حدیث نمبر: 484
عَنْ مَالِكِ بْنِ أَنَسٍ ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ ، عَنْ عِيسَى بْنِ طَلْحَةَ بْنِ عُبَيْدِ اللَّهِ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرِو بْنِ الْعَاصِ ، أَنَّهُ قَالَ : وَقَفَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي حَجَّةِ الْوَدَاعِ بِمِنًى لِلنَّاسِ يَسْأَلُونَهُ ، فَجَاءَهُ رَجُلٌ فَقَالَ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، لَمْ أَشْعُرْ فَحَلَقْتُ قَبْلَ أَنْ أذْبَحْ ، فَقَالَ : " اذْبَحْ وَلا حَرَجَ " ، فَجَاءَهُ آخَرُ فَقَالَ : يَا رَسُولَ اللَّهِ لَمْ أَشْعُرْ فَنَحَرْتُ قَبْلَ أَنْ أَرْمِيَ ؟ فَقَالَ : " ارْمِ وَلا حَرَجَ " ، قَالَ : فَمَا سُئِلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ شَيْءٍ قُدِّمَ وَلا أُخِّرَ إِلا قَالَ : " افْعَلْ وَلا حَرَجَ " .
نوید مجید طیب
سیدنا عبد اللہ بن عمرو بن العاص رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ منی میں حجۃ الوداع کے موقع پر لوگوں کے لیے رکے تاکہ سوال کر لیں تو ایک آدمی آیا کہنے لگا پتہ نہیں چلا میں نے سر قربانی کرنے سے پہلے مونڈ لیا ہے آپ ﷺ نے فرمایا : ”کوئی حرج نہیں قربانی کر لے“ ایک دوسرا آدمی آیا کہنے لگا اے رسول اللہ ﷺ مجھے پتہ نہیں چلا کنکریاں مارنے سے پہلے میں نے قربانی کر ڈالی؟ تو آپ ﷺ نے فرمایا: ”کوئی بات نہیں کنکریاں اب مار لے“ راوی کہتے ہیں کہ جو بھی تقدیم و تاخیر کا سوال (دس ذوالحجہ کو) ہوا آپ ﷺ نے فرمایا : «افعل ولا حرج» (اب کر لے کوئی حرج نہیں)۔
وضاحت:
➊ امام بخاری رحمہ اللہ نے اس سے استدلال کیا ہے کہ کنکریاں مارتے وقت بھی مسئلہ پوچھا جا سکتا ہے اور سواری پر بھی پوچھا جا سکتا ہے۔
➋ 10 ذی الحجہ میں حاجی کے بالترتیب کرنے کے کام اس طرح ہیں: (1) کنکریاں مارنا (2) قربانی کرنا (3) بال کٹوانا (4) طواف کرنا (5) سعی۔ حج تمتع کرنے والے پر اور اگر حج مفرد اور قارن والے نے طواف قدوم کے ساتھ سعی نہیں کی تو وہ بھی سعی کرے گا، ان پانچ کاموں میں اگر ترتیب آگے پیچھے ہو جائے تو کوئی حرج نہیں۔
➌ اگر مسئلہ معلوم نہ ہو تو صاحب علم سے راہ نمائی لے لینی چاہیے۔
➋ 10 ذی الحجہ میں حاجی کے بالترتیب کرنے کے کام اس طرح ہیں: (1) کنکریاں مارنا (2) قربانی کرنا (3) بال کٹوانا (4) طواف کرنا (5) سعی۔ حج تمتع کرنے والے پر اور اگر حج مفرد اور قارن والے نے طواف قدوم کے ساتھ سعی نہیں کی تو وہ بھی سعی کرے گا، ان پانچ کاموں میں اگر ترتیب آگے پیچھے ہو جائے تو کوئی حرج نہیں۔
➌ اگر مسئلہ معلوم نہ ہو تو صاحب علم سے راہ نمائی لے لینی چاہیے۔
حدیث نمبر: 485
عَنْ مَالِكِ بْنِ أَنَسٍ ، عَنْ نَافِعٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ ، أَنَّ تَلْبِيَةَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " لَبَّيْكَ اللَّهُمَّ لَبَّيْكَ لَبَّيْكَ لا شَرِيكَ لَكَ لَبَّيْكَ إِنَّ الْحَمْدَ وَالنِّعْمَةَ لَكَ وَالْمُلْكَ لا شَرِيكَ لَكَ " . قَالَ نَافِعٌ : وَكَانَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ يَزِيدُ فِيهَا : لَبَّيْكَ لَبَّيْكَ لَبَّيْكَ وَسَعْدَيْكَ وَالْخَيْرُ فِي يَدَيْكَ وَالرَّغْبَى إِلَيْكَ وَالْعَمَلُ .
نوید مجید طیب
سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے رسول اللہ ﷺ کا تلبیہ یہ تھا : «لبيك اللہم لبيك لبيك لا شريك لك لبيك ان الحمد والنعمة لك والملك لا شريك لك» ”اے اللہ میں حاضر ہو، حاضر ہوں، میں حاضر ہوں تیرا کوئی شریک نہیں میں حاضر ہوں، بے شک تعریف نعمت اور بادشاہی تیری ہی ہے تیرا کوئی شریک نہیں۔“ نافع رحمہ اللہ کہتے ہیں عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ مزید یہ الفاظ بھی کہتے تھے : «لبيك لبيك لبيك وسعديك والخير فى يديك والرغبٰي اليك والعمل» ”میں حاضر ہوں، حاضر ہوں، حاضر ہوں، تیرے سامنے ہی بغرض سعادت حاضر ہوں تیرے دونوں ہاتھوں میں بھلائی ہی بھلائی ہے، تیری ہی طرف لگن اور عمل ہے۔“
حدیث نمبر: 486
عَنْ مَالِكِ بْنِ أَنَسٍ ، عَنْ جَعْفَرِ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ عَلِيٍّ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ الأَنْصَارِيِّ ، قَالَ : " رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَرْمُلُ مِنَ الْحَجَرِ الأَسْوَدِ حَتَّى انْتَهَى إِلَيْهِ ثَلاثَةَ أَطْوَافٍ " .
نوید مجید طیب
سیدنا جابر بن عبداللہ انصاری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے میں نے رسول اللہ ﷺ کو حجر اسود سے رمل کرتے دیکھا حتیٰ کہ تین چکر رمل (دوڑ کر) کرتے تھے۔
حدیث نمبر: 487
عَنْ مَالِكِ بْنِ أَنَسٍ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْقَاسِمِ ، عَنْ أَبِيهِ ، أَنَّ أَسْمَاءَ بِنْتَ عُمَيْسٍ وَلَدَتْ مُحَمَّدَ بْنَ أَبِي بَكْرٍ بِالْبَيْدَاءِ ، فَذَكَرَ ذَلِكَ أَبُو بَكْرٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " مُرْهَا فَلْتَغْتَسِلْ ثُمَّ لِتُهِلَّ " .
نوید مجید طیب
قاسم رحمہ اللہ سے روایت ہے سیدہ اسماء بنت عمیس رضی اللہ عنہا نے مقام بیداء پر محمد بن سیدنا ابو بکر رضی اللہ عنہ کو جنا تو ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ نے اس بات کا ذکر رسول اللہ ﷺ سے کیا تو آپ ﷺ نے فرمایا: ”انہیں حکم دو غسل کریں پھر احرام باندھیں۔“
حدیث نمبر: 488
عَنْ حَاتِمِ بْنِ إِسْمَاعِيلَ ، وَإِبْرَاهِيمَ بْنِ أَبِي يَحْيَى ، عَنْ جَعْفَرِ بْنِ مُحَمَّدٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، قَالَ : فَلَمَّا كُنَّا بِالْبَيْدَاءِ وَلَدَتْ أَسْمَاءُ بِنْتُ عُمَيْسٍ مُحَمَّدَ بْنَ أَبِي بَكْرٍ ، فَذُكِرَ ذَلِكَ لِلنَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَقَالَ : " مُرْهَا فَلْتَغْتَسِلْ ، أَوْ قَالَ مُرُوهَا فَلْتَغْتَسِلْ ثُمَّ لِتُهِلَّ " . الشَّكُّ مِنَ الشَّافِعِيِّ .
نوید مجید طیب
سیدنا جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما سے روایت ہے ہم بیداء مقام پر پہنچے تو اسماء بنت عمیس رضی اللہ عنہا کے ہاں محمد بن ابی بکر کی پیدائش ہوئی۔ رسول اللہ ﷺ کو بتایا گیا تو آپ ﷺ نے فرمایا : ”اسے حکم دو غسل کرے پھر احرام باندھ لے۔“
وضاحت:
➊ سیدہ اسماء بنت عمیس رضی اللہ عنہا، سیدنا جعفر بن ابی طالب رضی اللہ عنہ کی زوجہ محترمہ تھیں انہوں نے جعفر رضی اللہ عنہ کے ساتھ ہجرت حبشہ بھی کی پھر غزوہ موتہ میں سیدنا جعفر رضی اللہ عنہ شہید ہو گئے تو بعد از عدت ان سے سیدنا ابو بکر رضی اللہ عنہ نے نکاح کیا۔ سیدنا ابو بکر رضی اللہ عنہ کی وفات کے بعد ان سے سیدنا علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ نے نکاح کیا یہ چالیس ہجری کو سیدنا علی رضی اللہ عنہ کی شہادت کے بعد فوت ہوئیں۔ آپ عبد اللہ بن جعفر رضی اللہ عنہ، محمد بن ابی بکر رحمہ اللہ اور یحییٰ بن علی رحمہ اللہ کی والدہ ہیں اور یہ تینوں باہم اخیافی بھائی تھے۔ سیدہ اسماء رضی اللہ عنہا، ام المومنین میمونہ بنت حارث رضی اللہ عنہا کی اخیافی بہن بھی تھیں۔
➋ سیدہ اسماء رضی اللہ عنہا کے ہاں محمد بن ابی بکر رحمہ اللہ کی احرام باندھنے سے قبل ہی ولادت ہوئی، وہ نفاس میں تھیں، حالت نفاس کو غسل پاک نہیں کرتا، یہ حکم غسل، سنتِ احرام میں سے ہے اگر صرف وضو کر لیا جائے تو بھی احرام کے لیے کافی ہے لیکن غسل افضل ہے۔
➋ سیدہ اسماء رضی اللہ عنہا کے ہاں محمد بن ابی بکر رحمہ اللہ کی احرام باندھنے سے قبل ہی ولادت ہوئی، وہ نفاس میں تھیں، حالت نفاس کو غسل پاک نہیں کرتا، یہ حکم غسل، سنتِ احرام میں سے ہے اگر صرف وضو کر لیا جائے تو بھی احرام کے لیے کافی ہے لیکن غسل افضل ہے۔
حدیث نمبر: 489
عَنْ سُفْيَانَ بْنِ عُيَيْنَةَ ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي يَزِيدَ ، عَنْ أَبِيهِ ، قَالَ : أَرْسَلَ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ إِلَى شَيْخٍ مِنْ بَنِي زُهْرَةَ مِنْ أَهْلِ دَارِنَا فَذَهَبْتُ مَعَ الشَّيْخِ إِلَى عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ وَهُوَ فِي الْحِجْرِ فَسَأَلَهُ عَنْ وِلادٍ مِنْ وِلادٍ مِنْ قَالَ : وَكَانَتِ الْمَرْأَةُ فِي الْجَاهِلِيَّةِ إِذَا طَلَّقَهَا زَوْجُهَا أَوْ مَاتَ عَنْهَا نَكَحَتْ بِغَيْرِ عِدَّةٍ ، فَقَالَ الرَّجُلُ : أَمَّا النُّطْفَةُ فَمِنْ فُلانٍ وَأَمَّا الْوَلَدُ فَهُوَ عَلَى فِرَاشِ فُلانٍ ، فَقَالَ عُمَرُ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ : صَدَقْتَ وَلَكِنْ قَضَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " بِالْوَلَدِ لِلْفِرَاشِ " .
نوید مجید طیب
عبید اللہ بن ابو یزید رحمہ اللہ اپنے باپ سے بیان کرتے ہیں سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے بنو زہرہ کے ہمارے ایک بزرگ کو بلایا تو میں اس بزرگ کے ساتھ عمر رضی اللہ عنہ کے پاس حاضر ہوا سیدنا عمر رضی اللہ عنہ حجر البیت میں تھے سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے اس بوڑھے سے جاہلیت کی ولادت کے بارے میں پوچھا تو اس نے کہا زمانہ جاہلیت میں جب کسی عورت کو طلاق ہو جاتی یا خاوند فوت ہو جاتا تو وہ بغیر عدت گزارے آگے شادی کر لیتی تو آدمی کہتا نطفہ تو فلاں کا ہے اور بچہ فلاں کے بستر پر پیدا ہوا ہے تو سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا تو نے سچ کہا لیکن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فیصلہ دیا بچہ اس کا ہے جس کے بستر پر پیدا ہوا ہے
حدیث نمبر: 490
أَنْبَأَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيِّبِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " الْوَلَدُ لِلْفِرَاشِ وَلِلْعَاهِرِ الْحَجَرُ " .
نوید مجید طیب
سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”بچہ اس کا تصور ہوگا جس کے بستر پر پیدا ہوا ہے جبکہ زانی کے لیے (مقدمہ ثابت ہونے پر) پتھر ہیں۔“
حدیث نمبر: 491
عَنْ سُفْيَانَ بْنِ عُيَيْنَةَ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ عُرْوَةَ ، عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا ، أَنَّ عَبْدَ بْنَ زَمْعَةَ ، وَسَعْدًا اخْتَصَمَا إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي ابْنِ أَمَةِ زَمْعَةَ ، فَقَالَ سَعْدٌ : يَا رَسُولَ اللَّهِ أَوْصَانِي أَخِي إِذَا قَدِمْتُ مَكَّةَ أَنْ أَنْظُرَ إِلَى ابْنِ أَمَةِ زَمْعَةَ فَأَقْبِضَهُ فَإِنَّهُ ابْنِي ، فَقَالَ عَبْدُ بْنُ زَمْعَةَ : أَخِي وَابْنُ أَمَةِ أَبِي وُلِدَ عَلَى فِرَاشِ أَبِي فَرَأَى شَبَهًا بَيِّنًا بِعُتْبَةَ ، فَقَالَ : " هُوَ لَكَ يَا عَبْدُ بْنَ زَمْعَةَ الْوَلَدُ لِلْفِرَاشِ وَاحْتَجِبِي مِنْهُ يَا سَوْدَةُ " . قَالَ أَبُو جَعْفَرٍ : سَمِعْتُ أَبَا الرَّدَّادِ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عَبْدِ السَّلامِ يَقُولُ : سَمِعْتُ عَبْدَ الْمَلِكِ بْنَ هِشَامٍ النَّحْوِيَّ يَقُولُ : هُوَ زَمْعَةُ يَعْنِي بِالْفَتْحِ .
