حدیث نمبر: 386
وَسَمِعْتُ الثَّقَفِيَّ ، يُحَدِّثُ عَنِ الْحَذَّاءِ ، عَنْ أَبِي الْمَلِيحِ ، عَنْ نُبَيْشَةَ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " إِنَّا كُنَّا نَنْهَاكُمْ عَنْ لُحُومِهَا فَوْقَ ثَلاثَةِ أَيَّامٍ حَتَّى يَسَعَكُمْ فَكُلُوا وَادَّخِرُوا أَلا إِنَّ هَذِهِ الأَيَّامَ أَيَّامُ أَكْلٍ وَشُرْبٍ " .
نوید مجید طیب
سیدنا نبیشہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ہم نے تمہیں قربانی کے گوشت سے تین دن سے زیادہ استفادہ کرنے سے روکا تھا حتی کہ تمہیں مالی وسعت حاصل ہو گئی۔ اب کھاؤ ذخیرہ کرو خبردار یہ ایام کھانے پینے کے ہیں۔“
وضاحت:
➊ ابتدائی اسلام میں قربانی کرنے والے کم اور فقیر زیادہ تھے اس لیے وقتی طور پر تین دن سے زیادہ ذخیرہ سے منع کیا گیا تاکہ لوگ صدقہ کریں۔
➋ اس سے ثابت ہوتا ہے کہ حاکم وقت خطرات کے پیش نظر وقتی ایسی پابندی لگا سکتا ہے جس سے اسلام کی اصل روح پر اثر نہ پڑے۔
➌ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہجرت کے بعد مدینہ میں دس سال قیام فرمایا، اس دوران آپ بلا ناغہ ہر سال قربانی دیتے رہے، جبکہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم زندگی میں ایک مرتبہ بھی صاحب نصاب نہیں ہوئے کہ آپ نے زکاۃ دی ہو۔ لہذا قربانی کے لیے آدمی کے صاحب نصاب ہونے کی شرط عائد کرنا باطل ہے۔
➋ اس سے ثابت ہوتا ہے کہ حاکم وقت خطرات کے پیش نظر وقتی ایسی پابندی لگا سکتا ہے جس سے اسلام کی اصل روح پر اثر نہ پڑے۔
➌ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہجرت کے بعد مدینہ میں دس سال قیام فرمایا، اس دوران آپ بلا ناغہ ہر سال قربانی دیتے رہے، جبکہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم زندگی میں ایک مرتبہ بھی صاحب نصاب نہیں ہوئے کہ آپ نے زکاۃ دی ہو۔ لہذا قربانی کے لیے آدمی کے صاحب نصاب ہونے کی شرط عائد کرنا باطل ہے۔
حدیث نمبر: 387
وَسَمِعْتُ عَبْدَ الْوَهَّابِ بْنَ عَبْدِ الْمَجِيدِ الثَّقَفِيَّ ، يَقُولُ : سَمِعْتُ يَحْيَى بْنَ سَعِيدٍ ، يَقُولُ : سَمِعْتُ عُمَرَ بْنَ الْحَكَمِ ، يَقُولُ : سَمِعْتُ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عَمْرِو بْنِ الْعَاصِ يُحَدِّثُ فِي مَسْجِدِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، يَقُولُ : قَالَ : " لَتَرْكَبُنَّ سُنَّةَ مَنْ كَانَ قَبْلَكُمْ حُلْوَهَا وَمُرَّهَا " .
