کتب حدیثالسنن المأثورةابوابباب: فرعہ اور عتیرہ کی تفسیر کا بیان
حدیث نمبر: 398
أَخْبَرَنِي مَنْ ، سَمِعَ زَيْدَ بْنَ أَسْلَمَ ، يُحَدِّثُ عَنْ رَجُلٍ ، مِنْ بَنِي ضَمْرَةَ , عَنْ أَبِيهِ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سُئِلَ عَنِ الْفَرَعَةِ ، فَقَالَ : " إِنَّ الْفَرَعَةَ حَقٌّ وَأَنْ تَغْذُوَهُ حَتَّى يَكُونَ ابْنَ لَبُونٍ زُخْرُبًّا فَتُعْطِيَهُ أَرْمَلَةً أَوْ تَحْمِلَ عَلَيْهِ فِي سَبِيلِ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ خَيْرٌ مِنْ أَنْ يُكْفَأَ إِنَاؤُكَ وَتُولَهُ نَاقَتُكَ وَتَأْكُلَهُ ، يَتَلَصَّقُ لَحْمُهُ بِوَبَرِهِ " . قَالَ الشَّافِعِيُّ رَحِمَهُ اللَّهُ : وَقَوْلُهُ " الْفَرَعَةُ حَقٌّ " يَعْنِي أَنَّهَا لَيْسَتْ بِبَاطِلٍ وَلَكِنَّهُ كَلامٌ عَرَبِيٌّ يَخْرُجُ عَلَى جَوَّابِ السَّائِلِ.
نوید مجید طیب
بنی ضمرہ کے ایک آدمی سے روایت نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے فرعہ کے بارے میں سوال کیا گیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ”فرعہ بھی حق ہے اور یہ کہ اس نوزائیدہ جانور کو چھوڑو حتی کہ جوان تنومند ہو جائے تو کسی بیوہ کو دے دو یا جہاد فی سبیل اللہ عز وجل کے لیے سواری مہیا کر دو یہ اس سے بہتر ہے کہ تم (اسے ذبح کر کے دودھ کا) برتن اوندھا کر ڈالو اور اونٹنی کو بے چین کر ڈالو اور پھر اس حال میں اس کا گوشت کھاؤ کہ گوشت بالوں سے ہی چمٹا ہو۔“
وضاحت:
➊ بچہ پیدا ہوتے ہی ذبح کر ڈالو گے تو اونٹنی بے چین ہو کر دودھ کم کر دے گی، برتن اوندھا کرنا پڑے گا، کھانے کے لیے بھی کچھ نہیں ملے گا، چمڑے سے چمٹا گوشت ہوگا۔
➋ فرعہ حق کا مطلب ہے کہ شکرانے کے طور پر اللہ کے لیے ذبح کرنا اچھی بات ہے لیکن بہتر ہے اسے جوان ہونے دو پھر اللہ کے لیے صدقہ کرو تاکہ کسی کا فائدہ بھی ہو۔
➌ مزید مسائل کی توضیح کے لیے دیکھئے شرح حدیث نمبر 385۔
➤ تشریح امام شافعی رحمہ اللہ: امام شافعی رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ ان اشیاء سے اہل جاہلیت اپنے مالوں میں برکت تلاش کرتے تھے، ایک جاہلی آدمی اونٹنی یا بکری کا بچہ دودھ پینے سے پہلے ہی اس امید پر ذبح کر دیتا کہ اس کے بعد بہت برکت ہو گی تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے صحابہ نے اس کے متعلق سوال کیا آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: " فرع پہلا بچہ اگر چاہو تو ذبح کر سکتے ہو۔" انہوں نے اس غرض سے پوچھا تھا کہ جاہلیت میں ایسا کرتے تھے اسلام میں حرام نہ ہو تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے بتایا بچہ ذبح کرنا حرام تو نہیں (اس سے بہتر حکم دیا) یعنی اختیاری حکم بہتری والا دیا کہ اسے دودھ پلاؤ (جوان کرو) پھر جہاد کے لیے استعمال میں لاؤ۔
حوالہ حدیث السنن المأثورة / باب تفسير الفرعة والعتيرة / حدیث: 398
تخریج حدیث سنن ابی داؤد، الأضاحي، باب في العقيقة، رقم : 2842 وقال الالباني: حسن، سنن نسائی، باب الافرع ولا عتيرة 4230
حدیث نمبر: 399
وَقَدْ رُوِيَ عَنْهُ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " لا فَرَعَةَ وَلا عَتِيرَةَ " وَلَيْسَ هَذَا بِاخْتِلافٍ مِنَ الرِّوَايَةِ إِنَّمَا هَذَا لا فَرَعَةَ وَاجِبَةٌ وَلا عَتِيرَةَ وَاجِبَةٌ وَالْحَدِيثُ الآخَرُ يَدُلُّ عَلَى مَعْنَى ذَا أَنَّهُ أَبَاحَ لَهُ الذَّبْحَ وَاخْتَارَ لَهُ أَنْ يُعْطِيَهُ أَرْمَلَةً أَوْ يَحْمِلَ عَلَيْهِ فِي سَبِيلِ اللَّهِ . قَالَ لَنَا أَبُو جَعْفَرٍ : سَمِعْتُ الْمُزَنِيَّ يَقُولُ : قَالَ الشَّافِعِيُّ رَحِمَهُ اللَّهُ : وَالْعَتِيرَةُ هِيَ الرَّجِبِيَّةُ وَهِيَ ذَبِيحَةٌ كَانَ أَهْلُ الْجَاهِلِيَّةِ يَتَبَرَّرُونَ بِهَا فِي رَجَبَ وَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " لا عَتِيرَةَ " عَلَى مَعْنَى لا عَتِيرَةَ لازِمَةٌ وَقَوْلُهُ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حِينَ سُئِلَ عَنِ الْعَتِيرَةِ : " اذْبَحُوا لِلَّهِ عَزَّ وَجَلَّ فِي أَيِّ شَهْرٍ مَا كَانَ وَبَرُّوا اللَّهَ وَأَطْعِمُوا " أَيِ اذْبَحُوا إِنْ شِئْتُمْ وَاجْعَلُوا الذَّبِيحَةَ لِلَّهِ لا لِغَيْرِهِ وَفِي أَيِّ شَهْرٍ مَا كَانَ لا أَنَّهَا فِي رَجَبَ دُونَ مَا سِوَاهُ مِنَ الشُّهُورِ وَقَالَ لَنَا أَبُو جَعْفَرٍ : سَمِعْتُ الْمُزَنِيَّ يَقُولُ : قَالَ الشَّافِعِيُّ رَحِمَهُ اللَّهُ : وَالْعَقِيقَةُ مَا عَرَفَ النَّاسُ وَهُوَ ذَبْحٌ كَانَ يُذْبَحُ فِي الْجَاهِلِيَّةِ عَنِ الْمَوْلُودِ فَأَمَرَ بِهِ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي الإِسْلامِ وَقَدْ كَرِهَ مِنْهُ الاسْمَ.
