حدیث نمبر: 417
عَنْ سُفْيَانَ بْنِ عُيَيْنَةَ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ دِينَارٍ ، عَنْ يَحْيَى بْنِ جَعْدَةَ ، قَالَ : لَمَّا قَدِمَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْمَدِينَةَ أَقْطَعَ النَّاسَ الدُّورَ ، فَقَالَ حَيٌّ مِنْ بَنِي زُهْرَةَ يُقَالُ لَهُمْ : بَنُو عَبْدِ بْنِ زُهْرَةَ : نَكِّبْ عَنَّا ابْنَ أُمِّ عَبْدٍ ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " فَلِمَ ابْتَعَثَنِيَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ إِذَنْ ؟ إِنَّ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ لا يُقَدِّسُ أُمَّةً لا يُؤْخَذُ لِلضَّعِيفِ مِنْهُمْ حَقُّهُ " .
نوید مجید طیب
یحیی بن جعدہ رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مدینہ تشریف لائے ، لوگوں کو گھروں (کی جگہ) عنایت فرمائی تو بنی زہرہ کے قبیلے جن کو بنو عبد بن زہرہ کہا جاتا تھا نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے کہا کہ ہم سے عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کو دور رکھیں (یعنی ان کا گھر ہمارے پڑوس نہ ہو) تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” تو پھر مجھے اللہ تعالیٰ نے کیوں مبعوث کیا ؟ بے شک اللہ تعالیٰ اس امت کو پاک نہیں کرتا جس سے کمزور کا حق وصول نہیں کیا جاتا۔“
وضاحت:
➊ یحییٰ بن جعدہ رحمہ اللہ کا اگرچہ سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے سماع ثابت نہیں تاہم روایت موصولاً صحیح ثابت ہے۔
➋ سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ بڑے جلیل القدر صحابی تھے یہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے جوتے اور پانی کا لوٹا اٹھا کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ہمراہ ہوتے، خدمتِ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم میں علم کے ساتھ ساتھ تربیت بھی سیکھتے تھے، ان ہی کے عمل سے دینی مدارس کے طلبہ نے اساتذہ کی خدمت سیکھی ہے جبکہ جہالت کی یونیورسٹیوں اور کالجوں میں طالب علم اپنے ہی استاذ کو مار پیٹ کرتے دکھائی دیتے ہیں، یہ دینی مدارس اور کالجز میں بنیادی فرق ہے۔
➋ سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ بڑے جلیل القدر صحابی تھے یہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے جوتے اور پانی کا لوٹا اٹھا کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ہمراہ ہوتے، خدمتِ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم میں علم کے ساتھ ساتھ تربیت بھی سیکھتے تھے، ان ہی کے عمل سے دینی مدارس کے طلبہ نے اساتذہ کی خدمت سیکھی ہے جبکہ جہالت کی یونیورسٹیوں اور کالجوں میں طالب علم اپنے ہی استاذ کو مار پیٹ کرتے دکھائی دیتے ہیں، یہ دینی مدارس اور کالجز میں بنیادی فرق ہے۔
حدیث نمبر: 418
عَنْ سُفْيَانَ ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ ، عَنْ أَبِيهِ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " أَقْطَعَ الزُّبَيْرَ أَرْضًا " ، وَأَنَّ عُمَرَ أَقْطَعَ الْعَقِيقَ أَجْمَعَ .
نوید مجید طیب
سیدنا عروة بن زبیر رحمہ اللہ سے روایت ہے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے زبیر رضی اللہ عنہ کو زمین کا ایک ٹکڑا عنایت فرمایا اور عمر رضی اللہ عنہ نے (اپنے دور میں انہیں) عقیق عنایت فرمایا۔
وضاحت:
حاکمِ وقت جاگیر تقسیم کر سکتا ہے اور حد بندی بھی کر سکتا ہے۔ اسی طرح خالصہ زمین اگر کسی نے آباد نہیں کی تو اس سے واپس لے کر جو آباد کر سکتا ہے اس کے حوالے بغرض کاشت بھی حاکم دے سکتا ہے۔
حدیث نمبر: 419
عَنْ عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ حَسَنِ بْنِ الْقَاسِمِ الأَزْرَقِيِّ الْغَسَّانِيِّ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ عَلْقَمَةَ بْنِ نَضْلَةَ ، قَالَ : ضَرَبَ أَبُو سُفْيَانَ بْنُ حَرْبٍ بِرِجْلِهِ عَلَى بَابِ دَارِهِ ، فَقَالَ : سَنَامُ الأَرْضِ إِنَّ لَهَا سَنَامًا زَعَمَ ابْنُ فَرْقَدٍ السُّلَمِيُّ أَنِّي لا أَعْرِفُ حَقِّي مِنْ حَقِّهِ ، لِي مَا اسْوَدَّ مِنَ الْمَرْوَةِ وَلَهُ مَا ابْيَضَّ مِنْهَا ، أَوْ لِي مَا ابْيَضَّ مِنَ الْمَرْوَةِ وَلَهُ مَا اسْوَدَّ مِنْهَا الشَّكُّ مِنَ الشَّافِعِيِّ رَحِمَهُ اللَّهُ وَلِي مَا بَيْنَ قَدَمَيَّ هَاتَيْنِ إِلَى تُجْنَى فَبَلَغَ ذَلِكَ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ فَقَالَ : " كَذَبَ لَيْسَ لأَحَدٍ إِلا مَا حَاطَتْ بِهِ جِدْرَانُهُ " . قَالَ لَنَا أَبُو جَعْفَرٍ الطَّحَاوِيُّ سَمِعْتُ الْمُزَنِيَّ يَقُولُ : قَالَ الشَّافِعِيُّ رَحِمَهُ اللَّهُ : إِذَا عَلِمَ صَاحِبَ الشُّفْعَةِ فَأَكْثَرُ مَا يَجُوزُ لَهُ طَلَبُ الشُّفْعَةِ فِي ثَلاثَةِ أَيَّامٍ فَإِذَا جَاوَزَ ثَلاثَةَ أَيَّامٍ لَمْ يَجُزْ طَلَبُهُ ، وَهَذَا اسْتِحْسَانٌ مِنِّي وَلَيْسَ بِأَصْلٍ .
نوید مجید طیب
علقمہ بن نضلہ رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ ابوسفیان بن حرب نے پاؤں سے میرے دروازے کو مارا اور کہنے لگے زمین کی چوٹی اس کے لیے چوٹی ہے ابن فرقد سلمی کا خیال ہے کہ میں اپنی زمین کی حد بندی اس کی حد بندی سے نہیں پہچان سکتا، مروہ پہاڑی کا کالا حصہ میرا ہے، اس کا سفید ہے امام شافعی رحمہ اللہ نے شک کیا یا کہا کہ مروہ پہاڑی کا سفید حصہ میرا ہے کالا اُس کا ہے میں جہاں کھڑا ہوں ادھر سے ادھر تک میرا ہے تو عمر رضی اللہ عنہ (خلیفہ وقت) کو جب یہ دعویٰ بتایا گیا تو انہوں نے آرڈر پاس کیا کہ ”جھوٹ کہتا ہے ہر ایک کا حصہ اس کی دیواروں کے اندر ہے۔“ امام مزنی رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ امام شافعی رحمہ اللہ نے فرمایا کہ شفعہ کرنے والے کو علم کے بعد تین ایام کے اندر اندر شفعہ کا دعویٰ دائر کرنا ہے تین دن کے بعد اس کی درخواست زیر غور نہیں لائی جائے گی، یہ میرا اجتہاد استحسان ہے کوئی حدیث نہیں۔
حدیث نمبر: 420
عَنْ مَالِكِ بْنِ أَنَسٍ ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ ، عَنْ أَبِيهِ ، أَنَّ صَاحِبَ هَدْيِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : يَا رَسُولَ اللَّهِ كَيْفَ أَصْنَعُ بِمَا عَطِبَ مِنَ الْهَدْيِ ؟ فَقَالَ لَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " انْحَرْهَا ثُمَّ أَلْقِ قَلائِدَهَا فِي دَمِهَا ثُمَّ خَلِّ بَيْنَ النَّاسِ وَبَيْنَهَا يَأْكُلُونَهَا " .
نوید مجید طیب
عروہ بن زبیر رحمہ اللہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے اونٹوں کے نگران نے عرض کیا : اے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم جو جانور (بیت اللہ جاتے ہوئے) راستے میں تھک جائے اس کا کیا کرنا چاہیے؟ تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ”اسے ذبح کر دو پھر اس کا قلادہ ہار خون میں لت پت کر دو پھر اسے لوگوں کے لیے چھوڑ دو تا کہ وہ اسے کھالیں۔“
حدیث نمبر: 421
عَنْ سُفْيَانَ بْنِ عُيَيْنَةَ ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ نَاجِيَةَ صَاحِبِ بُدْنِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، أَنَّهُ قَالَ : يَا رَسُولَ اللَّهِ كَيْفَ أَصْنَعُ بِمَا عَطِبَ مِنَ الْبُدْنِ ؟ فَقَالَ : " انْحَرْهُ ثُمَّ اغْمِسْ قَلائِدَهُ فِي دَمِهِ ثُمَّ اضْرِبْ بِهَا صَفْحَتَهُ ثُمَّ خَلِّ بَيْنَهُ وَبَيْنَ النَّاسِ " .
