حدیث نمبر: 567
عَنْ سُفْيَانَ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ دِينَارٍ ، سَمِعَ جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ ، يَقُولُ : " أَطْعَمَنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْخَيْلِ ، وَنَهَانَا عَنْ لُحُومِ الْحَمِيرِ " .
نوید مجید طیب
سیدنا جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے نبی اکرم ﷺ نے ہمیں گھوڑے کا گوشت کھلایا (یعنی اجازت بخشی) اور گدھے کے گوشت سے منع فرمایا۔
حدیث نمبر: 568
أَنْبَأَنَا مَالِكٌ ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ ، وَالْحَسَنِ ، ابْنَيْ مُحَمَّدِ بْنِ عَلِيٍّ , عَنْ أَبِيهِمَا ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ، " أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَهَى عَنْ أَكْلِ لُحُومِ الْحُمُرِ الإِنْسِيَّةِ " .
نوید مجید طیب
سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے گھریلو گدھے کے گوشت سے منع فرمایا۔
حدیث نمبر: 569
أَنْبَأَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ أَيُّوبَ السَّخْتِيَانِيِّ ، عَنِ ابْنِ سِيرِينَ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ، قَالَ : صَبَّحَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ خَيْبَرَ بُكْرَةً وَقَدْ خَرَجُوا بِالنِّسَاءِ مِنَ الْحِصْنِ فَلَمَّا رَأَوْا رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالُوا : مُحَمَّدٌ وَالْخَمِيسُ مُحَمَّدٌ وَالْخَمِيسُ ثُمَّ أَحَالُوا إِلَى الْحِصْنِ فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَرَفَعَ يَدَيْهِ فَكَبَّرَ ثَلاثًا : " اللَّهُ أَكْبَرُ ، خَرِبَتْ خَيْبَرُ إِنَّا إِذَا نَزَلْنَا بِسَاحَةِ قَوْمٍ فَسَاءَ صَبَاحُ الْمُنْذَرِينَ " ، فَلَمَّا فَتَحَهَا النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَصَابُوا حُمُرًا فَطَبَخُوا مِنْهَا فَنَادَى مُنَادِي النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " إِنَّ اللَّهَ وَرَسُولَهُ يَنْهَيَانِكُمْ عَنْهَا فَإِنَّهَا نَجَسٌ فَكَفَئُوا الْقُدُورَ .
نوید مجید طیب
سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے رسول اللہ ﷺ نے خیبر والوں کو صبح صبح جا لیا وہ اس وقت اپنی عورتوں کے ساتھ قلعوں سے باہر نکلے ہی تھے کہ رسول اللہ ﷺ کو دیکھا تو چلائے: محمد ﷺ لشکر لے کر آ گئے، محمد ﷺ لشکر لے کر آ گئے پھر قلعہ کی طرف بھاگے تو نبی ﷺ نے ہاتھ بلند کر کے تین تکبریں کہیں: ”اللہ اکبر خیبر برباد ہوا، ہم جب کسی قوم کے میدان میں (بغرض جہاد) اترتے ہیں تو پھر ڈرائے ہوئے لوگوں کی صبح بری ہو جاتی ہے۔“ جب رسول اللہ ﷺ نے خیبر فتح کر لیا تو صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کو کچھ گدھے میسر آئے جن کا گوشت پکا لیا تو اسی اثناء میں رسول اللہ ﷺ کی طرف سے ایک اعلان کرنے والے نے منادی کی: ”خبر دار بے شک اللہ تعالیٰ اور اس کا رسول ﷺ تمہیں اس گوشت سے منع کرتے ہیں بے شک گدھے نجس ہیں۔“ انہوں نے (اعلان سن کر) ہنڈیاں انڈیل دیں۔
وضاحت:
➊ گھوڑا حلال جانور ہے اگرچہ کوئی کھائے یا دل نہ کرے کیونکہ ہر حلال جانور کھانا فرض نہیں لیکن حلال کو حرام سمجھنا گناہ کبیرہ ہے۔
➋ گھریلو گدھوں سے مراد معروف گدھے ہیں یہ حرام ہیں۔
➌ ایک جنگلی گدھا ہوتا ہے جس کے کھر گدھے کی مانند ہوتے ہیں اصل میں جنگلی گائے ہوتی ہے کھر کی وجہ سے اسے جنگلی گدھا کہہ دیتے ہیں جو کہ حلال جانور ہے۔
➍ گدھوں کی حرمت سات ہجری غزوہ خیبر کے موقع پر نازل ہوئی تھی۔
➎ گھوڑوں کو نحر کیا جاتا تھا چنانچہ سیدہ اسماء رضی اللہ عنہا سے مروی ہے انہوں نے بیان کیا: «نحرنا فرسا على عهد رسول الله صلى الله عليه وسلم فأكلناه» [صحیح بخاری: 5512]
ہم نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ میں گھوڑا نحر کیا پھر ہم نے اس کے گوشت کو کھایا۔
➏ خمیس لشکر کو کہتے ہیں کیونکہ اس کے پانچ حصے ہوتے ہیں: (1) مقدمہ، (2) ساقہ، (3) میمنہ، (4) میسرہ، (5) قلب۔
➐ میدان جنگ میں نعرہ تکبیر لگانا جائز ہے۔
➑ امر رسول صلی اللہ علیہ وسلم ہر صورت، ہر حال میں اور ہر وقت فوراً قابل اتباع ہے۔
➋ گھریلو گدھوں سے مراد معروف گدھے ہیں یہ حرام ہیں۔
➌ ایک جنگلی گدھا ہوتا ہے جس کے کھر گدھے کی مانند ہوتے ہیں اصل میں جنگلی گائے ہوتی ہے کھر کی وجہ سے اسے جنگلی گدھا کہہ دیتے ہیں جو کہ حلال جانور ہے۔
➍ گدھوں کی حرمت سات ہجری غزوہ خیبر کے موقع پر نازل ہوئی تھی۔
➎ گھوڑوں کو نحر کیا جاتا تھا چنانچہ سیدہ اسماء رضی اللہ عنہا سے مروی ہے انہوں نے بیان کیا: «نحرنا فرسا على عهد رسول الله صلى الله عليه وسلم فأكلناه» [صحیح بخاری: 5512]
ہم نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ میں گھوڑا نحر کیا پھر ہم نے اس کے گوشت کو کھایا۔
➏ خمیس لشکر کو کہتے ہیں کیونکہ اس کے پانچ حصے ہوتے ہیں: (1) مقدمہ، (2) ساقہ، (3) میمنہ، (4) میسرہ، (5) قلب۔
➐ میدان جنگ میں نعرہ تکبیر لگانا جائز ہے۔
➑ امر رسول صلی اللہ علیہ وسلم ہر صورت، ہر حال میں اور ہر وقت فوراً قابل اتباع ہے۔
حدیث نمبر: 570
أَنْبَأَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ ، حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ دِينَارٍ ، قَالَ : قُلْتُ لِجَابِرِ بْنِ زَيْدٍ : إِنَّهُمْ يَزْعُمُونَ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " نَهَى عَنْ لُحُومِ الْحُمُرِ الأَهْلِيَّةِ " ، قَالَ : قَدْ كَانَ يَقُولُ ذَلِكَ الْحَكَمُ بْنُ عَمْرٍو الْغِفَارِيُّ عِنْدَنَا عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، وَلَكِنْ أَبَى ذَلِكَ الْبَحْرُ ابْنُ عَبَّاسٍ ، وَقَرَأَ : قُلْ لا أَجِدُ فِي مَا أُوحِيَ إِلَيَّ مُحَرَّمًا عَلَى طَاعِمٍ يَطْعَمُهُ سورة الأنعام آية 145 الآيَةَ .
