حدیث نمبر: 602
حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيِّبِ ، وَأَبِي سَلَمَةَ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " الْعَجْمَاءُ جَرْحُهَا جُبَارٌ ، وَالْمَعْدِنُ جُبَارٌ ، وَالْبِئْرُ جُبَارٌ " .
نوید مجید طیب
سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ”جانور سے جو نقصان پہنچے اس کا کچھ بدلہ نہیں اور کنویں اور کان کا بھی یہی حکم ہے۔“
حدیث نمبر: 603
أَنْبَأَنَا مَالِكٌ ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيِّبِ ، وَأَبِي سَلَمَةَ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " جَرْحُ الْعَجْمَاءِ جُبَارٌ ، وَالْمَعْدِنُ جُبَارٌ ، وَالْبِئْرُ جُبَارٌ " .
نوید مجید طیب
سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جانور کی طرف سے زخم کا کوئی ازالہ نہیں کنویں اور کان کھودنے سے بندے کو نقصان پہنچا تو کوئی بدلہ نہیں۔“
حدیث نمبر: 604
أَنْبَأَنَا مَالِكٌ ، عَنْ أَبِي الزِّنَادِ ، عَنِ الأَعْرَجِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " الْعَجْمَاءُ جُبَارٌ وَالْبِئْرُ جُبَارٌ وَالْمَعْدِنُ جُبَارٌ " .
نوید مجید طیب
سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جانور کے نقصان کا بدلہ نہیں اور کنویں کے نقصان رائیگاں ہے اور کان سے نقصان بھی رائیگاں ہے۔“
وضاحت:
➊ چونکہ جانور لاشعور ہے لہذا اس کے کسی کو زخمی کر دینے یا ہلاک کر دینے کی ذمہ داری مالک پر عائد نہیں ہوگی۔
➋ امام ابن ماجہ رحمہ اللہ حدیث کا معنی بیان کرتے ہوئے فرماتے ہیں: «والعجماء البهيمة من الانعام وغيرها، و الجبار هو الهدر الذى لا يغرم» [سنن ابن ماجہ: 2675]
عجماء سے مراد مویشی جانور وغیرہ ہیں اور جبار سے مراد وہ ہدر ہے جس کا کوئی تاوان نہیں ہے۔
➌ اسی طرح اگر مزدور کنویں میں دب جاتا ہے اور کان اوپر گر جاتی ہے تو مالک ذمہ دار نہیں کیونکہ بظاہر اس میں مالک کا قصور نہیں۔
➍ اگر ان دونوں صورتوں میں مالک کا قصور ثابت ہو جائے مثلاً خود کتا پیچھے لگائے یا کاٹنے والے جانور کو جان بوجھ کر شارعِ عام پر چھوڑ دے تو تعزیر سزا پائے گا اس طرح اگر گلی میں کنواں کھودواتا ہے یا باڑ نہیں لگاتا تو حالات و واقعات کے مطابق ذمہ دار ہوگا، عدالت اپنی فراست سے فیصلہ صادر کرے گی۔
➋ امام ابن ماجہ رحمہ اللہ حدیث کا معنی بیان کرتے ہوئے فرماتے ہیں: «والعجماء البهيمة من الانعام وغيرها، و الجبار هو الهدر الذى لا يغرم» [سنن ابن ماجہ: 2675]
عجماء سے مراد مویشی جانور وغیرہ ہیں اور جبار سے مراد وہ ہدر ہے جس کا کوئی تاوان نہیں ہے۔
➌ اسی طرح اگر مزدور کنویں میں دب جاتا ہے اور کان اوپر گر جاتی ہے تو مالک ذمہ دار نہیں کیونکہ بظاہر اس میں مالک کا قصور نہیں۔
➍ اگر ان دونوں صورتوں میں مالک کا قصور ثابت ہو جائے مثلاً خود کتا پیچھے لگائے یا کاٹنے والے جانور کو جان بوجھ کر شارعِ عام پر چھوڑ دے تو تعزیر سزا پائے گا اس طرح اگر گلی میں کنواں کھودواتا ہے یا باڑ نہیں لگاتا تو حالات و واقعات کے مطابق ذمہ دار ہوگا، عدالت اپنی فراست سے فیصلہ صادر کرے گی۔
حدیث نمبر: 605
أَنْبَأَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ ، حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ زَيْدِ بْنِ جُدْعَانَ ، عَنِ الْقَاسِمِ بْنِ رَبِيعَةَ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَامَ عَلَى دَرَجَةِ الْكَعْبَةِ يَوْمَ الْفَتْحِ ، فَقَالَ : " الْحَمْدُ لِلَّهِ الَّذِي صَدَقَ وَعْدَهُ وَنَصَرَ عَبْدَهُ وَهَزَمَ الأَحْزَابَ وَحْدَهُ ، أَلا إِنَّ قَتِيلَ الْعَمْدِ الْخَطَأِ بِالسَّوْطِ أَوِ الْعَصَا فِيهِ مِائَةٌ مِنَ الإِبِلِ مُغَلَّظَةٌ مِنْهَا أَرْبَعُونَ خَلِفَةً فِي بُطُونِهَا أَوْلادُهَا ، أَلا إِنَّ كُلَّ مَأْثُرَةٍ وَدَمٍ وَمَالٍ كَانَ فِي الْجَاهِلِيَّةِ فَهُوَ تَحْتَ قَدَمَيَّ هَاتَيْنِ ، إِلا مَا كَانَ مِنْ سِقَايَةِ الْحَاجِّ وَسِدَانَةِ الْبَيْتِ فَإِنِّي أَمْضَيْتُهُمَا لأَهْلِهِمَا كَمَا كَانَتَا " .