نوید مجید طیب
عروہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے اونٹوں کے نگران ناجیہ رحمہ اللہ نے عرض کیا : کہ جو حج کی قربانی کا جانور چلتے چلتے تھک گیا اس کا کیا کرنا ہے؟ تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ”اسے ذبح کرو اس کے ہار کو خوب خون لگاؤ اس کے پہلو پر مارو پھر لوگوں کے لیے چھوڑ دو۔“
حدیث نمبر: 422
عَنْ إِسْمَاعِيلَ بْنِ إِبْرَاهِيمَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا أَبُو التَّيَّاحِ ، عَنْ مُوسَى بْنِ عُقْبَةَ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَعَثَ بِثَمَانِ عَشْرَةَ بَدَنَةً مَعَ رَجُلٍ فَأَمَرَهُ فِيهَا بِأَمْرِهِ ، فَانْطَلَقَ ثُمَّ رَجَعَ إِلَيْهِ ، فَقَالَ : أَرَأَيْتَ إِنْ أُزْحِفَ عَلَيْنَا مِنْهَا شَيْءٌ ؟ قَالَ : " فَانْحَرْهَا ثُمَّ اصْبُغْ نَعْلَهَا فِي دَمِهَا ثُمَّ اجْعَلْهَا عَلَى صَفْحَتِهَا وَلا تَأْكُلْ مِنْهَا أَنْتَ وَلا أَحَدٌ مِنْ أَهْلِ رُفْقَتِكَ " .
نوید مجید طیب
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے رسول اللہ ﷺ نے ایک آدمی کے ساتھ قربانی کے اٹھارہ جانور بھیجے تو کچھ احکام اس بارے صادر فرمائے وہ آدمی چلا پھر واپس آیا تو کہنے لگا کہ کیا حکم ہے اگر کوئی پاؤں گھسیٹنے لگے؟ آپ ﷺ نے فرمایا: ”اس کو ذبح کر دو، اس کے (گلے میں ڈالے گئے) جوتے کو خون سے مل کر (بطور نشانی) اس کے پہلو میں رکھ دینا تو اور تیرے ساتھیوں میں سے کوئی نہ کھائے۔“
وضاحت:
➊ ہدی کا جانور اگر راستے میں مرنے لگے تو اسے ذبح کر کے اس پر خون ملنا ہے تاکہ معلوم ہو یہ حج کے لیے تھا، لوگ پہچان لیں اور کھائیں۔
➋ ہدی لے جانے والا اور اس کا قافلہ اس سے کچھ نہ کھائے جبکہ دوسرے راہگیر مسافر، یا دوسرے حاجی، یا مقامی افراد کھا لیں۔
➌ بغیر کسی مجبوری کے ایسے جانوروں کو راستے میں ذبح کرنا درست نہیں۔
➋ ہدی لے جانے والا اور اس کا قافلہ اس سے کچھ نہ کھائے جبکہ دوسرے راہگیر مسافر، یا دوسرے حاجی، یا مقامی افراد کھا لیں۔
➌ بغیر کسی مجبوری کے ایسے جانوروں کو راستے میں ذبح کرنا درست نہیں۔
حدیث نمبر: 423
عَنْ سُفْيَانَ بْنِ عُيَيْنَةَ ، عَنْ هِشَامِ بْنِ حَسَّانَ ، عَنِ ابْنِ سِيرِينَ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَمَّا رَمَى الْجَمْرَةَ وَنَحَرَ نُسُكَهُ نَاوَلَ الْحَالِقَ شِقَّهُ الأَيْمَنَ فَحَلَقَهُ ، ثُمَّ نَاوَلَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَبَا طَلْحَةَ ، ثُمَّ نَاوَلَ الْحَالِقَ شِقَّهُ الأَيْسَرَ فَحَلَقَهُ ، ثُمَّ " أَمَرَ أَبَا طَلْحَةَ أَنْ يَقْسِمَهُ بَيْنَ النَّاسِ .
نوید مجید طیب
سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے نبی اکرم ﷺ نے جب جمرہ (عقبہ) کو کنکریاں ماریں اور قربانی ذبح کر لی تو حجام کی طرف سر کا دائیں حصہ کیا اس نے سر مونڈا تو نبی ﷺ نے وہ بال ابو طلحہ رضی اللہ عنہ کو دیے پھر حجام کی جانب سر کی بائیں جانب کی اُس نے وہ بھی مونڈی تو رسول اللہ ﷺ نے وہ بال پھر ابو طلحہ رضی اللہ عنہ کو دیئے اور فرمایا: ”بائیں جانب والے لوگوں میں تقسیم کر دو۔“
وضاحت:
➊ سنت طریقہ یہی ہے پہلے دائیں جانب کے بال کاٹے جائیں پھر بائیں جانب کے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم معمول کے امورِ خیر بھی دائیں جانب سے آغاز فرما کر ادا کرتے تھے۔
➋ برکت کے لیے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے بال مبارک تقسیم کیے یہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا خاصہ ہے، کسی ولی یا صالح بندے کی یہ خصوصیت نہیں، کیونکہ نبی کی خاصیت امتی میں منتقل نہیں ہو سکتی اور نہ ہی سلف نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد ابوبکر رضی اللہ عنہ و عمر رضی اللہ عنہ سے اس طرح کا معاملہ کیا فافہم جیسے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا لعاب مبارک باعث برکت تھا لیکن امت کا تھوک باعث جراثیم اور کرونا ہے۔
➌ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی اشیاء سے تبرک حاصل کرنے کا عقیدہ اسلافِ امت میں موجود تھا اور خلف بھی اس کے قائل ہیں۔
➍ جس چیز کی نسبت نبی مکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے جڑ گئی وہ شرف و عزت اور تکریم میں ممتاز ٹھہری، آج ہم فقیروں کی پہچان بھی محض نسبتِ محمد صلی اللہ علیہ وسلم ہے: تیری نسبت سے ہے توقیر میری لوگوں میں
یہ حوالہ نہ ہو تو مری ذات میں رکھا کیا ہے
➋ برکت کے لیے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے بال مبارک تقسیم کیے یہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا خاصہ ہے، کسی ولی یا صالح بندے کی یہ خصوصیت نہیں، کیونکہ نبی کی خاصیت امتی میں منتقل نہیں ہو سکتی اور نہ ہی سلف نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد ابوبکر رضی اللہ عنہ و عمر رضی اللہ عنہ سے اس طرح کا معاملہ کیا فافہم جیسے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا لعاب مبارک باعث برکت تھا لیکن امت کا تھوک باعث جراثیم اور کرونا ہے۔
➌ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی اشیاء سے تبرک حاصل کرنے کا عقیدہ اسلافِ امت میں موجود تھا اور خلف بھی اس کے قائل ہیں۔
➍ جس چیز کی نسبت نبی مکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے جڑ گئی وہ شرف و عزت اور تکریم میں ممتاز ٹھہری، آج ہم فقیروں کی پہچان بھی محض نسبتِ محمد صلی اللہ علیہ وسلم ہے: تیری نسبت سے ہے توقیر میری لوگوں میں
یہ حوالہ نہ ہو تو مری ذات میں رکھا کیا ہے
حدیث نمبر: 424
عَنْ يَحْيَى بْنِ سُلَيْمٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُثْمَانَ بْنِ خُثَيْمٍ ، عَنْ إِسْمَاعِيلَ بْنِ عُبَيْدِ بْنِ رِفَاعَةَ الأَنْصَارِيِّ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ جَدِّهِ رِفَاعَةَ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَادَى : " أَيُّهَا النَّاسُ إِنَّ قُرَيْشًا أَهْلُ أَمَانَةٍ مَنْ بَغَاهُمُ الْعَوَافِرَ أَكَبَّهُ اللَّهُ لِمَنْخِرَيْهِ " يَقُولُهَا ثَلاثَ مَرَّاتٍ . قَالَ أَبُو جَعْفَرٍ : هَكَذَا قَرَأَهُ الْمُزَنِيُّ عَلَيْنَا " أَهْلُ أَمَانَةٍ " وَإِنَّمَا هُوَ أَهْلُ إِمَامَةٍ وَقَالَ : " الْعَوَافِرَ " وَإِنَّمَا هُوَ " الْعَوَاثِرَ " .
نوید مجید طیب
سیدنا رفاعہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے رسول اللہ ﷺ نے اعلان فرمایا : ”اے لوگو! قریش امانت والے ہیں جو ان کو ذلیل کرے گا یا ان کے فضائل کا انکار کرے گا اللہ اسے پیشانی کے بل (جہنم میں اوندھا کرے گا)“ یہ تین دفعہ فرمایا۔ راوی کہتے ہیں عوافر کا مطلب عواثر ہے (عواثر کا معنی خصلت سقوط، اور ذلت کیا گیا ہے)۔
حدیث نمبر: 425
حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ مُحَمَّدٍ الدَّرَاوَرْدِيُّ ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أُسَامَةَ بْنِ الْهَادِ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِبْرَاهِيمَ بْنِ الْحَارِثِ التَّيْمِيِّ ، أَنَّ قَتَادَةَ بْنَ النُّعْمَانِ وَقَعَ بِقُرَيْشٍ فَكَأَنَّهُ نَالَ مِنْهُمْ ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " مَهْلا يَا قَتَادَةُ لا تَشْتُمْ قُرَيْشًا فَإِنَّكَ لَعَلَّكَ تَرَى مِنْهُمْ رِجَالا أَوْ يَأْتِي مِنْهُمْ رِجَالٌ تَحْقِرُ عَمَلَكَ مَعَ عَمَلِهِمْ وَفِعَالَكَ مَعَ فِعَالِهِمْ وَتُعَظِّمُهُمْ إِذَا رَأَيْتَهُمْ لَوْلا أَنْ تَطْغَى قُرَيْشٌ لأَخْبَرْتُهَا بِالَّذِي لَهَا عِنْدَ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ " .
نوید مجید طیب
سیدنا قتادہ بن نعمان رضی اللہ عنہ نے قریش کے بارے میں کوئی بری بات کی تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”قتادہ قریش سے متعلق خود کو روک لو اور انہیں گالی مت دو شاید تو دیکھے کہ تیرا عمل و فعل قریشی کے مقابلے میں حقیر ہو اور تو ان کو دیکھ کر رشک کرے اگر قریش کی سرکشی کا ڈر نہ ہوتا تو میں ان کو بتا دیتا کہ اُن کا اللہ کے ہاں کیا مقام ہے۔“
وضاحت:
روایت اگرچہ ضعیف ہے تاہم قریشی توحید والا ہے تو قابل احترام ہے اگر مشرک ہے تو مانند ابوجہل ہے۔
حدیث نمبر: 426
عَنْ مُسْلِمِ بْنِ خَالِدٍ ، عَنِ ابْنِ أَبِي ذِئْبٍ ، بِإِسْنَادٍ لا يَحْفَظُهُ مُحَمَّدُ بْنُ إِدْرِيسَ الشَّافِعِيُّ رَحِمَهُ اللَّهُ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ فِي قُرَيْشٍ شَيْئًا مِنَ الْخَبَرِ لا يَحْفَظُهُ أَيْضًا الشَّافِعِيُّ رَحِمَهُ اللَّهُ وَكَانَ مِمَّا حَفِظْتُ مِنْهُ : أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " خِيَارُ قُرَيْشٍ خِيَارُ النَّاسِ وَشِرَارُ قُرَيْشٍ خِيَارُ شِرَارِ النَّاسِ " .
نوید مجید طیب
امام شافعی رحمہ اللہ ایک سند بھول گئے ہیں الفاظ حدیث سے جو بات یاد رکھی وہ یہ ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”قریش کے نیک لوگ تمام لوگوں سے بہترین ہیں اور قریش کے شریر لوگ تمام شریر لوگوں سے بہتر ہیں۔“
حدیث نمبر: 427
عَنْ سُفْيَانَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، عَنْ أَبِي الزِّنَادِ ، عَنِ الأَعْرَجِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " تَجِدُونَ النَّاسَ مَعَادِنَ فَخِيَارُهُمْ فِي الْجَاهِلِيَّةِ خِيَارُهُمْ فِي الإِسْلامِ إِذَا فَقِهُوا " .
نوید مجید طیب
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”تم لوگوں کو کانوں کی طرح پاؤ گے (کسی کان میں سے اچھا مال نکل آتا ہے اور کسی سے بُرا) جو لوگ جاہلیت کے زمانے میں اچھی صفات کے مالک تھے وہ اسلام لانے کے بعد بھی بہتر اور اچھی صفات کے مالک ہیں بشرطیکہ دین کی سمجھ حاصل کریں۔“
وضاحت:
➊ بحیثیت انسان قریش افضل ہیں جن کی نسل سے اللہ تعالیٰ نے رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو مبعوث فرمایا جبکہ اسلام آنے کے بعد وہی افضل ہے جس نے توحید قبول کی اگر کسی قریشی نے کفر و شرک پر ابوجہل کی طرح اصرار کیا اور اسی پر اس کی وفات ہوئی تو اس کی کوئی فضیلت نہیں بلکہ محض جہنم کا ایندھن ہے، سیدنا بلال رضی اللہ عنہ ابوجہل سے افضل ہیں، ایسے ہی بے شمار سید کہلانے والے شرک کے بڑے بڑے داعی ہیں ان کی کوئی فضیلت نہیں، فضیلت اس وقت ہے جب «فقهوا فى الدين» وہ دین اسلام کی سمجھ حاصل کریں۔ عقیدہ و عمل پختہ کریں، کتاب و سنت کا قول و فعل میں التزام کریں۔
➋ قریش کی فضیلت میں وارد اکثر احادیث سنداً کمزور ہیں مجموعی اعتبار سے علامہ البانی رحمہ اللہ نے انہیں حسن کہا ہے۔ لہٰذا بحیثیت قوم قریش کو گالی دینا، برا سمجھنا ممنوع ہے کیونکہ ہر قوم میں اچھے لوگ بھی ہیں برے بھی، عام عرب میں بھی اتنے اعلیٰ کردار کے اچھے لوگ پائے جاتے ہیں کہ شاید پورے عجم میں ان کی مثال ملنی ممکن نہ ہو۔ اس لیے کسی بھی پوری قوم کو برا کہہ دینا درست نہیں۔
➌ فقاہت سے مراد قرآن و سنت کا گہرا فہم ہے قرآن و سنت میں جہاں بھی فقاہت کے فضائل آئے ہیں اس سے مراد قرآن و سنت کی سمجھ ہے محض رائے و قیاس کی کوئی فضیلت نہیں بلکہ مذموم ہے جس کے بہت سے دلائل ہیں۔
➍ قریش امانت والے ہیں سے بعض نے مراد خلافت کی ہے جیسا کہ الائمة من قریش ہے۔ اس کے علاوہ بھی ان کے پاس امانتیں ہیں، کعبہ کی کنجی، کعبہ کی تولیت، حج کے امور، مسلمانوں کی رہنمائی، توحید کی حفاظت، صحابہ کا دفاع وغیرہ وغیرہ۔
➋ قریش کی فضیلت میں وارد اکثر احادیث سنداً کمزور ہیں مجموعی اعتبار سے علامہ البانی رحمہ اللہ نے انہیں حسن کہا ہے۔ لہٰذا بحیثیت قوم قریش کو گالی دینا، برا سمجھنا ممنوع ہے کیونکہ ہر قوم میں اچھے لوگ بھی ہیں برے بھی، عام عرب میں بھی اتنے اعلیٰ کردار کے اچھے لوگ پائے جاتے ہیں کہ شاید پورے عجم میں ان کی مثال ملنی ممکن نہ ہو۔ اس لیے کسی بھی پوری قوم کو برا کہہ دینا درست نہیں۔
➌ فقاہت سے مراد قرآن و سنت کا گہرا فہم ہے قرآن و سنت میں جہاں بھی فقاہت کے فضائل آئے ہیں اس سے مراد قرآن و سنت کی سمجھ ہے محض رائے و قیاس کی کوئی فضیلت نہیں بلکہ مذموم ہے جس کے بہت سے دلائل ہیں۔
➍ قریش امانت والے ہیں سے بعض نے مراد خلافت کی ہے جیسا کہ الائمة من قریش ہے۔ اس کے علاوہ بھی ان کے پاس امانتیں ہیں، کعبہ کی کنجی، کعبہ کی تولیت، حج کے امور، مسلمانوں کی رہنمائی، توحید کی حفاظت، صحابہ کا دفاع وغیرہ وغیرہ۔
حدیث نمبر: 428
عَنْ سُفْيَانَ ، عَنْ أَبِي الزِّنَادِ ، عَنِ الأَعْرَجِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " أَتَاكُمْ أَهْلُ الْيَمَنِ هُمْ أَلْيَنُ قُلُوبًا وَأَرَقُّ أَفْئِدَةً , الإِيمَانُ يَمَانٍ وَالْحِكْمَةُ يَمَانِيَةٌ "
نوید مجید طیب
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”تمہارے پاس یمنی آئے ہیں جو نرم مزاج، نرم دل لوگ ہیں ایمان یمن والوں کا ہے اور حکمت بھی یمنی ہے۔“
وضاحت:
➊ اس حدیث میں اہل یمن کی فضیلت بیان ہوئی ہے، یمنی حدیثِ رسول صلی اللہ علیہ وسلم سے محبت کرنے والے لوگ ہیں، حق بات کو جلد قبول کر لیتے ہیں اللہ نے امام شوکانی رحمہ اللہ، شیخ مقبل رحمہ اللہ جیسے حضرات ان میں پیدا کیے، برصغیر میں بھی یمن کے مشائخ کے طلبہ محبانِ حدیث آئے جنہوں نے برصغیر کا کونہ کونہ فنِ حدیث سے منور کیا۔
➋ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اہل یمن کے لیے دعائے برکت فرمائی۔ [صحيح بخاري: 1027]
➌ حدیث میں اہل یمن کی نرم مزاجی اور علم و ایمان کے یقین کو واضح فرمایا گیا ہے۔
➋ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اہل یمن کے لیے دعائے برکت فرمائی۔ [صحيح بخاري: 1027]
➌ حدیث میں اہل یمن کی نرم مزاجی اور علم و ایمان کے یقین کو واضح فرمایا گیا ہے۔
حدیث نمبر: 429
عَنْ عَمِّهِ مُحَمَّدِ بْنِ الْعَبَّاسِ , عَنْ حَسَنِ بْنِ الْقَاسِمِ الأَزْرَقِيِّ ، قَالَ : وَقَفَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى ثَنِيَّةِ تَبُوكَ فَقَالَ : " مَا هَاهُنَا شَامٌ " ، وَأَشَارَ بِيَدِهِ إِلَى جِهَةِ الشَّامِ " وَمَا هَاهُنَا يَمَنٌ " ، وَأَشَارَ بِيَدِهِ إِلَى جِهَةِ الْمَدِينَةِ .
