حدیث نمبر: 589
أَنْبَأَنَا مَالِكٌ ، عَنْ أَبِي لَيْلَى عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، عَنْ سَهْلِ بْنِ أَبِي حَثْمَةَ ، أَنَّهُ أَخْبَرَهُ رِجَالٌ مِنْ كُبَرَاءِ قَوْمِهِ أَنَّ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ سَهْلٍ ، وَمُحَيِّصَةَ خَرَجَا إِلَى خَيْبَرَ مِنْ جَهْدٍ أَصَابَهُمْ فَتَفَرَّقَا فِي حَوَائِجِهِمَا ، فَأَتَى مُحَيِّصَةُ فَأُخْبِرَ أَنَّ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ سَهْلٍ قَدْ قُتِلَ وَطُرِحَ فِي فَقِيرٍ أَوْ عَيْنٍ ، فَأَتَى يَهُودَ فَقَالَ : أَنْتُمْ وَاللَّهِ قَتَلْتُمُوهُ ، قَالُوا : وَاللَّهِ مَا قَتَلْنَاهُ ، فَأَقْبَلَ حَتَّى قَدِمَ عَلَى قَوْمِهِ فَذَكَرَ لَهُمْ ذَلِكَ ، ثُمَّ أَقْبَلَ هُوَ وَأَخُوهُ حُوَيِّصَةُ وَهُوَ أَكْبَرُ مِنْهُ ، وَعَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ سَهْلٍ أَخُو الْمَقْتُولِ ، فَذَهَبَ مُحَيِّصَةُ لَيَتَكَلَّمَ وَهُوَ الَّذِي كَانَ بِخَيْبَرَ ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِمُحَيِّصَةَ : " كَبِّرْ كَبِّرْ " يُرِيدُ السِّنَّ ، فَتَكَلَّمَ حُوَيِّصَةُ ، ثُمَّ تَكَلَّمَ مُحَيِّصَةُ ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " إِمَّا أَنْ يَدُوا صَاحِبَكُمْ ، وَإِمَّا أَنْ يُؤْذَنُوا بِحَرْبٍ " ، فَكَتَبَ لَهُمْ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي ذَلِكَ ، فَكَتَبُوا : إِنَّا وَاللَّهِ مَا قَتَلْنَاهُ ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِحُوَيِّصَةَ ، وَمُحَيِّصَةَ ، وَعَبْدِ الرَّحْمَنِ : " تَحْلِفُونَ وَتَسْتَحِقُّونَ دَمَ صَاحِبِكُمْ ؟ " قَالُوا : لا ، قَالَ : " أَفَيَحْلِفُ يَهُودُ " قَالُوا : لَيْسُوا بِمُسْلِمِينَ فَوَدَاهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ عِنْدِهِ فَبَعَثَ إِلَيْهِمْ بِمِائَةِ نَاقَةٍ حَتَّى أُدْخِلَتْ عَلَيْهِمُ الدَّارَ قَالَ سَهْلٌ : لَقَدْ رَكَضَتْنِي مِنْهَا نَاقَةٌ حَمْرَاءُ .