نوید مجید طیب
امام شافعی رحمہ اللہ فرماتے ہیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان فرعہ حق ہے اس کا مطلب ہے باطل نہیں ہے (گوشت حلال ہے) لیکن یہ عربی کلام سائل کے جواب کے تناظر میں کی گئی ہے ایک روایت اس طرح بھی ہے کہ اسلام میں فرعہ یا عتیرہ نام کی کوئی چیز نہیں یہ روایات کا اختلاف (تضاد) نہیں اس سے مراد یہ ہے کہ اسلام میں فرعہ یا عتیرہ واجب نہیں جبکہ دوسری حدیث بتاتی ہے کہ (واجب تو نہیں لیکن) مباح ہے۔ مختار بات یہ ہے کہ (جوان کر کے) بیوہ کو یا فی سبیل اللہ دیا جائے۔ امام شافعی رحمہ اللہ فرماتے ہیں عتیرہ ہی رجبیہ ہے یہ اس ذبیحہ کا نام ہے جس کی اہل جاہلیت رجب میں ذبح کرنے کی نذر مانتے اور پھر اس کو ماہ رجب میں پورا کرتے تھے تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ” کوئی عتیرہ نہیں“ کہ عتیرہ ضروری نہیں اور ایک حدیث میں فرمایا جب عتیرہ کے بارے میں سوال ہوا کہ ” کسی بھی ماہ میں اللہ کے نام پر ذبح کرو اور ( فقراء کو) کھلاؤ“ یعنی اگر چاہو تو ذبح کر سکتے ہو لیکن ذبیحہ اللہ کے نام کا کرنا ہے غیر اللہ کے نام کا نہیں اور ماہ بھی مخصوص نہیں کرنا کیونکہ وہ لوگ بقیہ مہینوں کی بجائے ماہ رجب کو خاص کر بیٹھے تھے۔ امام شافعی رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ عقیقہ تو لوگوں کے ہاں معروف چیز ہے یہ ذبیحہ نومولود کی طرف سے اہل جاہلیت کرتے تھے تو اسلام میں بھی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کا حکم دیا ، لیکن یہ نام (لغت کے اعتبار سے) مکروہ ہے۔
وضاحت:
➊ کوئی عتیرہ کوئی فرعہ نہیں کا مطلب یہ ہے کہ جس انداز میں اہل جاہلیت غیر اللہ کے نام پر اور پھر مہینے مخصوص کر کے کرتے تھے اس کا اسلام میں کوئی تصور نہیں۔
➋ غیر اللہ کے نام کا جانور ذبح کرنا شرک اکبر ہے اور اللہ کے نام پر اپنی طرز سے مہینے مخصوص کرنا جیسے ماہ رجب کے کونڈے، گیارہویں شریف، یہ سب حرام اور بدعت ہے کیونکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: «اذبحولله عزوجل فى اى شهر ما كان وبر و الله» [سنن ابي داؤد، رقم الحديث: 2830، وقال الالباني: صحيح]
اللہ کے لیے ذبح کرو جس مہینے میں بھی ہو اور اللہ ہی کے لیے نیکی کرو۔
«لا عتيرة لا فرعة» سے یہ بھی معلوم ہوا کہ صدقات کے لیے وہی نام چلیں گے جو شریعت نے دیے ہیں مثلاً قربانی، فطرانہ، کفارہ، عقیقہ وغیرہ وغیرہ۔ یعنی صدقات کا جاہلی یا عجمی نام رکھنا خود سے ایک بدعت ہے جیسے گیارہویں، ختم شریف، رجب کے کونڈے، عرس کی نیاز، میلاد وغیرہ وغیرہ، جب یہ اصطلاحات شریعت میں نہیں تو لازمی بات ہے یہ ایجادات اور مخترعات ہیں۔ ﴿إِنْ هِيَ إِلَّا أَسْمَاءٌ سَمَّيْتُمُوهَا أَنْتُمْ وَآبَاؤُكُمْ مَا أَنْزَلَ اللهُ بِهَا مِنْ سُلْطَانٍ﴾ [النجم: 23]
"یہ نام تم اور تمہارے باپ دادا نے گھڑ لیے ہیں اللہ تعالیٰ نے اس کی کوئی دلیل نہیں اتاری۔"
حوالہ حدیث السنن المأثورة / باب تفسير الفرعة والعتيرة / حدیث: 399
تخریج حدیث لا فرعة ولا عتيرة حديث صحيح، متفق علیه، انظر صحیح بخاری، العقيقة، باب الفرع رقم : 5473 ، صحیح مسلم الاضاحی باب الفرع والعتيرة رقم : 1976۔
حدیث نمبر: 400
فَقَالَ زَيْدُ بْنُ أَسْلَمَ فِي حَدِيثِهِ : فَسُئِلَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنِ الْعَقِيقَةِ فَقَالَ : " لا أُحِبُّ الْعُقُوقَ وَكَأَنَّهُ إِنَّمَا كَرِهَ الاسْمَ مَنْ وُلِدَ لَهُ وَلَدٌ فَأَحَبَّ أَنْ يَنْسُكَ عَنْهُ فَلْيَفْعَلْ " .
نوید مجید طیب
زید بن اسلم رحمہ اللہ کی روایت میں ہے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے عقیقہ کے بارے میں سوال کیا گیا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” میں عقوق (نا فرمانیاں) پسند نہیں کرتا “ گویا یہ نام نا پسند کیا جس کے ہاں بچہ پیدا ہو اس کی طرف سے قربانی کرنا چاہے تو کرے۔
حوالہ حدیث السنن المأثورة / باب تفسير الفرعة والعتيرة / حدیث: 400
تخریج حدیث مؤطا امام مالك العقيقة، باب ماجاء في العقيقة، رقم : 1441، مسند احمد : 211/38 ، رقم : 23134 وقال الارنوؤط : حسن لغيره، وهذا اسناد ضعيف
حدیث نمبر: 401
عَنْ سُفْيَانَ ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي يَزِيدَ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ سِبَاعِ بْنِ ثَابِتٍ ، عَنْ أُمِّ كُرْزٍ ، قَالَتْ : أَتَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِالْحُدَيْبِيَةِ بِالتَّخْفِيفِ أَسْأَلُهُ عَنْ لُحُومِ الْهَدْيِ ، فَسَمِعْتُهُ يَقُولُ : " عَنِ الْغُلامِ شَاتَانِ وَعَنِ الْجَارِيَةِ شَاةٌ لا يَضُرُّكُمْ ذُكْرَانًا كُنَّ أَوْ إِنَاثًا".
نوید مجید طیب
ام کرز کہتی ہیں میں حدیبیہ کے مقام پر رسول اللہ ﷺ کے پاس قربانی کے گوشت کا مسئلہ پوچھنے آئی تو میں نے آپ ﷺ کو فرماتے ہوئے سنا کہ ”لڑکے کی طرف سے دو بکریاں اور لڑکی کی طرف سے ایک بکری عقیقہ ہے کوئی حرج نہیں مذکر ہوں یا مؤنث۔“
حوالہ حدیث السنن المأثورة / باب تفسير الفرعة والعتيرة / حدیث: 401
تخریج حدیث سنن ابی داؤد، الاضاحی، باب في العقيقة رقم : 2835 وقال الالباني ، مسند احمد : 113/45، رقم : 27139 وقال الارنوؤط ، حديث صحيح لغيره، وصححه الحاكم : 237/4 ووافقه الذهبي۔
حدیث نمبر: 402