نوید مجید طیب
سیدنا جابر بن عبد اللہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے لوگوں کا خیال ہے نبی اکرم ﷺ نے گھریلو گدھے کا گوشت کھانے سے منع فرمایا ہے یہ بات ہمارے پاس حکم بن عمرو غفاری رضی اللہ عنہ کہتے جو نبی ﷺ سے روایت کرتے ہیں لیکن علم کے سمندر سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما نے اس بات کا انکار کیا اور اپنی دلیل میں قرآن کریم کی آیت پڑھی : ”اے پیارے کہہ دے جو میری طرف وحی آئی اس میں میں کھانے والے پر حرام نہیں پاتا کہ وہ کھائے“ آگے محرمات کا ذکر ہے۔ (جس میں گدھے کا ذکر نہیں)
وضاحت:
➊ گھریلو گدھوں کی حرمت خیبر کے موقع پر نازل ہوئی اور اس کے بعد ان کی حلت کا حکم نہیں آیا، جیسا کہ سیدنا براء بن عازب رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں۔ [صحیح بخاری: 5512، صحیح مسلم: 1942]
➋ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہ بھی حرمت کے قائل تھے چنانچہ عامر الشعمی رحمہ اللہ کہتے ہیں سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما نے فرمایا: مجھے معلوم نہیں آیا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے گدھے کا گوشت کھانے سے اس لیے منع کیا کہ اس سے بوجھ منتقل کرنے کا کام لیا جاتا ہے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ناپسند کیا کہ بوجھ اٹھانے والے جانوروں کی قلت ہو جائے یا آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے صرف غزوہ خیبر کے موقع پر پالتو گدھوں کے گوشت کی ممانعت فرمائی تھی۔ [صحیح بخاری: 4227]
➋ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہ بھی حرمت کے قائل تھے چنانچہ عامر الشعمی رحمہ اللہ کہتے ہیں سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما نے فرمایا: مجھے معلوم نہیں آیا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے گدھے کا گوشت کھانے سے اس لیے منع کیا کہ اس سے بوجھ منتقل کرنے کا کام لیا جاتا ہے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ناپسند کیا کہ بوجھ اٹھانے والے جانوروں کی قلت ہو جائے یا آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے صرف غزوہ خیبر کے موقع پر پالتو گدھوں کے گوشت کی ممانعت فرمائی تھی۔ [صحیح بخاری: 4227]
حدیث نمبر: 571
أَنْبَأَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ ، عَنْ فَاطِمَةَ بِنْتِ الْمُنْذِرِ ، عَنْ أَسْمَاءَ بِنْتِ أَبِي بَكْرٍ ، قَالَتْ : " نَحَرْنَا فَرَسًا عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَأَكَلْنَاهُ .
نوید مجید طیب
سیدہ اسماء بنت ابی بکر رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ ہم نے رسول اللہ ﷺ کے عہد میں گھوڑا ذبح کیا اور اسے کھایا۔
حدیث نمبر: 572
أَنْبَأَنَا عَبْدُ الْوَهَّابِ بْنُ عَبْدِ الْمَجِيدِ الثَّقَفِيُّ ، عَنْ أَيُّوبَ السَّخْتِيَانِيِّ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ سِيرِينَ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ جَاءَهُ جَاءٍ فَقَالَ : أَكَلْتُ الْحُمُرَ ، ثُمَّ جَاءَهُ جَاءٍ فَقَالَ : أَكَلْتُ الْحُمُرَ ، ثُمَّ جَاءَهُ جَاءٍ فَقَالَ : أُفْنِيَتِ الْحُمُرُ ، فَأَمَرَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مُنَادِيًا يُنَادِي : " إِنَّ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ وَرَسُولَهُ يَنْهَيَانِكُمْ عَنْ لُحُومِ الْحُمُرِ الأَهْلِيَّةِ فَإِنَّهَا رِجْسٌ فَأُكْفِئَتِ الْقُدُورُ وَإِنَّهَا لَتَفُورُ بِاللَّحْمِ " .
