حدیث نمبر: 593
أَنْبَأَنَا مَالِكٌ ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، أَنَّ امْرَأَتَيْنِ مِنْ هُذَيْلٍ رَمَتْ إِحْدَاهُمَا الأُخْرَى فَطَرَحَتْ جَنِينَهَا ، " فَقَضَى فِيهِ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِغُرَّةٍ عَبْدٍ أَوْ وَلِيدَةٍ " .
نوید مجید طیب
سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے ہذیل قبیلے کی دو عورتیں آپس میں لڑیں ایک نے دوسری کے (پیٹ پر) مارا تو اس کا حمل گر گیا تو رسول اللہ ﷺ نے اس کیس میں ایک غلام یا لونڈی دیت میں دیئے جانے کا فیصلہ فرمایا۔
وضاحت:
➊ جنین سے مراد وہ بچہ ہے جو حاملہ کے پیٹ میں ہے ابھی پیدا نہیں ہوا۔
➋ اگر حمل چار ماہ دس دن یا اس سے زیادہ کا ہو تو اس کا بدل غلام یا لونڈی دی جائے گی، اگر بچہ پیدا ہو جائے پھر کوئی قتل کرے تو قصاص ہوگا، معاف کرنے کی صورت میں دیت ہوگی، اگر ساتھ حاملہ خاتون بھی مر جائے تو اس کا علیحدہ قصاص یا دیت ہوگی۔
➋ اگر حمل چار ماہ دس دن یا اس سے زیادہ کا ہو تو اس کا بدل غلام یا لونڈی دی جائے گی، اگر بچہ پیدا ہو جائے پھر کوئی قتل کرے تو قصاص ہوگا، معاف کرنے کی صورت میں دیت ہوگی، اگر ساتھ حاملہ خاتون بھی مر جائے تو اس کا علیحدہ قصاص یا دیت ہوگی۔
حدیث نمبر: 594
أَنْبَأَنَا مَالِكٌ ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيِّبِ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " قَضَى فِي الْجَنِينِ يُقْتَلُ فِي بَطْنِ أُمِّهِ بِغُرَّةٍ عَبْدٍ أَوْ وَلِيدَةٍ " ، فَقَالَ الَّذِي قُضِيَ عَلَيْهِ : وَكَيْفَ أَغْرَمُ مَنْ لا شَرِبَ وَلا أَكَلَ وَلا نَطَقَ وَلا اسْتَهَلَّ وَمِثْلُ ذَلِكَ يُطَلُّ ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " إِنَّمَا هَذَا مِنْ إِخْوَانِ الْكُهَّانِ " .
نوید مجید طیب
سعید بن مسیب رحمہ اللہ سے روایت ہے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے جنین جسے ماں کے پیٹ میں قتل کیا گیا ہو اس کی دیت کے طور پر ایک غلام یا لونڈی دیئے جانے کا فیصلہ صادر فرمایا۔ جسے دیت پڑی کہنے لگا: ”ایسے بچے کی کیسے چٹی بھروں جس نے نہ پیا نہ کھایا نہ بولا نہ آواز نکالی ایسے کی دیت کیسے پڑگئی؟“ تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”بے شک یہ کاہنوں کا بھائی ہے۔“
وضاحت:
➊ اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی بات قانون اور دین کا درجہ رکھتی ہے لہذا احکام شرعی کے مقابل غیر سنجیدہ گفتگو جس کی عملی زندگی میں کچھ حیثیت نہیں، درست نہیں ہے۔
➋ بعض دفعہ جسے سزا سنائی جاتی ہے وہ عدالت میں بڑبڑاتا ہے، عدالتیں ایسے موقع پر صرفِ نظر کرتی ہیں کیونکہ یہ بڑبڑانا بھی سزا کا جزء ہی ہوتا ہے۔
➌ اس کی گفتگو کہانت کی طرح باطل تھی جسے کسی قانون کی تائید حاصل نہ تھی۔
➍ دلائل شہادت صفائی کے موقع پر دیے جاتے ہیں نہ کہ سزا سن کر، کاہنوں کی طرح اسے سعید بن مسیب رحمہ اللہ کو سمجھ نہیں آرہی تھی کہ پہلے کون سی بات کرنی ہے اور بعد میں کون سی یا سجع مقفی کلام پر اسے یہ خطاب ملا۔
➎ شرعی فیصلوں پر اعتراض کرنے والے کاہنوں اور شیطانوں کے بھائی ہیں۔
➋ بعض دفعہ جسے سزا سنائی جاتی ہے وہ عدالت میں بڑبڑاتا ہے، عدالتیں ایسے موقع پر صرفِ نظر کرتی ہیں کیونکہ یہ بڑبڑانا بھی سزا کا جزء ہی ہوتا ہے۔
➌ اس کی گفتگو کہانت کی طرح باطل تھی جسے کسی قانون کی تائید حاصل نہ تھی۔
➍ دلائل شہادت صفائی کے موقع پر دیے جاتے ہیں نہ کہ سزا سن کر، کاہنوں کی طرح اسے سعید بن مسیب رحمہ اللہ کو سمجھ نہیں آرہی تھی کہ پہلے کون سی بات کرنی ہے اور بعد میں کون سی یا سجع مقفی کلام پر اسے یہ خطاب ملا۔