وَسَمِعْتُهُ يَقُولُ : " أَقِرُّوا الطَّيْرَ عَلَى مَكِنَاتِهَا " . قَالَ وَسَمِعْتُ الْمُزَنِيَّ يَقُولُ : قَالَ الشَّافِعِيُّ رَحِمَهُ اللَّهُ فِي قَوْلِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " أَقِرُّوا الطَّيْرَ عَلَى مَكِنَاتِهَا " : إِنَّ عِلْمَ الْعَرَبِ كَانَ فِي زَجْرِ الطَّيْرِ وَالْبُوارِحِ وَالْخَطِّ وَالاعْتِيَافِ ، كَانَ أَحَدُهُمْ إِذَا غَدَا مِنْ مَنْزِلِهِ يُرِيدُ أَمْرًا نَظَرَ أَوَّلَ طَائِرٍ يَرَاهُ فَإِنْ سَنَحَ عَنْ يَسَارِهِ وَاجْتَازَ عَنَ يَمِينِهِ قَالَ : هَذِهِ طَيْرُ الأَيَامِنِ فَمَضَى فِي حَاجَتِهِ وَرَأَى أَنَّهُ سَيَسْتَنْجِحُهَا وَإِنْ سَنَحَ عَنْ يَمِينِهِ فَمَرَّ عَنْ يَسَارِهِ قَالَ : هَذِهِ طَيْرُ الأَشَائِمِ فَرَجَعَ وَقَالَ : هَذِهِ حَاجَةٌ مَشْئُومَةٌ . وَقَالَ الْحُطَيْئَةُ يَمْدَحُ أَبَا مُوسَى الأَشْعَرِيَّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ : لا يَزْجُرُ الطَّيْرَ سُنُحًا إِنْ عَرَضْنَ لَهُ وَلا يُفِيضُ عَلَى قِسْمٍ بِأَزْلامِ يَعْنِي أَنَّهُ سَلَكَ طَرِيقَ الإِسْلامِ فِي التَّوَكُّلِ عَلَى اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ وَقَالَ بَعْضُ الشُّعَرَاءِ يَمْدَحُ نَفْسَهُ : وَلا أَنَا مِمَّنْ يَزْجُرُ الطَّيْرَ هَمَّهُ أَصَاحَ غُرَابٌ أَمْ تَعَرَّضَ ثَعْلَبُ وَكَانَ الْعَرَبِيُّ إِذَا لَمْ يَرَ طَائِرًا سَانِحًا فَرَأَى طَيْرًا فِي وَكْرِهِ حَرَّكَهُ مِنْ وَكْرِهِ لِيُطَيِّرَهُ لَيَنْظُرَهُ أَسَلَكَ طَرِيقَ الأَشَائِمِ أَوْ طَرِيقَ الأَيَامِنِ ؟ فَيُشْبِهُ قَوْلُ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " أَقِرُّوا الطَّيْرَ عَلَى مَكِنَاتِهَا " أَيْ لا تُحَرِّكُوهَا فَإِنَّ تَحْرِيكَهَا وَمَا تَعْلَمُونَ بِهِ مِنَ الطِّيَرَةِ لا يَصْنَعُ شَيْئًا وَإِنَّمَا يَصْنَعُ فِيمَا تَتَوَجَّهُونَ لَهُ قَضَاءُ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ
نوید مجید طیب
اور ام کرز کہتی ہیں میں نے آپ ﷺ کو یہ کہتے بھی سنا ہے کہ ”پرندوں کو ان کے گھونسلوں میں رہنے دو۔“ امام شافعی رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ نبی اللہ صلى الله عليه وسلم کا فرمان پرندوں کو گھونسلے ٹھہرنے دو“ کا مفہوم یہ ہے کہ عرب کا علم پرندے اڑانا ، ان کے دائیں بائیں (جانے کا اندازہ لگانا) لکیریں کھینچنا اور پرندوں کو ڈانٹنا تھا عر بی گھر سے کسی کام کو نکلتا تو پہلے پرندے پر نظر ڈالتا اگر پرندہ بائیں کی بجائے دائیں جانب پروان بھرتا تو عربی کہتا یہ پرندہ دائیں والا ہے تو اپنے کام پر چلا جاتا اور خیال کرتا کہ کامیاب رہے گا، اگر پرندہ دائیں کی بجائے بائیں سے گزر جاتا تو منحوس پرندہ جانتے ہوئے سفر ترک کر دیتا کہ یہ بدشگون حاجت ہے۔ حطیکہ شاعر نے ابوموسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ کی مدح کرتے ہوئے کہا : ” کہ وہ کسی کام جائیں تو پرندوں کو اڑا کر بدشگونی نہیں لیتے اور نہ قسمت کے تیر نکالتے ہیں یا پھینکتے ہیں۔ یعنی اسلامی طریقے کے مطابق اللہ تعالیٰ پر بھروسہ کرتے ہیں جاہلی رسم پرندوں (سے قسمت معلوم کرنا) بدشگونی لینا چھوڑ دی۔ بعض عرب کے شعراء نے اپنی تعریف اس انداز سے کی کہ : ”میں اُن لوگوں میں سے نہیں ہوں جو پرندے اڑاتے ہیں اپنے مقاصد کے لیے (میں مقاصد سے نہیں رکتا) کوّ ابو لے یا لومڑی سامنے آئے۔“ ایک عربی کو اگر راستے میں پرندہ نہ ملے تو جا کر گھونسلے سے اڑاتا تھا تاکہ معلوم کرے راستہ منحوس رہے گا یا پر امن یہ مراد ہے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے فرمان کی کہ پرندوں کو گھونسلے میں ٹھہر نے دو حرکت نہ دو پرندوں کی حرکت میں کوئی تاثیر واختیار نہیں سب کچھ اللہ تعالیٰ کی تقدیر سے ہوتا ہے۔
حوالہ حدیث السنن المأثورة / باب تفسير الفرعة والعتيرة / حدیث: 402
تخریج حدیث سنن ابی داؤد ،الضحايا، باب في العقيقة، رقم : 2835 وقال الالباني: ضعيف، السنن الكبرى للبيهقي : 311/9۔
حدیث نمبر: 403
وَقَدْ سُئِلَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنِ الطِّيَرَةِ فَقَالَ : " إِنَّمَا ذَلِكَ شَيْءٌ يَجِدُهُ أَحَدُكُمْ فِي نَفْسِهِ فَلا يَصُدَّنَّكُمْ". ═════ متابعت ═════ أَخْبَرَنَا الطَّحَاوِيُّ قَالَ : حَدَّثَنَا يُونُسُ وَالرَّبِيعُ الْمُرَادِيُّ جَمِيعًا عَنِ الشَّافِعِيِّ رَحِمَهُ اللَّهُ بِمِثْلِ ذَلِكَ غَيْرَ أَنَّهُمَا لَمْ يَذْكُرَا فيهِ الشَّعْرَ الَّذِي ذَكَرَهُ الْمُزَنِيُّ . أَخْبَرَنَا الطَّحَاوِيُّ ، قَالَ : وَسَمِعْتُ أَحْمَدَ بْنَ أَبِي عِمْرَانَ ، يَقُولُ : سَمِعْتُ الْحَارِثَ بْنَ شُرَيْحٍ النَّقَّالَ ، يَقُولُ : كُنَّا عِنْدَ سُفْيَانَ بْنِ عُيَيْنَةَ وَمَعَنَا الشَّافِعِيُّ رَحِمَهُ اللَّهُ فَحَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، يَوْمَئِذٍ بِحَدِيثِ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي يَزِيدَ هَذَا ، فَالْتَفَتَ سُفْيَانُ إِلَى الشَّافِعِيِّ رَحِمَهُ اللَّهُ فَسَأَلَهُ عَنْ مَعْنَى قَوْلِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " أَقِرُّوا الطَّيْرَ عَلَى مَكِنَاتِهَا " فَأَجَابَهُ الشَّافِعِيُّ رَحِمَهُ اللَّهُ بِمِثْلِ هَذَا الْجَوَّابِ بِعَيْنِهِ الَّذِي ذَكَرْنَاهُ عَنِ الْمُزَنِيِّ عَنِ الشَّافِعِيِّ رَحِمَهُ اللَّهُ غَيْرَ أَنَّهُ لَمْ يَذْكُرْ فِيهِ الْبَيْتَيْنِ مِنَ الشَّعْرِ اللَّذَيْنِ ذَكَرَهُمَا الْمُزَنِيُّ فَسَكَتَ ابْنُ عُيَيْنَةَ وَلَمْ يَقُلْ لَهُ شَيْئًا . ═════ متابعت ═════ أَخْبَرَنِي مَنْ ، سَمِعَ زَيْدَ بْنَ أَسْلَمَ ، يُحَدِّثُ عَنْ رَجُلٍ ، مِنْ بَنِي ضَمْرَةَ , عَنْ أَبِيهِ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سُئِلَ عَنِ الْفَرَعَةِ ، فَقَالَ : " إِنَّ الْفَرَعَةَ حَقٌّ وَأَنْ تَغْذُوَهُ حَتَّى يَكُونَ ابْنَ لَبُونٍ زُخْرُبًّا فَتُعْطِيَهُ أَرْمَلَةً أَوْ تَحْمِلَ عَلَيْهِ فِي سَبِيلِ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ خَيْرٌ مِنْ أَنْ يُكْفَأَ إِنَاؤُكَ وَتُولَهُ نَاقَتُكَ وَتَأْكُلَهُ ، يَتَلَصَّقُ لَحْمُهُ بِوَبَرِهِ " . قَالَ الشَّافِعِيُّ رَحِمَهُ اللَّهُ : وَقَوْلُهُ " الْفَرَعَةُ حَقٌّ " يَعْنِي أَنَّهَا لَيْسَتْ بِبَاطِلٍ وَلَكِنَّهُ كَلامٌ عَرَبِيٌّ يَخْرُجُ عَلَى جَوَّابِ السَّائِلِ وَقَدْ رُوِيَ عَنْهُ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " لا فَرَعَةَ وَلا عَتِيرَةَ " وَلَيْسَ هَذَا