کتب حدیثالسنن المأثورةابوابباب: حدود کا بیان
حدیث نمبر: 522
عَنْ سُفْيَانَ بْنِ عُيَيْنَةَ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُتْبَةَ بْنِ مَسْعُودٍ ، عَنْ زَيْدِ بْنِ خَالِدٍ الْجُهَنِيِّ ، وَأَبِي هُرَيْرَةَ ، وَشِبْلٍ أَنَّهُمْ كَانُوا عِنْدَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَقَامَ رَجُلٌ فَقَالَ : يَا رَسُولَ اللَّهِ اقْضِ بَيْنَنَا بِكِتَابِ اللَّهِ ، وَقَالَ خَصْمُهُ : وَكَانَ أفْقَهَ مِنْهُ صَدَقَ يَا رَسُولَ اللَّهِ اقْضِ بَيْنَنَا بِكِتَابِ اللَّهِ وَأْذَنْ لِي أَنْ أَقُولَ ، قَالَ : " قُلْ " ، قَالَ : إِنَّ ابْنِيَ كَانَ عَسِيفًا عَلَى هَذَا وَإِنَّهُ زَنَى بِامْرَأَتِهِ فَافْتَدَيْتُ مِنْهُ بِمِائَةِ شَاةٍ وَخَادِمٍ ، فَسَأَلْتُ رِجَالا مِنْ أَهْلِ الْعِلْمِ فَأَخْبَرُونِي أَنَّ عَلَى ابْنِي جَلْدَ مِائَةٍ وَتَغْرِيبَ عَامٍ ، وَأَنَّ عَلَى امْرَأَةِ هَذَا الرَّجْمَ ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " وَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ لأَقْضِيَنَّ بَيْنَكُمَا بِكِتَابِ اللَّهِ : الْمِائَةُ الشَّاةِ وَالْخَادِمُ رَدٌّ عَلَيْكَ وَعَلَى ابْنِكَ جَلْدُ مِائَةٍ وَتَغْرِيبُ عَامٍ وَاغْدُ يَا أُنَيْسُ لِرَجُلٍ مِنْ أَسْلَمَ عَلَى امْرَأَةِ هَذَا فَإِنِ اعْتَرَفَتْ فَارْجُمْهَا " . فَغَدَا عَلَيْهَا فَاعْتَرَفَتْ فَرَجَمَهَا . قَالَ سُفْيَانُ : وَالْعَسِيفُ : الأَجِيرُ .
نوید مجید طیب
سیدنا زید بن خالد الجھنی رضی اللہ عنہ اور ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ہم رسول اللہ ﷺ کے پاس تھے، ایک آدمی کھڑا ہوا کہنے لگا اے اللہ کے رسول ﷺ ہمارے درمیان کتاب اللہ کے ذریعہ فیصلہ فرمائیں تو مخالف فریق جو اس سے زیادہ سمجھدار تھا کہنے لگا اے اللہ کے رسول ﷺ اس نے سچ کہا ہمارے درمیان کتاب اللہ سے فیصلہ کریں، اور مجھے بات کرنے کی اجازت دیں آپ ﷺ نے فرمایا: ”کہو“ کہنے لگا میرا بیٹے اس کے ہاں مزدور تھا اس نے اس کی بیوی سے زنا کر لیا جس کے بدلے میں نے سو بکریاں اور غلام فدیہ دیا پھر اہل علم سے مسئلہ دریافت کیا تو انہوں نے بتایا کہ تیرے بیٹے کو سو کوڑے لگیں گے اور ایک سال کے لیے جلا وطن کیا جائے گا اور اس کی بیوی کو رجم کیا جائے گا۔ تو نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: ”اس ذات کی قسم! جس کے ہاتھ میں میری جان ہے میں تمہارے درمیان کتاب اللہ سے فیصلہ کروں گا سو بکریاں اور غلام تجھے واپس ہوں گے، تیرے بیٹے پر سو کوڑے اور سال کی جلا وطنی ہے۔“ پھر رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”انیس! (رضی اللہ عنہ) جو بنی اسلم سے تھے جاؤ عورت کی طرف اگر اقرار جرم کرے تو رجم کر دینا۔“ سیدنا انیس رضی اللہ عنہ گئے اس عورت نے اقرار جرم کیا تو انہوں نے اسے رجم کر دیا۔ سفیان رحمہ اللہ کہتے ہیں ”عسيف“ کا مطلب مزدور ہے۔
وضاحت:
➊ حدود اللہ میں صلح نہیں ہو سکتی اور حدود کی سزائیں عدالت اپنی مرضی سے کم یا زیادہ نہیں کر سکتی، حدود کی متعین سزائیں ہیں حدود اللہ میں معاوضہ بھی نہیں چلتا۔
➋ حدیث ہذا سے یہ بھی معلوم ہوا کہ مسئلہ اہل علم سے پوچھنا چاہیے۔
➌ معاملے کی دیکھ بھال کے لیے حاکم ایک آدمی بھی ارسال کر سکتا ہے یعنی خبر واحد حجت ہے چاہے احکام وحدود کا معاملہ ہو۔
➍ اگر ظلم پر صلح کر لی جائے تو وہ مردود ہوگی۔
➎ عورتوں کو عدالت میں لائے بغیر مسئلہ حل ہو سکتا ہو تو انہیں عدالت میں نہیں گھسیٹنا چاہیے۔
➏ اقرار جرم پر عدالت کا یہ کہنا کہ تم اقرار نہ کرو تمہیں سزا ہو جائے گی غیر اسلامی ہے۔ صرف یہ تسلی کرنا ضروری ہے کہ دماغی حالت ٹھیک ہے نشہ تو نہیں کیا ہوا۔ پولیس نے اپنی کارگزاری بنانے کے لیے ملزم کو دھوکہ میں تو نہیں رکھا ہوا کہ اقرار کرو بری ہو جاؤ گے وغیرہ۔
➐ عدالت سے بات کرنے سے پہلے اجازت طلب کرنا بھی اس حدیث سے ثابت ہوتا ہے۔
➑ حدود کا مقدمہ عدالت میں پہنچ جائے اور پھر ثابت بھی ہو جائے تو لازماً سزا ہو گی چاہے فریقین کے درمیان صلح ہو جائے۔
➒ امام مالک رحمہ اللہ نے فرمایا ہے کہ جلا وطنی کی بجائے جیل میں ڈال دیا جائے تو بھی ٹھیک موجودہ عدالتی نظام کے تناظر میں امام مالک رحمہ اللہ کا قول درست ہے کیونکہ مقصود حاصل ہو جاتا ہے جبکہ احناف کا کہنا کہ جلا وطنی سزا کا حصہ نہیں یہ قول حدیث کی مخالفت کے سوا کچھ نہیں۔
➓ کتاب اللہ سے مراد شریعت ہے چاہے قرآن میں مسئلہ نہ ہو۔
⓫ اس حدیث میں ہے کہ میں کتاب اللہ سے فیصلہ کروں گا اس سے علماء نے استدلال کیا ہے کہ حدیث بھی من جانب اللہ ہے کیونکہ دونوں اللہ کا قانون ہیں: گفته او گفته اللہ بود
گرچہ از حلقوم عبد اللہ بود
⓬ عورت شادی شدہ تھی اور لڑکا غیر شادی شدہ اس لیے سزا مختلف۔
⓭ اس حدیث سے یہ بھی معلوم ہوا کہ غیر شرعی طور پر لیا گیا تاوان واپس ہو گا۔ اہل علم کے فیصلے کے بعد اپیل کا فیصلہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فوراً کر دیا۔ جبکہ عصر حاضر میں عدالت اپیل گویا فیصلہ کرنا بھول ہی جاتی ہے۔
⓮ زنا کی وجہ سے میاں بیوی میں جدائی نہیں ہوتی جب تک کہ خاوند خود طلاق نہ دے اگر طلاق نہیں دیتا تو زنا سے نکاح ختم نہیں ہوتا۔
⓯ حدود کا نفاذ حکومت وقت کا نمائندہ کرے گا۔ انفرادی طور پر حدود اللہ کے نفاذ کے لیے عدالتیں یا جرگے قائم کر لینا معاشرتی بگاڑ کا باعث ہیں اور ایسا عمل خلاف شرع ہے۔
⓰ ادنیٰ درجہ کے اہل علم سے مسئلہ پوچھ لینے کے بعد اس کی بڑے علماء سے تصدیق کروانا سنت ہے۔
⓱ ہر وہ صلح یا معاملہ جو غیر شرعی اصولوں پر ہو باطل ہے۔
⓲ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے فیصلے کتاب اللہ کی حیثیت رکھتے ہیں لہذا صحیح احادیث کا منکر کتاب اللہ کا انکاری ہے۔
حوالہ حدیث السنن المأثورة / باب الحدود / حدیث: 522
تخریج حدیث صحیح بخاری، الحدود، باب الاعتراف بالزنا، رقم: 6828، صحیح مسلم، الحدود، باب من اعترف علی نفسہ بالزنی، رقم: 1698
حدیث نمبر: 523
عَنْ سُفْيَانَ ، عَنْ أَيُّوبَ ، عَنْ نَافِعٍ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، قَالَ : " رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَجَمَ يَهُودِيًّا وَيَهُودِيَّةً ، فَرَأَيْتُهُ يُجَانِئُ عَلَيْهَا يَقِيهَا الْحِجَارَةَ " .
