کتب حدیثالسنن المأثورةابوابباب: حصے کی حد تک غلام آزاد کرنے کا بیان
حدیث نمبر: 550
عَنْ سُفْيَانَ بْنِ عُيَيْنَةَ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ دِينَارٍ ، عَنْ سَالِمٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " إِذَا كَانَ عَبْدٌ بَيْنَ اثْنَيْنِ فَأَعْتَقَ أَحَدُهُمَا نَصِيبَهُ ، فَإِنْ كَانَ مُوسِرًا فَإِنَّهُ يُقَوَّمُ عَلَيْهِ بِأَعْلَى الْقِيمَةِ وَيَعْتِقُ " . قَالَ سُفْيَانُ : وَرُبَّمَا قَالَ عَمْرُو بْنُ دِينَارٍ : قِيمَةٌ لا وَكْسَ فِيهَا وَلا شَطَطَ .
نوید مجید طیب
سیدنا عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : ”جب دو بندوں کا مشترکہ غلام ہو ایک اپنا حصہ آزاد کر دے اگر آزاد کرنے والا مالدار ہے تو غلام کی اعلیٰ قیمت لگائی جائے گی۔ اور اس کو (پہلے) کی طرف سے آزاد کر دیا جائے گا۔“ عمرو بن دینار رحمہ اللہ کہتے ہیں قیمت لگانے میں نہ کمی کی جائے گی نہ زیادتی۔
حوالہ حدیث السنن المأثورة / باب من أعتق شركا له في عبد / حدیث: 550
تخریج حدیث صحیح بخاری، العتق، باب اذا اعتق عبدا بين اثنين او امة بين الشركاء، رقم: 2521؛ صحیح مسلم، الأيمان والنذور، باب من اعتق شركاً له فى عبد، رقم: 501۔
حدیث نمبر: 551
عَنْ مَالِكِ بْنِ أَنَسٍ ، عَنْ نَافِعٍ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " مَنْ أَعْتَقَ شِرْكًا لَهُ فِي عَبْدٍ فَكَانَ لَهُ مَالٌ يَبْلُغُ ثَمَنَ الْعَبْدِ قُوِّمَ عَلَيْهِ قِيمَةُ الْعَدْلِ فَأَعْطَى شُرَكَاءَهُ حِصَصَهُمْ وَعَتَقَ عَلَيْهِ الْعَبْدُ وَإِلا فَقَدْ عَتَقَ عَلَيْهِ مَا عَتَقَ " .
نوید مجید طیب
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : ”جس نے اپنا حصہ آزاد کر دیا اور اس کے پاس مال ہے جس سے بقیہ حصص بھی آزاد کیے جا سکتے ہیں تو غلام کی قیمت لگائی جائے گی وہی آدمی بقیہ شرکاء کو رقم ادا کر کے اپنی طرف سے پورا غلام آزاد کرے اگر مال نہیں تو پھر غلام اتنا ہی آزاد متصور ہوگا جتنا اس نے آزاد کیا۔“
وضاحت:
➊ مشترکہ غلام میں اگر صاحب مال اپنا حصہ آزاد کرے تو اس کی ذمہ داری ہے بقیہ قیمت ادا کر کے مکمل غلام کو آزادی دلائے اگر صاحب مال نہیں تو یہ غلام اتنا آزاد تصور ہوگا اس کا جتنا حصہ آزاد کیا گیا ہے۔
➋ اسلام نے انسانیت کی آزادی کی متعدد راہیں نکالی حتی کہ اب دنیا میں غلام بطور نظام نہیں پایا جاتا یہ اسلام کی انسانیت پر کرم نوازی ہے جبکہ دیگر تہذیبوں نے انسانیت کو منڈی میں بھیڑ بکریوں کی طرح ظلما فروخت کیا جبکہ اسلام میں اگر غلام آئے بھی تو حالت جنگ میں آئے پھر انہیں بھی متعدد طریقوں سے آزاد کیا، کبھی کفارے کی مد میں، کبھی شادیاں کر کے ام الولد کو کبھی مکاتبت اور کبھی اجر کی ترغیب دے کر انسانیت کو آزادی بخشی بلکہ اسلام کی بدولت ان ہی غلاموں کو گورنر اور بادشاہ تک بنایا گیا ایسی مثال پیش کرنے سے دیگر تہذیبیں قاصر ہیں۔
➌ مذکورہ احادیث سے یہ بھی معلوم ہوا کہ ایک غلام کئی افراد کی ملکیت بھی ہوسکتا ہے۔
➍ اسلام میں آج بھی کسی کو غلام بنا کر رکھنا جائز ہے بشرطیکہ وہ شخص شرعی اصولوں کے مطابق غلام بنا ہو۔
➎ ملازمت کے لیے بھٹہ خشت کے مزدوروں اور جانوروں کو چارہ ڈالنے والے ملازموں کو غلام سمجھنا درست نہیں۔
حوالہ حدیث السنن المأثورة / باب من أعتق شركا له في عبد / حدیث: 551
تخریج حدیث صحیح بخاری، العتق، باب اذا اعتق عبدا بين اثنين الخ، رقم: 2522؛ صحیح مسلم، الأيمان والنذور، باب من اعتق شركاً له في عبد، رقم: 1501۔
حدیث نمبر: 552
