حدیث نمبر: 365
حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا أَيُّوبُ ، عَنْ نَافِعٍ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، قَالَ : " فَرَضَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ صَدَقَةَ الْفِطْرِ صَاعًا مِنْ تَمْرٍ أَوْ صَاعًا مِنْ شَعِيرٍ " .
نوید مجید طیب
سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے رسول اللہ ﷺ نے ”ایک صاع کھجور یا ایک صاع جو فطرانہ فرض کیا۔“
حدیث نمبر: 366
عَنْ مَالِكِ بْنِ أَنَسٍ ، عَنْ نَافِعٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ ، " أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَرَضَ زَكَاةَ الْفِطْرِ مِنْ رَمَضَانَ عَلَى النَّاسِ صَاعًا مِنْ تَمْرٍ أَوْ صَاعًا مِنْ شَعِيرٍ عَلَى كُلِّ حُرٍّ وَعَبْدٍ ذَكَرٍ أَوْ أُنْثَى مِنَ الْمُسْلِمِينَ " .
نوید مجید طیب
سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے رسول اللہ ﷺ نے ”لوگوں پر رمضان کا فطرانہ ایک صاع کھجور یا ایک صاع جو فرض کیا جو کہ مسلمانوں کے آزاد، غلام، مرد، عورت پر فرض ہے۔“
حدیث نمبر: 367
عَنِ ابْنِ أَبِي يَحْيَى ، عَنْ جَعْفَرِ بْنِ مُحَمَّدٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " فَرَضَ زَكَاةَ الْفِطْرِ عَلَى كُلِّ حُرٍّ وَعَبْدٍ ذَكَرٍ وَأُنْثَى مِمَّنْ يَمُونُونَ " .
نوید مجید طیب
جعفر بن محمد رحمہ اللہ اپنے باپ سے روایت کرتے ہیں رسول اللہ ﷺ نے ”صدقہ فطر ہر آزاد، غلام، مرد، عورت پر فرض فرمایا۔ ان میں جن پر تم خرچ کرتے ہو۔“
حدیث نمبر: 368
عَنْ يَحْيَى بْنِ حَسَّانَ ، عَنِ اللَّيْثِ بْنِ سَعْدٍ ، عَنْ عُقَيْلِ بْنِ خَالِدٍ الْقُرَشِيِّ ، وَعَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ خَالِدٍ يَعْنِي ابْنَ مُسَافِرٍ ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيِّبِ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " فَرَضَ زَكَاةَ الْفِطْرِ مُدَّيْنِ مِنْ حِنْطَةٍ " . قَالَ أَبُو جَعْفَرٍ : سَمِعْتُ الْمُزَنِيَّ يَقُولُ : قَالَ الشَّافِعِيُّ رَحِمَهُ اللَّهُ : خَطَأٌ حَدِيثُ الْمُدَّيْنِ .
نوید مجید طیب
سیدنا سعید بن مسیب رحمہ اللہ سے روایت ہے رسول اللہ ﷺ نے فطرانہ گندم سے دو مد فرض فرمایا۔ امام مزنی رحمہ اللہ سے روایت ہے کہ امام شافعی رحمہ اللہ نے فرمایا: ”دومد والی حدیث مبنی بر خطاء ہے۔“ (یعنی درست پوری صاع ہے جس میں چار مد ہوتے ہیں)
حدیث نمبر: 369
حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا ابْنُ عَجْلانَ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ، قَالَ : " مَا كُنَّا نُخْرِجُ فِي زَمَانِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلا صَاعًا مِنْ تَمْرٍ أَوْ صَاعًا مِنْ شَعِيرٍ .