نوید مجید طیب
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ عبد بن زمعہ اور سیدنا سعد رضی اللہ عنہ نے اپنا کیس زمعہ کی لونڈی کے بچہ کا (رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں) دائر کیا تو سیدنا سعد رضی اللہ عنہ نے کہا: اے اللہ کے رسول ﷺ! مجھے میرے بھائی نے وصیت کی تھی کہ جب میں مکہ جاؤں تو زمعہ کی لونڈی کا بچہ لے لوں وہ میرا بیٹا ہے۔ عبد بن زمعہ نے کہا: یہ میرا بھائی ہے اور میرے باپ کی لونڈی کا بیٹا ہے، جو میرے باپ کے بستر پر پیدا ہوا۔ تو رسول اللہ ﷺ نے اس بچے کو سعد رضی اللہ عنہ کے بھائی عتبہ سے واضح طور پر ہم شکل پایا لیکن فرمایا: ”یہ بچہ عبد بن زمعہ کو ملے گا کیونکہ (اسلامی لاء یہ ہے کہ) بچہ اس کا ہے جس کے بستر پر پیدا ہوا ہے“ اور ام المومنین سیدہ سودہ رضی اللہ عنہا کو اس سے پردے کا حکم دیا۔
حدیث نمبر: 492
عَنْ مَالِكِ بْنِ أَنَسٍ ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ ، عَنْ عُرْوَةَ بْنِ الزُّبَيْرِ ، عَنْ عَائِشَةَ زَوْجِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، أَنَّهَا قَالَتْ : كَانَ عُتْبَةُ بْنُ أَبِي وَقَّاصٍ عَهِدَ إِلَى أَخِيهِ سَعْدِ بْنِ أَبِي وَقَّاصٍ أَنَّ ابْنَ وَلِيدَةِ زَمْعَةَ مِنِّي فَاقْبِضْهُ إِلَيْكَ فَلَمَّا كَانَ عَامُ الْفَتْحِ أَخَذَهُ سَعْدُ بْنُ أَبِي وَقَّاصٍ وَقَالَ : ابنُ أَخِيَ قَدْ كَانَ عَهِدَ إِلَيَّ فِيهِ فَقَالَ عَبْدُ بْنُ زَمْعَةَ : أَخِي ابْنُ وَلِيدَةِ أَبِي وُلِدَ عَلَى فِرَاشِهِ فَتَسَاوَقَاهُ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ سَعْدُ بْنُ أَبِي وَقَّاصٍ : إِنَّ أَخِي قَدْ كَانَ عَهِدَ إِلَيَّ فِيهِ فَقَالَ عَبْدُ بْنُ زَمْعَةَ : أَخِي وَابْنُ وَلِيدَةِ أَبِي وُلِدَ عَلَى فِرَاشِهِ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " هُوَ لَكَ يَا عَبْدُ بْنَ زَمْعَةَ " ، وَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " الْوَلَدُ لِلْفِرَاشِ وَلِلْعَاهِرِ الْحَجَرُ " ، ثُمَّ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِسَوْدَةَ بِنْتِ زَمْعَةَ زَوْجِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " احْتَجِبِي مِنْهُ يَا سَوْدَةُ " لَمَّا رَأَى مِنْ شَبَهِهِ بِعُتْبَةَ فَمَا رَآهَا حَتَّى لَقِيَ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ .
نوید مجید طیب
سیدہ عائشہ زوجہ نبی ﷺ سے روایت ہے عتبہ بن ابی وقاص نے اپنے بھائی سیدنا سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ کو وصیت کی کہ زمعہ کی لونڈی کا بیٹا میرے نطفے سے ہے اسے لے لینا، جب مکہ فتح ہوا سیدنا سعد رضی اللہ عنہ نے اسے پکڑ لیا اور کہنے لگے یہ (میرے بھائی کا بیٹا ہے) بھائی نے اس کے بارے وصیت کی تھی، عبد بن زمعہ کہنے لگے میرا بھائی ہے، یہ میرے باپ کی لونڈی سے اس کے بستر پر پیدا ہوا ہے۔ تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”بچہ اس کا ہو گا جس کے بستر پر پیدا ہوا جبکہ زانی کے لیے سنگساری ہے۔“ پھر رسول اللہ ﷺ نے ام المومنین سیدہ سودہ بنت زمعہ رضی اللہ عنہا سے فرمایا: ”ابن زمعہ سے پردہ کر“ کیونکہ ابن زمعہ شکل میں عقبہ سے مشابہت رکھتا تھا پھر سیدہ سودہ رضی اللہ عنہا نے وفات تک ابن زمعہ کو نہ دیکھا۔
وضاحت:
➊ عتبہ بن ابی وقاص دشمنِ اسلام کفر کی حالت میں ہی جہنم گیا جبکہ سیدنا سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ عشرہ مبشرہ میں سے صحابی جلیل ہیں۔ عتبہ نے زمعہ کی لونڈی سے زنا کیا تھا مرتے ہوئے اپنے بھائی کے لیے وصیت کر گیا عدالتِ محمدی صلی اللہ علیہ وسلم میں فیصلہ ہوا کہ بچہ اس کا گردانا جائے گا جس کے بستر پر پیدا ہوا ہے (الا یہ کہ وہ لعان کے ذریعے انکار کر دے) اور زنا کار کے لیے شرعی سزا سنگساری ہے۔
➋ سیدہ سودہ رضی اللہ عنہا کو احتیاطاً پردے کا حکم دیا گیا اس سے معلوم ہوا قاضی کا فیصلہ باطنی اور حقیقی امر نہیں بدلتا گو وہ بظاہر سیدہ سودہ رضی اللہ عنہا کا بھائی ٹھہرا مگر حقیقتاً عند اللہ بھائی نہ ٹھہرا اسی وجہ سے پردہ کا حکم دیا یہ نکتہ مولانا داؤد راز رحمہ اللہ مترجم و شارح صحیح بخاری نے بیان کیا ہے۔
➌ بچہ قانوناً اس کا تسلیم ہوتا ہے جس کے بستر پر پیدا ہوتا ہے یعنی جو شرعی و قانونی خاوند ہوتا ہے بچہ اسی کو ملے گا جب تک قانونِ لعان کے ذریعے وہ انکار نہ کرے اگر لعان کرتا ہے تو بچہ ماں کی طرف منسوب ہوگا اور ماں بیٹا ایک دوسرے کے وارث ہیں۔
➍ زانی مرد کا اگر مقدمہ زنا ثابت ہو جائے تو تب بھی الحاقِ نسب نہیں ہوگا زانی کو شادی شدہ ہونے کی صورت میں پتھر اور غیر شادی شدہ ہونے کی صورت میں کوڑے ملیں گے، بچہ نہیں ملے گا نہ اس کی طرف منسوب ہوگا اور نہ ہی شرعی وارث بنے گا۔
➎ قیافہ شناسی وہاں بطورِ دلیل معتبر ہوگی جہاں اس کے معارض کوئی قوی دلیل نہ ہو جہاں قوی دلیل اسلامک لاء موجود تھا، اور جہاں لعان کا قانون بھی حرکت میں ہو وہاں بھی قیافہ شناسی سے مقدمہ ثابت نہیں کیا جاتا۔
➋ سیدہ سودہ رضی اللہ عنہا کو احتیاطاً پردے کا حکم دیا گیا اس سے معلوم ہوا قاضی کا فیصلہ باطنی اور حقیقی امر نہیں بدلتا گو وہ بظاہر سیدہ سودہ رضی اللہ عنہا کا بھائی ٹھہرا مگر حقیقتاً عند اللہ بھائی نہ ٹھہرا اسی وجہ سے پردہ کا حکم دیا یہ نکتہ مولانا داؤد راز رحمہ اللہ مترجم و شارح صحیح بخاری نے بیان کیا ہے۔
➌ بچہ قانوناً اس کا تسلیم ہوتا ہے جس کے بستر پر پیدا ہوتا ہے یعنی جو شرعی و قانونی خاوند ہوتا ہے بچہ اسی کو ملے گا جب تک قانونِ لعان کے ذریعے وہ انکار نہ کرے اگر لعان کرتا ہے تو بچہ ماں کی طرف منسوب ہوگا اور ماں بیٹا ایک دوسرے کے وارث ہیں۔
➍ زانی مرد کا اگر مقدمہ زنا ثابت ہو جائے تو تب بھی الحاقِ نسب نہیں ہوگا زانی کو شادی شدہ ہونے کی صورت میں پتھر اور غیر شادی شدہ ہونے کی صورت میں کوڑے ملیں گے، بچہ نہیں ملے گا نہ اس کی طرف منسوب ہوگا اور نہ ہی شرعی وارث بنے گا۔
➎ قیافہ شناسی وہاں بطورِ دلیل معتبر ہوگی جہاں اس کے معارض کوئی قوی دلیل نہ ہو جہاں قوی دلیل اسلامک لاء موجود تھا، اور جہاں لعان کا قانون بھی حرکت میں ہو وہاں بھی قیافہ شناسی سے مقدمہ ثابت نہیں کیا جاتا۔
حدیث نمبر: 493
عَنْ مَالِكِ بْنِ أَنَسٍ ، عَنْ رَبِيعَةَ بْنِ أَبِي عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، عَنْ يَزِيدَ ، مَوْلَى الْمُنْبَعِثِ , عَنْ زَيْدِ بْنِ خَالِدٍ الْجُهَنِيِّ ، أَنَّهُ قَالَ : جَاءَ رَجُلٌ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَسَأَلَهُ عَنِ اللُّقَطَةِ ، فَقَالَ : " اعْرِفْ عِفَاصَهَا وَوِكَاءَهَا ثُمَّ عَرِّفْهَا سَنَةً ، فَإِنْ جَاءَ صَاحِبُهَا وَإِلا فَشَأْنُكَ بِهَا " ، قَالَ : فَضَالَّةُ الْغَنَمِ ؟ قَالَ : " لَكَ أَوْ لأَخِيكَ أَوْ لِلذِّئْبِ " قَالَ : فَضَالَّةُ الإِبِلِ ؟ قَالَ : " مَا لَكَ وَلَهَا مَعَهَا سِقَاؤُهَا وَحِذَاؤُهَا تَرِدُ الْمَاءَ وَتَأْكُلُ الشَّجَرَ حَتَّى يَلْقَاهَا رَبُّهَا " .
نوید مجید طیب
سیدنا زید بن خالد الجہنی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے ایک آدمی رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں آیا اور سوال کیا کہ گری پڑی چیز کا کیا حکم ہے؟ آپ ﷺ نے فرمایا: ”اس کی تھیلی اور بندھن پہچان لے پھر سال بھر اس کی شناخت کراؤ اگر اس کا مالک آجائے تو اس کے حوالے کرو اگر نہیں تو فائدہ اٹھا لو“ آدمی نے گم شدہ بکری کے بارے میں پوچھا؟ آپ ﷺ نے فرمایا: ”وہ تیری ہے یا تیرے بھائی کی ہے یا بھیڑیے کی ہے“ آدمی نے گم شدہ اونٹ کے بارے میں سوال کیا؟ آپ ﷺ نے فرمایا: ”اس کے ساتھ اس کا مشکیزہ اور پاؤں ہے پانی تک جا سکتا ہے، درخت کھا سکتا ہے حتی کہ اس کو مالک مل جائے گا۔“
وضاحت:
➊ وہ گمشدہ قیمتی اشیاء جس سے اس کا مالک بے نیاز نہیں ہو سکتا اس کی صفات یاد کر لیں مالک آئے تو اس کو واپس کی جائیں اور ایسی چیز کا سال بھر مجمع عام میں اعلان کرانا چاہیے پھر بھی مالک نہ ملے تو صدقہ کر دے یا استعمال کرے لیکن اگر سال بعد مالک آ جائے تو چیز واپس کرنی چاہیے یا اس کا بدل واپس کرنا چاہیے۔
➋ اگر چیز عام معمولی نوعیت کی ہے تو اسے استعمال کیا جا سکتا ہے علمائے امت ماہرینِ فن کا یہی فتویٰ ہے۔
➌ بکری اپنی حفاظت نہیں کر سکتی اس لیے بھیڑیے سے اس کی حفاظت ضروری تھی، سال بعد مالک آئے تو اس سے آدمی بکری کی دیکھ بھال کا خرچ لے سکتا ہے، بکری واپس کرے گا۔ اونٹ اپنی حفاظت خود کر لیتا ہے اس لیے اس کو پکڑنے سے منع کیا۔
➋ اگر چیز عام معمولی نوعیت کی ہے تو اسے استعمال کیا جا سکتا ہے علمائے امت ماہرینِ فن کا یہی فتویٰ ہے۔
➌ بکری اپنی حفاظت نہیں کر سکتی اس لیے بھیڑیے سے اس کی حفاظت ضروری تھی، سال بعد مالک آئے تو اس سے آدمی بکری کی دیکھ بھال کا خرچ لے سکتا ہے، بکری واپس کرے گا۔ اونٹ اپنی حفاظت خود کر لیتا ہے اس لیے اس کو پکڑنے سے منع کیا۔
حدیث نمبر: 494
عَنْ سُفْيَانَ بْنِ عُيَيْنَةَ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ حُمَيْدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، وَمُحَمَّدِ بْنِ النُّعْمَانِ بْنِ بَشِيرٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، أَنَّهُ نَحَلَ ابْنًا لَهُ عَبْدًا فَجَاءَ بِهِ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِيُشْهِدَهُ ، فَقَالَ : " أَكُلَّ وَلَدِكَ نَحَلْتَ مِثْلَ هَذَا ؟ " قَالَ : لا ، قَالَ : " فَارْدُدْهُ " .
