانی صحیح۔
حدیث نمبر: 636
أَنْبَأَنَا يُوسُفُ بْنُ خَالِدٍ السَّمْتِيُّ ، عَنْ يَحْيَى بْنِ أَبِي أُنَيْسَةَ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ كَعْبِ بْنِ مَالِكٍ ، عَنْ أَبِيهِ كَعْبٍ ، " أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَهَى زَمَنَ خَيْبَرَ عَنْ أَنْ يُقْتَلَ وَلِيدٌ صَغِيرٌ أَوِ امْرَأَةٌ " .
نوید مجید طیب
سیدنا کعب رضی اللہ عنہ سے روایت ہے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے خیبر کے زمانہ میں منع کیا کہ کسی چھوٹے بچے یا عورت کو قتل کیا جائے۔
حوالہ حدیث السنن المأثورة / باب الجهاد / حدیث: 636
حدیث نمبر: 637
عَنْ سُفْيَانَ بْنِ عُيَيْنَةَ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ دِينَارٍ ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ ، سَمِعَ مَالِكَ بْنَ أَوْسِ بْنِ الْحَدَثَانِ ، يَقُولُ : سَمِعْتُ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ، يَقُولُ : " إِنَّ أَمْوَالَ بَنِي النَّضِيرِ كَانَتْ مِمَّا أَفَاءَ اللَّهُ عَلَى رَسُولِهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِمَّا لَمْ يُوجِفْ عَلَيْهِ الْمُسْلِمُونَ بِخَيْلٍ وَلا رِكَابٍ ، فَكَانَتْ أَمْوَالُهُمْ لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ خَالِصًا ، فَكَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُنْفِقُ عَلَى أَهْلِهِ مِنْهَا نَفَقَةَ سَنَةٍ ، وَمَا بَقِيَ جَعَلَهُ فِي الْخَيْلِ وَالْكُرَاعِ عِدَّةً فِي سَبِيلِ اللَّهِ .
نوید مجید طیب
سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ سے روایت ہے بنی نضیر کے اموال بطور مال فئی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو حاصل ہوئے جس کے لیے مسلمانوں کو گھوڑے دوڑانے یا جنگ نہ کرنی پڑی تو ان کے اموال خالص رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے تھے جس سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اپنے گھروں کا سالانہ خرچ چلاتے اور جو مال بچ جاتا اس سے جہاد کے لیے گھوڑے اور اسلحہ وغیرہ خرید لیا جاتا ہے۔
وضاحت:
➊ مال فئی وہ مال غنیمت ہے جو بغیر جنگ کے حاصل ہو جائے، وہ مجاہدین میں تقسیم نہیں ہوتا بلکہ اللہ اور اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کا ہوتا ہے۔ وہ جہاں مناسب سمجھیں خرچ کریں۔
➋ مدینہ طیبہ کے اطراف میں یہودیوں کے تین قبیلے بنو نضیر، بنو قینقاع اور بنو قریظہ آباد تھے، ہجرت مدینہ کے بعد نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان تمام قبائل سے دفاعی معاہدے کیے تھے، لیکن یہ لوگ ہمیشہ درپردہ سازشیں کرتے رہتے تھے۔
➌ بنو نضیر نے ایک دفعہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو شہید کرنے کی سازش کی، اس عہد شکنی کی وجہ سے ان پر لشکر کشی کی گئی۔
➍ بنو نضیر کچھ عرصہ قلعوں میں محصور رہے پھر انہوں نے جلا وطنی پر آمادگی ظاہر کی جسے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے قبول فرمایا۔
➎ دوران محاصرہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے بنو نضیر کے اموال کو جلایا اور ان کے گھروں کو گرا دیا۔
➏ بنو نضیر کی تباہی و بربادی اور اس مقام سے حاصل ہونے والے مال فئی کی تفصیلات کو سورۂ حشر کی ﴿آیت نمبر 1 تا 6﴾ میں تفصیل سے بیان کیا گیا ہے۔
حوالہ حدیث السنن المأثورة / باب الجهاد / حدیث: 637
تخریج حدیث صحیح بخاری، الجہاد، باب المجن ومن یترس بترس صاحبہ، رقم: 2904، صحیح مسلم، الجہاد والسیر، باب حکم الفئی رقم: 1757۔
حدیث نمبر: 638
أَخْبَرَنِي سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ ، عَنْ أَبِي الزِّنَادِ ، عَنِ الأَعْرَجِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " لا تَقْسِمُ وَرَثَتِي دِينَارًا ، مَا تَرَكْتُ بَعْدَ نَفَقَةِ أَهْلِي وَمُؤْنَةِ عَامِلِي فَهُوَ صَدَقَةٌ ، لا تَقْسِمُ وَرَثَتِي دِينَارًا " .