نوید مجید طیب
سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، میں نے دیکھا رسول اللہ ﷺ نے یہود کو (زنا کے کیس میں) رجم کیا تو میں نے دیکھا مرد عورت کو پتھروں سے بچانے کے لیے اس پر جھکا ہوا تھا۔
حوالہ حدیث السنن المأثورة / باب الحدود / حدیث: 523
تخریج حدیث صحیح بخاری، التوحید، باب ما یجوز من تفسیر ...... الخ، رقم: 7543، صحیح مسلم، الحدود، باب رجم الیہود اھل الذمة فی الزنی، رقم: 1699
حدیث نمبر: 524
عَنْ عَبْدِ الْمَجِيدِ بْنِ عَبْدِ الْعَزِيزِ بْنِ أَبِي رَوَّادٍ ، عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ ، قَالَ : أَخْبَرَنِي أَبُو الزُّبَيْرِ ، أَنَّهُ سَمِعَ جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ ، يَقُولُ : " رَجَمَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَجُلا مِنْ أَسْلَمَ وَرَجُلا مِنَ الْيَهُودِ وَامْرَأَةً " .
نوید مجید طیب
سیدنا جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے نبی اکرم ﷺ نے اسلم قبیلے کے ایک آدمی اور ایک یہودی مرد و عورت کو رجم فرمایا۔
وضاحت:
حدود کا نفاذ ایک مسلمان کے لیے گناہ کا کفارہ بن جاتا ہے۔
حوالہ حدیث السنن المأثورة / باب الحدود / حدیث: 524
تخریج حدیث صحیح مسلم، الحدود، باب رجم الیہود اھل الذمة من الزنی، رقم: 1703
حدیث نمبر: 525
أَنْبَأَنَا مَالِكُ بْنُ أَنَسٍ ، عَنْ نَافِعٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ ، أَنَّهُ قَالَ : إِنَّ الْيَهُودَ جَاءُوا إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَذَكَرُوا لَهُ أَنَّ رَجُلا مِنْهُمْ وَامْرَأَةً زَنَيَا ، فَقَالَ لَهُمْ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " مَا تَجِدُونَ فِي التَّوْرَاةِ فِي شَأْنِ الرَّجْمِ ؟ " قَالُوا : نَفْضَحُهُمْ وَيُجْلَدُونَ ، فَقَالَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ سَلامٍ : كَذَبْتُمْ إِنَّ فِيهَا الرَّجْمَ فَأَتَوْا بِالتَّوْرَاةِ فَنَشَرُوهَا ، فَوَضَعَ أَحَدُهُمْ يَدَهُ عَلَى آيَةِ الرَّجْمِ فَقَرَأَ مَا قَبْلَهَا وَمَا بَعْدَهَا ، فَقَالَ لَهُ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ سَلامٍ : ارْفَعْ يَدَكَ فَرَفَعَ يَدَهُ فَإِذَا فِيهَا آيَةُ الرَّجْمِ ، فَقَالُوا : صَدَقَ يَا مُحَمَّدُ ، فِيهَا آيَةُ الرَّجْمِ ، " فَأَمَرَ بِهِمَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَرُجِمَا " . قَالَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ : فَرَأَيْتُ الرَّجُلَ يَجْنَأُ عَلَى الْمَرْأَةِ يَقِيهَا الْحِجَارَةَ .
نوید مجید طیب
سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے یہو د رسول اللہ ﷺ کے پاس آئے اور اپنا مقدمہ بیان کیا کہ اُن کے ایک آدمی اور عورت نے زنا کا ارتکاب کیا ہے تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”تم رجم کے بارے میں تورات میں کیا حکم پاتے ہو؟“ وہ کہنے لگے ہم انہیں رسواء کرتے ہیں اور کوڑے مارتے ہیں تو سیدنا عبد اللہ بن سلام رضی اللہ عنہ نے کہا: تم جھوٹ بولتے ہو تورات میں بھی رجم کا حکم ہے پھر وہ تورات لائے جسے کھول کر بیٹھ گئے ایک یہودی نے رجم کی آیت پر ہاتھ رکھ کر ماقبل اور مابعد کو پڑھ دیا تو عبداللہ بن سلام رضی اللہ عنہ نے اسے کہا: ”اپنا ہاتھ اٹھا“ تو اس نے اپنا ہاتھ اٹھایا نیچے آیت رجم تھی وہ کہنے لگے عبداللہ بن سلام رضی اللہ عنہ نے سچ کہا: اے محمد صلی اللہ علیہ وسلم اس میں آیت رجم ہے، تو رسول اللہ ﷺ نے دونوں کو رجم کیا، عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں میں نے آدمی کو دیکھا عورت کے اوپر جھکا ہوا تھا اسے پتھروں سے بچاتا تھا۔
وضاحت:
➊ زنا معاشرتی ناسور ہے اس لیے شریعت اسلامیہ نے اس کو حرام قرار دیا اور اس کی سزا سخت ترین مقرر کی۔
➋ کتمان علم اہل کتاب کا شیوہ ہے۔
➌ اہل حق، اہل اسلام نے ہر دور میں یہود کی سازشوں کا بروقت تدارک کیا اور انہیں واضح فرمایا۔
➍ سیدنا عبد اللہ بن سلام رضی اللہ عنہ جلیل القدر صحابی رسول صلی اللہ علیہ وسلم ہیں پہلے یہودی عالم تھے بعد ازاں اسلام قبول کیا اور صحابہ کرام رضی اللہ عنہم میں خوب علمی مقام رکھتے ہیں۔
➎ زنا کی جو سزا تورات میں ہے وہی اسلام میں ہے۔
➏ شادی شدہ زانی کو رجم اور غیر شادی شدہ کے لیے سو کوڑے اور ایک سال کی جلا وطنی ہوگی۔
➐ زنا سابقہ شریعتوں میں بھی جرم تھا اور ہماری شریعت میں بھی جرم ہے۔
حوالہ حدیث السنن المأثورة / باب الحدود / حدیث: 525
تخریج حدیث صحیح بخاری، الحدود، باب احکام اھل الذمة واحصانھم اذا الخ، رقم: 6841، صحیح مسلم، الحدود، باب یرجم الیہود اھل الذمة فی الزنی، رقم: 1699
حدیث نمبر: 526
عَنْ مَالِكِ بْنِ أَنَسٍ ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُتْبَةَ بْنِ مَسْعُودٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، وَزَيْدِ بْنِ خَالِدٍ الْجُهَنِيِّ ، أَنَّهُمَا أَخْبَرَاهُ أَنَّ رَجُلَيْنِ اخْتَصَمَا إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَقَالَ أَحَدُهُمَا : يَا رَسُولَ اللَّهِ اقْضِ بَيْنَنَا بِكِتَابِ اللَّهِ ، وَقَالَ الآخَرُ وَهُوَ أَفْقَهُهُمَا : أَجَلْ يَا رَسُولَ اللَّهِ اقْضِ بَيْنَنَا بِكِتَابِ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ وَائْذَنْ لِي فِي أَنْ أَتَكَلَّمَ ، فَقَالَ : " تَكَلَّمْ " ، فَقَالَ : إِنَّ ابْنِي كَانَ عَسِيفًا عَلَى هَذَا فَزَنَى بِامْرَأَتِهِ ، فَأُخْبِرْتُ أَنَّ عَلَى ابْنِي الرَّجْمَ ، فَافْتَدَيْتُ مِنْهُ بِمِائَةِ شَاةٍ وَجَارِيَةٍ لِي ، ثُمَّ إِنِّي سَأَلْتُ أَهْلَ الْعِلْمِ فَأَخْبَرُونِي أَنَّ عَلَى ابْنِي جَلْدَ مِائَةٍ وَتَغْرِيبَ عَامٍ ، وَإِنَّمَا الرَّجْمُ عَلَى امْرَأَتِهِ ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " أَمَا وَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ لأَقْضِيَنَّ بَيْنَكُمَا بِكِتَابِ اللَّهِ : أَمَّا غَنَمُكَ وَجَارِيَتُكَ فَرَدٌّ إِلَيْكَ وَجَلَدَ ابْنَهُ مِائَةً وَغَرَّبَهُ عَامًا ، وَأَمَرَ أُنَيْسًا الأَسْلَمِيَّ أَنْ يَأْتِيَ امْرَأَةَ الآخَرِ فَإِنِ اعْتَرَفَتْ فَارْجُمْهَا فَاعْتَرَفَتْ فَرَجَمَهَا . قَالَ مَالِكٌ : الْعَسِيفُ : الأَجِيرُ .