نوید مجید طیب
عمر بن حکم رحمہ اللہ فرماتے ہیں میں نے سیدنا عبد اللہ بن عمرو رضی اللہ عنہ کو مسجد نبوی میں بیان کرتے سنا کہ ”تم پہلی قوموں کے نقشہ قدم پر ضرور چلو گے اچھا ہو یا برا۔“
وضاحت:
➊ سیدنا ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تم اپنے سے پہلی امتوں کی ایک ایک بالشت اور ایک ایک ذراع میں پیروی کرو گے حتی کہ اگر وہ کسی گوہ کے سوراخ میں داخل ہوئے ہوں گے تو تم اس میں بھی ان کی اتباع کرو گے۔ ہم نے عرض کیا: اے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم! کیا آپ کی مراد یہود و نصاریٰ ہیں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: پھر اور کون؟ (یعنی یہود و نصاریٰ ہی ہیں۔) [صحیح بخاری: 7320]
➋ آج امت مسلمہ کی نسل نو ہر اس کام کو ترجیح دیتی ہے جو کسی یہودی یا نامور عیسائی نے کیا ہو۔
➌ آج ہمیں بازاروں میں بے شمار نوجوان نظر آ رہے ہیں جنہوں نے خاص کبوتری سٹائل میں داڑھیاں بڑھائی ہوئی ہیں کیونکہ یہ یہود و نصاریٰ کا سٹائل ہے۔
وضع میں تم ہو نصاری تو تمدن میں ہنود
یہ مسلماں ہے جنہیں دیکھ کے شرمائیں یہود
➋ آج امت مسلمہ کی نسل نو ہر اس کام کو ترجیح دیتی ہے جو کسی یہودی یا نامور عیسائی نے کیا ہو۔
➌ آج ہمیں بازاروں میں بے شمار نوجوان نظر آ رہے ہیں جنہوں نے خاص کبوتری سٹائل میں داڑھیاں بڑھائی ہوئی ہیں کیونکہ یہ یہود و نصاریٰ کا سٹائل ہے۔
وضع میں تم ہو نصاری تو تمدن میں ہنود
یہ مسلماں ہے جنہیں دیکھ کے شرمائیں یہود
حدیث نمبر: 388
وَسَمِعْتُ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ مُؤَمَّلٍ الْمَخْزُومِيَّ ، يُحَدِّثُ عَنْ عُمَرَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ مُحَيْصِنٍ ، عَنْ عُمَرَ بْنِ عَبْدِ الْعَزِيزِ ، أَنَّهُ قَالَ : " لَمْ يَزَلْ أَمْرُ بَنِي إِسْرَائِيلَ مُسْتَقِيمًا حَتَّى حَدَّثَ فِيهِمُ الْمُوَلَّدُونَ أَبْنَاءُ سَبَايَا الأُمَمِ فَقَالُوا فِيهِمْ بِالرَّأْيِ فَضَلُّوا وَأَضَلُّوا .
نوید مجید طیب
عمر بن عبد العزیز رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ بنی اسرائیل کا معاملہ درست رہا حتی کہ اُن میں دوسری قوموں کی لونڈیوں کی اولاد پیدا ہوگئی حتیٰ کہ (جب دین کی بھاگ ڈور اس نسل کے ہاتھ آئی) انہوں نے اپنی رائے سے مسائل بنائے وہ خود بھی گمراہ ہو گے اور دوسروں کو بھی گمراہ کیا۔
وضاحت:
➊ یہ روایت اگرچہ ضعیف ہے تاہم یہ حقیقت ہے کہ دین اسلام کا معاملہ بھی جب تک مدینہ میں رہا بدعات سے پاک رہا، جوں ہی کوفہ اور ایران کی مجوسی لونڈیوں کی اولاد دین کی مسانید پر براجمان ہوئی رائے اور قیاس کی بنا پر کتاب و سنت کے مسائل کو رد کرنا شروع کیا، نتیجہ آج ہمارے سامنے ہے کہ ایمانیات سے لے کر معاملات تک رائے زنی ہوئی۔ اللہ رب العزت ہمیں کتاب و سنت کا پابند رکھے۔
حدیث نمبر: 389
وَسَمِعْتُ سُفْيَانَ بْنَ عُيَيْنَةَ ، يُحَدِّثُ عَنِ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ سِنَانٍ ، عَنْ أَبِي وَاقِدٍ اللَّيْثِيِّ ، قَالَ : مَرَرْنَا مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِشَجَرَةٍ يُعَلِّقُ بِهَا الْمُشْرِكُونَ أَسْلِحَتَهُمْ يُقَالُ لَهَا : ذَاتُ أَنْوَاطٍ ، فَقُلْنَا : يَا رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ اجْعَلْ لَنَا ذَاتَ أَنْوَاطٍ كَمَا لَهُمْ ذَاتُ أَنْوَاطٍ ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " هَذَا كَمَا قَالَتْ بَنُو إِسْرَائِيلَ : اجْعَلْ لَنَا إِلَهًا كَمَا لَهُمُ آلِهَةٌ " .
