کتب حدیثالسنن المأثورةابوابباب: ایذا اور رکنے پر فدیہ کا بیان
حدیث نمبر: 444
أَنْبَأَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ نَافِعٍ ، عَنْ أُسَامَةَ بْنِ زَيْدٍ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ كَعْبٍ الْقُرَظِيِّ ، عَنْ كَعْبِ بْنِ عُجْرَةَ ، قَالَ : " أَمَرَنِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حِينَ آذَانِي الْقَمْلُ أَنْ أَحْلِقَ رَأْسِي ثُمَّ أَصُومَ ثَلاثَةَ أَيَّامٍ أَوْ أُطْعِمَ سِتَّةَ مَسَاكِينَ وَقَدْ عَلِمَ أَنَّهُ لَيْسَ عِنْدِي مَا أَنْسُكُ بِهِ " .
نوید مجید طیب
سیدنا کعب بن عجرة رضی اللہ عنہ سے روایت ہے رسول اللہ ﷺ نے مجھے حکم دیا (جب جوؤں نے مجھے تکلیف دی) کہ اپنا سر منڈوا دوں پھر تین دن روزے رکھوں یا چھ مساکین کو کھانا کھلاؤں کیونکہ آپ ﷺ کو معلوم ہو گیا تھا کہ میرے پاس قربانی نہیں جسے بطور فدیہ دوں۔
وضاحت:
➊ حاجی پر حالت احرام میں کچھ پابندیاں ہیں مثلاً سر نہیں ڈھانپ سکتا، ناخن بال تراش نہیں سکتا، خوشبو استعمال نہیں کر سکتا ہے لیکن اگر بیماری کے باعث ایسا کچھ کرے تو اس کا فدیہ اداء کرنا ہوتا ہے۔
➋ بعض ایسی پابندیاں ہیں کہ اگر اُن کو توڑے تو فدیہ نہیں آتا بلکہ حج باطل ہو جاتا ہے۔
➌ ارشاد باری تعالیٰ ہے: ﴿وَاَتِمُّوا الْحَجَّ وَ الْعُمْرَةَ لِلّٰهِؕ-فَاِنْ اُحْصِرْتُمْ فَمَا اسْتَیْسَرَ مِنَ الْهَدْیِۚ-وَ لَا تَحْلِقُوْا رُءُوْسَكُمْ حَتّٰى یَبْلُغَ الْهَدْیُ مَحِلَّهٗؕ-فَمَنْ كَانَ مِنْكُمْ مَّرِیْضًا اَوْ بِهٖۤ اَذًى مِّنْ رَّاْسِهٖ فَفِدْیَةٌ مِّنْ صِیَامٍ اَوْ صَدَقَةٍ اَوْ نُسُكٍۚ-فَاِذَاۤ اَمِنْتُمْٙ-فَمَنْ تَمَتَّعَ بِالْعُمْرَةِ اِلَى الْحَجِّ فَمَا اسْتَیْسَرَ مِنَ الْهَدْیِۚ-فَمَنْ لَّمْ یَجِدْ فَصِیَامُ ثَلٰثَةِ اَیَّامٍ فِی الْحَجِّ وَ سَبْعَةٍ اِذَا رَجَعْتُمْؕ-تِلْكَ عَشَرَةٌ كَامِلَةٌؕ ذٰلِكَ لِمَنْ لَّمْ یَكُنْ اَهْلُهٗ حَاضِرِی الْمَسْجِدِ الْحَرَامِؕ وَ اتَّقُوا اللّٰهَ وَ اعْلَمُوْۤا اَنَّ اللّٰهَ شَدِیْدُ الْعِقَابِ۠﴾ [البقرة: 196]
اور تم حج اور عمرہ اللہ کے لیے پورا کرو پھر اگر تمھیں (راستے میں) روک دیا جائے تو قربانی کے لیے جو میسر ہو (وہ قربان کر دو) اور اپنے سر نہ منڈاؤ حتیٰ کہ قربانی اپنے حلال ہونے کی جگہ پہنچ جائے، پھر اگر کوئی شخص بیمار ہو یا اس کے سر میں کوئی تکلیف ہو (اور وہ سرمنڈوا لے) تو فدیے میں روزے رکھے یا صدقہ دے یا قربانی کرے، پھر جب تمھیں امن مل جائے (اور تم حج سے پہلے وہاں پہنچ جاؤ) تو تم میں سے جس نے حج (کے احرام) تک عمرے کا فائدہ اٹھایا وہ (احرام کھول کر) جو میسر ہو قربانی کرے، پھر جو شخص (قربانی) نہ پائے تو وہ تین روزے حج کے دنوں میں رکھے اور سات اس وقت جب تم گھر لوٹ آؤ، یہ پورے دس (روزے) ہیں۔ یہ حکم اس شخص کے لیے ہے جس کے گھر والے مسجد حرام کے پاس نہ رہتے ہوں اور تم اللہ سے ڈرو اور جان لو بے شک اللہ سخت سزا دینے والا ہے۔
➍ سیدنا کعب بن عجرہ رضی اللہ عنہ کو ہر مسکین کو نصف صاع (تقریباً ایک کلو) غلہ دینے کا حکم ہوا تھا۔ [صحیح بخاری: 4517]
حوالہ حدیث السنن المأثورة / باب ما جاء في فدية الأذى / حدیث: 444
تخریج حدیث سنن ابن ماجہ، المناسک، باب فدیہ المحصر، رقم: 3080 وقال الالبانی: حسن
حدیث نمبر: 445
عَنْ مَالِكِ بْنِ أَنَسٍ ، عَنْ عَبْدِ الْكَرِيمِ بْنِ مَالِكٍ الْجَزَرِيِّ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي لَيْلَى ، عَنْ كَعْبِ بْنِ عُجْرَةَ ، أَنَّهُ كَانَ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَأَذَاهُ الْقَمْلُ ، فَأَمَرَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ يَحْلِقَ رَأْسَهُ ، وَقَالَ : " صُمْ ثَلاثَةَ أَيَّامٍ أَوْ أَطْعِمْ سِتَّةَ مَسَاكِينَ مُدَّيْنِ مُدَّيْنِ لِكُلِّ إِنْسَانٍ أَوِ انْسُكْ بِشَاةٍ أَيَّ ذَلِكَ فَعَلْتَ أَجْزَأَ عَنْكَ " . قَالَ الطَّحَاوِيُّ : سَمِعْتُ الْمُزَنِيَّ وَمُحَمَّدَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ يَقُولانِ : قَالَ مُحَمَّدُ بْنُ إِدْرِيسَ الشَّافِعِيُّ رَحِمَهُ اللَّهُ : غَلِطَ مَالِكُ بْنُ أَنَسٍ فِي الْحَدِيثِ ، الْحُفَّاظُ حَفِظُوهُ عَنْ عَبْدِ الْكَرِيمِ ، عَنْ مُجَاهِدٍ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي لَيْلَى , عَنْ كَعْبِ بْنِ عُجْرَةَ . قَالَ أَبُو جَعْفَرٍ : لَمْ يَغْلَطْ مَالِكٌ فِيهِ قَدْ حَدَّثَنَا يُونُسُ أَنْبَأَنَا ابْنُ وَهْبٍ أَنَّ مَالِكًا أَخْبَرَهُ , عَنْ عَبْدِ الْكَرِيمِ بْنِ مَالِكٍ الْجَزَرِيِّ , عَنْ مُجَاهِدٍ , عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي لَيْلَى , عَنْ كَعْبِ بْنِ عُجْرَةَ , عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِثْلَهُ . قَالَ : وَذَلِكَ أَنَّ مَالِكًا لَمْ يَغْلَطْ فِيهِ وَأَنَّ الْغَلَطَ كَانَ مِنْ غَيْرِهِ إِلا أَنْ تَكُونَ الْعَرْضَةُ الَّتِي حَضَرَهَا الشَّافِعِيُّ رَحِمَهُ اللَّهُ لَمْ يَذْكُرْ مَالِكٌ فِيهَا فِي هَذَا الْحَدِيثِ مُجَاهِدًا .
نوید مجید طیب
سیدنا کعب بن عجرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے وہ رسول اللہ ﷺ کے ساتھ تھے تو انہیں سر میں جوؤں نے (بہت) تکلیف دی تو انہیں رسول اللہ ﷺ نے سر منڈوانے کا حکم دیا اور فرمایا: ”تین روزے رکھ یا چھ مساکین کو کھانا کھلا ہر بندے کو دو دو مد یا بکری ذبح کر جو بھی ان میں سے کرے گا تجھے (فدیہ کے لیے) کافی ہو جائے گا۔“
حوالہ حدیث السنن المأثورة / باب ما جاء في فدية الأذى / حدیث: 445
تخریج حدیث سنن ابی داؤد، المناسک، باب فی الفدیہ، رقم: 1861 وقال الالبانی: صحیح، مؤطا امام مالک، الحج، باب فدیہ من حلق قبل أن ینحر، رقم: 237
حدیث نمبر: 446
عَنْ مَالِكِ بْنِ أَنَسٍ ، عَنْ حُمَيْدِ بْنِ قَيْسٍ ، عَنْ مُجَاهِدٍ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي لَيْلَى ، عَنْ كَعْبِ بْنِ عُجْرَةَ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ لَهُ : " لَعَلَّكَ آذَاكَ هَوَامُّكَ ؟ " قَالَ : فَقُلْتُ : نَعَمْ ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " احْلِقْ رَأْسَكَ وَصُمْ ثَلاثَةَ أَيَّامٍ أَوْ أَطْعِمْ سِتَّةَ مَسَاكِينَ أَوِ انْسُكْ شَاةً " . حَدَّثَنَا أَبُو جَعْفَرٍ قَالَ : حَدَّثَنَا مُحَمَّدٌ ، قَالَ : حَدَّثَنَا أَشْهَبُ , عَنْ مَالِكٍ ، وَذَكَرَ مِثْلَهُ بِإِسْنَادِهِ .
نوید مجید طیب
سیدنا کعب بن عجرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے رسول اللہ ﷺ نے مجھے فرمایا: ”شاید تجھے جوؤں سے تکلیف ہے؟“ میں نے کہا: جی ہاں تو آپ ﷺ نے فرمایا: ”سر منڈوا لیں اور تین دن کے روزے رکھیں یا چھ مساکین کو کھانا کھلائیں یا بکری ذبح کریں۔“
وضاحت:
یہی روایت ایک دوسری سند سے اس طرح ہے ابو جعفر رحمہ اللہ کہتے ہیں «حدثنا محمد اخبرنا اشھب عن مالک» متن ایک جیسا ہے۔
حوالہ حدیث السنن المأثورة / باب ما جاء في فدية الأذى / حدیث: 446
تخریج حدیث صحیح بخاری، المحصر، باب قول اللہ تعالیٰ : فَمَنْ كَانَ مِنْكُمْ مَرِيضًا الخ، رقم: 1814، صحیح مسلم، الحج، باب جواز حلق الرأس للمحرم أو به اذى ....... الخ، رقم: 1201
حدیث نمبر: 447
عَنْ سُفْيَانَ بْنِ عُيَيْنَةَ ، عَنِ ابْنِ أَبِي نَجِيحٍ ، عَنْ مُجَاهِدٍ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي لَيْلَى ، عَنْ كَعْبِ بْنِ عُجْرَةَ ، قَالَ : مَرَّ بِيَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِالْحُدَيْبِيَةِ وَأَنَا أُوقِدُ مِنْ تَحْتِ قِدْرٍ وَالْقَمْلُ يَتَهَافَتُ مِنْ رَأْسِي ، فَقَالَ : " يَا كَعْبُ أَتُؤْذِيكَ هَوَامُّكَ ؟ " قَالَ : " فَاحْلِقْ رَأْسَكَ وَاذْبَحْ شَاةً أَوْ صُمْ ثَلاثَةَ أَيَّامٍ أَوْ أَطْعِمْ فَرَقًا بَيْنَ سِتَّةِ مَسَاكِينَ " . قَالَ أَبُو جَعْفَرٍ : سَمِعْتُ الرَّبِيعَ بْنَ سُلَيْمَانَ يَقُولُ : سَمِعْتُ الشَّافِعِيَّ رَحِمَهُ اللَّهُ يَقُولُ : الْحُدَيْبِيَةُ بِالتَّخْفِيفِ .
نوید مجید طیب
سیدنا کعب بن عجرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں رسول اللہ ﷺ میرے پاس سے مقام حدیبیہ میں گزرے جب میں ہانڈی کے نیچے آگ جلا رہا تھا اور جوئیں میرے سر سے برابر گر رہی تھیں، آپ ﷺ نے فرمایا: ”اے کعب! کیا تجھے جوؤں نے تکلیف دی ہے؟“ پھر آپ ﷺ نے فرمایا: ”اپنا سر منڈوا دو اور (بطور فدیہ) بکری ذبح کر دو یا تین روزے رکھ لو یا ایک فرق غلہ چھ مساکین کو کھلا دے۔“
حوالہ حدیث السنن المأثورة / باب ما جاء في فدية الأذى / حدیث: 447
تخریج حدیث صحیح بخاری، المرضی، باب قول المريض انى وجع ...... الخ، رقم: 5665، صحیح مسلم، الحج، باب جواز حلق الرأس للمحرم اذا كان به اذی، رقم: 1201
حدیث نمبر: 448
أَنْبَأَنَا عَبْدُ الْوَهَّابِ بْنُ عَبْدِ الْمَجِيدِ الثَّقَفِيُّ ، عَنْ خَالِدٍ الْحَذَّاءِ ، عَنْ أَبِي قِلابَةَ ، عَنِ ابْنِ أَبِي لَيْلَى ، عَنْ كَعْبِ بْنِ عُجْرَةَ ، قَالَ : أَتَى النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَيَّ زَمَنَ الْحُدَيْبِيَةِ وَأَنَا كَثِيرُ الشَّعْرِ ، فَقَالَ : " كَأَنَّ هَوَامُّ رَأْسِكَ تُؤْذِيكَ ؟ " قَالَ : قُلْتُ : أَجَلْ . قَالَ : " فَاحْلِقْهُ وَاذْبَحْ شَاةً نَسِيكَةً أَوْ صُمْ ثَلاثَةَ أَيَّامٍ أَوْ تَصَدَّقْ بِثَلاثَةِ آصُعِ تَمْرٍ بَيْنَ سِتَّةِ مَسَاكِينَ " .