عَنْ مَالِكٍ ، عَنْ هِلالِ بْنِ أُسَامَةَ ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ يَسَارٍ ، عَنْ عُمَرَ بْنِ الْحَكَمِ ، أَنَّهُ قَالَ : أَتَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَقُلْتُ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، إِنَّ جَارِيَةً لِي كَانَتْ تَرْعَى غَنَمًا لِي فَجِئْتُهَا وَفُقِدَتْ شَاةٌ مِنَ الْغَنَمِ فَسَأَلْتُهَا عَنْهَا ، فَقَالَتْ : أَكَلَهَا الذِّئْبُ ، فَأَسِفْتُ عَلَيْهَا ، وَكُنْتُ امْرَأً مِنْ بَنِي آدَمَ فَلَطَمْتُ وَجْهَهَا وَعَلَيَّ رَقَبَةٌ أَفَأُعْتِقُهَا ؟ فَقَالَ لَهَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " أَيْنَ اللَّهُ ؟ " فَقَالَتْ : فِي السَّمَاءِ ، فَقَالَ : " مَنْ أَنَا ؟ " فَقَالَتْ : أَنْتَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَقَالَ : " أَعْتِقْهَا " ، فَقَالَ عُمَرُ بْنُ الْحَكَمِ : يَا رَسُولَ اللَّهِ أَشْيَاءٌ كُنَّا نَصْنَعُهَا فِي الْجَاهِلِيَّةِ : كُنَّا نَأْتِي الْكُهَّانَ ، قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " فَلا تَأْتُوا الْكُهَّانَ " ، فَقَالَ عُمَرُ : وَكُنَّا نَتَطَيَّرُ ، فَقَالَ : " إِنَّمَا ذَلِكَ شَيْءٌ يَجِدُهُ أَحَدُكُمْ فِي نَفْسِهِ فَلا يَصُدَّنَّكُمْ " . قَالَ أَبُو جَعْفَرٍ : سَمِعْتُ الْمُزَنِيَّ يَقُولُ : قَالَ الشَّافِعِيُّ رَحِمَهُ اللَّهُ : مَالِكُ بْنُ أَنَسٍ يُسَمِّي هَذَا الرَّجُلَ عُمَرَ بْنَ الْحَكَمِ وَإِنَّمَا هُوَ مُعَاوِيَةُ بْنُ الْحَكَمِ . قَالَ أَبُو جَعْفَرٍ : هُوَ كَمَا قَالَ الشَّافِعِيُّ رَحِمَهُ اللَّهُ . وَقَالَ أَبُو جَعْفَرٍ : مَالِكٌ يَقُولُ فِي إِسْنَادِ هَذَا الْحَدِيثِ هِلالَ بْنَ أُسَامَةَ ، وَإِنَّمَا هُوَ هِلالُ بْنُ عَلِيٍّ غَيْرَ أَنَّ قَائِلا قَالَ : هُوَ هِلالُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ أُسَامَةَ فَإِنْ كَانَ كَذَلِكَ فَإِنَّمَا نَسَبَهُ مَالِكٌ إِلَى جَدِّهِ .
نوید مجید طیب
سیدنا عمر بن حکم رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہتے ہیں میں نے رسول اللہ ﷺ کے پاس آ کر عرض کیا: اے اللہ کے رسول ﷺ! میری ایک لونڈی بکریاں چراتی تھی میں اس کے پاس گیا تو ایک بکری غائب تھی میں نے اس بکری کے متعلق دریافت کیا تو اس نے کہا بکری بھیڑیا کھا گیا ہے، مجھے اس پر انتہائی افسوس ہوا (کیونکہ) میں بھی بنی آدم سے ہوں میں نے اس لونڈی کے چہرے پر تھپڑ مار دیا میں نے غلام آزاد کرنے کی نذر مانی تھی کیا اس کو آزاد کر دوں؟ (تو اس لونڈی کو لایا گیا) رسول اللہ ﷺ نے اس سے پوچھا: ”یہ بتاؤ کہ اللہ تعالیٰ کہاں ہے؟“ کہنے لگی: ”آسمانوں پر ہے۔“ آپ ﷺ نے پھر پوچھا: ”میں کون ہوں؟“ تو اس نے کہا: ”آپ ﷺ اللہ کے رسول ﷺ ہیں۔“ اس پر آپ ﷺ نے فرمایا: ”اسے آزاد کر دے۔“ تو عمر بن حکم رضی اللہ عنہ نے عرض کی: اے اللہ کے رسول ﷺ! کچھ کام ہم جاہلیت میں کیا کرتے تھے ہم غیب کی باتیں بتانے والوں کے پاس جایا کرتے تھے نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: ”ان کے پاس (اسلام کے بعد) مت جاؤ۔“ عمر رضی اللہ عنہ نے کہا: ہم پرندوں کے ذریعے قسمت بھی معلوم کیا کرتے تھے؟ آپ ﷺ نے فرمایا: ”یہ وسوسہ ہے جو تمہارے دلوں میں آتا ہے پرندے اور بدشگونیاں تمہیں کسی کام سے نہ روکیں۔“ امام مزنی رحمہ اللہ کہتے ہیں امام شافعی رحمہ اللہ نے فرمایا: امام مالک رحمہ اللہ اس کا نام عمر بن حکم رضی اللہ عنہ بتاتے تھے حالانکہ یہ معاویہ بن حکم رضی اللہ عنہ تھے۔
وضاحت:
➊ ابوجعفر رحمہ اللہ کہتے ہیں امام شافعی رحمہ اللہ نے درست نام بتایا۔ ابو جعفر رحمہ اللہ کہتے ہیں امام مالک رحمہ اللہ اس حدیث کی سند میں ہلال بن اسامہ کہتے ہیں حالانکہ وہ ہلال بن علی رحمہ اللہ ہیں ایک قائل کا یہ بھی قول ہے کہ اُن کا نام ہلال بن علی بن اسامہ رحمہ اللہ ہے اگر معاملہ ایسا ہے تو امام مالک رحمہ اللہ نے راوی کو دادے کی طرف منسوب کیا۔
➋ لونڈی سے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دو سوال کیے ایک اللہ تعالیٰ کہاں ہے؟ اس سوال کا جواب اس ترقی یافتہ دور میں بھی بڑے بڑے نام نہاد دانشوروں کو نہیں آتا کہتے ہیں اللہ تعالیٰ ہر جگہ موجود ہے جو کہ سراسر غلط ہے اور غیر اسلامی نظریہ ہے اللہ تعالیٰ کی ذات عرش پر مستوی ہے اللہ کا علم و مشاہدہ ہر چیز کو محیط ہے۔