نوید مجید طیب
سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”میرا ترکہ دیناروں کی صورت میں تقسیم نہیں ہوگا جو کچھ بھی چھوڑ جاؤں تو بیویوں کے اخراجات اور عمال کی مزدوری کے بعد جو بچے صدقہ متصور ہوگا میرا ترکہ دیناروں کی صورت میں تقسیم نہیں ہوگا۔“
وضاحت:
➊ کسی بھی نبی کی وراثت مالی ملکیت نہیں بنائی جا سکتی۔
➋ جب تک ازواج مطہرات رضی اللہ عنہا زندہ رہیں، اس جائیداد سے خرچ لیتی رہیں اور ان کے بعد اسے بیت المال میں شامل کر لیا گیا۔
حوالہ حدیث السنن المأثورة / باب الجهاد / حدیث: 638
تخریج حدیث صحیح مسلم، الجہاد، باب قول النبی صلی اللہ علیہ وسلم لا نورث ما ترکنا فھو صدقہ، رقم: 1759۔
حدیث نمبر: 639
أَنْبَأَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ دِينَارٍ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ مَالِكِ بْنِ أَوْسِ بْنِ الْحَدَثَانِ ، عَنْ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " إِنَّا لا نُورَثُ ، مَا تَرَكْنَا فَهُوَ صَدَقَةٌ " .
نوید مجید طیب
سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ سے روایت ہے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ہم (انبیاء) وارث نہیں بناتے ہم جو چھوڑ کر جاتے ہیں وہ صدقہ ہوتا ہے۔“
حوالہ حدیث السنن المأثورة / باب الجهاد / حدیث: 639
تخریج حدیث صحیح بخاری، فرض الخمس، باب فرض الخمس، رقم: 3094، صحیح مسلم، الجہاد باب حکم الفئی رقم: 1757۔
حدیث نمبر: 640
أَنْبَأَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ دِينَارٍ ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ ، عَنْ مَالِكِ بْنِ أَوْسِ بْنِ الْحَدَثَانِ ، قَالَ : سَمِعْتُ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ يَنْشُدُ عُثْمَانَ بْنَ عَفَّانَ ، وَعَبْدَ الرَّحْمَنِ بْنَ عَوْفٍ ، وَسَعْدَ بْنَ أَبِي وَقَّاصٍ ، وَطَلْحَةَ ، وَالزُّبَيْرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ ، فَقَالَ : أَنْشُدُكُمُ اللَّهَ الَّذِي بِإِذْنِهِ تَقُومُ السَّمَاءُ وَالأَرْضُ أَسَمِعْتُمْ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ : " إِنَّا لا نُورَثُ ، مَا تَرَكْنَا فَهُوَ صَدَقَةٌ " ؟ قَالُوا : نَعَمْ " .