نوید مجید طیب
سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ اور سیدنا زید بن خالد الجہنی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ دو آدمیوں نے اپنا کیس رسول اللہ ﷺ کے سامنے پیش کیا ایک نے کہا ہمارے درمیان کتاب اللہ کے ذریعہ فیصلہ فرمائیں اور دوسرا جو زیادہ سمجھدار تھا کہنے لگا کیوں نہیں اے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم تم ہمارے درمیان کتاب اللہ سے فیصلہ کریں اور مجھے بولنے کی اجازت دیں اور کہنے لگا کہ میرا بیٹا اس کے ہاں مزدور تھا اس کی بیوی سے زنا کر بیٹھا ہے مجھے خبر دی گئی کہ میرے بیٹے پر رجم ہے تو میں نے فدیہ کے طور پر سو بکریاں اور ایک لونڈی اداء کر دی ہے پھر میں نے اہل علم سے مسئلہ دریافت کیا تو انہوں نے مجھے بتایا کہ میرے بیٹے پر سو کوڑوں کی سزا اور ایک سال کی جلا وطنی ہے جبکہ رجم اس کی بیوی پر ہے، تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”اس ذات کی قسم! جس کے ہاتھ میں میری جان ہے میں ضرور تمہارے درمیان اللہ کے قانون کے مطابق فیصلہ کروں گا، جو بکریاں اور لونڈی ہے وہ تجھے واپس ہوں گی، اور تیرے بیٹے کو سو کوڑے اور ایک سال جلا وطنی کی سزا سنائی جاتی ہے۔“ اور آپ ﷺ نے انیس اسلمی رضی اللہ عنہ کو حکم دیا کہ اس کی بیوی کے پاس جا اگر اعتراف جرم کرتی ہے تو اسے رجم کر دینا۔ اس عورت نے اعتراف جرم کیا تو اسے رجم کر دیا گیا امام مالک رحمہ اللہ نے کہا: ”العسيف“ مزدور کو کہتے ہیں۔
وضاحت:
فوائد کے لیے دیکھئے شرح حدیث نمبر 525۔
حوالہ حدیث السنن المأثورة / باب الحدود / حدیث: 526
تخریج حدیث صحیح بخاری، المحاربین من اھل الکفر، باب اذا رمی امراتہ أو امرأة غیرہ بالزنا، رقم: 6842، صحیح مسلم، الحدود، باب من اعترف علی نفسہ بالزنی، رقم: 1698
حدیث نمبر: 527
عَنْ مَالِكِ بْنِ أَنَسٍ ، عَنْ سُهَيْلِ بْنِ أَبِي صَالِحٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، أَنَّ سَعْدَ بْنَ عُبَادَةَ ، قَالَ لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : أَرَأَيْتَ إِنْ وَجَدْتُ مَعَ امْرَأَتِي رَجُلا أُمْهِلُهُ حَتَّى آتِيَ بِأَرْبَعَةِ شُهَدَاءَ ؟ ! قَالَ : " نَعَمْ " .
نوید مجید طیب
سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے سیدنا سعد بن عبادہ رضی اللہ عنہ نے رسول اللہ ﷺ سے عرض کیا: ”آپ کا کیا خیال ہے اگر میں اپنی بیوی کے ساتھ کسی مرد کو زنا کرتے دیکھوں تو کیا اسے چھوڑ دوں اور چار گواہ لے کر آؤں؟“ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”ہاں۔“
وضاحت:
➊ زنا اور حدود اللہ میں فدیہ نہیں چلتا شادی شدہ زانی کی سزا رجم ہے اور غیر شادی شدہ کی سزا سو کوڑے اور جلا وطنی ہے۔
➋ جلا وطنی کو امام مالک رحمہ اللہ کے قول پر عمل کرتے ہوئے عصر حاضر میں بند حوالات جوڈیشل کیا جانا مناسب ہے۔
➌ زنا کے ثبوت کے لیے چار عینی شاہد ضروری ہیں جنہوں نے ذکر کو فرج میں جاتے دیکھا ہو تو جرم زنا ثابت ہوتا ہے کیونکہ گواہی پر مجرم کو رجم کیا جائے گا انسانی جان کے ضیاع کو مد نظر رکھتے ہوئے اسلام نے سخت شرائطِ گواہان رکھیں تاکہ ہر آدمی دوسرے کو بلا تحقیق الزام نہ لگائے اور اگر الزام ثابت کرنے میں ناکام ہو جائے تو حد قذف جاری ہوگی۔
➍ زنا اقرار جرم سے بھی ثابت ہو جاتا ہے عہد نبوی صلی اللہ علیہ وسلم میں جتنے زنا کے کیسز میں سزائیں ہوئیں وہ اقرار جرم سے ہی ہوئی ہیں۔
➎ زنا میں عینی شاہد مشکل ہیں مذکورہ حدیث میں بھی سعد رضی اللہ عنہ نے اسی لیے تعجب کیا تو قانون لعان نازل ہوا۔
حوالہ حدیث السنن المأثورة / باب الحدود / حدیث: 527
تخریج حدیث صحیح مسلم، اللعان، باب، رقم: 1498
حدیث نمبر: 528
عَنْ سُفْيَانَ بْنِ عُيَيْنَةَ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُتْبَةَ ، عَنْ زَيْدِ بْنِ خَالِدٍ ، ، قَالُوا : كُنَّا قُعُودًا عِنْدَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَأَتَاهُ رَجُلٌ فَقَالَ : إِنَّ جَارِيَتِيَ زَنَتْ ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " اجْلِدْهَا ، فَإِنْ زَنَتْ فَاجْلِدْهَا ، فَإِنْ زَنَتْ فَاجْلِدْهَا ، فَإِنْ زَنَتْ فَبِعْهَا وَلَوْ بِضَفِيرٍ " .