نوید مجید طیب
سہل بن ابی خیثمہ رحمہ اللہ سے روایت ہے انہیں قوم کے بزرگوں نے خبر دی کہ سیدنا عبد اللہ بن سہل رضی اللہ عنہ اور سیدنا محیصہ رضی اللہ عنہ خیبر میں تنگ دستی کے باعث (کھجور لینے گئے) دونوں اپنی ضروریات کے لیے جدا ہوئے تو سیدنا محیصہ رضی اللہ عنہ کو خبر دی گئی کہ سیدنا عبد اللہ بن سہل رضی اللہ عنہ کو قتل کر کے گڑھے یا چشمہ پر پھینک دیا گیا ہے تو انہوں نے یہود سے کہا: واللہ تم نے انہیں قتل کیا ہے، یہود نے کہا اللہ کی قسم ہم نے قتل نہیں کیا تو محیصہ واپس آئے قوم کو خبر دی پھر وہ اور ان کے بڑے بھائی سیدنا حویصہ اور سیدنا عبدالرحمن بن سہل رضی اللہ عنہ مقتول کے بھائی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے تو محیصہ رضی اللہ عنہ بات کرنا چاہتے تھے کیونکہ خیبر میں وہی تھے لیکن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے محیصہ رضی اللہ عنہ سے کہا: ”بڑے کو بات کرنے دیں“ تو سیدنا حویصہ رضی اللہ عنہ نے بات کی پھر محیصہ رضی اللہ عنہ نے بات کی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”یہود یا دیت اداء کریں یا جنگ کے لیے تیار ہو جائیں“ اس نسبت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہود کو خط لکھا تو یہود نے جواب لکھا کہ اللہ کی قسم ہم نے قتل نہیں کیا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدنا حویصہ رضی اللہ عنہ اور سیدنا محیصہ رضی اللہ عنہ اور سیدنا عبد الرحمن رضی اللہ عنہ سے کہا: ”کیا تم قسم کھا کر اپنا کیس ثابت کر سکتے ہو؟“ صحابہ رضی اللہ عنہم نے کہا نہیں ہم عینی شاہد نہ تھے پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”کیا آپ کی بجائے یہود پچاس قسمیں کھائیں اور بری ہو جائیں (کہ انہوں نے قتل نہیں کیا)؟“ صحابہ نے کہا: ”آپ صلی اللہ علیہ وسلم کیسے کفار کی قسم کو قبول کریں گے؟ (یعنی وہ کافر ہیں قسم کی حرمت کی پاسداری نہیں کریں گے)“ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے دیت اپنی طرف سے اداء کر دی۔ تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کی جانب سو اونٹنیاں بھیجیں حتی کہ ان کے گھر آ گئیں تو سہل رضی اللہ عنہ کہتے ہیں ان میں سے ایک سرخ اونٹنی نے مجھے لات ماری تھی۔
حدیث نمبر: 590
وَأَنْبَأَنَا مَالِكٌ ، عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ ، عَنْ بُشَيْرِ بْنِ يَسَارٍ ، أَنَّهُ أَخْبَرَهُ أَنَّ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ سَهْلٍ الأَنْصَارِيَّ ، وَمُحَيِّصَةَ بْنَ مَسْعُودٍ خَرَجَا إِلَى خَيْبَرَ فَتَفَرَّقَا فِي حَوَائِجِهِمَا ، فَقُتِلَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ سَهْلٍ ، فَقَدِمَ مُحَيِّصَةُ فَأَتَى هُوَ ، وَأَخُوهُ حُوَيِّصَةُ ، وَعَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ سَهْلٍ وَهُوَ أَخُو الْمَقْتُولِ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَذَهَبَ عَبْدُ الرَّحْمَنِ يَتَكَلَّمُ لِمَكَانِهِ مِنْ أَخِيهِ ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " كَبِّرْ كَبِّرْ " ، فَتَكَلَّمَ مُحَيِّصَةُ وَحُوَيِّصَةُ فَذَكَرَا شَأْنَ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ سَهْلٍ ، فَقَالَ لَهُمْ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " تَحْلِفُونَ خَمْسِينَ يَمِينًا وَتَسْتَحِقُّونَ دَمَ قَتِيلِكُمْ أَوْ صَاحِبِكُمْ ؟ " فَقَالُوا : يَا رَسُولَ اللَّهِ لَمْ نَشْهَدْ وَلَمْ نَحْضُرْ ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " فَتُبْرِئُكُمْ يَهُودُ بِخَمْسِينَ يَمِينًا ؟ " فَقَالُوا : يَا رَسُولَ اللَّهِ كَيْفَ نَقْبَلُ أَيْمَانَ قَوْمٍ كُفَّارٍ ؟ قَالَ مَالِكٌ : قَالَ يَحْيَى : فَزَعَمَ بَشِيرٌ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَدَاهُ مِنْ عِنْدِهِ .