➎ شرعی فیصلوں پر اعتراض کرنے والے کاہنوں اور شیطانوں کے بھائی ہیں۔
حدیث نمبر: 595
أَنْبَأَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ دِينَارٍ ، عَنْ طَاوُسٍ ، أَنَّ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ : أُذَكِّرُ اللَّهَ امْرَأً سَمِعَ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " قَضَى فِي الْجَنِينِ بِشَيْءٍ " ، فَقَامَ حَمَلُ بْنُ مَالِكِ بْنِ النَّابِغَةِ ، فَقَالَ : يَا أَمِيرَ الْمُؤْمِنِينَ كُنْتُ بَيْنَ جَارِيَتَيْنِ لِي يَعْنِي ضَرَّتَيْنِ ، فَقَامَتْ إِحْدَاهُمَا إِلَى الأُخْرَى بِمِسْطَحِ عَمُودِ بَيْتِهَا فَضَرَبَتْهَا بِهِ فَقَتَلَتْهَا وَقَتَلَتْ مَا فِي بَطْنِهَا ، " فَقَضَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي جَنِينِهَا بِغُرَّةٍ عَبْدٍ أَوِ أَمَةٍ " . فَقَالَ عُمَرُ : اللَّهُ أَكْبَرُ لَوْ لَمْ نَسْمَعْ هَذَا لَقَضَيْنَا بِغَيْرِهِ .
نوید مجید طیب
سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے اللہ کی یاد دلا کر لوگوں سے پوچھا: ”کیا کسی نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے جنین کے بارے میں کوئی فیصلہ سنا ہے؟“ حمل بن مالک بن نابغہ رضی اللہ عنہ کھڑے ہو گئے کہنے لگے ”میری دو بیویاں سوکنیں آپس میں لڑ پڑیں ایک نے دوسری کو خیمے کے ستون سے مارا تو اسے قتل کر دیا اس کے پیٹ کے بچے کو بھی قتل کر دیا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے (بچے کے بارے میں فیصلہ دیا)۔“ اس کے عوض غلام یا لونڈی دی جائے سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ”اللہ اکبر اگر ہم یہ نہ سنتے تو اس کے برعکس فیصلہ کر جاتے۔“
وضاحت:
➊ اگر مسئلہ کا علم نہ ہو تو دلیل کی تلاش کرنا اہل علم اور اسلاف کا شیوہ ہے۔
➋ دلیل آجانے کے بعد اس کی اتباع لازم و ضروری ہے۔
➌ اپنی رائے کے مقابل کتاب و سنت کو اختیار کرنا ہی سلف صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کا طرز عمل ہے۔ گزرتے وقت کے ساتھ مسلمان کتاب و سنت سے دور ہوئے، تقلید و جمود نے کتاب و سنت سے دور کیا، نتیجہ سب کے سامنے ہے۔
گر نہیں ہے جستجوئے حق کا تجھ میں ذوق شوق
امتی کہلا کے پیغمبر کو تو رسوا نہ کر
➋ دلیل آجانے کے بعد اس کی اتباع لازم و ضروری ہے۔
➌ اپنی رائے کے مقابل کتاب و سنت کو اختیار کرنا ہی سلف صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کا طرز عمل ہے۔ گزرتے وقت کے ساتھ مسلمان کتاب و سنت سے دور ہوئے، تقلید و جمود نے کتاب و سنت سے دور کیا، نتیجہ سب کے سامنے ہے۔
گر نہیں ہے جستجوئے حق کا تجھ میں ذوق شوق
امتی کہلا کے پیغمبر کو تو رسوا نہ کر
حدیث نمبر: 596
أَنْبَأَنَا عَبْدُ الْوَهَّابِ بْنُ عَبْدِ الْمَجِيدِ الثَّقَفِيُّ ، عَنْ حُمَيْدٍ الطَّوِيلِ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ، أَنَّ نَاسًا مِنَ عُرَيْنَةَ قَدِمُوا عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَاجْتَوَوَا الْمَدِينَةَ ، فَقَالَ : " لَوْ خَرَجْتُمْ إِلَى ذَوْدٍ لَنَا فَشَرِبْتُمْ مِنْ أَلْبَانِهَا وَأَبْوَالِهَا " ، فَفَعَلُوا ذَلِكَ وَارْتَدُّوا عَنِ الإِسْلامِ ، وَقَتَلُوا رَاعِيَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَاسْتَاقُوا ذَوْدَهُ ، " فَبَعَثَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي طَلَبِهِمْ فَقَطَعَ أَيْدِيَهُمْ وَأَرْجُلَهُمْ وَسَمَرَ أَعْيُنَهُمْ وَتَرَكَهُمْ فِي الْحَرَّةِ حَتَّى مَاتُوا " .