نوید مجید طیب
سیدنا نعمان بن بشیر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے اُن کے والد نے اپنے ایک بیٹے کو غلام ہبہ کیا تو اسے لے کر نبی اکرم ﷺ کے پاس آئے تاکہ آپ ﷺ کو اس پر گواہ بنائیں تو آپ ﷺ نے پوچھا: ”کیا تو نے اپنے سب بیٹوں کو اس طرح غلام ہبہ کیا ہے؟“ والد نے کہا نہیں تو آپ ﷺ نے ارشاد فرمایا: ”تو اسے بھی واپس لو۔“
حدیث نمبر: 495
عَنْ مَالِكِ بْنِ أَنَسٍ ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ ، عَنْ حُمَيْدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَوْفٍ ، وَعَنْ مُحَمَّدِ بْنِ النُّعْمَانِ بْنِ بَشِيرٍ ، يُحَدِّثَانِهِ عَنِ النُّعْمَانِ بْنِ بَشِيرٍ ، أَنَّهُ قَالَ : إِنَّ أَبَاهُ أَتَى بِهِ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَقَالَ : إِنِّي نَحَلْتُ ابْنِي هَذَا غُلامًا كَانَ لِي ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " أَكُلَّ وَلَدِكَ نَحَلْتَ مِثْلَ هَذَا ؟ " فَقَالَ : لا ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " فَأَرْجِعْهُ " .
نوید مجید طیب
سیدنا نعمان بن بشیر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے اُن کے والد ان کو رسول اللہ ﷺ کے پاس لے کر گئے اور فرمایا: میں نے اپنے اس بیٹے کو اپنا غلام تحفہ میں دیا ہے، تو رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا: ”کیا تو نے اس طرح کا غلام ہر اولاد کو دیا ہے؟“ تو والد نے کہا نہیں تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”پھر اسے بھی واپس لے لو۔“
وضاحت:
➊ ایک ہے اولاد پر نفقہ اور دوسرا ہے اولاد کو تحفہ، نفقہ میں برابری ضروری نہیں مثلاً بڑے بیٹے کو دو روٹیاں دیتا ہے تو ضروری نہیں چھوٹے کو بھی دو روٹیاں زبردستی کھلائے، بڑے بیٹے کو کالج فیس ایک ہزار روپے دی تو ضروری نہیں دودھ پیتے کو بھی ہزار روپے دے یہ نفقہ اور اخراجاتِ تعلیم کے ہیں، جن میں برابری مشکل ہے۔ جبکہ تحفہ میں برابری ضروری ہے اور خصوصاً ایسا تحفہ جس نے بعد از موت میراث میں تقسیم ہونا ہے وہ اولاد میں سے کسی ایک کے لیے مخصوص نہیں کر سکتا۔
➋ امام احمد کے نزدیک اولاد کے درمیان ہبہ میں عدل کرنا واجب ہے ایک کو زیادہ دینا حرام ہے اس موقف کی تائید احادیث سے بھی ہوتی ہے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: «فلا تشهدني إذا فإني لا أشهد على جور»
"پھر مجھے گواہ نہ بناؤ، میں ظلم پر گواہ نہیں بنتا۔"
اس تحفہ کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ظلم قرار دیا اور ظلم حرام ہے لہذا امام احمد کا ہی مؤقف درست ہے کہ ایک وارث کو تحفہ دینا اور دوسروں کو محروم کر دینا درست نہیں ہے۔
➋ امام احمد کے نزدیک اولاد کے درمیان ہبہ میں عدل کرنا واجب ہے ایک کو زیادہ دینا حرام ہے اس موقف کی تائید احادیث سے بھی ہوتی ہے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: «فلا تشهدني إذا فإني لا أشهد على جور»
"پھر مجھے گواہ نہ بناؤ، میں ظلم پر گواہ نہیں بنتا۔"
اس تحفہ کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ظلم قرار دیا اور ظلم حرام ہے لہذا امام احمد کا ہی مؤقف درست ہے کہ ایک وارث کو تحفہ دینا اور دوسروں کو محروم کر دینا درست نہیں ہے۔
حدیث نمبر: 496
عَنْ سُفْيَانَ بْنِ عُيَيْنَةَ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الأَعْرَجِ ، قَالَ : سَمِعْتُ أَبَا هُرَيْرَةَ ، يَقُولُ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " إِذَا اسْتَأْذَنَ أَحَدَكُمْ جَارُهُ أَنْ يَغْرِزَ خَشَبَةً فِي جِدَارِهِ فَلا يَمْنَعْهُ " . فَلَمَّا حَدَّثَهُمْ أَبُو هُرَيْرَةَ نَكَسُوا رُءُوسَهُمْ فَقَالَ : مَا لِيَ أَرَاكُمْ عَنْهَا مُعْرِضِينَ ! أَمَا وَاللَّهِ لأَرْمِيَنَّ بِهَا بَيْنَ أَكْتَافِكُمْ .
نوید مجید طیب
سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ نے بیان کیا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جب تمہارا پڑوسی تمہاری دیوار میں شہتیر رکھنے کی اجازت چاہے تو اسے منع مت کرو“ ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ نے جب یہ حدیث سنائی تو سامعین نے گردنیں جھکا لیں، سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ”کیا بات ہے کہ تم اس سے اعراض کرنے لگے ہو میں اسے تمہارے کندھوں پر لگاؤں گا۔“
حدیث نمبر: 497
أَنْبَأَنَا مَالِكٌ ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ ، عَنِ الأَعْرَجِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " لا يَمْنَعْ أَحَدُكُمْ جَارَهُ أَنْ يَغْرِزَ خَشَبَهً فِي جِدَارِهِ " . قَالَ : ثُمَّ يَقُولُ أَبُو هُرَيْرَةَ : مَا لِيَ أَرَاكُمْ عَنْهَا مُعْرِضِينَ ! وَاللَّهِ لأَرْمِيَنَّ بِهَا بَيْنَ أَكْتَافِكُمْ .
نوید مجید طیب
سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”تم میں سے کوئی اپنے پڑوسی کو اپنی دیوار میں لکڑی گاڑنے سے نہ روکے“ راوی کہتے ہیں کہ پھر سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ بیان فرمایا کرتے تھے یہ کیا میں تمہیں اعراض کرتا دیکھ رہا ہوں میں اسے تمہارے کندھوں کے درمیان گاڑوں گا۔
وضاحت:
➊ حدیث مبارکہ میں پڑوسیوں کے حقوق کا خیال رکھنے کی ہدایت کی گئی ہے اس سے ہمسائے کو ایک دیوار کم تعمیر کرنا پڑے گی اور اس کے ساتھ احسان ہوگا۔
➋ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے تین مرتبہ فرمایا وہ شخص مومن نہیں ہے صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے پوچھا کون؟ تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: «من لا يأمن جاره بوائقه» [بخاری: 6016]
جس کی اذیت سے اس کے ہمسائے محفوظ نہیں ہیں۔
➌ ہمسائیوں سے حسن سلوک واجب ہے۔ دینِ اسلام میں اس کی بہت زیادہ تاکید کی گئی ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں: جبریل مجھے مسلسل ہمسائیوں سے متعلق تاکید کرتے رہے حتی کہ مجھے گمان ہوا کہ وہ ان کو جائیداد میں وارث بنا دیں گے۔ [بخاری: 6015]
➍ سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ حق گو اور بے باک تھے۔
➎ کتاب وسنت کی ترویج و تبلیغ میں آدمی کو مداہنت کا شکار نہیں ہونا چاہیے۔
➋ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے تین مرتبہ فرمایا وہ شخص مومن نہیں ہے صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے پوچھا کون؟ تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: «من لا يأمن جاره بوائقه» [بخاری: 6016]
جس کی اذیت سے اس کے ہمسائے محفوظ نہیں ہیں۔
➌ ہمسائیوں سے حسن سلوک واجب ہے۔ دینِ اسلام میں اس کی بہت زیادہ تاکید کی گئی ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں: جبریل مجھے مسلسل ہمسائیوں سے متعلق تاکید کرتے رہے حتی کہ مجھے گمان ہوا کہ وہ ان کو جائیداد میں وارث بنا دیں گے۔ [بخاری: 6015]
➍ سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ حق گو اور بے باک تھے۔
➎ کتاب وسنت کی ترویج و تبلیغ میں آدمی کو مداہنت کا شکار نہیں ہونا چاہیے۔
حدیث نمبر: 498
عَنْ سُفْيَانَ بْنِ عُيَيْنَةَ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيِّبِ ، وَحَرَامِ بْنِ سَعْدِ بْنِ مُحَيِّصَةَ ، أَنَّ نَاقَةً لِلْبَرَاءِ بْنِ عَازِبٍ دَخَلَتْ حَائِطَ قَوْمٍ فَأَفْسَدَتْ ، " فَقَضَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّ عَلَى أَهْلِ الأَمْوَالِ حِفْظَ أَمْوَالِهِمْ بِالنَّهَارِ ، وَعَلَى أَهْلِ الْمَاشِيَةِ مَا أَفْسَدَتْ مَوَاشِيهِمْ بِاللَّيْلِ . أَوْ قَالَ : " مَا أَصَابَتْ مَوَاشِيهِمْ " .
نوید مجید طیب
سعید بن مسیب اور حزام بن سعد بن محیصہ رحمہ اللہ سے روایت ہے سیدنا براء بن عازب رضی اللہ عنہ کی اونٹنی ایک قوم کے باغ کو خراب کر گئی تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فیصلہ دیا کہ دن کے وقت حفاظت کرنا مال / باغ والوں کی ذمہ داری ہے جبکہ اگر مویشی رات کو نقصان کریں تو اس کی چٹی مویشی کے مالکان پر ہے۔
حدیث نمبر: 499
عَنْ مَالِكٍ ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ ، عَنْ حَرَامِ بْنِ سَعْدِ بْنِ مُحَيِّصَةَ ، أَنَّ نَاقَةً لِلْبَرَاءِ بْنِ عَازِبٍ دَخَلَتْ حَائِطَ رَجُلٍ فَأَفْسَدَتْ فِيهِ ، " فَقَضَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّ عَلَى أَهْلِ الْحَوَائِطِ حِفْظَهَا بِالنَّهَارِ ، وَأَنَّ مَا أَفْسَدَتِ الْمَوَاشِي بِاللَّيْلِ ضَامِنٌ عَلَى أَهْلِهَا " .
نوید مجید طیب
حزام بن سعد بن محیصہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے سیدنا براء بن عازب رضی اللہ عنہ کی اونٹنی ایک باغ میں داخل ہوئی اور اسے خراب کر دیا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فیصلہ فرمایا: کہ مالکان پر دن کے وقت اپنے باغ کی حفاظت کرنا ہے اور جو مویشی رات کو نقصان کریں تو اس کی چٹی جانور کے مالک پر ہوگی۔
وضاحت:
اس حدیث میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے جنرل پرنسپل عنایت فرمایا ہے۔
حدیث نمبر: 500
عَنْ مَالِكٍ ، عَنْ أَبِي الزِّنَادِ ، عَنِ الأَعْرَجِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " لا تَمْنَعْ فَضْلَ الْمَاءِ لِتَمْنَعَ بِهِ الْكَلأَ " .
نوید مجید طیب
سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”گھاس محفوظ رکھنے کی غرض سے زائد پانی سے مت روکو۔“
حدیث نمبر: 501
عَنْ مَالِكٍ عَنْ أَبِي الزِّنَادِ عَنِ الأَعْرَجِ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " لا تَمْنَعْ فَضْلَ الْمَاءِ لِتَمْنَعَ بِهِ الْكَلأَ " .
نوید مجید طیب
سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”گھاس محفوظ رکھنے کی غرض سے زائد پانی سے مت روکو۔“
وضاحت:
➊ اس سے مراد یہ ہے کہ ضرورت سے زائد پانی لوگوں کو استعمال کرنے دینا چاہیے کیونکہ پانی اصلا اللہ تعالیٰ کی نعمت ہے بعض لوگ اس غرض سے دوسرے چرواہوں کو اپنے کنویں سے پانی نہیں پینے دیتے تھے کہ جب پانی نہیں ملے گا تو پھر اس کنویں کے قرب و جوار کوئی نہیں آئے گا لہذا گھاس اس علاقے میں محفوظ رہے گی جو میرے مویشی کھائیں گے تو اس غرض سے پانی روکنے سے منع فرمایا ہے۔
➋ پانی جاندار کی بنیادی ضرورت ہے اس پر بلا وجہ کی روک رکاوٹ کو شریعت نے ناپسند کیا ہے۔
➌ ایک مسلمان کو وسیع الظرف ہونا چاہیے انتہائی معمولی اشیاء کے لیے بلا وجہ کی منصوبہ بندیاں نا مناسب ہیں۔
➋ پانی جاندار کی بنیادی ضرورت ہے اس پر بلا وجہ کی روک رکاوٹ کو شریعت نے ناپسند کیا ہے۔
➌ ایک مسلمان کو وسیع الظرف ہونا چاہیے انتہائی معمولی اشیاء کے لیے بلا وجہ کی منصوبہ بندیاں نا مناسب ہیں۔
حدیث نمبر: 502
عَنْ سُفْيَانَ بْنِ عُيَيْنَةَ ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ أُمِّهِ أَسْمَاءَ ، قَالَتْ : أَتَتْنِي أُمِّي رَاغِبَةً فِي عَهْدِ قُرَيْشٍ ، فَسَأَلْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : أَأَصِلُهَا ؟ قَالَ : " نَعَمْ " .