نوید مجید طیب
سیدنا ابو واقد لیثی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ہمراہ تھے کہ ایک درخت کے پاس سے گزرے جسے ذات انواط کہا جاتا تھا مشرکین تبرک کے لیے اپنا اسلحہ اس کے ساتھ لٹکاتے تھے تو ہم نے عرض کیا ہمارے لیے بھی کوئی ذات انواط مقرر کر دیں جیسے مشرکین کے لیے ذات انواط ہے تو رسول اللہ ”صلی اللہ علیہ وسلم“ نے فرمایا: ”تم نے تو بنی اسرائیلوں کی طرح کہہ دیا جیسے انہوں نے موسیٰ علیہ السلام سے کہا : ہمارے لیے بھی کوئی الٰہ بنا دے جس طرح ان کے الٰہ ہیں۔“
وضاحت:
➊ یہ واقعہ فتح مکہ کے بعد غزوہ حنین کے سفر میں پیش آیا اور یہ بات نو مسلموں نے کی تھی۔
➋ اس حدیث سے ثابت ہوتا ہے کہ درختوں سے تبرک حاصل کرنا، ان پر جھنڈیاں لگانا، سبز کپڑے لٹکانا مشرکین کا پرانا عمل ہے اور ایسی تمام علامات شرک کے اڈوں پر آج بھی موجود ہیں۔
➌ سیدنا ابو واقد لیثی رضی اللہ عنہ کو دو دن ہوئے تھے مسلمان ہوئے اس لیے انہوں نے سمجھا اسلام میں بھی یہ کام جائز ہوں گے جبکہ ہمارے ہاں ساٹھ ستر سالہ مسلمان بھی ان خرافات کو دین سمجھتے ہیں۔
➍ سیدنا ابو واقد لیثی رضی اللہ عنہ نے سوال کر کے رہتی دنیا تک مشرک اور مومن کی پہچان کروا دی۔
➎ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مثال دے کر سمجھایا کہ درخت سے تبرک حاصل کرنا یا بچھڑا پوجنے میں کوئی فرق نہیں دونوں غیر اللہ کے پوجاری اور مشرک ہیں۔ جو چاہتا ہے اسے مشرک نہ کہا جائے اسے چاہیے شرک ترک کر دے تاکہ اسے کوئی مشرک نہ کہے۔
➋ اس حدیث سے ثابت ہوتا ہے کہ درختوں سے تبرک حاصل کرنا، ان پر جھنڈیاں لگانا، سبز کپڑے لٹکانا مشرکین کا پرانا عمل ہے اور ایسی تمام علامات شرک کے اڈوں پر آج بھی موجود ہیں۔
➌ سیدنا ابو واقد لیثی رضی اللہ عنہ کو دو دن ہوئے تھے مسلمان ہوئے اس لیے انہوں نے سمجھا اسلام میں بھی یہ کام جائز ہوں گے جبکہ ہمارے ہاں ساٹھ ستر سالہ مسلمان بھی ان خرافات کو دین سمجھتے ہیں۔
➍ سیدنا ابو واقد لیثی رضی اللہ عنہ نے سوال کر کے رہتی دنیا تک مشرک اور مومن کی پہچان کروا دی۔
➎ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مثال دے کر سمجھایا کہ درخت سے تبرک حاصل کرنا یا بچھڑا پوجنے میں کوئی فرق نہیں دونوں غیر اللہ کے پوجاری اور مشرک ہیں۔ جو چاہتا ہے اسے مشرک نہ کہا جائے اسے چاہیے شرک ترک کر دے تاکہ اسے کوئی مشرک نہ کہے۔
حدیث نمبر: 390
سَمِعْتُ سَمِعْتُ الثَّقَفِيَّ ، يَقُولُ : سَمِعْتُ يَحْيَى بْنَ سَعِيدٍ ، يَقُولُ : " وَهُمْ يُعْطُونَ فِي دِيَةِ الْمُسْلِمِ مِنَ الْغَنَمِ أَلْفَيْ شَاةٍ " .
نوید مجید طیب
یحییٰ بن سعید رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ میں نے لوگوں کو مسلمان کی دیت بکریوں کی صورت میں دو ہزار بکریاں دیتے ہوئے پایا۔
حدیث نمبر: 391
: أَدْرَكْتُ النَّاسَ وَسَمِعْتُ الثَّقَفِيَّ ، يَقُولُ : سَمِعْتُ يَحْيَى بْنَ سَعِيدٍ ، يُحَدِّثُ عَنْ عَمْرِو بْنِ شُعَيْبٍ ، أَنَّ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ فِي الدِّيَةِ : " عَلَى أَهْلِ الشَّاءِ الشَّاءُ " .
نوید مجید طیب
سیدنا عمرو بن شعیب رحمہ اللہ سے روایت ہے سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے دیت سے متعلق فرمایا: ”بکریوں کے مالکان سے دیت بکریوں کی صورت میں وصول کی جائے گی۔“
وضاحت:
➊ مقتول کے وارث کو بعض حالات میں قصاص کی بجائے دیت وصول کرنے کا حکم صادر کیا جاتا ہے اور بسا اوقات وارث خود قصاص کی بجائے دیت پر راضی ہو جاتا ہے، دیت قتل عمد کی صورت میں مجرم پر اور قتل شبہ عمد یا خطا کی صورت میں عاقلہ برادری (جو وراثت میں حقدار ہوتے ہیں) پر عائد ہوتی ہے۔