نوید مجید طیب
سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے رسول اللہ ﷺ کے پاس ایک آدمی آیا کہنے لگا ”گدھے کھائے جا رہے ہیں“ پھر ایک آیا کہنے لگا ”گدھے ختم ہونے لگے ہیں“ تو نبی اکرم ﷺ نے ایک اعلان کرنے والے کو حکم دیا کہ نداء لگائے۔ ”بے شک اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول ﷺ تمہیں گھریلو گدھوں کے گوشت سے روکتے ہیں یہ پلید ہیں۔“ راوی کہتے ہیں ابلتی ہنڈیاں الٹ دی گئیں۔
حدیث نمبر: 573
أَنْبَأَنَا مَالِكٌ ، عَنْ أَبِي لَيْلَى عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، عَنْ سَهْلِ بْنِ أَبِي حَثْمَةَ ، أَنَّهُ أَخْبَرَهُ رِجَالٌ مِنْ كُبَرَاءِ قَوْمِهِ أَنَّ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ سَهْلٍ ، وَمُحَيِّصَةَ خَرَجَا إِلَى خَيْبَرَ مِنْ جَهْدٍ أَصَابَهُمْ فَتَفَرَّقَا فِي حَوَائِجِهِمَا ، فَأَتَى مُحَيِّصَةُ فَأُخْبِرَ أَنَّ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ سَهْلٍ قَدْ قُتِلَ وَطُرِحَ فِي فَقِيرٍ أَوْ عَيْنٍ ، فَأَتَى يَهُودَ فَقَالَ : أَنْتُمْ وَاللَّهِ قَتَلْتُمُوهُ ، قَالُوا : وَاللَّهِ مَا قَتَلْنَاهُ ، فَأَقْبَلَ حَتَّى قَدِمَ عَلَى قَوْمِهِ فَذَكَرَ لَهُمْ ذَلِكَ ، ثُمَّ أَقْبَلَ هُوَ وَأَخُوهُ حُوَيِّصَةُ وَهُوَ أَكْبَرُ مِنْهُ ، وَعَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ سَهْلٍ أَخُو الْمَقْتُولِ ، فَذَهَبَ مُحَيِّصَةُ لَيَتَكَلَّمَ وَهُوَ الَّذِي كَانَ بِخَيْبَرَ ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِمُحَيِّصَةَ : " كَبِّرْ كَبِّرْ " يُرِيدُ السِّنَّ ، فَتَكَلَّمَ حُوَيِّصَةُ ، ثُمَّ تَكَلَّمَ مُحَيِّصَةُ ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " إِمَّا أَنْ يَدُوا صَاحِبَكُمْ ، وَإِمَّا أَنْ يُؤْذَنُوا بِحَرْبٍ " ، فَكَتَبَ لَهُمْ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي ذَلِكَ ، فَكَتَبُوا : إِنَّا وَاللَّهِ مَا قَتَلْنَاهُ ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِحُوَيِّصَةَ ، وَمُحَيِّصَةَ ، وَعَبْدِ الرَّحْمَنِ : " تَحْلِفُونَ وَتَسْتَحِقُّونَ دَمَ صَاحِبِكُمْ ؟ " قَالُوا : لا ، قَالَ : " أَفَيَحْلِفُ يَهُودُ " قَالُوا : لَيْسُوا بِمُسْلِمِينَ فَوَدَاهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ عِنْدِهِ فَبَعَثَ إِلَيْهِمْ بِمِائَةِ نَاقَةٍ حَتَّى أُدْخِلَتْ عَلَيْهِمُ الدَّارَ قَالَ سَهْلٌ : لَقَدْ رَكَضَتْنِي مِنْهَا نَاقَةٌ حَمْرَاءُ .
نوید مجید طیب
سفیان ثوری بیان کرتے ہیں کہ عبد الکریم ابو امیہ رحمہ اللہ نے کہا کہ عبد اللہ بن زبیر رضی اللہ عنہ کے زمانے میں گھوڑے کا گوشت (کھانے کو ملا) ”بڑا مزیدار تھا۔“
حدیث نمبر: 574
عَنْ سُفْيَانَ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ ، وَالْحَسَنِ ، ابْنَيْ مُحَمَّدِ بْنِ عَلِيٍّ وَكَانَ الْحَسَنُ أَرْضَاهُمَا , عَنْ أَبِيهِمَا ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ لابْنِ عَبَّاسٍ : " نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ لُحُومِ الْحُمُرِ الأَهْلِيَّةِ زَمَنَ خَيْبَرَ " .
نوید مجید طیب
سیدنا علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ سے روایت ہے انہوں نے سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے فرمایا کہ رسول اللہ ﷺ نے خیبر میں گھریلو گدھوں کے گوشت سے منع کر دیا۔
حدیث نمبر: 575
أَنْبَأَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي أَوْفَى ، قَالَ : أَصَبْنَا حُمُرًا خَارِجَةً مِنَ الْقَرْيَةِ عَامَ خَيْبَرَ فَنَحَرْنَاهَا فَنَادَى مُنَادِي النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " أَنِ اكْفَئُوا الْقُدُورَ بِمَا فِيهَا فَكَفَأْنَاهَا وَإِنَّ الْقُدُورَ لَتَغْلِيَ " . قَالَ أَبُو إِسْحَاقَ : فَذَكَرْتُ ذَلِكَ لِسَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ فَقَالَ : إِنَّمَا تِلْكَ حُمُرٌ كَانَتْ تَأْكُلُ الْعُذْرَةَ .