نوید مجید طیب
حسن بن قاسم ازرقی رحمہ اللہ کہتے ہیں رسول اللہ ﷺ تبوک کے ایک ٹیلے پر کھڑے ہوئے تو فرمایا : ”جو ادھر ہے یہ شام کا علاقہ ہے“ شام کی جانب اشارہ کیا ”اور جو ٹیلے سے ادھر ہے یہ یمن کا علاقہ ہے“ مدینہ کی طرف اشارہ کیا۔
وضاحت:
➊ یہ غزوہ تبوک کی بات ہے گویا کہ اس مقام پر یمن اور شام کے علاقوں کی سرحدیں جدا ہوتی تھیں۔ یہ مرسل روایت ہے، حسن بن قاسم رحمہ اللہ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو نہیں پایا۔
➋ غزوہ تبوک حجاز اور شام کی سرحد پر واقع تبوک کے مقام پر ہوا۔ تبوک کے اردگرد کچھ عرب سردار جو عیسائی ہو گئے تھے وہ رومیوں کی ماتحتی میں تھے۔ ان عرب سرداروں میں غسانی خاندان کے عرب سب سے زیادہ طاقتور تھے۔ مدینہ پر ان کے حملے کی خبر پہنچی تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کو لے کر تبوک پہنچے وہاں جا کر معلوم ہوا کہ حملہ کی خبر غلط تھی۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے مقام تبوک پر انیس دن قیام کیا اور واپس تشریف لے آئے۔ اس سفر میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ تیس ہزار کے قریب صحابہ کرام رضی اللہ عنہم تھے۔
➋ غزوہ تبوک حجاز اور شام کی سرحد پر واقع تبوک کے مقام پر ہوا۔ تبوک کے اردگرد کچھ عرب سردار جو عیسائی ہو گئے تھے وہ رومیوں کی ماتحتی میں تھے۔ ان عرب سرداروں میں غسانی خاندان کے عرب سب سے زیادہ طاقتور تھے۔ مدینہ پر ان کے حملے کی خبر پہنچی تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کو لے کر تبوک پہنچے وہاں جا کر معلوم ہوا کہ حملہ کی خبر غلط تھی۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے مقام تبوک پر انیس دن قیام کیا اور واپس تشریف لے آئے۔ اس سفر میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ تیس ہزار کے قریب صحابہ کرام رضی اللہ عنہم تھے۔
حدیث نمبر: 430
عَنْ سُفْيَانَ بْنِ عُيَيْنَةَ ، عَنْ أَبِي الزِّنَادِ ، عَنِ الأَعْرَجِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ : جَاءَ الطُّفَيْلُ بْنُ عَمْرٍو الدَّوْسِيُّ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَقَالَ : يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنَّ دَوْسًا قَدْ عَصَتْ وَأَبَتْ فَادْعُ اللَّهَ عَلَيْهَا فَاسْتَقْبَلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْقِبْلَةَ وَرَفَعَ يَدَيْهِ فَقَالَ النَّاسُ : هَلَكَتْ دَوْسٌ فَقَالَ : " اللَّهُمَّ اهْدِ دَوْسًا وَأْتِ بِهِمُ اللَّهُمَّ اهْدِ دَوْسًا وَأْتِ بِهِمْ " .
نوید مجید طیب
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان فرماتے ہیں سیدنا طفیل بن عمرو دوسی رضی اللہ عنہ رسول اللہ ﷺ کے پاس آئے کہنے لگے: اللہ کے رسول! دوس نے دعوت توحید کا انکار کیا اللہ کی نافرمانی کی ان پر بدعا فرمائیں تو رسول اللہ ﷺ نے قبلہ رخ ہو کر ہاتھ بلند کیے تو لوگوں نے کہا : دوس برباد ہو گئے لیکن رسول اللہ ﷺ نے دعا کی : ”اے اللہ! دوس کو ہدایت دے اور انہیں میرے پاس لے آ، اے اللہ! دوس کو ہدایت دے اور انہیں میرے پاس لے آ۔“
وضاحت:
➊ عرب کے تمام صوبوں میں سے یمن کا صوبہ سب سے بڑا تھا اور یمن کے بڑے قبائل میں سے ایک قبیلہ دوس کا تھا، سیدنا طفیل بن عمرو دوسی رضی اللہ عنہ انتہائی فہم و ذہین انسان تھے۔ قادر الکلام ادیب اور شاعر تھے۔ مکہ مکرمہ میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس حاضر ہو کر اسلام قبول کیا، بعد ازاں اپنے قبیلے کے افراد کو مسلسل دعوتِ اسلام دیتے رہے۔
➋ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اپنوں اور بیگانوں سبھی کے لیے رحمت بن کر آئے۔
➌ سات ہجری میں جبکہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم غزوہ خیبر کے لیے مدینہ سے نکل چکے تھے، اہل دوس مدینہ تشریف لائے۔
➍ دوس قبیلہ کے پچھتر افراد نے اپنے سردار سیدنا طفیل بن عمرو دوسی رضی اللہ عنہ کے ہمراہ اسلام قبول کیا، راویِ حدیث سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کا تعلق بھی دوس قبیلہ سے ہے۔
➋ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اپنوں اور بیگانوں سبھی کے لیے رحمت بن کر آئے۔
➌ سات ہجری میں جبکہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم غزوہ خیبر کے لیے مدینہ سے نکل چکے تھے، اہل دوس مدینہ تشریف لائے۔
➍ دوس قبیلہ کے پچھتر افراد نے اپنے سردار سیدنا طفیل بن عمرو دوسی رضی اللہ عنہ کے ہمراہ اسلام قبول کیا، راویِ حدیث سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کا تعلق بھی دوس قبیلہ سے ہے۔
حدیث نمبر: 431
عَنْ عَبْدِ الْعَزِيزِ بْنِ مُحَمَّدٍ الدَّرَاوَرْدِيِّ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرِو بْنِ عَلْقَمَةَ ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " لَوْلا الْهِجْرَةُ لَكُنْتُ امْرَأً مِنَ الأَنْصَارِ وَلَوْ أَنَّ النَّاسَ سَلَكُوا وَادِيًا أَوْ شِعْبًا لَسَلَكْتُ وَادِيَ الأَنْصَارِ أَوْ شِعْبَهُمْ " .
نوید مجید طیب
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”اگر ہجرت نہ ہوتی تو میں بھی انصاری ہوتا اگر لوگ ایک وادی یا گھاٹی میں چلیں اور انصار دوسری سے گزریں تو میں انصار کی وادی اور راستے پر چلنا پسند کروں گا۔“
وضاحت:
➊ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ الفاظ غزوہ حنین کے موقع پر اموالِ غنیمت کی تقسیم کے وقت ارشاد فرمائے تھے۔
➋ غزوہ حنین 8 ہجری میں ہوازن و ثقیف کے دو مضبوط عرب قبائل کے خلاف لڑا گیا۔
➌ مسلمانوں کی تعداد بارہ ہزار تھی جس میں کثیر تعداد قریشِ مکہ کے نو مسلموں کی تھی۔
➍ اس غزوہ میں مسلمانوں کو مالِ غنیمت کی صورت میں چھ ہزار قیدی، چوبیس ہزار اونٹ، چالیس ہزار بکریاں اور چار ہزار اوقیہ چاندی حاصل ہوئی۔ (رحمت عالم سید سلیمان ندوی رحمہ اللہ ص: 104)
➋ غزوہ حنین 8 ہجری میں ہوازن و ثقیف کے دو مضبوط عرب قبائل کے خلاف لڑا گیا۔
➌ مسلمانوں کی تعداد بارہ ہزار تھی جس میں کثیر تعداد قریشِ مکہ کے نو مسلموں کی تھی۔
➍ اس غزوہ میں مسلمانوں کو مالِ غنیمت کی صورت میں چھ ہزار قیدی، چوبیس ہزار اونٹ، چالیس ہزار بکریاں اور چار ہزار اوقیہ چاندی حاصل ہوئی۔ (رحمت عالم سید سلیمان ندوی رحمہ اللہ ص: 104)
حدیث نمبر: 432
عَنْ عَبْدِ الْكَرِيمِ بْنِ مُحَمَّدٍ الْجُرْجَانِيِّ ، أَخْبَرَنِي ابْنُ الْغَسِيلِ ، عَنْ رَجُلٍ ، سَمَّاهُ لا يَحْفَظُ مُحَمَّدُ بْنُ إِدْرِيسَ الشَّافِعِيُّ رَحِمَهُ اللَّهُ الآنَ اسْمَهُ عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ خَرَجَ فِي مَرَضِهِ فَخَطَبَ فَحَمِدَ اللَّهَ وَأَثْنَيْ عَلَيْهِ ، ثُمَّ قَالَ : " إِنَّ الأَنْصَارَ قَدْ قَضَوُا الَّذِي عَلَيْهِمْ وَبَقِيَ الَّذِي عَلَيْكُمْ فَاقْبَلُوا مِنْ مُحْسِنِهِمْ وَتَجَاوَزُوا عَنْ مُسِيئِهِمْ " .
نوید مجید طیب
سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے رسول اللہ ﷺ نے اپنی (آخری) بیماری میں خطبہ دیا تو حمد و ثناء کے بعد فرمایا: ”انصار نے اپنا فریضہ ادا کر دیا، تم پر ان کا اب قرض باقی ہے ان کے نیکو کاروں کی اچھائیاں قبول کرو اور ان کے خطا کاروں سے درگزر کرو۔“
حدیث نمبر: 433
وَقَالَ غَيْرُ الْجُرْجَانِيِّ عَنِ الْحَسَنِ ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " مَا لَمْ يَكُنْ فِيهِ حَدٌّ " .