بِاخْتِلافٍ مِنَ الرِّوَايَةِ إِنَّمَا هَذَا لا فَرَعَةَ وَاجِبَةٌ وَلا عَتِيرَةَ وَاجِبَةٌ وَالْحَدِيثُ الآخَرُ يَدُلُّ عَلَى مَعْنَى ذَا أَنَّهُ أَبَاحَ لَهُ الذَّبْحَ وَاخْتَارَ لَهُ أَنْ يُعْطِيَهُ أَرْمَلَةً أَوْ يَحْمِلَ عَلَيْهِ فِي سَبِيلِ اللَّهِ . قَالَ لَنَا أَبُو جَعْفَرٍ : سَمِعْتُ الْمُزَنِيَّ يَقُولُ : قَالَ الشَّافِعِيُّ رَحِمَهُ اللَّهُ : وَالْعَتِيرَةُ هِيَ الرَّجِبِيَّةُ وَهِيَ ذَبِيحَةٌ كَانَ أَهْلُ الْجَاهِلِيَّةِ يَتَبَرَّرُونَ بِهَا فِي رَجَبَ وَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " لا عَتِيرَةَ " عَلَى مَعْنَى لا عَتِيرَةَ لازِمَةٌ وَقَوْلُهُ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حِينَ سُئِلَ عَنِ الْعَتِيرَةِ : " اذْبَحُوا لِلَّهِ عَزَّ وَجَلَّ فِي أَيِّ شَهْرٍ مَا كَانَ وَبَرُّوا اللَّهَ وَأَطْعِمُوا " أَيِ اذْبَحُوا إِنْ شِئْتُمْ وَاجْعَلُوا الذَّبِيحَةَ لِلَّهِ لا لِغَيْرِهِ وَفِي أَيِّ شَهْرٍ مَا كَانَ لا أَنَّهَا فِي رَجَبَ دُونَ مَا سِوَاهُ مِنَ الشُّهُورِ وَقَالَ لَنَا أَبُو جَعْفَرٍ : سَمِعْتُ الْمُزَنِيَّ يَقُولُ : قَالَ الشَّافِعِيُّ رَحِمَهُ اللَّهُ : وَالْعَقِيقَةُ مَا عَرَفَ النَّاسُ وَهُوَ ذَبْحٌ كَانَ يُذْبَحُ فِي الْجَاهِلِيَّةِ عَنِ الْمَوْلُودِ فَأَمَرَ بِهِ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي الإِسْلامِ وَقَدْ كَرِهَ مِنْهُ الاسْمَ فَقَالَ زَيْدُ بْنُ أَسْلَمَ فِي حَدِيثِهِ : فَسُئِلَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنِ الْعَقِيقَةِ فَقَالَ : " لا أُحِبُّ الْعُقُوقَ وَكَأَنَّهُ إِنَّمَا كَرِهَ الاسْمَ مَنْ وُلِدَ لَهُ وَلَدٌ فَأَحَبَّ أَنْ يَنْسُكَ عَنْهُ فَلْيَفْعَلْ " . ═════ متابعت ═════ عَنْ سُفْيَانَ ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي يَزِيدَ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ سِبَاعِ بْنِ ثَابِتٍ ، عَنْ أُمِّ كُرْزٍ ، قَالَتْ : أَتَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِالْحُدَيْبِيَةِ بِالتَّخْفِيفِ أَسْأَلُهُ عَنْ لُحُومِ الْهَدْيِ ، فَسَمِعْتُهُ يَقُولُ : " عَنِ الْغُلامِ شَاتَانِ وَعَنِ الْجَارِيَةِ شَاةٌ لا يَضُرُّكُمْ ذُكْرَانًا كُنَّ أَوْ إِنَاثًا " ، وَسَمِعْتُهُ يَقُولُ : " أَقِرُّوا الطَّيْرَ عَلَى مَكِنَاتِهَا " . قَالَ وَسَمِعْتُ الْمُزَنِيَّ يَقُولُ : قَالَ الشَّافِعِيُّ رَحِمَهُ اللَّهُ فِي قَوْلِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " أَقِرُّوا الطَّيْرَ عَلَى مَكِنَاتِهَا " : إِنَّ عِلْمَ الْعَرَبِ كَانَ فِي زَجْرِ الطَّيْرِ وَالْبُوارِحِ وَالْخَطِّ وَالاعْتِيَافِ ، كَانَ أَحَدُهُمْ إِذَا غَدَا مِنْ مَنْزِلِهِ يُرِيدُ أَمْرًا نَظَرَ أَوَّلَ طَائِرٍ يَرَاهُ فَإِنْ سَنَحَ عَنْ يَسَارِهِ وَاجْتَازَ عَنَ يَمِينِهِ قَالَ : هَذِهِ طَيْرُ الأَيَامِنِ فَمَضَى فِي حَاجَتِهِ وَرَأَى أَنَّهُ سَيَسْتَنْجِحُهَا وَإِنْ سَنَحَ عَنْ يَمِينِهِ فَمَرَّ عَنْ يَسَارِهِ قَالَ : هَذِهِ طَيْرُ الأَشَائِمِ فَرَجَعَ وَقَالَ : هَذِهِ حَاجَةٌ مَشْئُومَةٌ . وَقَالَ الْحُطَيْئَةُ يَمْدَحُ أَبَا مُوسَى الأَشْعَرِيَّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ : لا يَزْجُرُ الطَّيْرَ سُنُحًا إِنْ عَرَضْنَ لَهُ وَلا يُفِيضُ عَلَى قِسْمٍ بِأَزْلامِ يَعْنِي أَنَّهُ سَلَكَ طَرِيقَ الإِسْلامِ فِي التَّوَكُّلِ عَلَى اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ وَقَالَ بَعْضُ الشُّعَرَاءِ يَمْدَحُ نَفْسَهُ : وَلا أَنَا مِمَّنْ يَزْجُرُ الطَّيْرَ هَمَّهُ أَصَاحَ غُرَابٌ أَمْ تَعَرَّضَ ثَعْلَبُ وَكَانَ الْعَرَبِيُّ إِذَا لَمْ يَرَ طَائِرًا سَانِحًا فَرَأَى طَيْرًا فِي وَكْرِهِ حَرَّكَهُ مِنْ وَكْرِهِ لِيُطَيِّرَهُ لَيَنْظُرَهُ أَسَلَكَ طَرِيقَ الأَشَائِمِ أَوْ طَرِيقَ الأَيَامِنِ ؟ فَيُشْبِهُ قَوْلُ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " أَقِرُّوا الطَّيْرَ عَلَى مَكِنَاتِهَا " أَيْ لا تُحَرِّكُوهَا فَإِنَّ تَحْرِيكَهَا وَمَا تَعْلَمُونَ بِهِ مِنَ الطِّيَرَةِ لا يَصْنَعُ شَيْئًا وَإِنَّمَا يَصْنَعُ فِيمَا تَتَوَجَّهُونَ لَهُ قَضَاءُ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ وَقَدْ سُئِلَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنِ الطِّيَرَةِ فَقَالَ : " إِنَّمَا ذَلِكَ شَيْءٌ يَجِدُهُ أَحَدُكُمْ فِي نَفْسِهِ فَلا يَصُدَّنَّكُمْ " . أَخْبَرَنَا الطَّحَاوِيُّ قَالَ : حَدَّثَنَا يُونُسُ وَالرَّبِيعُ الْمُرَادِيُّ جَمِيعًا عَنِ الشَّافِعِيِّ رَحِمَهُ اللَّهُ بِمِثْلِ ذَلِكَ غَيْرَ أَنَّهُمَا لَمْ يَذْكُرَا فيهِ الشَّعْرَ الَّذِي ذَكَرَهُ الْمُزَنِيُّ . أَخْبَرَنَا الطَّحَاوِيُّ ، قَالَ : وَسَمِعْتُ أَحْمَدَ بْنَ أَبِي عِمْرَانَ ، يَقُولُ : سَمِعْتُ الْحَارِثَ بْنَ شُرَيْحٍ النَّقَّالَ ، يَقُولُ : كُنَّا عِنْدَ سُفْيَانَ بْنِ عُيَيْنَةَ وَمَعَنَا الشَّافِعِيُّ رَحِمَهُ اللَّهُ فَحَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، يَوْمَئِذٍ بِحَدِيثِ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي يَزِيدَ هَذَا ، فَالْتَفَتَ سُفْيَانُ إِلَى الشَّافِعِيِّ رَحِمَهُ اللَّهُ فَسَأَلَهُ عَنْ مَعْنَى قَوْلِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " أَقِرُّوا الطَّيْرَ عَلَى مَكِنَاتِهَا " فَأَجَابَهُ الشَّافِعِيُّ رَحِمَهُ اللَّهُ بِمِثْلِ هَذَا الْجَوَّابِ بِعَيْنِهِ الَّذِي ذَكَرْنَاهُ عَنِ الْمُزَنِيِّ عَنِ الشَّافِعِيِّ رَحِمَهُ اللَّهُ غَيْرَ أَنَّهُ لَمْ يَذْكُرْ فِيهِ الْبَيْتَيْنِ مِنَ الشَّعْرِ اللَّذَيْنِ ذَكَرَهُمَا الْمُزَنِيُّ فَسَكَتَ ابْنُ عُيَيْنَةَ وَلَمْ يَقُلْ لَهُ شَيْئًا .