➋ اونٹوں کی صورت میں سو اونٹ جن میں پانچ سال سے بڑی حاملہ اونٹنیاں ہونی چاہئیں۔ گائے ہوں تو 200، اگر بکریاں ہوں تو دو ہزار، خاص قسم کے کپڑوں کی صورت میں 200 حلے بھی دیت میں دیے جا سکتے ہیں۔ [سنن ابی داؤد: 4542]
➌ دیت میں اصل سو اونٹ ہیں یا سو اونٹ کی قیمت۔ عہد نبوی میں اونٹ سستے مہنگے ہوتے رہتے تھے اس لیے کبھی بارہ ہزار درہم اور کبھی ایک ہزار دینار بھی مقرر ہوتی رہی ہے۔
➍ دیت ورثاء میں وراثت کی طرح تقسیم ہوگی، اگر ایک وارث دیت پر راضی ہو جائے باقی سارے قصاص چاہتے ہوں تو سب کو دیت ملے گی قصاص نہیں لیا جائے گا۔
➎ ہر سال حکومت دیت کی قیمت کا اعلان ماہ جولائی میں کرتی ہے جس پر عدالتیں عمل کرتی ہیں اس سال (2022-23ء) میں جو دیت کا اعلان کیا گیا ہے اس کے مطابق قیمت 4,333,053 روپے ہے جو کہ ہر سال 30,630 گرام چاندی (Silver) کے حساب سے متعین ہوتی ہے۔
➏ منہاج المسلم میں علامہ جزائری رحمہ اللہ نے لکھا ہے: 1۔ سو اونٹ، 2۔ دو سو گائے، 3۔ دو ہزار بکریاں، 4۔ بارہ ہزار درہم چاندی (اس سے مراد عہد نبوی کے خاص وزن کا درہم ہے)، 5۔ ایک ہزار دینار۔ ان پانچ اموال میں سے کوئی بھی قاتل حاضر کر دے تو مقتول کے ولی کو قبول کرنا لازم ہے۔
➐ علماء کی یہ بات بھی قابل غور ہے کہ اونٹ مہنگے ہوتے تو قیمت بڑھا دی جاتی تھی سستے ہوتے تو قیمت بھی اسی حساب سے کم ہو جاتی لہذا اصل اونٹ ہیں۔
➋ اونٹوں کی صورت میں سو اونٹ جن میں پانچ سال سے بڑی حاملہ اونٹنیاں ہونی چاہئیں۔ گائے ہوں تو 200، اگر بکریاں ہوں تو دو ہزار، خاص قسم کے کپڑوں کی صورت میں 200 حلے بھی دیت میں دیے جا سکتے ہیں۔ [سنن ابی داؤد: 4542]
➌ دیت میں اصل سو اونٹ ہیں یا سو اونٹ کی قیمت۔ عہد نبوی میں اونٹ سستے مہنگے ہوتے رہتے تھے اس لیے کبھی بارہ ہزار درہم اور کبھی ایک ہزار دینار بھی مقرر ہوتی رہی ہے۔
➍ دیت ورثاء میں وراثت کی طرح تقسیم ہوگی، اگر ایک وارث دیت پر راضی ہو جائے باقی سارے قصاص چاہتے ہوں تو سب کو دیت ملے گی قصاص نہیں لیا جائے گا۔
➎ ہر سال حکومت دیت کی قیمت کا اعلان ماہ جولائی میں کرتی ہے جس پر عدالتیں عمل کرتی ہیں اس سال (2022-23ء) میں جو دیت کا اعلان کیا گیا ہے اس کے مطابق قیمت 4,333,053 روپے ہے جو کہ ہر سال 30,630 گرام چاندی (Silver) کے حساب سے متعین ہوتی ہے۔
➏ منہاج المسلم میں علامہ جزائری رحمہ اللہ نے لکھا ہے: 1۔ سو اونٹ، 2۔ دو سو گائے، 3۔ دو ہزار بکریاں، 4۔ بارہ ہزار درہم چاندی (اس سے مراد عہد نبوی کے خاص وزن کا درہم ہے)، 5۔ ایک ہزار دینار۔ ان پانچ اموال میں سے کوئی بھی قاتل حاضر کر دے تو مقتول کے ولی کو قبول کرنا لازم ہے۔
➐ علماء کی یہ بات بھی قابل غور ہے کہ اونٹ مہنگے ہوتے تو قیمت بڑھا دی جاتی تھی سستے ہوتے تو قیمت بھی اسی حساب سے کم ہو جاتی لہذا اصل اونٹ ہیں۔
حدیث نمبر: 392
وَسَمِعْتُ وَسَمِعْتُ الثَّقَفِيَّ ، يَقُولُ : حَدَّثَنِي يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ ، قَالَ : ذَكَرْتُ لِلْقَاسِمِ بْنِ مُحَمَّدٍ بَيْعًا كُنَّا نَبِيعُهُ لِيَتِيمٍ كَانَ فِي حِجْرِي , كُنَّا نَبِيعُ مِنَ الرَّجُلِ الطَّعَامَ وَالزَّيْتَ إِلَى أَجْلٍ مُسَمًّى بِسِعْرٍ مَعْلُومٍ فَإِذَا فَرَغْنَا مِنْ بَيْعِهِ ذَهَبَ رَجُلٌ فَاشْتَرَى لَهُ الطَّعَامَ وَالْوَدَكَ فَوَفَّاهُ إِيَّاهُ فَقَالَ الْقَاسِمُ : " مَا كُنَّا نَرَى بِهَذَا بَأْسًا حَتَّى نَهَى عَنْهُ الأَمِيرُ فَإِذْ نَهَى عَنْهُ فَلا أُحِبُّهُ .