نوید مجید طیب
سیدنا عبداللہ بن ابی اوفی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے خیبر والے سال ہمیں بستی کے باہر گدھے ملے ہم نے انہیں ذبح کر لیا تو منادی نبی ﷺ نے اعلان کیا کہ ”ہنڈیوں میں جو کچھ ہے الٹ دو“ ہم نے ابلتی ہنڈیاں الٹ دیں۔ ابو اسحاق کہتے ہیں یہ حدیث میں نے سعید بن جبیر رحمہ اللہ سے ذکر کی انہوں نے کہا: ”وہ گدھے گندگی کھاتے تھے۔“
وضاحت:
گندگی چھوڑ کر سیب کھانا شروع کر دیں تب بھی گدھے حرام ہی ہیں جیسا کہ واضح فرامین رسول صلی اللہ علیہ وسلم گزر چکے ہیں۔
حدیث نمبر: 576
أَنْبَأَنَا سُفْيَانُ ، حَدَّثَنَا عَمْرٌو ، أَنْبَأَنَا صُهَيْبٌ ، مَوْلَى عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَامِرٍ قَالَ : سَمِعْتُ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عَمْرِو بْنِ الْعَاصِ ، يَقُولُ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " مَنْ قَتَلَ عُصْفُورَةً فَمَا فَوْقَهَا بِغَيْرِ حَقِّهَا سَأَلَهُ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ عَنْ قَتْلِهَا " ، قِيلَ يَا رَسُولَ اللَّهِ وَمَا حَقُّهَا ؟ قَالَ : " يَذْبَحُهَا فَيَأْكُلُهَا وَلا يَقْطَعْ رَأْسَهَا فَيَرْمِيَ بِهَا " .
نوید مجید طیب
سیدنا عبد اللہ بن عمرو بن عاص رضی اللہ عنہ سے روایت ہے رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”جس نے چڑیا یا اس سے چھوٹا جانور ناحق قتل کیا تو اس سے اس قتل کے بارے میں اللہ تعالیٰ سوال کریں گے“ پوچھا گیا: اے اللہ کے رسول اس کا حق کیا ہے؟ آپ ﷺ نے فرمایا: ”اسے ذبح کر کے کھائے نہ کہ اس کا سر کاٹ کر ہی پھینک دے۔“
وضاحت:
➊ شوقیہ شکار گناہ ہے شکار صرف خوراک حاصل کرنے کے لیے ہونا چاہیے پھر اگر جانور حلال ہے تو اسے کھائے نہ کہ ناحق مار کر پھینکا جائے اور اگر جانور حرام ہے تو اس کے شر سے بچنے کے لیے ہی اسے قتل کرنا جائز ہوگا نہ کہ شوق پورا کرنے کے لیے۔
➋ جانوروں کو باندھ کر نشانہ بازی کرنا بھی ممنوع ہے۔
➋ جانوروں کو باندھ کر نشانہ بازی کرنا بھی ممنوع ہے۔
حدیث نمبر: 577
وَأَنْبَأَنَا عَبْدُ الْوَهَّابِ ، عَنْ خَالِدٍ الْحَذَّاءِ ، عَنْ أَبِي قِلابَةَ ، عَنْ أَبِي الأَشْعَثِ ، عَنْ شَدَّادِ بْنِ أَوْسٍ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " إِنَّ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ كَتَبَ الإِحْسَانَ عَلَى كُلِّ شَيْءٍ ، فَإِذَا قَتَلْتُمْ فَأَحْسِنُوا الْقِتْلَةَ ، وَإِذَا ذَبَحْتُمْ فَأَحْسِنُوا الذَّبْحَ وَلْيُحِدَّ أَحَدُكُمْ شَفْرَتَهُ وَلْيُرِحْ ذَبِيحَتَهُ " .
نوید مجید طیب
سیدنا شداد بن اوس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”بے شک اللہ تعالیٰ نے ہر چیز کے ساتھ احسان کرنا فرض کیا جب تم (حد و قصاص) میں کسی کو قتل کرو تو اچھے انداز سے قتل کرو اور جب جانور ذبح کرو تو اچھا انداز اپناؤ آدمی کو چاہیے اپنی چھری کی دھار تیز کرلے اور ذبیحہ کو آرام پہنچائے۔“
وضاحت:
➊ اسلام جانور سے بھی حسن سلوک کرنے کا حکم دیتا ہے حتی کہ کسی کو موت کے گھاٹ اتارنا ہے تو بھی ایسا طریقہ اختیار کیا جائے جس سے کم تکلیف ہو، تلوار کے ایک ہی وار سے گردن اڑائی جائے نہ کہ پھانسی کی اذیت دی جائے اور جانور کو کند آلہ سے ذبح کر کے تکلیف میں اضافہ نہ کیا جائے، روح نکلنے سے قبل کھال نہ اتاری جائے جبکہ ظالم تہذیبیں زندہ جانور کی کھال بھی اتارتی ہیں اور پورے جانور کو مشین کی نذر کر کے اس کا قیمہ بنا دیتی ہیں یہ تہذیب سفاکی اور تہذیب جاہلی کی ابتر شکل ہے اس کو تہذیب نو اور ترقی کسی طور پر نہیں کہہ سکتے ہیں۔
➋ پھر جانور کو ذبح اسلامی طریقے کے مطابق کرنے سے روح جلدی نکلتی ہے تکلیف کم ہوتی ہے اور جانور کو حلال کرنے اور جراثیم سے پاک کرنے کا واحد طریقہ بھی اسلامی ذبیح کا طریقہ ہے۔
➋ پھر جانور کو ذبح اسلامی طریقے کے مطابق کرنے سے روح جلدی نکلتی ہے تکلیف کم ہوتی ہے اور جانور کو حلال کرنے اور جراثیم سے پاک کرنے کا واحد طریقہ بھی اسلامی ذبیح کا طریقہ ہے۔
حدیث نمبر: 578
عَنْ سُفْيَانَ بْنِ عُيَيْنَةَ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ دِينَارٍ ، سَمِعَ ابْنَ عُمَرَ ، يَقُولُ : " نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ بَيْعِ الْوَلاءِ وَعَنْ هِبَتِهِ .
نوید مجید طیب
سیدنا عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں رسول اللہ ﷺ نے ولاء کی بیع اور اس کے ہبہ سے منع کیا۔
حدیث نمبر: 579
عَنْ مَالِكِ بْنِ أَنَسٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ دِينَارٍ ، عَنِ ابْنَ عُمَرَ ، " أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَهَى عَنْ بَيْعِ الْوَلاءِ وَعَنْ هِبَتِهِ " .