➌ اللہ رب العزت کے مستوی علی العرش ہونے کا عقیدہ فطری اور ایمان کے بنیادی عقائد میں سے ہے۔ اللہ کی ذات سے متعلق جو گمراہ عقائد صوفیوں کی وجہ سے عوام الناس میں رائج ہوئے ان میں سے اللہ تعالیٰ کی ذات کو ہر جگہ ماننا، ہر چیز میں تصور کرنا بھی ہے۔ ایک حضرت صاحب کہتے ہیں: اور جو میں ہوں وہ تو ہے اور میں اور تو خود شرک در شرک ہے۔ [مکاتیب رشیدیہ: ص 10، فضائل صدقات حصہ دوم: ص 556]
جبکہ دوسرے صاحب بولے: وہی جو مستوی عرش تھا خدا ہو کر
اتر پڑا مدینہ میں مصطفیٰ ہو کر
➍ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے لونڈی کے ایمان کا امتحان لیتے ہوئے دوسرا سوال اپنے متعلق کیا تو اس نے کہا: آپ اللہ کے رسول ہیں جس پر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اسے آزاد کر دو یہ مومنہ خاتون ہے۔ [مسلم: 537]
➎ اس سے ثابت ہوا جو اللہ تعالیٰ کو عرش پر مانے اور محمد صلی اللہ علیہ وسلم کو اللہ کا رسول تسلیم کرے اس کے مومن ہونے کی گواہی آنجناب صلی اللہ علیہ وسلم نے دی ہے اور معاملہ اس کے برعکس بھی ہے کہ جو اللہ تعالیٰ کو عرش پر نہیں مانتا اور پیارے پیغمبر کو اللہ کا رسول نہیں مانتا وہ مومن نہیں ہے۔
➏ اس حدیث میں شعبدہ باز، پیروں، فقیروں، نجومیوں، جادو گروں کے پاس جانے سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے منع کر دیا کہ کاہن کے پاس مت جاؤ اور کتابیں نکالنے والے، طوطے والے، سب فراڈیوں سے روک دیا اللہ تعالیٰ مسلمانوں کو ان فتنوں سے محفوظ رکھے۔ «آمين»
حوالہ حدیث السنن المأثورة / باب من أعتق شركا له في عبد / حدیث: 552
تخریج حدیث صحیح مسلم، المساجد، باب تحريم الكلام في الصلاة رقم: 537۔
حدیث نمبر: 553
أَنْبَأَنَا مَالِكُ بْنُ أَنَسٍ ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ الْمَكِّيِّ ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، أَنَّهُ قَالَ : " نَحَرْنَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَامَ الْحُدَيْبِيَةِ الْبَدَنَةَ عَنْ سَبْعَةٍ ، وَالْبَقَرَةَ عَنْ سَبْعَةٍ " .
نوید مجید طیب
سیدنا جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما سے روایت ہے ہم نے رسول اللہ ﷺ کے ساتھ حدیبیہ کے مقام پر اونٹ اور گائے سات سات آدمیوں کی طرف سے ذبح کی۔
وضاحت:
➊ اونٹ دس افراد کی طرف سے بھی کفایت کر جاتا ہے۔ [سنن ابن ماجہ: 3131]
➋ ابن عباس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں صحابہ رضی اللہ عنہ سفر میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ہمراہ تھے عید قربان آگئی تو گائے میں سات سات افراد اور اونٹ میں دس دس افراد شریک ہوئے۔ [سنن ترمذي: 905]
➌ اس طرح رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مال غنیمت کی تقسیم کرتے ہوئے ایک اونٹ کے بدلے دس بکریاں تقسیم کیں جس سے بھی عیاں ہوتا کہ ایک اونٹ دس بکریوں کے برابر ہے۔
➍ بالا حدیث میں عمرہ کا ذکر ہے اس میں اونٹ میں سات آدمی شریک ہوئے ہیں اس سے قربانی میں اونٹ کے لیے سات کی قید لگا دینا درست نہیں۔
حوالہ حدیث السنن المأثورة / باب من أعتق شركا له في عبد / حدیث: 553
تخریج حدیث سنن ابی داؤد، الاضاحی، باب في البقر والجزور عن كم تجزئ، رقم: 2809 وقال الالبانی صحیح؛ سنن ترمذى، الحج، باب ماجاء في الاشتراك ..... الخ، رقم: 904 وقال: حسن صحيح۔
حدیث نمبر: 554
أَنْبَأَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ ، حَدَّثَنَا الأَسْوَدُ بْنُ قَيْسٍ ، قَالَ : سَمِعْتُ جُنْدُبَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ الْبَجَلِيَّ ، يَقُولُ : شَهِدْتُ الْعِيدَ مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَعَلِمَ أَنَّ نَاسًا ذَبَحُوا قَبْلَ الصَّلاةِ ، فَقَالَ : " مَنْ كَانَ مِنْكُمْ ذَبَحَ قَبْلَ الصَّلاةِ فَلْيُعِدْ ذَبِيحَتَهُ وَمَنْ لَمْ يَكُنْ ذَبَحَ فَلْيَذْبَحْ عَلَى اسْمِ اللَّهِ " .