نوید مجید طیب
یحییٰ بن سعید رحمہ اللہ بیان کرتے ہیں کہ میں نے قاسم بن محمد رحمہ اللہ سے ایک بیع کا ذکر کیا جو ہم ایک یتیم کی خاطر کرتے تھے جو میری پرورش میں تھا، ہم کھانے اور تیل کا سودا مقررہ مدت اور معلوم قیمت پر کرتے سودا طے ہونے کے بعد وہ آدمی جاتا اور مطلوبہ طعام، تیل خرید لاتا تو جتنا طے ہوا ہوتا پورا پورا آ کر دے دیتا تو قاسم رحمہ اللہ نے کہا اس بیع میں ہمیں کوئی حرج نہیں لگتا تھا حتی کہ امیر مدینہ نے اس سے منع کر دیا تو جب امیر نے منع کیا ہے تو میں یہ بیع کرنا پسند نہیں کرتا۔
وضاحت:
➊ یہ بیع السلف، یا بیع السلم دونوں ناموں سے جانی جاتی ہے، اسلام نے اس سودے کو حدود و قیود کے ساتھ باقی رکھا، اس کی صورت یہ ہے کہ ایک آدمی سے کہا جائے مجھے کالے رنگ کی موٹی ایرانی کھجور چاہیے پوری کلو ہو اور اگلے جمعہ کو چاہیے، کتنے میں لا کر دیں گے؟ سیل مین کہتا ہے 500 کی کلو مل جائے گی۔ سودا طے ہو گیا، جب آدمی پر اعتماد ہو، موسم اس چیز کا ہو یعنی مل جاتی ہو، دینی کب ہے؟ مدت معلوم ہو تو یہ سودا جائز ہے جیسے دکاندار کہتے ہیں منگوا کر دے سکتے ہیں۔ اگر نہ منگوا سکے یا اس صفت پر نہ ہو تو پیسے واپس کرے گا۔
لیکن ناپید یا خاص درخت کی شرط لگائے کہ اس درخت پر اس سال جو کھجور لگے گی وہ اتنے میں میری، یہ ناجائز ہے، کیا پتا اس سال کھجور نہ لگے، لہذا کیل معلوم، وزن معلوم اور اجل معلوم ہونا ضروری ہے۔
لیکن ناپید یا خاص درخت کی شرط لگائے کہ اس درخت پر اس سال جو کھجور لگے گی وہ اتنے میں میری، یہ ناجائز ہے، کیا پتا اس سال کھجور نہ لگے، لہذا کیل معلوم، وزن معلوم اور اجل معلوم ہونا ضروری ہے۔
حدیث نمبر: 393
وَسَمِعْتُ وَسَمِعْتُ الثَّقَفِيَّ ، يُحَدِّثُ عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ ، عَنْ أَبِي بَكْرِ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرِو بْنِ حَزْمٍ ، عَنْ أَبِي عَوْنٍ الأَعْوَرِ ، أَنَّهُ أَخْبَرَ أَنَّ أَبَا الدَّرْدَاءِ ، كَانَ يَقُولُ : " مَا بِتُّ مِنْ لَيْلَةٍ فِي الأَرْضِ فَأَصْبَحْتُ لَمْ يَرْمِنِي النَّاسُ فِيهَا بِدَاهِيَةٍ إِلا رَأَيْتُ عَلَيَّ مِنَ اللَّهِ نِعْمَةً " .
نوید مجید طیب
ابو عون رحمہ اللہ سے روایت ہے کہ ابو درداء رضی اللہ عنہ کہتے تھے کہ جو بھی رات میں نے روئے زمین پر گزاری اگر صبح اس حالت میں کی کہ لوگوں نے مجھ میں سختی نہیں پائی (تو ایسی حالت میں) میں نے اپنے اوپر اللہ کی نعمت پائی۔
وضاحت:
➊ معلوم ہوا نرمی برتنے سے اللہ رب العزت کی کوئی نہ کوئی نعمت نصیب ہوتی ہے۔
حدیث نمبر: 394
وَسَمِعْتُ وَسَمِعْتُ الثَّقَفِيَّ ، يُحَدِّثُ عَنْ خَالِدٍ الْحَذَّاءِ ، عَنْ أَبِي قِلابَةَ ، عَنِ ابْنِ مَسْعُودٍ ، فِي قَوْلِ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ : وَالْمُحْصَنَاتُ مِنَ النِّسَاءِ إِلا مَا مَلَكَتْ أَيْمَانُكُمْ سورة النساء آية 24 قَالَ : " سَبَايَا كَانَ لَهُنَّ أَزْوَاجٌ قَبْلَ أَنْ يُسْبَيْنَ فَأُحْلِلْنَ " .