نوید مجید طیب
رسول اللہ ﷺ سے الطيرة (پرندوں سے بدشگونی) کے بارے میں سوال ہوا تو آپ ﷺ نے فرمایا : ”یہ وسواس ہیں یہ تمہیں سفر سے مت روکیں۔“
وضاحت:
➊ عقیقہ بچے کی پیدائش کے ساتویں روز گوشت توڑنے کو کہتے ہیں، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے لفظی اعتبار سے لفظ عقیقہ ناپسند کیا لیکن منع نہیں فرمایا۔
➋ آپ صلی اللہ علیہ وسلم اچھے الفاظ جن کا معنی بھی خوبصورت ہوتا، جیسے سہل (آسان)، سالم (سلامتی والا)، اس طرح کے نام سے اچھا فال لیا کرتے تھے کیونکہ خوبصورت لوگ خوبصورت الفاظ سننا پسند کرتے ہیں، اس لیے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے متعدد صحابہ رضی اللہ عنہم کو نام تبدیل کرنے کا حکم بھی دیا تھا۔ عقوق نافرمانی اور رشتہ ناطہ توڑنے کے معنی میں بھی آتا ہے اس لیے ناپسند کیا لیکن یہ نام استعمال کرنا جائز ہے کیونکہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے خود بھی یہ نام استعمال کیا، اس سے منع نہیں فرمایا۔
➌ عقیقہ ساتویں دن ہی کرنا سنت ہے لیکن بطور قضاء بعد میں کرنا متعدد جید علماء نے درست کہا ہے کیونکہ یہ گناہ نہیں اس کے فوائد ہی سامنے آئیں گے۔
➍ عقیقہ کے لیے قربانی کی شرائط نہیں ہیں البتہ جانور معقول ہونا چاہیے، معیوب نہیں ہونا چاہیے کیونکہ یہ اولاد کے سر کا صدقہ ہے۔ زمانہ جاہلیت میں بھی عقیقہ موجود تھا لیکن طریقہ کار مختلف تھا، جانور ذبح کر کے خون بچے کے سر پر لگا دیتے تھے، اس جاہلانہ کام سے اسلام نے منع کیا۔
➎ ساتویں دن بچے کے بال کاٹ کر ان کے وزن کے برابر چاندی صدقہ کرنا چاہیے، بچے کے سر پر زعفران کی خوشبو لگانا صحابہ رضی اللہ عنہم سے ثابت ہے۔
➏ لڑکے کی جانب سے دو بکریاں، مذکر ہوں یا مؤنث کوئی حرج نہیں، جبکہ لڑکی کی طرف سے ایک بکری صدقہ کرنا ہے۔ اگر استطاعت نہیں تو لڑکے کی طرف سے بھی ایک ہی بکری ذبح کی جا سکتی ہے۔
➐ عقیقے میں اونٹ یا گائے دینا جائز نہیں، لہذا نہ قربانی میں عقیقہ کا حصہ پڑے گا نہ ہی گائے میں سات بچوں کا عقیقہ ہوگا۔
➑ ہر بچہ اپنے عقیقے کے عوض گروی پڑا ہوتا ہے، ساتویں دن جانور ذبح کیا جائے، اس کا سر منڈوایا جائے اور نام رکھا جائے۔ [سنن ترمذی: 1522]
گروی کا معاوضہ دے کر جان چھڑانی پڑتی ہے، اس سے ثابت ہوتا ہے کہ عقیقہ لازمی ہے۔
➒ اگر بچہ ساتویں روز سے قبل فوت ہو جائے تو عقیقہ نہیں، اگر اس کے بعد فوت ہوا تو عقیقہ دینا چاہیے، امام احمد رحمہ اللہ فرماتے تھے کہ جس بچے کا عقیقہ نہیں کیا گیا وہ سفارش نہیں کرے گا۔
➓ عقیقہ میں دونتا کی شرط نہیں لیکن جانور اچھا ہونا چاہیے جیسا کہ لفظ شاۃ کا تقاضا ہے۔
⓫ عقیقہ کے جانور عمر، وزن اور قد کاٹھ میں باہم مماثل ہونے چاہئیں۔ [سنن ابی داؤد: 2834]
⓬ بعض لوگ نیا گھر بناتے ہوئے بنیادوں میں جانور ذبح کر کے خون بہاتے ہیں، بعض نئی اشیاء کے ساتھ خون لگاتے ہیں، یہ سب تو ہم پرستی اور بدعقیدگی کا مظہر ہیں۔
⓭ بدشگونی تو ہم پرستی سب ابوجہل کی سنتیں، طور طریقے اور شیطانی وساوس ہیں اور اس کی کوئی حقیقت نہیں، اسلام کی منشاء یہ ہے کہ حقیقت کی زندگی جیو اور خود کو مضبوط بنا کر توکل علی اللہ مستحکم کرو۔
⓮ سوموار کو سفر نہ کرنا، صبح بلی نظر آ جائے تو سفر ترک کر دینا یا محرم وصفر کو منحوس سمجھتے ہوئے شادی بیاہ کا انعقاد نہ کرنا وغیرہ، اسلام میں ان تمام باتوں کا کوئی تصور نہیں۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ان باتوں کا رد کرنے آئے تھے، جو اب بھی ان باتوں پر توجہ کرتا ہے وہ دوبارہ جاہلیت میں زندگی بسر کرنا چاہتا ہے۔
⓯ طوطے والوں یا پیروں کے پاس جا کر غیب کی خبریں یا ہاتھ کی لکیروں پر یقین رکھنا بدعقیدگی ہے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جو کسی غیب کے دعویدار کے پاس جائے اور اس سے اپنی قسمت کے ستارے کی گردش کا سوال کرے، اللہ اس کی چالیس دن تک نماز ہی قبول نہیں فرماتے۔ [صحیح مسلم: 2230]
مزید آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جو کسی کاہن سے غیبی معاملات کے بارے میں پوچھنے گیا اور اس کے کہے کو سچ مانا تو اس نے محمد صلی اللہ علیہ وسلم پر نازل شدہ دین کے ساتھ کفر کیا۔ [سنن ترمذی: 135]
حوالہ حدیث السنن المأثورة / باب تفسير الفرعة والعتيرة / حدیث: 403
تخریج حدیث صحيح مسلم ، المساجد، باب تحريم الكلام في الصلاة، رقم : 537۔
حدیث نمبر: 404
أَنْبَأَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ سَعْدِ بْنِ إِبْرَاهِيمَ ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ ، عَنْ سَالِمِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، عَنْ أَبِيهِ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " لا تَصُومُوا حَتَّى تَرَوْهُ وَلا تُفْطِرُوا حَتَّى تَرَوْهُ فَإِنَّ غُمَّ عَلَيْكُمْ فَأَكْمِلُوا الْعِدَّةَ ثَلاثِينَ " . وَكَانَ عَبْدُ اللَّهِ يَصُومُ قَبْلَهُ بِيَوْمٍ فَقُلْتُ : تَتَقَدَّمُهُ ؟ قَالَ : نَعَمْ .
نوید مجید طیب
سیدنا عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : ”روزہ نہ رکھو حتی کہ رمضان کا چاند دیکھ لو اور افطار نہ کرو حتی کہ عید کا چاند دیکھ لو اگر آسمان ابر آلود ہو تو تمہیں روزے پورے کرو۔“ راوی کہتے ہیں سیدنا عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہ ایک دن پہلے روزہ رکھتے تھے راوی کہتے ہیں میں نے پوچھا استقبالیہ؟ استاذ نے جواب دیا ہاں۔
وضاحت:
مسئلہ کی توضیح کے لیے دیکھئے شرح حدیث نمبر 341۔
حوالہ حدیث السنن المأثورة / باب تفسير الفرعة والعتيرة / حدیث: 404
تخریج حدیث تقدم تخرجه برقم 335۔
حدیث نمبر: 405
عَنْ إِبْرَاهِيمَ بْنِ سَعْدِ بْنِ إِبْرَاهِيمَ ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ ، عَنِ ابْنِ مَرْجَانَةَ ، قَالَ : ذُكِرَ لابْنِ عَبَّاسٍ أَنَّ ابْنَ عُمَرَ تَلا هَذِهِ الآيَةَ وَإِنْ تُبْدُوا مَا فِي أَنْفُسِكُمْ أَوْ تُخْفُوهُ يُحَاسِبْكُمْ بِهِ اللَّهُ سورة البقرة آية 284 فَبَكَى ، ثُمّ قَالَ : وَاللَّهِ لَئِنْ آخَذَنَا اللَّهُ بِهَا لَنَهْلَكَنَّ ، فَقَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ : يَرْحَمُ اللَّهُ أَبَا عَبْدِ الرَّحْمَنِ قَدْ وَجَدَ الْمُسْلِمُونَ مِنْهَا حِينَ نَزَلَتْ مَا وَجَدَ فَذَكَرُوا ذَلِكَ لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَنَزَلَتْ لا يُكَلِّفُ اللَّهُ نَفْسًا إِلا وُسْعَهَا لَهَا مَا كَسَبَتْ وَعَلَيْهَا مَا اكْتَسَبَتْ سورة البقرة آية 286 مِنَ الْقَوْلِ وَالْعَمَلِ وَكَانَ حَدِيثُ النَّفْسِ مِمَّا لا يَمْلِكُهُ أَحَدٌ وَلا يَقْدِرُ عَلَيْهِ أَحَدٌ " . ═════ متابعت ═════ أَخْبَرَنِي أَخْبَرَنِي أَبُو بَكْرٍ الْحُمَيْدِيُّ ، عَنْ سُفْيَانَ ، عَنْ خَلَفِ بْنِ حَوْشَبٍ ، قَالَ : قَالَ عِيسَى عَلَيْهِ السَّلامُ لِلَّحَوَارِيِّينَ : " كَمَا تَرَكَ لَكُمُ الْمُلُوكُ الْحِكْمَةَ فَاتْرُكُوهُمْ وَالدُّنْيَا " ، وَكَانَ خَلَفٌ يَقُولُ : يَنْبَغِي لِلنَّاسِ أَنْ يَتَعَلَّمُوا هَذِهِ الأَبْيَاتِ فِي الْفِتْنَةِ : الْحَرْبُ أَوَّلَ مَا تَكُونُ فَتِيَّةٌ تَسْعَى بِزِينَتِهَا لِكُلِّ جَهُولِ حَتَّى إِذَا اشْتَعَلَتْ وَشَبَّ ضِرَامُهَا وَلَّتْ عَجُوزًا غَيْرَ ذَاتِ حَلِيلِ شَمْطَاءَ جَزَّتْ رَأْسَهَا وَتَنَكَّرَتْ مَكْرُوهَةً لِلشَّمِّ وَالتَّقْبِيلِ .