نوید مجید طیب
سیدنا زید بن خالد الجہنی رضی اللہ عنہ اور سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ نے فرمایا : ہم رسول اللہ ﷺ کے پاس بیٹھے تھے کہ ایک آدمی آپ ﷺ کے پاس آیا اور کہنے لگا ”میری لونڈی نے زنا کیا ہے“ تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”اسے کوڑے مار اگر دوبارہ زنا کرے تو پھر کوڑے مار اگر تیسری بار پھر زنا کرے تو اسے کوڑے مار اگر پھر زنا کرے تو اسے فروخت کر دے اگر چہ بعوض رسی ہی ہو۔“
حوالہ حدیث السنن المأثورة / باب الحدود / حدیث: 528
تخریج حدیث صحیح بخاری، العتق، باب کراہیۃ التطاول علی الرقیق، رقم: 2556، صحیح مسلم، الحدود، باب رجم الیہود اھل الذمة فی الزنی، رقم: 1703
حدیث نمبر: 529
عَنْ مَالِكٍ ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُتْبَةَ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، وَعَنْ زَيْدِ بْنِ خَالِدٍ ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سُئِلَ عَنِ الأَمَةِ إِذَا زَنَتْ وَلَمْ تُحْصَنْ ، فَقَالَ : " إِنْ زَنَتْ فَاجْلِدُوهَا ، ثُمَّ إِنْ زَنَتْ فَاجْلِدُوهَا ، ثُمَّ إِنْ زَنَتْ فَاجْلِدُوهَا ، ثُمَّ إِنْ زَنَتْ فَاجْلِدُوهَا ، ثُمَّ بِيعُوهَا وَلَوْ بِضَفِيرٍ " . قَالَ ابْنُ شِهَابٍ : لا أَدْرِي بَعْدَ الثَّالِثَةِ أَوِ الرَّابِعَةِ ، وَالضَّفِيرُ : الْحَبْلُ .
نوید مجید طیب
سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ اور زید بن خالد رضی اللہ عنہ سے روایت ہے رسول اللہ ﷺ سے لونڈی کے متعلق سوال ہوا کہ غیر شادی شدہ اگر زنا کرے تو کیا حکم ہے؟ تو آپ ﷺ نے فرمایا: ”اگر زنا کرے تو اسے کوڑے مارو اگر پھر زنا کرے تو اسے کوڑے مارو پھر اگر زنا کرے تو پھر کوڑے مارو پھر فروخت کر دو اگر چہ ایک رسی کے بدلے ہی فروخت ہو۔“ ابن شہاب رحمہ اللہ کہتے ہیں مجھے نہیں معلوم کہ آپ نے رسی کے بدلے فروخت کرنے کا حکم تیسری دفعہ دیا یا چوتھی دفعہ زنا کرنے پر دیا اور «ضَفِير» رسی کو کہتے ہیں۔
وضاحت:
➊ شرعاً بعض احکامات میں غلام اور لونڈی کے لیے تخفیف اور استثناء ہے جن میں سے ایک حکم حدیث بالا میں بیان ہوا۔
➋ غلام اور لونڈی پر رجم نہیں اگرچہ شادی شدہ ہوں جیسا کہ ارشادِ باری تعالیٰ ہے: ﴿وَمَنْ لَّمْ یَسْتَطِعْ مِنْكُمْ طَوْلًا اَنْ یَّنْكِحَ الْمُحْصَنٰتِ الْمُؤْمِنٰتِ فَمِنْ مَّا مَلَكَتْ اَیْمَانُكُمْ مِّنْ فَتَیٰتِكُمُ الْمُؤْمِنٰتِؕ-وَ اللّٰهُ اَعْلَمُ بِاِیْمَانِكُمْؕ-بَعْضُكُمْ مِّنْۢ بَعْضٍۚ-فَانْكِحُوْهُنَّ بِاِذْنِ اَهْلِهِنَّ وَ اٰتُوْهُنَّ اُجُوْرَهُنَّ بِالْمَعْرُوْفِ مُحْصَنٰتٍ غَیْرَ مُسٰفِحٰتٍ وَّ لَا مُتَّخِذٰتِ اَخْدَانٍۚ-فَاِذَاۤ اُحْصِنَّ فَاِنْ اَتَیْنَ بِفَاحِشَةٍ فَعَلَیْهِنَّ نِصْفُ مَا عَلَى الْمُحْصَنٰتِ مِنَ الْعَذَابِؕ-ذٰلِكَ لِمَنْ خَشِیَ الْعَنَتَ مِنْكُمْؕ-وَ اَنْ تَصْبِرُوْا خَیْرٌ لَّكُمْؕ-وَ اللّٰهُ غَفُوْرٌ رَّحِیْمٌ۠﴾ [النساء: 25]
اور تم میں سے جس کسی کو آزاد مسلمان عورتوں سے نکاح کرنے کی پوری وسعت وطاقت نہ ہو تو وه مسلمان لونڈیوں سے جن کے تم مالک ہو (اپنا نکاح کر لے) اللہ تمہارے اعمال کو بخوبی جاننے واﻻ ہے، تم سب آپس میں ایک ہی تو ہو، اس لئے ان کے مالکوں کی اجازت سے ان سے نکاح کر لو، اور قاعده کے مطالق ان کے مہر ان کو دو، وه پاک دامن ہوں نہ کہ علانیہ بدکاری کرنے والیاں، نہ خفیہ آشنائی کرنے والیاں، پس جب یہ لونڈیاں نکاح میں آجائیں پھر اگر وه بے حیائی کا کام کریں تو انہیں آدھی سزا ہے اس سزا سے جو آزاد عورتوں کی ہے۔ کنیزوں سے نکاح کا یہ حکم تم میں سے ان لوگوں کے لئے ہے جنہیں گناه اور تکلیف کا اندیشہ ہو اور تمہارا ضبط کرنا بہت بہتر ہے اور اللہ تعالیٰ بڑا بخشنے واﻻ اور بڑی رحمت واﻻ ہے۔
ان کی سزا آزاد سے نصف ہے جبکہ رجم نصف نہیں ہو سکتا کوڑے نصف ہوں گے اس پر امت کا اجماع ہے۔
➌ غلام و لونڈی شادی شدہ و غیر شادی شدہ پر بھی زنا کی حد نافذ ہوگی۔
➍ غلام یا لونڈی کی جلا وطنی یہی ہے کہ اسے آگے فروخت کر دو تاکہ ماحول تبدیل ہو شاید باز آ جائے یا شادی ہو جائے۔
➎ اس کے رجم میں مالک کا نقصان تھا جبکہ مالک بے قصور ہے اس حکمت کو بھی مدنظر رکھا گیا ہے۔
➏ زنا کرنے والے غلام و لونڈی کو بیچنا جائز ہے۔
➐ بد کردار اور بدفطرت غلام لونڈی اور نوکر کو گھر سے نکال دینا چاہیے۔
➑ غلام و لونڈی پر اس کا مالک حد نافذ کرے گا، ایک دفعہ سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے خطبہ دیتے ہوئے فرمایا: «ياايها الناس اقيموا على ارقائكم الحد من احصن منهم و من لم يحصن» [صحیح مسلم: 1705]
اے لوگو! اپنے شادی شدہ اور غیر شادی شدہ غلاموں پر حدود نافذ کرو۔
حوالہ حدیث السنن المأثورة / باب الحدود / حدیث: 529
تخریج حدیث صحیح بخاری، البیوع، باب بیع العبد الزانی، رقم: 2154، صحیح مسلم، الحدود، باب رجم الیہود ..... الخ، رقم: 1703
حدیث نمبر: 530
عَنْ سُفْيَانَ بْنِ عُيَيْنَةَ ، وَعُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ ، عَنْ عَمْرَةَ ، عَنْ عَائِشَةَ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " تُقْطَعُ يَدُ السَّارِقِ فِي رُبُعِ دِينَارٍ فَصَاعِدًا " .