نوید مجید طیب
سیدنا جندب بن عبد اللہ بجلی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے میں نبی ﷺ کے ساتھ نماز عید میں شریک ہوا تو رسول اللہ ﷺ کو معلوم ہوا کہ کچھ لوگوں نے نماز سے پہلے قربانی کر لی ہے آپ ﷺ نے فرمایا: ”جس نے نماز سے قبل قربانی کی وہ دوبارہ قربانی کرے اور جس نے قربانی نہیں کی وہ (نماز کے بعد) اللہ کے نام پر ذبح کرے۔“
حوالہ حدیث السنن المأثورة / باب من أعتق شركا له في عبد / حدیث: 554
تخریج حدیث صحیح مسلم، الاضاحی، باب وقتها، رقم: 1960۔
حدیث نمبر: 555
أَنْبَأَنَا مَالِكٌ ، عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ ، عَنْ بُشَيْرِ بْنِ يَسَارٍ ، أنَّ أَبَا بُرْدَةَ بْنَ نِيَارٍ ذَبَحَ قَبْلَ أَنْ يَذْبَحَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَوْمَ الأَضْحَى فَزَعَمُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَمَرَهُ أَنْ يَعُودَ لِضَحِيَّةٍ أُخْرَى ، قَالَ أَبُو بُرْدَةَ : لا أَجِدُ إِلا جَذَعًا ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " فَإِنْ لَمْ تَجِدْ إِلا جَذَعًا فَاذْبَحْهُ " .
نوید مجید طیب
بشیر بن یسار رحمہ اللہ سے روایت ہے سیدنا ابو بردہ بن نیار رضی اللہ عنہ نے رسول اللہ ﷺ کے قربانی کرنے سے قبل ہی (یعنی نماز سے پہلے) عید الاضحی کے موقع پر قربانی کر دی تو لوگوں کا خیال ہے رسول اللہ ﷺ نے انہیں دوبارہ قربانی کا حکم دیا جس پر ابو بردہ رضی اللہ عنہ نے عرض کی: میرے پاس تو ایک سال کا جانور ہی بچا ہے، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”اگر تجھے اور کوئی میسر نہ آئے تو ایک سال کا جانور ہی ذبح کر لے۔“
وضاحت:
➊ قربانی نماز کی ادائیگی کے بعد ہوتی ہے «قبل الصلاة» ذبیحہ عام گوشت کا حکم رکھتا ہے۔
➋ قربانی کے لیے دو دانتا جانور شرط ہے ہاں اگر میسر نہ آئے تو ایک سال کا دنبہ ذبح کر لینا چاہیے میسر نہ آنے کی دو صورتیں ہیں۔
(1) منڈی میں دو دانتا ناپید ہے۔
(2) دو دانتا خریدنے کی طاقت نہیں تو جذعاً ذبح کیا جاسکتا ہے۔
➌ ہر عبادت کے لیے طریقہ رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی تعلیم ضروری ہے۔
➍ اگر صحابی رضی اللہ عنہ بھی خلاف سنت عمل کرے تو نامقبول ہے۔
➎ جانور کو اللہ کے نام سے ذبح کرنا چاہیے۔
➏ قربانی میں عقیقے کے حصے شامل نہیں کیے جا سکتے اور نہ ہی ایک گائے میں سات عقیقے ہوں گے عقیقہ کے لیے بچے کی طرف سے دو مینڈھے اور بچی کی طرف سے ایک مینڈھا ذبح کرنا چاہیے۔
➐ ام المومنین سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے پوچھا گیا کہ عبد الرحمن بن ابی بکر کے بچے کی طرف سے ایک اونٹ بطور عقیقہ ذبح کریں تو انہوں نے فرمایا: معاذ اللہ!
«ولكن ما قال رسول الله صلى الله عليه وسلم شاتان مكافأتان»
یعنی میں اس بات سے اللہ کی پناہ چاہتی ہوں لیکن میں وہ کروں گی جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: کہ دو بکریاں ایک جیسی لڑکے کی طرف سے ہیں۔ [السنن الکبری للبیھقی: 301/9]
حوالہ حدیث السنن المأثورة / باب من أعتق شركا له في عبد / حدیث: 555
تخریج حدیث سنن نسائی، الضحايا، باب ذبح الضحية قبل الامام، رقم: 4397 وقال الالباني: صحيح الاسناد؛ مسند احمد: 151/25، رقم: 15830 وقال الارنوؤط: حديث صحيح وهذا اسناد رجاله ثقات۔
حدیث نمبر: 556
أَنْبَأَنَا مَالِكٌ ، عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ ، عَنْ عَبَّادِ بْنِ تَمِيمٍ ، أَنَّ عُوَيْمِرَ بْنَ أَشْقَرَ ذَبَحَ أُضْحِيَّتَهُ قَبْلَ أَنْ يَغْدُوَ يَوْمَ الأَضْحَى وَأَنَّهُ ذَكَرَ ذَلِكَ لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " فَأَمَرَهُ أَنْ يَعُودَ بِضَحِيَّةٍ أُخْرَى " .