نوید مجید طیب
سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے عثمان، علی، عبدالرحمن بن عوف اور سعد بن ابی وقاص اور طلحہ اور زبیر رضی اللہ عنہم کو قسم دی کہ میں آپ لوگوں کو اس ذات کی قسم دیتا ہوں جس کے حکم سے آسمان اور زمین قائم ہیں کیا تم نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے سنا ہے: ”ہم وارث نہیں بناتے ہمارا ترکہ صدقہ ہوتا ہے؟“ تو سب نے فرمایا: جی ہاں۔
وضاحت:
➊ انبیاء علیہم السلام کی وراثت دو طرح کی ہے۔
(الف) علم وحی کی وراثت۔
(ب) مال و جائیداد کی وراثت۔
➋ علم وحی کی وراثت سے متعلق آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: «ان العلماء ورثة الانبياء وان الانبياء لم يورثوا ديناراً ولا درهماً ورثوا العلم» [سنن ابی داؤد: 3641]
بلاشبہ علماء انبیاء کے وارث ہیں اور انبیاء نے کوئی درہم و دینار ورثے میں نہیں چھوڑے ہیں، انہوں نے علم کی وراثت چھوڑی ہے۔
قرآنی آیات ﴿وَوَرِثَ سُلَيْمَنُ دَاوُدَ﴾ [النمل: 16] اور سلیمان علیہ السلام داؤد علیہ السلام کے وارث بنے۔ اور ﴿یَّرِثُنِیۡ وَ یَرِثُ مِنۡ اٰلِ یَعۡقُوۡبَ﴾ [مریم: 6] جو میرا اور آل یعقوب کا وارث بنے۔ سے یہی وراثت علم وحی مراد ہے۔
➌ مال و جائیداد کی وراثت کو رشتہ داروں میں تقسیم نہیں کیا جاتا بلکہ وہ امت کے اجتماعی مفاد میں بطور صدقہ تقسیم ہوتا ہے۔
حوالہ حدیث السنن المأثورة / باب الجهاد / حدیث: 640
تخریج حدیث انظر ما قبلہ، برقم: 639۔
حدیث نمبر: 641
حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، قَالَ : حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ أُمَيَّةَ ، عَنْ نَافِعٍ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، قَالَ : " سَابَقَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَيْنَ الْخَيْلِ فَأَرْسَلَ مَا أُضْمِرَ مِنْهَا مِنَ الْحَفْيَاءِ إِلَى ثَنِيَّةِ الْوَدَاعِ وَمَا لَمْ يُضْمَرْ مِنْ ثَنِيَّةِ الْوَدَاعِ إِلَى مَسْجِدِ بَنِي زُرَيْقٍ " .
نوید مجید طیب
سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے گھوڑ دوڑ کرائی جو (جہاد کے لیے) تیار شدہ گھوڑے تھے ان کی حد حفیاء سے ثنیہ الوداع تک تھی اور جو نئے گھوڑے تھے ان کی ثنیہ الوداع سے مسجد بنی زریق تک دوڑ کرائی۔
وضاحت:
➊ جہاد کی مشقیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم خود بھی کرواتے، جہاد کے لیے گھوڑوں کو خاص طور پر تیار کیا جاتا تھا جس کو تضمیر کہتے تھے۔
➋ تضمیر کا مطلب ہے گھوڑوں کو دوڑ کی تیاری کے لیے ایک عرصہ تک کھڑا کر کے کھلانا اور میدان میں ہلکا پھلکا کر کے دوڑانا، کھلانے کی یہ مدت عربوں کے یہاں چالیس دن ہوتی تھی۔ [القاموس الوحيد: ص 976]
➌ حفیاء سے ثنیۃ الوداع کا فاصلہ پانچ سے چھ میل جبکہ ثنیہ سے مسجد بنی زریق تک کا فاصلہ ایک میل ہے۔ [صحیح بخاری: 2868]
➍ سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ نے دوڑ جیتی تھی۔ [صحیح بخاری: 2869]
حوالہ حدیث السنن المأثورة / باب الجهاد / حدیث: 641
تخریج حدیث صحیح مسلم، الامارہ، باب المسابقۃ بین الخیل وتضمیرہا، رقم: 1870۔
حدیث نمبر: 642
أَنْبَأَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ ، عَنِ ابْنِ أَبِي ذِئْبٍ ، عَنْ نَافِعِ بْنِ أَبِي نَافِعٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " لا سَبَقَ إِلا فِي نَعْلٍ ، أَوْ حَافِرٍ ، أَوْ خُفٍّ " .