نوید مجید طیب
ابن مرجانہ کہتے ہیں سیدنا عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کو بتایا گیا کہ عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے یہ آیت پڑھی کہ : ”اگر تم دل میں کچھ ظاہر کرو یا چھپاؤ اللہ تم سے اس پر حساب لے گا۔“ تو عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہما رو پڑے کہنے لگے اگر اللہ تعالیٰ نے اس پر ہمارا محاسبہ کیا تو ہم ہلاک ہو جائیں گے تو ابن عباس رضی اللہ عنہما نے فرمایا : اللہ رحم کرے ابن عمر رضی اللہ عنہما پر، جب یہ آیت نازل ہوئی مسلمانوں پر شاق گزری تو انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے ذکر کیا: تو یہ آیت نازل ہوئی : ”اللہ تعالی کسی نفس کو اس کی طاقت سے زیادہ تکلیف نہیں دیتا جو نیکی کرے وہ اس کے لیے ہے اور جو برائی کرے اس کا وبال بھی اسی پر ہے۔“ قول ہو یا عمل اور دل کے وساوس پر کسی کا کنٹرول نہیں نہ کسی کی قدرت ہے۔
وضاحت:
➊ ابن عباس رضی اللہ عنہما سے منقول ہے کہ پہلی آیت کو بعد والی آیت نے منسوخ کر دیا، ملاحظہ ہو تفسیر ابن کثیر۔
➋ سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: میرے لیے میری امت کے لوگوں کے وہ خیالات اور وساوس معاف کر دیے گئے ہیں جو ان کے دلوں میں آئیں جب تک کہ وہ ان کو زبان پر نہ لائیں یا ان کے مطابق عمل نہ کریں۔ [صحیح مسلم: 5229]
حوالہ حدیث السنن المأثورة / باب تفسير الفرعة والعتيرة / حدیث: 405
تخریج حدیث تفسیر طبری: 107,106/6، وقال ابن حجر، اخرج الطبرى باسناد صحيح ، فتح البارى: 206/8 ۔
حدیث نمبر: 406
عَنْ عَنْ سُفْيَانَ ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيِّبِ ، أَنَّ عَلِيَّ بْنَ أَبِي طَالِبٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ، قَالَ : " إِذَا طَلَّقَ الرَّجُلُ امْرَأَتَهُ فَهُوَ أَحَقُّ بِرَجْعَتِهَا حَتَّى تَغْتَسِلَ مِنَ الْحَيْضَةِ الثَّالِثَةِ فِي الْوَاحِدَةِ وَالاثْنَتَيْنِ " . وَأَخْبَرَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ قَالَ : أَخْبَرَنِي مَنْصُورٌ , عَنْ إِبْرَاهِيمَ عَنْ عَلْقَمَةَ ، عَنْ عُمَرَ وَعَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ ، مِثْلَهُ . سَمِعْتُ سُفْيَانَ بْنَ عُيَيْنَةَ ، يُحَدِّثُ عَنْ أَيُّوبَ بْنِ أَبِي تَمِيمَةَ السَّخْتِيَانِيِّ ، عَنِ الْحَسَنِ بْنِ أَبِي الْحَسَنِ ، عَنْ أَبِي مُوسَى الأَشْعَرِيِّ ، مِثْلَ مَعْنَى حَدِيثِ عَلِيٍّ وَعُمَرَ وَعَبْدِ اللَّهِ .
نوید مجید طیب
سفیان رحمہ اللہ کہتے ہیں میں نے عبدالرحمن بن قاسم سے عرض کیا، کیا میں آپ کو ام المومنین سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے حدیث بیان کروں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم روزے کی حالت میں ان کا بوسہ لیتے تھے انہوں نے تھوڑی دیر کے لیے شرماتے ہوئے سر جھکا لیا، اور تھوڑی دیر خاموش رہے پھر فرمایا: ”ہاں ایسا ہی ہے۔“
وضاحت:
حدیث سے متعلقہ مسائل کے لیے دیکھئے شرح حدیث نمبر 297، 298۔
حوالہ حدیث السنن المأثورة / باب تفسير الفرعة والعتيرة / حدیث: 406
تخریج حدیث تقدم تخرجه ، برقم: 298
حدیث نمبر: 407
عَنْ سُفْيَانَ بْنِ عُيَيْنَةَ ، عَنْ حُمَيْدِ بْنِ قَيْسٍ ، عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ عَتِيقٍ ، عَنْ جَابِرٍ ، " أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَهَى عَنْ بَيْعِ السِّنِينَ وَأَمَرَ بِوَضْعِ الْجَوَائِحِ " .
نوید مجید طیب
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کئی سالوں کے لیے بیع کرنے سے منع فرمایا اور حکم دیا کہ آفات سے نقصان پہنچ جانے کی صورت میں قیمت ساقط کر دی جائے۔
وضاحت:
➊ بیع السنین کا مطلب متعدد سالوں کے لیے درختوں کے پھل فروخت کر دینا ہے، یہ درست نہیں کیونکہ کیا پتا آئندہ سال پھل آئے نہ آئے، یہ بیع معدوم ہے اور اس میں دھوکا بھی ہے اس لیے اس سے منع فرمایا ہے۔
➋ آفت سے ایک خریدار کا مال ضائع ہو گیا تھا اور وہ کنگال ہو گیا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس پر صدقہ کا حکم دیا، پھر بھی قرض پورا نہ ہوا تو مالکان کو بقیہ قیمت ساقط کرنے کا حکم دیا، یہی انسانی ہمدردی ہے۔
➌ مزید مسائل کی توضیح کے لیے دیکھئے شرح حدیث نمبر 194، 195۔
حوالہ حدیث السنن المأثورة / باب تفسير الفرعة والعتيرة / حدیث: 407
تخریج حدیث تقدم تخرجه برقم: 197 ۔
حدیث نمبر: 408
قَالَ سُفْيَانُ : أَخْبَرَنَا أَبُو الزُّبَيْرِ , عَنْ جَابِرٍ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِثْلَهُ . قَالَ أَبُو جَعْفَرٍ : سَمِعْتُ الْمُزَنِيَّ يَقُولُ : قَالَ الشَّافِعِيُّ رَحِمَهُ اللَّهُ : قَدْ كَانَ سُفْيَانُ يُحَدِّثُ هَذَا الْحَدِيثَ وَلا يَذْكُرُ فِيهِ : " وَضْعِ الْجَوَائِحِ " وَقَالَ : إِنِّي لَمْ أتْرُكْ " وَضَعِ الْجَوَائِحِ " لأَنَّهُ لَيْسَ فِي الْحَدِيثِ وَلَكِنْ كَانَ كَلامٌ قَبْلَ " وَضَعِ الْجَوَائِحِ " لَمْ أَحْفَظْهُ .
نوید مجید طیب
سفیان رحمہ اللہ نے کہا ہمیں خبر دی ابو زبیر رحمہ اللہ نے سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے انہوں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے گزشتہ حدیث کی مانند روایت بیان کی ہے۔ امام مزنی رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ امام شافعی رحمہ اللہ فرماتے تھے کہ سفیان رحمہ اللہ یہ حدیث بیان کرتے تو وضع الجوائح کا ذکر نہ کرتے اور کہتے کہ یہ لفظ میں نے اس لیے نہیں چھوڑے کہ یہ اس حدیث میں نہیں تھے بلکہ «وضع الجوائح» سے قبل بھی کچھ الفاظ تھے جو مجھے یاد نہیں آرہے۔ (اس لیے اگلے بیان نہیں کرتا کیونکہ معنی کچھ باقی رہ جاتا ہے)
وضاحت:
➊ سلف احادیث کے بیان کرنے میں انتہائی محتاط تھے یہ احتیاط حدیث رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی وجہ سے تھی جیسا کہ سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں مجھے بکثرت احادیث رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم بیان کرنے سے روکتا ہے۔ [صحيح بخاري، رقم الحديث: 108، صحيح مسلم، رقم الحديث: 2]
➋ محدثین کرام نے دین کی حفاظت کا فریضہ بخوبی انجام دیا کہ ایک ایک کلمہ کو انتہائی احتیاط سے ذکر کیا ہے۔
خدا رحمت کنند این عاشقان پاک طینت را
حوالہ حدیث السنن المأثورة / باب تفسير الفرعة والعتيرة / حدیث: 408
تخریج حدیث تقدم تخرجه ، برقم: 198 ۔
حدیث نمبر: 409
عَنْ عَنْ سُفْيَانَ بْنِ عُيَيْنَةَ ، قَالَ : سَمِعْتُ الزُّهْرِيَّ ، يَقُولُ : زَعَمَ أَهْلُ الْعِرَاقِ أَنَّ شَهَادَةَ الْقَاذِفِ لا تَجُوزُ ، وَأَشْهَدُ لأَخْبَرَنِي سَعِيدُ بْنُ الْمُسَيِّبِ أَنَّ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ قَالَ لأَبِي بَكْرَةَ : " تُبْ تُقْبَلْ شَهَادَتُكَ ، أَوْ إِنْ تُبْتَ قُبِلَتْ شَهَادَتُكَ " . يُحَدِّثُ 25 بِهِ هَكَذَا مِرَارًا ، ثُمَّ سَمِعْتُهُ يَقُولُ : شَكَكْتُ فِيهِ ، قَالَ الزُّهْرِيُّ أَخْبَرَنِي ، فَلَمَّا قُمْتُ سَأَلْتُ ، فَقَالَ لِي عُمَرُ وَحَضَرَ الْمَجْلِسَ مَعِي هُوَ سَعِيدُ بْنُ الْمُسَيِّبِ ، قُلْتُ لِسُفْيَانَ : أَشَكَكْتَ فِيهِ حِينَ أَخْبَرَكَ أَنَّهُ سَعِيدٌ ؟ فَقَالَ : لا هُوَ كَمَا قَالَ ، غَيْرَ أَنَّهُ قَدْ كَانَ دَخَلَنِي الشَّكُّ . قَالَ لَنَا أَبُو جَعْفَرٍ : عُمَرُ هَذَا هُوَ عُمَرُ بْنُ قَيْسٍ أَخُو حُمَيْدِ بْنُ قَيْسٍ الَّذِي قَالَ عَنْهُ مَالِكٌ ، وَهُوَ ضَعِيفُ الْحَدِيثِ وَهُمْ يَتَكَلَّمُونَ فِي حَدِيثِهِ رَوَى عَنْهُ مَالِكُ بْنُ أَنَسٍ وَابْنُ عُيَيْنَةَ وَعَبْدُ الْوَارِثِ بْنُ سَعِيدٍ التَّنُّورِيُّ يُعْرَفُ عُمَرُ هَذَا بِسَنْدَلٍ .