نوید مجید طیب
سیدہ اسماء رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ میری ماں (مشرکہ) مجھے ملنے کی خواہش لے کر آئی تو میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سوال کیا کیا میں اس سے صلہ رحمی کروں یعنی (مشرکہ کو مل لوں)؟ تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ہاں۔“
حدیث نمبر: 503
عَنْ أَنَسِ بْنِ عِيَاضٍ ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ أَسْمَاءَ بِنْتِ أَبِي بَكْرٍ ، قَالَتْ : قَدِمَتْ عَلَيَّ أُمِّي وَهِيَ مُشْرِكَةٌ عَلَى عَهْدِ قُرَيْشٍ ، إِذْ عَاهَدُوا رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَاسْتَفْتَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَقُلْتُ : يَا رَسُولَ اللَّهِ : إِنَّ أُمِّيَ قَدِمَتْ عَلَيَّ وَهِيَ مُشْرِكَةٌ رَاغِبَةٌ أَفَأَصِلُهَا ؟ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " نَعَمْ ، صِلِي أُمَّكِ " .
نوید مجید طیب
سیدہ اسماء بنت ابی بکر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے جب قریش کی مکہ میں حکومت تھی اس دوران میری مشرکہ والدہ مجھے ملنے آئیں جب معاہدہ حدیبیہ چل رہا تھا میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے فتویٰ پوچھا: میری ماں مشرکہ ہے میری ملاقات کی خواہش مند ہے کیا میں ملاقات کر سکتی ہوں؟ تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ہاں اپنی ماں سے ملاقات کر لو۔“
وضاحت:
➊ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم مشرکین کو نجس سمجھتے تھے چاہے سگی ماں یا باپ ہی کیوں نہ ہو۔
➋ اسلام نے والدین سے صلہ رحمی کا حکم دیا چاہے کافر ہی ہوں۔
➌ اس خاتون کا نام قبیلہ بنت عبد العزی تھا ابوبکر رضی اللہ عنہ نے اسے زمانہ جاہلیت میں ہی طلاق دے دی تھی یہ اپنے بیٹے حارث بن مدرکہ کے ہمراہ میوے اور گھی اپنی بیٹی کے لیے لائی تھی، ارشاد باری تعالیٰ ہے: ﴿لَا يَنْهٰكُمُ اللّٰهُ عَنِ الَّذِيْنَ لَمْ يُقَاتِلُوْكُمْ فِي الدِّيْنِ وَ لَمْ يُخْرِجُوْكُمْ مِّنْ دِيَارِكُمْ اَنْ تَبَرُّوْهُمْ وَ تُقْسِطُوْا اِلَيْهِمْ اِنَّ اللّٰهَ يُحِبُّ الْمُقْسِطِيْنَ﴾ [الممتحنة: 8]
اللہ تمھیں ان لوگوں سے منع نہیں کرتا جنھوں نے نہ تم سے دین کے بارے میں جنگ کی اور نہ تمھیں تمھارے گھروں سے نکالا کہ تم ان سے نیک سلوک کرو اور ان کے حق میں انصاف کرو، یقیناً اللہ انصاف کرنے والوں سے محبت کرتا ہے۔
➍ کافر سے دلی محبت نہیں رکھی جا سکتی نہ باپ سے نہ اولاد سے لیکن حسن سلوک کے ساتھ عام کافر سے بھی پیش آنے کی اسلام ترغیب دیتا ہے تا کہ مسلمانوں کو قریب سے دیکھنے کا انہیں موقع میسر آئے اور اللہ تعالیٰ انہیں راہ ہدایت سے نوازیں۔ ایک دفعہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کو ایک ریشمی حلہ عطا فرمایا انہوں نے وہ اپنے ایک مشرک بھائی کو دے دیا جو مکہ میں رہتا تھا۔ [بخاری: 5981]
ان دلائل سے معلوم ہوتا ہے غیر محارب رواداری کا مظاہرہ کرنے والے کفار سے اچھا برتاؤ کرنا شریعت کا تقاضا ہے۔
➋ اسلام نے والدین سے صلہ رحمی کا حکم دیا چاہے کافر ہی ہوں۔
➌ اس خاتون کا نام قبیلہ بنت عبد العزی تھا ابوبکر رضی اللہ عنہ نے اسے زمانہ جاہلیت میں ہی طلاق دے دی تھی یہ اپنے بیٹے حارث بن مدرکہ کے ہمراہ میوے اور گھی اپنی بیٹی کے لیے لائی تھی، ارشاد باری تعالیٰ ہے: ﴿لَا يَنْهٰكُمُ اللّٰهُ عَنِ الَّذِيْنَ لَمْ يُقَاتِلُوْكُمْ فِي الدِّيْنِ وَ لَمْ يُخْرِجُوْكُمْ مِّنْ دِيَارِكُمْ اَنْ تَبَرُّوْهُمْ وَ تُقْسِطُوْا اِلَيْهِمْ اِنَّ اللّٰهَ يُحِبُّ الْمُقْسِطِيْنَ﴾ [الممتحنة: 8]
اللہ تمھیں ان لوگوں سے منع نہیں کرتا جنھوں نے نہ تم سے دین کے بارے میں جنگ کی اور نہ تمھیں تمھارے گھروں سے نکالا کہ تم ان سے نیک سلوک کرو اور ان کے حق میں انصاف کرو، یقیناً اللہ انصاف کرنے والوں سے محبت کرتا ہے۔
➍ کافر سے دلی محبت نہیں رکھی جا سکتی نہ باپ سے نہ اولاد سے لیکن حسن سلوک کے ساتھ عام کافر سے بھی پیش آنے کی اسلام ترغیب دیتا ہے تا کہ مسلمانوں کو قریب سے دیکھنے کا انہیں موقع میسر آئے اور اللہ تعالیٰ انہیں راہ ہدایت سے نوازیں۔ ایک دفعہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کو ایک ریشمی حلہ عطا فرمایا انہوں نے وہ اپنے ایک مشرک بھائی کو دے دیا جو مکہ میں رہتا تھا۔ [بخاری: 5981]
ان دلائل سے معلوم ہوتا ہے غیر محارب رواداری کا مظاہرہ کرنے والے کفار سے اچھا برتاؤ کرنا شریعت کا تقاضا ہے۔
حدیث نمبر: 504
عَنْ مَالِكِ بْنِ أَنَسٍ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ عَمْرِو بْنِ شُرَحْبِيلَ بْنِ سَعْدِ بْنِ عُبَادَةَ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ جَدِّهِ ، أَنَّهُ قَالَ : خَرَجَ سَعْدُ بْنُ عُبَادَةَ مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي بَعْضِ مَغَازِيهِ ، وَحَضَرَتْ أُمَّهُ الْوَفَاةُ بِالْمَدِينَةِ ، فَقِيلَ لَهَا : أَوْصِي ، فَقَالَتْ : فِيمَ أُوصِي ؟ إِنَّ الْمَالَ مَالُ سَعْدٍ ، فَتُوُفِّيَتْ قَبْلَ أَنْ يَقْدَمَ سَعْدٌ ، فَلَمَّا قَدِمَ سَعْدٌ ، ذُكِرَ ذَلِكَ لَهُ ، فَقَالَ سَعْدٌ : يَا رَسُولَ اللَّهِ : هَلْ يَنْفَعُهَا أَنْ أتَصَدَّقَ عَنْهَا ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " نَعَمْ " ، فَقَالَ سَعْدٌ : حَائِطُ كَذَا وَكَذَا صَدَقَةٌ عَنْهَا لِحَائِطٍ سَمَّاهُ .
نوید مجید طیب
سیدنا سعد بن عبادہ رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ کسی جنگ پر گئے ہوئے تھے، مدینہ میں ان کی والدہ کی وفات کا وقت آ گیا تو لوگوں نے اسے کہا: اپنے مال کی وصیت کر دیں تو وہ کہنے لگی میں کس چیز کی وصیت کروں؟ مال تو سعد کا ہے، سیدنا سعد رضی اللہ عنہ کی واپسی سے قبل ہی وہ وفات پا گئیں، سیدنا سعد رضی اللہ عنہ جب واپس آئے تو انہیں ماجرہ بتایا گیا تو سعد رضی اللہ عنہ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے عرض کیا: اگر میں والدہ کی طرف سے صدقہ کروں تو کیا اس کا فائدہ والدہ کو ہو گا؟ تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ہاں“ تو سعد رضی اللہ عنہ نے فرمایا: فلاں فلاں باغ میری ماں کی طرف سے صدقہ ہے۔
حدیث نمبر: 505
عَنْ مَالِكِ بْنِ أَنَسٍ ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ عَائِشَةَ ، أَنَّ رَجُلا قَالَ لِلنَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : إِنَّ أُمِّي افْتَلَتَتْ نَفْسَهَا وَأَرَاهَا لَوْ تَكَلَّمَتْ تَصَدَّقَتْ ، أَفَأَتَصَدَّقُ عَنْهَا ؟ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " نَعَمْ " . فَتَصَدَّقَ عَنْهَا .
نوید مجید طیب
ام المومنین سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے ایک آدمی نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے عرض کیا: میری ماں اچانک فوت ہو گئی ہے میرا خیال ہے اگر انہیں بات کرنے کا موقع ملتا تو وہ کچھ نہ کچھ خیرات کرتیں۔ اگر میں ان کی طرف سے صدقہ کروں تو کیا انہیں ثواب ملے گا آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ہاں ملے گا۔“
وضاحت:
➊ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جب انسان وفات پا جاتا ہے تو تین اعمال کے سوا اس کا سلسلہ عمل منقطع ہو جاتا ہے۔ صدقہ جاریہ یا ایسا علم جس سے فائدہ اٹھایا جائے یا نیک اولاد جو اس کے لیے دعا کرے۔ [مسلم: 1631]
➋ ایصال ثواب کے غیر شرعی طریقوں کا اپنانا اور خلاف سنت راستوں پر چلنا دنیاوی و اخروی خسارے کا باعث ہے۔
➌ مذکورہ حدیث میں بھی ایصالِ ثواب کا ایک شرعی طریقہ بیان کیا گیا ہے کہ فوت شدہ کی طرف سے صدقہ کیا جا سکتا ہے۔
➋ ایصال ثواب کے غیر شرعی طریقوں کا اپنانا اور خلاف سنت راستوں پر چلنا دنیاوی و اخروی خسارے کا باعث ہے۔
➌ مذکورہ حدیث میں بھی ایصالِ ثواب کا ایک شرعی طریقہ بیان کیا گیا ہے کہ فوت شدہ کی طرف سے صدقہ کیا جا سکتا ہے۔
حدیث نمبر: 506
عَنْ سُفْيَانَ ، قَالَ : حَدَّثَنِي عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ ، عَنْ نَافِعٍ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، أَنَّ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ مَلَكَ مِائَةَ سَهْمٍ مِنْ خَيْبَرَ اشْتَرَاهَا فَاسْتَجْمَعَهَا ، فَأَتَى رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَقَالَ : يَا رَسُولَ اللَّهِ : إِنِّي أَصَبْتُ مَالا لَمْ أُصِبْ مِثْلَهُ قَطُّ ، وَقَدْ أَرَدْتُ أَنْ أَتَقَرَّبَ بِهِ إِلَى اللَّهِ ، فَقَالَ لَهُ : " احْبِسِ الأَصْلَ ، وَسَبِّلِ الثَّمَرَةَ " . قَالَ أَبُو جَعْفَرٍ : هَذَا يَدُلُّ عَلَى إِجَازَةِ حَبْسِ الْمُشَاعِ كَمَا قَالَ أَبُو يُوسُفَ وَالشَّافِعِيُّ رَحِمَهُ اللَّهُ ، وَلَوْ لَمْ يَجُزْ لَنَا هَذَا لَدَّلَّنَا عَلَيْهِ حَدِيثُ ابْنِ عَوْنٍ , عَنْ نَافِعٍ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي أَمْرِهِ عُمَرَ أَنْ يَحْبِسَ مَالَهُ مِنْ خَيْبَرَ عَلَى مَا أَمَرَهُ أَنْ يَحْبِسَهُ عَلَيْهِ لَمَّا سَأَلَهُ عَنْ ذَلِكَ ؛ لأَنَّ خَيْبَرَ لَمْ تُقْسَمْ إِلا فِي زَمَنِ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ، فَأَمَّا مَا كَانَ فِي زَمَنِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِيهَا ، فَإِنَّمَا هُوَ قِسْمَةُ جَمْعٍ ؛ لأَنَّهُ جَعَلَ كُلَّ مِائَةِ سَهْمٍ كَسَهْمٍ وَاحِدٍ ، ثُمَّ جَزَّأَ غَلاتِهَا عَلَى ذَلِكَ وَلَمْ يَقْسِمِ الأَرْضَ .