نوید مجید طیب
بشیر بن یسار رحمہ اللہ سے روایت ہے سیدنا عبد اللہ بن سہل انصاری رضی اللہ عنہ اور سیدنا محیصہ بن مسعود رضی اللہ عنہ دونوں خیبر گئے دونوں اپنی ضروریات کے لیے جدا ہوئے تو سیدنا عبد اللہ بن سہل رضی اللہ عنہ قتل کر دیے گئے، سیدنا محیصہ رضی اللہ عنہ واپس آئے تو وہ اور ان کا بھائی سیدنا حویصہ رضی اللہ عنہ اور مقتول کا بھائی سیدنا عبد الرحمن بن سہل رضی اللہ عنہ رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے تو عبدالرحمن رضی اللہ عنہ نے بات کرنا چاہی تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”بڑے کو بات کرنے دیں۔“ محیصہ رضی اللہ عنہ اور حویصہ رضی اللہ عنہ نے عبد اللہ بن سہل رضی اللہ عنہ کی بات کی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تم پچاس قسمیں اٹھا کر خون کے حق دار بن سکتے ہو؟“ کہنے لگے اے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم ہم عینی شاہد نہیں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”پھر یہود پچاس قسمیں اٹھا کر بری ہو جائیں گے۔“ کہنے لگے ہم کفار کی قسموں کو کیسے قبول کریں؟ مالک رحمہ اللہ کہتے ہیں یحییٰ رحمہ اللہ نے کہا: بشیر رحمہ اللہ کا خیال ہے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی (ریاست) کی طرف سے دیت ادا کر دی۔
حدیث نمبر: 591
حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ ، عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ ، قَالَ : أَخْبَرَنِي بُشَيْرُ بْنُ يَسَارٍ ، أَخْبَرَنِي سَهْلُ بْنُ أَبِي حَثْمَةَ ، قَالَ : وُجِدَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ سَهْلٍ قَتِيلا فِي فَقِيرٍ مِنْ فُقُرِ خَيْبَرَ أَوْ قَالَ : فِي قَلِيبٍ مِنْ قُلُبِ خَيْبَرَ ، فَأُتِيَ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَخُوهُ عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ سَهْلٍ ، وَحُوَيِّصَةُ ، وَمُحَيِّصَةُ فَذَهَبَ عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ سَهْلٍ يَتَكَلَّمُ ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " الْكِبَرَ الْكِبَرَ " ، فَتَكَلَّمَ مُحَيِّصَةُ ، فَقَالَ : يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنَّا وَجَدْنَا عَبْدَ اللَّهِ بْنَ سَهْلٍ قَتِيلا ، وَإِنَّ الْيَهُودَ أَهْلُ كَفْرٍ وَغَدْرٍ وَهُمُ الَّذِينَ قَتَلُوهُ ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " تَحْلِفُونَ خَمْسِينَ يَمِينًا وَتَسْتَحِقُّونَ ؟ " فَقَالُوا : يَا رَسُولَ اللَّهِ وَكَيْفَ نَحْلِفُ عَلَى مَا لَمْ نَحْضُرْ وَلَمْ نَشْهَدْ ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " فَتُبْرِئُكُمْ يَهُودُ بِخَمْسِينَ يَمِينًا " ، فَقَالُوا : كَيْفَ نَقْبَلُ أَيْمَانَ قَوْمٍ مُشْرِكِينَ ، قَالَ : فَوَدَاهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ سَهْلٌ : فَرَكَضَتْنِي بَكْرَةٌ مِنْهَا . قَالَ الطَّحَاوِيُّ : سَمِعْتُ الْمُزَنِيَّ يَقُولُ : قَالَ مُحَمَّدُ بْنُ إِدْرِيسَ الشَّافِعِيُّ رَحِمَهُ اللَّهُ : وَكَانَ سُفْيَانُ يُحَدِّثُهُ هَكَذَا وَرُبَّمَا قَالَ : لا أَدْرِي أَبَدَأَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الأَنْصَارَ فِي الْيَمِينِ أَمْ يَهُودَ ؟ فَيُقَالُ لَهُ : إِنَّ النَّاسَ يُحَدِّثُونَ أَنَّهُ بَدَأَ بِالأَنْصَارِ قَالَ : فَهُوَ كَذَلِكَ وَرُبَّمَا حَدَّثَهُ وَلَمْ يَشُكَّ فِيهِ .
