کتب حدیثالسنن المأثورةابوابباب: مالک کا اپنے کھانے سے خادم کو کھلانے کا بیان
حدیث نمبر: 518
عَنْ سُفْيَانَ بْنِ عُيَيْنَةَ ، عَنْ أَبِي الزِّنَادِ ، عَنِ الأَعْرَجِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " إِذَا كَفَى أَحَدَكُمْ خَادِمُهُ طَعَامَهُ حَرَّهُ وَدُخَانَهُ فَلْيُجْلِسْهُ فَلْيَأْكُلْ مَعَهُ ، فَإِنْ أَبَى فَلْيَأْخُذْ لُقْمَةً فَلْيُرَوِّغْهَا ثُمَّ لِيُطْعِمْهُ إِيَّاهَا " ، وَرُبَّمَا قَالَ : " أَوْ لِيُرَوِّغْ " ، وَلَمْ يَذْكُرْ إِيَّاهُ .
نوید مجید طیب
سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جب تم میں سے کسی کا خادم تمہارے کھانے کی گرمی اور دھواں برداشت کرے تو اسے ساتھ بیٹھا کر کھلاؤ اگر انکار کرے تو ایک لقمہ لے کر اسے متاثر کرے پھر اسے وہ کھلا دے۔“
حوالہ حدیث السنن المأثورة / باب إطعام الخادم مما يأكل منه مالكه / حدیث: 518
تخریج حدیث صحیح بخاری، الأطعمة، باب الأكل مع الخادم، رقم: 5460، صحیح مسلم، الایمان، باب اطعام المملوك مما يأكل ...... الخ، رقم: 1663
حدیث نمبر: 519
عَنْ سُفْيَانَ بْنِ عُيَيْنَةَ ، حَدَّثَنَا ابْنُ عَجْلانَ ، عَنْ بُكَيْرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الأَشَجِّ ، عَنْ عَجْلانَ أَبِي مُحَمَّدٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " لِلْمَمْلُوكِ طَعَامُهُ وَكِسْوَتُهُ ، وَلا يُكَلَّفُ مِنَ الْعَمَلِ إِلا مَا يُطِيقُ " .
نوید مجید طیب
سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”غلام کو کھانا اور کپڑے مہیا کیے جائیں اور اس کی طاقت سے زیادہ اس سے کام نہ لیا جائے۔“
حوالہ حدیث السنن المأثورة / باب إطعام الخادم مما يأكل منه مالكه / حدیث: 519
تخریج حدیث صحیح مسلم، الايمان باب اطعام المملوك مما يأكل والباسه مما يلبس، رقم: 1662
حدیث نمبر: 520
حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَجْلانَ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ أَبِي سَعِيدٍ الْمَقْبُرِيِّ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ : جَاءَ رَجُلٌ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَقَالَ : يَا رَسُولَ اللَّهِ عِنْدِي دِينَارٌ ؟ قَالَ : " أَنْفِقْهُ عَلَى نَفْسِكَ " قَالَ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، عِنْدِي آخَرُ ؟ قَالَ : " أَنْفِقْهُ عَلَى وَلَدِكَ " قَالَ : عِنْدِي آخَرُ ؟ قَالَ : " أَنْفِقْهُ عَلَى أَهْلِكَ " قَالَ : عِنْدِي آخَرُ ؟ قَالَ : " أَنْفِقْهُ عَلَى خَادِمِكَ " قَالَ : عِنْدِي آخَرُ ؟ قَالَ : " أَنْتَ أَعْلَمُ " . قَالَ سَعِيدٌ : ثُمَّ يَقُولُ أَبُو هُرَيْرَةَ إِذَا حَدَّثَ بِهَذَا الْحَدِيثِ يَقُولُ وَلَدُكَ : أَنْفِقْ عَلَيَّ إِلَى مَنْ تَكِلُنِي ، تَقُولُ زَوْجَتُكَ : أَنْفِقْ عَلَيَّ أَوْ طَلِّقْنِي ، يَقُولُ خَادِمُكَ : أَنْفِقْ عَلَيَّ أَوْ بِعْنِي .