نوید مجید طیب
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ عمر رضی اللہ عنہ خیبر میں (100) حصے کے مالک بنے جنہیں انہوں نے خریدا نشاندہی کی پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے اور عرض کیا: اے اللہ کے رسول مجھے ایسا مال حاصل ہوا ہے جو اس سے قبل کبھی نہیں ملا، میرا ارادہ ہے کہ اُسے صدقہ کر کے اللہ تعالیٰ کا قرب حاصل کروں، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں فرمایا: ”اصل زمین روک لو اس کا پھل صدقہ کر دو۔“
وضاحت:
➊ ایک روایت میں ہے سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ میرے پاس 100 غلام تھے میں نے ان کے عوض خیبر کے علاقے میں سو حصے زمین خرید لی۔ [نسائی: 3604]
➋ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے اس طرح سے صدقہ کیا کہ اصل زمین نہ فروخت کی جائے، نہ ہبہ کی جائے اور نہ کسی کو وراثت میں دی جائے اور اسے فقیروں میں رشتہ داروں میں غلام آزاد کرنے میں، جہاد میں مسافروں میں اور مہمانوں میں خرچ کیا جائے اور اس کا نگران معروف طریقے سے کھائے، دوست کو کھلائے تو کوئی حرج نہیں جبکہ وہ اس میں سے ذخیرہ اندوزی کرنے والا نہ ہو۔ یعنی آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے زمین وقف کی آگے اس کا پھل صدقہ خیرات میں صرف ہوتا رہا۔ [ترمذی: 1375]
➌ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے خیبر کے یہود کو جلا وطن کرنا چاہا تو انہوں نے تجویز دی کہ ہم زمین کے معاملات دیکھ بھال میں آپ لوگوں سے زیادہ ماہر ہیں آدھی پیداوار پر ہمیں یہاں رہنے دیا جائے تو معاہدہ ہوا کہ جب تک مسلمان چاہیں گے تمہیں اس شرط پر باقی رکھیں گے اور جب چاہیں گے تمہیں جلا وطن کریں گے پھر عہد عمر رضی اللہ عنہ میں یہودیوں کی خباثتیں اور شرارتیں حد سے بڑھ گئیں تو ان سرکشوں کو عمر رضی اللہ عنہ نے خیبر سے جلا وطن کیا۔
چنانچہ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے اس سلسلہ میں ارشاد فرمایا: بے شک رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے خیبر کے یہودیوں سے یہ طے کیا تھا کہ جب ہم چاہیں گے انہیں خیبر سے نکال دیں گے، لہذا جس نے ان سے کچھ لینا ہو وصول کر لے میں یہودیوں کو نکالنے لگا ہوں، چنانچہ انہوں نے اس کے بعد انہیں خیبر سے نکال دیا۔ [ابی داؤد: 3007]
➋ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے اس طرح سے صدقہ کیا کہ اصل زمین نہ فروخت کی جائے، نہ ہبہ کی جائے اور نہ کسی کو وراثت میں دی جائے اور اسے فقیروں میں رشتہ داروں میں غلام آزاد کرنے میں، جہاد میں مسافروں میں اور مہمانوں میں خرچ کیا جائے اور اس کا نگران معروف طریقے سے کھائے، دوست کو کھلائے تو کوئی حرج نہیں جبکہ وہ اس میں سے ذخیرہ اندوزی کرنے والا نہ ہو۔ یعنی آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے زمین وقف کی آگے اس کا پھل صدقہ خیرات میں صرف ہوتا رہا۔ [ترمذی: 1375]
➌ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے خیبر کے یہود کو جلا وطن کرنا چاہا تو انہوں نے تجویز دی کہ ہم زمین کے معاملات دیکھ بھال میں آپ لوگوں سے زیادہ ماہر ہیں آدھی پیداوار پر ہمیں یہاں رہنے دیا جائے تو معاہدہ ہوا کہ جب تک مسلمان چاہیں گے تمہیں اس شرط پر باقی رکھیں گے اور جب چاہیں گے تمہیں جلا وطن کریں گے پھر عہد عمر رضی اللہ عنہ میں یہودیوں کی خباثتیں اور شرارتیں حد سے بڑھ گئیں تو ان سرکشوں کو عمر رضی اللہ عنہ نے خیبر سے جلا وطن کیا۔
چنانچہ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے اس سلسلہ میں ارشاد فرمایا: بے شک رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے خیبر کے یہودیوں سے یہ طے کیا تھا کہ جب ہم چاہیں گے انہیں خیبر سے نکال دیں گے، لہذا جس نے ان سے کچھ لینا ہو وصول کر لے میں یہودیوں کو نکالنے لگا ہوں، چنانچہ انہوں نے اس کے بعد انہیں خیبر سے نکال دیا۔ [ابی داؤد: 3007]
حدیث نمبر: 507
عَنْ سُفْيَانَ بْنِ عُيَيْنَةَ ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا ، أَنَّ هِنْدًا أُمَّ مُعَاوِيَةَ قَالَتْ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، إِنَّ أَبَا سُفْيَانَ رَجُلٌ شَحِيحٌ ، وَلَيْسَ لِي مِنْهُ إِلا مَا أَدْخَلَ عَلَيَّ ، فَقَالَ لَهَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " خُذِي مَا يَكْفِيكِ وَوَلَدَكِ بِالْمَعْرُوفِ " .
نوید مجید طیب
ام المومنین سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ ہند ام معاویہ رضی اللہ عنہا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس حاضر ہوئیں اور کہنے لگیں اے اللہ کے رسول! سیدنا ابوسفیان رضی اللہ عنہ بخیل آدمی ہیں اتنا خرچہ نہیں دیتے جو میری اولاد کو کافی ہو اور میرے پاس وہی ہوتا ہے جو میں ان کی اجازت کے بغیر لے لوں۔ کیا مجھ پر اس کا گناہ ہے؟ تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”صرف اتنا دستور کے مطابق اس کے مال سے لے لیا کرو جو تجھے اور تیری اولاد کو کافی ہو۔“
حدیث نمبر: 508
عَنْ أَنَسِ بْنِ عِيَاضٍ اللَّيْثِيِّ ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ عَائِشَةَ أَنَّهَا حَدَّثَتْهُ ، أَنَّ هِنْدَ أُمَّ مُعَاوِيَةَ جَاءَتْ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَقَالَتْ : إِنَّ أَبَا سُفْيَانَ رَجُلٌ شَحِيحٌ وَإِنَّهُ لا يُعْطِينِي مَا يَكْفِينِي وَوَلَدِي إِلا مَا أَخَذْتُ مِنْهُ سِرًّا وَهُوَ لا يَعْلَمُ فَهَلْ عَلَيَّ فِي ذَلِكَ مِنْ شَيْءٍ . فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " خُذِي مَا يَكْفِيكِ وَوَلَدَكِ بِالْمَعْرُوفِ " .
نوید مجید طیب
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے ہند ام معاویہ رضی اللہ عنہا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئیں تو کہنے لگیں ابوسفیان رضی اللہ عنہ بخیل آدمی ہیں وہ بقدر ضرورت خرچہ نہیں دیتے مگر پوشیدہ طور پر اس کا مال لینا پڑتا ہے جو وہ نہیں جانتا تو اس بارے کیا کوئی گناہ ہے؟ تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”معروف طریقے سے اتنا لے لو جتنا تجھے اور تیرے بیٹے کے لیے کافی ہو۔“
وضاحت:
➊ بخیل آدمی کی بیوی کو گزران کے لیے صرف اتنا مال خاوند کا لینا چاہیے جس سے ضرورت پوری ہو جائے۔
➋ اس سے ثابت ہوا اولاد کا خرچ باپ کے ذمے ہے ہاں اگر ماں مالدار ہو اور باپ فقیر ہو تو اولاد کو خوراک مہیا کرنا ماں کی بھی ذمہ داری ہے۔
➌ اگر باپ گم ہو جائے یا معذور ہو تو دادے کی ذمہ داری ہے کہ پوتوں کو نان نفقہ دے اگر دادا صاحب مال ہے تو ذمہ داری پوری کرے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ ابوسفیان رضی اللہ عنہ کی غیر حاضری میں فیصلہ صادر کیا اس لیے امام بخاری رحمہ اللہ نے اس حدیث پر باب قائم کیا۔ «باب القضاء على الغائب» یک طرفہ فیصلہ صادر کرنے کا بیان امام نسائی رحمہ اللہ نے باب باندھا ہے حاکم کا کسی شخص کی غیر موجودگی میں فیصلہ کرنا جب وہ اسے پہچانتا ہو کہ واقع ہی وہ شخص ایسا ہے یعنی اس صورت میں یک طرفہ فیصلہ حالات واقعات کے تناظر میں ہوسکتا ہے۔
➍ غیبت عام طور پر حرام ہے لیکن اس کے کچھ مستثنات بھی ہیں مثلاً: 1 شرعی ضرورت جس کے بغیر چارہ نہ ہو۔
2 منکر کو تبدیل کرنے کے لیے پولیس کو شکایت۔
3 مفتی یا عالم سے فتوی کی غرض سے حقیقت حال بیان کرنا۔
4 مظلوم کا با اختیار اتھارٹی کے سامنے حقیقت بتانا۔
5 مسلمانوں کی خیر خواہی مطلوب ہو کہ شریر کے شر سے محفوظ ہو جائیں جیسے بدعتی، فاسق وغیرہ۔
6 رواۃ حدیث پر جرح بقدر ضرورت۔
7 مذکورہ شخص کا لقب ہو جیسے اندھا، گورا وغیرہ۔
➎ اس حدیث سے یہ بھی معلوم ہوا کہ غیر محرم کی آواز بقدر ضرورت سنی جاسکتی ہے۔
➏ بعض اوقات قاضی اپنی ذاتی معلومات کی بنا پر بغیر گواہ طلب کیے فیصلہ دے سکتا ہے لیکن یہ نادر حالات ہیں عام قاعدہ نہیں۔ عام قاعدہ یہی ہے کہ شہادت ظاہری پر انحصار کرے گا۔
➐ بعض نے لکھا ہے کہ اگر کوئی کسی کا حق ادا نہیں کر رہا تو اس کے امانتی مال سے اپنا حق لے سکتا ہے۔
➑ عورت کا ذخیرہ اندوزی یا فضول خرچی کے لیے خاوند کا مال بلا اجازت لینا حرام ہے۔
«المرأة مسئولة عن بيت زوجها ....»
➋ اس سے ثابت ہوا اولاد کا خرچ باپ کے ذمے ہے ہاں اگر ماں مالدار ہو اور باپ فقیر ہو تو اولاد کو خوراک مہیا کرنا ماں کی بھی ذمہ داری ہے۔
➌ اگر باپ گم ہو جائے یا معذور ہو تو دادے کی ذمہ داری ہے کہ پوتوں کو نان نفقہ دے اگر دادا صاحب مال ہے تو ذمہ داری پوری کرے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ ابوسفیان رضی اللہ عنہ کی غیر حاضری میں فیصلہ صادر کیا اس لیے امام بخاری رحمہ اللہ نے اس حدیث پر باب قائم کیا۔ «باب القضاء على الغائب» یک طرفہ فیصلہ صادر کرنے کا بیان امام نسائی رحمہ اللہ نے باب باندھا ہے حاکم کا کسی شخص کی غیر موجودگی میں فیصلہ کرنا جب وہ اسے پہچانتا ہو کہ واقع ہی وہ شخص ایسا ہے یعنی اس صورت میں یک طرفہ فیصلہ حالات واقعات کے تناظر میں ہوسکتا ہے۔
➍ غیبت عام طور پر حرام ہے لیکن اس کے کچھ مستثنات بھی ہیں مثلاً: 1 شرعی ضرورت جس کے بغیر چارہ نہ ہو۔
2 منکر کو تبدیل کرنے کے لیے پولیس کو شکایت۔
3 مفتی یا عالم سے فتوی کی غرض سے حقیقت حال بیان کرنا۔
4 مظلوم کا با اختیار اتھارٹی کے سامنے حقیقت بتانا۔
5 مسلمانوں کی خیر خواہی مطلوب ہو کہ شریر کے شر سے محفوظ ہو جائیں جیسے بدعتی، فاسق وغیرہ۔
6 رواۃ حدیث پر جرح بقدر ضرورت۔
7 مذکورہ شخص کا لقب ہو جیسے اندھا، گورا وغیرہ۔
➎ اس حدیث سے یہ بھی معلوم ہوا کہ غیر محرم کی آواز بقدر ضرورت سنی جاسکتی ہے۔
➏ بعض اوقات قاضی اپنی ذاتی معلومات کی بنا پر بغیر گواہ طلب کیے فیصلہ دے سکتا ہے لیکن یہ نادر حالات ہیں عام قاعدہ نہیں۔ عام قاعدہ یہی ہے کہ شہادت ظاہری پر انحصار کرے گا۔
➐ بعض نے لکھا ہے کہ اگر کوئی کسی کا حق ادا نہیں کر رہا تو اس کے امانتی مال سے اپنا حق لے سکتا ہے۔
➑ عورت کا ذخیرہ اندوزی یا فضول خرچی کے لیے خاوند کا مال بلا اجازت لینا حرام ہے۔
«المرأة مسئولة عن بيت زوجها ....»
حدیث نمبر: 509
عَنْ سُفْيَانَ ، حَدَّثَنِي الزُّهْرِيُّ ، عَنْ عَامِرِ بْنِ سَعْدِ بْنِ أَبِي وَقَّاصٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، أَنَّهُ قَالَ : مَرِضْتُ عَامَ الْفَتْحِ مَرَضًا أَشْفَيْتُ مِنْهُ عَلَى الْمَوْتِ فَأَتَانِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَعُودُنِي ، فَقُلْتُ : يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنَّ لِيَ مَالا كَثِيرًا وَلَيْسَ يَرِثُنِي إِلا ابْنَتِي أَفَأَتَصَدَّقُ بِثُلُثَيْ مَالِي ؟ قَالَ : " لا " ، قُلْتُ : فَالشَّطْرُ ؟ قَالَ : " لا " ، قُلْتُ : فَالثُّلُثُ ؟ قَالَ : " الثُّلُثُ وَالثُّلُثُ كَثِيرٌ ، إِنَّكَ أَنْ تَدَعَ وَرَثَتَكَ أَغْنِيَاءَ خَيْرٌ مِنْ أَنْ تَتَرُكَهُمْ عَالَةً يَتَكَفَّفُونَ النَّاسَ ، إِنَّكَ لَنْ تُنْفِقَ نَفَقَةً إِلا أُجِرْتَ عَلَيْهَا حَتَّى اللُّقْمَةَ تَرْفَعُهَا إِلَى فِي امْرَأَتِكَ " ، قُلْتُ : يَا رَسُولَ اللَّهِ أُخَلَّفُ عَنْ هِجْرَتِي ؟ قَالَ : " إِنَّكَ إِنْ تُخَلَّفَ بَعْدِي فَتَعْمَلَ عَمَلا تُرِيدُ بِهِ وَجْهَ اللَّهِ إِلا ازْدَدْتَ بِهِ رِفْعَةً وَدَرَجَةً وَلَعَلَّكَ أَنْ تُخَلَّفَ فيَنْتَفِعَ بِكَ أَقْوَامٌ وَيُضَرَّ بِكَ آخَرُونَ اللَّهُمَّ أَمْضِ لأَصْحَابِي هِجْرَتَهُمْ وَلا تَرُدَّهُمْ عَلَى أَعْقَابِهِمْ لَكِنِ الْبَائِسُ سَعْدُ بْنُ خَوْلَةَ " . يَرْثِي لَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ مَاتَ بِمَكَّةَ .