نوید مجید طیب
عباد بن تمیم رحمہ اللہ سے روایت ہے سیدنا عویمر بن اشقر رضی اللہ عنہ نے عید الاضحی ادا کرنے سے پہلے ہی قربانی کر دی جس کا ذکر رسول اللہ ﷺ سے ہوا تو رسول اللہ ﷺ نے انہیں دوبارہ قربانی کا حکم دیا۔
حوالہ حدیث السنن المأثورة / باب من أعتق شركا له في عبد / حدیث: 556
تخریج حدیث انظر ما بعده، برقم: 557۔
حدیث نمبر: 557
أَنْبَأَنَا عَبْدُ الْوَهَّابِ بْنُ عَبْدِ الْمَجِيدِ الثَّقَفِيُّ ، قَالَ : سَمِعْتُ يَحْيَى بْنَ سَعِيدٍ ، قَالَ : أَخْبَرَنِي عَبَّادُ بْنُ تَمِيمٍ ، عَنْ عُوَيْمِرِ بْنِ أَشْقَرَ ، أَنَّهُ ذَبَحَ قَبْلَ أَنْ يَغْدُوَ وَأَنَّهُ ذَكَرَ ذَلِكَ لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَعْدَ أَنِ انْصَرَفَ " فَزَعَمَ أَنَّهُ أَمَرَهُ أَنْ يَعُودَ بِأُضْحِيَّةٍ " .
نوید مجید طیب
سیدنا عباد بن تمیم رضی اللہ عنہ سے روایت ہے سیدنا عویمر بن اشقر رضی اللہ عنہ نے نماز عید کے لیے نکلنے سے قبل ہی قربانی کر دی نماز کے بعد رسول اللہ ﷺ کو پتہ چلا تو آپ ﷺ نے دوبارہ قربانی کرنے کا حکم دیا۔
حوالہ حدیث السنن المأثورة / باب من أعتق شركا له في عبد / حدیث: 557
تخریج حدیث سنن ابن ماجه، الاضاحي، باب النهي عن ذبح الاضحية قبل الصلاة، رقم: 3153، وقال الالباني: صحيح، مسند احمد: 41/25، رقم: 15762 وقال الارنوؤط: حديث صحيح لغيره۔
حدیث نمبر: 558
أَنْبَأَنَا عَبْدُ الْوَهَّابِ بْنُ عَبْدِ الْمَجِيدِ ، عَنْ دَاوُدَ بْنِ أَبِي هِنْدَ ، عَنْ عَامِرٍ الشَّعْبِيِّ ، عَنِ الْبَرَاءِ بْنِ عَازِبٍ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَامَ يَوْمَ النَّحْرِ خَطِيبًا فَحَمِدَ اللَّهَ وَأَثْنَى عَلَيْهِ ، ثُمَّ قَالَ : " لا يَذْبَحَنَّ أَحَدُكُمْ حَتَّى يُصَلِّيَ " ، قَالَ : فَقَامَ خَالِي ، فَقَالَ : يَا رَسُولَ اللَّهِ هَذَا يَوْمٌ اللَّحْمُ فِيهِ مَقْرُومٌ ، وَإِنِّي ذَبَحْتُ نَسِيكَتِي فَأَطْعَمْتُ أَهْلِي وَجِيرَانِي ، فَقَالَ لَهُ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " قَدْ فَعَلْتَ فَأَعِدْ ذَبْحًا آخَرَ " فَقَالَ : عِنْدِي عَنَاقُ لَبَنٍ هِيَ خَيْرٌ مِنْ شَاتَيْ لَحْمٍ ، فَقَالَ : " هِيَ خَيْرُ نَسِيكَتَيْكَ وَلَنْ تُجْزِئَ جَذَعَةٌ عَنْ أَحَدٍ بَعْدَكَ " . قَالَ الشَّافِعِيُّ : قَالَ عَبْدُ الْوَهَّابِ : أَظُنُّ أَنَّهَا مَاعِزٌ . قَالَ أَبُو جَعْفَرٍ : سَمِعْتُ الْمُزَنِيَّ يَقُولُ : قَالَ الشَّافِعِيُّ رَحِمَهُ اللَّهُ : وَالْعَنَاقُ هِيَ مَاعِزٌ كَمَا قَالَ عَبْدُ الْوَهَّابِ ، إِنَّمَا يُقَالُ لِلضَّانِيَةِ : رِخْلٌ . وَقَوْلُهُ : هِيَ خَيْرٌ نَسِيكَتَيْكَ : أَنَّكَ ذَبَحْتَهُمَا تَنْوِي بِهِمَا نَسِيكَتَيْنِ فَلَمَّا قَدَّمْتَ الأُولَى قَبْلَ وَقْتِ الذَّبْحِ كَانَتِ الآخِرَةُ هِيَ النَّسِيكَةُ وَالأُولَى غَيْرَ نَسِيكَةٍ وَإِنْ نَوَيْتَ بِهَا النَّسِيكَةَ . وَقَوْلُهُ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " لا تُجْزِئُ عَنْ أَحَدٍ بَعْدَكَ " يَدُلُّ عَلَى أَنَّهَا لَهُ خَاصَّةً وَقَوْلُهُ : عَنَاقُ لَبَنٍ يَعْنِي عَنَاقًا تُقْتَنَى لِلَّبَنِ لا لِلذَّبْحِ .