نوید مجید طیب
سیدنا ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے ہم رسول اللہ ﷺ کے زمانہ میں ایک صاع کھجور یا ایک صاع جو (فی کس کے حساب سے) دیا کرتے تھے۔
وضاحت:
➊ ماہ رمضان کے اختتام پر نماز عید کی ادائیگی سے قبل صدقہ فطر جسے فطرانہ کہا جاتا ہے ہر بندے پر فرض ہے، امیر ہو غریب، دودھ پیتا بچہ ہو یا بوڑھا، غریب آدمی دوسروں سے صدقہ وصول کر کے ادا کرے۔
➋ فطرانے کی ادائیگی کے لیے روزے رکھنا شرط نہیں، اگر کسی نے عذر کی بنا پر روزے نہیں رکھے یا کوئی بچہ عید سے ایک دن پہلے یا چاند رات کو پیدا ہوا اس پر بھی فطرانہ فرض ہے جو کہ ایک صاع تقریباً اڑھائی کلو فی کس کے حساب سے ہے۔
➌ آدمی جو غذا عام طور پر کھاتا ہے اس سے ہی فطرانہ ادا کرے گا۔ جس ملک میں رہ رہا ہے اس ملک کے حساب سے وہاں جو کھاتا ہے اس کا ایک صاع ادا کرے گا۔
➍ شریعت نے بعض صدقات مال کی صورت میں ادا کرنے کا حکم دیا کہ ایک دینار صدقہ کر لے اور بعض صدقات کے لیے طعام کی شرط لگائی ہے، یقیناً اس کی کوئی نہ کوئی حکمت ہے، فطرانہ لازمی ہے کہ طعام ہی دیا جائے پیسے نہ دیے جائیں اور یہ بہت سے جید علماء رحمہ اللہ کا فتویٰ ہے اور فطرانے کا مقصود بھی یہ ہے کہ نماز عید سے قبل ادا کیا جائے کہ غریب کے گھر راشن آجائے، عید والے دن وہ بھی پیٹ بھر کر کھائیں نہ کہ پیسے لے کر نیٹ کے پیکج کرائیں، یا سرخی پاؤڈر خریدیں یا کیبل کا بل ادا کریں، یا انگریزی سکولوں کی فیس دیں، اس لیے وہی کام کرنا چاہیے جو الفاظ احادیث تقاضا کرتے ہیں الا یہ کہ قرینہ صارفہ موجود ہو۔
➎ راجح بات صدقہ فطر پورا صاع دینا ہے، نصف صاع مختلف فیہ ہے، نصف صاع بعض صحابہ رضی اللہ عنہم کا اجتہاد تھا جس پر صحابہ رضی اللہ عنہم بھی متفق نہیں تھے۔
➏ حدیث کے الفاظ مسلمان اس بات پر دلالت کرتے ہیں کہ صدقہ فطر صرف مسلمانوں کی طرف سے ادا کیا جائے گا۔
➐ سیدنا عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلى الله عليه وسلم نے صدقہ فطر فرض قرار دیا: «طهرة للصائم من اللغو والرفث وطعمة للمساكين فمن أداها قبل الصلاة فهي زكاة مقبولة ومن أداها بعد الصلاة فهي صدقة من الصدقات»
روزے کو لغو اور نامناسب باتوں سے پاک کرنے کے لیے اور مسکینوں کو کھانا کھلانے کے لیے، جس نے نماز عید الفطر سے پہلے یہ ادا کیا اس کا یہ قبول شدہ صدقہ ہے اور جس نے نماز کے بعد ادا کیا تو وہ ایک عام صدقہ ہے۔ (صدقہ فطر نہیں) [سنن ابن ماجہ: 1827]
➋ فطرانے کی ادائیگی کے لیے روزے رکھنا شرط نہیں، اگر کسی نے عذر کی بنا پر روزے نہیں رکھے یا کوئی بچہ عید سے ایک دن پہلے یا چاند رات کو پیدا ہوا اس پر بھی فطرانہ فرض ہے جو کہ ایک صاع تقریباً اڑھائی کلو فی کس کے حساب سے ہے۔
➌ آدمی جو غذا عام طور پر کھاتا ہے اس سے ہی فطرانہ ادا کرے گا۔ جس ملک میں رہ رہا ہے اس ملک کے حساب سے وہاں جو کھاتا ہے اس کا ایک صاع ادا کرے گا۔
➍ شریعت نے بعض صدقات مال کی صورت میں ادا کرنے کا حکم دیا کہ ایک دینار صدقہ کر لے اور بعض صدقات کے لیے طعام کی شرط لگائی ہے، یقیناً اس کی کوئی نہ کوئی حکمت ہے، فطرانہ لازمی ہے کہ طعام ہی دیا جائے پیسے نہ دیے جائیں اور یہ بہت سے جید علماء رحمہ اللہ کا فتویٰ ہے اور فطرانے کا مقصود بھی یہ ہے کہ نماز عید سے قبل ادا کیا جائے کہ غریب کے گھر راشن آجائے، عید والے دن وہ بھی پیٹ بھر کر کھائیں نہ کہ پیسے لے کر نیٹ کے پیکج کرائیں، یا سرخی پاؤڈر خریدیں یا کیبل کا بل ادا کریں، یا انگریزی سکولوں کی فیس دیں، اس لیے وہی کام کرنا چاہیے جو الفاظ احادیث تقاضا کرتے ہیں الا یہ کہ قرینہ صارفہ موجود ہو۔
➎ راجح بات صدقہ فطر پورا صاع دینا ہے، نصف صاع مختلف فیہ ہے، نصف صاع بعض صحابہ رضی اللہ عنہم کا اجتہاد تھا جس پر صحابہ رضی اللہ عنہم بھی متفق نہیں تھے۔
➏ حدیث کے الفاظ مسلمان اس بات پر دلالت کرتے ہیں کہ صدقہ فطر صرف مسلمانوں کی طرف سے ادا کیا جائے گا۔
➐ سیدنا عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلى الله عليه وسلم نے صدقہ فطر فرض قرار دیا: «طهرة للصائم من اللغو والرفث وطعمة للمساكين فمن أداها قبل الصلاة فهي زكاة مقبولة ومن أداها بعد الصلاة فهي صدقة من الصدقات»
روزے کو لغو اور نامناسب باتوں سے پاک کرنے کے لیے اور مسکینوں کو کھانا کھلانے کے لیے، جس نے نماز عید الفطر سے پہلے یہ ادا کیا اس کا یہ قبول شدہ صدقہ ہے اور جس نے نماز کے بعد ادا کیا تو وہ ایک عام صدقہ ہے۔ (صدقہ فطر نہیں) [سنن ابن ماجہ: 1827]
حدیث نمبر: 370
حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّهُ أَبْصَرَ فَرَسًا يُبَاعُ فِي السُّوقِ وَكَانَ تَصَدَّقَ بِهَا فَسَأَلَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَشْتَرِيهِ ؟ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " لا تَشْتَرِهِ وَلا شَيْئًا مِنْ نِتَاجِهِ " .