نوید مجید طیب
عامر بن سعد رحمہ اللہ سے روایت ہے اُن کے والد نے بتایا کہ وہ فتح مکہ کے موقع پر بیمار پڑ گئے اور موت کے قریب پہنچ گئے میری عیادت کے لیے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لائے میں نے عرض کی اے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم میرا بہت سا مال ہے اور میری وارث صرف ایک بیٹی ہے تو کیا میں اپنے مال کا دو ثلث صدقہ کر دوں؟ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”نہیں“ میں نے کہا نصف؟ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”نہیں“ تو میں نے کہا: ایک ثلث؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ثلث بہت ہے، اگر تم ورثاء کو اغنیاء چھوڑ کر جاؤ یہ اس سے بہتر ہے کہ اُن کو تنگ دست چھوڑ کر جاؤ اور وہ لوگوں کے آگے ہاتھ دراز کریں تم جو بھی خرچ کرو گے اس پر تم کو ثواب ملے گا حتی کہ جو لقمہ بیوی کے منہ میں رکھو اس پر بھی اجر ہے“ میں نے عرض کی: کہ (مکہ میں فوت ہو کر) کیا اللہ کے رسول میں اپنی ہجرت سے پیچھے رہ جاؤں گا؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اگر میرے بعد تم زندہ رہے تو جو بھی عمل رضا الہی کے لیے کرو گے ان کے ذریعہ آپ کا درجہ و مرتبہ بلند ہوگا اور امید ہے تم میرے بعد زندہ رہو گے تم سے ایک قوم کو نفع دوسری کو نقصان ہو گا اے اللہ میرے صحابہ کی ہجرت برقرار رکھ اور ایڑیوں کے بل انہیں نہ لوٹا دینا قابل افسوس سعد بن خولہ رضی اللہ عنہ ہیں۔“ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کے بارے اس لیے افسوس کا اظہار کیا کہ (ہجرت کے بعد اتفاق سے) ان کی وفات مکہ مکرمہ میں ہی ہوئی۔
حدیث نمبر: 510
عَنْ مَالِكِ بْنِ أَنَسٍ ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ ، عَنْ عَامِرِ بْنِ سَعْدِ بْنِ أَبِي وَقَّاصٍ ، عَنْ أَبِيهِ سَعْدِ بْنِ أَبِي وَقَّاصٍ ، أَنَّهُ قَالَ : جَاءَنِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَعُودُنِي عَامَ حَجَّةِ الْوَدَاعِ مِنْ وَجَعٍ اشْتَدَّ بِي ، فَقُلْتُ : يَا رَسُولَ اللَّهِ قَدْ بَلَغَ بِي مِنَ الْوَجَعِ مَا تَرَى وَأَنَا ذُو مَالٍ وَلا يَرِثُنِي إِلا ابْنَةٌ لِي أَفَأَتَصَدَّقُ بِثُلُثَيْ مَالِي ؟ فَقَالَ : " لا " ، فَقُلْتُ : فَالشَّطْرُ ؟ قَالَ : " لا " ، ثُمَّ قُلْتُ : فَالثُّلُثُ ؟ قَالَ : " الثُّلُثُ وَالثُّلُثُ كَثِيرٌ أَوْ كَبِيرٌ إِنَّكَ أَنْ تَدَعَ وَرَثَتَكَ أَغْنِيَاءَ خَيْرٌ مِنْ أَنْ تَدَعَهُمْ عَالَةً يَتَكَفَّفُونَ النَّاسَ وَإِنَّكَ لَنْ تُنْفِقَ نَفَقَةً تَبْتَغِي بِهَا وَجْهَ اللَّهِ إِلا أُجِرْتَ بِهَا حَتَّى مَا تَجْعَلُ فِي امْرَأَتِكَ " ، قَالَ : فَقُلْتُ : يَا رَسُولَ اللَّهِ أُخَلَّفُ بَعْدَ أَصْحَابِي ؟ قَالَ : " إِنَّكَ لَنْ تُخَلَّفَ فَتَعْمَلَ عَمَلا صَالِحًا إِلا ازْدَدْتَ بِهِ دَرَجَةً وَرِفْعَةً وَلَعَلَّكَ أَنْ تُخَلَّفَ حَتَّى يَنْتَفِعَ بِكَ أَقْوَامٌ وَيُضَرَّ بِكَ آخَرُونَ اللَّهُمَّ أَمْضِ لأَصْحَابِي هِجْرَتَهُمْ وَلا تَرُدَّهُمْ عَلَى أَعْقَابِهِمْ " . لَكِنِ الْبَائِسُ سَعْدُ بْنُ خَوْلَةَ يَرْثِي لَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ مَاتَ بِمَكَّةَ .
نوید مجید طیب
سیدنا سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ سے روایت ہے حجۃ الوداع کے سال رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم میری عیادت کے لیے تشریف لائے مجھے سخت تکالیف تھی میں نے عرض کی اے اللہ کے رسول! میری بیماری آپ دیکھ رہے ہیں، میں صاحب مال ہوں، میری وارث میری ایک بیٹی ہے تو کیا میں اپنے مال کا دو تہائی صدقہ کر دوں؟ تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: نہیں میں نے عرض کیا: نصف؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: نہیں، پھر میں نے کہا: ایک تہائی؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تہائی ٹھیک ہے البتہ یہ بھی بہت زیادہ۔ اگر تو ورثا کو اغنیاء چھوڑ کر جائے تو یہ اس سے بہتر ہے کہ اُن کو کنگال چھوڑ کر جائے کہ وہ لوگوں سے مانگتے پھریں بے شک تو جو بھی رضا الہی کے لیے خرچ کرے گا اس کا اجر پائے گا حتی کہ اس لقمہ پر بھی جو تو بیوی کے منہ میں ڈالتا ہے۔“ میں نے عرض کیا: اے اللہ کے رسول! میں اپنے ساتھیوں سے پیچھے رہ جاؤں گا؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تو ہرگز پیچھے نہیں رہے گا تو جو بھی صالح عمل کرے گا اس پر تیرا رتبہ، درجہ بلند ہو گا امید ہے تو زندہ رہے حتی کہ تجھ سے کچھ لوگ فائدہ حاصل کریں اور بعض کو نقصان ہو۔“ (پھر دعا فرمائی) اے اللہ! میرے ساتھیوں کی ہجرت برقرار رکھ ایڑیوں کے بل انہیں نہ لوٹا لیکن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے سعد بن خولہ رضی اللہ عنہ پر افسوس کیا جو مکہ میں فوت ہوئے۔
وضاحت:
➊ سیدنا سعد رضی اللہ عنہ سابقون الاولون میں سے ہیں، اسلام اور اہل اسلام کے لیے گرانقدر خدمات انجام دیں عشرہ مبشرہ میں شمار کئے گئے۔ آپ رضی اللہ عنہ نے ستر سال عمر پائی۔ پچپن ہجری میں فوت ہوئے۔
➋ بیمار کی تیمار داری سنت رسول صلی اللہ علیہ وسلم ہے۔
➌ ملکیتی مال کی وصیت کرنا شرعاً جائز اور درست ہے۔
➍ انسان کا ترکہ قرض کی ادائیگی اور وصیت کی تکمیل کے بعد تقسیم ہوگا۔
➎ ایک تہائی سے زیادہ کی وصیت کرنا جائز نہیں مستحب یہ ہے کہ ثلث سے بھی کم مال کی وصیت فرمائی جائے۔
➏ مہاجر کے لیے اس جگہ کو دوبارہ وطن بنانا جہاں سے ہجرت کر چکا ہے درست نہیں ہے جیسا کہ ابن عبدالبر رحمہ اللہ نے التمہید میں نقل کیا ہے کہ مہاجرین کو صرف تین ایام مکہ میں رہنے کی اجازت تھی مہاجرین صحابہ کرام رضی اللہ عنہم صرف حج و عمرہ کے لیے آتے تھے کسی نے دوبارہ مکہ کو وطن نہیں بنایا۔
➐ سیدنا سعد رضی اللہ عنہ بیمار ہوئے تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک آدمی کی ڈیوٹی لگائی کہ اگر سعد رضی اللہ عنہ فوت ہو جائیں تو ان کو مکہ دفن نہ کرنا۔
➑ بعض صحابہ رضی اللہ عنہم مکہ میں فوت ہوئے جیسے عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما وغیرہ لیکن یہ وہ لوگ تھے جو حج یا عمرہ کے لیے وہاں گئے تھے اتفاقاً موت آگئی، انہوں نے مکہ مکرمہ میں مستقل سکونت اختیار نہ کی تھی۔
➋ بیمار کی تیمار داری سنت رسول صلی اللہ علیہ وسلم ہے۔
➌ ملکیتی مال کی وصیت کرنا شرعاً جائز اور درست ہے۔
➍ انسان کا ترکہ قرض کی ادائیگی اور وصیت کی تکمیل کے بعد تقسیم ہوگا۔
➎ ایک تہائی سے زیادہ کی وصیت کرنا جائز نہیں مستحب یہ ہے کہ ثلث سے بھی کم مال کی وصیت فرمائی جائے۔
➏ مہاجر کے لیے اس جگہ کو دوبارہ وطن بنانا جہاں سے ہجرت کر چکا ہے درست نہیں ہے جیسا کہ ابن عبدالبر رحمہ اللہ نے التمہید میں نقل کیا ہے کہ مہاجرین کو صرف تین ایام مکہ میں رہنے کی اجازت تھی مہاجرین صحابہ کرام رضی اللہ عنہم صرف حج و عمرہ کے لیے آتے تھے کسی نے دوبارہ مکہ کو وطن نہیں بنایا۔
➐ سیدنا سعد رضی اللہ عنہ بیمار ہوئے تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک آدمی کی ڈیوٹی لگائی کہ اگر سعد رضی اللہ عنہ فوت ہو جائیں تو ان کو مکہ دفن نہ کرنا۔
➑ بعض صحابہ رضی اللہ عنہم مکہ میں فوت ہوئے جیسے عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما وغیرہ لیکن یہ وہ لوگ تھے جو حج یا عمرہ کے لیے وہاں گئے تھے اتفاقاً موت آگئی، انہوں نے مکہ مکرمہ میں مستقل سکونت اختیار نہ کی تھی۔
حدیث نمبر: 511
عَنْ سُفْيَانَ بْنِ عُيَيْنَةَ ، عَنْ أَيُّوبَ ، عَنْ نَافِعٍ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " مَا حَقُّ امْرِئٍ يُؤْمِنُ بِالْوَصِيَّةِ وَلَهُ مَالٌ يُوصِي فِيهِ يَأْتِي عَلَيْهِ لَيْلَتَانِ إِلا وَوَصِيَّتُهُ مَكْتُوبَةٌ عِنْدَهُ " .
نوید مجید طیب
سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جو وصیت کو حق جانتا ہے اس کے لیے درست نہیں کہ اس کے پاس قابل وصیت مال ہو کہ وہ دو راتیں بھی گزارے مگر اس کے پاس وصیت لکھی ہوئی ہونی چاہیے۔“
حدیث نمبر: 512
عَنْ مَالِكٍ ، عَنْ نَافِعٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " مَا حَقُّ امْرِئٍ مُسْلِمٍ لَهُ شَيْءٌ يُوصِي فِيهِ يَبِيتُ لَيْلَتَيْنِ إِلا وَوَصِيَّتُهُ عِنْدَهُ مَكْتُوبَةٌ " .
نوید مجید طیب
سیدنا عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”کسی مسلمان کے لیے درست نہیں کہ وصیت کے قابل مال ہو کہ دو راتیں بھی گزارے مگر وصیت لکھ کر رکھے۔“
حدیث نمبر: 513
عَنْ سُفْيَانَ بْنِ عُيَيْنَةَ ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ ، عَنِ الْحَارِثِ ، عَنْ عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ، قَالَ : " يَقْرَءُونَ الْوَصِيَّةَ قَبْلَ الدَّيْنِ ، وَقَضَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِالدَّيْنِ قَبْلَ الْوَصِيَّةِ " .