نوید مجید طیب
سیدنا سہل بن ابی خیثمہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے سیدنا عبداللہ بن سہل رضی اللہ عنہ خیبر کے ایک گڑھے میں مقتول پائے گئے یا خیبر کے ایک کنویں میں، تو ان کے بھائی سیدنا عبدالرحمن بن سہل رضی اللہ عنہ اور سیدنا حویصہ رضی اللہ عنہ اور سیدنا محیصہ رضی اللہ عنہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس مقدمہ لے کر گئے عبدالرحمن بن سہل رضی اللہ عنہ نے گفتگو کرنا چاہی تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”بڑے کو بات کرنے دیں۔“ تو سیدنا محیصہ رضی اللہ عنہ نے بات کی اور کہا: ”اے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم ! ہم نے عبداللہ بن سہل کو مقتول پایا اور یہود کافر اور دھوکے باز قوم ہے انہوں نے ہی قتل کیا ہے“ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا: ”کیا تم پچاس قسمیں کھاؤ گے اور خون کے حقدار ٹھہرو گے؟“ تو وہ کہنے لگے ”اے اللہ کے رسول! ہم ایسے معاملے پر کیسے قسمیں کھائیں جو ہم نے مشاہدہ نہیں کیا آنکھوں سے دیکھا نہیں“ تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”پھر یہود پچاس قسمیں کھا کر بری الذمہ ہو جائیں گے۔“ انہوں نے عرض کی ”ہم مشرک قوم کی قسموں پر کیسے یقین کریں۔“ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی طرف سے دیت اداء کی سہل رضی اللہ عنہ کہتے ہیں ان ہی اونٹوں میں سے ایک نے مجھے لات ماری تھی۔ امام شافعی رحمہ اللہ فرماتے ہیں سفیان رحمہ اللہ کبھی بیان کرتے ہوئے کہتے کہ مجھے نہیں معلوم قسم انصار سے شروع کی یا یہود سے، تو انہیں کہا گیا لوگوں کا کہنا ہے قسم کا آپشن پہلے انصار کو دیا گیا کہنے لگے ایسے ہی لگتا ہے اور بہت دفعہ بغیر شک کے بھی سفیان رحمہ اللہ روایت ہذا بیان کرتے تھے۔
حدیث نمبر: 592
أَنْبَأَنَا عَبْدُ الْوَهَّابِ بْنُ عَبْدِ الْمَجِيدِ الثَّقَفِيُّ ، عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ ، أَخْبَرَنِي بُشَيْرُ بْنُ يَسَارٍ ، عَنْ سَهْلِ بْنِ أَبِي حَثْمَةَ ، أَنَّ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ سَهْلٍ الأَنْصَارِيَّ ، وَمُحَيِّصَةَ بْنَ مَسْعُودٍ ، خَرَجَا إِلَى خَيْبَرَ فَتَفَرَّقَا لِحَاجَتِهِمَا ، فَقُتِلَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ سَهْلٍ ، فَانْطَلَقَ هُوَ ، وَعَبْدُ الرَّحْمَنِ أَخُو الْمَقْتُولِ ، وَحُوَيِّصَةُ بْنُ مَسْعُودٍ فَذَكَرَا لَهُ شَأْنَ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ سَهْلٍ ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " أَتَحْلِفُونَ خَمْسِينَ يَمِينًا فَتَسْتَحِقُّونَ دَمَ قَتِيلِكُمْ أَوْ صَاحِبِكُمْ ؟ " فَقَالُوا : يَا رَسُولَ اللَّهِ لَمْ نَشْهَدْ وَلَمْ نَحْضُرْ ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " فَتُبْرِئُكُمْ يَهُودُ بِخَمْسِينَ يَمِينًا ؟ " فَقَالُوا : يَا رَسُولَ اللَّهِ نَقْبَلُ أَيْمَانَ قَوْمٍ كُفَّارٍ ! فَزَعَمَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَقَلَهُ مِنْ عِنْدِهِ . قَالَ بَشِيرٌ : قَالَ سَهْلُ بْنُ أَبِي حَثْمَةَ : فَلَقَدْ رَكَضَتْنِي فَرِيضَةٌ مِنْ تِلْكَ الْفَرَائِضِ فِي مِرْبَدٍ لَنَا .