نوید مجید طیب
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تیر اندازی، گھوڑ سواری اور اونٹ دوڑ کے علاوہ کسی چیز میں مقابلہ کرانا درست نہیں۔“
وضاحت:
➊ جس مقابلے سے مقصد جہاد پورا ہو وہ جائز ہے اور جو جوا بازی اور ٹائم کا ضیاع یا جھوٹی شہرت ہے وہ ناجائز ہیں۔
➋ اگر انعام دینے والا بھی مقابلے میں شریک ہے تو انعام ناجائز ہے کیونکہ یہ جوا ہے کہ گویا ہارنے والا تاوان بھرے گا۔
حوالہ حدیث السنن المأثورة / باب الجهاد / حدیث: 642
تخریج حدیث سنن ابی داؤد، الجہاد، باب فی السبق، رقم: 2574، سنن ترمذی، الجہاد، باب ماجاء فی الرہان والسبق، رقم: 1700 وقال حسن وقال الالبانی: صحیح۔
حدیث نمبر: 643
أَنْبَأَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ ، عَنِ ابْنِ أَبِي ذِئْبٍ ، عَنْ عَبَّادِ بْنِ أَبِي صَالِحٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " لا سَبَقَ إِلا فِي حَافِرٍ أَوْ خُفٍّ " .
نوید مجید طیب
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”گھوڑ دوڑ اور اونٹ دوڑ کے علاوہ مقابلے درست نہیں۔“
حوالہ حدیث السنن المأثورة / باب الجهاد / حدیث: 643
تخریج حدیث سنن ابن ماجہ، الجہاد باب السبق، والرھان، رقم: 2878، سنن نسائی، الخیل، باب السبق، رقم: 3586، 3585 وقال الالبانی: صحیح۔
حدیث نمبر: 644
أَنْبَأَنَا مَالِكُ ، عَنْ نَافِعٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ ، " أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سَابِقَ بَيْنَ الْخَيْلِ الَّتِي قَدْ أُضْمِرَتْ مِنَ الْحَفْيَاءِ وَكَانَ أَمَدُهَا ثَنِيَّةَ الْوَدَاعِ ، وَسَابَقَ بَيْنَ الْخَيْلِ الَّتِي لَمْ تُضَمَرْ مِنَ الثَّنِيَّةِ إِلَى مَسْجِدِ بَنِي زُرَيْقٍ ، وَأَنَّ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ فِيمَنْ سَابِقَ بِهَا " .
نوید مجید طیب
سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے تضمیر شدہ گھوڑوں کا مقابلہ حفیاء سے ثنیہ الوداع تک کرایا اور غیر تضمیر شدہ کا مقابلہ ثنیہ سے مسجد بنی زریق تک کرایا اور عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما ان لوگوں میں شامل تھے جنہوں نے گھوڑ دوڑ میں شرکت کی۔
وضاحت:
➊ سبق باء پر جزم کا مطلب ہے مقابلہ میں آگے بڑھنا اور سبق باء پر زبر جو مقابلہ جیتنے پر انعام ملتا ہے اسے کہتے ہیں، مذکورہ احادیث کے پیش نظر دیگر مقابلے بیل دوڑ، کبوتر اڑانا، کتے لڑانا سب حرام اور باطل ہیں یہ جوا ہے۔
➋ مزید توضیح اور شرح کے لیے دیکھئے حدیث نمبر 640۔
حوالہ حدیث السنن المأثورة / باب الجهاد / حدیث: 644
تخریج حدیث صحیح بخاری، الصلاۃ، باب ھل یقال مسجد بنی فلان، رقم: 420، صحیح مسلم، الامارہ، باب المسابقۃ بین الخیل وتضمیرہا، رقم: 1870۔
حدیث نمبر: 645
حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَهَّابِ بْنُ عَبْدِ الْمَجِيدِ الثَّقَفِيُّ ، عَنْ حُمَيْدٍ الطَّوِيلِ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ، قَالَ : كَانَتْ نَاقَةُ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ تُسَمَّى الْعَضْبَاءَ فَكَانَتْ لا تُسْبَقُ ، فَجَاءَ أَعْرَابِيٌّ عَلَى قَعُودٍ لَهُ فَسَابَقَهَا فَسَبَقَهَا ، فَاشْتَدَّ ذَلِكَ عَلَى الْمُسْلِمِينَ ، فَلَمَّا رَأَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَا فِي وُجُوهِهِمْ قَالُوا : يَا رَسُولَ اللَّهِ سُبِقَتِ الْعَضْبَاءُ ! فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " حَقٌّ عَلَى اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ أَنْ لا يَرْفَعَ شَيْئًا مِنَ الدُّنْيَا إِلا وَضَعَهُ " .