نوید مجید طیب
سیدنا کعب بن عجرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے نبی اکرم ﷺ حدیبیہ میں میرے پاس آئے، میرے بال بہت زیادہ تھے، فرمایا: ”لگتا ہے تجھے جوؤں نے بہت تکلیف دی ہے؟“ کہتے ہیں میں نے کہا ہاں ایسے ہی ہے تو آپ ﷺ نے فرمایا : ”سر منڈوا لیں اور بکری فدیہ کے طور پر ذبح کر لو یا تین دن کے روزے رکھ لو یا تین صاع کھجور چھ مساکین میں صدقہ کر دو۔“
حوالہ حدیث السنن المأثورة / باب ما جاء في فدية الأذى / حدیث: 448
تخریج حدیث سنن ابی داؤد، المناسک، باب فی الفدیہ، رقم: 1856 وقال الالبانی: صحیح
حدیث نمبر: 449
عَنْ سُفْيَانَ بْنِ عُيَيْنَةَ ، عَنْ عَبْدِ الْكَرِيمِ الْجَزَرِيِّ ، عَنْ مُجَاهِدٍ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي لَيْلَى ، عَنْ كَعْبِ بْنِ عُجْرَةَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِثْلَ حَدِيثِ مَالِكٍ , عَنْ عَبْدِ الْكَرِيمِ الْجَزَرِيِّ .
نوید مجید طیب
شافعی عن سفیان بن عیینہ عن عبدالکریم جزری عن مجاہد عن عبدالرحمن بن ابی لیلی عن کعب بن عجرہ عن النبی صلی اللہ علیہ وسلم کی سند سے مالک عن عبدالکریم والی حدیث کی طرح آئی ہے۔
وضاحت:
➊ تمام بالا احادیث میں حالت احرام میں سرمنڈانے کا فدیہ بیان ہوا ہے کہ مذکورہ کاموں میں سے جو دل چاہے اداء کر دے تین دن روزے، یہ نہیں کرنا تو چھ مساکین کو دو دو مد کھانا کھلا دو عموماً پیٹ اس مقدار سے بھر جاتا ہے یا پھر کوئی جانور جو میسر ہو جیسا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: «انسك بما تيسر» [صحيح بخاي: 1815]
ذبح کر کے فدیہ دیا جا سکتا ہے۔
➋ یہ حدیبیہ کا واقعہ ہے سب صحابہ رضی اللہ عنہم کا ارادہ عمرے کا تھا اور وہ احرام میں تھے۔
حوالہ حدیث السنن المأثورة / باب ما جاء في فدية الأذى / حدیث: 449
تخریج حدیث صحیح بخاری، المحصر، باب قول اللہ تعالیٰ "أو صدقة" وهى اطعام ستة مساكين، رقم: 1815، صحیح مسلم، الحج، باب جواز حلق الرأس للمحرم ...... الخ، رقم: 1201
حدیث نمبر: 450
عَنْ إِبْرَاهِيمَ بْنِ سَعْدٍ ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ ، عَنْ عُرْوَةَ بْنِ الزُّبَيْرِ ، عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا زَوْجِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَتْ : أَهْلَلْتُ مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي حَجَّةِ الْوَدَاعِ فَكُنْتُ مِمَّنْ تَمَتَّعَ بِعُمْرَةٍ وَلَمْ يَسُقِ الْهَدْيَ ، فَزَعَمَتْ أَنَّهَا حَاضَتْ وَلَمْ تَطْهُرْ حَتَّى دَخَلَتْ لَيْلَةَ عَرَفَةَ ، قَالَتْ : فَقُلْتُ : يَا رَسُولَ اللَّهِ هَذَا يَوْمُ عَرَفَةَ وَلَمْ أَطْهُرْ بَعْدُ وَإِنَّمَا كُنْتُ تَمَتَّعْتُ بِالْعُمْرَةِ ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " انْقُضِي رَأْسَكِ وَامْتَشِطِي وَأَهِلِّي بِالْحَجِّ وَانْسُكِي عَنْ عُمْرَتِكِ " ، فَفَعَلْتُ فَلَمَّا قَضَيْنَا الْحَجَّ وَنَفَرَ النَّاسُ أَمَرَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَبْدَ الرَّحْمَنِ بْنَ أَبِي بَكْرٍ فَأَعْمَرَنِي مِنَ التَّنْعِيمِ مَكَانَ عُمْرَتِي الَّتِي نَسَكْتُ عَنْهَا .
نوید مجید طیب
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا زوجہ نبی ﷺ سے روایت ہے میں نے نبی ﷺ کے ساتھ حجۃ الوداع کیا میں تمتع کرنے والوں میں سے تھی قربانی کا جانور ساتھ نہیں لے کر گئی تھی، کہتی ہیں میں حائضہ ہوگئی اور لیلتہ عرفہ تک حائضہ ہی رہی (یعنی حج سے پہلے عمرہ نہ کر سکی) تو میں نے کہا: اے اللہ کے رسول! یہ عرفہ کا دن ہے اور ابھی تک میں پاک نہیں ہوئی میں عمرہ کی نیت کر چکی تھی تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : ”سر کھول دے کنگی کر (یعنی غسل کر کے کنگی کر حج کا ارادہ کر لے) حج کے اعمال شروع کر لے عمرہ چھوڑ دے۔“ تو میں نے ایسا ہی کیا جب میں نے حج پورا کر لیا لوگ چلے گئے، تو رسول اللہ ﷺ نے عبد الرحمن بن ابوبکر رضی اللہ عنہ کو حکم دیا کہ مجھے تنعیم سے عمرہ کر لائے جس عمرے کی میں نے پہلے نیت کی تھی۔
حوالہ حدیث السنن المأثورة / باب ما جاء في فدية الأذى / حدیث: 450
تخریج حدیث صحیح بخاری، الحیض، باب انشاط المرأۃ عند غسلہا من المحیض، رقم: 316، صحیح مسلم، الحج، باب بیان وجوہ الاحرام ..... الخ، رقم: 1211
حدیث نمبر: 451
عَنْ سُفْيَانَ بْنِ عُيَيْنَةَ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْقَاسِمِ ، قَالَ : أَخْبَرَنِي أَبِي ، عَنْ عَائِشَةَ ، أَنَّهَا قَالَتْ : خَرَجْنَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي حَجَّتِهِ لا نَرَى إِلا الْحَجَّ ، حَتَّى إِذَا كُنَّا بِسَرِفٍ أَوْ قَرِيبٍ مِنْهَا حِضْتُ ، فَدَخَلَ عَلَيَّ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَنَا أَبْكِي ، فَقَالَ : " مَا لَكَ أَنَفِسْتِ ؟ " فَقُلْتُ : نَعَمْ ، فَقَالَ : " إِنَّ هَذَا أَمْرٌ كَتَبَهُ اللَّهُ عَلَى بَنَاتِ آدَمَ فَاقْضِي مَا يَقْضِي الْحَاجُّ غَيْرَ أَلا تَطُوفِي بِالْبَيْتِ " ، قَالَتْ : وَضَحَّى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ نِسَائِهِ بِالْبَقَرِ .
نوید مجید طیب
ام المومنین سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے ہم رسول اللہ ﷺ کے ساتھ حج کے ارادے سے نکلے حتی کہ مقام سرف کے قرب و جوار پہنچے تو میں حائضہ ہو گئی، رسول اللہ ﷺ میرے پاس آئے میں رو رہی تھی تو آپ ﷺ نے فرمایا: ”کیا بات ہے حیض آگیا ہے؟“ میں نے کہا: ہاں تو آپ ﷺ نے فرمایا: ”یہ معاملہ اللہ تعالیٰ نے بنات آدم پر لکھا ہے (تمہارا اس میں کیا اختیار تھا) تو بیت اللہ کے طواف کے علاوہ تمام حجاج والے کام کر“ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں رسول اللہ ﷺ نے اپنی بیویوں کی طرف سے گائے کی قربانی کی۔
حوالہ حدیث السنن المأثورة / باب ما جاء في فدية الأذى / حدیث: 451
تخریج حدیث صحیح بخاری، الحیض، باب کیف کان بدء الحیض، رقم: 294، صحیح مسلم، الحج، باب بیان وجوہ الاحرام ..... الخ، رقم: 1211
حدیث نمبر: 452
عَنْ سُفْيَانَ بْنِ عُيَيْنَةَ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ دِينَارٍ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ أَوْسٍ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي بَكْرٍ ، " أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَمَرَهُ أَنْ يُرْدِفَ عَائِشَةَ فُيُعْمِرَهَا مِنَ التَّنْعِيمِ " .
نوید مجید طیب
سیدنا عبدالرحمن بن ابی بکر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے نبی اکرم ﷺ نے ان کو حکم فرمایا کہ (اپنی بہن) عائشہ رضی اللہ عنہا کو سواری پر بٹھا کر تنعیم لے جائیں عمرہ کرا لائیں۔
حوالہ حدیث السنن المأثورة / باب ما جاء في فدية الأذى / حدیث: 452
تخریج حدیث صحیح بخاری، العمرہ، باب عمرة التنعیم، رقم: 934، صحیح مسلم، الحج، باب بیان وجوہ الاحرام، رقم: 1212
حدیث نمبر: 453
عَنْ مَالِكِ بْنِ أَنَسٍ ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ ، عَنْ عُرْوَةَ بْنِ الزُّبَيْرِ ، عَنْ عَائِشَةَ ، أَنَّهَا قَالَتْ : خَرَجْنَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَامَ حَجَّةِ الْوَدَاعِ فَأَهْلَلْنَا بِعُمْرَةٍ ، ثُمَّ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " مَنْ كَانَ مَعَهُ هَدْيٌ فَلْيُهْلِلْ بِالْحَجِّ مَعَ الْعُمْرَةِ ثُمَّ لا يَحِلَّ حَتَّى يَحِلَّ مِنْهُمَا جَمِيعًا " ، قَالَتْ : وَقَدِمْتُ مَكَّةَ وَأَنَا حَائِضٌ لَمْ أَطُفْ بِالْبَيْتِ وَلا بَيْنَ الصَّفَا وَالْمَرْوَةِ ، فَشَكَوْتُ ذَلِكَ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَقَالَ : " انْقُضِي رَأْسَكَ وَامْتَشِطِي وَأَهِلِّي بِالْحَجِّ وَدَعِي الْعُمْرَةَ " ، قَالَتْ : فَفَعَلْتُ فَلَمَّا قَضَيْتُ الْحَجَّ أَرْسَلَنِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَعَ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي بَكْرٍ إِلَى التَّنْعِيمِ فَاعْتَمَرْتُ ، قَالَ : " هَذِهِ مَكَانُ عُمْرَتِكَ " ، قَالَتْ : فَطَافَ الَّذِينَ أَهَلُّوا بِالْعُمْرَةِ بِالْبَيْتِ وَبَيْنَ الصَّفَا وَالْمَرْوَةِ ، ثُمَّ حَلُّوا ، ثُمَّ طَافُوا طَوَافًا آخَرَ بَعْدَ أَنْ رَجَعُوا مِنْ مِنًى لِحَجِّهِمْ ، وَأَمَّا الَّذِينَ أَهَلُّوا بِالْحَجِّ أَوْ جَمَعُوا بَيْنَ الْحَجِّ وَالْعُمْرَةِ فَإِنَّمَا طَافُوا طَوَافًا وَاحِدًا .
نوید مجید طیب
ام المومنین سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے ہم رسول اللہ ﷺ کے ہمراہ حجۃ الوداع کے موقع پر سفر کے لیے نکلے عمرہ کا احرام باندھا رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : ”جس کے ہمراہ قربانی کا جانور ہے، تو وہ حج قران کا احرام باندھے پھر دونوں عمرہ و حج کے بعد ہی احرام کھولے“ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں میں مکہ میں حیض کی حالت میں پہنچی تو میں نے نہ طواف کیا نہ ہی صفا مروہ کی سعی کی تو میں نے رسول اللہ ﷺ سے عرض کیا تو آپ ﷺ نے فرمایا : ”اپنا سر کھولو کنگھی کرو اور حج کے لیے تلبیہ پکارو۔ عمرہ چھوڑ دے“ کہتی ہیں کہ میں نے ایسا ہی کیا جب میں نے حج کر لیا تو رسول اللہ ﷺ نے مجھے عبدالرحمن بن ابی بکر رضی اللہ عنہ کے ساتھ تنعیم بھیجا جہاں سے میں نے عمرے کا احرام باندھا تو آپ ﷺ نے فرمایا: ”یہ تیرا عمرہ پہلے رہ جانے والے تیرے عمرے کی جگہ ہے۔“ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے کہا جن لوگوں نے عمرے کے لیے تلبیہ پکارا تھا انہوں نے بیت اللہ اور صفا مروہ کا طواف کیا پھر احرام کھول دیا پھر دوسرا طواف انہوں نے منی سے واپسی پر طواف حج کیا البتہ جن لوگوں نے حج و عمرہ جمع کیا تھا انہوں نے ایک ہی طواف کیا تھا۔
حوالہ حدیث السنن المأثورة / باب ما جاء في فدية الأذى / حدیث: 453
تخریج حدیث صحیح بخاری، الحج، باب کیف تھل الحائض والنفساء، رقم: 1556، صحیح مسلم، الحج، باب بیان وجوہ الاحرام، رقم: 1211۔
حدیث نمبر: 454
عَنْ مَالِكِ بْنِ أَنَسٍ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْقَاسِمِ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ عَائِشَةَ ، أَنَّهَا قَالَتْ : قَدِمْتُ مَكَّةَ وَأَنَا حَائِضٌ ، فَلَمْ أَطُفْ بِالْبَيْتِ وَلا بَيْنَ الصَّفَا وَالْمَرْوَةِ ، فَشَكَوْتُ ذَلِكَ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَقَالَ : " افْعَلِي مَا يَفْعَلُ الْحَاجُّ غَيْرَ أَنْ لا تَطُوفِي بِالْبَيْتِ حَتَّى تَطْهُرِي " .