نوید مجید طیب
سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ سے روایت ہے انہوں نے بازار میں ایک گھوڑا برائے فروخت دیکھا جو انہوں نے ہی صدقہ کیا تھا تو سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے رسول اللہ ﷺ سے پوچھا کہ کیا میں اُسے خرید سکتا ہوں ؟ آپ ﷺ نے فرمایا : ”اس کو نہ اور آگے اس کی کوئی چیز بھی نہ خریدنا۔“
حدیث نمبر: 371
عَنْ مَالِكِ بْنِ أَنَسٍ ، عَنْ نَافِعٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ ، حَمَلَ عَلَى فَرَسِهِ فِي سَبِيلِ اللَّهِ فَوَجَدَهُ يُبَاعُ فَأَرَادَ أَنْ يَبْتَاعَهُ ، فَسَأَلَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ ذَلِكَ ، فَقَالَ : " لا تَبْتَعْهُ وَلا تَعُدْ فِي صَدَقَتِكَ " .
نوید مجید طیب
سیدنا عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے ایک سواری جہاد کے لیے مہیا کی تھی تو بعد میں دیکھا فروخت ہو رہی ہے خریدنے کا ارادہ فرمایا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے اس بارے سوال کیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ”اسے نہ خریدو اور اپنا صدقہ مت واپس لو۔“
حدیث نمبر: 372
عَنْ زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ ، عَنْ أَبِيهِ ، قَالَ : سَمِعْتُ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ، يَقُولُ : حَمَلْتُ عَلَى فَرَسٍ فِي سَبِيلِ اللَّهِ فَأَضَاعَهُ الَّذِي كَانَ عِنْدَهُ فَأَرَدْتُ أَنْ أَبْتَاعَهَ مِنْهُ وَظَنَنْتُ أَنَّهُ بَاعَهُ بِرُخْصٍ فَسَأَلْتُ عَنْ ذَلِكَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَقَالَ : " لا تَبْتَعْهُ وَإِنْ أَعْطَاكَ بِدِرْهَمٍ وَاحِدٍ وَلا تَعُدْ فِي صَدَقَتِكَ فَإِنَّ الْعَائِدَ فِي صَدَقَتِهِ كَالْكَلْبِ يَعُودُ فِي قَيْئِهِ " .
نوید مجید طیب
سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ میں نے جہاد کے لیے گھوڑا مہیا کیا تو جس کے پاس تھا اس نے اسے ضائع کر دیا میں نے ارادہ کیا اس سے خرید لوں میرا خیال تھا (چونکہ گھوڑا کمزور ہو گیا ہے) کہ سستا فروخت کر دے گا تو اس سے متعلق میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے دریافت کیا آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ”اگر ایک درہم کا دے پھر بھی مت خرید و اپنے صدقے کو واپس مت لو، صدقہ دے کر واپس لینے والا اُس کتے کی طرح ہے جو الٹی کر کے چاٹ لیتا ہے۔“
حدیث نمبر: 373
أَنْبَأَنَا عَبْدُ الْوَهَّابِ بْنُ عَبْدِ الْمَجِيدِ الثَّقَفِيُّ قَالَ : سَمِعْتُ يَحْيَى بْنَ سَعِيدٍ يَقُولُ : أَخْبَرَنِي نَافِعٌ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، أَنَّ عُمَرَ تَصَدَّقَ بِفَرَسٍ لَهُ فِي زَمَنِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَنَّهُ وَجَدَهُ يُبَاعُ فَذَكَرَ ذَلِكَ لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَقَالَ : " لا تَشْتَرِهِ وَلا تَقْرَبَنَّهُ " .