نوید مجید طیب
سیدنا حسن رحمہ اللہ سے روایت ہے رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”حدود کے علاوہ (کیسز میں) انصار سے درگزر کرو۔“
حدیث نمبر: 434
وَقَالَ الْجُرْجَانِيُّ فِي حَدِيثِهِ : إِنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " اللَّهُمَّ اغْفِرْ لِلأَنْصَارِ وَأَبْنَاءِ الأَنْصَارِ وَأَبْنَاءِ أَبْنَاءِ الأَنْصَارِ " .
نوید مجید طیب
جرجانی رحمہ اللہ کی روایت میں ہے رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”اے اللہ! انصار اور ان کے بیٹوں اور پوتوں کو معاف فرما۔“
حدیث نمبر: 435
وَقَالَ فِي حَدِيثِهِ : إِنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حِينَ خَرَجَ بَهَشَ إِلَيْهِ النِّسَاءُ وَالصِّبْيَانُ مِنَ الأَنْصَارِ يَبْكُونَ فَرَقَّ لَهُمْ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ثُمَّ خَطَبَ وَقَالَ هَذِهِ الْمَقَالَةَ .
نوید مجید طیب
جرجانی رحمہ اللہ کی حدیث میں یہ بھی کہا کہ نبی اکرم ﷺ جب مرض الموت میں صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کی طرف نکلے تو انصار کی عورتیں اور بچے اس قدر رنجیدہ ہوئے کہ رونے لگے تو رسول اللہ ﷺ نے ان کو تسلی دی پھر خطبہ دیا پھر مذکورہ کلمات ارشاد فرمائے۔
وضاحت:
➊ غیلان بن جریر رحمہ اللہ کہتے ہیں میں نے سیدنا انس رضی اللہ عنہ سے پوچھا: کیا تم لوگوں نے خود اپنا نام انصار رکھا ہے یا اللہ نے تمہارا نام رکھا ہے؟ تو سیدنا انس رضی اللہ عنہ نے فرمایا: اللہ نے ہمارا نام انصار رکھا ہے۔ [صحیح بخاری: 3776]
➋ یہ ایسی قوم تھی جس نے بغیر کسی عہدے اور لالچ کے اسلام اور اہل اسلام کی نصرت فرمائی۔ اللہ تعالیٰ ان کی اس بے لوث قربانی کو بیان کرتے ہوئے فرماتے ہیں: ﴿وَ الَّذِیْنَ تَبَوَّؤُ الدَّارَ وَ الْاِیْمَانَ مِنْ قَبْلِهِمْ یُحِبُّوْنَ مَنْ هَاجَرَ اِلَیْهِمْ وَ لَا یَجِدُوْنَ فِیْ صُدُوْرِهِمْ حَاجَةً مِّمَّاۤ اُوْتُوْا وَ یُؤْثِرُوْنَ عَلٰۤى اَنْفُسِهِمْ وَ لَوْ كَانَ بِهِمْ خَصَاصَةٌ وَ مَنْ یُّوْقَ شُحَّ نَفْسِهٖ فَاُولٰٓىٕكَ هُمُ الْمُفْلِحُوْنَ﴾ [الحشر: 9]
اور (ان کے لیے) جنہوں نے ان سے پہلے اس گھر میں اور ایمان میں جگہ بنا لی ہے، وہ ان سے محبت کرتے ہیں جو ہجرت کر کے ان کی طرف آئیں اور وہ اپنے سینوں میں اس چیز کی کوئی خواہش نہیں پاتے جو ان (مہاجرین) کو دی جائے اور اپنے آپ پر ترجیح دیتے ہیں، خواہ انہیں سخت حاجت ہو اور جو کوئی اپنے نفس کی حرص سے بچا لیا گیا تو وہی لوگ ہیں جو کامیاب ہیں۔
➌ انصار نے اسلام کے لیے بڑی قربانیاں دیں، حق و باطل کے ہر معرکہ میں پیش پیش رہے۔ بڑے بڑے کفر کے سورماؤں کی گردنیں اڑائیں، میدانِ بدر میں سب سے پہلے مبارزت کا جواب دینے یہی لوگ اترے، قریش کے نمائندوں نے ان کے ہاتھوں ذبح ہونا پسند نہ کیا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے قریشیوں کی طبعِ نازک کی لاج رکھتے ہوئے سیدنا علی رضی اللہ عنہ، سیدنا عبداللہ رضی اللہ عنہ، سیدنا حمزہ رضی اللہ عنہ اور سیدنا ابوعبیدہ رضی اللہ عنہ کو بھیجا جنہوں نے جاتے ہی سردارانِ کفر کو واصلِ جہنم کیا۔
➍ غزوہ حنین کے موقع پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کے لیے تاریخی الفاظ ارشاد فرمائے: «الأنصار شعار والناس دثار» [صحیح بخاری: 4330]
انصار شعار (جسم کے ساتھ لگا ہوا کپڑا) ہیں اور دوسرے لوگ دثار (اوپر لیا جانے والا کپڑا) ہیں۔
➎ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کے قبائل کا آدمی ہونے کی تمنا کی، ان کا بدلہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم بھی ادا نہ کر سکے حتیٰ کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تم صبر کرنا تمہارا بدلہ میں حوضِ کوثر پر ہی ادا کروں گا۔ [صحیح بخاری: 3792]
دورِ حاضر میں بھی انصاری بکثرت دین سے محبت رکھتے ہیں اور کم ہی کسی بڑے عہدے پر پائے گئے ہیں۔
➋ یہ ایسی قوم تھی جس نے بغیر کسی عہدے اور لالچ کے اسلام اور اہل اسلام کی نصرت فرمائی۔ اللہ تعالیٰ ان کی اس بے لوث قربانی کو بیان کرتے ہوئے فرماتے ہیں: ﴿وَ الَّذِیْنَ تَبَوَّؤُ الدَّارَ وَ الْاِیْمَانَ مِنْ قَبْلِهِمْ یُحِبُّوْنَ مَنْ هَاجَرَ اِلَیْهِمْ وَ لَا یَجِدُوْنَ فِیْ صُدُوْرِهِمْ حَاجَةً مِّمَّاۤ اُوْتُوْا وَ یُؤْثِرُوْنَ عَلٰۤى اَنْفُسِهِمْ وَ لَوْ كَانَ بِهِمْ خَصَاصَةٌ وَ مَنْ یُّوْقَ شُحَّ نَفْسِهٖ فَاُولٰٓىٕكَ هُمُ الْمُفْلِحُوْنَ﴾ [الحشر: 9]
اور (ان کے لیے) جنہوں نے ان سے پہلے اس گھر میں اور ایمان میں جگہ بنا لی ہے، وہ ان سے محبت کرتے ہیں جو ہجرت کر کے ان کی طرف آئیں اور وہ اپنے سینوں میں اس چیز کی کوئی خواہش نہیں پاتے جو ان (مہاجرین) کو دی جائے اور اپنے آپ پر ترجیح دیتے ہیں، خواہ انہیں سخت حاجت ہو اور جو کوئی اپنے نفس کی حرص سے بچا لیا گیا تو وہی لوگ ہیں جو کامیاب ہیں۔
➌ انصار نے اسلام کے لیے بڑی قربانیاں دیں، حق و باطل کے ہر معرکہ میں پیش پیش رہے۔ بڑے بڑے کفر کے سورماؤں کی گردنیں اڑائیں، میدانِ بدر میں سب سے پہلے مبارزت کا جواب دینے یہی لوگ اترے، قریش کے نمائندوں نے ان کے ہاتھوں ذبح ہونا پسند نہ کیا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے قریشیوں کی طبعِ نازک کی لاج رکھتے ہوئے سیدنا علی رضی اللہ عنہ، سیدنا عبداللہ رضی اللہ عنہ، سیدنا حمزہ رضی اللہ عنہ اور سیدنا ابوعبیدہ رضی اللہ عنہ کو بھیجا جنہوں نے جاتے ہی سردارانِ کفر کو واصلِ جہنم کیا۔
➍ غزوہ حنین کے موقع پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کے لیے تاریخی الفاظ ارشاد فرمائے: «الأنصار شعار والناس دثار» [صحیح بخاری: 4330]
انصار شعار (جسم کے ساتھ لگا ہوا کپڑا) ہیں اور دوسرے لوگ دثار (اوپر لیا جانے والا کپڑا) ہیں۔
➎ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کے قبائل کا آدمی ہونے کی تمنا کی، ان کا بدلہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم بھی ادا نہ کر سکے حتیٰ کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تم صبر کرنا تمہارا بدلہ میں حوضِ کوثر پر ہی ادا کروں گا۔ [صحیح بخاری: 3792]
دورِ حاضر میں بھی انصاری بکثرت دین سے محبت رکھتے ہیں اور کم ہی کسی بڑے عہدے پر پائے گئے ہیں۔
حدیث نمبر: 436
وَأَخْبَرَنِي وَأَخْبَرَنِي بَعْضُ ، أَهْلِ الْعِلْمِ أَنَّ أَبَا بَكْرٍ الصِّدِّيقَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ، قَالَ : " مَا وَجَدْتُ لَنَا وَلِهَذَا الْحَيِّ مِنَ الأَنْصَارِ مَثَلا إِلا مَا قَالَ طُفَيْلٌ الْغَنَوِيُّ : جَزَى اللَّهُ عَنَّا جَعْفَرًا حِينَ أَشْرَفَتْ بِنَا نَعْلُنَا فِي الْوَاطِئِينَ فَزَلَّتِ أَبَوْا أَنْ يَمَلُّونَا وَلَوْ أَنَّ أَمَّنَا تُلاقِي الَّذِي يَلْقَوْنَ فِينَا لَمَلَّتِ هُمُو خَلَطُونَا بِالنُّفُوسِ وَأَلْجَئُوا إِلَى حُجُرَاتٍ أَدَفَأَتْ وَأَظَلَّتِ " . قَالَ لَنَا الطَّحَاوِيُّ : لَمَّا حَدَّثَنِي الْمُزَنِيُّ بِهَذَا الْحَدِيثِ قَالَ لَهُ أَبِي رَحِمَهُ اللَّهُ : إِنَّ أَهْلَ الْعِلْمِ بِالشِّعْرِ يَزِيدُونَ فِي هَذِهِ الْقَصِيدَةِ بَيْتَيْنِ آخَرَيْنِ يَدْخُلانِ فِي هَذَا الْمَعْنَى وَقَالُوا : هَلُمُّوا الدَّارَ حَتَّى تَبَيَّنُوا وَتَنْجَلِيَ الْغَمَّاءُ عَمَّا تَجَلَّتِ وَمِنْ بَعْدِ مَا كُنَّا لِسَلْمَى وَأَهْلُنَا عَبِيدًا وَمَلَّتْنَا الْبِلادُ وَمَلَّتِ قَالَ : فَاسْتَحْسَنَهُمَا الْمُزَنِيُّ لأَنَّهُمَا يَدْخُلانِ فِي الْمَعْنَى الَّذِي أَنْشَدَ أَبُو بَكْرٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ الثَّلاثَةَ الأَبْيَاتِ الأُوَلَ .