نوید مجید طیب
سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے قرآن کریم میں وصیت کا ذکر قرض سے پہلے پڑھتے ہیں اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے وصیت سے پہلے قرض کی ادائیگی کا فیصلہ فرمایا۔
وضاحت:
➊ احکام میراث کے نزول سے قبل وصیت کرنا فرض تھا ارشاد باری تعالیٰ ہے: ﴿كُتِبَ عَلَيْكُمْ إِذَا حَضَرَ أَحَدَكُمُ الْمَوْتُ إِن تَرَكَ خَيْرًا الْوَصِيَّةُ لِلْوَالِدَيْنِ وَالْأَقْرَبِينَ بِالْمَعْرُوفِ ۖ حَقًّا عَلَى الْمُتَّقِينَ﴾ [البقرة: 180]
تم پر فرض کر دیا گیا ہے کہ جب تم میں سے کسی کو موت آنے لگے، اگر وہ مال چھوڑے جا رہا ہو تو والدین اور رشتہ داروں کے لیے معروف طریقے سے وصیت کرے، یہ متقیوں پر لازم ہے۔
احکامِ وراثت کے نزول کے بعد وارث کے حق میں وصیت ختم ہو گئی کیونکہ اللہ تعالیٰ نے خود وصیت کرتے ہوئے ورثا کا حصہ متعین فرمایا: ﴿يُوصِيكُمُ اللَّهُ فِي أَوْلَادِكُمْ ۖ لِلذَّكَرِ مِثْلُ حَظِّ الْأُنثَيَيْنِ ۚ فَإِن كُنَّ نِسَاءً فَوْقَ اثْنَتَيْنِ فَلَهُنَّ ثُلُثَا مَا تَرَكَ ۖ وَإِن كَانَتْ وَاحِدَةً فَلَهَا النِّصْفُ ۚ وَلِأَبَوَيْهِ لِكُلِّ وَاحِدٍ مِّنْهُمَا السُّدُسُ مِمَّا تَرَكَ إِن كَانَ لَهُ وَلَدٌ ۚ فَإِن لَّمْ يَكُن لَّهُ وَلَدٌ وَوَرِثَهُ أَبَوَاهُ فَلِأُمِّهِ الثُّلُثُ ۚ فَإِن كَانَ لَهُ إِخْوَةٌ فَلِأُمِّهِ السُّدُسُ ۚ مِن بَعْدِ وَصِيَّةٍ يُوصِي بِهَا أَوْ دَيْنٍ ۗ آبَاؤُكُمْ وَأَبْنَاؤُكُمْ لَا تَدْرُونَ أَيُّهُمْ أَقْرَبُ لَكُمْ نَفْعًا ۚ فَرِيضَةً مِّنَ اللَّهِ ۗ إِنَّ اللَّهَ كَانَ عَلِيمًا حَكِيمًا﴾ [النساء: 11]
اللہ تمھیں تمھاری اولاد کے بارے میں وصیت کرتا ہے مرد کا حصہ دو عورتوں کے حصے کے برابر ہے، پھر اگر (دو یا) دو سے زیادہ عورتیں ہی ہوں تو ان کے لیے ترکے میں دو تہائی حصہ ہے اور اگر ایک ہی (لڑکی) ہو تو اس کے لیے آدھا (حصہ) ہے، اور اس (مرنے والے) کے ماں باپ میں سے ہر ایک کے لیے ترکے میں چھٹا حصہ ہے، اگر اس کی اولاد ہو۔ اور اگر اس کی اولاد نہ ہو اور اس کے ماں باپ ہی اس کے وارث ہوں تو اس کی ماں کے لیے تیسرا حصہ ہے۔ اور اگر اس (مرنے والے) کے (ایک سے زیادہ) بھائی بہن ہوں تو اس کی ماں کے لیے چھٹا حصہ ہے۔ (یہ تقسیم) اس کی وصیت پر عمل یا قرض ادا کرنے کے بعد ہو گی تمھارے باپ اور تمھارے بیٹے تم نہیں جانتے کہ ان میں سے کون نفع کے لحاظ سے تم سے زیادہ قریب ہے۔ (یہ تقسیم) اللہ کی طرف سے مقرر ہے، بے شک اللہ تعالیٰ خوب جاننے والا، بڑی حکمت والا ہے۔
﴿وَلَكُمْ نِصْفُ مَا تَرَكَ أَزْوَاجُكُمْ إِن لَّمْ يَكُن لَّهُنَّ وَلَدٌ ۚ فَإِن كَانَ لَهُنَّ وَلَدٌ فَلَكُمُ الرُّبُعُ مِمَّا تَرَكْنَ ۚ مِن بَعْدِ وَصِيَّةٍ يُوصِينَ بِهَا أَوْ دَيْنٍ ۚ وَلَهُنَّ الرُّبُعُ مِمَّا تَرَكْتُمْ إِن لَّمْ يَكُن لَّكُمْ وَلَدٌ ۚ فَإِن كَانَ لَكُمْ وَلَدٌ فَلَهُنَّ الثُّمُنُ مِمَّا تَرَكْتُم ۚ مِّن بَعْدِ وَصِيَّةٍ تُوصُونَ بِهَا أَوْ دَيْنٍ ۗ وَإِن كَانَ رَجُلٌ يُورَثُ كَلَالَةً أَوِ امْرَأَةٌ وَلَهُ أَخٌ أَوْ أُخْتٌ فَلِكُلِّ وَاحِدٍ مِّنْهُمَا السُّدُسُ ۚ فَإِن كَانُوا أَكْثَرَ مِن ذَٰلِكَ فَهُمْ شُرَكَاءُ فِي الثُّلُثِ ۚ مِن بَعْدِ وَصِيَّةٍ يُوصَىٰ بِهَا أَوْ دَيْنٍ غَيْرَ مُضَارٍّ ۚ وَصِيَّةً مِّنَ اللَّهِ ۗ وَاللَّهُ عَلِيمٌ حَلِيمٌ﴾ [النساء: 12]
اور تمھاری بیویوں کے ترکے میں تمھارا آدھا حصہ ہے، اگر ان کی اولاد نہ ہو، پھر اگر ان کی اولاد ہو تو ان کے ترکے میں تمھارا چوتھا حصہ ہے۔ (یہ تقسیم) ان کی وصیت پر عمل یا قرض ادا کرنے کے بعد ہوگی اور اگر تمھاری اولاد نہ ہو تو تمھارے ترکے میں تمھاری بیویوں کا چوتھا حصہ ہے، پھر اگر تمھاری اولاد ہو تو تمھارے ترکے میں ان کا آٹھواں حصہ ہے۔ (یہ تقسیم) تمھاری وصیت پر عمل یا قرض ادا کرنے کے بعد ہوگی اور اگر وہ آدمی جس کا ورثہ تقسیم کیا جارہا ہو، اس کا بیٹا ہو نہ باپ، یا ایسی ہی عورت ہو۔ اور اس کا ایک بھائی یا ایک بہن ہو تو ان دونوں میں سے ہر ایک کے لیے چھٹا حصہ ہے۔ پھر اگر ان کی تعداد اس سے زیادہ ہو تو وہ سب ایک تہائی حصے میں شریک ہوں گے۔ (یہ تقسیم) اس کی وصیت پر عمل یا قرض ادا کرنے کے بعد (ہوگی) جبکہ وہ کسی کو نقصان پہنچانے والا نہ ہو۔ یہ اللہ کی طرف سے تاکید ہے، اور اللہ خوب جاننے والا، بڑے حوصلے والا ہے۔
﴿تِلْكَ حُدُودُ اللَّهِ ۚ وَمَن يُطِعِ اللَّهَ وَرَسُولَهُ يُدْخِلْهُ جَنَّاتٍ تَجْرِي مِن تَحْتِهَا الْأَنْهَارُ خَالِدِينَ فِيهَا ۚ وَذَٰلِكَ الْفَوْزُ الْعَظِيمُ﴾ [النساء: 13]
یہ اللہ کی حدیں ہیں اور جو اللہ اور اس کے رسول کی فرمانبرداری کرے گا، اسے اللہ ایسے باغوں میں داخل کرے گا جن کے نیچے نہریں بہتی ہیں، وہ ان میں ہمیشہ رہیں گے۔ اور یہ بہت بڑی کامیابی ہے۔
﴿وَمَن يَعْصِ اللَّهَ وَرَسُولَهُ وَيَتَعَدَّ حُدُودَهُ يُدْخِلْهُ نَارًا خَالِدًا فِيهَا وَلَهُ عَذَابٌ مُّهِينٌ﴾ [النساء: 14]
اور جو کوئی اللہ اور اس کے رسول کی نافرمانی کرے گا اور اس کی حدوں سے آگے نکلے تو اللہ اسے آگ میں داخل کرے گا جس میں وہ ہمیشہ رہے گا اور اس کے لیے رسوا کرنے والا عذاب ہے۔
اسی طرح رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: «إن اللہ أعطى كل ذي حق حقه فلا وصية لوارث» [نسائی: 3671]
یقیناً اللہ تعالیٰ نے ہر حقدار کو اس کا حق دے دیا ہے چنانچہ وارث کے لیے کوئی وصیت نہیں ہے۔
➋ وصیت اگر غیر شرعی ہے تو اس پر عمل نہیں ہوگا اور اس کی اصلاح کرنا درست ہے۔ ارشاد باری تعالیٰ ہے: ﴿فَمَنْ خَافَ مِنْ مُوصٍ جَنَفًا أَوْ إِثْمًا فَأَصْلَحَ بَيْنَهُمْ فَلَا إِثْمَ عَلَيْهِ إِنَّ اللَّهَ غَفُورٌ رَّحِيمٌ﴾ [البقرة: 182]
پھر اگر کسی کو وصیت کرنے والے کی طرف سے حق تلفی یا کسی گناہ کا ڈر ہو اور وہ ان میں صلح کروا دے تو اس پر کوئی گناہ نہیں، بے شک اللہ بہت بخشنے والا، بڑا رحم کرنے والا ہے۔
➌ موت کا پتہ نہیں اس لیے بعد کے معاملات طے شدہ ہونے چاہیں، وصیت تحریری ہو اور اس پر گواہ ہوں تو بعد میں جھگڑا نہیں ہوتا اگر اس کو عدالت دیوانی میں رجسٹر کروا دیا جائے تو جعلی فرضی وصیت ناموں کا خاتمہ ہو جاتا ہے۔
➍ وصیت واجب نہیں الا یہ کہ کسی کا قرض دینا ہو یا یتیم پوتوں کے لیے کچھ وصیت کر جائے تو اچھا ہے کیونکہ وہ شرعی وارث نہیں اور پھر وہ ایسے کمزور ہوتے ہیں جن کا چچے، تائے اور دیگر وارث خیال نہیں رکھتے۔
➎ دو راتوں اور بعض روایات میں تین راتوں کا ذکر سے مراد تحدید نہیں بلکہ جلدی کی ترغیب ہے واللہ اعلم۔
➏ یہ عام وصیت کی بات ہے مگر قرض، امانت، حقوق تو لازماً لکھ کر رکھنے چاہئیں اور اولاد کو اس سے آگاہ بھی رکھنا چاہیے۔ لکھی ہوئی وصیت میں انسان خود تبدیلی بھی کر سکتا ہے لیکن وارثوں کا تبدیل کرنا حرام ہے الا یہ کہ وصیت خلاف شرع ہو تو اس کی تبدیلی لازمی ہے۔
➐ میت کے مال میں پہلا حق کفن دفن کا خرچہ، پھر قرض، پھر وصیت اگر کوئی ہو تو اس کے بعد ترکہ میت تقسیم کیا جائے گا۔ جیسا کہ سورہ النساء میں تقسیم وراثت کے ضابطوں میں اس کی وضاحت کی گئی ہے۔
تم پر فرض کر دیا گیا ہے کہ جب تم میں سے کسی کو موت آنے لگے، اگر وہ مال چھوڑے جا رہا ہو تو والدین اور رشتہ داروں کے لیے معروف طریقے سے وصیت کرے، یہ متقیوں پر لازم ہے۔
احکامِ وراثت کے نزول کے بعد وارث کے حق میں وصیت ختم ہو گئی کیونکہ اللہ تعالیٰ نے خود وصیت کرتے ہوئے ورثا کا حصہ متعین فرمایا: ﴿يُوصِيكُمُ اللَّهُ فِي أَوْلَادِكُمْ ۖ لِلذَّكَرِ مِثْلُ حَظِّ الْأُنثَيَيْنِ ۚ فَإِن كُنَّ نِسَاءً فَوْقَ اثْنَتَيْنِ فَلَهُنَّ ثُلُثَا مَا تَرَكَ ۖ وَإِن كَانَتْ وَاحِدَةً فَلَهَا النِّصْفُ ۚ وَلِأَبَوَيْهِ لِكُلِّ وَاحِدٍ مِّنْهُمَا السُّدُسُ مِمَّا تَرَكَ إِن كَانَ لَهُ وَلَدٌ ۚ فَإِن لَّمْ يَكُن لَّهُ وَلَدٌ وَوَرِثَهُ أَبَوَاهُ فَلِأُمِّهِ الثُّلُثُ ۚ فَإِن كَانَ لَهُ إِخْوَةٌ فَلِأُمِّهِ السُّدُسُ ۚ مِن بَعْدِ وَصِيَّةٍ يُوصِي بِهَا أَوْ دَيْنٍ ۗ آبَاؤُكُمْ وَأَبْنَاؤُكُمْ لَا تَدْرُونَ أَيُّهُمْ أَقْرَبُ لَكُمْ نَفْعًا ۚ فَرِيضَةً مِّنَ اللَّهِ ۗ إِنَّ اللَّهَ كَانَ عَلِيمًا حَكِيمًا﴾ [النساء: 11]
اللہ تمھیں تمھاری اولاد کے بارے میں وصیت کرتا ہے مرد کا حصہ دو عورتوں کے حصے کے برابر ہے، پھر اگر (دو یا) دو سے زیادہ عورتیں ہی ہوں تو ان کے لیے ترکے میں دو تہائی حصہ ہے اور اگر ایک ہی (لڑکی) ہو تو اس کے لیے آدھا (حصہ) ہے، اور اس (مرنے والے) کے ماں باپ میں سے ہر ایک کے لیے ترکے میں چھٹا حصہ ہے، اگر اس کی اولاد ہو۔ اور اگر اس کی اولاد نہ ہو اور اس کے ماں باپ ہی اس کے وارث ہوں تو اس کی ماں کے لیے تیسرا حصہ ہے۔ اور اگر اس (مرنے والے) کے (ایک سے زیادہ) بھائی بہن ہوں تو اس کی ماں کے لیے چھٹا حصہ ہے۔ (یہ تقسیم) اس کی وصیت پر عمل یا قرض ادا کرنے کے بعد ہو گی تمھارے باپ اور تمھارے بیٹے تم نہیں جانتے کہ ان میں سے کون نفع کے لحاظ سے تم سے زیادہ قریب ہے۔ (یہ تقسیم) اللہ کی طرف سے مقرر ہے، بے شک اللہ تعالیٰ خوب جاننے والا، بڑی حکمت والا ہے۔
﴿وَلَكُمْ نِصْفُ مَا تَرَكَ أَزْوَاجُكُمْ إِن لَّمْ يَكُن لَّهُنَّ وَلَدٌ ۚ فَإِن كَانَ لَهُنَّ وَلَدٌ فَلَكُمُ الرُّبُعُ مِمَّا تَرَكْنَ ۚ مِن بَعْدِ وَصِيَّةٍ يُوصِينَ بِهَا أَوْ دَيْنٍ ۚ وَلَهُنَّ الرُّبُعُ مِمَّا تَرَكْتُمْ إِن لَّمْ يَكُن لَّكُمْ وَلَدٌ ۚ فَإِن كَانَ لَكُمْ وَلَدٌ فَلَهُنَّ الثُّمُنُ مِمَّا تَرَكْتُم ۚ مِّن بَعْدِ وَصِيَّةٍ تُوصُونَ بِهَا أَوْ دَيْنٍ ۗ وَإِن كَانَ رَجُلٌ يُورَثُ كَلَالَةً أَوِ امْرَأَةٌ وَلَهُ أَخٌ أَوْ أُخْتٌ فَلِكُلِّ وَاحِدٍ مِّنْهُمَا السُّدُسُ ۚ فَإِن كَانُوا أَكْثَرَ مِن ذَٰلِكَ فَهُمْ شُرَكَاءُ فِي الثُّلُثِ ۚ مِن بَعْدِ وَصِيَّةٍ يُوصَىٰ بِهَا أَوْ دَيْنٍ غَيْرَ مُضَارٍّ ۚ وَصِيَّةً مِّنَ اللَّهِ ۗ وَاللَّهُ عَلِيمٌ حَلِيمٌ﴾ [النساء: 12]