نوید مجید طیب
سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے ایک آدمی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا اور کہنے لگا میرے پاس ایک دینار ہے تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اپنے اوپر خرچ کر“ تو وہ کہنے لگا اے اللہ کے رسول ! ایک اور بھی ہے؟ تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اپنی اولاد پر خرچ کر“ کہنے لگا ایک اور بھی ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اپنی بیوی پر خرچ کر“ کہنے لگا ایک اور بھی ہے؟ تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اپنے غلام پر خرچ کر“ کہنے لگا ایک اور بھی ہے؟ تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تو اس کے بارے میں (پھر) بہتر جاننا ہے۔“
وضاحت:
➊ اسلام حسن سلوک کا حکم دیتا ہے غلام یا ملازم کو حقیر ذلیل نہیں سمجھنا چاہیے، اپنے کھانے میں سے کچھ اُن کو بھی دینے سے مالک کی عزت بڑھتی ہے۔
➋ ملازم تحفہ سے مانوس ہو کر مالک کا مال چوری نہیں کرتے، پسے ہوئے طبقے کے جذبات کا اسلام خیال رکھتا ہے۔
➌ انسان کی آمدن میں سے اس کی جان کا سب سے پہلا حق ہے بعد ازاں بیوی بچوں اور خدام کا ہے۔
➍ دنیا میں بہت سارے بخیل ایسے ہیں جو زندگی فقیروں جیسی گزار رہے ہیں نہ خود پر خرچ کرتے ہیں نہ اہل وعیال پر لیکن روزِ قیامت ان کو حساب مالداروں جیسا دینا ہو گا۔
حوالہ حدیث السنن المأثورة / باب إطعام الخادم مما يأكل منه مالكه / حدیث: 520
تخریج حدیث سنن ابی داؤد، الزكاة، باب فى صلة الرحم، رقم: 1691، سنن نسائى، الزكاة، باب تفسير ذلك، رقم: 2535 وقال الالبانی: حسن صحيح، مسند الحميدى: 495/2، رقم: 1176
حدیث نمبر: 521
عَنْ مَالِكِ بْنِ أَنَسٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي بَكْرِ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرِو بْنِ حَزْمٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرِو بْنِ عُثْمَانَ ، عَنِ ابْنِ أَبِي عَمْرَةَ الأَنْصَارِيِّ ، عَنْ زَيْدِ بْنِ خَالِدٍ الْجُهَنِيِّ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " أَلا أُخْبِرُكُمْ بِخَيْرِ الشُّهَدَاءِ ؟ الَّذِي يَأْتِي بِالشَّهَادَةِ قَبْلَ أَنْ يُسْأَلَهَا أَوْ يُخْبِرُ بِشَهَادَتِهِ قَبْلَ أَنْ يُسْأَلَهَا " .
نوید مجید طیب
سیدنا زید بن خالد الجھنی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”کیا میں تمہیں بہترین گواہ نہ بتاؤں؟ وہ جو طلب کرنے سے پہلے از خود شہادت دے دے۔“
وضاحت:
➊ امام ابو داؤد رحمہ اللہ بیان کرتے ہیں امام مالک رحمہ اللہ نے فرمایا: اس سے مراد یہ ہے کہ صاحب حق کو علم نہ ہو کہ اس کا گواہ کون ہے، تو اس صورت میں کسی کا بغیر طلبی کے گواہ بننا۔ [سنن ابي داود: 3596] بعض دفعہ وقوعہ کے گواہان نامزد نہیں ہوتے تو ایک آدمی خود اپنی گواہی پیش کرتا ہے ﴿وَلَا تَكْتُمُوا الشَّهَادَةَ﴾ [البقرة: 283] پر عمل کر کے اپنا فریضہ پورا کرتا ہے یقیناً وہ بہترین گواہ ہے جس نے مجبور اور سادہ لوگوں کی مدد کی اور قاضی کے لیے حق و انصاف میں معاون بنا یہ مدح سچے گواہ کی بیان کی گئی ہے۔
➋ جھوٹے گواہ جو بڑھ چڑھ کر گواہیاں دیتے ہیں کہ مدعی ست اور گواہ چست ان کی حدیث میں مذمت بیان کی گئی ہے علامات قیامت میں سے ہے کہ ایسے لوگ آئیں گے جو طلب کیے بغیر گواہی دیں گے اور قسمیں کھائیں گے حالانکہ اُن سے قسم نہیں طلب کی جائے گی۔ [بخاری: 2651]
حوالہ حدیث السنن المأثورة / باب إطعام الخادم مما يأكل منه مالكه / حدیث: 521
تخریج حدیث صحیح مسلم، الأقضية، باب بیان خیر الشھود رقم: 1719