نوید مجید طیب
سیدنا عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے رسول اللہ ﷺ نے حق ولاء کو فروخت کرنے اور اس کے ہبہ کرنے سے منع فرمایا۔
وضاحت:
➊ جب مالک کسی کو آزاد کرتا ہے تو آزادی دلانے والے مالک اور غلام کے درمیان رشتہ اور تعلق ولاء کہلاتا ہے اسی تعلق کے پیش نظر غلام کی وراثت مالک کو ملتی ہے، یہ تعلق اور رشتہ ناقابل انتقال ہے اس کو فروخت کرنا، ہبہ کرنا ممنوع ہے۔
➋ کسی سے سودا کر لینا کہ مجھے اتنے پیسے ابھی دے دے آزاد کردہ غلام مرا تو اس کی وراثت تم لے لینا یہ بھی جائز نہیں کیونکہ اس میں دھوکہ ہے کیا پتا مرتے وقت اس کے پاس مال ہوگا یا نہیں اور پھر پہلے کون مرے گا یہ بھی معلوم نہیں ہے۔
➋ کسی سے سودا کر لینا کہ مجھے اتنے پیسے ابھی دے دے آزاد کردہ غلام مرا تو اس کی وراثت تم لے لینا یہ بھی جائز نہیں کیونکہ اس میں دھوکہ ہے کیا پتا مرتے وقت اس کے پاس مال ہوگا یا نہیں اور پھر پہلے کون مرے گا یہ بھی معلوم نہیں ہے۔
حدیث نمبر: 580
عَنْ مَالِكٍ ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ عَائِشَةَ أُمِّ الْمُؤْمِنِينَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا ، أَنَّهَا قَالَتْ : جَاءَتْنِي بَرِيرَةُ فَقَالَتْ : إِنِّي كَاتَبْتُ أَهْلِي عَلَى تِسْعِ أَوَاقٍ فِي كُلِّ عَامٍ أُوقِيَّةٌ فَأَعِينِينِي ، فَقَالَتْ لَهَا عَائِشَةُ : إِنْ أَحَبَّ أَهْلُكِ أَنْ أَعُدَّهَا لَهُمْ , عَدَدْتُهَا لَهُمْ وَيَكُونَ وَلاؤُكِ لِي فَعَلْتُ ، فَذَهَبَتْ بَرِيرَةُ إِلَى أَهْلِهَا فَقَالَتْ لَهُمْ ذَلِكَ ، فَأَبَوْا عَلَيْهَا ، فَجَاءَتْ مِنْ عِنْدِ أَهْلِهَا وَرَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ جَالِسٌ ، فَقَالَتْ : إِنِّي قَدْ عَرَضْتُ ذَلِكَ عَلَيْهِمْ فَأَبَوْا عَلَيَّ إِلا أَنْ يَكُونَ الْوَلاءُ لَهُمْ ، فَسَمِعَ ذَلِكَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَسَأَلَهَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَأَخْبَرَتْهُ عَائِشَةُ ، فَقَالَ : " خُذِيهَا وَاشْتَرِطِي فَإِنَّمَا الْوَلاءُ لِمَنْ أَعْتَقَ " ، فَفَعَلَتْ عَائِشَةُ ، ثُمَّ قَامَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي النَّاسِ فَحَمِدَ اللَّهَ وَأَثْنَى عَلَيْهِ ثُمَّ قَالَ : " أَمَّا بَعْدُ ، فَمَا بَالُ رِجَالٍ يَشْتَرِطُونَ شُرُوطًا لَيْسَتْ فِي كِتَابِ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ , مَا كَانَ مِنْ شَرْطٍ لَيْسَ فِي كِتَابِ اللَّهِ فَهُوَ بَاطِلٌ وَإِنْ كَانَ مِائَةَ شَرْطٍ قَضَاءُ اللَّهِ أَحَقُّ وَشَرْطُهُ أَوْثَقُ وَإِنَّمَا الْوَلاءُ لِمَنْ أَعْتَقَ " .
نوید مجید طیب
سیدہ عائشہ ام المومنین رضی اللہ عنہا سے روایت ہے میرے پاس سیدہ بریرہ رضی اللہ عنہا آئیں کہنے لگی ”میں نے اپنے مالکان سے اپنی آزادی کا سودا (9) اوقیہ چاندی کے عوض کیا ہے ہر سال ایک اوقیہ اداء کرنا ہے میری کچھ مدد کریں،“ تو سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے فرمایا: ”اگر تیرے مالکان راضی ہوں تو میں (یک مشت) تیری رقم اداء کر دوں گی لیکن تیرا تعلق (ولاء) آزادی میرے لیے ہوگا۔“ بریرہ رضی اللہ عنہا نے جا کر مالکان کو پیش کش کی ہے لیکن وہ نہ مانے تو بریرہ رضی اللہ عنہا واپس آئیں جبکہ رسول اللہ ﷺ بھی عائشہ رضی اللہ عنہا کے ہاں تشریف فرما تھے کہنے لگی ”میں نے ان کو پیش کش کی ہے لیکن ان کی ضد ہے کہ ولاء ان ہی کے لیے ہوگی،“ رسول اللہ ﷺ نے یہ بات سنی تفصیل عائشہ رضی اللہ عنہا نے بتلائی آپ ﷺ نے فرمایا: ”اسے خرید لو اور ولاء کی شرط رکھو تعلق ولاء اسی کا ہے جس نے آزاد کیا۔“ پھر لوگوں میں خطبہ دیا اور فرمایا : ”اما بعد! لوگوں کو کیا ہو گیا ایسی شرط لگاتے ہیں جو کتاب اللہ میں نہیں، ہر وہ شرط جو کتاب اللہ کے مطابق نہیں وہ باطل ہے، اگرچہ سو شرط ہی کیوں نہ ہو اللہ کا فیصلہ برحق ہے اور اللہ کی شرط ہی مضبوط تر ہے ولاء تو اس کا ہوگا جو آزاد کرے گا۔“
حدیث نمبر: 581
عَنْ مَالِكٍ ، عَنْ نَافِعٍ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، عَنْ عَائِشَةَ أُمِّ الْمُؤْمِنِينَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا ، أَنَّهَا أَرَادَتْ أَنْ تَشْتَرِيَ جَارِيَةً فَتُعْتِقَهَا ، فَقَالَ أَهْلُهَا : نَبِيعُكِهَا عَلَى أَنَّ وَلاءَهَا لَنَا ، فَذَكَرَتْ ذَلِكَ لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَقَالَ : " لا يَمْنَعُكِ ذَلِكَ فَإِنَّمَا الْوَلاءُ لِمَنْ أَعْتَقَ " .