نوید مجید طیب
سیدنا براء بن عازب رضی اللہ عنہ سے روایت ہے رسول اللہ ﷺ نے قربانی والے دن خطبہ دیا اللہ تعالیٰ کی حمد و ثناء بیان کی پھر فرمایا: ”نماز ادا کرنے سے قبل ہرگز قربانی نہ کرنا۔“ سیدنا براء رضی اللہ عنہ کہتے ہیں میرے ماموں کھڑے ہو گئے اور کہنے لگے اے اللہ کے رسول ﷺ! آج کے دن گوشت سے جی بھر جاتا ہے۔ میں تو اپنی قربانی کر آیا ہوں جس سے میں نے گھر والوں کو اور پڑوسیوں کو کھلایا ہے تو نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: ”تو نے ایسا کر لیا ہے تو اس کی جگہ دوسری قربانی کرو۔“ ماموں کہنے لگے میرے پاس ایک سالہ دودھ پیتی (کھیری) بکری ہے وہ گوشت والی دو بکریوں سے بہتر ہے تو آپ ﷺ نے فرمایا: ”یہ تمہاری بہترین قربانی ہے (اس کی قربانی کرلو) لیکن تمہارے بعد کسی کو ایک سالہ جانور قربانی کرنا کافی نہیں ہوگا۔“ راوی عبدالوہاب کہتے ہیں کہ میرا خیال ہے کہ وہ بکری کا بچہ تھا۔ امام شافعی رحمہ اللہ کا کہنا ہے کہ عناق کا معنی بکری کی بچی ہے جیسا کہ راوی عبدالوہاب نے کہا، ”ضائیہ کو درخل“ کہا جاتا ہے دو بکریوں سے بہتر کا معنی یہ ہے کہ انہوں نے دو بکریاں ذبح کی ایک نماز سے پہلے جو قربانی شمار نہ ہوئی جبکہ دوسری نماز کے بعد ذبح کی تو دونوں میں سے بہتر بعد والی ہوئی کیونکہ وہ قربانی شمار ہوئی ہے، تیرے بعد کسی کو کفایت نہ کرے گی کا مطلب ہے یہ اُن کے ساتھ خاص تھی اور دودھ والی بکری سے مراد ہے کہ وہ بکری دودھ کے مقصد کے لیے رکھی تھی نہ کہ ذبح کرنے کے لیے۔
حوالہ حدیث السنن المأثورة / باب من أعتق شركا له في عبد / حدیث: 558
تخریج حدیث صحیح مسلم، الأضاحي، باب وقتها، رقم: 1961۔
حدیث نمبر: 559
عَنْ سُفْيَانَ بْنِ عُيَيْنَةَ ، حَدَّثَنَا شَبِيبُ بْنُ غَرْقَدَةَ ، سَمِعَ الْحَيَّ ، يَقُولُونَ : إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَعْطَى عُرْوَةَ بْنَ أَبِي الْجَعْدِ الْبَارِقِيَّ دِينَارًا يَشْتَرِيَ لَهُ بِهِ شَاةً أَوْ أُضْحِيَّةً ، قَالَ : فَاشْتَرَيْتُ لَهُ بِهِ شَاتَيْنِ فَبَاعَ إِحْدَاهُمَا بِدِينَارٍ ، قَالَ : فَأَتَيْتُهُ بِشَاةٍ وَدِينَارٍ ، قَالَ : " فَدَعَا لِي بِالْبَرَكَةِ فِي الْبَيْعِ " ، فَكَانَ لَوِ اشْتَرَى تُرَابًا لَرَبِحَ فِيهِ .
نوید مجید طیب
رسول اللہ ﷺ نے عروہ بن ابی جعد بارقی رضی اللہ عنہ کو ایک دینار دیا کہ آپ ﷺ کے لیے قربانی کی بکری خرید لائے عروہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے ایک دینار کی دو بکریاں خریدیں (پھر منڈی میں ہی) ایک بکری ایک دینار کی فروخت کر دی آپ ﷺ کے پاس بکری بھی لے آیا اور دینار بھی تو آپ ﷺ نے میرے لیے خرید و فروخت میں برکت کی دعا فرمائی اس کے بعد اگر وہ مٹی بھی خرید لیتے تو انہیں اس میں بھی نفع ہوتا۔ (یعنی جو بھی خریدتے برکت ہوتی)
وضاحت:
➊ تجارت میں کسی دوسرے شخص کو اپنا وکیل بنایا جاسکتا ہے۔
➋ وکیل موکل کے لیے مفید تصرف کرے تو قابل تحسین ہے۔
➌ اس حدیث سے سیدنا عروہ البارقی رضی اللہ عنہ کی فراست و لیاقت اور فضیلت بھی عیاں ہوتی ہے کہ نبی علیہ السلام نے ان پر اعتماد کیا، اپنا وکیل بنایا اور بعد ازاں ان کے حق میں دعا بھی فرمائی۔
➍ امور خیر انجام دینے والوں کی حوصلہ افزائی کرنا اور انہیں دعاؤں سے نوازنا طریقہ رسول صلی اللہ علیہ وسلم ہے۔
حوالہ حدیث السنن المأثورة / باب من أعتق شركا له في عبد / حدیث: 559
تخریج حدیث سنن ابی داؤد، البيوع، باب فی المضارب يخالف، رقم: 3384 وقال الالباني: صحيح، سنن ابن ماجه، الصدقات، باب الأميين يتجر فيه فيربح، رقم: 2402۔
حدیث نمبر: 560
أَنْبَأَنَا عَبْدُ الْوَهَّابِ بْنُ عَبْدِ الْمَجِيدِ الثَّقَفِيُّ ، عَنْ حُمَيْدٍ الطَّوِيلِ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ، " أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ضَحَّى بِكَبْشَيْنِ أَمْلَحَيْنِ " .