نوید مجید طیب
سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کچھ لوگ مدینہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے تو ان کو آب و ہوا موافق نہ آئی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ”اگر تم چاہو تو ہمارے اونٹوں میں چلے جاؤ ان کا دودھ اور پیشاب پیو۔“ انہوں نے ایسا کیا (صحت مند ہو گئے) اور اسلام سے مرتد ہو گئے پھر (رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے) چرواہے کو قتل کر کے اونٹ بھگا لے گئے تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کی تلاش میں مجاہدین ارسال کیے (جو انہیں گرفتار کر لائے) تو ان کے ہاتھ اور پاؤں کاٹے گئے اور آنکھوں میں گرم سلائیاں پھیری گئیں پھر دھوپ میں پھینک دیا حتی کہ مر گئے۔
وضاحت:
➊ اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے احکامات کا نفاذ کرنے والی اسلامی حکومت کے خلاف بغاوت کرنے والے افراد کو آیت محاربہ کے تحت سزا ملے گی۔ ارشاد باری تعالیٰ ہے: ﴿اِنَّمَا جَزٰٓؤُا الَّذِیْنَ یُحَارِبُوْنَ اللّٰهَ وَ رَسُوْلَهٗ وَ یَسْعَوْنَ فِی الْاَرْضِ فَسَادًا اَنْ یُّقَتَّلُوْۤا اَوْ یُصَلَّبُوْۤا اَوْ تُقَطَّعَ اَیْدِیْهِمْ وَ اَرْجُلُهُمْ مِّنْ خِلَافٍ اَوْ یُنْفَوْا مِنَ الْاَرْضِؕ-ذٰلِكَ لَهُمْ خِزْیٌ فِی الدُّنْیَا وَ لَهُمْ فِی الْاٰخِرَةِ عَذَابٌ عَظِیْمٌ﴾ [المائدہ: 33]
جو اللہ تعالیٰ سے اور اس کے رسول سے لڑیں اور زمین میں فساد کرتے پھریں ان کی سزا یہی ہے کہ وه قتل کر دیئے جائیں یا سولی چڑھا دیئے جائیں یا مخالف جانب سے ان کے ہاتھ پاوں کاٹ دیئے جائیں، یا انہیں جلاوطن کر دیا جائے، یہ تو ہوئی ان کی دنیوی ذلت اور خواری، اور آخرت میں ان کے لئے بڑا بھاری عذاب ہے۔
اس آیت کو آیت محاربہ کہتے ہیں ➋ حدیث میں مذکور لوگوں کا حکم حربیوں (جنگ کرنے والوں) کا ہے لہذا انہیں جرم کی نوعیت کے حساب سے سزا دی گئی کیونکہ ان مجرمین نے چرواہے کو اسی طرح قتل کیا لہذا جزاء من جنس العمل دی گئی۔
➌ اونٹ کا پیشاب بیماری میں استعمال کرنا جائز ہے۔
جو اللہ تعالیٰ سے اور اس کے رسول سے لڑیں اور زمین میں فساد کرتے پھریں ان کی سزا یہی ہے کہ وه قتل کر دیئے جائیں یا سولی چڑھا دیئے جائیں یا مخالف جانب سے ان کے ہاتھ پاوں کاٹ دیئے جائیں، یا انہیں جلاوطن کر دیا جائے، یہ تو ہوئی ان کی دنیوی ذلت اور خواری، اور آخرت میں ان کے لئے بڑا بھاری عذاب ہے۔
اس آیت کو آیت محاربہ کہتے ہیں ➋ حدیث میں مذکور لوگوں کا حکم حربیوں (جنگ کرنے والوں) کا ہے لہذا انہیں جرم کی نوعیت کے حساب سے سزا دی گئی کیونکہ ان مجرمین نے چرواہے کو اسی طرح قتل کیا لہذا جزاء من جنس العمل دی گئی۔
➌ اونٹ کا پیشاب بیماری میں استعمال کرنا جائز ہے۔
حدیث نمبر: 597
عَنِ الثَّقَةِ ، عَنْ حُمَيْدٍ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ مِثْلَ مَعْنَى هَذَا الْحَدِيثِ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَزَادَ فِيهِ أَنَسٌ : فَمَا خَطَبَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَعْدَ هَذَا خُطْبَةً إِلا نَهَى فِيهَا عَنِ الْمُثْلَةِ .