نوید مجید طیب
سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے سیدہ عائشہ ام المومنین رضی اللہ عنہا نے ارادہ کیا کہ لونڈی خرید کر آزاد کریں تو لونڈی کے مالکان نے کہا ”ہم اس شرط پر فروخت کریں گے کہ ولاء ہمارے لیے ہوگا“ اس کا تذکرہ رسول اللہ ﷺ سے ہوا تو آپ ﷺ نے فرمایا: ”تجھے لونڈی خریدنے سے کوئی چیز نہ روکے ولاء اسی کا ہے جس نے آزاد کیا۔“
حدیث نمبر: 582
عَنْ مَالِكٍ ، عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ ، عَنْ عَمْرَةَ بِنْتِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، أَنَّ بَرِيرَةَ جَاءَتْ تَسْتَعِينُ عَائِشَةَ أُمَّ الْمُؤْمِنِينَ فَقَالَتْ لَهَا عَائِشَةُ : إِنْ أَحَبَّ أَهْلُكِ أَنْ أَصُبَّ لَهُمْ ثَمَنَكِ صَبَّةً وَاحِدَةً وَأُعْتِقَكِ فَعَلْتُ . " فَذَكَرَتْ ذَلِكَ بَرِيرَةُ لأَهْلِهَا فَقَالُوا : لا إِلا أَنْ يَكُونَ وَلاؤُكَ لَنَا قَالَ مَالِكٌ : قَالَ يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ : فَزَعَمَتْ عَمْرَةُ أَنَّ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا ذَكَرَتْ ذَلِكَ لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ : " لا يَمْنَعُكِ ذَلِكَ اشْتَرِيهَا فَأَعْتِقِيهَا فَإِنَّمَا الْوَلاءُ لِمَنْ أَعْتَقَ " .
نوید مجید طیب
سیدہ عمرہ بنت عبد الرحمن رحمہ اللہ سے روایت ہے بریرہ رضی اللہ عنہا سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کے ہاں مالی معاونت کے لیے آئی تو سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے فرمایا: ”اگر تیرے مالکان راضی ہوں تو میں یک مشت رقم اداء کر کے تجھے آزاد کر دوں،“ بریرہ رضی اللہ عنہا نے اپنے مالکان کو یہ بات کہی انہوں نے کہا ”نہیں مگر یہ کہ تعلق ولاء ہمارے لیے ہوگا،“ عمرہ رحمہ اللہ کہتی ہیں سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے اس شرط کا تذکرہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے کیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تجھے ان کی شرط نہ روکے لونڈی خرید کر آزاد کر دو بے شک تعلق ولاء اسی کا ہے جس نے آزاد کیا۔“
حدیث نمبر: 583
عَنْ سُفْيَانَ بْنِ عُيَيْنَةَ ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ ، عَنْ عَمْرَةَ ، عَنْ عَائِشَةَ ، قَالَتْ : أَرَدْتُ أَنْ أَشْتَرِي بَرِيرَةَ فَأُعْتِقَهَا ، فَاشْتَرَطَ عَلَيَّ مَوَالِيهَا أَنْ أُعْتِقَهَا وَيَكُونُ الْوَلاءُ لَهُمْ ، فَسَأَلْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ ذَلِكَ ، فَقَالَ : " اشْتَرِيهَا فَأَعْتِقِيهَا ، فَإِنَّمَا الْوَلاءُ لِمَنْ أَعْتَقَ " ، ثُمَّ خَطَبَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ النَّاسَ ، فَقَالَ : " مَا بَالُ أَقْوَامٍ يَشْتَرِطُونَ شُرُوطًا لَيْسَتْ فِي كِتَابِ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ ، فَمَنِ اشْتَرَطَ شَرْطًا لَيْسَ فِي كِتَابِ اللَّهِ ، فَلَيْسَ لَهُ وَإِنِ اشْتَرَطَ مِائَةَ شَرْطٍ " .
نوید مجید طیب
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے میں نے ارادہ کیا کہ بریرہ رضی اللہ عنہا کو خرید کر آزاد کر دوں، اس کے مالکان نے مجھ پر شرط لگائی کہ آزاد آپ کریں حق ولاء ہمارے لیے ہوگا تو میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے اس سے متعلق مسئلہ پوچھا آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اسے خرید کر آزاد کر دو، تعلق ولاء اسی کو ملے گا جس نے آزاد کیا“ پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے لوگوں کو خطبہ دیا تو فرمایا: ”لوگوں کو کیا ہو گیا ایسی ایسی شروط لگاتے ہیں جو اللہ تعالیٰ کے قانون میں موجود نہیں، اگر کسی نے قانون خداوندی کے برعکس شرط لگائی تو اسے کچھ نہیں ملے گا اگرچہ سو شروط ہی کیوں نہ ہوں۔“
حدیث نمبر: 584
عَنْ عَبْدِ الْوَهَّابِ بْنِ عَبْدِ الْمَجِيدِ الثَّقَفِيِّ ، عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ ، قَالَ : أَخْبَرَتْنِي عَمْرَةُ بِنْتُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، أَنَّ بَرِيرَةَ جَاءَتْ تَسْتَعِينُ عَائِشَةَ ، وَأَنَّ عَائِشَةَ قَالَتْ لَهَا : إِنْ أَحَبَّ أَهْلُكِ أَنْ أَصُبَّ لَهُمْ ثَمَنَكِ صَبَّةً وَاحِدَةً فَعَلْتُ . قَالَ : فَذَكَرَتْ ذَلِكَ بَرِيرَةُ لأَهْلِهَا ، فَقَالُوا : لا إِلا أَنْ يَكُونَ الْوَلاءُ لَنَا . قَالَ : فَزَعَمَتْ عَمْرَةُ أَنَّ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا قَالَتْ : إِنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ لَهَا : " اشْتَرِيهَا فَأَعْتِقِيهَا فَإِنَّمَا الْوَلاءُ لِمَنْ أَعْتَقَ " .