نوید مجید طیب
سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی ایک عضباء نامی اونٹنی تھی، اس سے دوڑ میں کوئی آگے نہ ہو سکتا تھا، ایک دیہاتی اپنے اونٹ پر آیا تو اونٹنی سے آگے نکل گیا مسلمانوں پر بڑا گراں گزرا، جب ان کی طرف رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے دیکھا تو کہنے لگے: ”اے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم عضباء سے آگے نکل گیا ہے“ تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اللہ پر حق ہے کہ دنیا میں ہر عروج کو زوال بھی دیتا ہے۔“
وضاحت:
➊ گھریلو جانوروں کے نام رکھے جا سکتے ہیں۔
➋ امام بخاری رحمہ اللہ نے اس حدیث پر «باب التواضع» (نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی عاجزی و انکساری اور تواضع کا بیان) کے نام سے ترجمتہ الباب بھی قائم کیا ہے۔
➌ عروج ملنے پر انسان خدا نہ بن جائے اسی لیے اللہ رب العزت نے زوال بھی رکھا ہے، عروج و زوال انسانی زندگی کا حصہ ہیں اللہ کا پسندیدہ بندہ وہ ہے جو عروج میں متکبر نہ بنے، عاجزی و انکساری کو اختیار کرے ورنہ زوال تو انسان کو عاجز بنا ہی دیتا ہے۔
حوالہ حدیث السنن المأثورة / باب الجهاد / حدیث: 645
تخریج حدیث صحیح بخاری، الجہاد، باب ناقۃ النبی صلی اللہ علیہ وسلم ، رقم: 2872۔
حدیث نمبر: 646
أَنْبَأَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ ، عَنِ ابْنِ عَجْلانَ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ قَيْسٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي قَتَادَةَ ، عَنْ أَبِيهِ ، أَنَّ رَجُلا أَتَى النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ : يَا رَسُولَ اللَّهِ , أَرَأَيْتَ إِنْ ضَرَبْتُ بِسَيْفِي هَذَا فِي سَبِيلِ اللَّهِ صَابِرًا مُحْتَسِبًا مُقْبِلا غَيْرَ مُدْبِرٍ أَيُكَفِّرُ اللَّهُ عَنِّي خَطَايَايَ ؟ قَالَ : " نَعَمْ " ، فَلَمَّا أَدْبَرَ قَالَ : " تَعَالَ ، هَذَا جِبْرِيلُ عَلَيْهِ السَّلامُ يَقُولُ : إِلا أَنْ يَكُونَ عَلَيْكَ دَيْنٌ " .
نوید مجید طیب
سیدنا ابو قتادہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے ایک آدمی نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا کہنے لگا: ”اے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم! آپ کا کیا خیال ہے اگر میں اپنی تلوار اللہ کے راستے میں صبر کرنے والا، خالص نیت، مقابلہ کرنے والا بھاگنے والا نہیں بن کر چلاؤں تو کیا میرے گناہ معاف ہو جائیں گے؟“ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ہاں“ تو جب آدمی واپس ہوا (رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے دوبارہ بلایا) اور کہا : ”جبرئیل علیہ السلام آئے ہیں انہوں نے کہا ہے مگر یہ کہ تجھ پر قرض ہو۔“
حوالہ حدیث السنن المأثورة / باب الجهاد / حدیث: 646
تخریج حدیث صحیح مسلم، الامارہ، باب من قتل فی سبیل اللہ کفرت خطایاہ الا الدین، رقم: 1885۔
حدیث نمبر: 647
أَنْبَأَنَا مَالِكُ بْنُ أَنَسٍ ، عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ أَبِي سَعِيدٍ الْمَقْبُرِيِّ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي قَتَادَةَ الأَنْصَارِيِّ ، عَنْ أَبِيهِ ، قَالَ : " جَاءَ رَجُلٌ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، إِنْ قُتِلْتُ فِي سَبِيلِ اللَّهِ صَابِرًا مُحْتَسِبًا مُقْبِلا غَيْرَ مُدْبِرٍ أَيُكَفِّرُ اللَّهُ عَنِّي خَطَايَايَ ؟ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " نَعَمْ " ، فَلَمَّا وَلَّى الرَّجُلُ نَادَاهُ أَوْ أَمَرَ بِهِ فَنُودِيَ ، فَقَالَ : " كَيْفَ قُلْتَ ؟ " ، فَأَعَادَ عَلَيْهِ الْقَوْلَ ، فَقَالَ : " نَعَمْ ، إِلا الدَّيْنَ ، كَذَلِكَ قَالَ لِي جِبْرِيلُ عَلَيْهِ السَّلامُ " .