نوید مجید طیب
سیدنا سہل بن ابی حثمہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے سیدنا عبد اللہ بن سہل رضی اللہ عنہ اور سیدنا محیصہ بن مسعود رضی اللہ عنہ خیبر گئے وہاں اپنی ضروریات کے لیے جدا ہوئے تو عبداللہ بن سہل رضی اللہ عنہ کو قتل کر دیا گیا عدالت رسول صلی اللہ علیہ وسلم میں وہ اور مقتول کے بھائی سیدنا عبدالرحمن رضی اللہ عنہ اور سیدنا حویصہ بن مسعود رضی اللہ عنہ گئے انہوں نے سیدنا عبداللہ بن سہل رضی اللہ عنہ کا کیس بیان کیا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”کیا تم پچاس قسمیں کھاؤ گے اور اپنے خون کے حقدار ٹھہرو گے؟“ انہوں نے عرض کی ہم نہ حاضر تھے نہ دیکھا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”پھر یہود پچاس قسمیں کھا کر بری ہو جائیں گے“ تو کہنے لگے اے اللہ کے رسول! ہم کفار کی قسمیں قبول کریں؟ تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے بیت المال سے دیت اداء فرمائی۔ راوی بشر کہتے ہیں کہ سہل بن ابی حشمہ رضی اللہ عنہ نے کہا: ان دیت کے اونٹوں میں سے ہمارے باڑے میں مجھے ایک اونٹ نے لات ماری۔
وضاحت:
➊ اگر کسی پوری قوم پر قتل کا شک ہو تو اس کا حل قسامہ ہے۔
➋ جب کسی جگہ پر کوئی آدمی قتل ہو جائے اور قاتل نامعلوم ہوں جبکہ مقتول کے ورثاء قرائن کی بنیاد پر کسی قبیلے یا علاقے کے لوگوں پر دعویٰ قتل دائر کریں تو مدعی پچاس قسموں کے ساتھ اپنا دعویٰ ثابت کریں گے۔ اگر مدعی قسم نہ اٹھائیں تو مدعا علیہ پچاس قسمیں اپنی صفائی میں کھا کر بری ہو جائیں گے۔ اس سارے عمل کا نام قسامت ہے۔
➌ قسامت کا یہی طریقہ کار زمانہ جاہلیت میں موجود تھا، شریعت اسلامیہ نے بھی اس کو برقرار رکھا۔ [مسلم: 1670]
➍ مقدمات صرف شہادت سے ہی نہیں بلکہ قسامہ، قرائن، شواہد، قیافہ اور حالات و واقعات سے بھی ثابت ہو جاتے ہیں۔
➎ شک کا فائدہ کے نام پر انگریزی قانون نے بہت سے ثبوت دعویٰ کو ختم کر دیا ہے۔
➏ حدیث ہذا سے ثابت ہوا کہ فوجداری مقدمہ بھی قسم سے ثابت ہو جاتا ہے جبکہ انگریزی قانون صرف دیوانی مقدمات میں قسم سے اثبات کا قائل ہے، جیسا کہ قانون شہادت کے آرٹیکل 163 میں کہا گیا ہے۔
➐ معلوم ہوا عدالت کی اجازت کے بعد ہی گفتگو کی جا سکتی ہے جیسا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: بڑے کو بات کرنے دو۔ اسلام میں بڑے کا ادب و احترام بھی ملاحظہ ہوا۔
➑ عدالتی نظام کافر و مسلم کے لیے عام طور پر ایک جیسا ہے، اگر مسلمان قسم اٹھائے گا تو کافر بھی اٹھائے گا اگرچہ دیگر حالات و واقعات کو بھی مدنظر رکھا جاتا ہے تاکہ مذہب سے دشمنی کے باعث کسی کا نقصان نہ ہو۔