نوید مجید طیب
ام المومنین سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں میں مکہ حیض کی حالت میں آئی تو میں نے بیت اللہ اور صفا مروہ کا طواف نہ کیا میں نے اس بات کا شکوہ رسول اللہ ﷺ سے کیا تو آپ ﷺ نے فرمایا: ”تمام امور حج اسی طرح انجام دے جیسے حاجی دیتے ہیں لیکن پاک ہونے سے قبل بیت اللہ کا طواف نہ کرنا۔“
حوالہ حدیث السنن المأثورة / باب ما جاء في فدية الأذى / حدیث: 454
تخریج حدیث انظر ما قبلہ، برقم: 453۔
حدیث نمبر: 455
عَنْ مَالِكِ بْنِ أَنَسٍ ، عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ ، عَنْ عَمْرَةَ ، أَنَّهَا سَمِعَتْ عَائِشَةَ ، زَوْجَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، تَقُولُ : خَرَجْنَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِخَمْسِ لَيَالٍ بَقِينَ مِنْ ذِي الْقِعْدَةِ لا نَرَى إِلا أَنَّهُ الْحَجُّ ، فَلَمَّا دَنَوْنَا مِنْ مَكَّةَ " أَمَرَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَنْ لَمْ يَكُنْ مَعَهُ هَدْيٌ إِذَا طَافَ بِالْبَيْتِ وَسَعَى بَيْنَ الصَّفَا وَالْمَرْوَةِ أَنْ يَحِلَّ " ، قَالَتْ عَائِشَةُ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا : فَدَخَلَ عَلَيْنَا يَوْمَ النَّحْرِ بِلَحْمِ بَقَرٍ ، فَقُلْتُ : مَا هَذَا ؟ فَقَالُوا : نَحَرَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ أَزْوَاجِهِ بَقَرَةً . قَالَ يَحْيَى : فَذَكَرْتُ هَذَا الْحَدِيثَ لِلْقَاسِمَ بْنَ مُحَمَّدٍ فَقَالَ : أَتَتْكَ وَاللَّهِ بِالْحَدِيثِ عَلَى وَجْهِهِ .
نوید مجید طیب
ام المومنین سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ ہم پچیس ذی قعدہ کو رسول اللہ ﷺ کے ساتھ (مدینہ سے مکہ کے لیے) روانہ ہوئے ہمارا ارادہ صرف حج کا تھا جب مکہ کے قریب پہنچے تو رسول اللہ ﷺ نے حکم دیا: ”جس کے ساتھ قربانی کا جانور نہیں وہ بیت اللہ اور صفا و مروہ کا طواف کر کے احرام کھول دے۔“ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں یوم نحر کو ہمارے پاس گائے کا گوشت آیا میں نے کہا: یہ کیا ہے؟ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے بتایا رسول اللہ ﷺ نے اپنی ازواج کی طرف سے گائے کی قربانی کی ہے۔ یحییٰ رحمہ اللہ راوی حدیث کہتے ہیں میں نے یہ حدیث قاسم بن محمد رحمہ اللہ کو بتائی تو انہوں نے کہا اللہ کی قسم بالکل درست حدیث آپ تک پہنچی ہے۔
حوالہ حدیث السنن المأثورة / باب ما جاء في فدية الأذى / حدیث: 455
تخریج حدیث صحیح بخاری، الحج، باب ذبح الرجل البقر عن نسائہ من غیر امرھن، رقم: 1709، صحیح مسلم، الحج، باب بیان وجوہ الاحرام، رقم: 1211۔
حدیث نمبر: 456
عَنْ سُفْيَانَ بْنِ عُيَيْنَةَ ، عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ ، عَنْ عَمْرَةَ ، عَنْ عَائِشَةَ ، قَالَتْ : خَرَجْنَا لِخَمْسٍ بَقِينَ مِنْ ذِي الْقِعْدَةِ لا نَرَى إِلا الْحَجَّ ، فَلَمَّا كُنَّا بِسَرِفٍ أَوْ قَرِيبٍ مِنْهَا " أَمَرَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَنْ لَمْ يَكُنْ مَعَهُ هَدْيٌ أَنْ يَجْعَلَهَا عُمْرَةً " ، فَلَمَّا كُنَّا بِمِنًى أُتِيتُ بِلَحْمِ بَقَرٍ ، فَقُلْتُ : مَا هَذَا ؟ فَقَالُوا : ذَبَحَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ نِسَائِهِ . قَالَ يَحْيَى : فَحَدَّثْتُ بِهِ الْقَاسِمَ بْنَ مُحَمَّدٍ فَقَالَ : جَاءَتْ وَاللَّهِ بِالْحَدِيثِ عَلَى وَجْهِهِ .
نوید مجید طیب
ام المومنین سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں ماہ ذی قعدہ ختم ہونے کو پانچ دن باقی تھے ہم صرف حج کا ارادہ رکھتے تھے تو جب ہم مقام سرف کے قرب و جوار میں پہنچے تو رسول اللہ ﷺ نے حکم دیا: ”جس کے پاس جانور نہیں وہ عمرہ کرلے (یعنی حج تمتع کرے)“ ہم جب منی میں تھے تو مجھے گائے کا گوشت دیا گیا میں نے پوچھا: یہ کہاں سے آیا؟ تو صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے کہا رسول اللہ ﷺ نے ازواج کی جانب سے قربانی کی ہے۔ یحییٰ رحمہ اللہ راوی کہتے ہیں کہ میں نے یہ حدیث قاسم بن محمد رحمہ اللہ کو بتائی تو کہنے لگے بخدا بالکل درست حدیث آپ تک پہنچی ہے۔
حوالہ حدیث السنن المأثورة / باب ما جاء في فدية الأذى / حدیث: 456
تخریج حدیث انظر ما قبلہ، برقم: 455۔
حدیث نمبر: 457
عَنْ عَبْدِ الْوَهَّابِ بْنِ عَبْدِ الْمَجِيدِ الثَّقَفِيِّ ، قَالَ : أَخْبَرَنِي يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ ، قَالَ : أَخْبَرَتْنِي عَمْرَةُ بِنْتُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ أَنَّهَا سَمِعَتْ عَائِشَةَ ، تَقُولُ : خَرَجْنَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِخَمْسٍ بَقِينَ مِنْ ذِي الْقِعْدَةِ لا نَرَى إِلا الْحَجَّ حَتَّى إِذَا دَنَوْنَا مِنْ مَكَّةَ " أَمَرَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَنْ لَمْ يَكُنْ مَعَهُ هَدْيٌ إِذَا طَافَ بِالْبَيْتِ أَنْ يَحِلَّ " ، قَالَتْ : فَدَخَلَ عَلَيَّ يَوْمَ النَّحْرِ بِلَحْمِ بَقَرٍ ، فَقُلْتُ : مَا هَذَا ؟ فَقِيلَ : ذَبَحَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ أَزْوَاجِهِ بِالْبَقَرِ . قَالَ يَحْيَى : فَذَكَرْتُ هَذَا الْحَدِيثَ لِلْقَاسِمِ بْنِ مُحَمَّدٍ فَقَالَ : أَتَتْ وَاللَّهِ بِالْحَدِيثِ عَلَى وَجْهِهِ . حَدَّثَنَا أَحْمَدُ قَالَ : سَمِعْتُ الْمُزَنِيَّ يَقُولُ : قَالَ مُحَمَّدُ بْنُ إِدْرِيسَ الشَّافِعِيُّ رَحِمَهُ اللَّهُ : حَدِيثُ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ وَحَدِيثُ طَاوُسٍ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَحَدِيثُ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ , عَنْ عَمْرَةَ , وَالْقَاسِمِ بْنِ مُحَمَّدٍ , عَنْ عَائِشَةَ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , وَعَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْقَاسِمِ عَنْ أَبِيهِ عَنْ عَائِشَةَ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مُتَّفِقَةٌ كُلُّهَا ؛ لأَنَّ أَصْحَابَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِنَّمَا خَرَجُوا مُهِلِّينَ يَنْوُونَ الإِحْرَامَ وَيَنْتَظِرُونَ مَا يَقْضِي اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ عَلَى لِسَانِ رَسُولِهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ مَصِيرِ إِحْرَامِهِمْ أَيَجْعَلُونَهُ حَجًّا وَهُوَ الَّذِي يَعْرِفُونَ فِي أَشْهُرِ الْحَجِّ لا يَعْرِفُونَ فِي شُهُورِ الْحَجِّ عُمْرَةً أَمْ يَجْعَلُونَهُ عُمْرَةً ؟ أَوْ جَمْعًا بَيْنَهُمَا ؟ فَلَمَّا نَزَلَ عَلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْقَضَاءُ أَمَرَ مَنْ لَمْ يَكُنْ مَعَهُ هَدْيٌ أَنْ يَجْعَلَهَا عُمْرَةً وَذَلِكَ قَبْلَ طَوَافِهِمْ فَأَحْدَثُوا نِيَّةً بَعْدَ النِّيَّةِ الأُولَى عَرَفُوا بِهَا الْفَرْقَ بَيْنَ إِحْرَامِهِمْ فَمِنْهُمْ مَنْ صَارَ حَاجًّا مُفْرِدًا وَأُولَئِكَ أَهْلُ الْهَدْيِ الَّذِينَ سَاقُوهُ وَمِنْهُمْ مَنْ صَارَ مُتَمَتِّعًا وَأُولَئِكَ الَّذِينَ لا هَدْيَ مَعَهُمْ . قَالَ أَبُو جَعْفَرٍ : وَفِي هَذِهِ الأَحَادِيثَ بَيَانُ مَا وَصَفْتُ وَأَرْبَعَةٌ أَوْلَى أَنْ يَكُونُوا أَحْفَظَ مِنْ وَاحِدٍ وَإِنَّمَا غَلِطَ مَنْ رَوَى حَدِيثَ عُرْوَةَ أَنَّ عَائِشَةَ كَانَتْ مُهِلَّةً بِعُمْرَةٍ مِنْ قِبَلِ وَجْهٍ قَدْ يُغْلَطُ مِنْ مِثْلِهِ وَذَلِكَ أَنَّهُ سَمِعَ عَائِشَةَ تَقُولُ : أُمِرْتُ أَنْ أَسْكُتَ عَنْ عُمْرَتِي وَاعْتَمَرْتُ مَكَانَ عُمْرَتِي فَكَانَ طَوَافِي يُجْزِينِي لِحَجِّي وَعُمْرَتِي فَسَمِعَ ذَلِكَ سَامِعٌ لَعَلَّهُ أَنْ لا يَكُونَ حَفِظَ أَوَّلَ الْحَدِيثِ فَيَكُونَ عِنْدَهُ أَنْ لا تَكُونَ مُعْتَمِرَةً إِلا وَقَدِ ابْتَدَأَتِ الإِحْرَامَ بِعُمْرَةٍ فَيَرْوِيَ عَنْهَا أَنَّهَا كَانَتْ مُهِلَّةً بِعُمْرَةٍ وَإِنَّمَا صَارَ إِحْرَامُهَا عُمْرَةً بَعْدَ أَنْ عَقَدَتْهُ كَمَا عَقَدَ النَّاسُ تَنْتَظِرُ الْقَضَاءَ كَمَا يَنْتَظِرُونَهُ وَأُمِرَتْ أَنْ تَجْعَلَ إِحْرَامَهَا عُمْرَةً فِي جُمْلَةِ مَنْ لَمْ يَكُنْ مَعَهُ هَدْيٌ إِذْ لَمْ يَكُنْ مَعَهَا هَدْيٌ فَهَذَا هُوَ الْمَوْضِعُ الَّذِي أُتِيَ مِنْهُ مَنْ رَوَى حَدِيثَ عُرْوَةَ وَلِوُجُودِ الْخِلافِ لِلْقَاسِمِ وَعَمْرَةَ فِي الْحَدِيثِ عَنْ عَائِشَةَ كَانَ اثْنَانِ أَشْبَهَ أَنْ يَكُونَا أَحْفَظَ مِنْ وَاحِدٍ وَلَوِ اشْتَبَهَا كَانَ جَائِزًا ؛ إِذْ رُوِيَ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِثْلُ مَا رَوَى الْقَاسِمُ وَعَمْرَةُ عَنْ عَائِشَةَ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُثْبِتُ لَهُمَا مَوْضِعَ الْحِفْظِ وَكَذَلِكَ طَاوُسٌ ؛ إِذْ رَوَاهُ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَلَوْلا الاسْتِدْلالُ بِمَا وَصَفْتُ وَمَا أَشْبَهَهُ مَا خَلُصْنَا بَيْنَ الْخَطَأِ وَالصَّوَابِ فِي الْحَدِيثِ . قَالَ لَنَا أَبُو جَعْفَرٍ : سَمِعْتُ الْمُزَنِيَّ يَقُولُ : قَالَ مُحَمَّدُ بْنُ إِدْرِيسَ الشَّافِعِيُّ رَحِمَهُ اللَّهُ : فَإِنْ قَالَ قَائِلٌ : مَا مَعْنَى الْحَدِيثِ الَّذِي يُرْوَى عَنْ عُرْوَةَ , عَنْ عَائِشَةَ ؟ قُلْنَا : نُثْبِتُهُ إِنَّمَا نَدَعُ تَثْبِيتَ مَا خَالَفَهُ فِيهِ غَيْرُهُ مِمَّنْ هُوَ أَكْثَرُ مِنْهُ عَدَدًا فَأَمَّا مَا لَمْ يَكُنْ يُخَالِفُهُ فِيهِ أَحَدٌ فَهُوَ لَفْظٌ غَيْرُ اللَّفْظِ الَّذِي خُولِفَ فِيهِ وَأَمْرٌ غَيْرُ الأَمْرِ الَّذِي خُولِفَ فيهِ فَنُثْبِتُهُ إِذَا لَمْ يَكُنْ فِيهِ مُخَالِفٌ .