نوید مجید طیب
سیدنا ابو مسعود رضی اللہ عنہ اس فرمان باری ﴿وَالْمُحْصَنَاتُ مِنَ النِّسَاءِ إِلَّا مَا مَلَكَتْ أَيْمَانُكُمْ﴾ [سورة النساء : 24] ”اور (حرام کی گئیں ہیں) شوہر والی عورتیں مگر وہ جو جنگ میں تمہاری لونڈیاں ہو جائیں۔“ کی تفسیر میں فرماتے ہیں کہ یہ عورتیں شادی شدہ تھیں جنگ میں قید ہونے سے قبل ان کی خاوند موجود تھے لیکن جب لونڈیاں بنی تو مسلمانوں کے لیے (استبرائے رحم کے بعد) نکاح یا جماع کرنا حلال ہے۔
وضاحت:
➊ وہ شادی شدہ عورتیں جن کے شوہر ہوں ان سے نکاح حرام ہے حتی کہ ان کے خاوند انہیں چھوڑ دیں یا وہ عورتیں بیوہ ہو جائیں۔
➋ جنگ کی صورت میں دار الحرب سے جو عورتیں قیدی بن کر آئیں تو اموال غنیمت کی تقسیم کے بعد جن کے حصہ میں آئیں گی ان کے لیے استبراء کے بعد ان سے صحبت جائز ہے خواہ پیچھے ان کے خاوند موجود ہی کیوں نہ ہوں۔
➌ «استبراء» یہ ہے کہ عورت ایک حیض سے پاک ہو جائے یا اگر حاملہ ہے تو وضع حمل ہو جائے۔
➋ جنگ کی صورت میں دار الحرب سے جو عورتیں قیدی بن کر آئیں تو اموال غنیمت کی تقسیم کے بعد جن کے حصہ میں آئیں گی ان کے لیے استبراء کے بعد ان سے صحبت جائز ہے خواہ پیچھے ان کے خاوند موجود ہی کیوں نہ ہوں۔
➌ «استبراء» یہ ہے کہ عورت ایک حیض سے پاک ہو جائے یا اگر حاملہ ہے تو وضع حمل ہو جائے۔
حدیث نمبر: 395
سَمِعْتُ سَمِعْتُ الثَّقَفِيَّ ، يُحَدِّثُ عَنْ خَالِدٍ الْحَذَّاءِ ، عَنْ أَبِي إِيَاسٍ مُعَاوِيَةَ بْنِ قُرَّةَ , عَنْ أَبِي أَيُّوبَ ، " أَنَّهُ أَكَلَ سَمَكًا طَافِيًا " .
نوید مجید طیب
ابو ایاس معاویہ بن قرة رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ابو ایوب رضی اللہ عنہ نے پھولی ہوئی مچھلی کھائی۔ (یعنی مردہ)
وضاحت:
اگر سمندر کا وہ جانور جو پانی کے بغیر نہیں رہ سکتا وہ مر جائے پھر پھول جائے، اگر طبی نکتہ نظر سے مضر صحت نہ ہو تو کھایا جا سکتا ہے۔ حدیث میں ہے کہ دو خون اور دو مردار ہم پر حلال ہیں: مردار مچھلی اور ٹڈی، اور خون کلیجہ اور تلی ہیں۔ [سنن ابن ماجہ: 3314]
حدیث نمبر: 396
سَمِعْتُ الثَّقَفِيَّ ، يُحَدِّثُ عَنْ خَالِدٍ الْحَذَّاءِ ، عَنْ أَبِي قِلابَةَ ، أَنَّ أَصْحَابَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ذَكَرُوا أَبْنَاءَهُمْ ، فَقَالُوا : أَبْنَاؤُنَا خَيْرٌ مِنَّا وَلِدُوا فِي الإِسْلامِ وَلَمْ يُشْرِكُوا بِاللَّهِ سَاعَةً قَطُّ ، فَلَمَّا بَلَغَ ذَلِكَ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " إِنَّ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ لَمْ يَكُنْ لِيَبْعَثَنِي إِلا فِي خَيْرِ أُمَّتِي نَحْنُ خَيْرٌ مِنْ أَبْنَائِنَا وَأَبْنَاؤُنَا خَيْرٌ مِنْ أَبْنَائِهِمْ وَأَبْنَاءُ أَبْنَائِنَا خَيْرٌ مِنْ أَبْنَائِهِمْ " .