نوید مجید طیب
سیدنا عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے عہد رسول صلی اللہ علیہ وسلم میں ایک گھوڑا صدقہ کیا اور اُسے (بعد میں) برائے فروخت پایا تو اس بات کا ذکر انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے کیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ”اسے مت خریدنا اور اس کے قریب تک نہ جانا۔“
وضاحت:
➊ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ قیمتاّ خریدنا چاہتے تھے اس کے باوجود صدقہ صوری طور پر بھی واپس لینے سے روک دیا گیا، ایک تو یہ احتمال ہوتا ہے کہ جسے صدقہ دیا ہو وہ تھوڑی قیمت مانگے گا کیونکہ اس نے مفت دیا تھا، اب اس سے کیا سودا کروں، تو اس حکم شرعی سے حیلہ سازی، یا شبہ والی باتوں کا بھی سد باب کر دیا گیا۔
➋ صدقہ کر کے اس پر نگاہ نہیں رکھنی چاہیے کہ اب دیکھو صدقہ میری مرضی سے استعمال کرتا ہے یا نہیں، صدقہ کر کے آدمی کا اختیار ختم ہو گیا اب جس کو دے دیا اس کی ملکیت ہے اور آپ نے اس پر احسان نہیں کیا بلکہ اللہ تعالیٰ سے سودا کیا ہے، اس کا بدل اللہ تعالیٰ سے لو، اگر احسان جتلایا تو یہ صدقہ و زکاۃ باعث ثواب بننے کے بجائے باعث عذاب ہوگا۔ ارشاد باری تعالیٰ ہے: ﴿يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا لَا تُبْطِلُوا صَدَقَاتِكُم بِالْمَنِّ وَالْأَذَىٰ كَالَّذِي يُنفِقُ مَالَهُ رِئَاءَ النَّاسِ وَلَا يُؤْمِنُ بِاللَّهِ وَالْيَوْمِ الْآخِرِ ۖ فَمَثَلُهُ كَمَثَلِ صَفْوَانٍ عَلَيْهِ تُرَابٌ فَأَصَابَهُ وَابِلٌ فَتَرَكَهُ صَلْدًا ۖ لَّا يَقْدِرُونَ عَلَىٰ شَيْءٍ مِّمَّا كَسَبُوا ۗ وَاللَّهُ لَا يَهْدِي الْقَوْمَ الْكَافِرِينَ﴾ [البقرہ: 264]
اے لوگو جو ایمان لائے ہو! اپنے صدقات کو احسان جتا کر اور دکھ دے کر اس شخص کی طرح ضائع نہ کرو جو اپنا مال لوگوں کو دکھانے کے لیے خرچ کرتا ہے اور وہ اللہ اور آخرت کے دن پر ایمان نہیں رکھتا تو اس کی مثال چکنے پتھر کی سی ہے جس پر مٹی پڑی ہو، پھر اس پر زور کی بارش ہو تو (ساری مٹی بہہ جائے اور) صاف چٹان رہ جائے۔ وہ (ریا کار) جو نیکی کرتے ہیں، اس سے کچھ بھی ان کے ہاتھ نہیں آتا اور اللہ کافروں کو ہدایت نہیں دیتا۔
➋ صدقہ کر کے اس پر نگاہ نہیں رکھنی چاہیے کہ اب دیکھو صدقہ میری مرضی سے استعمال کرتا ہے یا نہیں، صدقہ کر کے آدمی کا اختیار ختم ہو گیا اب جس کو دے دیا اس کی ملکیت ہے اور آپ نے اس پر احسان نہیں کیا بلکہ اللہ تعالیٰ سے سودا کیا ہے، اس کا بدل اللہ تعالیٰ سے لو، اگر احسان جتلایا تو یہ صدقہ و زکاۃ باعث ثواب بننے کے بجائے باعث عذاب ہوگا۔ ارشاد باری تعالیٰ ہے: ﴿يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا لَا تُبْطِلُوا صَدَقَاتِكُم بِالْمَنِّ وَالْأَذَىٰ كَالَّذِي يُنفِقُ مَالَهُ رِئَاءَ النَّاسِ وَلَا يُؤْمِنُ بِاللَّهِ وَالْيَوْمِ الْآخِرِ ۖ فَمَثَلُهُ كَمَثَلِ صَفْوَانٍ عَلَيْهِ تُرَابٌ فَأَصَابَهُ وَابِلٌ فَتَرَكَهُ صَلْدًا ۖ لَّا يَقْدِرُونَ عَلَىٰ شَيْءٍ مِّمَّا كَسَبُوا ۗ وَاللَّهُ لَا يَهْدِي الْقَوْمَ الْكَافِرِينَ﴾ [البقرہ: 264]
اے لوگو جو ایمان لائے ہو! اپنے صدقات کو احسان جتا کر اور دکھ دے کر اس شخص کی طرح ضائع نہ کرو جو اپنا مال لوگوں کو دکھانے کے لیے خرچ کرتا ہے اور وہ اللہ اور آخرت کے دن پر ایمان نہیں رکھتا تو اس کی مثال چکنے پتھر کی سی ہے جس پر مٹی پڑی ہو، پھر اس پر زور کی بارش ہو تو (ساری مٹی بہہ جائے اور) صاف چٹان رہ جائے۔ وہ (ریا کار) جو نیکی کرتے ہیں، اس سے کچھ بھی ان کے ہاتھ نہیں آتا اور اللہ کافروں کو ہدایت نہیں دیتا۔
حدیث نمبر: 374
عَنْ سُفْيَانَ ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عَدِيِّ بْنِ الْخِيَارِ ، أَنَّ رَجُلَيْنِ حَدَّثَاهُ ، قَالا : جِئْنَا رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي حَجَّةِ الْوَدَاعِ وَهُوَ يَقْسِمُ عَلَى النَّاسِ الصَّدَقَةَ فَزَاحَمْنَا عَلَيْهِ حَتَّى خَلُصْنَا إِلَيْهِ ، فَسَأَلْنَاهُ مِنْهَا ، قَالا : فَرَفَعَ الْبَصَرَ وَخَفَضَ فَرَآنَا رَجُلَيْنِ جَلْدَيْنِ ، فَقَالَ : " إِنْ شِئْتُمَا وَلا حَقَّ أَوْ لا حَظَّ فِيهَا لِغَنِيٍّ وَلا لِقَوِيٍّ مُكْتَسِبٍ " .