نوید مجید طیب
سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے رسول اللہ ﷺ نے دو چت کبرے مینڈھے قربانی کیے۔
حوالہ حدیث السنن المأثورة / باب من أعتق شركا له في عبد / حدیث: 560
تخریج حدیث صحيح بخارى، الأضاحي، باب أضحية نبی صلی اللہ علیہ وسلم بکبشين اقرنين، رقم: 5553؛ صحیح مسلم، الاضاحی، باب استحباب الضحية وذبحها مباشرة، رقم: 1966۔
حدیث نمبر: 561
أَنْبَأَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، عَنْ عَبْدِ الْعَزِيزِ بْنِ صُهَيْبٍ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ، قَالَ : " كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُضَحِّي بِكَبْشَيْنِ " . قَالَ أَنَسٌ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ : وَأَنَا أُضَحِّي بِكَبْشَيْنِ .
نوید مجید طیب
سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے رسول اللہ ﷺ دو مینڈھے قربانی کیا کرتے تھے سیدنا انس رضی اللہ عنہ نے فرمایا: (اس لیے) میں بھی دو مینڈھے قربانی کرتا ہوں۔
حوالہ حدیث السنن المأثورة / باب من أعتق شركا له في عبد / حدیث: 561
تخریج حدیث انظر ما قبله، برقم: 560۔
حدیث نمبر: 562
أَنْبَأَنَا أَنَسُ بْنُ عِيَاضِ اللَّيْثِيُّ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ أَبِي يَحْيَى ، مَوْلَى الأَسْلَمِيِّينَ , عَنْ أُمِّهِ ، قَالَتْ : أَخْبَرَتْنِي أُمُّ بِلالِ ابْنَةُ هِلالٍ ، عَنِ أَبِيهَا ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " يُجْزِئُ الْجَذْعُ مِنَ الضَّأْنِ ضَحِيَّةً " . قَالَ أَبُو جَعْفَرٍ : هَكَذَا قَرَأَهُ الْمُزَنِيُّ عَلَيْنَا عَنِ ابْنِهَا وَإِنَّمَا هُوَ عَنْ أَبِيهَا .
نوید مجید طیب
سیدہ ام بلال بنت ہلال رضی اللہ عنہا اپنے بیٹے سے بیان کرتی ہیں رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”بھیڑ کے جذعہ کی قربانی جائز ہے۔“ ابو جعفر رحمہ اللہ کہتے ہیں امام مزنی رحمہ اللہ نے روایت ام بلال رضی اللہ عنہا کی بیٹے سے ہی پڑھ کر سنائی لیکن حقیقت میں وہ اپنے والد سے بیان کرتی ہیں۔ (درست والد ہی ہے)
وضاحت:
➊ یہ حدیث حسن لغیرہ کے درجے کی ہے صحیح بات یہ ہے کہ جب دو دانتا کم پڑ جائے تو بھیڑ کا جذعہ کفایت کرے گا۔ [مسلم: 1963]
➋ جذعہ محققین نے ایک سال کا بھیڑ کا بچہ بتایا ہے بعض چھ ماہ بھی جذعہ کا ترجمہ کرتے ہیں اس حدیث کی رو سے کہتے ہیں کہ جذعہ صرف بھیڑ کا جائز ہے بکری کا جذبہ سیدنا ابو بردہ رضی اللہ عنہ کے ساتھ خاص تھا کسی اور کے لیے جائز نہیں۔ [دیکھئے حدیث نمبر: 558]
حوالہ حدیث السنن المأثورة / باب من أعتق شركا له في عبد / حدیث: 562
تخریج حدیث سنن ابن ماجه، الأضاحي، باب ما تجزى من الأضاحي، رقم: 3139 وقال الالبانی ضعیف، مسند احمد: 633/44، رقم: 27073 وقال الارنوؤط: حسن لغيره وهذا اسناد ضعيف۔
حدیث نمبر: 563
عَنْ سُفْيَانَ بْنِ عُيَيْنَةَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا أَبُو يَعْفُورٍ الْعَبْدِيُّ ، قَالَ : أَتَيْتُ ابْنَ أَبِي أَوْفَى فَسَأَلْتُهُ عَنْ أَكْلِ الْجَرَادِ ، فَقَالَ : " غَزَوْتُ مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سِتَّ غَزَوَاتٍ أَوْ سَبْعًا فَكُنَّا نَأْكُلُ الْجَرَادَ .
نوید مجید طیب
ابو یعفور عبدی رحمہ اللہ کہتے ہیں میں نے سیدنا عبداللہ ابن ابی اوفی رضی اللہ عنہ سے سوال کیا : ٹڈی کھانے کا کیا حکم ہے؟ تو انہوں نے فرمایا کہ میں رسول اللہ ﷺ کے ساتھ چھ یا سات غزوات میں شریک ہوا ہم ٹڈیاں کھاتے تھے۔
وضاحت:
ٹڈی اور مچھلی بغیر ذبح کیے کھائی جاتی ہیں اور یہ دونوں اگر مردہ حالت میں ملیں تو بھی ان کو کھانا جائز ہے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: «أحلت لنا ميتتان: الحوت والجراد» [سنن ابن ماجہ: 3218]
ہمارے لیے دو مردار حلال قرار دیے گئے ہیں: مچھلی اور ٹڈی۔
حوالہ حدیث السنن المأثورة / باب من أعتق شركا له في عبد / حدیث: 563
تخریج حدیث صحیح بخاری، الذبائح، باب اكل الجراد، رقم: 5495؛ صحیح مسلم، الصيد والذبائح، باب اباحة الجراد، رقم: 1952۔
حدیث نمبر: 564
عَنْ سُفْيَانَ بْنِ عُيَيْنَةَ ، عَنْ عَاصِمٍ ، عَنْ حَفْصَةَ بِنْتِ سِيرِينَ ، عَنِ الرَّبَابِ ، عَنْ عَمِّهَا سَلْمَانَ بْنِ عَامِرٍ قَالَ : سَمِعْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، يَقُولُ : " مَعَ الْغُلامِ عَقِيقَتُهُ فَأَهْرِيقُوا عَنْهُ الدِّمَاءَ وَأَمِيطُوا عَنْهُ الأَذَى " .