نوید مجید طیب
سفیان بن عیینہ رحمہ اللہ سے روایت ہے کہ میں نے زہری رحمہ اللہ سے سنا کہہ رہے تھے کہ اہل عراق کا خیال ہے قاذف کی شہادت جائز نہیں ہے اور میں گواہی دیتا ہوں کہ مجھے سعید بن مسیب رحمہ اللہ نے خبر دی کہ سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے ابو بکرہ رضی اللہ عنہ کو کہا تھا ”توبہ کر لو تو تمہاری شہادت قبول کر لی جائے گی“ یا کہا تھا کہ ”اگر تو نے توبہ کر لی تو میں تمہاری شہادت قبول کروں گا۔“ امام شافعی رحمہ اللہ کہتے ہیں سفیان بن عیینہ رحمہ اللہ متعدد بار ایسے ہی بیان کرتے تھے پھر ایک دفعہ کہنے لگے کہ مجھے اس میں شک ہو گیا ہے امام شافعی رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ سفیان رحمہ اللہ نے کہا میں گواہی دیتا ہوں کہ مجھے فلاں نے خبر دی (پھر نام بھی لیا لیکن میں اس راوی کا نام یاد نہ کر سکا) تو میں نے اس کے متعلق سوال کیا تو مجھے میرے کلاس فیلو عمرو بن قیس رحمہ اللہ نے کہا وہ سعید بن مسیب رحمہ اللہ ہیں تو سفیان رحمہ اللہ (پھر) سعید بن مسیب رحمہ اللہ کے نام میں شک نہیں کرتے تھے۔
وضاحت:
خلاصہ یہ ہے کہ سفیان رحمہ اللہ کو ایک راوی کے بارے میں شک ہو گیا جس کی تصحیح عمرو بن قیس رحمہ اللہ نے کی جو کہ ضعیف راوی ہے۔
حوالہ حدیث السنن المأثورة / باب تفسير الفرعة والعتيرة / حدیث: 409
تخریج حدیث المعجم الكبير للطبراني: 373,372/7 ، التلخيص الجير: 208/4، معاني الآثار للطحاوي: 153/4
حدیث نمبر: 410
وَأَخْبَرَنِي وَأَخْبَرَنِي مَنْ أَثِقُ بِهِ مِنْ أَهْلِ الْمَدِينَةِ عَنِ ابْنِ شِهَابٍ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيِّبِ ، أَنَّ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ، " لَمَّا جَلْدَ الثَّلاثَةَ اسْتَتَابَهُمْ فَرَجَعَ اثْنَانِ فَقَبِلَ شَهَادَتَهُمَا وَأَبَى أَبُو بَكْرَةَ أَنْ يَرْجِعَ فَرَدَّ شَهَادَتَهُ " .
نوید مجید طیب
امام شافعی رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ اہل مدینہ کے ثقہ نے زہری رحمہ اللہ کے بارے میں بتایا کہ وہ سعید بن مسیب رحمہ اللہ سے بیان کرتے ہیں سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے جب تین آدمیوں کو کوڑے مارے تو اُن سے توبہ طلب کی تو دو نے توبہ کر لی تو اُن کی شہادت قبول ہونے لگی، ابو بکرہ رضی اللہ عنہ نے توبہ کرنے سے انکار کر دیا تو ابو بکرہ رضی اللہ عنہ کی شہادت کو (آئندہ کے لیے) رد کر دیا۔
حوالہ حدیث السنن المأثورة / باب تفسير الفرعة والعتيرة / حدیث: 410
تخریج حدیث السنن الكبرى للبيهقي: 152/10 ، مصنف عبدالرزاق، رقم الحديث: 13564 ۔
حدیث نمبر: 411
وَأَخْبَرَنِي وَأَخْبَرَنِي إِسْمَاعِيلُ بْنُ عُلَيَّةَ ، عَنِ ابْنِ أَبِي نَجِيحٍ ، فِي الْقَاذِفِ إِذَا تَابَ قَالَ : تُقْبَلُ شَهَادَتُهُ وَقَالَ : كُلُّنَا نَقُولُهُ : عَطَاءٌ وَطَاوُسٌ وَمُجَاهِدٌ . أَخْبَرَنَا الطَّحَاوِيُّ قَالَ : سَمِعْتُ الْمُزَنِيَّ يَقُولُ : قَالَ الشَّافِعِيُّ رَحِمَهُ اللَّهُ : " لَيْسَ لِلْقَاضِي أَنْ يُجْبِرَ الرَّجُلَ عَلَى أَخْذِ الْوَدِيعَةِ " .
نوید مجید طیب
ابن ابی نجیح رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ قاذف (تہمت لگانے والا) اگر توبہ کر لیتا ہے تو اس کی (بعد کے مقدمات میں) گواہی قابل قبول ہو گی یہی بات عطاء، طاؤس، مجاہد رحمہم اللہ بھی کہتے ہیں۔ امام شافعی رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ قاضی وقت کسی کو کوئی چیز بطور امانت پاس رکھنے پر مجبور نہیں کر سکتا۔
وضاحت:
➊ ارشاد باری تعالیٰ ہے: ﴿وَالَّذِينَ يَرْمُونَ الْمُحْصَنَاتِ ثُمَّ لَمْ يَأْتُوا بِأَرْبَعَةِ شُهَدَاءَ فَاجْلِدُوهُمْ ثَمَانِينَ جَلْدَةً وَلَا تَقْبَلُوا لَهُمْ شَهَادَةً أَبَدًا ۚ وَأُولَٰئِكَ هُمُ الْفَاسِقُونَ ‎﴿4﴾‏ إِلَّا الَّذِينَ تَابُوا مِن بَعْدِ ذَٰلِكَ وَأَصْلَحُوا فَإِنَّ اللَّهَ غَفُورٌ رَّحِيمٌ﴾ [النور: 4، 5]
اور جو لوگ پاک دامن عورتوں پر تہمت لگاتے ہیں، پھر وہ چار گواہ نہیں لاتے، تو تم انہیں اسی کوڑے مارو، اور تم ان کی شہادت کبھی قبول نہ کرو، اور یہی لوگ نافرمان ہیں۔ مگر اس کے بعد جن لوگوں نے توبہ کی اور اصلاح کر لی، تو بلاشبہ اللہ غفور رحیم ہے۔
➋ قاذف سے توبہ پر حد معاف نہ ہوگی البتہ توبہ و اصلاح کے بعد اس سے فسق کا حکم اٹھ جائے گا۔
➌ قاذف کے مردود الشہادۃ ہونے کا سبب اس کا فسق ہے جب توبہ و اصلاح کے بعد فسق ختم ہو گیا تو وہ اس قابل ہے کہ اس کی شہادت قبول کی جائے۔
➍ جن لوگوں کا یہ نظریہ ہے کہ قاذف کی توبہ و اصلاح کے بعد بھی شہادت مقبول نہیں ان کا قول مرجوع ہے۔
➎ قاذف اپنا دعویٰ ثابت نہ کر سکے تو اس پر بہتان کی حد اسی کوڑے لگے گی۔
حوالہ حدیث السنن المأثورة / باب تفسير الفرعة والعتيرة / حدیث: 411
تخریج حدیث السنن الكبرى للبيهقى: 153/10 ، مصنف عبدالرزاق: 383/7 ۔
حدیث نمبر: 412
عَنْ عَنْ سُفْيَانَ ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيِّبِ ، أَنَّ عَلِيَّ بْنَ أَبِي طَالِبٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ، قَالَ : " إِذَا طَلَّقَ الرَّجُلُ امْرَأَتَهُ فَهُوَ أَحَقُّ بِرَجْعَتِهَا حَتَّى تَغْتَسِلَ مِنَ الْحَيْضَةِ الثَّالِثَةِ فِي الْوَاحِدَةِ وَالاثْنَتَيْنِ " .