نوید مجید طیب
عبداللہ بن عدی بن خیار رحمہ اللہ کہتے ہیں مجھے دو آدمیوں نے بتایا کہ ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس حجتہ الوداع کے موقع پر گئے آپ صلی اللہ علیہ وسلم صدقات تقسیم کر رہے تھے بڑے رش سے گزر کر آپ تک پہنچے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے صدقہ مانگا دونوں کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے سر سے پاؤں تک ہمیں دیکھا کہ ہم دونوں صحت مند اور توانا ہیں تو فرمایا: ”اگر تم چاہو تو دے دیتا ہوں۔ (یعنی ضد کرو تو) لیکن اس صدقہ میں کسی مالدار اور طاقتور کما لینے والے کا کوئی حق اور حصہ نہیں۔“
وضاحت:
➊ رسول اللہ صلى الله عليه وسلم اعلیٰ اخلاق کے مالک تھے، انہوں نے اچھے طریقے سے سائلین کا رد کیا۔
➋ اس سے یہ بھی معلوم ہوا ہے کہ ہٹے کٹے بھکاریوں کو صدقہ و خیرات بالکل نہیں دینا چاہیے، اس سے اُن کا حوصلہ بڑھتا ہے اور کسی ہٹے کٹے کو صدقات دے دے کر نکھٹو بھی نہیں بنانا چاہیے۔
➌ صدقات و زکاۃ یہ غریب لاچار افراد کا حق ہے، غیر حقدار کا اسے وصول کرنا حرام ہے اور غیر حقدار کو دینا رب تعالیٰ کی امانت میں خیانت کرنا ہے۔
➍ مصارف زکاۃ کی تعداد آٹھ ہے ان کی تفصیلات کے لیے دیکھیے [التوبہ: 60]
➎ مالدار شخص کے علاوہ کمائی کی استطاعت و طاقت رکھنے والا شخص بھی زکاۃ و صدقات کا مستحق نہیں ہے۔
➋ اس سے یہ بھی معلوم ہوا ہے کہ ہٹے کٹے بھکاریوں کو صدقہ و خیرات بالکل نہیں دینا چاہیے، اس سے اُن کا حوصلہ بڑھتا ہے اور کسی ہٹے کٹے کو صدقات دے دے کر نکھٹو بھی نہیں بنانا چاہیے۔
➌ صدقات و زکاۃ یہ غریب لاچار افراد کا حق ہے، غیر حقدار کا اسے وصول کرنا حرام ہے اور غیر حقدار کو دینا رب تعالیٰ کی امانت میں خیانت کرنا ہے۔
➍ مصارف زکاۃ کی تعداد آٹھ ہے ان کی تفصیلات کے لیے دیکھیے [التوبہ: 60]
➎ مالدار شخص کے علاوہ کمائی کی استطاعت و طاقت رکھنے والا شخص بھی زکاۃ و صدقات کا مستحق نہیں ہے۔
حدیث نمبر: 375
حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا جَامِعُ بْنُ أَبِي رَاشِدٍ ، وَعَبْدُ الْمَلِكَ بْنُ أَعْيَنَ ، سَمِعَا أَبَا وَائِلٍ ، يُخْبِرُ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ ، يَقُولُ : سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، يَقُولُ : " مَا مِنْ رَجُلٍ لا يُؤَدِّي زَكَاةَ مَالِهِ إِلا جُعِلَ لَهُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ شُجَاعًا أَقْرَعَ يَفِرُّ مِنْهُ وَهُوَ يَتْبَعُهُ حَتَّى يُطَوَّقَ بِهِ عَلَى عُنُقِهِ " ، ثُمَّ قَرَأَ عَلَيْنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : سَيُطَوَّقُونَ مَا بَخِلُوا بِهِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ سورة آل عمران آية 180 .
نوید مجید طیب
سیدنا عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے روایت ہے انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے سنا : ”جو آدمی اپنے مال کی زکاۃ نہیں دیتا اللہ تعالیٰ اس پر بروز قیامت گنجا سانپ مقرر کرے گا وہ بھاگے گا سانپ اس کے پیچھے دوڑے گا حتی کہ اس کی گردن میں سانپ کا طوق ڈالے گا“ پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے آیت پڑھی : ”بروز قیامت اُن کی کنجوسی ان کے گلے کا طوق بنے گی۔“
وضاحت:
➊ زکاۃ اسلام کا اہم ترین رکن ہے، قرآن و حدیث میں اس کی فرضیت کو بڑے واضح انداز میں بیان کیا گیا ہے، اس سے مال پاک ہوتا ہے اور یہ صاحب مال کو بخل کی رذالت اور گناہوں سے پاک کر دیتی ہے۔
➋ شریعت نے جانوروں، سونے چاندی، نقدی، زمین کی پیداوار اور مالِ تجارت سے زکاۃ کا تقاضا کیا ہے۔
➌ صاحب نصاب اگر زکاۃ نہ دے تو اس کے لیے شرعاً سخت ترین وعیدیں ہیں۔
➋ شریعت نے جانوروں، سونے چاندی، نقدی، زمین کی پیداوار اور مالِ تجارت سے زکاۃ کا تقاضا کیا ہے۔
➌ صاحب نصاب اگر زکاۃ نہ دے تو اس کے لیے شرعاً سخت ترین وعیدیں ہیں۔
حدیث نمبر: 376
عَنْ عَنْ سُفْيَانَ بْنِ عُيَيْنَةَ ، قَالَ : قُلْتُ لابْنِ طَاوُسٍ : مَا كَانَ أَبُوكَ يَقُولُ إِذَا سَمِعَ الرَّعْدَ ؟ قَالَ : كَانَ يَقُولُ : " سُبْحَانَ مَنْ سَبَّحَتْ لَهُ " .