نوید مجید طیب
سیدنا انس رضی اللہ عنہ کی ایک دوسری حدیث میں اس حدیث کے بعد اتنا اضافہ ہے کہ اس کے بعد جو بھی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے خطبہ دیا اس میں مثلہ سے منع فرمایا۔
حدیث نمبر: 598
عَنِ ابْنِ أَبِي يَحْيَى ، عَنْ جَعْفَرِ بْنِ مُحَمَّدٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ جَدِّهِ ، قَالَ : " مَا سَمَلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَيْنًا وَمَا زَادَ أَهْلَ اللِّقَاحِ عَلَى أَنْ قَطَعَ أَيْدِيَهُمْ وَأَرْجُلَهُمْ " .
نوید مجید طیب
جعفر بن محمد رحمہ اللہ اپنے باپ سے وہ اپنے باپ سے بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے آنکھوں میں سلائیاں نہ پھروائی تھیں صرف ان کے ہاتھ پاؤں کاٹے تھے۔
وضاحت:
یہ ان کی ذاتی رائے ہے صحیح احادیث میں ہے کہ ان کی انکھوں میں سلائیاں پھیری گئی کیونکہ انہوں نے چرواہوں کی انکھیں اسی طرح پھوڑی تھی۔ [صحيح مسلم: 1671]
حدیث نمبر: 599
عَنْ سُفْيَانَ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ دِينَارٍ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ طَلْحَةَ ، قَالَ : طُعِنَ رَجُلٌ بِقَرْنٍ فِي رِجْلَهِ فَأَتَى النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ : أَقِدْنِي ، فَقَالَ : " انْتَظِرْ " ، فَعَادَ إِلَيْهِ ، فَقَالَ : " انْتَظِرْ " ، فَعَادَ إِلَيْهِ ، فَقَالَ : " انْتَظِرْ " ، فَعَادَ إِلَيْهِ ، فَأَقَادَهُ فَبَرِئَتْ رِجْلُ الْمُسْتَقَادُ مِنْهُ وَشَلَّتْ رِجْلُ الآخَرِ ، فَأَتَى النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، قَدْ بَرِئَتْ رِجْلُهُ وَشَلَّتْ رِجْلِي ، قَالَ : " قَدْ قُلْتُ لَكَ : انْتَظِرْ " وَلَمْ يَرَ لَهُ شَيْئًا .
نوید مجید طیب
محمد بن طلحہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ایک آدمی کو سینگ کے ساتھ ٹانگ پر زخمی کیا گیا وہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا اور کہنے لگا مجھے قصاص چاہیے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تھوڑا انتظار کر لے“ پھر دوبارہ آ گیا آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پھر فرمایا: ”تھوڑا صبر کر جا“ پھر آ گیا آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تھوڑا انتظار کر“ پھر آ کر یہی مطالبہ کیا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے قصاص دلایا تو جس سے قصاص لیا گیا تھا اس کی ٹانگ درست ہو گئی؟ پہلے کی ٹانگ شل ہو گئی تو کہنے لگا: اے اللہ کے رسول! اُس کی ٹانگ تو ٹھیک ہوگئی ہے جبکہ میری مفلوج ہو گئی ہے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”میں نے تجھے کہا تھا تھوڑا انتظار کر اب تیرے لیے کچھ نہیں (تو قصاص لے چکا ہے صبر کرتا تو نصف دیت ملتی)“
حدیث نمبر: 600
حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ ، عَنْ مُطَرِّفِ بْنِ طَرِيفٍ الْكُوفِيِّ ، عَنِ الشَّعْبِيِّ ، عَنْ أَبِي جُحَيْفَةَ ، قَالَ : سَأَلْتُ عَلِيًّا رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ : هَلْ عِنْدَكَ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عِلْمٌ سِوَى الْقُرْآنِ ؟ فَقَالَ : " لا وَالَّذِي فَلَقَ الْحَبَّةَ وَبَرَأَ النَّسَمَةَ ، مَا عِنْدَنَا مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ شَيْءٌ سِوَى الْقُرْآنِ إِلا أَنْ يُؤْتِيَ اللَّهُ عَبْدًا فَهْمًا فِي الْقُرْآنِ وَمَا فِي الصَّحِيفَةِ " ، قَالَ : قُلْتُ : وَمَا فِي الصَّحِيفَةِ ؟ قَالَ : " الْعَقْلُ وَفِكَاكُ الأَسِيرِ وَأَنْ لا يُقْتَلَ مُسْلِمٌ بِكَافِرٍ " .