نوید مجید طیب
سیدہ عمرہ بنت عبد الرحمن رحمہ اللہ کہتی ہیں بریرہ رضی اللہ عنہا سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کے ہاں مدد مانگنے آئی، سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے فرمایا: ”اگر تیرے مالکان پسند کریں تو میں تیری قیمت یک مشت ادا کر دوں“ بریرہ رضی اللہ عنہا نے جا کر انہیں بتایا انہوں نے کہا ”ایسا نہیں کریں گے ہاں اگر تیرا ولاء ہمیں مل جائے تو پھر کر لیں گے،“ عمرہ رحمہ اللہ کا خیال ہے سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے بیان کیا نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے فرمایا کہ ”بریرہ رضی اللہ عنہا کو خرید کر آزاد کر دے ولاء اسی کا ہے جس نے آزاد کیا ہوتا ہے۔“
وضاحت:
➊ قرض کی ادائیگی کے لیے وسائل کی عدم موجودگی میں اہل اسلام سے مدد لینا جائز ہے۔
➋ نسبت ولاء اسی کی ہے جس نے آزادی دلائی۔
➌ کتاب و سنت کے منافی کوئی بھی عمل، شرط، معاملہ، لین دین جائز نہیں اگرچہ فریقین باطل شرائط پر راضی ہی کیوں نہ ہوں۔
➍ کسی کو نشانہ بنا کر غلطی کا احساس دلانے سے بہتر ہے مطلق بات کی جائے تاکہ سب کی اصلاح ہو سکے۔
➋ نسبت ولاء اسی کی ہے جس نے آزادی دلائی۔
➌ کتاب و سنت کے منافی کوئی بھی عمل، شرط، معاملہ، لین دین جائز نہیں اگرچہ فریقین باطل شرائط پر راضی ہی کیوں نہ ہوں۔
➍ کسی کو نشانہ بنا کر غلطی کا احساس دلانے سے بہتر ہے مطلق بات کی جائے تاکہ سب کی اصلاح ہو سکے۔
حدیث نمبر: 585
عَنْ سُفْيَانَ بْنِ عُيَيْنَةَ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ نَبْهَانَ مَوْلَى أُمِّ سَلَمَةَ أَنَّهُ كَانَ مَعَهَا وَأَنَّهَا سَأَلَتْهُ : كَمْ بَقِيَ عَلَيْكَ مِنْ كِتَابَتِكِ ؟ فَذَكَرَ شَيْئًا قَدْ سَمَّاهُ فَأَمَرَتْهُ أَنْ يُعْطِيَهُ أَخَاهَا أَوِ ابْنَ أُخْتِهَا وَأَلْقَتِ الْحِجَابَ مِنْهُ وَقَالَتْ : عَلَيْكَ السَّلامُ وَذَكَرَتْ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، أَنَّهُ قَالَ : " إِذَا كَانَ لإِحْدَاكُنَّ مُكَاتِبٌ وَكَانَ عِنْدَهُ مَا يُؤَدِّي فَلْتَحْتَجِبْ مِنْهُ " . قَالَ سُفْيَانُ : وَسَمِعْتُهُ مِنَ الزُّهْرِيِّ وَثَبَّتَنِيهِ مَعْمَرٌ .
نوید مجید طیب
نبھان مولی ام سلمہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے وہ سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا کے ساتھ تھا تو انہوں نے پوچھا: ”تیری قیمت آزادی کتنی باقی ہے؟“ نبھان رضی اللہ عنہ نے رقم بتائی تو سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا نے حکم دیا کہ ”رقم میرے بھائی یا بھتیجے کو اداء کر دے“ اور سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا نے اس سے پردہ شروع کر دیا اور فرمایا: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تھا: ”جب تم میں سے کسی کے مکاتب غلام کے پاس اتنی رقم ہو کہ وہ زر کتابت اداء کر سکے تو اسے اس غلام سے پردہ کرنا چاہیے۔“
وضاحت:
➊ غلام اور مالک کے درمیان مخصوص معاوضے کے عوض آزادی کا معاہدہ مکاتبت کہلاتا ہے اور ایسا معاہدہ کرنے والے غلام کو مکاتب کہتے ہیں۔
➋ مکاتبت شرعاً جائز ہے، غلاموں کی طرح لونڈیاں بھی مکاتبت کر سکتی ہیں بشرطیکہ وہ جائز طریقوں سے طے شدہ معاوضہ حاصل کر کے ادا کریں۔
➋ مکاتبت شرعاً جائز ہے، غلاموں کی طرح لونڈیاں بھی مکاتبت کر سکتی ہیں بشرطیکہ وہ جائز طریقوں سے طے شدہ معاوضہ حاصل کر کے ادا کریں۔
حدیث نمبر: 586
عَنْ سُفْيَانَ بْنِ عُيَيْنَةَ ، عَنْ شُعْبَةَ الْكُوفِيِّ ، قَالَ : كُنْتُ مَعَ أَبِي بُرْدَةَ بْنِ أَبِي مُوسَى عَلَى ظَهْرِ بَيْتٍ فَدَعَا بَنِيهِ ، فَقَالَ : يَا بَنِيَّ إِنِّي قَدْ سَمِعْتُ أَبِي ، يَقُولُ : سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، يَقُولُ : " مَنْ أَعْتَقَ رَقَبَةً أَعْتَقَ اللَّهُ بِكُلِّ عُضْوٍ مِنْهَا عُضْوًا مِنَ النَّارِ " .