نوید مجید طیب
ام المومنین سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں ہم رسول اللہ ﷺ کے ساتھ نکلے ذی قعدہ کے پانچ دن باقی تھے ہم حج ہی کے لیے نکلے تھے تو جب مکہ کے قریب پہنچے تو رسول اللہ ﷺ نے حکم دیا جس کے ہمراہ قربانی کا جانور نہیں وہ طواف کے بعد حلال ہو جائے تو ہمارے پاس یوم النحر کو گائے کا گوشت آیا میں نے پوچھا: ”یہ کیا ہے؟“ کہا گیا کہ رسول اللہ ﷺ نے اپنی ازواج مطہرات کی جانب سے گائے ذبح کی ہے۔ امام شافعی رحمہ اللہ فرماتے ہیں حدیث جابر رضی اللہ عنہ اور حدیث طاؤس رحمہ اللہ اور حدیث یحییٰ بن سعید رحمہ اللہ، جو عمرہ رحمہ اللہ اور قاسم بن محمد رحمہ اللہ سے ہے کہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے نبی ﷺ سے بیان کیا ساری اسناد متفق ہیں کہ اصحاب رسول ﷺ تلبیہ کہتے ہوئے نکلے احرام کی نیت سے اس انتظار میں تھے کہ اللہ تعالیٰ کا رسول اللہ ﷺ کی زبانی کیا فیصلہ آتا ہے کیونکہ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کے ہاں حج کے مہینوں میں حج ہی کا احرام باندھنا معروف تھا، اُن کے ہاں حج کے ماہ میں عمرہ کا احرام یا حج و عمرہ دونوں کا احرام باندھنا معروف نہ تھا، جب رسول اللہ ﷺ پر فیصلہ نازل ہوا تو حکم صادر کیا کہ جس کے ہمراہ قربانی کا جانور نہیں وہ عمرہ کرے یہ حکم طواف کرنے سے پہلے ہی دے دیا تو انہوں نے پہلی حج والی نیت کو عمرہ کی نیت سے بدلا، احرام میں فرق کا بھی پتہ چلا، بعض نے مفرد حج کیا یہ وہ تھے جو قربانیاں ہمراہ لائے تھے، اور بعض نے حج تمتع کیا یہ وہ تھے جو قربانیاں ہمراہ نہ لائے تھے۔ ابو جعفر رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ مذکورہ توجیہ ہی مذکورہ احادیث سے پتہ چلتی ہے چار روات الحدیث زیادہ یاد رکھنے والے ہیں ایک راوی کے مقابلے میں، جس نے حدیث عروہ روایت کی ہے کہ عائشہ رضی اللہ عنہا مدینہ سے نکلتے وقت ہی عمرے کا ارادہ رکھتی تھی۔
حوالہ حدیث السنن المأثورة / باب ما جاء في فدية الأذى / حدیث: 457
تخریج حدیث انظر ما قبلہ، برقم: 457۔
حدیث نمبر: 458
عَنْ أَنَسِ بْنِ عِيَاضٍ اللَّيْثِيِّ ، عَنْ مُوسَى بْنِ عُقْبَةَ ، عَنْ نَافِعٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ ، " عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ كَانَ إِذَا طَافَ لِلْحَجِّ أَوِ الْعُمْرَةِ ، أَوَّلُ مَا يَقْدَمُ يَسْعَى ثَلاثَةَ أَطْوَافٍ بِالْبَيْتِ وَيَمْشِي أَرْبَعَةً ثُمَّ يُصَلِّي سَجْدَتَيْنِ ثُمَّ يَطُوفُ بَيْنَ الصَّفَا وَالْمَرْوَةِ " .
نوید مجید طیب
سیدنا عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ جب حج یا عمرہ کا طواف کرتے تو پہلے تین چکر دوڑ کر لگاتے اور آخری چار عام چال چل کر پھر دو رکعت اداء فرماتے پھر صفا مروہ کا طواف فرماتے۔
وضاحت:
➊ طواف کعبہ حج و عمرہ کا اہم ترین رکن ہے۔
➋ رمل کی ابتدا سے متعلق ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اپنے صحابہ رضی اللہ عنہم کے ساتھ مکہ آئے تو مشرکین مکہ نے کہا: تمہارے پاس ایسے افراد آئے ہیں جن کو یثرب (مدینہ منورہ) کے بخار نے کمزور کر دیا ہے اس لیے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے طواف کے پہلے تین چکروں میں رمل (تیز چلنا جس سے اظہار قوت ہو) کا حکم دیا۔
➌ رمل کی علت اگر چہ ختم ہو چکی ہے حکم اب بھی باقی ہے اور یہ عمل دوران طواف کرنا مسنون ہے۔
حوالہ حدیث السنن المأثورة / باب ما جاء في فدية الأذى / حدیث: 458
تخریج حدیث صحیح بخاری، الحج، باب من طاف بالبیت اذا قدم مکۃ قبل ...... الخ، رقم: 1616، صحیح مسلم، الحج، باب استحباب الرمل فی الطواف والعمرۃ ...... الخ، رقم: 1261۔
حدیث نمبر: 459
عَنْ إِبْرَاهِيمَ بْنِ سَعْدِ بْنِ إِبْرَاهِيمَ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ جُبَيْرِ بْنِ مُطْعِمٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، أَنَّ امْرَأَةً أَتَتْ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَسَأَلَتْهُ عَنْ شَيْءٍ ، فَأَمَرَهَا أَنْ تَرْجِعَ ، فَقَالَتْ : يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنْ رَجَعْتُ فَلَمْ أَجِدْكَ ؟ كَأَنَّهَا تَعْنِي الْمَوْتَ ، قَالَ : " فَأْتِ أَبَا بَكْرٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ " .
نوید مجید طیب
سیدنا جبیر بن مطعم رضی اللہ عنہ سے روایت ہے ایک عورت رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں کسی چیز کا سوال کرنے آئی آپ ﷺ نے اسے حکم دیا کہ (ابھی چلی جاؤ) دوبارہ آنا کہنے لگی اے اللہ کے رسول ﷺ اگر میں دوبارہ آئی اور آپ کو نہ پایا تو راوی کہتے ہیں اس عورت کا موت کی طرف اشارہ تھا آپ ﷺ نے فرمایا: ”(پھر تو) ابو بکر رضی اللہ عنہ کے پاس آنا۔“
وضاحت:
➊ اس حدیث شریف میں سیدنا ابو بکر رضی اللہ عنہ کے خلیفہ بلا فصل ہونے کی طرف واضح رہنمائی ہے، اس کے علاوہ بھی خلافتِ ابو بکر رضی اللہ عنہ پر بہت سے ادلہ موجود ہیں، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی زندگی میں ابو بکر رضی اللہ عنہ کو اپنے مصلیٰ امامت کا اہل سمجھا تھا۔ ➋ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم وفاتِ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا عقیدہ رکھتے تھے۔
حوالہ حدیث السنن المأثورة / باب ما جاء في فدية الأذى / حدیث: 459
تخریج حدیث صحیح بخاری، الاعتصام، باب الاحکام التی تعرف بالدلائل، رقم: 7360، صحیح مسلم، فضائل الصحابۃ، باب من فضائل ابی بکر الصدیق، رقم: 2386۔
حدیث نمبر: 460
عَنْ عَنْ يَحْيَى بْنِ سُلَيْمٍ ، عَنْ جَعْفَرِ بْنِ مُحَمَّدٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ جَعْفَرِ بْنِ أَبِي طَالِبٍ ، قَالَ : " وَلِيَنَا أَبُو بَكْرٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ خَيْرُ خَلِيفَةِ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ أَرْحَمُهُ بِنَا وَأَحْنَاهُ عَلَيْنَا " .
نوید مجید طیب
سیدنا عبد اللہ بن جعفر بن ابی طالب رحمہ اللہ سے روایت ہے کہ ہمارے بہترین خلیفہ سیدنا ابو بکر رضی اللہ عنہ تھے جو ہم پر نہایت رحم اور شفقت کا معاملہ کرنے والے تھے۔
وضاحت:
سیدنا ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ انتہائی رقیق القلب اور رحم دل انسان تھے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: «أرحم أمتي بأمتي أبو بكر» [سنن ترمذی: 3790]
میری امت میں سے میری امت کے لیے سب سے زیادہ رحم دل ابو بکر رضی اللہ عنہ ہیں۔
حوالہ حدیث السنن المأثورة / باب ما جاء في فدية الأذى / حدیث: 460
تخریج حدیث الاصابہ لابن حجر: 344/2 اسنادہ جید۔
حدیث نمبر: 461
عَنْ عَنْ أَنَسِ بْنِ عِيَاضٍ ، عَنْ مُوسَى بْنِ عُقْبَةَ ، عَنْ نَافِعٍ ، أَنَّ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عُمَرَ كَانَ يَقُولُ : " لا يَحِلُّ مُحْرِمٌ بِحَجٍّ وَلا عُمْرَةٍ حَبَسَهُ بَلاءٌ حَتَّى يَطُوفَ بِالْبَيْتِ إِلا مَنْ حَبَسَهُ عَدُوٌّ فَإِنَّهُ يَحِلُّ حَيْثُ حُبِسَ ، وَمَنْ حُبِسَ فِي عُمْرَةٍ بِبَلاءٍ مَكَثَ عَلَى حَرَمِهِ حَتَّى يَطُوفَ بِالْبَيْتِ الْعَتِيقِ ثُمَّ يَحِلَّ مِنْ عُمْرَتِهِ ، فَإِنْ مَنَعَهُ عَدُوٌّ فِي عُمْرَتِهِ تِلْكَ حَلَّ حَيْثُ حَبَسَهُ " ، قَالَ أَبُو جَعْفَرٍ : هَكَذَا قَرَأَهُ الْمُزَنِيُّ عَلَيْنَا مِنْ كِتَابِهِ وَإِنَّمَا هُوَ حَلَّ حَيْثُ حَبَسَهُ ثُمَّ رَجَعَ حَلالا ثُمَّ اعْتَمَرَ بَعْدَ إِذَا أَمِنَ كَمَا صَنَعَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَإِنْ حَبَسَهُ بَلاءٌ حَتَّى يَفُوتَهُ الْحَجُّ طَافَ إِذَا بَلَغَ بِالْبَيْتِ وَبَيْنَ الصَّفَا وَالْمَرْوَةِ ثُمَّ حَلَقَ أَوْ قَصَّرَ ثُمَّ رَجَعَ حَلالا مِنْ حَجِّهِ حَتَّى يَحُجَّ عَامَ قَابِلٍ وَيُهْدِي فَإِنْ لَمْ يَجِدْ هَدْيًا صَامَ ثَلاثَةَ أَيَّامٍ فِي الْحَجِّ وَسَبْعَةً إِذَا رَجَعَ .
نوید مجید طیب
سیدنا عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہما فرمایا کرتے تھے کہ محرم (احرام والا) جس کو کسی رکاوٹ نے روک لیا ہو حج وعمرہ کا احرام بیت اللہ کا طواف کیے بغیر نہ کھولے ہاں اگر دشمن نے روک لیا تو اسی مقام پر احرام کھول دے اور جس کو عام بیماری وغیرہ نے روکا ہو وہ حالت احرام میں ہی رہے حتیٰ کہ بیت اللہ کا طواف کر لے پھر اپنے عمرے سے حلال ہو۔
وضاحت:
ابو جعفر رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ امام مزنی رحمہ اللہ نے اپنی کتاب سے ایسے ہی پڑھ کر سنایا احرام والے شخص کو جہاں دشمن نے روکا وہاں ہی احرام کھول دے پھر حلال ہو کر لوٹ جائے پھر حالتِ امن میں عمرہ اداء کرے جیسا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے (حدیبیہ کے بعد قضاء عمرہ) اداء کیا تھا اگر کوئی ایسی رکاوٹ واقع ہوئی کہ حج فوت ہو گیا تو مکہ پہنچ کر بیت اللہ کا طواف کرے اور صفا مروہ کی سعی کرے پھر بال کٹوائے یا ٹنڈ کروائے (یعنی عمرہ کر کے) وطن واپس حلال ہو کر چلا جائے پھر آئندہ سال حج کرے اور قربانی بھی دے اگر قربانی نہ پائے تو دس روزے رکھے، تین ایامِ حج میں اور سات وطن جا کر۔
حوالہ حدیث السنن المأثورة / باب ما جاء في فدية الأذى / حدیث: 461
تخریج حدیث صحیح بخاری، المحصر، باب اذا أحصر المعتمر، رقم: 1808، 1807۔
حدیث نمبر: 462
عَنْ سُفْيَانَ بْنِ عُيَيْنَةَ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ دِينَارٍ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ جُبَيْرٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، قَالَ : ذَهَبْتُ أَطْلُبُ بَعِيرًا لِي يَوْمَ عَرَفَةَ فَخَرَجْتُ فَإِذَا النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَاقِفٌ بِعَرَفَةَ مَعَ النَّاسِ ، فَقُلْتُ : إِنَّ هَذَا مِنَ الْحُمْسِ فَمَا لَهُ خَرَجَ مِنَ الْحَرَمِ ؟ يَعْنِي بِالْحُمْسِ قُرَيْشًا ، وَكَانَتْ قُرَيْشٌ تَقِفُ بِالْمُزْدَلِفَةِ وَتَقُولُ : نَحْنُ الْحُمْسُ لا نُجَاوِزُ الْحَرَمَ " .
نوید مجید طیب
سیدنا جبیر بن مطعم رضی اللہ عنہ سے روایت ہے یوم عرفہ کو میں گم شدہ اونٹ کی تلاش میں عرفہ گیا تو دیکھا نبی اکرم ﷺ لوگوں کے ساتھ عرفہ میں وقوف فرما رہے ہیں میں نے (دل میں) کہا یہ تو حمس سے نکل گئے ہیں، انہیں کیا ہوا حرم سے نکل آئے ہیں یعنی حمس قریش سے، قریشی وقوف مزدلفہ میں کرتے تھے اور کہتے تھے ہم حمس ہیں حدود حرم سے ہم باہر نہیں جائیں گے۔
وضاحت:
➊ ارشاد باری تعالیٰ ہے: ﴿ثُمَّ اَفِيضُوا مِنْ حَيْثُ أَفَاضَ النَّاسُ وَاسْتَغْفِرُوا اللهَ إِنَّ اللهَ غَفُورٌ رَّحِيمٌ﴾ [البقرة: 199]
"پھر جہاں سے سب لوگ لوٹیں وہیں سے تم بھی لوٹو اور اللہ سے بخشش مانگو، بے شک اللہ بہت بخشنے والا، بہت رحم کرنے والا ہے۔"
قریش اپنے آپ کو دیگر عرب سے ممتاز گردانتے تھے کہ ہم عیال اللہ ہیں اس لیے حدودِ حرم سے باہر میدانِ عرفات میں نہ جاتے اور کہتے ہم حرم کی حدود سے باہر نہیں جائیں گے، حرم کی حدود مزدلفہ تک ہے، قریش مزدلفہ میں وقوفِ حج کرتے تھے جبکہ عام عرب وقوفِ عرفہ میں کرتے تھے، اس بدعت کا نام محمس تھا، قریش کی اس بدعت کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے آ کر ختم کیا۔
➋ اور اللہ تعالیٰ نے قریش کو یہ حکم دیا کہ سب لوگوں کے ساتھ عرفات جانا ہے اور ان کے ساتھ ہی وہاں سے واپس لوٹنا ضروری ہے۔ حمس کا مطلب بعض نے پختگی اور حماست اور بعض نے بہادری و شجاعت اور بعض کہتے ہیں کہ کعبہ کا ایک نام الحمساء بھی ہے اسی نسبت سے یہ اپنے آپ کو حمس کہتے تھے۔
➌ دین میں ایسی ٹھیکیداری کا کوئی تصور نہیں کہ بڑے اور چھوٹے کے لیے امتیاز روا رکھا جائے یا برادریوں کا اپنا اپنا دین ہو، ایسا ہرگز نہیں، اسلام مساوات کا درس دیتا ہے۔
ایک ہی صف میں کھڑے ہو گئے محمود و ایاز
نہ کوئی بندہ رہا اور نہ کوئی بندہ نواز
بندہ و صاحب و محتاج و غنی ایک ہوئے
تیری سرکار میں پہنچے تو سبھی ایک ہوئے
حوالہ حدیث السنن المأثورة / باب ما جاء في فدية الأذى / حدیث: 462
تخریج حدیث صحیح بخاری، الحج، باب الوقوف بعرفۃ، رقم: 1664، صحیح مسلم، الحج، باب فی الوقوف وقولہ تعالیٰ «ثُمَّ أَفِيضُوا ..... الخ»، رقم: 1220۔
حدیث نمبر: 463
عَنْ سُفْيَانَ بْنِ عُيَيْنَةَ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ دِينَارٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ صَفْوَانَ ، عَنْ خَالٍ ، لَهُ قَالَ : كُنَّا فِي مَوْقِفٍ لَنَا بِعَرَفَةَ قَالَ سُفْيَانُ : يُبْعِدُهُ عَمْرٌو مِنْ مَوْقِفِ الإِمَامِ جِدًّا فَأَتَانَا ابْنُ مِرْبَعٍ الأَنْصَارِيُّ فَقَالَ : " أَنَا رَسُولُ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَيْكُمْ يَأْمُرُكُمْ أَنْ تَكُونُوا عَلَى مَشَاعِرِكُمْ هَذِهِ فَإِنَّكُمْ عَلَى إِرْثٍ مِنْ إِرْثِ أَبِيكُمْ إِبْرَاهِيمَ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ .
نوید مجید طیب
عبد اللہ بن صفوان رحمہ اللہ اپنے ماموں (یزید بن شیبان) سے بیان کرتے ہیں کہ ہم عرفات میں رسول اللہ ﷺ کی جائے وقوف سے کافی دور تھے کہ ہمارے پاس ابن مربع انصاری رضی اللہ عنہ آئے اور کہنے لگے کہ میں تمہاری طرف رسول اللہ ﷺ کا قاصد ہوں آپ ﷺ فرما رہے ہیں کہ ”اپنی اپنی جگہوں پر ٹھہرے رہو تم اپنے جد امجد ابراہیم علیہ السلام کی وراثت پر قائم ہو۔“
وضاحت:
➊ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے جبلِ رحمت کے قریب وقوف کیا چونکہ ہر بندہ وہاں نہیں ٹھہر سکتا نہ اتنے جمِ غفیر کے لیے اتنی جگہ کافی ہے لہذا فرمایا: پورا عرفات ہی موقف ہے جہاں جگہ ملے ٹھہر جاؤ ثواب برابر ہے۔
«إرث أبيكم إبراهيم» کا مطلب ہے یہ نیا حکم نہیں بلکہ یہ وہ حکم ہے جس پر ابراہیم علیہ السلام عمل پیرا تھے، لہذا امام سے دوری کو اپنے لیے حقیر نہ سمجھو جہاں جگہ ملے وہیں وقوف کر لو۔
حوالہ حدیث السنن المأثورة / باب ما جاء في فدية الأذى / حدیث: 463
تخریج حدیث سنن ابی داؤد، الحج، باب موضع الوقوف بعرفہ، رقم: 1919 وقال الالبانی: صحیح، سنن ترمذی الحج، باب ماجاء فی الوقوف بعرفہ .... الخ، رقم: 883 وقال وصححہ الحاکم فی المستدرک: 462/1 و وافقہ الذہبی وابن خزیمہ: 255/4، رقم: 2818، 2819۔
حدیث نمبر: 464
عَنْ سُفْيَانَ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ دِينَارٍ ، عَنْ طَاوُسٍ ، وَعَطَاءٍ ، أَحَدُهُمَا أَوْ كِلاهُمَا عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، " أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ احْتَجَمَ وَهُوَ مُحْرِمٌ " .
نوید مجید طیب
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے رسول اللہ ﷺ نے حالت احرام میں سنگی لگوائی۔
حوالہ حدیث السنن المأثورة / باب ما جاء في فدية الأذى / حدیث: 464
تخریج حدیث صحیح بخاری، جزاء الصید باب الحجامۃ للمحرم، رقم: 1835، صحیح مسلم، الحج، باب جواز الحجامۃ للمحرم، رقم: 1202۔
حدیث نمبر: 465
عَنْ سُفْيَانَ بْنِ عُيَيْنَةَ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ دِينَارٍ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، أَنَّ رَجُلا خَرَّ مِنْ بَعِيرِهِ فَوُقِصَ فَمَاتَ ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " اغْسِلُوهُ بِمَاءٍ وَسِدْرٍ وَكَفِّنُوهُ فِي ثَوْبَيْهِ وَلا تُخَمِّرُوا رَأْسَهُ فَإِنَّهُ يُبْعَثُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ يُهِلُّ أَوْ يُلَبِّي " .
نوید مجید طیب
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے ایک آدمی اونٹ سے گرا اس کی گردن ٹوٹ گئی اور وہ فوت ہو گیا تو نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: ”اسے پانی اور بیری کے پتوں سے غسل دو اور اسے اس کے احرام میں ہی کفن دو لیکن سر نہ ڈھانپنا یہ بروز قیامت تلبیہ پڑھتا اٹھایا جائے گا۔“
حوالہ حدیث السنن المأثورة / باب ما جاء في فدية الأذى / حدیث: 465
تخریج حدیث صحیح بخاری، الجنائز، باب کیف یکفن للمحرم، رقم: 1268، صحیح مسلم، الحج، باب ما یفعل بالمحرم اذا مات رقم: 1206۔
حدیث نمبر: 466
عَنْ سُفْيَانَ بْنِ عُيَيْنَةَ ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ بْنِ أَبِي حُرَّةَ , عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِثْلَهُ وَزَادَ " وَلا تُقَرِّبُوهُ طِيبًا " .
نوید مجید طیب
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے گزشتہ روایت کی مانند مروی ہے البتہ اس میں اتنا اضافہ ہے کہ اسے خوشبو نہ لگانا۔
وضاحت:
➊ مذکورہ خوش نصیب تا قیامت حالتِ احرام میں ہے، عام مُردے کو خوشبو لگائی جاتی ہے لیکن محرم چونکہ خوشبو نہیں لگا سکتا لہذا اسی حالت میں فوت ہونے والے کو بھی خوشبو نہیں لگائی جائے گی۔
➋ آدمی جس حالت میں فوت ہو گا اسی پر اٹھایا جائے گا۔
حوالہ حدیث السنن المأثورة / باب ما جاء في فدية الأذى / حدیث: 466
تخریج حدیث انظر ما قبلہ، برقم: 465۔
حدیث نمبر: 467
عَنْ سُفْيَانَ بْنِ عُيَيْنَةَ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ دِينَارٍ ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ الأَصَمِّ ، " أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَكَحَ مَيْمُونَةَ وَهِيَ خَالَتُهُ وَهُوَ غَيْرُ مُحْرِمٍ " . قَالَ عَمْرٌو : فَحَدَّثْتُ الزُّهْرِيَّ بِحَدِيثِ جَابِرِ بْنِ زَيْدٍ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ نَكَحَ وَهُوَ مُحْرِمٌ فَقَالَ : حَدَّثَنِي يَزِيدُ بْنُ الأَصَمِّ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَكَحَ وَهُوَ غَيْرُ مُحْرِمٍ . قَالَ عَمْرٌو : فَقُلْتُ : وَمَا يَدْرِي يَزِيدَ وَهُوَ أَعْرَابِيٌّ بَوَّالٌ ؟ ! أَتَجْعَلَهُ إِلَى ابْنِ عَبَّاسٍ ؟ ! .
نوید مجید طیب
یزید بن اصم رضی اللہ عنہ سے روایت ہے نبی اکرم ﷺ نے میمونہ رضی اللہ عنہا (ان کی خالہ) سے نکاح کیا تو آپ ﷺ احرام کی حالت میں نہیں تھے۔ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما کی روایت میں ہے رسول اللہ ﷺ احرام کی حالت میں تھے۔ عمرو رحمہ اللہ کہتے ہیں میں نے زہری رحمہ اللہ کو حدیث ابن عباس رضی اللہ عنہما بیان کی تو زہری رحمہ اللہ نے حدیث یزید بن اصم رحمہ اللہ سنائی تو عمرو رحمہ اللہ کہتے ہیں میں نے کہا یزید رحمہ اللہ کو کیا پتہ وہ دیہاتی کثرت سے پیشاب کرنے والا ہے کیا تم اسے ابن عباس رضی اللہ عنہما کے برابر گردانتے ہو؟
حوالہ حدیث السنن المأثورة / باب ما جاء في فدية الأذى / حدیث: 467
تخریج حدیث صحیح مسلم، النکاح، باب تحریم نکاح المحرم وکراہۃ خطبتہ، رقم: 1410۔
حدیث نمبر: 468
عَنْ مَالِكِ بْنِ أَنَسٍ ، عَنْ رَبِيعَةَ بْنِ أَبِي عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ يَسَارٍ مَوْلَى مَيْمُونَةَ زَوْجِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " بَعَثَ أَبَا رَافِعٍ مَوْلاهُ وَرَجُلا مِنَ الأَنْصَارِ فَزَوَّجَاهُ مَيْمُونَةَ بِنْتَ الْحَارِثِ وَهُوَ بِالْمَدِينَةِ قَبْلَ أَنْ يَخْرُجَ " .
نوید مجید طیب
سلیمان بن یسار رحمہ اللہ مولیٰ میمونہ بنت حارث رضی اللہ عنہا سے روایت ہے نبی اکرم ﷺ نے اپنے مولی ابو رافع رضی اللہ عنہ اور ایک انصاری صحابی کو بھیجا اُن دونوں نے میمونہ بنت حارث رضی اللہ عنہا سے (رسول اللہ ﷺ کے بطور وکیل) رشتہ طے کیا اس وقت رسول اللہ ﷺ مدینہ میں تھے یہ (عمرہ قضاء) کے لیے نکلنے سے پہلے کی بات ہے۔
حوالہ حدیث السنن المأثورة / باب ما جاء في فدية الأذى / حدیث: 468
تخریج حدیث سنن ترمذی الحج، باب ماجاء فی کراہیۃ تزویج المحرم، رقم: 841 وقال حسن، وقال الالبانی ضعیف، السنن الکبریٰ للبیہقی: 66/5، شرح السنۃ للبغوی: 252/7 وقال حسن۔
حدیث نمبر: 469
عَنْ مَالِكٍ ، عَنْ نَافِعٍ ، مَوْلَى عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ , عَنْ نَبِيهِ بْنِ وَهْبٍ ، أَخِي بَنِي عَبْدِ الدَّارِ أَنَّ عُمَرَ بْنَ عُبَيْدِ اللَّهِ ، أَرَادَ أَنْ يُزَوِّجَ طَلْحَةَ بْنَ عُمَرَ ابْنَةَ شَيْبَةَ بْنِ جُبَيْرٍ فَأَرْسَلَ إِلَى أَبَانَ بْنِ عُثْمَانَ لِيَحْضُرَ ذَلِكَ وَهُوَ أَمِيرُ الْحَاجِّ وَهُمَا مُحْرِمَانِ فَأَنْكَرَ ذَلِكَ عَلَيْهِ أَبَانُ وَقَالَ : سَمِعْتُ عُثْمَانَ بْنَ عَفَّانَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ، يَقُولُ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " لا يَنْكِحُ الْمُحْرِمُ وَلا يُنْكِحُ " . قَالَ أَبُو جَعْفَرٍ : سَمِعْتُ الْمُزَنِيَّ يَقُولُ : قَالَ مُحَمَّدُ بْنُ إِدْرِيسَ الشَّافِعِيُّ رَحِمَهُ اللَّهُ : وَبِحَدِيثِ عُثْمَانَ بْنِ عَفَّانَ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " لا يَنْكِحُ الْمُحْرِمُ وَلا يُنْكِحُ " نَأْخُذُ وَهُوَ مُتَّصِلٌ ثَبْتُ الإِسْنَادِ وَنِكَاحُ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَيْمُونَةَ بَعْدَ الْحُدَيْبِيَةِ وَعُرْسُهُ بِهَا فِي عُمْرَةِ الْقَضِيَّةِ وَعُثْمَانُ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ مَعَهُ فِي سَفْرَتَيْهِ مَعًا وَمُقَامِهِ ، وَعُثْمَانُ رَسُولُهُ إِلَى أَهْلِ مَكَّةَ وَبِسَبَبِهِ نَزَلَتْ بَيْعَةُ الرِّضْوَانِ ، وَإِنَّ حَدِيثَهُ عِنْدَنَا فِي هَذَا ثَابِتٌ لِمَا وَصَفْتُ مِنْ مُشَاهَدَتِهِ فَإِنْ قَالَ قَائِلٌ : قَدْ يَعْرِفُ أَهْلُ الْمَرْأَةِ مِنْ نِكَاحِهَا وَإِنْ لَمْ يَكُونُوا حُضُورًا بِالْعِنَايَةِ أَكْثَرَ مِمَّا يَعْرِفُ الْحَاضِرُ الَّذِي لا عِنَايَةَ لَهُ بِهَا كَعِنَايَتِهِمْ وَقَدْ رَوَى عَتِيقُهَا سُلَيْمَانُ بْنُ يَسَارٍ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَكَحَهَا غَيْرَ مُحْرِمٍ وَرَوَى ابْنُ أُخْتِهَا يَزِيدُ بْنُ الأَصَمِّ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَكَحَهَا غَيْرَ مُحْرِمٍ وَمَعَهُمَا مَا هُوَ أثْبَتُ مِنْهُمَا مِمَّا وَصَفْتُ لَكَ مِنْ رِوَايَةِ عُثْمَانَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ .
نوید مجید طیب
عمر بن عبید اللہ رحمہ اللہ نے اپنے بیٹے طلحہ بن عمر رحمہ اللہ کی شادی شیبہ بن جبیر رحمہ اللہ کی بیٹی سے کرنے کا ارادہ کیا دونوں حالت احرام میں تھے تو عمر رحمہ اللہ نے ابان بن عثمان رحمہ اللہ امیر الحج کو دعوت نامہ ارسال کیا تو انہوں نے عمر رحمہ اللہ کے اس ارادے پر توبیخ کرتے ہوئے فرمایا: میں نے سیدنا عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ کو فرماتے ہوئے سنا رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا: ”محرم نہ حالت احرام میں خود شادی کرے نہ دوسرے کی شادی کروائے۔“ امام شافعی رحمہ اللہ فرماتے ہیں حدیث عثمان رضی اللہ عنہ متصل السند ہے کہ محرم نہ حالت احرام میں شادی کرے اور نہ کروائے اور رسول اللہ ﷺ کا میمونہ رضی اللہ عنہا سے حدیبیہ کے بعد نکاح کرنا اور شادی عمرۃ قضاء میں کرنا ہے کیونکہ سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ ان سفروں میں نبی ﷺ کے ساتھ تھے انہی کو سفیر بنا کر مکہ بھیجا اور بیعت الرضوان کا واقعہ پیش آیا، تو عثمان رضی اللہ عنہ کا (محرم کے نکاح کی حدیث بیان کرنا) اُن کا مشاہدہ بھی ہے جیسا کہ میں نے بیان کیا۔ اگر معترض کہے کہ عورت کا رشتہ دار (یعنی ابن عباس رضی اللہ عنہما) واقعہ کو زیادہ جانتے ہیں کہ حالت احرام میں نکاح ہوا یا بغیر احرام کے؟ تو اس کا جواب یہ ہے کہ سیدہ میمونہ رضی اللہ عنہا کے اپنے آزاد کردہ غلام سلیمان بن یسار رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ نکاح احرام کھولنے کے بعد ہوا اور میمونہ رضی اللہ عنہا کے بھانجے یزید بن اصم رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ اس وقت نبی اکرم ﷺ احرام میں نہیں تھے اگر اس کے ساتھ حدیث عثمان رضی اللہ عنہ کو سامنے رکھا جائے تو معاملہ واضح ہے۔
حوالہ حدیث السنن المأثورة / باب ما جاء في فدية الأذى / حدیث: 469
تخریج حدیث صحیح مسلم، النکاح، باب تحریم نکاح المحرم، رقم: 1409۔
حدیث نمبر: 470
أَنْبَأَنَا سَعِيدُ بْنُ سَلَمَةَ الْمَعْرُوفُ بِابْنِ أَبِي الْحُسَامِ , عَنْ إِسْمَاعِيلَ بْنِ أُمَيَّةَ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيِّبِ ، قَالَ : " مَا نَكَحَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَيْمُونَةَ إِلا وَهُوَ حَلالٌ " . قَالَ أَبُو جَعْفَرٍ : وَسَمِعْتُ الْمُزَنِيَّ يَقُولُ : قَالَ مُحَمَّدُ بْنُ إِدْرِيسَ الشَّافِعِيُّ رَحِمَهُ اللَّهُ : وَمِمَّا يُسْتَدَلُّ بِهِ عَلَى تَقْوِيَةِ هَذَا أَنَّ عُمَرَ وَزَيْدَ بْنَ ثَابِتٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا رَدَّا نِكَاحَ مُحْرِمَيْنِ وَأَنَّ ابْنَ عُمَرَ قَالَ : لا يَنْكِحُ الْمُحْرِمُ وَلا يَخْطُبُ .
نوید مجید طیب
سعید بن مسیب رحمہ اللہ سے روایت ہے رسول اللہ ﷺ نے احرام کھول کر میمونہ رضی اللہ عنہا سے نکاح کیا تھا۔ امام شافعی رحمہ اللہ کہتے ہیں اس مسئلہ میں مزید تقویت عمر رضی اللہ عنہ اور زید بن ثابت رضی اللہ عنہ کے فیصلوں سے ہوتی ہے دونوں نے حالت احرام میں نکاح کو مردود قرار دیا اور سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے فرمایا: ”محرم نہ نکاح کرے اور نہ منگنی۔“
وضاحت:
➊ حالت احرام میں محرم پر کچھ پابندیاں ہیں ان میں سے ایک یہ بھی ہے کہ حالت احرام میں نہ نکاح کرے اور نہ ہی پیغام نکاح بھیجے۔ اگر ابن عباس رضی اللہ عنہ کی روایت کو شاذ نہ بھی تسلیم کیا جائے تب بھی قولی اور فعلی حدیث میں تعارض کی صورت میں قول مقدم ہوتا ہے قولی حدیث ممانعت پر دلالت کرتی ہے۔
➋ حدیث ابن عباس رضی اللہ عنہ کو متقین علماء نے شاذ قرار دیا ہے۔ بعض نے لکھا ہے کہ حدیث شاذ نہیں بلکہ ابن عباس رضی اللہ عنہ کا مطلب ہے کہ احرام کے مہینوں میں نکاح کیا یا حرم کے اندر نکاح ہوا۔ البتہ جس کا نکاح ہوا وہ خود فرماتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ سے مقام سرف میں نکاح کیا تھا اور ہم دونوں حلال تھے۔ [سنن ابی داؤد: 1843]
➌ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مدینہ سے روانہ ہونے سے قبل ہی پیغام نکاح کے ساتھ دو صحابیوں کو روانہ کر دیا تھا اور پھر مقام سرف پر نکاح ہوا اور یہ 7ھ عمرۃ القضاء کا واقعہ ہے سیدہ میمونہ رضی اللہ عنہا کے پہلے شوہر کا نام ابورہم بن عبد العزی تھا اسی مقام پر میمونہ رضی اللہ عنہا 51ھ کو فوت اور دفن ہوئیں۔
حوالہ حدیث السنن المأثورة / باب ما جاء في فدية الأذى / حدیث: 470
تخریج حدیث سنن ابی داؤد، المناسک، باب المحرم یتزوج، رقم: 1845 وقال الالبانی: صحیح مقطوع۔
حدیث نمبر: 471
عَنْ مَالِكِ بْنِ أَنَسٍ ، عَنْ زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ حُنَيْنٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، أَنَّ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عَبَّاسٍ وَالْمِسْوَرَ بْنَ مَخْرَمَةَ ، اخْتَلَفَا بِالأَبْوَاءِ ، فَقَالَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَبَّاسٍ يَغْسِلُ الْمُحْرِمُ رَأْسَهُ ، وَقَالَ الْمِسْوَرُ بْنُ مَخْرَمَةَ لا يَغْسِلُ الْمُحْرِمُ رَأْسَهُ ، فَأَرْسَلَنِي ابْنُ عَبَّاسٍ إِلَى أَبِي أَيُّوبَ الأَنْصَارِيِّ أَسْأَلُهُ ، فَوَجَدْتُهُ يَغْتَسِلُ مِنَ الْقَرَنَيْنِ وَهُوَ مُسْتَتِرٌ بِثَوْبٍ ، قَالَ : فَسَلَّمْتُ ، فَقَالَ : مَنْ هَذَا ؟ قَالَ : فَقُلْتُ : أَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ حُنَيْنٍ أَرْسَلَنِي إِلَيْكَ ابْنُ عَبَّاسٍ أَسْأَلُكَ كَيْفَ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَغْسِلُ رَأْسَهُ وَهُوَ مُحْرِمٌ ؟ قَالَ : فَوَضَعَ أَبُو أَيُّوبَ يَدَهُ عَلَى الثَّوْبِ فَطَأْطَأَهُ حَتَّى بَدَا لِي رَأْسُهُ ، ثُمَّ قَالَ لإِنْسَانٍ يَصُبُّ عَلَيْهِ : " اصْبُبْ فَصَبَّ عَلَى رَأْسِهِ ثُمَّ حَرَّكَ رَأْسَهُ بِيَدَيْهِ فَأَقْبَلَ بِهِمَا وَأَدْبَرَ ، ثُمَّ قَالَ : هَكَذَا رَأَيْتُهُ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَفْعَلُ " .
نوید مجید طیب
عبد اللہ بن حنین رحمہ اللہ سے روایت ہے سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما اور مسور بن مخرمہ رضی اللہ عنہ کا مقام ابواء پر محرم کا سر دھونے پر اختلاف ہو گیا۔ ابن عباس رضی اللہ عنہما نے کہا محرم سر دھو سکتا ہے جبکہ مسور رضی اللہ عنہ کہتے تھے، نہیں دھو سکتا تو سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما نے مجھے سیدنا ابو ایوب انصاری رضی اللہ عنہ کے پاس مسئلہ پوچھنے بھیجا تو میں نے انہیں کنوئیں کی دو لکڑیوں کے درمیان غسل کرتے پایا کپڑے سے انہوں نے پردہ کیا ہوا تھا میں نے سلام کیا تو کہنے لگے کون ہے؟ میں نے کہا عبداللہ بن حنین رحمہ اللہ ہوں، ابن عباس رضی اللہ عنہما نے بھیجا ہے کہ دریافت کروں کہ رسول اللہ ﷺ (حالت احرام میں) سر کیسے دھوتے تھے تو ابو ایوب رضی اللہ عنہ نے کپڑا تھوڑا ہاتھ سے نیچے کیا حتیٰ کہ اُن کا سر مجھے دکھائی دینے لگا پھر جو بندہ اُن پر پانی بہا رہا تھا اسے کہا بھائی پانی بہاؤ اس نے اُن کے سر پر پانی بہایا پھر انہوں نے اپنے سر کو دونوں ہاتھوں سے ملا پہلے دونوں ہاتھ آگے لے گئے پھر پیچھے لائے تو فرمایا: ”میں نے رسول اللہ ﷺ کو ایسے ہی کرتے دیکھا تھا۔“
وضاحت:
➊ حالت احرام میں غسل کیا جا سکتا ہے سر دھویا جا سکتا ہے۔
➋ اختلاف رائے کے بعد حدیث رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف لوٹنا اور خبر واحد کی حجیت جیسے عظیم امور حدیث ہذا سے ثابت ہوتے ہیں۔
حوالہ حدیث السنن المأثورة / باب ما جاء في فدية الأذى / حدیث: 471
تخریج حدیث صحیح بخاری، جزاء الصید، باب الاغتسال للمحرم، رقم: 1840، صحیح مسلم، الحج، باب جواز غسل المحرم بدنہ ورأسہ، رقم: 1205۔
حدیث نمبر: 472
عَنْ مَالِكٍ ، عَنْ نَافِعٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ ، عَنْ حَفْصَةَ زَوْجِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، أَنَّهَا قَالَتْ لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : مَا شَأْنُ النَّاسِ حَلُّوا وَلَمْ تَحْلِلْ أَنْتَ مِنْ عُمْرَتِكِ ؟ قَالَ : " إِنِّي لَبَّدْتُ رَأْسِي وَقَلَّدْتُ هَدْيِي فَلا أَحِلُّ حَتَّى أَنْحَرَ " .
نوید مجید طیب
سیدہ حفصہ رضی اللہ عنہا رسول اللہ ﷺ کی زوجہ فرماتی ہیں میں نے رسول اللہ ﷺ سے عرض کیا: کیا بات ہے لوگ تو عمرہ کر کے حلال ہو گئے لیکن آپ حلال نہیں ہوئے؟ آپ ﷺ نے فرمایا: ”میں نے سر کی تلبید کی ہے اور ساتھ قربانی کا جانور لایا ہوں تو قربانی کرنے سے پہلے احرام نہیں کھول سکتا۔“
وضاحت:
➊ تلبید بالوں کو جل وغیرہ لگانا تاکہ سمٹے رہیں اور بکھرنے سے محفوظ رہیں۔ اس کا جواز ہے کیونکہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا احرام لمبی مدت تقریباً دو ہفتے کا تھا آپ صلی اللہ علیہ وسلم جانور ساتھ لائے تھے حج قرآن کیا تھا۔
«قلدت الهدى» قربانی کے جانور کو ہار پہنانا یہ اس جانور کے لیے ہوتا ہے جو ساتھ لایا جائے، دور حاضر میں جانور موقع سے ہی خریدے جاتے ہیں اس لیے ان کو قلادہ کی نوبت یا ضرورت نہیں ہوتی ہے۔
➌ قلادہ بھی ایک شعار ہے کہ جانور بیت اللہ جا رہا ہے اس سے تعرض نہ کیا جائے۔
حوالہ حدیث السنن المأثورة / باب ما جاء في فدية الأذى / حدیث: 472
تخریج حدیث صحیح بخاری، الحج، باب التمتع والاقران والافراد فی الحج، رقم: 1566، صحیح مسلم، الحج، باب القارن لا ینحل الا فی وقت تحلل ...... الخ، رقم: 1229۔
حدیث نمبر: 473
عَنْ مَالِكِ بْنِ أَنَسٍ ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ ، عَنْ أَبِيهِ ، أَنَّهُ سَأَلَ أُسَامَةَ بْنَ زَيْدٍ وَأَنَا جَالِسٌ مَعَهُ كَيْفَ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَسِيرُ فِي حَجَّةِ الْوَدَاعِ حِينَ دَفَعَ ؟ قَالَ : " كَانَ يَسِيرُ الْعَنَقَ فَإِذَا وَجَدَ فَجْوَةً نَصَّ " . قَالَ مَالِكٌ : قَالَ هِشَامٌ : وَالنَّصُّ فَوْقَ الْعَنَقِ . قَالَ أَبُو جَعْفَرٍ : هَكَذَا حَدَّثَنَاهُ إِسْمَاعِيلُ بْنُ يَحْيَى مِنْ كِنَانَةَ عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ عَنْ أَبِيهِ : أَنَّهُ سَأَلَ أُسَامَةَ بْنَ زَيْدٍ وَأَنَا جَالِسٌ مَعَهُ . وَهَذَا غَلَطٌ ؛ لأَنَّ هِشَامًا لَمْ يَرَ أُسَامَةَ وَإِنَّمَا هُوَ عِنْدَنَا وَاللَّهُ أَعْلَمُ أَنَّهُ سَأَلَ أُسَامَةَ بْنَ زَيْدٍ رَجُلٌ وَأَنَا جَالِسٌ مَعَهُ حَتَّى يَرْجِعَ الْجُلُوسُ إِلَى عُرْوَةَ .