نوید مجید طیب
سیدنا ابو قتادہ انصاری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے ایک آدمی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا اور کہنے لگا: ”اے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم اگر میں صبر کرتا ہوا ثواب کی نیت اور مقابلہ کرتا ہوا جہاد سے پیٹھ نہ پھیروں اس حالت میں شہید ہو جاؤں، تو کیا میرے گناہ معاف ہو جائیں گے؟“ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ہاں“ جب آدمی واپس ہو گیا اسے دوبارہ بلایا یا اسے بلانے کا حکم دیا وہ آیا تو دریافت کیا: ”تو نے کیا سوال کیا؟“ اس نے بات دہرائی آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ہاں مگر قرض معاف نہیں ہوگا مجھے جبریل علیہ السلام نے ایسا ہی بتایا ہے۔“
وضاحت:
➊ جہاد ایک عظیم عبادت ہے جس کا عند اللہ بہت زیادہ اجر و ثواب رکھا گیا ہے۔
➋ معلوم ہوا قرض کی ادائیگی انتہائی اہم ہے اس سے انسانی جان معلق ہو جاتی ہے حتی کہ شہید فی سبیل اللہ کے لیے قرض کی ادائیگی کے سوا چارہ نہیں۔
➌ شریعت و دین منجانب اللہ ہے، کتاب و سنت دونوں وحی ہیں۔ جبریل علیہ السلام دونوں کو لے کر پیارے پیغمبر صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آتے رہے۔
حوالہ حدیث السنن المأثورة / باب الجهاد / حدیث: 647
تخریج حدیث سنن نسائی، الجہاد، باب من قاتل فی سبیل اللہ تعالی وعلیہ دین، رقم: 3155 وقال الالبانی: حسن صحیح۔
حدیث نمبر: 648
نوید مجید طیب
اسود بن قیس رحمہ اللہ اپنی قوم کے ایک آدمی سے روایت کرتے ہیں جس کا نام سیر بن علقمہ رضی اللہ عنہ ہے اس نے کہا: میں نے قادسیہ کی جنگ میں ایک آدمی کے ساتھ مبارزت کی جس کا ساز و سامان (12) ہزار تک جا پہنچا سیدنا سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ نے وہ سارا مجھے انعام میں دیا۔
وضاحت:
➊ جنگ قادسیہ سیدنا سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ کی کمانڈ میں ایرانیوں کے خلاف لڑی گئی تھی، یہ جنگ تین دن جاری رہی بالآخر اللہ رب العزت نے اہل اسلام کو آتش پرستوں پر فتح و نصرت نصیب کی۔
➋ اس جنگ میں ایرانیوں کا سپہ سالار رستم تھا۔
➌ یہ جنگ عجم پر اسلام کے داخلے کا باعث بنی جس کے بعد اہل عجم کی بہت سی ریاستوں تک اسلام براہِ راست پہنچا اور انہوں نے اسلام کے سامنے خود کو سرنڈر کیا۔
حوالہ حدیث السنن المأثورة / باب الجهاد / حدیث: 648
تخریج حدیث التاریخ الکبیر للبخاری: 267/4، مصنف عبدالرزاق: 236، 235/5، سنن سعید بن منصور، رقم: 2693۔