نوید مجید طیب
شعبہ کوفی رحمہ اللہ کہتے ہیں میں سیدنا ابو بردہ رحمہ اللہ بن ابوموسی کے ساتھ اپنے گھر کی چھت پر بیٹھا تھا تو انہوں نے اپنے بیٹے کو بلایا اور فرمایا: ”اے بیٹے میں نے اپنے والد سے سنا کہتے تھے میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے سنا: جس نے گردن آزاد کی تو اللہ تعالیٰ اس کے ایک ایک اعضاء کے بدلے آزاد کرنے والے کے ایک ایک اعضاء کو جہنم کی آگ سے آزاد فرمائے گا۔“
وضاحت:
➊ دین اسلام نے کسی کو بطور غلام یا لونڈی اپنے پاس رکھنے کی اجازت دی ہے۔
➋ غلام یا لونڈی کو آزاد کرنا باعث اجر و ثواب اور انتہائی فضیلت والا عمل ہے۔
➋ غلام یا لونڈی کو آزاد کرنا باعث اجر و ثواب اور انتہائی فضیلت والا عمل ہے۔
حدیث نمبر: 587
أَنْبَأَنَا مَالِكٌ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي بَكْرِ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرِو بْنِ حَزْمٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، أَنَّ فِيَ الْكِتَابِ الَّذِي ، كَتَبَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِعَمْرِو بْنِ حَزْمٍ : " فِي الْعُقُولِ أَنْ يَأْخُذَ فِيَ النَّفْسِ مِائَةً مِنَ الإِبِلِ ، وَفِي الأَنفِ إِذَا أُوعِبَ جَذَعًا مِائَةٌ مِنَ الإِبِلِ ، وَفِي الْمَأْمُومَةِ ثُلُثُ النَّفْسِ ، وَفِي الْجَائِفَةِ مِثْلُهَا ، وَفِي الْعَيْنِ خَمْسُونَ ، وَفِي الْيَدِ خَمْسُونَ وَفِي الرِّجْلِ خَمْسُونَ ، وَفِي كُلِّ إِصْبَعٍ مِمَّا هُنَالِكَ عَشْرٌ مِنَ الإِبِلِ ، وَفِي السِّنِّ خَمْسٌ ، وَفِي الْمُوضِحَةِ خَمْسٌ " .
نوید مجید طیب
عبد اللہ بن ابی بکر بن محمد بن عمرو بن حزم رحمہ اللہ اپنے باپ سے بیان کرتے ہیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے عمرو بن حزم رضی اللہ عنہ کو دیت کے بارے میں لکھا کہ جان کی دیت سو اونٹ ہیں، اگر ناک پورا کاٹ دے تو دیت سو اونٹ ہے، دماغ تک پہنچ جانے والے زخم میں تہائی دیت ہے، پیٹ کے اندر تک پہنچ جانے والے زخم میں بھی تہائی دیت ہے، ایک آنکھ کی دیت پچاس اونٹ ہیں، ایک ہاتھ کی پچاس اونٹ، ایک پاؤں کی پچاس اونٹ، ہر انگلی کی دس اونٹ دیت ہے، ایک دانت کی پانچ اونٹ دیت ہے اور ہڈی ظاہر کر دینے والے زخم میں بھی پانچ اونٹ دیت ہے۔
حدیث نمبر: 588
أَنْبَأَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، حَدَّثَنَا غَالِبٌ التَّمَّارُ ، عَنْ مَسْرُوقِ بْنِ أَوْسٍ ، عَنْ أَبِي مُوسَى الأَشْعَرِيِّ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، أَنَّهُ قَالَ : " فِي الأَصَابِعِ عَشْرٌ عَشْرٌ " .
نوید مجید طیب
سیدنا ابوموسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: ”انگلیوں میں دس دس اونٹ دیت ہے۔“
وضاحت:
➊ قتل کی دیت سو اونٹ ہے لیکن اگر انسانی جسم کا کوئی عضو کٹ جائے تو اس کی اہمیت کے پیش نظر ہر عضو کی دیت مختلف ہوگی۔
➋ ناک انسانی وقار کا ایک بنیادی جز ہے اس لیے اس کے کٹ جانے کی دیت بھی سو اونٹ ہے بشرطیکہ ناک جڑ سے مکمل کٹ جائے۔
➌ «مأمومه» سے مراد ایسا زخم ہے جو دماغ تک پہنچ جائے اور جائفہ سے مراد پیٹ میں لگنے والا گہرا زخم ہے۔
➍ «الموضحة» موضحہ ایسا زخم ہے جو گوشت سے ہڈی کو ننگا کر دے اور ہڈی کو متاثر کرے اس پر پانچ اونٹ دیت ہے۔
➎ ہر انگلی کی دیت دس اونٹ ہے اس میں ہاتھوں اور پاؤں کی انگلیاں برابر ہیں۔ [سنن ترمذي: 1391]
➏ چھنگلی اور انگوٹھے کی دیت بھی برابر دس اونٹ ہے۔ [صحيح بخاري:6995]
➋ ناک انسانی وقار کا ایک بنیادی جز ہے اس لیے اس کے کٹ جانے کی دیت بھی سو اونٹ ہے بشرطیکہ ناک جڑ سے مکمل کٹ جائے۔
➌ «مأمومه» سے مراد ایسا زخم ہے جو دماغ تک پہنچ جائے اور جائفہ سے مراد پیٹ میں لگنے والا گہرا زخم ہے۔
➍ «الموضحة» موضحہ ایسا زخم ہے جو گوشت سے ہڈی کو ننگا کر دے اور ہڈی کو متاثر کرے اس پر پانچ اونٹ دیت ہے۔
➎ ہر انگلی کی دیت دس اونٹ ہے اس میں ہاتھوں اور پاؤں کی انگلیاں برابر ہیں۔ [سنن ترمذي: 1391]
➏ چھنگلی اور انگوٹھے کی دیت بھی برابر دس اونٹ ہے۔ [صحيح بخاري:6995]