نوید مجید طیب
ہشام بن عروہ رحمہ اللہ سے روایت ہے اُن کے والد نے اسامہ بن زید رضی اللہ عنہ سے سوال کیا میں بھی اُن کے ساتھ بیٹھا تھا کہ رسول اللہ ﷺ عرفات سے واپسی پر کس چال پر چلتے آئے؟ انہوں نے فرمایا: ”آپ ﷺ پاؤں اٹھا کر ذرا تیز چلتے تھے جب کشادہ جگہ ملتی تو اور تیز چلتے۔“
وضاحت:
«العنق» بمعنی تیز چلنا، «نص» «العنق» سے زیادہ تیز چلنے کے لیے بولا جاتا ہے۔
➋ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی ایک ایک ادا نوٹ کرتے اور اس پر عمل بھی کرتے۔
حوالہ حدیث السنن المأثورة / باب ما جاء في فدية الأذى / حدیث: 473
تخریج حدیث صحیح بخاری، الحج، باب السیر اذا دفع من عرفۃ، رقم: 1666، صحیح مسلم، الحج، باب الافاضۃ من عرفات الی المزدلفۃ، رقم: 1286۔
حدیث نمبر: 474
عَنْ سُفْيَانَ بْنِ عُيَيْنَةَ ، عَنْ هِشَامٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، قَالَ : سُئِلَ أُسَامَةُ بْنُ زَيْدٍ وَأَنَا إِلَى جَنْبِهِ وَكَانَ رَدِيفَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ عَرَفَةَ إِلَى الْمُزْدَلِفَةِ : كَيْفَ كَانَ سَيْرُ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ؟ قَالَ : " كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَسِيرُ الْعَنَقَ فَإِذَا وَجَدَ فَجْوَةً نَصَّ . قَالَ هِشَامٌ : وَالنَّصُّ فَوْقَ الْعَنَقِ قَالَ أَبُو جَعْفَرٍ : وَقَدْ دَلَّ مَا ذَكَرْنَاهُ فِي حَدِيثِ سُفْيَانَ هَذَا : سُئِلَ أُسَامَةُ وَأَنَا إِلَى جَنْبِهِ , أَنَّهُ مِنْ كَلامِ عُرْوَةَ عَلَى مَا ظَنَنَّا مِنْ حَدِيثِ مَالِكٍ عَنْ هِشَامٍ الَّذِي قَبْلَ هَذَا .
نوید مجید طیب
ہشام رحمہ اللہ سے روایت ہے ان کو اُن کے والد عروہ رحمہ اللہ نے بتایا کہ اسامہ بن زید رضی اللہ عنہ سے سوال کیا گیا (جب میں بھی اُن کے ساتھ تھا، اسامہ رضی اللہ عنہ عرفہ سے مزدلفہ کے سفر میں رسول اللہ ﷺ کے پیچھے سوار تھے) کہ رسول اللہ ﷺ کس طرح چل کر تشریف لائے؟ تو انہوں نے فرمایا: ”رسول اللہ ﷺ تیز چلتے آئے جب خالی جگہ ملتی تو اور تیز ہو جاتے۔“ ہشام رحمہ اللہ کہتے ہیں نص، عنق سے زیادہ تیز چال کو کہتے ہیں۔
حوالہ حدیث السنن المأثورة / باب ما جاء في فدية الأذى / حدیث: 474
تخریج حدیث مسند الحمیدی: 248/1، 249، رقم: 543 وصححہ ابن خزیمہ: 266/4، رقم: 2845۔
حدیث نمبر: 475
أَنْبَأَنَا مَالِكُ بْنُ أَنَسٍ ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ ، عَنْ سَالِمِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، أَنَّ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ مُحَمَّدِ بْنِ أَبِي بَكْرٍ الصِّدِّيقِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَخْبَرَ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عُمَرَ ، عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا زَوْجِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " أَلَمْ تَرَيْ أَنَّ قَوْمَكِ حِينَ بَنَوَا الْكَعْبَةَ اقْتَصَرُوا عَنْ قَوَاعِدِ إِبْرَاهِيمَ عَلَيْهِ السَّلامُ ؟ " فَقُلْتُ : يَا رَسُولَ اللَّهِ أَفَلا تَرُدُّهَا عَلَى قَوَاعِدِ إِبْرَاهِيمَ ؟ فَقَالَ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " لَوْلا حِدْثَانُ قَوْمِكِ بِالْكُفْرِ لَرَدَدْتُهَا عَلَى مَا كَانَتْ عَلَيْهِ " . قَالَ : فَقَالَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ : لَئِنْ كَانَتْ عَائِشَةُ سَمِعَتْ هَذَا مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَا أَرَى رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ تَرَكَ اسْتِلامَ الرُّكْنَيْنِ اللَّذَيْنِ يَلِيَانِ الْحَجَرَ إِلا أَنَّ الْبَيْتَ لَمْ يُتَمَّمْ عَلَى قَوَاعِدِ إِبْرَاهِيمَ عَلَيْهِ السَّلامُ .
نوید مجید طیب
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا زوج نبی ﷺ سے روایت ہے رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”کیا تجھے معلوم ہے جب تیری قوم نے کعبہ کی تعمیر کی تو بنیاد ابراہیم علیہ السلام کو چھوڑ دیا تھا؟“ میں نے عرض کی اے اللہ کے رسول ﷺ! آپ بنیادِ ابراہیم علیہ السلام پر کعبہ کیوں نہیں بنا دیتے؟ آپ ﷺ نے فرمایا: ”اگر تیری قوم کا زمانہ کفر تازہ تازہ نہ ہوتا تو میں ایسا کر دیتا۔“ عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں اگر یہ حدیث عائشہ رضی اللہ عنہا نے سنی ہے تو میرا خیال ہے کہ حطیم کی طرف سے دو کونوں کا استلام چھوڑنا اسی بناء پر ہو گا کہ بیت اللہ حضرت ابراہیم علیہ السلام کی بنیادوں پر نہیں بنایا گیا۔
وضاحت:
➊ قریش کے پاس حلال مال کم پڑ گیا تھا اس لیے انہوں نے عمارت چھوٹی کر دی، اس کا یہ فائدہ ہوا کہ عصر حاضر میں عام آدمی بھی کعبہ کے اندر نماز پڑھنا چاہے تو اس چھوڑی ہوئی جگہ پر پڑھ سکتا ہے۔
➋ فتنہ و فساد کے خطرے سے کوئی بھی مباح کام ترک کیا جا سکتا ہے، حکمت عملی بنیادی حیثیت رکھتی ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایسا کرنا اس لیے ترک کیا کہ نئے نئے مسلمان ہونے والے سمجھیں گے اب کعبہ گرایا جا رہا ہے۔
➌ عصر حاضر میں خصوصی طور پر دینی ذوق رکھنے والوں کو یہ حدیث زیر مطالعہ رکھنی چاہیے، جو اصلاح کی خواہش میں تخریب و تدمیر کر دیتے ہیں۔
➍ کفار مکہ نے کعبہ پر حرام مال نہ لگایا لیکن آج سود خوری اور حرام مال سے مساجد تعمیر کی جاتی ہیں اصلاح کی ضرورت ہے۔
حوالہ حدیث السنن المأثورة / باب ما جاء في فدية الأذى / حدیث: 475
تخریج حدیث صحیح بخاری، الحج، باب فضل مکۃ وبنیانھا، رقم: 1583، صحیح مسلم، الحج، باب نقض الکعبۃ وبنائھا، رقم: 1333۔
حدیث نمبر: 476
عَنْ مَالِكِ بْنِ أَنَسٍ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ أَبِي سَعِيدٍ الْمَقْبُرِيِّ ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ جُرَيْجٍ ، قَالَ أَبُو جَعْفَرٍ : هَكَذَا حَدَّثَنَا الْمُزَنِيُّ ، وَإِنَّمَا هُوَ عُبَيْدُ بْنُ جُرَيْجٍ ، أَنَّهُ قَالَ لِعَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ : يَا أَبَا عَبْدِ الرَّحْمَنِ رَأَيْتُكَ تَصْنَعُ أَرْبَعًا لَمْ أَرَ أَحَدًا مِنْ أَصْحَابِكَ يَصْنَعُهَا ، قَالَ : مَا هُنَّ يَا ابْنَ جُرَيْجٍ ؟ قَالَ : رَأَيْتُكَ لا تَمَسُّ مِنَ الأَرْكَانِ إِلا الْيَمَانِيَيْنِ ، وَرَأَيْتُكَ تَلْبَسُ النِّعَالَ السِّبْتِيَّةَ ، وَرَأَيْتُكَ تَصْبُغُ بِالصُّفْرَةِ ، وَرَأَيْتُكَ إِذَا كُنْتَ بِمَكَّةَ أَهَلَّ النَّاسُ إِذَا رَأَوُا الْهِلالَ وَلَمْ تُهْلِلْ أَنْتَ حَتَّى يَكُونَ يَوْمُ التَّرْوِيَةِ ، قَالَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ : " أَمَّا الأَرْكَانُ : فَإِنِّي لَمْ أَرَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَمَسُّ إِلا الْيَمَانِيَيْنِ ، وَأَمَّا النِّعَالُ السِّبْتِيَّةُ : فَإِنِّي رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَلْبَسُ النِّعَالَ الَّتِي لَيْسَ فِيهَا شَعَرٌ وَيَتَوَضَّأُ فِيهَا ، فَأَنَا أُحِبُّ أَنْ أَلْبَسَهَا ، وَأَمَّا الصُّفْرَةُ : فَإِنِّي رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَصْبُغُ بِهَا ، فَأَنَا أُحِبُّ أَنْ أَصْبُغَ بِهَا : وَأَمَّا الإِهْلالُ : فَإِنِّي لَمْ أَرَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُهِلُّ حَتَّى تَبْعَثَ بِهِ رَاحِلَتُهُ " .
نوید مجید طیب
عبید بن جریج رحمہ اللہ نے سیدنا عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے کہا اے ابو عبدالرحمن! میں آپ کو چار ایسے کام کرتے دیکھتا ہوں جو آپ کے ساتھیوں میں سے کوئی نہیں کرتا، انہوں نے پوچھا: اے ابن جریج رحمہ اللہ وہ کون سے ہیں؟ تو ابن جریج رحمہ اللہ نے کہا میں (دوران طواف) دیکھتا ہوں کہ آپ دو یمانی رکنوں کے علاوہ کسی رکن کو نہیں چھوتے، اور میں دیکھتا ہوں کہ آپ سبتی جوتے پہنتے ہیں، اور آپ زرد رنگ استعمال کرتے ہیں اور میں نے دیکھا کہ آپ جب مکہ میں تھے لوگوں نے ذی الحجہ کا چاند دیکھتے ہی لبیک پکارا اور آپ نے آٹھویں تاریخ تک احرام نہیں باندھا یا تلبیہ بلند نہیں کیا۔ سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے جواب دیا جو مسئلہ ارکان سے متعلق ہے تو میں نے صرف دو یمنی ارکان کو ہی رسول اللہ ﷺ کو چھوتے ہوئے دیکھا ہے، اور جہاں تک جوتوں کا تعلق تو میں نے رسول اللہ ﷺ کو ایسے جوتے پہنتے دیکھا ہے جس پر بال نہیں تھے ان ہی میں آپ ﷺ وضوء فرما لیتے تھے تو مجھے بھی ایسے ہی جوتے پہننا پسند ہیں، جہاں تک زرد رنگ کا تعلق ہے تو میں نے دیکھا رسول اللہ ﷺ اس رنگ سے رنگتے تھے تو میں بھی اسی رنگ سے (بال یا کپڑا بطور خوشبو) رنگنا پسند کرتا ہوں، رہا مسئلہ احرام باندھنے کا تو میں نے رسول اللہ ﷺ کو اس وقت تک احرام باندھتے ہوئے نہیں دیکھا حتیٰ کہ آپ ﷺ کی اونٹنی آپ کو لے کر نہ (منی کی جانب) چل پڑتی۔
وضاحت:
➊ سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما نے اتباع رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی بہترین دلیل اور تصویر پیش کی۔
➋ علماء نے لکھا ہے اگر زردرنگ زعفران کا نہیں تو مرد بھی استعمال کر سکتے ہیں۔ البتہ ایسے خصوصی شعار زردرنگ جو کفر کی خاص علامت بن جائیں ان سے اجتناب ضروری ہے۔
➌ شرعی مسائل کا اہل علم سے استفسار کرنا چاہیے۔
➍ ہر عمل کی بنیاد وحی الہی ہونی چاہیے۔
➎ مسئلہ کو کتاب و سنت کے دلائل سے بیان کرنا اہل علم اور اسلاف کا طرہ امتیاز رہا ہے۔
حوالہ حدیث السنن المأثورة / باب ما جاء في فدية الأذى / حدیث: 476
تخریج حدیث صحیح بخاری، الوضوء، باب غسل الرجلین فی النعلین ولا یمسح الخ، رقم: 166، صحیح مسلم، الحج، باب الاہلال من حیث تنبعث بہ راحلتہ، رقم: 1187۔
حدیث نمبر: 477
عَنْ مَالِكِ بْنِ أَنَسٍ ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ نَوْفَلِ بْنِ الْحَارِثِ بْنِ عَبْدِ الْمُطَّلِبِ ، أَنَّهُ حَدَّثَهُ أَنَّهُ ، سَمِعَ سَعْدَ بْنَ أَبِي وَقَّاصٍ ، وَالضَّحَّاكَ بْنَ قَيْسٍ ، عَامَ حَجَّ مُعَاوِيَةُ بْنُ أَبِي سُفْيَانَ وَهُمَا يَذْكُرَانِ التَّمَتُّعَ بِالْعُمْرَةِ إِلَى الْحَجِّ ، فَقَالَ الضَّحَّاكُ : لا يَصْنَعُ ذَلِكَ إِلا مَنْ جَهِلَ أَمْرَ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ ، فَقَالَ سَعْدٌ رَحِمَهُ اللَّهُ : بِئْسَ مَا قُلْتَ يَا ابْنَ أَخِي ، فَقَالَ الضَّحَّاكُ : فَإِنَّ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَدْ نَهَى عَنْ ذَلِكَ ، فَقَالَ سَعْدٌ رَحْمَةُ اللَّهِ عَلَيْهِ : " قَدْ صَنَعَهَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَصَنَعْنَاهَا مَعَهُ " .