➒ عدالتوں کو لاپتہ قاتلوں کے مقدمات میں دیت بیت المال سے ادا کرنی چاہیے کیونکہ عوام کی حفاظت ریاست کی ذمہ داری ہے، جبکہ عصر حاضر میں لاپتہ ملزمان کی اختتامیاں مرتب کر کے داخل دفتر کر دی جاتی ہیں جو کہ اسلامی قانون کی رو سے ظلم ہے۔ اس سے آپ خود ہی اندازہ کریں کہ خالص اسلامی قانون بہتر ہے یا مروجہ انگریزی مکسچر اگر اسلامی قانون بہتر ہے تو ہر سطح پر آواز بلند کریں اور جہد مسلسل کرتے رہیں۔
❿ قسامت میں غیر مسلموں کی قسموں کا بھی اعتبار کیا جائے گا بشرطیکہ فریق ثانی راضی ہو۔
➋ جب کسی جگہ پر کوئی آدمی قتل ہو جائے اور قاتل نامعلوم ہوں جبکہ مقتول کے ورثاء قرائن کی بنیاد پر کسی قبیلے یا علاقے کے لوگوں پر دعویٰ قتل دائر کریں تو مدعی پچاس قسموں کے ساتھ اپنا دعویٰ ثابت کریں گے۔ اگر مدعی قسم نہ اٹھائیں تو مدعا علیہ پچاس قسمیں اپنی صفائی میں کھا کر بری ہو جائیں گے۔ اس سارے عمل کا نام قسامت ہے۔
➌ قسامت کا یہی طریقہ کار زمانہ جاہلیت میں موجود تھا، شریعت اسلامیہ نے بھی اس کو برقرار رکھا۔ [مسلم: 1670]
➍ مقدمات صرف شہادت سے ہی نہیں بلکہ قسامہ، قرائن، شواہد، قیافہ اور حالات و واقعات سے بھی ثابت ہو جاتے ہیں۔
➎ شک کا فائدہ کے نام پر انگریزی قانون نے بہت سے ثبوت دعویٰ کو ختم کر دیا ہے۔
➏ حدیث ہذا سے ثابت ہوا کہ فوجداری مقدمہ بھی قسم سے ثابت ہو جاتا ہے جبکہ انگریزی قانون صرف دیوانی مقدمات میں قسم سے اثبات کا قائل ہے، جیسا کہ قانون شہادت کے آرٹیکل 163 میں کہا گیا ہے۔
➐ معلوم ہوا عدالت کی اجازت کے بعد ہی گفتگو کی جا سکتی ہے جیسا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: بڑے کو بات کرنے دو۔ اسلام میں بڑے کا ادب و احترام بھی ملاحظہ ہوا۔
➑ عدالتی نظام کافر و مسلم کے لیے عام طور پر ایک جیسا ہے، اگر مسلمان قسم اٹھائے گا تو کافر بھی اٹھائے گا اگرچہ دیگر حالات و واقعات کو بھی مدنظر رکھا جاتا ہے تاکہ مذہب سے دشمنی کے باعث کسی کا نقصان نہ ہو۔
➒ عدالتوں کو لاپتہ قاتلوں کے مقدمات میں دیت بیت المال سے ادا کرنی چاہیے کیونکہ عوام کی حفاظت ریاست کی ذمہ داری ہے، جبکہ عصر حاضر میں لاپتہ ملزمان کی اختتامیاں مرتب کر کے داخل دفتر کر دی جاتی ہیں جو کہ اسلامی قانون کی رو سے ظلم ہے۔ اس سے آپ خود ہی اندازہ کریں کہ خالص اسلامی قانون بہتر ہے یا مروجہ انگریزی مکسچر اگر اسلامی قانون بہتر ہے تو ہر سطح پر آواز بلند کریں اور جہد مسلسل کرتے رہیں۔
❿ قسامت میں غیر مسلموں کی قسموں کا بھی اعتبار کیا جائے گا بشرطیکہ فریق ثانی راضی ہو۔