نوید مجید طیب
سفیان بن عیینہ رحمہ اللہ کہتے ہیں میں نے طاؤس رحمہ اللہ کے بیٹے سے پوچھا تیرے بابا بجلی کی کڑک سن کر کیا کہتے تھے؟ تو انہوں نے فرمایا کہتے تھے ”(اے کڑک) جس کی تو نے تسبیح بیان کی وہ (واقعی) پاک ذات ہے۔“
حدیث نمبر: 377
عَنْ سُفْيَانَ ، قَالَ : قُلْتُ لابْنِ عَبَّاسٍ : مَا كَانَ أَبُوكَ يَقُولُ إِذَا رَكِبَ الدَّابَّةَ ؟ قَالَ : كَانَ يَقُولُ : " اللَّهُمَّ إِنَّ هَذَا مِنْ رِزْقِكَ وَمِنْ عَطَائِكَ فَلَكَ الْحَمْدُ رَبَّنَا عَلَى نِعْمَتِكَ سُبْحَانَ الَّذِي سَخَّرَ لَنَا هَذَا وَمَا كُنَّا لَهُ مُقْرِنِينَ " .
نوید مجید طیب
سفیان رحمہ اللہ کہتے ہیں میں نے طاؤس رحمہ اللہ کے بیٹے سے پوچھا جب آپ کے والد صاحب سواری پر سوار ہوتے تو کیا کہتے تھے تو کہنے لگے کہ وہ کہتے تھے : ”اے اللہ! یہ تیرا دیا ہوا رزق اور تیری عطا ہے اے رب ! تیری نعمت پر تیری ہی تعریف ہے، (پاک ہے وہ ذات جس نے یہ ہمارے لیے مسخر کر دی حالانکہ ہمیں اسے قابو کرنے کی طاقت نہیں تھی۔)
حدیث نمبر: 378
عَنْ سَعِيدِ بْنِ سَلَمَةَ الْكَلْبِيِّ ، عَنْ جَعْفَرِ بْنِ مُحَمَّدٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " افْعَلُوا الْمَعْرُوفَ إِلَى مَنْ هُوَ أَهْلُهُ وَإِلَى مَنْ لَيْسَ بِأَهْلِهِ فَإِنْ أَصَبْتُمْ أَهْلَهُ فَقَدْ أَصَبْتُمْ أَهْلَهُ وَإِنْ لَمْ تُصِيبُوا أَهْلَهُ فَأَنْتُمْ أَهْلُهُ " .
نوید مجید طیب
جعفر بن محمد رحمہ اللہ اپنے باپ سے بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ”جو نیکی کا اہل ہے یا اہل نہیں ہے تم اس کے ساتھ نیکی ہی کرو، اگر تم نے اہل آدمی سے نیکی کی تو درست پہنچ گئے اور اگر نا اہل سے نیکی کی تو تم تو نیکی کی اہلیت رکھتے ہونا۔“
حدیث نمبر: 379
عَنِ الْقَاسِمِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ بْنِ حَفْصٍ ، عَنْ جَعْفَرِ بْنِ مُحَمَّدٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، أَنَّ رِجَالا مِنْ قُرَيْشٍ دَخَلُوا عَلَى أَبِيهِ عَلِيِّ بْنِ الْحُسَيْنِ فَقَالَ : أَلا أُحَدِّثُكُمْ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ؟ قَالُوا : بَلَى فَحَدَّثَنَا عَنْ أَبِي الْقَاسِمِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : لَمَّا مَرِضَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ جَاءَهُ جِبْرِيلُ عَلَيْهِ السَّلامُ ، فَقَالَ : يَا مُحَمَّدُ ، أَرْسَلَنِي اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ إِلَيْكَ تَكْرِيمًا لَكَ وَتَشْرِيفًا لَكَ وَخَاصَّةً لَكَ أَسْأَلُكَ عَمَّا هُوَ أَعْلَمُ بِهِ مِنْكَ يَقُولُ : كَيْفَ تَجِدُكَ ، قَالَ : " أَجِدُنِي يَا جِبْرِيلُ مَغْمُومًا وَأَجِدُنِي يَا جِبْرِيلُ مَكْرُوبًا " ثُمَّ جَاءَهُ الْيَوْمَ التَّالِي فَقَالَ ذَلِكَ لَهُ ، فَرَدَّ عَلَيْهِ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَمَا رَدَّ أَوَّلَ يَوْمٍ ، ثُمَّ جَاءَهُ الْيَوْمَ الثَّالِثَ فَقَالَ لَهُ كَمَا قَالَ لَهُ أَوَّلَ يَوْمٍ وَرَدَّ عَلَيْهِ كَمَا رَدَّ وَجَاءَ مَعَهُ مَلَكٌ يُقَالُ لَهُ : إِسْمَاعِيلُ ، عَلَى مِائَةِ أَلْفِ مَلَكٍ ، كُلُّ مَلَكٍ مِنْهُمْ عَلَى مِائَةِ أَلْفِ مَلَكٍ ، فَاسْتَأْذَنَ فَسَأَلَ عَنْهُ ، ثُمَّ قَالَ جِبْرِيلُ عَلَيْهِ السَّلامُ : هَذَا مَلَكُ الْمَوْتِ يَسْتَأْذِنُ عَلَيْكَ مَا اسْتَأْذَنَ عَلَى آدَمِيٍّ قَبْلَكَ وَلا يَسْتَأْذِنُ عَلَى آدَمِيٍّ بَعْدَكَ ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " ائْذَنْ لَهُ " فَأَذِنَ لَهُ فَسَلَّمَ عَلَيْهِ ثُمَّ قَالَ : يَا مُحَمَّدُ إِنَّ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ أَرْسَلَنِي إِلَيْكَ ، فَإِنْ أَمَرْتَنِي أَنْ أَقْبِضَ رُوحَكَ قَبَضْتُهُ ، وَإِنْ أَمَرْتَنِي أَنْ أَتْرُكَهُ تَرَكْتُهُ ، قَالَ : " أَوَتَفْعَلُ يَا مَلَكُ الْمَوْتِ ؟ " قَالَ : نَعَمْ ، وَبِذَلِكَ أُمِرْتُ وَأُمِرْتُ أَنْ أُطِيعَكَ ، قَالَ : فَنَظَرَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَى جِبْرِيلَ عَلَيْهِ السَّلامُ فَقَالَ جِبْرِيلُ : يَا مُحَمَّدُ إِنَّ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ اشْتَاقَ إِلَى لِقَائِكَ ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِمَلَكِ الْمَوْتِ : " امْضِ لِمَا أُمِرْتَ بِهِ " ، فَقَبَضَ رُوحَهُ فَلَمَّا تُوُفِّيَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَجَاءَتِ التَّعْزِيَةُ سَمِعُوا صَوْتًا مِنْ نَاحِيَةِ الْبَيْتِ : سَلامٌ عَلَيْكُمْ أَهْلَ الْبَيْتِ وَرَحْمَةُ اللَّهِ وَبَرَكَاتُهُ إِنَّ فِيَ اللَّهِ عَزَاءً مِنْ كُلِّ مُصِيبَةٍ وَخَلَفًا مِنْ كُلِّ هَالِكٍ وَدَرَكًا مِنْ كُلِّ مَا فَاتَ فَبِاللَّهِ فَثِقُوا وَإِيَّاهُ فَارْجُوا فَإِنَّمَا الْمُصَابُ مَنْ حُرِمَ الثَّوَابَ . فَقَالَ عَلِيٌّ عَلَيْهِ السَّلامُ : تَدْرُونَ مَنْ هَذَا ؟ هَذَا الْخَضِرُ عَلَيْهِ السَّلامُ .
نوید مجید طیب
جعفر بن محمد اپنے باپ سے روایت کرتے ہیں کہ کچھ قریشی اُن کے والد علی بن حسین کے پاس آئے تو انہوں نے کہا کہ کیا میں تمہیں رسول اللہ ﷺ کے بارے میں کچھ بیان نہ کروں قریشیوں نے کہا کیوں نہیں ضرور ہمیں ابو القاسم سے بیان کریں تو فرمایا جب رسول اللہ ﷺ بیمار تھے تو اُن کے پاس جبریل علیہ السلام آئے کہنے لگے ”اے محمد ! مجھے اللہ تعالیٰ نے آپ کی حوصلہ افزائی اور عزت بخشنے کے لیے بھیجا ہے جو کہ آپ ﷺ کے ساتھ خاص ہے کہ آپ سے پوچھوں حالانکہ اللہ تعالیٰ کو زیادہ علم ہے اللہ تعالیٰ پوچھ رہے ہیں آپ کی طبیعت کیسی ہے؟“ آپ ﷺ نے فرمایا : ”اے جبرائیل علیہ السلام حالت غمزدہ اور تکلیف ہے (بیماری اور زہر کے اثر کی وجہ سے جو خیبر میں یہودن نے دیا تھا)۔“ پھر دوسرے دن جبریل علیہ السلام آئے پھر حال پوچھا تو آپ ﷺ نے وہی جواب دیا پھر تیسرے دن آئے تو پھر آپ ﷺ نے وہی جواب دیا اس دن جبریل علیہ السلام کے ہمراہ ایک اسماعیل نامی فرشتہ بھی آیا جو ایک لاکھ فرشتہ ساتھ لایا ان میں سے ہر ایک کے ساتھ ایک لاکھ فرشتہ تھا اس نے بھی اجازت طلب کی تو آپ ﷺ سے اس نے بھی حال احوال پوچھا پھر جبریل علیہ السلام کہنے لگے یہ ملک الموت بھی آگئے ہیں آپ سے روح قبض کرنے کے بارے میں اجازت طلب کر رہے ہیں حالانکہ آپ ﷺ سے پہلے کسی سے کبھی اجازت طلب نہیں کی اور نہ آپ کے بعد کسی آدمی سے اجازت طلب کریں گے تو آپ ﷺ نے اندر آنے کی اجازت دی اُس نے بھی سلام کیا پھر فرمایا : ”اے محمد ﷺ بے شک اللہ تعالیٰ نے مجھے بھیجا ہے کہ اگر اجازت ہوئی تو روح قبض کر لینا اور اگر آپ ﷺ کا حکم ہو چھوڑ دو تو چھوڑ آنا“ آپ ﷺ نے فرمایا : ”اے موت کے فرشتے کیا تو میری بات سنے گا ؟