نوید مجید طیب
ام المومنین سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”چور کا ہاتھ دینار کے چوتھے حصے یا اس سے اوپر میں کاٹا جائے گا۔“
حوالہ حدیث السنن المأثورة / باب الحدود / حدیث: 530
تخریج حدیث صحیح مسلم، الحدود، باب حد السرقة ونصابھا، رقم: 1684
حدیث نمبر: 531
عَنْ مَالِكِ بْنِ أَنَسٍ ، عَنْ نَافِعٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ ، " أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَطَعَ سَارِقًا فِي مِجَنٍّ قِيمَتُهُ ثَلاثَةُ دَرَاهِمَ " .
نوید مجید طیب
سیدنا عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے رسول اللہ ﷺ نے ایک ڈھال کی چوری کرنے پر جس کی قیمت تین درہم تھی چور کا ہاتھ کاٹا۔
حوالہ حدیث السنن المأثورة / باب الحدود / حدیث: 531
تخریج حدیث صحیح بخاری، الحدود، باب قول اللہ تعالیٰ والسارق والسارقة ...... الخ، رقم: 6795، صحیح مسلم، الحدود، باب حد السرقة ونصابھا، رقم: 1686
حدیث نمبر: 532
عَنْ يَحْيَى بْنِ سُلَيْمٍ ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ ، عَنْ نَافِعٍ ، " أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَطَعَ يَدَ سَارِقٍ فِي مِجَنٍّ قُوِّمَ بِثَلاثَةِ دَرَاهِمَ أَوْ رُبُعِ دِينَارٍ " .
نوید مجید طیب
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے رسول اللہ ﷺ نے تین درہم یا چوتھائی دینار کی مالیت کی ڈھال چوری کرنے پر چور کا ہاتھ کاٹا۔
وضاحت:
➊ کسی شخص کا مال اس کی حفاظت کی جگہ سے چھپ کر چرا لینے کا نام چوری ہے۔
➋ اصل نصاب ڈھال نہیں کیونکہ ڈھال ہر زمانے میں مختلف قیمت کی ہوتی رہی ہے اصل نصاب ربع دینار ہے اور اتنی یا اس سے زائد مالیت کی اشیاء اگر اٹھالی جائیں تو اٹھانے والے پر حد کا نفاذ ہوگا۔
➌ چوری کی سزا کا ذکر قرآن میں بھی مذکور ہے، ارشادِ باری تعالیٰ ہے: ﴿وَالسَّارِقُ وَالسَّارِقَةُ فَاقْطَعُوا أَيْدِيَهُمَا جَزَاءً بِمَا كَسَبَا نَكَالًا مِّنَ اللهِ وَاللهُ عَزِيزٌ حَكِيمٌ﴾ [المائدة: 38]
اور تم چوری کرنے والے مرد اور چوری کرنے والی عورت کے ہاتھ کاٹ دیا کرو، یہ اللہ کی طرف سے اس گناہ کی عبرت ناک سزا ہے جو انھوں نے کیا، اور اللہ غالب، خوب حکمت والا ہے۔
➍ اگر چوری ربع دینار سے کم ہے تو تعزیراً کوئی مناسب سزا قاضی وقت دے سکتا ہے حدود میں کمی پیشی عدالت نہیں کر سکتی البتہ تعزیری سزا میں کمی پیشی ممکن ہے حالات واقعات کے مطابق سزا مختلف ہو سکتی ہے۔
➎ عہد نبوی صلی اللہ علیہ وسلم میں ایک دینار بارہ درہم کا ہوتا تھا۔ موجودہ دور میں چوتھائی دینار تقریباً ایک گرام سونا کے برابر ہے، لہذا اتنی مالیت یا اس سے زیادہ کی کوئی چیز چرانے پر چور کا ہاتھ کاٹا جائے گا۔
حوالہ حدیث السنن المأثورة / باب الحدود / حدیث: 532
تخریج حدیث انظر ما قبلہ، برقم: 531
حدیث نمبر: 533
عَنْ مَالِكٍ ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ ، عَنْ صَفْوَانَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ صَفْوَانَ ، أَنَّ صَفْوَانَ بْنَ أُمَيَّةَ قِيلَ لَهُ : إِنَّهُ مَنْ لَمْ يُهَاجِرْ هَلَكَ ، فَقَدِمَ صَفْوَانُ بْنُ أُمَيَّةَ الْمَدِينَةَ فَنَامَ فِي الْمَسْجِدِ وَتَوَسَّدَ رِدَاءَهُ ، فَجَاءَ سَارِقٌ فَأَخَذَ رِدَاءَهُ ، فَأَخَذَ صَفْوَانُ السَّارِقَ فَجَاءَ بِهِ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَأَمَرَ بِهِ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ تُقْطَعَ يَدُهُ ، فَقَالَ صَفْوَانُ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، إِنِّي لَمْ أُرِدْ هَذَا هُوَ عَلَيْهِ صَدَقَةٌ ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " فَهَلا قَبْلَ أَنْ تَأْتِيَنِي بِهِ " .
نوید مجید طیب
سیدنا عبد اللہ بن صفوان رضی اللہ عنہ سے روایت ہے صفوان بن امیہ رضی اللہ عنہ سے کہا گیا جس نے ہجرت نہ کی وہ ہلاک ہو گیا تو صفوان رضی اللہ عنہ مدینہ آئے، مسجد میں ہی قیام کیا اپنی چادر کو تکیہ بنایا چور آیا اس نے چادر چرا لی تو صفوان رضی اللہ عنہ نے چور کو پکڑ لیا جسے رسول اللہ ﷺ کے پاس لائے رسول اللہ ﷺ نے اس کا ہاتھ کاٹنے کا حکم دیا تو صفوان رضی اللہ عنہ نے کہا: ”اے اللہ کے رسول! میرا یہ ارادہ نہیں تھا کہ اس کا ہاتھ کٹے یہ چادر اس پر صدقہ ہے“ تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”تو نے یہ کام میرے پاس چور لانے سے قبل کیوں نہیں کیا۔“
وضاحت:
➊ حدود کا مقدمہ قاضی یا حاکم تک پہنچنے سے پہلے معاف کیا جا سکتا ہے۔
➋ جرم ثابت ہونے کے بعد متاثرہ شخص بھی معاف نہیں کر سکتا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: «تعافوا الحدود قبل أن تأتوني به فما أتاني من حد فقد وجب» [سنن نسائی: 4885]
ملزمان کو میرے پاس پیش کرنے سے پہلے ہی حدود معاف کر دیا کرو میرے پاس کوئی حد والا مقدمہ آیا تو حد واجب ہوگی۔
➌ البتہ قصاص کے مقدمات اور 337 سے متعلقہ دفعات ضرر وغیرہ قابل راضی نامہ ہیں فیصلہ عدالت کے بعد بھی قانوناً اور شرعاً راضی نامہ کیا جاسکتا ہے۔
➍ حاکم اور قاضی کو چاہیے فوراً حدود شرعیہ کا فیصلہ دے اور نفاذ کرے اس سلسلہ میں بلا وجہ کی تاخیر درست نہیں ہے۔
حوالہ حدیث السنن المأثورة / باب الحدود / حدیث: 533
تخریج حدیث سنن ابن ماجہ، الحدود، باب من سرق من الحرز، رقم: 2595، سنن ابی داؤد، الحدود، باب من سرق من حرز، رقم: 4394، وصححہ ابن الجارود، رقم: 828
حدیث نمبر: 534
عَنْ مَالِكٍ ، عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ يَحْيَى بْنِ حَبَّانَ ، أَنَّ عَبْدًا سَرَقَ وَدِيًّا مِنْ حَائِطِ رَجُلٍ فَغَرَسَهُ فِي حَائِطِ سَيِّدِهِ فَخَرَجَ صَاحِبُ الْوَدِيِّ يَلْتَمِسُ وَدِيَّهُ فَوَجَدَهُ فَاسْتَعْدَى عَلَى الْعَبْدِ إِلَى مَرْوَانَ بْنَ الْحَكَمِ فَسَجَنَ الْعَبْدَ وَأَرَادَ مَرْوَانُ قَطْعَ يَدِهِ فَانْطَلَقَ سَيِّدُ الْعَبْدِ إِلَى رَافِعِ بْنِ خَدِيجٍ فَسَأَلَهُ عَنْ ذَلِكَ فَأَخْبَرَهُ أَنَّهُ سَمِعَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ : " لا قَطْعَ فِي ثَمَرٍ وَلا كَثَرٍ " ، فَقَالَ الرَّجُلُ : فَإِنَّ مَرْوَانَ بْنَ الْحَكَمِ أَخَذَ غُلامِي وَهُوَ يُرِيدُ قَطْعَ يَدِهِ وَأَنَا أُحِبُّ أَنْ تَمْشِيَ مَعِي إِلَيْهِ فَتُخْبِرَهُ بِالَّذِي سَمِعْتَ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَمَشَى مَعَهُ رَافِعٌ حَتَّى أَتَى مَرْوَانَ ، فَقَالَ : أَخَذْتَ غُلامًا لِهَذَا ؟ فَقَالَ : نَعَمْ ، فَقَالَ : مَا أَنْتَ صَانِعٌ بِهِ ، قَالَ : أَرَدْتُ قَطْعَ يَدِهِ ، فَقَالَ لَهُ رَافِعٌ : إِنِّي سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، يَقُولُ : " لا قَطْعَ فِي ثَمَرٍ وَلا كَثَرٍ " ، فَأَمَرَ مَرْوَانُ بِالْعَبْدِ فَأُرْسِلَ .
نوید مجید طیب
محمد بن یحیی بن حبان رحمہ اللہ سے روایت ہے ایک غلام نے کھجور کا ایک پودا چوری کر کے اپنے مالک کے باغ میں لگا دیا تو پودے کا مالک پودا تلاش کرتے ہوئے آیا اسے وہاں پایا تو اس غلام کا مقدمہ مروان بن حکم رحمہ اللہ کی عدالت میں پیش ہوا، مروان رحمہ اللہ نے غلام کو قید کیا اور چاہا کہ اس کا ہاتھ کاٹ دے تب غلام کا مالک، رافع بن خدیج رضی اللہ عنہ کے پاس مسئلہ پوچھنے گیا تو رافع رضی اللہ عنہ نے بتایا انہوں نے رسول اللہ ﷺ کو فرماتے ہوئے سنا: ”پھل چرانے یا کھجور کا گودا چرانے پر ہاتھ نہیں کاٹا جائے گا۔“ اس آدمی نے کہا کہ مروان بن حکم رحمہ اللہ نے میرا غلام گرفتار کیا ہوا ہے اور اس کا ہاتھ کاٹنا چاہتا ہے، میں چاہتا ہوں کہ آپ میرے ساتھ چلیں مروان رحمہ اللہ کو حدیث رسول ﷺ سنائیں تو اس آدمی کے ساتھ سید نا رافع رضی اللہ عنہ، مروان رحمہ اللہ کے پاس گئے سید نا رافع رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ”اے مروان! کیا آپ نے اس آدمی کے غلام کو گرفتار کیا ہے؟“ اس نے کہا ”ہاں“، پوچھا: ”اس کے متعلق کیا فیصلہ کرنا چاہتے ہو؟“ اس نے کہا ”میں تو اس کا ہاتھ کاٹنا چاہتا ہوں“، تو سید نا رافع رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ”میں نے رسول اللہ ﷺ کو فرماتے سنا: ”پھل اور کھجور کی گری کی چوری میں ہاتھ نہیں کاٹا جائے گا“ تو مروان رحمہ اللہ نے غلام کو رہا کرنے کا حکم صادر کیا۔
حوالہ حدیث السنن المأثورة / باب الحدود / حدیث: 534
تخریج حدیث سنن ابی داؤد، الحدود، باب مالا قطع فیہ، رقم: 4388، سنن نسائی، قطع السارق، باب مالا قطع فیہ، رقم: 4967 وقال البانی صحیح.
حدیث نمبر: 535
عَنْ سُفْيَانَ بْنِ عُيَيْنَةَ ، عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ يَحْيَى بْنِ حَبَّانَ ، عَنْ عَمِّهِ ، وَاسِعِ بْنِ حَبَّانَ ، أَنَّ عَبْدًا سَرَقَ وَدِيًّا مِنْ حَائِطِ رَجُلٍ ، فَجَاءَ بِهِ فَغَرَسَهُ فِي مَكَانٍ آخَرَ ، فَأَتَى بِهِ مَرْوَانُ بْنُ الْحَكَمِ فَأَرَادَ أَنْ يَقْطَعَهُ فَشَهِدَ رَافِعُ بْنُ خَدِيجٍ ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " لا قَطْعَ فِي ثَمَرٍ وَلا كَثَرٍ " .
نوید مجید طیب
واسع بن حبان رحمہ اللہ سے روایت ہے کہ ایک غلام نے کھجور کا پودا چوری کر کے دوسری جگہ لگا دیا اسے مروان بن حکم رحمہ اللہ کے پاس لایا گیا اس نے غلام کا ہاتھ کاٹنا چاہا تو سید نا رافع بن خدیج رضی اللہ عنہ وہاں حاضر ہوئے اور عرض کیا : نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : ”پھل اور گودے کی چوری میں ہاتھ نہیں کاٹا جائے گا۔“
وضاحت:
➊ خلافتِ بنو امیہ بھی اسلام کی سربلندی اور امت مسلمہ کا سنہری دور تھا جس میں حدود اللہ نافذ تھیں قرآن و حدیث کی پاسداری کی جاتی تھی تاریخِ اسلام کی سب سے بڑی اسلامی سلطنت بنی امیہ کی خلافت و سلطنت ہے جس نے ہند و سندھ اور افریقہ و یورپ میں اسلام کے جھنڈے گاڑے اور تاریخ کے اوراق پر ان مٹ سنہری نقوش چھوڑے اگرچہ بعض ناگوار واقعات بھی رونما ہوئے۔
➋ مروان بن حکم رحمہ اللہ کے پاس حدیثِ رسول صلی اللہ علیہ وسلم پہنچی تو اس نے اپنا فیصلہ اور اپنی بات فوراً چھوڑ کر حدیثِ نبوی کو اختیار کیا: عقل قربان کن بہ پیش مصطفیٰ
مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وسلم کی بات آجانے پر اپنی رائے اور عقل کو قربان کر دو۔
➌ معلوم ہوا پھل یا کھجور کی گری چوری کرنے پر ہاتھ نہیں کاٹا جائے گا، اگر قاضی اور عدالت مناسب سمجھے تعزیر سزا دے سکتی ہے۔
➍ حدیث میں موجود پھل سے مراد درختوں پر لگا ہوا پھل ہے کولڈ اسٹور وغیرہ سے پھل چرانے پر حد نافذ ہوگی۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: «ومن سرق منه شيئا بعد أن يؤويه الجرين فبلغ ثمن المجن فعليه القطع ومن سرق دون ذلك فعليه غرامة مثليه والعقوبة» [سنن ابی داؤد: 4390]
اور جس نے پھل کو کھلیان میں محفوظ کر دینے کے بعد چرایا اور اس کی قیمت ایک ڈھال کو پہنچے تو اس پر چور کا ہاتھ کاٹنا ہے اور جو کوئی اس سے کم چرائے تو اس پر چوری شدہ کا دو گنا جرمانہ اور سزا ہے۔
حوالہ حدیث السنن المأثورة / باب الحدود / حدیث: 535
تخریج حدیث سنن ترمذی، الحدود، باب ماجاء لا قطع فی ثمر ولا کثر، رقم: 1449، وقال البانی : صحیح سنن ابن ماجہ، الحدود، باب لا یقطع فی ثمر ولا کثر، رقم: 2593
حدیث نمبر: 536
عَنْ سُفْيَانَ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ ، عَنْ عَائِشَةَ ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " كُلُّ شَرَابٍ أَسْكَرَ فَهُوَ حَرَامٌ " .