نوید مجید طیب
امام شافعی رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ مجھے بعض اہل علم نے بتایا کہ سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ ہماری اور انصار کی مثال شاعر طفیل غنوی کے ان اشعار میں ہے: ”اللہ جزائے خیر دے جعفر کو جب ہم دیار غیر میں بھٹک رہے تھے، قدم پھسل رہے تھے۔ انہوں نے ہمارا اتنا بوجھ اٹھایا اگر ہماری ماں بھی اتنا اٹھاتی تو تھک جاتی۔ انہوں نے ہمیں اپنا ہی سمجھا اور ہمیں اپنے گرم خیموں اور سایہ بانوں میں پناہ دی۔“
وضاحت:
➊ امام طحاوی رحمہ اللہ کہتے ہیں امام مزنی رحمہ اللہ نے یہ روایت جب بیان کی تو میرے والد رحمہ اللہ نے فرمایا: اہل علم مزید دو اشعار کا اضافہ کرتے ہیں جن کا مفہوم ان ہی اشعار سے ملتا ہے کہ اور وہ کہنے لگے آ جاؤ ہمارے گھر حتیٰ کہ ان کے حسنِ سلوک سے ہمارے غم دور ہو گئے، اور ان کے احسانات اندھے کو بھی نظر آنے لگے۔ ان احسانات کے بعد ہم سلمیٰ اور اس کے قبیلہ کے احسانات کے غلام اور گروی ہیں جبکہ اس سے قبل ہم سے تمام شہر تنگ آ چکے تھے۔
➋ یہ زمانہ جاہلیت کے ایک شاعر طفیل غنوی کا کلام ہے جس کے ساتھ ایک قبیلے نے احسان کیا تو سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ نے فرمایا: انصار قبیلہ نے ہمارے ساتھ بھی اسی طرح حسنِ سلوک کیا ہے گویا شاعر نے یہ ہماری مثال اپنے اشعار میں بیان کر دی۔
➌ معلوم ہوا اچھا شعر کسی کافر کا بھی پڑھا جا سکتا ہے۔
➍ شعر و شاعری شرعاً فی نفسہ مذموم نہیں ہے البتہ اس کی طرف حد درجہ کا رجحان ناپسندیدہ ہے۔ مولانا حالی رحمہ اللہ نے اپنے زمانے کے شعراء کا خوب نقشہ کھینچا ہے: برا شعر کہنے کی گر کچھ سزا ہے
تو وہ محکمہ جس کا قاضی خدا ہے
عبث جھوٹ بکنا اگر ناروا ہے
مقرر جہاں نیک و بد کی سزا ہے
گنہگاروں چھوٹ جائیں گے سارے
جہنم کو بھر دیں گے شاعر ہمارے
یہ وہ شاعر ہیں جو ہر خیال کو اچھوتے انداز میں شعر کے قالب میں ڈھال دیتے ہیں وہ خیال شیطانی ہے یا رحمانی اس سے ان کو غرض نہیں ہے۔ یہی شاعری قابلِ مذمت ہے۔
➎ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدنا حسان بن ثابت رضی اللہ عنہ کی دفاعِ اسلام و نبیِ اسلام صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے شاعری کی ہمت افزائی فرمائی۔ [صحيح مسلم: 2490]
➋ یہ زمانہ جاہلیت کے ایک شاعر طفیل غنوی کا کلام ہے جس کے ساتھ ایک قبیلے نے احسان کیا تو سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ نے فرمایا: انصار قبیلہ نے ہمارے ساتھ بھی اسی طرح حسنِ سلوک کیا ہے گویا شاعر نے یہ ہماری مثال اپنے اشعار میں بیان کر دی۔
➌ معلوم ہوا اچھا شعر کسی کافر کا بھی پڑھا جا سکتا ہے۔
➍ شعر و شاعری شرعاً فی نفسہ مذموم نہیں ہے البتہ اس کی طرف حد درجہ کا رجحان ناپسندیدہ ہے۔ مولانا حالی رحمہ اللہ نے اپنے زمانے کے شعراء کا خوب نقشہ کھینچا ہے: برا شعر کہنے کی گر کچھ سزا ہے
تو وہ محکمہ جس کا قاضی خدا ہے
عبث جھوٹ بکنا اگر ناروا ہے
مقرر جہاں نیک و بد کی سزا ہے
گنہگاروں چھوٹ جائیں گے سارے
جہنم کو بھر دیں گے شاعر ہمارے
یہ وہ شاعر ہیں جو ہر خیال کو اچھوتے انداز میں شعر کے قالب میں ڈھال دیتے ہیں وہ خیال شیطانی ہے یا رحمانی اس سے ان کو غرض نہیں ہے۔ یہی شاعری قابلِ مذمت ہے۔
➎ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدنا حسان بن ثابت رضی اللہ عنہ کی دفاعِ اسلام و نبیِ اسلام صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے شاعری کی ہمت افزائی فرمائی۔ [صحيح مسلم: 2490]
حدیث نمبر: 437
حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ دِينَارٍ ، عَنْ سَالِمِ بْنِ شَوَّالٍ ، عَنْ أُمِّ حَبِيبَةَ ، قَالَتْ : " كُنَّا نُغَلِّسُ مِنْ جَمْعٍ إِلَى مِنًى عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " .
نوید مجید طیب
سیدہ ام حبیبہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے ہم رسول اللہ ﷺ کے دور میں رات کے اندھیرے میں مزدلفہ سے منی کو چلے جایا کرتے تھے۔
حدیث نمبر: 438
عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ نَافِعٍ ، عَنِ ابْنِ أَبِي ذِئْبٍ ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ ، عَنْ سَالِمِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، عَنْ أَبِيهِ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " صَلَّى الْمَغْرِبَ وَالْعِشَاءَ بِالْمُزْدَلِفَةِ جَمِيعًا لَمْ يُنَادَ فِي وَاحِدَةٍ مِنْهُمَا إِلا بِالإِقَامَةِ وَلَمْ يُسَبِّحْ بَيْنَهُمَا وَلا عَلَى إِثْرِ وَاحِدَةٍ مِنْهُمَا " .
نوید مجید طیب
سیدنا عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے رسول اللہ ﷺ نے مزدلفہ میں مغرب و عشاء کی نمازیں بغیر اذان کے اکٹھی پڑھائیں البتہ ہر ایک کے لیے اقامت کہی گئی۔ اور دونوں نمازوں کے درمیان یا بعد میں کوئی سنت یا نفل نہ پڑھے۔
حدیث نمبر: 439
عَنْ مَالِكِ بْنِ أَنَسٍ ، عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ ، عَنْ عَدِيِّ بْنِ ثَابِتٍ الأَنْصَارِيِّ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ يَزِيدَ الْخَطْمِيِّ ، أَنَّ أَبَا أَيُّوبَ الأَنْصَارِيَّ أَخْبَرَهُ أَنَّهُ ، " صَلَّى مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي حَجَّةِ الْوَدَاعِ الْمَغْرِبَ وَالْعِشَاءَ بِالْمُزْدَلِفَةِ جَمِيعًا " .
نوید مجید طیب
سیدنا ابو ایوب انصاری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے انہوں نے نبی اکرم ﷺ کے ساتھ حجۃ الوداع کے موقع پر نماز مغرب و عشاء مزدلفہ میں اکٹھی ادا کی۔
حدیث نمبر: 440
عَنْ مَالِكِ بْنِ أَنَسٍ ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ ، عَنْ سَالِمِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، عَنْ أَبِيهِ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " صَلَّى الْمَغْرِبَ وَالْعِشَاءَ بِالْمُزْدَلِفَةِ جَمِيعًا " .