نوید مجید طیب
ابو جحیفہ رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ میں نے سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے سوال کیا : کیا آپ کے پاس قرآن کے سوا اور بھی کوئی علم نبوی ہے؟ تو انہوں نے فرمایا : ”نہیں اس ذات کی قسم جس نے دانے کو پھاڑ کر انگوری نکالی اور روح کو پیدا کیا مگر یہ کہ اللہ کسی آدمی کو اپنی کتاب کی سمجھ عطا کر دے یا پھر یہ صحیفہ ہے“ میں نے عرض کی اس صحیفہ میں کیا ہے؟ انہوں نے فرمایا: ”اس میں دیت کے مسائل ہیں اور قیدی کو چھڑانے کا بیان، اور یہ کہ کوئی مسلمان کافر کے بدلے قتل نہ کیا جائے گا۔“
وضاحت:
➊ بعض لوگوں کا نظریہ ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اہل بیت کو خاص علم دیا جبکہ سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے اس بات کی تردید فرمائی کہ ایسی کوئی بات نہیں ہے۔
➋ فہمِ کتاب و سنت میں لوگوں کے درمیان تفاضل موجود ہے۔
➌ سیدنا علی رضی اللہ عنہ کے پاس مکتوب علم تھا جس سے معلوم ہوا حدیث مبارکہ کی کتابت عہدِ نبوی صلی اللہ علیہ وسلم میں ہوئی۔
➍ العقل کا لفظی معنی اونٹ کو باندھنے والی رسی ہے۔ چونکہ بطور دیت اونٹ دیے جاتے ہیں جن کو مقتول کے گھر لا کر رسیوں سے باندھ دیا جاتا ہے اس لیے العقل بمعنی دیت بھی مستعمل ہوا۔
➎ کافر حربی ہو یا ذمی اس کے بدلے مومن و مسلمان کو قتل نہیں کیا جائے گا۔
➋ فہمِ کتاب و سنت میں لوگوں کے درمیان تفاضل موجود ہے۔
➌ سیدنا علی رضی اللہ عنہ کے پاس مکتوب علم تھا جس سے معلوم ہوا حدیث مبارکہ کی کتابت عہدِ نبوی صلی اللہ علیہ وسلم میں ہوئی۔
➍ العقل کا لفظی معنی اونٹ کو باندھنے والی رسی ہے۔ چونکہ بطور دیت اونٹ دیے جاتے ہیں جن کو مقتول کے گھر لا کر رسیوں سے باندھ دیا جاتا ہے اس لیے العقل بمعنی دیت بھی مستعمل ہوا۔
➎ کافر حربی ہو یا ذمی اس کے بدلے مومن و مسلمان کو قتل نہیں کیا جائے گا۔
حدیث نمبر: 601
أَنْبَأَنَا مُسْلِمُ بْنُ خَالِدٍ ، عَنِ ابْنِ أَبِي حُسَيْنٍ ، عَنْ عَطَاءٍ ، وَطَاوُسٍ ، وَمُجَاهِدٍ ، وَالْحَسَنِ ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ فِي خُطْبَتِهِ عَامَ الْفَتْحِ : " لا يُقْتَلُ مُؤْمِنٌ بِكَافِرٍ " .
نوید مجید طیب
عطاء طاؤس، مجاہد اور حسن رحمہ اللہ سے روایت ہے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فتح مکہ کے موقع پر خطبہ دیا اور فرمایا: ”مومن کافر کے بدلے قتل نہ کیا جائے گا۔“