نوید مجید طیب
سیدنا سلمان بن عامر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے نبی اکرم ﷺ سے انہوں نے سنا آپ ﷺ فرما رہے تھے: ”ہر بچے کی طرف سے عقیقہ کرنا لازم ہے اس کی طرف سے عقیقے کا خون بہاؤ اور اس کی میل کچیل دور کرو۔“
وضاحت:
➊ عقیقہ ساتویں روز کرنا چاہیے بچے کی طرف سے دو بکرے یا مینڈھے اور بچی کی طرف سے ایک۔
➋ میل کچیل دور کرنے سے مراد سر کے بال کاٹنا، ختنہ وغیرہ کرنا اور بال کے برابر چاندی یا سونا صدقہ کرنا چاہیے۔
➌ ساتویں دن نام رکھنا بھی مسنون عمل ہے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: «الغلام مرتهن بعقيقته يذبح عنه يوم السابع ويسمى ويحلق رأسه» [سنن ترمذی: 1522]
ہر بچہ اپنے عقیقہ کے عوض گروی رکھا ہوا ہے پیدائش کے ساتویں دن اس کا عقیقہ کیا جائے، اس کا نام رکھا جائے، اور اس کے سر کے بال منڈوائے جائیں۔
حوالہ حدیث السنن المأثورة / باب من أعتق شركا له في عبد / حدیث: 564
تخریج حدیث سنن ترمذى، الأضاحي، باب الاذان في اذن المولود، رقم: 1515 وقال حسن صحيح وقال الالباني: صحيح۔
حدیث نمبر: 565
أَنْبَأَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ دِينَارٍ ، عَنْ عَطَاءٍ ، عَنْ حَبِيبَةَ بِنْتِ مَيْسَرَةَ ، مَوْلاةِ عَطَاءٍ , عَنْ أُمِّ كُرْزٍ ، قَالَتْ : أَتَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَسَمِعْتُهُ ، يَقُولُ : " عَنِ الْغُلامِ شَاتَانِ مُكَافِئَتَانِ وَعَنِ الْجَارِيَةِ شَاةٌ " .
نوید مجید طیب
سیدہ ام کرز رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہتی ہیں میں رسول اللہ ﷺ کے پاس آئی آپ ﷺ کو فرماتے سنا: ”لڑکے کی طرف سے دو کامل بکرے اور لڑکی کی طرف سے ایک بکرا ذبح کیا جائے۔“
وضاحت:
نر اور مادہ ملے جلے بھی عقیقہ میں ذبح کیے جا سکتے ہیں بکرے یا مینڈھے سے اوپر کا جانور گائے اونٹ بطور عقیقہ ذبح نہیں کیے جا سکتے جب ذبیح ہی نہیں کیے جا سکتے تو حصے کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔ [دیکھئے شرح حدیث نمبر: 555]
حوالہ حدیث السنن المأثورة / باب من أعتق شركا له في عبد / حدیث: 565
تخریج حدیث سنن ابی داؤد، الاضاحی، باب في العقيقة، رقم: 2834 وقال الالبانی: صحيح، سنن نسائى، العقيقة، باب العقيقة عن الجارية، رقم: 4216، مسند الحمیدی، رقم: 346۔
حدیث نمبر: 566
أَنْبَأَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي يَزِيدَ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ سِبَاعِ بْنِ ثَابِتٍ ، عَنْ أُمِّ كُرْزٍ ، قَالَتْ : أَتَيْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَسْأَلُهُ عَنْ لُحُومِ الْهَدْيِ فَسَمِعْتُهُ يَقُولُ : " عَنِ الْغُلامِ شَاتَانِ وَعَنِ الْجَارِيَةِ شَاةٌ ، لا يَضُرُّكُمْ ذُكْرَانًا كُنَّ أَوْ إِنَاثًا " .
نوید مجید طیب
سیدہ ام کرز رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہتی ہیں میں نبی اکرم ﷺ کے پاس حاضر ہوئی میں نے قربانی کے گوشت کے بارے میں پوچھ رہی تھی کہ (اس دوران) آپ ﷺ کو فرماتے سنا: ”بچے کی طرف سے دو بکریاں اور بچی کی طرف سے ایک بکری ذبح کی جاوے کوئی نقصان نہیں مذکر ہوں یا مؤنث۔“
وضاحت:
➊ سیدہ ام کرز رضی اللہ عنہا حدیبیہ کے موقع پر حاضر ہوئی تھیں دیگر لوگ سوال کر رہے تھے تو انہوں نے اپنے سوال کے علاوہ دیگر مسائل بھی سنے یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے خود مزید مسائل بھی سمجھا دیے۔
➋ عالم دین کو چاہیے موقع میسر آنے پر ملتے جلتے مسائل بھی سائل کو بتا دے تاکہ اس کا فائدہ ہو۔
حوالہ حدیث السنن المأثورة / باب من أعتق شركا له في عبد / حدیث: 566
تخریج حدیث سنن ابی داؤد، العقيقة، رقم: 2835، سنن نسائی، العقيقة، باب كم يعق عن الجارية، رقم: 4217 وقال الالبانی: صحيح، سنن ابن ماجة، الذبائح، باب العقيقة، رقم: 3162۔