نوید مجید طیب
سیدنا عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے رسول اللہ ﷺ نے مزدلفہ میں نماز مغرب و عشاء اکٹھی پڑھی۔
حدیث نمبر: 441
عَنْ مَالِكِ بْنِ أَنَسٍ ، عَنْ مُوسَى بْنِ عُقْبَةَ ، عَنْ كُرَيْبٍ ، مَوْلَى عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبَّاسٍ ، عَنِ أُسَامَةَ بْنِ زَيْدٍ أَنَّهُ سَمِعَهُ يَقُولُ : دَفَعَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ عَرَفَةَ حَتَّى إِذَا كَانَ بِالشِّعْبِ نَزَلَ فَبَالَ ثُمَّ تَوَضَّأَ فَلَمْ يُسْبِغِ الْوُضُوءَ ، فَقُلْتُ لَهُ : الصَّلاةَ ، فَقَالَ : " الصَّلاةُ أَمَامَكَ " ، فَرَكِبَ فَلَمَّا جَاءَ الْمُزْدَلِفَةَ نَزَلَ فَتَوَضَّأَ فَأَسْبَغَ وُضُوءَهُ ، ثُمَّ أُقِيمَتِ الصَّلاةُ فَصَلَّى الْمَغْرِبَ ، ثُمَّ أَنَاخَ كُلُّ إِنْسَانٍ بَعِيرَهُ فِي مَنْزِلِهِ ثُمَّ أُقِيمَتِ الْعِشَاءُ فَصَلاهَا وَلَمْ يُصَلِّ بَيْنَهُمَا شَيْئًا .
نوید مجید طیب
سیدنا اسامہ بن زید رضی اللہ عنہما سے روایت ہے رسول اللہ ﷺ عرفات سے لوٹے، جب گھاٹی سے گزرے تو سواری سے اترے قضائے حاجت سے فارغ ہوئے پھر وضو کیا اور خوب اچھی طرح نہیں کیا تو میں نے عرض کیا: ”اے اللہ کے رسول ﷺ! نماز پڑھنی ہے؟“ آپ ﷺ نے فرمایا: ”نماز تمہارے آگے مزدلفہ میں ہے۔“ پھر سوار ہو گئے جب مزدلفہ آئے تو سواری سے اترے تب اچھی طرح وضو کیا پھر اقامت کہی گئی تو مغرب پڑھائی پھر ہر بندے نے اپنی جگہ اونٹ بٹھایا پھر نماز عشاء کی جماعت کھڑی کی گئی اور آپ ﷺ نے نماز پڑھائی اور ان دونوں نمازوں کے درمیان کوئی (سنت و نفل) نہیں پڑھی۔
حدیث نمبر: 442
عَنْ سُفْيَانَ بْنِ عُيَيْنَةَ ، عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ ، عَنْ عَدِيِّ بْنِ ثَابِتٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ يَزِيدَ ، عَنْ أَبِي أَيُّوبَ الأَنْصَارِيِّ ، قَالَ : " صَلَّيْتُ مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْمَغْرِبَ وَالْعِشَاءَ بِجَمْعٍ جَمِيعًا " .
نوید مجید طیب
سیدنا ابو ایوب انصاری رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ”میں نے نبی اکرم ﷺ کے ساتھ نماز مغرب و عشاء مزدلفہ میں اکٹھی پڑھی۔“
حدیث نمبر: 443
عَنْ عَبْدِ الْوَهَّابِ بْنِ عَبْدِ الْمَجِيدِ الثَّقَفِيِّ ، عَنْ حَبِيبٍ الْمُعَلِّمِ ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ أَبِي رَبَاحٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا جَابِرُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَهَلَّ هُوَ وَأَصْحَابُهُ بِالْحَجِّ ، وَلَيْسَ مَعَ أَحَدٍ مِنْهُمْ هَدْيٌ غَيْرَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَطَلْحَةَ ، وَكَانَ عَلِيٌّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَدِمَ مِنَ الْيَمَنِ وَمَعَهُ هَدْيٌ ، فَقَالَ : أَهْلَلْتُ بِمَا أَهَلَّ بِهِ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، وَأَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَمَرَ أَصْحَابَهُ أَنْ يَجْعَلُوهَا عُمْرَةً وَيَطُوفُوا ثُمَّ يُقَصِّرُوا وَيَحِلُّوا إِلا مَنْ كَانَ مَعَهُ هَدْيٌ ، فَقَالُوا : أَنَنْطَلِقُ إِلَى مِنًى وَذَكَرُ أَحَدِنَا يَقْطُرُ ؟ فَبَلَغَ ذَلِكَ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَقَالَ : " لَوْ أَنِّي اسْتَقْبَلْتُ مِنْ أَمْرِي مَا اسْتَدْبَرْتُ مَا أَهْدَيْتُ وَلَوْلا أَنَّ مَعِيَ الْهَدْيَ لَحَلَلْتُ " ، وَأَنَّ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا حَاضَتْ فَنَسَكَتِ الْمَنَاسِكَ كُلَّهَا غَيْرَ أَنَّهَا لَمْ تَطُفْ بِالْبَيْتِ ، فَلَمَّا طَهُرَتْ وَأَفَاضَتْ قَالَتْ : يَا رَسُولَ اللَّهِ أَتَنْطَلِقُونَ بِحَجَّةٍ وَعُمْرَةٍ وَأَنْطَلِقُ بِالْحَجِّ ؟ فَأَمَرَ عَبْدَ الرَّحْمَنِ بْنَ أَبِي بَكْرٍ أَنْ يَخْرُجَ مَعَهَا إِلَى التَّنْعِيمِ ، فَاعْتَمَرَتْ بَعْدَ الْحَجِّ فِي ذِي الْحِجَّةِ ، وَأَنَّ سُرَاقَةَ بْنَ جُعْشُمٍ لَقِيَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِالْعَقَبَةِ وَهُوَ يَرْمِيهَا ، فَقَالَ : لَكُمْ هَذِهِ خَاصَّةً ؟ قَالَ : " لا بَلْ لِلأَبَدِ " .
نوید مجید طیب
سیدنا جابر بن عبد اللہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے رسول اللہ ﷺ اور صحابہ رضی اللہ عنہم نے حج کا احرام باندھا، نبی اکرم ﷺ اور سیدنا طلحہ رضی اللہ عنہ کے سوا کسی کے پاس قربانی کا جانور نہیں تھا، اور سیدنا علی رضی اللہ عنہ یمن سے آئے تھے ان کے ساتھ بھی قربانی کا جانور تھا تو انہوں نے نیت یہ کی تھی کہ میرا احرام بھی وہی ہے جس نیت سے رسول اللہ ﷺ نے احرام باندھا ہے اور نبی اکرم ﷺ نے صحابہ کو حکم دیا کہ حج کو عمرہ بنا لیں کعبہ کا طواف کریں پھر بال تراشیں اور احرام کھول دیں ماسوائے ان لوگوں کے جو جانور ساتھ لائے ہیں (کیونکہ ان کا حج قرآن تھا قرآن میں عمرے کے بعد احرام نہیں کھولا جاتا اس احرام میں منی جانا ہوتا ہے) تو وہ کہنے لگے کیا ہم اس حال میں منی جائیں گے کہ ہمارے ذکر سے منی ٹپک رہی ہو گی یہ بات رسول اللہ ﷺ تک پہنچی تو آپ ﷺ نے فرمایا: ”جو بات اب ظاہر ہوئی ہے اگر پہلے معلوم ہوتی تو میں اپنے ساتھ قربانی کا جانور نہ لاتا اور اگر ہدی ساتھ نہ ہوتی تو میں عمرہ کر کے احرام کھول دیتا“ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا حائضہ ہو گئیں انہوں نے سارے مناسک ادا کیے لیکن بیت اللہ کا طواف نہیں کیا وہ جب پاک ہوئیں تو طواف کر لیا اور کہنے لگیں اے اللہ کے رسول ﷺ تمام لوگ حج اور عمرہ دونوں کر کے لوٹیں گے اور میں صرف حج کے ساتھ واپس جاؤں گی؟ اس پر آپ ﷺ نے عبدالرحمن بن ابوبکر رضی اللہ عنہما سے کہا کہ انہیں تنعیم لے جائیں (وہاں سے عمرہ کی نیت کر کے) عمرہ کریں تو ام المومنین سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے حج کے بعد ذوالحجہ میں عمرہ ادا کیا، سراقہ بن مالک بن جعشم رضی اللہ عنہ رسول اللہ ﷺ سے اس وقت ملے جب آپ ﷺ جمرہ عقبہ کو کنکریاں مار رہے تھے انہوں نے پوچھا: اے اللہ کے رسول ﷺ کیا یہ (عمرہ اور حج کے درمیان احرام کھول دینا) صرف آپ لوگوں کے ساتھ خاص ہے آپ ﷺ نے فرمایا: ”نہیں ہمیشہ کے لیے یہی ہے۔“
وضاحت:
➊ کمزور خواتین اور بچوں کو آدھی رات کے بعد فجر سے پہلے مزدلفہ سے منی آنے کی اجازت دی گئی تھی جن میں ام المومنین سیدہ سودہ رضی اللہ عنہا بھی تھیں۔
➋ ضعیف و کمزور لوگوں کے لیے یہ حکم اب بھی برقرار ہے۔