نوید مجید طیب
محمد بن عبد الرحمن رحمہ اللہ سے روایت ہے انہوں نے (جس سال سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ نے حج کیا) سنا سیدنا سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ اور سیدنا ضحاک بن قیس رضی اللہ عنہ حج تمتع کے مسئلہ پر گفتگو کر رہے تھے تو سیدنا ضحاک رضی اللہ عنہ نے کہا تمتع وہی کرتا ہے جس کو شریعت سے آگاہی نہیں تو سیدنا سعد رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ”اے میرے بھتیجے بہت بری بات ہے جو تم نے کہی ہے“ انہوں نے کہا بے شک سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے حج تمتع سے منع کیا ہے۔ تو سعد رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ”حج تمتع تو رسول اللہ ﷺ نے کیا اور ہم نے آپ کے ساتھ حج تمتع کیا۔“
وضاحت:
➊ بحث میں آداب گفتگو کو دونوں صاحبان نے ملحوظ رکھ کر امت کو گفتگو سکھائی، بات حدیث رسول صلی اللہ علیہ وسلم پر آ کر ختم ہو گئی۔
➋ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حج قران کیا تھا کیونکہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم مدینہ سے قربانی ساتھ لائے تھے جو صحابہ رضی اللہ عنہم قربانی نہیں لائے تھے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کو حکماً حج تمتع کرنے کا فرمایا یہی سیدنا سعد رضی اللہ عنہ کی مراد ہے۔
➌ سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ بعض انتظامی آرڈر مصلحت کی خاطر پاس کرتے تھے جو وقتی انتظامی نوعیت کا حکم ہوتا تھا حج تمتع سے منع کرنا بھی انتظامی حکم تھا عرب کے لوگ حج کے ساتھ ہی عمرہ کر جاتے پھر پورا سال نہ آتے کہ عمرہ ساتھ ہی کر آئے ہیں اس لیے انہوں نے حج تمتع سے منع کیا تاکہ لوگ بیت اللہ کی طرف بار بار اور قصداً آئیں سارا سال بیت اللہ میں رونق بحال رہے۔
➍ کرونا کی وبا کے باعث سعودی حکومت نے دیگر ممالک کو حج سے روک دیا تو اس سے شریعت نہ بدلی بلکہ یہ انتظامی حکم تھا اس طرح امیر المومنین سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے بھی حکم دیا جنہوں نے اس حکم کو مستقل حکم سمجھا ان پر صحابہ نے خود رد کیا جیسے اس حدیث میں بھی ہے اور سیدنا عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے حج تمتع کے لیے احرام باندھا تو ان سے کہا گیا عمر رضی اللہ عنہ نے تو حج تمتع سے منع کیا کرتے تھے اس پر ابن عمر رضی اللہ عنہما نے فرمایا: «أ أمر أبى يتبع أم أمر رسول الله صلى الله عليه وسلم» میرے والد صاحب کی پیروی کی جائے گی یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی بات مانی جائے گی؟ [سنن ترمذی: 824]
حوالہ حدیث السنن المأثورة / باب ما جاء في فدية الأذى / حدیث: 477
تخریج حدیث سنن ترمذی، الحج، باب ماجاء فی التمتع، رقم: 823، سنن نسائی، المناسک، باب التمتع، رقم: 2734 وقال الالبانی: ضعیف الاسناد۔
حدیث نمبر: 478
عَنْ مَالِكِ بْنِ أَنَسٍ ، عَنْ أَبِي الزِّنَادِ ، عَنِ الأَعْرَجِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَأَى رَجُلا يَسُوقُ بَدَنَةً ، فَقَالَ لَهُ : " ارْكَبْهَا " ، فَقَالَ : يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنَّهَا بَدَنَةٌ ، فَقَالَ : " ارْكَبْهَا وَيْلَكَ " ، فِي الثَّانِيَةِ أَوِ الثَّالِثَةِ .
نوید مجید طیب
سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے رسول اللہ ﷺ نے ایک آدمی کو قربانی کا اونٹ پیدل لے جاتے دیکھا تو فرمایا: ”اس پر سوار ہو جا“ تو وہ کہنے لگا اے اللہ کے رسول! یہ تو قربانی کا جانور ہے تو آپ ﷺ نے دوبارہ فرمایا: ”اس پر سوار ہو جا“ (پھر نہیں ہوا تو) دوسری یا تیسری دفعہ فرمایا: ”افسوس تجھ پر سوار ہو جا۔“
وضاحت:
➊ زمانہ جہالت میں مذہبی رسوم کے جانور سائبہ وغیرہ مقدس جانے جاتے تھے لوگ ان پر سواری نہ کرتے تھے وہ آدمی بھی سمجھ رہا تھا کہ شاید اس پر سواری جائز نہ ہو تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے ڈانٹ کر سوار کرایا تاکہ غلط تصور کا قلع قمع ہو سکے، جہاں سختی کی ضرورت تھی وہاں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سختی سے بھی حکم دیتے رہے ہیں خصوصاً جب معاملہ توحید سے متعلقہ ہوتا یا حدود اللہ کا معاملہ ہوتا۔
➋ قربانی کے لیے مختص ہو جانے والے جانور سے فائدہ اٹھانا جائز ہے۔
حوالہ حدیث السنن المأثورة / باب ما جاء في فدية الأذى / حدیث: 478
تخریج حدیث صحیح بخاری، الحج، باب رکوب البدن، رقم: 1689، صحیح مسلم، الحج، باب جواز رکوب البدنۃ ..... الخ، رقم: 1322۔
حدیث نمبر: 479
عَنْ مَالِكِ بْنِ أَنَسٍ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ نَوْفَلٍ ، عَنْ عُرْوَةَ بْنِ الزُّبَيْرِ ، عَنْ زَيْنَبَ بِنْتِ أَبِي سَلَمَةَ ، عَنْ أُمِّ سَلَمَةَ زَوْجِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَتْ : شَكَوْتُ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنِّي أَشْتَكِي ، فَقَالَ : " طُوفِي مِنْ وَرَاءِ النَّاسِ وَأَنْتِ رَاكِبَةٌ " ، قَالَتْ : فَطُفْتُ وَرَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حِينَئِذٍ يُصَلِّي إِلَى جَنْبِ الْبَيْتِ وَهُوَ يَقْرَأُ وَالطُّورِ وَكِتَابٍ مَسْطُورٍ .
نوید مجید طیب
سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا نبی ﷺ کی بیوی فرماتی ہیں میں نے رسول اللہ ﷺ سے شکایت کی کہ میں بیمار ہوں (پیدل طواف مشکل ہے) تو آپ ﷺ نے فرمایا: ”لوگوں سے ہٹ کر سواری پر سوار ہو کر طواف کر لیں“ (تاکہ سواری کی لوگوں کو تکلیف نہ ہو) کہتی ہیں میں نے سواری پر طواف کیا اس وقت رسول اللہ ﷺ کعبہ کے پہلو میں نماز پڑھ رہے تھے اور سورۃ طور کی تلاوت فرما رہے تھے۔
وضاحت:
➊ بیمار سواری و الیکٹرک وہیل چیئر وغیرہ پر طواف کر سکتا ہے نمازیوں سے علیحدہ پیچھے طواف کرے تاکہ ان کو مشقت نہ ہو۔
➋ دوران نماز بھی بوجہ مجبوری طواف کیا جا سکتا ہے جیسے جہاز، گاڑی نکل جانے کا خطرہ وغیرہ ہو۔
➌ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اس وقت جماعت کروا رہے تھے، عورتوں کا باجماعت نماز پڑھنا واجب نہیں اس لیے وہ شریک نہ ہوئیں۔ (واللہ اعلم)
➍ بعض شرعی احکام مخصوص حالات سے متعلق ہوتے ہیں ان کو عام حالات پر منطبق کرنا درست نہیں ہے۔
➎ صحت مند اور تندرست آدمی کو پیدل ہی طواف کرنا چاہیے۔
حوالہ حدیث السنن المأثورة / باب ما جاء في فدية الأذى / حدیث: 479
تخریج حدیث صحیح بخاری، الصلاۃ، باب ادخال البعیر فی المسجد للعلۃ، رقم: 464، صحیح مسلم، الحج، باب جواز الطواف علی بعیر وغیرہ، رقم: 1276۔
حدیث نمبر: 480
عَنْ مَالِكِ بْنِ أَنَسٍ ، عَنْ نَافِعٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ ، " أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَاخَ بِالْبَطْحَاءِ الَّتِي بِذِي الْحُلَيْفَةِ فَصَلَّى بِهَا " . قَالَ نَافِعٌ : وَكَانَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ يَفْعَلُ ذَلِكَ .
نوید مجید طیب
سیدنا عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے رسول اللہ ﷺ نے ذی الحلیفہ کی وادی بطحاء میں اونٹنی بٹھائی اور نماز پڑھائی۔ نافع رحمہ اللہ کہتے ہیں سیدنا عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہما بھی یہی عمل (اسی مقام پر) کرتے تھے۔
حوالہ حدیث السنن المأثورة / باب ما جاء في فدية الأذى / حدیث: 480
تخریج حدیث صحیح بخاری، الحج، رقم: 1532، صحیح مسلم، الحج، باب التعریس بذی الحلیفۃ ..... الخ، رقم: 1257۔
حدیث نمبر: 481
أَنْبَأَنَا مَالِكُ بْنُ أَنَسٍ ، عَنْ جَعْفَرِ بْنِ مُحَمَّدٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، " أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَحَرَ بَعْضَ هَدْيِهِ بِيَدِهِ وَنَحَرَ بَعْضَهُ غَيْرُهُ " .
نوید مجید طیب
سیدنا جابر بن عبد اللہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے رسول اللہ ﷺ نے اپنے کچھ قربانی کے جانور اپنے ہاتھ سے نحر کیے اور کچھ کسی اور نے نحر کیے۔
وضاحت:
➊ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے سو (100) جانور قربان کیے تھے جن میں سے 63 اپنے ہاتھ سے جتنے سال آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی عمر ہوئی اور بقیہ سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے فرمایا کہ ذبح کریں۔
➋ قربانی اپنے ہاتھ سے کرنا سنت ہے۔
➌ کسی دوسرے سے بھی قربانی کا جانور ذبح کروایا جا سکتا ہے۔
➍ اپنے جانور کے علاوہ آدمی دوسروں کے جانور کو بھی ذبح کر سکتا ہے۔
حوالہ حدیث السنن المأثورة / باب ما جاء في فدية الأذى / حدیث: 481
تخریج حدیث سنن نسائی، الضحایا، باب ذبح الرجل غیر اضحیتہ، رقم: 4419 وقال الالبانی: صحیح، مسند احمد: 360/23، رقم: 15173 وقال الارنوؤط : اسناده صحیح على شرط مسلم۔
حدیث نمبر: 482
عَنْ مَالِكِ بْنِ أَنَسٍ ، عَنْ نَافِعٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " اللَّهُمَّ ارْحَمِ الْمُحَلِّقِينَ " ، قَالُوا : وَالْمُقَصِّرِينَ يَا رَسُولَ اللَّهِ ؟ قَالَ : " اللَّهُمَّ ارْحَمِ الْمُحَلِّقِينَ " ، قَالُوا : وَالْمُقَصِّرِينَ يَا رَسُولَ اللَّهِ ؟ قَالَ : " وَالْمُقَصِّرِينَ " .
نوید مجید طیب
سیدنا عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے رسول اللہ ﷺ نے (حج کے موقع پر) فرمایا: ”اے اللہ! حلق کرانے والوں پر رحم فرما“ تو جنہوں نے بال کٹوائے تھے انہوں نے عرض کی بال کٹوانے والوں پر بھی رحم کی دعا فرمائیں اے اللہ کے رسول! آپ ﷺ نے پھر حلق (ٹنڈ) کرانے والوں کے لیے دعا کی، پھر انہوں نے درخواست دُہرائی تو رسول اللہ ﷺ نے (تیسری دفعہ) فرمایا: ”اور بال کٹوانے والوں پر بھی۔“
وضاحت:
اس سے ثابت ہوا حج یا عمرہ میں ٹنڈ کرانا صرف بال کٹوانے سے زیادہ افضل ہے اور ان کے لیے دو دفعہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی دعا ہے اگرچہ صرف بال کٹوا لینا بھی جائز عمل ہے، لیکن بال پورے سر کے برابر کٹوائے جائیں۔
حوالہ حدیث السنن المأثورة / باب ما جاء في فدية الأذى / حدیث: 482
تخریج حدیث صحیح بخاری، الحج، باب الحلق والتقصیر عند الاحلال، رقم: 1727، صحیح مسلم، الحج، باب تفضیل الحلق علی التقصیر، رقم: 1301۔
حدیث نمبر: 483
عَنْ سُفْيَانَ بْنِ عُيَيْنَةَ ، عَنْ أَبِي يَعْفُورٍ ، قَالَ : سَمِعْتُ رَجُلا مِنْ خُزَاعَةَ حِينَ قُتِلَ ابْنُ الزُّبَيْرِ بِمَكَّةَ وَكَانَ أَمِيرًا عَلَى مَكَّةَ ، يَقُولُ : قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِعُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ : " يَا أَبَا حَفْصٍ ، إِنَّكَ رَجُلٌ قَوِيٌّ فَلا تُزَاحِمْ عَلَى الرُّكْنِ فَإِنَّكَ تُؤْذِي الضَّعِيفَ وَلَكِنْ إِنْ وَجَدْتَ خَلْوَةً فَاسْتَلِمْ وَإِلا فَكَبِّرْ وَامْضِ " . قَالَ سُفْيَانُ : هُوَ عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ نَافِعِ بْنِ عَبْدِ الْحَارِثِ كَانَ الْحَجَّاجُ اسْتَعْمَلَهُ عَلَيْهَا مُنْصَرَفَهُ مِنْهَا حِينَ قُتِلَ ابْنُ الزُّبَيْرِ .
نوید مجید طیب
ابو یعفور رحمہ اللہ کہتے ہیں میں نے خزاعہ قبیلہ کے ایک شخص کو جو سیدنا ابن زبیر رضی اللہ عنہ کی شہادت کے بعد مکہ کا امیر تھا کہتے ہوئے سنا کہ نبی اکرم ﷺ نے سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ سے فرمایا: ”اے ابو حفص! تو طاقتور ہے حجر اسود پر زور نہ دینا تو ضعیف کو تکلیف دے گا ہاں جب موقع مل جائے استلام کر لے اگر نہیں تو تکبیر کہہ کر گزر جانا۔“ راوی سفیان بن عینہ اللہ رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ وہ خزاعی عبدالرحمن بن نافع بن عبد الحارث رحمہ اللہ تھا حجاج رحمہ اللہ سیدنا عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہ کی شہادت کے بعد اسے ذمہ داری سونپ گیا تھا۔
وضاحت:
➊ عبادت کا مقصود لوگوں کو تکلیف دینا نہیں۔
➋ حجر اسود کا بوسہ سنت ہے اور لوگوں کو تکلیف دینا حرام ہے، ایک حرام کام کر کے سنت پر عمل کرنا بے وقوفی ہے یعنی تکالیف پہنچا کر بوسہ دینا جس کے بغیر بھی طواف مکمل ہے ثواب میں کمی نہیں تو لوگوں کو تکلیف پہنچا کر دھکے دے کر حرام کام کیوں کرنا ہے کاش یہ حدیث ان لوگوں تک پہنچ جائے جن کے ایک دھکے سے دوسرے لوگ تنکے کی طرح بہہ جاتے ہیں۔
حوالہ حدیث السنن المأثورة / باب ما جاء في فدية الأذى / حدیث: 483
تخریج حدیث مسند احمد: 321/1، رقم: 190 وقال الارنوؤط: حديث حسن، رجله ثقات ، السنن الكبرى للبيهقي : 70/5 وقال الهيثمى رواة احمد وفيه راو لم يسم مجمع الزوائد : 241/3 ۔