اور تمھاری بیویوں کے ترکے میں تمھارا آدھا حصہ ہے، اگر ان کی اولاد نہ ہو، پھر اگر ان کی اولاد ہو تو ان کے ترکے میں تمھارا چوتھا حصہ ہے۔ (یہ تقسیم) ان کی وصیت پر عمل یا قرض ادا کرنے کے بعد ہوگی اور اگر تمھاری اولاد نہ ہو تو تمھارے ترکے میں تمھاری بیویوں کا چوتھا حصہ ہے، پھر اگر تمھاری اولاد ہو تو تمھارے ترکے میں ان کا آٹھواں حصہ ہے۔ (یہ تقسیم) تمھاری وصیت پر عمل یا قرض ادا کرنے کے بعد ہوگی اور اگر وہ آدمی جس کا ورثہ تقسیم کیا جارہا ہو، اس کا بیٹا ہو نہ باپ، یا ایسی ہی عورت ہو۔ اور اس کا ایک بھائی یا ایک بہن ہو تو ان دونوں میں سے ہر ایک کے لیے چھٹا حصہ ہے۔ پھر اگر ان کی تعداد اس سے زیادہ ہو تو وہ سب ایک تہائی حصے میں شریک ہوں گے۔ (یہ تقسیم) اس کی وصیت پر عمل یا قرض ادا کرنے کے بعد (ہوگی) جبکہ وہ کسی کو نقصان پہنچانے والا نہ ہو۔ یہ اللہ کی طرف سے تاکید ہے، اور اللہ خوب جاننے والا، بڑے حوصلے والا ہے۔
﴿تِلْكَ حُدُودُ اللَّهِ ۚ وَمَن يُطِعِ اللَّهَ وَرَسُولَهُ يُدْخِلْهُ جَنَّاتٍ تَجْرِي مِن تَحْتِهَا الْأَنْهَارُ خَالِدِينَ فِيهَا ۚ وَذَٰلِكَ الْفَوْزُ الْعَظِيمُ﴾ [النساء: 13]
یہ اللہ کی حدیں ہیں اور جو اللہ اور اس کے رسول کی فرمانبرداری کرے گا، اسے اللہ ایسے باغوں میں داخل کرے گا جن کے نیچے نہریں بہتی ہیں، وہ ان میں ہمیشہ رہیں گے۔ اور یہ بہت بڑی کامیابی ہے۔
﴿وَمَن يَعْصِ اللَّهَ وَرَسُولَهُ وَيَتَعَدَّ حُدُودَهُ يُدْخِلْهُ نَارًا خَالِدًا فِيهَا وَلَهُ عَذَابٌ مُّهِينٌ﴾ [النساء: 14]
اور جو کوئی اللہ اور اس کے رسول کی نافرمانی کرے گا اور اس کی حدوں سے آگے نکلے تو اللہ اسے آگ میں داخل کرے گا جس میں وہ ہمیشہ رہے گا اور اس کے لیے رسوا کرنے والا عذاب ہے۔
اسی طرح رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: «إن اللہ أعطى كل ذي حق حقه فلا وصية لوارث» [نسائی: 3671]
یقیناً اللہ تعالیٰ نے ہر حقدار کو اس کا حق دے دیا ہے چنانچہ وارث کے لیے کوئی وصیت نہیں ہے۔
➋ وصیت اگر غیر شرعی ہے تو اس پر عمل نہیں ہوگا اور اس کی اصلاح کرنا درست ہے۔ ارشاد باری تعالیٰ ہے: ﴿فَمَنْ خَافَ مِنْ مُوصٍ جَنَفًا أَوْ إِثْمًا فَأَصْلَحَ بَيْنَهُمْ فَلَا إِثْمَ عَلَيْهِ إِنَّ اللَّهَ غَفُورٌ رَّحِيمٌ﴾ [البقرة: 182]
پھر اگر کسی کو وصیت کرنے والے کی طرف سے حق تلفی یا کسی گناہ کا ڈر ہو اور وہ ان میں صلح کروا دے تو اس پر کوئی گناہ نہیں، بے شک اللہ بہت بخشنے والا، بڑا رحم کرنے والا ہے۔
➌ موت کا پتہ نہیں اس لیے بعد کے معاملات طے شدہ ہونے چاہیں، وصیت تحریری ہو اور اس پر گواہ ہوں تو بعد میں جھگڑا نہیں ہوتا اگر اس کو عدالت دیوانی میں رجسٹر کروا دیا جائے تو جعلی فرضی وصیت ناموں کا خاتمہ ہو جاتا ہے۔
➍ وصیت واجب نہیں الا یہ کہ کسی کا قرض دینا ہو یا یتیم پوتوں کے لیے کچھ وصیت کر جائے تو اچھا ہے کیونکہ وہ شرعی وارث نہیں اور پھر وہ ایسے کمزور ہوتے ہیں جن کا چچے، تائے اور دیگر وارث خیال نہیں رکھتے۔
➎ دو راتوں اور بعض روایات میں تین راتوں کا ذکر سے مراد تحدید نہیں بلکہ جلدی کی ترغیب ہے واللہ اعلم۔
➏ یہ عام وصیت کی بات ہے مگر قرض، امانت، حقوق تو لازماً لکھ کر رکھنے چاہئیں اور اولاد کو اس سے آگاہ بھی رکھنا چاہیے۔ لکھی ہوئی وصیت میں انسان خود تبدیلی بھی کر سکتا ہے لیکن وارثوں کا تبدیل کرنا حرام ہے الا یہ کہ وصیت خلاف شرع ہو تو اس کی تبدیلی لازمی ہے۔
➐ میت کے مال میں پہلا حق کفن دفن کا خرچہ، پھر قرض، پھر وصیت اگر کوئی ہو تو اس کے بعد ترکہ میت تقسیم کیا جائے گا۔ جیسا کہ سورہ النساء میں تقسیم وراثت کے ضابطوں میں اس کی وضاحت کی گئی ہے۔
حدیث نمبر: 514
عَنْ سُفْيَانَ بْنِ عُيَيْنَةَ ، حَدَّثَنَا جَامِعٌ ، وَعَبْدُ الْمَلِكِ ، سَمِعَا أَبَا وَائِلٍ ، يُخْبِرُ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ ، قَالَ : سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، يَقُولُ : " مَنْ حَلَفَ عَلَى يَمِينٍ لِيَقْتَطِعَ بِهَا مَالَ امْرِئٍ مُسْلِمٍ لَقِيَ اللَّهَ وَهُوَ عَلَيْهِ غَضْبَانُ " ، ثُمَّ قَرَأَ عَلَيْنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ كِتَابِ اللَّهِ إِنَّ الَّذِينَ يَشْتَرُونَ بِعَهْدِ اللَّهِ وَأَيْمَانِهِمْ ثَمَنًا قَلِيلا سورة آل عمران آية 77 الآيَةَ " .
نوید مجید طیب
سیدنا عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے روایت ہے انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا: ”جس نے جھوٹی قسم اٹھائی تاکہ اس کے ذریعے سے کسی مسلم کا ناحق مال حاصل کرے تو اس کی اللہ تعالیٰ سے اس حالت میں ملاقات ہوگی کہ اللہ تعالیٰ اس پر غضب ناک ہوں گے“ پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے قرآن کریم کی یہ آیت پڑھی : بے شک جو لوگ اللہ تعالی کے عہد اور اپنی قسموں کو تھوڑی قیمت پر بیچ ڈالتے ہیں۔ [سورة آل عمران : 77]
حدیث نمبر: 515
عَنْ سُفْيَانَ ، عَنِ أَبِي إِسْحَاقَ ، عَنْ مَعْبَدِ بْنِ كَعْبٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " مَنْ حَلَفَ عَلَى يَمِينٍ لِيَقْتَطِعَ بِهَا مَالَ امْرِئٍ مُسْلِمٍ لَقِيَ اللَّهَ وَهُوَ عَلَيْهِ غَضْبَانُ " ، قِيلَ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، وَإِنْ كَانَ شَيْئًا يَسِيرًا ؟ قَالَ : " وَإِنْ كَانَ سِوَاكًا مِنْ أَرَاكٍ " .
نوید مجید طیب
سیدنا کعب رضی اللہ عنہ سے روایت ہے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جس نے کسی مسلم کے مال قبضے کے لیے جھوٹی قسم کھائی وہ اللہ تعالیٰ سے اس حال میں ملے گا کہ اللہ تعالیٰ اس پر غضب ناک ہوں گے۔“ راوی نے کہا اے اللہ کے رسول ! اگرچہ معمولی مال ہو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اگرچہ پیلو کے درخت کی مسواک ہو۔“
حدیث نمبر: 516
عَنْ مَالِكٍ ، عَنْ هَاشِمِ بْنِ هَاشِمِ بْنِ عُتْبَةَ بْنِ أَبِي وَقَّاصٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ نِسْطَاسٍ ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " مَنْ حَلَفَ عَلَى مِنْبَرِي هَذَا بِيَمِينٍ آثِمَةٍ تَبَوَّأَ مَقْعَدَهُ مِنَ النَّارِ " .
نوید مجید طیب
سیدنا جابر بن عبد اللہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جس نے میرے منبر پر جھوٹی قسم کھائی وہ اپنا ٹھکانہ جہنم بنا لے۔“
حدیث نمبر: 517
عَنْ مَالِكِ بْنِ أَنَسٍ ، عَنِ الْعَلاءِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، عَنْ مَعْبَدِ بْنِ كَعْبٍ ، عَنْ أَخِيهِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ كَعْبِ بْنِ مَالِكٍ ، عَنْ أَبِي أُمَامَةَ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " مَنِ اقْتَطَعَ حَقَّ امْرِئٍ مُسْلِمٍ بِيَمِينِهِ حَرَّمَ اللَّهُ عَلَيْهِ الْجَنَّةَ وَأَوْجَبَ لَهُ النَّارَ " ، قَالُوا : وَإِنْ كَانَ شَيْئًا يَسِيرًا يَا رَسُولَ اللَّهِ ؟ قَالَ : " وَإِنْ كَانَ قَضِيبًا مِنْ أَرَاكٍ " ، قَالَهَا ثَلاثًا .
نوید مجید طیب
سیدنا ابو امامہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جس نے جھوٹی قسم کے ذریعے کسی مسلمان کا مال ہتھیا یا اللہ تعالیٰ نے اس پر جنت حرام کر دی اور جہنم واجب کر دی ہے۔“ صحابہ رضی اللہ عنہم نے عرض کیا: اگرچہ وہ معمولی چیز ہو؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”چاہیے پیلو کے درخت کی شاخ ہو“ یہ تین مرتبہ ارشاد فرمایا۔
وضاحت:
➊ اپنے دعوئی میں قسم کھانا اگر قسم کچی ہو تو جائز ہے جھوٹی ہو تو کبیرہ گناہ ہے اگر چہ معمولی شے کے حصول کے لیے ہو۔
➋ منبر کے پاس جھوٹی قسم کھائے تو اپنا ٹھکانہ جہنم بنالے مقدس مقامات پر قسم کھانا اور بڑا گناہ ہے اسلامی عدالتیں منبر پر ہی لگتی تھیں اس لیے «عند المنبر» کا لفظ آیا ہے۔
➌ مقدس مقام یا ایام کے دوران گناہ کی سنگینی میں اضافہ ہو جاتا ہے۔
➍ بہت سے لوگ عدالت میں جھوٹ بولنا ضروری سمجھتے ہیں حالانکہ یہ کبیرہ گناہ ہے عدالت کے فیصلہ کے باوجود ناحق مال جائز نہیں ہو جاتا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: میں ظاہری دلائل کی بنیاد پر فیصلہ صادر کرتا ہوں جس نے چرب زبانی سے اپنے حق میں فیصلہ کروالیا تو وہ یہ سمجھے اس نے جہنم کا ٹکڑا اپنے نام الاٹ کرایا چاہے تو لے لے چاہے تو چھوڑ دے۔ [بخاری: 1713]
➎ راوی حدیث، ابو امامہ بن ثعلبہ انصاری رضی اللہ عنہ ہیں اس سے مراد مشہور صحابی ابو امامہ باہلی رضی اللہ عنہ نہیں ہیں۔
➋ منبر کے پاس جھوٹی قسم کھائے تو اپنا ٹھکانہ جہنم بنالے مقدس مقامات پر قسم کھانا اور بڑا گناہ ہے اسلامی عدالتیں منبر پر ہی لگتی تھیں اس لیے «عند المنبر» کا لفظ آیا ہے۔
➌ مقدس مقام یا ایام کے دوران گناہ کی سنگینی میں اضافہ ہو جاتا ہے۔
➍ بہت سے لوگ عدالت میں جھوٹ بولنا ضروری سمجھتے ہیں حالانکہ یہ کبیرہ گناہ ہے عدالت کے فیصلہ کے باوجود ناحق مال جائز نہیں ہو جاتا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: میں ظاہری دلائل کی بنیاد پر فیصلہ صادر کرتا ہوں جس نے چرب زبانی سے اپنے حق میں فیصلہ کروالیا تو وہ یہ سمجھے اس نے جہنم کا ٹکڑا اپنے نام الاٹ کرایا چاہے تو لے لے چاہے تو چھوڑ دے۔ [بخاری: 1713]
➎ راوی حدیث، ابو امامہ بن ثعلبہ انصاری رضی اللہ عنہ ہیں اس سے مراد مشہور صحابی ابو امامہ باہلی رضی اللہ عنہ نہیں ہیں۔