➌ دو اکٹھی نمازیں پڑھتے ہوئے ایک اذان کہی جائے گی چونکہ لوگ موجود ہیں دوسری اذان کی ضرورت نہیں جبکہ ہر نماز کے لیے علیحدہ اقامت کہی جائے گی جیسا کہ جابر بن عبد اللہ رضی اللہ عنہ کی روایت میں ہے کہ باذان واحد و اقامتین اذان ایک کہی اور دو اقامتیں کہیں۔ [صحیح مسلم: 1218]
➍ سفر حج میں اتباع سنت کے بہت اسباق ہیں عقل کا تقاضا ہے کہ آدمی عبادت کے لیے گیا ہوا ہے نمازیں اپنے وقت پر پڑھے عصر کے وقت ویسے ہی عرفات میں اذکار میں مشغول ہوتا ہے تو وقت پر نماز پڑھے لیکن شریعت کہتی ہے نہیں آج وقت سے پہلے ظہر کے وقت ہی ظہر وعصر جمع کر لو اسی طرح نماز مغرب مزدلفہ جاتے ہوئے راستے میں مغرب کا وقت نکل رہا ہوتا ہے لیکن عقل کی نہیں مانی جاتی شریعت کہتی ہے آج مغرب مزدلفہ ہی اداء کرنی ہے چاہیے آدھی رات ہو جائے جبکہ ہم نے بعض پاکستانی بھی تبلیغی جماعت کا لیبل لگانے والے اپنی آنکھوں سے دیکھے کہ وہ عرفات سے نکلتے ہی اس خیال سے ہیں کہ مغرب کا وقت جا رہا ہے نماز شروع کر دیتے تھے، ہم جامعات کے طلبہ اُن کو منع کرتے، مسئلہ بتاتے پر وہ کسی کی نہ سنتے اور جگہ جگہ نمازیں پڑھنا شروع کر دیتے اور واپس آ کر یہی تبلیغ کی ذمہ داری نبھاتے ہیں جن کو خود سنت رسول صلی اللہ علیہ وسلم کا علم نہیں اور نہ ہی حق مانتے ہیں اور نہ ہی مطالعہ کرتے ہیں بس تبلیغ کا شوق ہے، جہالت سے کوئی تبلیغ نہیں ہوتی نیم حکیم خطرہ جان اور نیم ملاں خطرہ ایمان۔
عقل قربان کن بہ پیش مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم
حسبی اللہ گو کہ اللہ از کفی
ترجمہ: جناب مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے عقل ورائے کو قربان کر دے اور حسبی اللہ کا یہ پیغام ہے کہ صرف اللہ ہی کافی ہے۔
➎ حج کی تین اقسام ہیں: حج تمتع: عمرہ کر کے احرام کھول دو سارے جائز کام کرو بیوی کے پاس جاؤ پھر آٹھ ذوالحجہ کو حج کے لیے دوبارہ احرام باندھ لو۔
حج افراد:
صرف اکیلا حج کرنے کی نیت سے احرام باندھنا، یوم الترویحہ آٹھ ذوالحجہ کو سیدھے منی چلے جائیں اور حج کے ارکان ادا کریں۔ یہ حج افراد ہے۔
حج قران:
عمرہ اداء کر کے آٹھ ذوالحجہ تک احرام میں رہیں پھر اسی احرام میں حج ادا کریں یہ اس کے لیے ہے جو قربانی کا جانور ساتھ لایا ہو۔
➏ مقام تنعیم جہاں پر عصر حاضر میں مسجد عائشہ ہے یہاں سے ہر ایک کا احرام باندھ کر عمرہ اداء کرنا درست نہیں کیونکہ یہ میقات نہیں ہے بلکہ حرم سے باہر کی حدود ہے ام المومنین سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا چونکہ میقات سے عمرہ و حج دونوں کی نیت سے آئی تھیں حیض کے باعث طواف نہ کر سکیں کیونکہ حائضہ نہ نماز پڑھتی ہے نہ مسجد میں جاتی ہے نہ طواف کرتی ہے تو انہوں نے حج کے بعد تنعیم سے عمرہ کیا یعنی حل اور حرم کو جمع کیا آج بھی اگر کسی عورت کو حیض آجائے تو وہ تنعیم سے حج کے بعد عمرہ کرے گی جبکہ جس کو حیض نہیں آیا پہلا عمرہ قضاء نہیں ہوا اس کا تنعیم سے احرام باندھنا درست نہیں کیونکہ کسی صحابی رضی اللہ عنہ نے ایسا نہیں کیا نہ ہی سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کے علاوہ کسی اور کو یہ حکم ملا۔
➐ اگر عمرہ کرنے کا زیادہ شوق ہو تو میقات پر جائیں وہاں سے احرام باندھ کر آئیں اور عمرہ کریں مکہ سے قریب ترین میقات طائف ہے، اس میقات سے بھی مجھے احرام باندھنے کا شرف حاصل ہوا ہے اللہ قبول فرمائے۔
➋ ضعیف و کمزور لوگوں کے لیے یہ حکم اب بھی برقرار ہے۔
➌ دو اکٹھی نمازیں پڑھتے ہوئے ایک اذان کہی جائے گی چونکہ لوگ موجود ہیں دوسری اذان کی ضرورت نہیں جبکہ ہر نماز کے لیے علیحدہ اقامت کہی جائے گی جیسا کہ جابر بن عبد اللہ رضی اللہ عنہ کی روایت میں ہے کہ باذان واحد و اقامتین اذان ایک کہی اور دو اقامتیں کہیں۔ [صحیح مسلم: 1218]
➍ سفر حج میں اتباع سنت کے بہت اسباق ہیں عقل کا تقاضا ہے کہ آدمی عبادت کے لیے گیا ہوا ہے نمازیں اپنے وقت پر پڑھے عصر کے وقت ویسے ہی عرفات میں اذکار میں مشغول ہوتا ہے تو وقت پر نماز پڑھے لیکن شریعت کہتی ہے نہیں آج وقت سے پہلے ظہر کے وقت ہی ظہر وعصر جمع کر لو اسی طرح نماز مغرب مزدلفہ جاتے ہوئے راستے میں مغرب کا وقت نکل رہا ہوتا ہے لیکن عقل کی نہیں مانی جاتی شریعت کہتی ہے آج مغرب مزدلفہ ہی اداء کرنی ہے چاہیے آدھی رات ہو جائے جبکہ ہم نے بعض پاکستانی بھی تبلیغی جماعت کا لیبل لگانے والے اپنی آنکھوں سے دیکھے کہ وہ عرفات سے نکلتے ہی اس خیال سے ہیں کہ مغرب کا وقت جا رہا ہے نماز شروع کر دیتے تھے، ہم جامعات کے طلبہ اُن کو منع کرتے، مسئلہ بتاتے پر وہ کسی کی نہ سنتے اور جگہ جگہ نمازیں پڑھنا شروع کر دیتے اور واپس آ کر یہی تبلیغ کی ذمہ داری نبھاتے ہیں جن کو خود سنت رسول صلی اللہ علیہ وسلم کا علم نہیں اور نہ ہی حق مانتے ہیں اور نہ ہی مطالعہ کرتے ہیں بس تبلیغ کا شوق ہے، جہالت سے کوئی تبلیغ نہیں ہوتی نیم حکیم خطرہ جان اور نیم ملاں خطرہ ایمان۔
عقل قربان کن بہ پیش مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم
حسبی اللہ گو کہ اللہ از کفی
ترجمہ: جناب مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے عقل ورائے کو قربان کر دے اور حسبی اللہ کا یہ پیغام ہے کہ صرف اللہ ہی کافی ہے۔
➎ حج کی تین اقسام ہیں: حج تمتع: عمرہ کر کے احرام کھول دو سارے جائز کام کرو بیوی کے پاس جاؤ پھر آٹھ ذوالحجہ کو حج کے لیے دوبارہ احرام باندھ لو۔
حج افراد:
صرف اکیلا حج کرنے کی نیت سے احرام باندھنا، یوم الترویحہ آٹھ ذوالحجہ کو سیدھے منی چلے جائیں اور حج کے ارکان ادا کریں۔ یہ حج افراد ہے۔
حج قران:
عمرہ اداء کر کے آٹھ ذوالحجہ تک احرام میں رہیں پھر اسی احرام میں حج ادا کریں یہ اس کے لیے ہے جو قربانی کا جانور ساتھ لایا ہو۔
➏ مقام تنعیم جہاں پر عصر حاضر میں مسجد عائشہ ہے یہاں سے ہر ایک کا احرام باندھ کر عمرہ اداء کرنا درست نہیں کیونکہ یہ میقات نہیں ہے بلکہ حرم سے باہر کی حدود ہے ام المومنین سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا چونکہ میقات سے عمرہ و حج دونوں کی نیت سے آئی تھیں حیض کے باعث طواف نہ کر سکیں کیونکہ حائضہ نہ نماز پڑھتی ہے نہ مسجد میں جاتی ہے نہ طواف کرتی ہے تو انہوں نے حج کے بعد تنعیم سے عمرہ کیا یعنی حل اور حرم کو جمع کیا آج بھی اگر کسی عورت کو حیض آجائے تو وہ تنعیم سے حج کے بعد عمرہ کرے گی جبکہ جس کو حیض نہیں آیا پہلا عمرہ قضاء نہیں ہوا اس کا تنعیم سے احرام باندھنا درست نہیں کیونکہ کسی صحابی رضی اللہ عنہ نے ایسا نہیں کیا نہ ہی سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کے علاوہ کسی اور کو یہ حکم ملا۔
➐ اگر عمرہ کرنے کا زیادہ شوق ہو تو میقات پر جائیں وہاں سے احرام باندھ کر آئیں اور عمرہ کریں مکہ سے قریب ترین میقات طائف ہے، اس میقات سے بھی مجھے احرام باندھنے کا شرف حاصل ہوا ہے اللہ قبول فرمائے۔