نوید مجید طیب
ام المومنین سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: ”ہر پینے والی چیز جو نشہ پیدا کر دے حرام ہے۔“
حوالہ حدیث السنن المأثورة / باب الحدود / حدیث: 536
تخریج حدیث صحیح بخاری، الوضوء، باب لا یجوز الوضوء بالنبیذ ولا المسکر، رقم: 242، صحیح مسلم، الأشربة، باب بیان ان کل مسکر خمر ...... الخ، رقم: 2001
حدیث نمبر: 537
عَنْ مَالِكٍ ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ يَعْنِي ابْنَ عَبْدِ الرَّحْمَنِ عَنْ عَائِشَةَ ، أَنَّهَا قَالَتْ : سُئِلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنِ الْبِتْعِ ، فَقَالَ : " كُلُّ شَرَابٍ أَسْكَرَ فَهُوَ حَرَامٌ " .
نوید مجید طیب
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ سے البتع (ایک مشروب جو شہد سے تیار ہوتا) سے متعلق سوال کیا گیا تو آپ ﷺ نے فرمایا: ”ہر پینے والی چیز جو نشہ دلا دے حرام ہے۔“
وضاحت:
➊ بتع یمن کا مشہور مشروب تھا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا مقصد یہ تھا کہ اگر نشہ آور ہو جائے تو حرام ہوگا اگر نشہ آور نہ ہو تو جائز ہے۔
➋ بعض مشروب زیادہ دن خاص برتن میں پڑے رہیں تو خراب ہو کر نشہ آور ہو جاتے ہیں۔ ➌ اگر نبیذ پڑی رہے تو نشہ آور ہو جاتی ہے اسی طرح دو مختلف اجناس اکٹھی بھگو لی جائیں تو نشہ پیدا کر دیتی ہیں۔ لہذا ایسا ہر وہ مشروب جس میں نشہ پیدا ہو جائے وہ پینا حرام ہے وہ کسی بھی جنس سے تیار شدہ ہے۔
حوالہ حدیث السنن المأثورة / باب الحدود / حدیث: 537
تخریج حدیث صحیح بخاری، الاشربة، باب الخمر من العسل، رقم: 5585، صحیح مسلم: الاشربة، باب بیان ان کل سکر خمر۔ الخ، رقم: 2001
حدیث نمبر: 538
أَنْبَأَنَا مَالِكُ بْنُ أَنَسٍ ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ الْمَكِّيِّ ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، أَنَّهُ قَالَ : " نَحَرْنَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَامَ الْحُدَيْبِيَةِ الْبَدَنَةَ عَنْ سَبْعَةٍ ، وَالْبَقَرَةَ عَنْ سَبْعَةٍ " .
نوید مجید طیب
(اس حدیث کا اردو ترجمہ پی ڈی ایف نسخے میں دستیاب نہیں)
حوالہ حدیث السنن المأثورة / باب الحدود / حدیث: 538
حدیث نمبر: 539
عَنْ سُفْيَانَ بْنِ عُيَيْنَةَ ، عَنِ أَبِي إِسْحَاقَ ، عَنْ مَعْبَدِ بْنِ كَعْبٍ ، عَنْ أُمِّهِ وَكَانَتْ ، قَدْ صَلَّتِ الْقِبْلَتَيْنِ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " نَهَى عَنِ الْخَلِيطَيْنِ " .
نوید مجید طیب
معبد بن کعب رحمہ اللہ اپنی والدہ رضی اللہ عنہا سے بیان کرتے ہیں ان کی والدہ نے دونوں قبلوں کی طرف نماز پڑھی۔ وہ فرماتی ہیں رسول اللہ ﷺ نے دو پھلوں کی مشترکہ نبیذ بنانے سے منع فرمایا ہے۔
وضاحت:
➊ منع کرنے کی علت یہ ہے کہ دو پھلوں کی مشترکہ نبیذ ایک دوسرے کو قوی کر دیتی ہے جو باعث نشہ ہے جیسے منقیٰ اور کھجور یا تازہ کھجور اور خشک کھجور اس طرح کدو کے برتن، مٹکے، تارکول لگے ہوئے برتن، کھجور کی جڑ سے بنانے گئے برتن میں نبیذ بنانا بھی اسی علت کے باعث منع ہے۔
حوالہ حدیث السنن المأثورة / باب الحدود / حدیث: 539
تخریج حدیث مسند الحمیدی، رقم: 356، المعجم الکبیر للطبرانی: 147/25، مسند احمد: 335/39، رقم: 23932 وقال الارنوؤط : صحیح لغیر وھذا اسناد حسن.
حدیث نمبر: 540
عَنْ مَالِكِ بْنِ أَنَسٍ ، عَنْ نَافِعٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ خَطَبَ النَّاسَ فِي بَعْضِ مَغَازِيهِ ، فَقَالَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ : فَأَقْبَلْتُ نَحْوَهُ فَانْصَرَفَ قَبْلَ أَنْ أَبْلُغَهُ ، فَسَأَلْتُ : مَاذَا قَالَ ؟ قَالُوا : " نَهَى أَنْ يُنْتَبَذَ فِي الدُّبَّاءِ وَالْمُزَفَّتِ " .
نوید مجید طیب
سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے رسول اللہ ﷺ نے ایک غزوہ میں لوگوں سے خطاب کیا تو عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں میں بھی سننے کے لیے گیا لیکن میرے پہنچنے سے پہلے ہی خطبہ ختم ہو گیا تھا میں نے لوگوں سے پوچھا رسول اللہ ﷺ نے کیا ارشاد فرمایا؟ تو انہوں نے کہا کہ آپ ﷺ نے کدو کے بنے ہوئے اور روغن زفت ملے ہوئے برتنوں میں نبیذ بنانے سے منع فرمایا ہے۔
حوالہ حدیث السنن المأثورة / باب الحدود / حدیث: 540
تخریج حدیث صحیح مسلم، الاشربة، باب النھی عن الانتباذ فی المزفت والدباء الخ، رقم: 1997
حدیث نمبر: 541
عَنْ مَالِكٍ ، عَنِ الْعَلاءِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، " أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَهَى أَنْ يُنْتَبَذَ فِي الدُّبَّاءِ وَالْمُزَفَّتِ " .
نوید مجید طیب
سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے رسول اللہ ﷺ نے کدو اور مزفت سبز روغنی گھڑے میں نبیذ بنانے سے منع فرمایا۔
حوالہ حدیث السنن المأثورة / باب الحدود / حدیث: 541
تخریج حدیث مسند احمد: 390/16، رقم: 10667 وقال الارنوؤط : اسنادہ صحیح علی شرط مسلم.
حدیث نمبر: 542
عَنْ سُفْيَانَ بْنِ عُيَيْنَةَ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، سَمِعَ أَنَسَ بْنَ مَالِكٍ ، يَقُولُ : " نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ يُنْتَبَذَ فِي الدُّبَّاءِ وَالْمُزَفَّتِ " . وَرُبَّمَا قَالَ سُفْيَانُ : عَنِ الدُّبَّاءِ وَالْمُزَفَّتِ أَنْ يُنْتَبَذَ فِيهِ .
نوید مجید طیب
سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے رسول اللہ ﷺ نے کدو اور مزفت کے برتن میں نبیذ بنانے سے منع فرمایا ہے۔
حوالہ حدیث السنن المأثورة / باب الحدود / حدیث: 542
تخریج حدیث صحیح بخاری، الاشربة، باب الخمر من العسل، رقم: 5587، صحیح مسلم، الاشربة، باب النھی عن الانتباذ فی المزفت ...... الخ، رقم: 1992
حدیث نمبر: 543
عَنْ سُفْيَانَ بْنِ عُيَيْنَةَ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " لا تَنْتَبِذُوا فِي الدُّبَّاءِ وَالْمُزَفَّتِ " .