نوید مجید طیب
سیدنا علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ اگر آدمی بیوی کو طلاق دے دے تو وہ رجوع کا زیادہ حقدار ہے یہاں تک کہ عورت تیسرے حیض سے غسل کرے یہ حکم پہلی اور دوسری طلاق کے بعد ہے۔
حوالہ حدیث السنن المأثورة / باب تفسير الفرعة والعتيرة / حدیث: 412
تخریج حدیث السنن الكبرى للبيهقي: 471/7 و مصنف عبدالرزاق: 315/6، سنن سعید بن منصور: 290/1 ۔
حدیث نمبر: 413
وَأَخْبَرَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ قَالَ : أَخْبَرَنِي مَنْصُورٌ , عَنْ إِبْرَاهِيمَ عَنْ عَلْقَمَةَ ، عَنْ عُمَرَ وَعَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ ، مِثْلَهُ .
نوید مجید طیب
علقمہ رحمہ اللہ نے عمر اور عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہما سے بھی یہی موقف نقل کیا ہے۔
حوالہ حدیث السنن المأثورة / باب تفسير الفرعة والعتيرة / حدیث: 413
تخریج حدیث سنن سعيد بن منصور: 290/1، السنن الكبرى للبيهقي: 417/7، مصنف عبد الرزاق: 316/6 ۔
حدیث نمبر: 414
سَمِعْتُ سُفْيَانَ بْنَ عُيَيْنَةَ ، يُحَدِّثُ عَنْ أَيُّوبَ بْنِ أَبِي تَمِيمَةَ السَّخْتِيَانِيِّ ، عَنِ الْحَسَنِ بْنِ أَبِي الْحَسَنِ ، عَنْ أَبِي مُوسَى الأَشْعَرِيِّ ، مِثْلَ مَعْنَى حَدِيثِ عَلِيٍّ وَعُمَرَ وَعَبْدِ اللَّهِ .
نوید مجید طیب
حسن بن ابوحسن رحمہ اللہ نے سیدنا ابو موسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ سے یہی موقف نقل کیا ہے۔
وضاحت:
➊ ارشاد باری تعالیٰ ہے: ﴿الطَّلَاقُ مَرَّتَانِ ۖ فَإِمْسَاكٌ بِمَعْرُوفٍ أَوْ تَسْرِيحٌ بِإِحْسَانٍ ۗ وَلَا يَحِلُّ لَكُمْ أَن تَأْخُذُوا مِمَّا آتَيْتُمُوهُنَّ شَيْئًا إِلَّا أَن يَخَافَا أَلَّا يُقِيمَا حُدُودَ اللَّهِ ۖ فَإِنْ خِفْتُمْ أَلَّا يُقِيمَا حُدُودَ اللَّهِ فَلَا جُنَاحَ عَلَيْهِمَا فِيمَا افْتَدَتْ بِهِ ۗ تِلْكَ حُدُودُ اللَّهِ فَلَا تَعْتَدُوهَا ۚ وَمَن يَتَعَدَّ حُدُودَ اللَّهِ فَأُولَٰئِكَ هُمُ الظَّالِمُونَ﴾ [البقرہ: 229]
طلاق (رجعی) دو مرتبہ ہے، پھر یا تو (عورت کو) دستور کے مطابق روک لیا جائے یا بھلائی کے ساتھ چھوڑ دیا جائے اور تمہارے لیے یہ جائز نہیں کہ تم انہیں جو دے چکے ہو اس میں سے کچھ واپس لو الا یہ کہ دونوں کو ڈر ہو کہ وہ اللہ کی حدیں قائم نہ رکھ سکیں گے۔ پس اگر تمہیں ڈر ہو کہ وہ دونوں اللہ کی حدیں قائم نہ رکھ سکیں گے تو ان دونوں پر کوئی گناہ نہیں کہ عورت فدیے میں وہ مال دے کر خلع حاصل کرے۔ یہ اللہ کی حدیں ہیں، سو تم ان سے آگے نہ بڑھو، اور جو لوگ اللہ کی حدوں سے تجاوز کرتے ہیں، وہی ظالم ہیں۔
➋ نکاح کے بعد مرد کو دو مرتبہ وقفہ وقفہ سے طلاق دینے اور پھر رجوع کرنے کا حق حاصل ہے، تیسری طلاق کے بعد خاوند کے پاس حق رجعت نہیں رہتا، عدت کے بعد طلاق مغلظہ بائنہ واقع ہو جاتی ہے۔
➌ مطلقہ کی عدت تین حیض ہے اس دوران رجعی طلاق کی صورت میں خاوند دورانِ عدت بلا نکاح اور انقضاء عدت کے بعد تجدید نکاح سے صلح و رجوع کر سکتا ہے۔
حوالہ حدیث السنن المأثورة / باب تفسير الفرعة والعتيرة / حدیث: 414
تخریج حدیث سنن سعيد بن منصور: 290/1 ، مصنف عبدالرزاق: 317/6 ، السنن الكبرى للبيهقى: 417/7 ۔
حدیث نمبر: 415
أَنْبَأَنَا سَعِيدُ بْنُ سَالِمٍ الْقَدَّاحُ ، عَنْ شَبِيبِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ الْبَجَلِيِّ الْبَصْرِيِّ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ، " أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَهَى عَنْ ثَمَنِ عَسْبِ الْفَحْلِ " . عَنِ الْقَدَّاحِ ،
نوید مجید طیب
سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے جانور کو جفتی کرانے کی قیمت وصول کرنے سے منع فرمایا۔
حوالہ حدیث السنن المأثورة / باب تفسير الفرعة والعتيرة / حدیث: 415
تخریج حدیث سنن ترمذی، البيوع، باب ماجاء في كراهية عسب الفحل ، رقم : 1274 وقال حسن، وقال الالبانی: صحیح، سنن نسائی، البيوع، باب بيع ضراب الجمل، رقم : 4672، السنن الكبرى للبيهقي : 339/5 ۔
حدیث نمبر: 416
عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ ، عَنْ جَابِرٍ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِمِثْلِ مَعْنَاهُ .
نوید مجید طیب
ابو زبیر رحمہ اللہ نے سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے مرفوع حدیث ایسے ہی بیان کی ہے۔
وضاحت:
➊ جفتی کے عوض قیمت وصول کرنا منع ہے ہاں اگر اکراماً استفادہ کرنے والا کچھ دے دے تو جواز موجود ہے۔ قبیلہ کلاب کے ایک آدمی نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے نر کو مادہ پر چھوڑنے کی اجرت لینے کے بارے میں دریافت کیا، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے منع فرمایا: اس آدمی نے پھر عرض کیا: اللہ کے رسول! ہم مادہ پر نر چھوڑتے ہیں تو ہمیں لوگ بلا مطالبہ کچھ دے دیتے ہیں۔ اس کا حکم کیا ہے؟ تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایسا عطیہ لینے کی اجازت دے دی۔ [سنن ترمذی: 1274]
➋ ممانعت کی ایک حکمت یہ بیان کی گئی ہے کہ جو چیز فروخت کی جا رہی ہے اس کی مقدار معلوم نہیں اس لیے اس کی فروخت درست نہیں۔
➌ افزائش نسل کے لیے ٹیکے کا مصنوعی عمل جائز ہے یا نہیں، اس کے جواز پر تابیر النخل (نر کھجور کا بورا مادہ کھجور پر ڈالنے) سے استدلال کیا جا سکتا ہے لیکن انسانوں میں ایسا کرنا جائز نہیں۔
➍ بے اولاد خواتین جن کو حمل نہیں ٹھہرتا، جدید طبی طریقوں سے جرثومے آلات کے ذریعے ان کی بچہ دانی میں چھوڑے جاتے ہیں بشرطیکہ وہ جرثومے اس کے خاوند سے لیے گئے ہوں۔ اس مسئلہ کے فقہ المعاصر میں جواز کے فتاویٰ موجود ہیں، اگر جرثومے غیر خاوند کے ہیں تو حرام و ناجائز مانند زنا ہے جو کسی مسلمان کے لیے جائز نہیں۔
حوالہ حدیث السنن المأثورة / باب تفسير الفرعة والعتيرة / حدیث: 416
تخریج حدیث صحیح مسلم ، المساقاة، باب تحريم فضل بيع الماء الذي يكون بالفلاة ممن يحتاج اليد ...... رقم : 1565 ۔