نوید مجید طیب
ابو قلابہ رحمہ اللہ سے روایت ہے کہ اصحاب رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے ابناء کا تذکرہ کیا تو کہنے لگے ہمارے بیٹے ہم سے بہتر ہیں اسلام میں پیدا ہوئے انہوں نے بالکل اللہ کے ساتھ شرک نہیں کیا جب یہ بات رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم تک پہنچی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ” اللہ تعالیٰ نے مجھے بہترین امت کی طرف مبعوث فرمایا ہم اپنے بیٹوں سے بہتر ہیں، اور ہمارے بیٹے ہمارے پوتوں سے بہتر ہیں اور ہمارے پوتے اپنے بیٹوں سے بہتر ہیں۔“
وضاحت:
➊ زمانہ جتنا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے قریب ہوگا بہتری اسی میں ہے، صحابہ رضی اللہ عنہم تابعین رحمہ اللہ سے افضل ہیں اور تابعین رحمہ اللہ تبع تابعین رحمہ اللہ سے افضل اور بہتر ہیں۔
➋ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے اس وقت دین کا دفاع کیا، جان، مال و زر پیش کیا جب سارا کفر کاٹ کھانے کو دوڑتا تھا، اُن کے مقام کو کوئی نہیں پہنچ سکتا۔ اُن کا ایک مد خرچ کرنا احد پہاڑ برابر سونا خرچ کر دینے سے افضل ہے۔ ان کے ایمان کی گارنٹی اللہ رب العزت نے دی، ان کی عالی صفات ﴿هُمُ الْمُفْلِحُونَ﴾، ﴿هُمُ الْمُهْتَدُونَ﴾، ﴿هُمُ الرَّاشِدُونَ﴾، ﴿هُمُ الْفَائِزُونَ﴾، ﴿هُمُ الْمُؤْمِنُونَ حَقًّا﴾، ﴿هُمُ الصَّادِقُونَ﴾، ﴿أُولَئِكَ عَنْهَا مُبْعَدُونَ﴾ جس کے دلوں کو تقویٰ سے پرکھا گیا، ﴿لَهُمْ مَغْفِرَةٌ وَأَجْرٌ عَظِيمٌ﴾ کی خوشخبریاں پانے والے، ﴿أُولَئِكَ حِزْبُ اللهِ﴾ کا اعزاز ماتھے پر سجانے والے وہ دین کے رواۃ ہیں، ان کے ذریعے قرآن وسنت ہم تک پہنچے، ان پر جرح کرنا قرآن وسنت پر جرح کرنا ہے۔
➌ منافقین کے لیے جب تلوار کے خوف سے اسلام کی مخالفت کرنا ممکن نہ رہا تو انہوں نے رواۃ اسلام پر دشنام طرازی کی تاکہ قرآن وسنت کو باطل قرار دے سکیں، اس لیے کبار آئمہ نے کہا کہ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کے خلاف زبان دراز کرنے والے زندیق اور جرح کے زیادہ حقدار ہیں۔ [الکفایۃ للخطیب البغدادی: 97]
امام احمد بن حنبل رحمہ اللہ فرماتے ہیں: «اذا رايت رجلا يذكر احدا من الصحابة بسوء فاتهمه على الاسلام» [البدایۃ والنہایۃ: 142/8]
جب تو کسی شخص کو کسی صحابی رضی اللہ عنہ کا برا تذکرہ کرتے دیکھے تو اس کے مسلمان ہونے پر یقین نہ کر۔
➋ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے اس وقت دین کا دفاع کیا، جان، مال و زر پیش کیا جب سارا کفر کاٹ کھانے کو دوڑتا تھا، اُن کے مقام کو کوئی نہیں پہنچ سکتا۔ اُن کا ایک مد خرچ کرنا احد پہاڑ برابر سونا خرچ کر دینے سے افضل ہے۔ ان کے ایمان کی گارنٹی اللہ رب العزت نے دی، ان کی عالی صفات ﴿هُمُ الْمُفْلِحُونَ﴾، ﴿هُمُ الْمُهْتَدُونَ﴾، ﴿هُمُ الرَّاشِدُونَ﴾، ﴿هُمُ الْفَائِزُونَ﴾، ﴿هُمُ الْمُؤْمِنُونَ حَقًّا﴾، ﴿هُمُ الصَّادِقُونَ﴾، ﴿أُولَئِكَ عَنْهَا مُبْعَدُونَ﴾ جس کے دلوں کو تقویٰ سے پرکھا گیا، ﴿لَهُمْ مَغْفِرَةٌ وَأَجْرٌ عَظِيمٌ﴾ کی خوشخبریاں پانے والے، ﴿أُولَئِكَ حِزْبُ اللهِ﴾ کا اعزاز ماتھے پر سجانے والے وہ دین کے رواۃ ہیں، ان کے ذریعے قرآن وسنت ہم تک پہنچے، ان پر جرح کرنا قرآن وسنت پر جرح کرنا ہے۔
➌ منافقین کے لیے جب تلوار کے خوف سے اسلام کی مخالفت کرنا ممکن نہ رہا تو انہوں نے رواۃ اسلام پر دشنام طرازی کی تاکہ قرآن وسنت کو باطل قرار دے سکیں، اس لیے کبار آئمہ نے کہا کہ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کے خلاف زبان دراز کرنے والے زندیق اور جرح کے زیادہ حقدار ہیں۔ [الکفایۃ للخطیب البغدادی: 97]