نوید مجید طیب
سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: ”کدو اور مزفت کے برتن میں نبیذ نہ بناؤ۔“
وضاحت:
➊ ان برتنوں میں جلد چیز خراب ہو کر نشہ آور ہو جاتی ہے اس لیے اس سے منع فرمایا، بعض کی رائے ہے کہ ان برتنوں میں شراب بنائی جاتی تھی اس لیے ان برتنوں سے منع کیا تا کہ شراب کا خیال تک نہ آئے اب یہ ممانعت منسوخ ہو چکی ہے کیونکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: «نهيتكم عن النبيذ إلا فى سقاء، فاشربوا فى الأسقية كلها، ولا تشربوا مسكرا» [مسلم: 977]
میں نے تمہیں چمڑے کے برتنوں کے علاوہ تمام چیزوں میں نبیذ سے منع کیا تھا، اب تم نشہ آور چیز کے علاوہ ہر برتن میں پی سکتے ہو۔
حوالہ حدیث السنن المأثورة / باب الحدود / حدیث: 543
تخریج حدیث صحیح مسلم، الاشربة، باب النھی عن الانتباذ فی المزفت والبداء الخ، رقم: 1993
حدیث نمبر: 544
عَنْ سُفْيَانَ بْنِ عُيَيْنَةَ ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ ، عَنِ ابْنِ أَبِي أَوْفَى ، قَالَ : " نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ نَبِيذِ الْجَرِّ الأَخْضَرِ ، وَالأَبْيَضِ ، وَالأَحْمَرِ " .
نوید مجید طیب
سیدنا عبداللہ بن ابی اوفی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے رسول اللہ ﷺ نے سبز، سفید اور سرخ مٹکے میں نبیذ بنانے سے منع فرمایا ہے۔
وضاحت:
یہ برتن شراب کے لیے استعمال ہوتے تھے اس لیے ان سے وقتی طور پر منع کر دیا۔ سفید مٹکے کے الفاظ سنن نسائی حدیث نمبر 5625 کے مطابق مدرج ہیں اور صحیح البخاری حدیث نمبر 5596 کے مطابق سبز گھڑے کا ہی ذکر ہے۔
حوالہ حدیث السنن المأثورة / باب الحدود / حدیث: 544
تخریج حدیث صحیح بخاری، الاشربة، باب ترخیص النبی صلی اللہ علیہ وسلم فی الاوعیة والظروف بعد النھی، رقم: 5596
حدیث نمبر: 545
عَنْ سُفْيَانَ بْنِ عُيَيْنَةَ ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ ، عَنْ جَابِرٍ ، " أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يُنْبَذُ لَهُ فِي سِقَاءٍ ، فَإِنْ لَمْ يَكُنْ فَتَوْرٌ مِنْ حِجَارَةٍ " .
نوید مجید طیب
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے رسول اللہ ﷺ کے لیے نبیذ مشکیزے میں بنائی جاتی تھی اگر وہ نہ ہو تو پھر پتھر کے برتن (لنگری وغیرہ) میں۔
حوالہ حدیث السنن المأثورة / باب الحدود / حدیث: 545
تخریج حدیث سنن ابی داؤد، الاشربة، باب فی الاوعیة، رقم: 3702، وقال البانی : صحیح ، سنن نسائی، الاشربة، باب ذکر ما کان نبیذ للنبی صلی اللہ علیہ وسلم فیہ، رقم: 5613
حدیث نمبر: 546
عَنْ سُفْيَانَ بْنِ عُيَيْنَةَ ، عَنْ سُلَيْمَانَ الأَحْوَلِ ، عَنْ مُجَاهِدٍ ، عَنْ أَبِي عِيَاضٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرِو بْنِ الْعَاصِ ، قَالَ : لَمَّا " نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنِ الأَوْعِيَةِ " قِيلَ لَهُ : لَيْسَ لِكُلِّ النَّاسِ سِقَاءٌ ، " فَأَذِنَ لَهُمْ فِي الْجَرِّ غَيْرَ الْمُزَفَّتِ " .
نوید مجید طیب
سیدنا عبداللہ بن عمرو بن العاص رضی اللہ عنہ سے روایت ہے رسول اللہ ﷺ نے جب (خاص) برتنوں سے منع فرمایا تو آپ ﷺ سے عرض کی گئی کہ ہر آدمی کے پاس مشکیزہ نہیں ہے تو رسول اللہ ﷺ نے تارکول کے برتن کے علاوہ دیگر برتنوں کے استعمال کی اجازت بخشی۔
حوالہ حدیث السنن المأثورة / باب الحدود / حدیث: 546
تخریج حدیث صحیح بخاری، الاشربة، باب ترخیص النبی صلی اللہ علیہ وسلم فی الاوعیة والظروف بعد النھی، رقم: 5593، صحیح مسلم، الاشربة، باب النھی عن الانتباذ ....... الخ، رقم : 2000
حدیث نمبر: 547
أَنْبَأَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ سُوَيْدٍ ، عَنْ مُعَاذَةَ ، عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا ، قَالَتْ : " نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنِ الدُّبَّاءِ وَالْحَنْتَمِ وَالنَّقِيرِ وَالْمُزَفَّتِ " .
نوید مجید طیب
ام المومنین سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے خشک کدو کے برتن سبز مٹکے، کھجوری جڑ سے بنائے گئے برتن اور تارکول لگے برتن سے منع فرمایا۔
حوالہ حدیث السنن المأثورة / باب الحدود / حدیث: 547
تخریج حدیث صحیح مسلم، الاشربة، باب النهي عن الانتباذ في المزفت ....... الخ، رقم: 1995۔
حدیث نمبر: 548
عَنْ سُفْيَانَ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ ، " أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَهَى عَنِ اخْتِنَاثِ الأَسْقِيَةِ .
نوید مجید طیب
سیدنا ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے مشکیزے سے منہ لگا کر پینے سے منع فرمایا۔
حوالہ حدیث السنن المأثورة / باب الحدود / حدیث: 548
تخریج حدیث صحیح مسلم، الاشربة، باب آداب الطعام والشراب وأحكامهما، رقم: 2023۔
حدیث نمبر: 549
عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْمَاعِيلَ ، عَنِ ابْنِ أَبِي ذِئْبٍ ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُتْبَةَ ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ ، " أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَهَى عَنِ اخْتِنَاثِ الأَسْقِيَةِ أَنْ تُكْسَرَ فَيُشْرَبَ مِنْ أَفْوَاهِهَا " .
نوید مجید طیب
سیدنا ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے بے شک رسول اللہ ﷺ نے مشکیزے سے منہ لگا کر پینے سے منع فرمایا۔
وضاحت:
➊ ابو جعفر رحمہ اللہ کہتے ہیں مذکورہ الفاظ حدیث میری کتاب میں ہیں جبکہ امام مزنی رحمہ اللہ سے جو میں نے حفظ کیا اس کے الفاظ اس طرح ہیں کہ مشکیزے کے اختناث سے منع فرمایا کہ اسے الٹا کر اس کے منہ سے پیا جائے۔ مسند ابی بکر بن ابی شیبہ رحمہ اللہ کے مطابق ایک آدمی نے مشکیزے سے منہ لگا کر پیا مشکیزے میں سانپ کا بچہ تھا جو اس کے پیٹ میں چلا گیا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے منع فرما دیا۔
➋ اس کی دیگر حکمتیں بھی ہو سکتی ہیں آدمی کا سانس برتن میں چلا جاتا ہے پھر پینے میں بھی دشواری ہوتی ہے، دوسرا آدمی اسی سے پینے میں دلی طور پر کراہت محسوس کرتا ہے، اس لیے تہذیب کا تقاضا یہی ہے کہ گلاس میں ڈال کر پیا جائے جن احادیث میں جواز ہے فتح الباری کے مطابق وہ جواز اس حدیث سے منسوخ متصور ہوگا۔ «والله اعلم»
حوالہ حدیث السنن المأثورة / باب الحدود / حدیث: 549
تخریج حدیث صحیح بخاری، الاشربة، باب اختناث الاسقية، رقم: 5625؛ صحیح مسلم، الاشربة، باب آداب الطعام والشراب وأحكامهما، رقم: 2023۔