نوید مجید طیب
سیدنا عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے یوم فتح مکہ کعبہ کی سیڑھی پر کھڑے ہو کر فرمایا: ”اس اللہ کی تعریف جس نے اپنا وعدہ پورا کیا، اپنے بندے کی مدد کی اور اکیلے ہی لشکروں کو شکست فاش دی سنو! جو شخص شبہ عمد کی صورت میں کوڑے یا ڈنٹے سے خطا مارا جائے اس کی دیت سخت ہوگی جو کہ سو اونٹ ہیں جن میں سے چالیس حاملہ اونٹنیاں ہوں گی، خبر دار ہر فخر، خون اور جاہلیت کا مطالبہ مال میرے قدموں تلے روندھا گیا (یعنی ختم کر دیا گیا) ہاں حاجیوں کو پانی پلانا، کعبہ کی دیکھ بھال کو میں حسب سابق جاری رکھتا ہوں۔“
وضاحت:
➊ قتل کی تین قسمیں ہیں: (الف) قتلِ عمد یعنی کسی کو ارادہ و نیت سے قتل کرنا۔
(ب) قتلِ خطا، ارادہ و نیت کے بغیر محض خطا سے کسی کا قتل ہو جانا۔
(ج) قتلِ شبہ عمد: جس میں قتل کا ارادہ و نیت تو نہ ہو لیکن مار پیٹ میں کسی ایسی چیز کا استعمال کرنا جس سے قتل واقع ہو جائے۔
➋ قتلِ شبہ عمد کی دیت مغلظہ یعنی بھاری و ثقیل ہے جس کی تفصیل حدیث میں بیان ہوئی۔
➌ جاہلی معاشرے کے رسوم و رواج دم توڑ چکے، عصبیت ختم ہو چکی، اب ہر مسلمان کو جاہلی معاشرے کے نسلی و برادری کے غرور اور رسوم و روایات سے دور رہنا ہو گا۔
(ب) قتلِ خطا، ارادہ و نیت کے بغیر محض خطا سے کسی کا قتل ہو جانا۔
(ج) قتلِ شبہ عمد: جس میں قتل کا ارادہ و نیت تو نہ ہو لیکن مار پیٹ میں کسی ایسی چیز کا استعمال کرنا جس سے قتل واقع ہو جائے۔
➋ قتلِ شبہ عمد کی دیت مغلظہ یعنی بھاری و ثقیل ہے جس کی تفصیل حدیث میں بیان ہوئی۔
➌ جاہلی معاشرے کے رسوم و رواج دم توڑ چکے، عصبیت ختم ہو چکی، اب ہر مسلمان کو جاہلی معاشرے کے نسلی و برادری کے غرور اور رسوم و روایات سے دور رہنا ہو گا۔
حدیث نمبر: 606
أَنْبَأَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ طَلْحَةَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَوْفٍ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ زَيْدِ بْنِ عَمْرِو بْنِ نُفَيْلٍ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " وَمَنْ قُتِلَ دُونَ مَالِهِ فَهُوَ شَهِيدٌ وَمَنْ ظَلَمَ مِنْ أَرْضٍ شِبْرًا طُوِّقَهُ مِنْ سَبْعِ أَرَضِينَ " .
نوید مجید طیب
سیدنا سعید بن زید بن عمرو بن نفیل رضی اللہ عنہ سے روایت ہے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جو اپنے مال کے دفاع میں مارا گیا وہ شہید ہے اور جس نے ظلماً زمین ہتھیائی اسے سات زمینوں کا طوق پہنایا جائے گا۔“
وضاحت:
➊ ہر شخص کو اپنی جان، مال اور عزت کی حفاظت کرنی چاہیے۔
➋ جان و مال کی حفاظت کرتے ہوئے قتل ہو جانے والا شہید ہے۔
➌ چور اچکوں، دہشت گردوں، ڈاکوؤں سے لڑنا درست ہے۔
➍ کسی مسلمان کی زمین پر ناجائز قبضہ کرنا حرام ہے جس کی آخرت میں انتہائی سخت سزا ہے۔
➋ جان و مال کی حفاظت کرتے ہوئے قتل ہو جانے والا شہید ہے۔
➌ چور اچکوں، دہشت گردوں، ڈاکوؤں سے لڑنا درست ہے۔
➍ کسی مسلمان کی زمین پر ناجائز قبضہ کرنا حرام ہے جس کی آخرت میں انتہائی سخت سزا ہے۔