امام احمد بن حنبل رحمہ اللہ فرماتے ہیں: «اذا رايت رجلا يذكر احدا من الصحابة بسوء فاتهمه على الاسلام» [البدایۃ والنہایۃ: 142/8]
جب تو کسی شخص کو کسی صحابی رضی اللہ عنہ کا برا تذکرہ کرتے دیکھے تو اس کے مسلمان ہونے پر یقین نہ کر۔
حدیث نمبر: 397
سَمِعْتُ الثَّقَفِيَّ ، يُحَدِّثُ عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِبْرَاهِيمَ بْنِ الْحَارِثِ التَّيْمِيِّ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَدِمَ عَلَيْهِ تَمْرٌ وَشَعِيرٌ مِنْ بَعْضِ الْقُرَى وَأَنَّ أُسَيْدَ بْنَ الْحُضَيْرِ قَالَ لَهُ أَهْلُ بَيْتَيْنِ مِنْ بَنِي ظُفُرَ : اذْكُرْ حَاجَتَنَا لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، وَأَنَّ أُسَيْدَ بْنَ الْحُضَيْرِ أَتَى النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَوَجَدَ مَعَهُ قَوْمًا وَأَنَّهُ حَنَا عَلَيْهِ فَذَكَرَ لَهُ حَاجَةَ أَهْلِ بَيْتَيْنِ مِنْ بَنِي ظُفُرَ ، وَأَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " لِكُلِّ أَهْلِ بَيْتٍ وَسْقٌ مِنْ تَمْرٍ وَشَطْرٌ مِنْ شَعِيرٍ " ، فَقَالَ أُسَيْدُ بْنُ حُضَيْرٍ : يَا رَسُولَ اللَّهِ جَزَاكَ اللَّهُ عَنَّا خَيْرًا . قَالَ يَحْيَى : فَزَعَمَ مُحَمَّدٌ يَعْنِي ابْنَ إِبْرَاهِيمَ بْنِ الْحَارِثِ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " وَأَنْتُمْ فَجَزَاكُمُ اللَّهُ خَيْرًا يَا مَعْشَرَ الأَنْصَارِ فَإِنَّكُمْ أَعِفَّةٌ صُبُرٌ وَإِنَّكُمْ سَتَرَوْنَ بَعْدِي أَثَرَةً فِي الأَمْرِ وَالْقَسْمِ فَاصْبِرُوا حَتَّى تَلْقَوْنِي " .
نوید مجید طیب
محمد بن ابراہیم بن حارث تمیمی رحمہ اللہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس بعض بستیوں سے کھجور اور جو آئے تو اسید بن حضیر رضی اللہ عنہ کو بنی ظفر کے دو گھروں نے کہا ہماری ضروریات کا ذکر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے کرنا، اسید بن حضیر رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے کچھ لوگ آپ کے ساتھ بیٹھے تھے، اسید رضی اللہ عنہ قریب جا کر جھکے بنی ظفر کی حاجت ذکر کی تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ” ہر گھر کو ایک وسق کھجور اور ایک وسق جو دیا جاتا ہے “ اسید بن حضیر رضی اللہ عنہ نے عرض کی اے اللہ کے رسول ! اللہ تعالیٰ آپ کو جزاء دے یحییٰ رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ محمد بن ابراہیم بن حارث رحمہ اللہ کا خیال ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تھا: ” اے انصار ! تمہیں اللہ جزائے خیر دے تم صابر لوگ ہو میرے بعد تم دیکھو گے کہ معاملات و تقسیم میں تم پر دوسروں کو ترجیح دی جائے گی مجھ سے ملاقات تک صبر سے کام لینا ۔“
وضاحت:
مذکورہ روایت کا آخری حصہ صحیح ثابت ہے، چنانچہ سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے انصار صحابہ کرام رضی اللہ عنہم سے فرمایا: «انكم سترون بعدى اثرة فاصبروا حتى تلقوني و موعدكم الحوض»
میرے بعد تم دیکھو گے کہ تم پر دوسروں کو فوقیت دی جائے گی لہذا تم صبر کرنا یہاں تک کہ مجھ سے آ ملو اور میری تم سے ملاقات حوض پر ہوگی۔ [صحيح بخاري: 3793]
یہ روایت سیدنا اسید بن حضیر رضی اللہ عنہ سے بھی مروی ہے۔ [صحيح بخاري: 3792]
میرے بعد تم دیکھو گے کہ تم پر دوسروں کو فوقیت دی جائے گی لہذا تم صبر کرنا یہاں تک کہ مجھ سے آ ملو اور میری تم سے ملاقات حوض پر ہوگی۔ [صحيح بخاري: 3793]
یہ روایت سیدنا اسید بن حضیر رضی اللہ عنہ سے بھی مروی ہے۔ [صحيح بخاري: 3792]