“ فرشتے نے کہا: ”ہاں مجھے یہی حکم ہے کہ آپ کی اطاعت کروں“ تو رسول اللہ ﷺ نے جبریل علیہ السلام کی طرف دیکھا جبریل علیہ السلام کہنے لگے ”اللہ تعالیٰ آپ کی ملاقات کے مشتاق ہیں“ تو نبی اکرم ﷺ نے ملک الموت سے فرمایا: ”حکم کی پابندی کرو۔ میری روح قبض کرو“ جب رسول اللہ ﷺ فوت ہو گئے تعزیت کی آواز صحابہ نے گھر کے کونے سے سنی کہ ”اے اہل بیت! تم پر سلامتی ہو اللہ کی رحمت، برکت ہو، اللہ کے لیے لواحقین سے تعزیت ہے اللہ جانے والے کا حلیف بنائے ہر کمی کو پورا کرے، اللہ پر بھروسہ رکھو اس پر امید رکھو مصیبت پر صبر کرنے سے اجر ملتا ہے۔“ تو سیدنا علی نے فرمایا: ”جانتے ہو یہ کون تعزیت کر رہا ہے یہ خضر علیہ السلام ہیں۔“
وضاحت:
➊ یہ مبنی بر سفید جھوٹ ہے، اس کی سند میں قاسم عمری رحمہ اللہ مدنی کذاب راوی ہے، امام احمد رحمہ اللہ نے فرمایا کہ یہ جھوٹا آدمی ہے اور احادیث گھڑتا رہتا تھا، یہ روایت طبرانی میں بھی وارد ہوئی ہے جس میں عبداللہ بن میمون القداح ابو حاتم رحمہ اللہ متروک راوی ہے۔ [صحیح بخاری: 5384]
➋ اللہ تعالیٰ نے اپنے نبی صلى الله عليه وسلم کو دنیا میں رہنے اور آخرت کو اختیار کرنے کا اختیار دیا تھا جیسا کہ رسول اللہ صلى الله عليه وسلم نے آخری خطبہ میں ارشاد فرمایا: «عبد خيره الله بين أن يؤتيه زهرة الدنيا وبين ما عنده فاختار ما عنده» [صحیح بخاری: 3940]
اللہ تعالیٰ کا ایک بندہ ہے جس کو اللہ نے اختیار دیا ہے کہ چاہے دنیا کی دولت لے لے اور چاہے اللہ تعالیٰ کے ہاں کو اختیار کرے، اس نے اللہ کے ہاں کو پسند کیا۔
➌ ام المومنین سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ نبی اکرم صلى الله عليه وسلم نے اپنی آخری بیماری میں، جس کے بعد آپ کی وفات ہو گئی، فرمایا: «اللهم فى الرفيق الأعلى»
اے اللہ! مجھے میرے رفقاء اعلیٰ انبیاء و صدیقین میں پہنچا دے۔ [صحیح بخاری: 4437]
➍ ملک الموت نے موسیٰ علیہ السلام سے بھی ان کی روح مبارک قبض کرنے سے قبل اجازت چاہی تھی۔ [صحیح بخاری: 1339]
➋ اللہ تعالیٰ نے اپنے نبی صلى الله عليه وسلم کو دنیا میں رہنے اور آخرت کو اختیار کرنے کا اختیار دیا تھا جیسا کہ رسول اللہ صلى الله عليه وسلم نے آخری خطبہ میں ارشاد فرمایا: «عبد خيره الله بين أن يؤتيه زهرة الدنيا وبين ما عنده فاختار ما عنده» [صحیح بخاری: 3940]
اللہ تعالیٰ کا ایک بندہ ہے جس کو اللہ نے اختیار دیا ہے کہ چاہے دنیا کی دولت لے لے اور چاہے اللہ تعالیٰ کے ہاں کو اختیار کرے، اس نے اللہ کے ہاں کو پسند کیا۔
➌ ام المومنین سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ نبی اکرم صلى الله عليه وسلم نے اپنی آخری بیماری میں، جس کے بعد آپ کی وفات ہو گئی، فرمایا: «اللهم فى الرفيق الأعلى»
اے اللہ! مجھے میرے رفقاء اعلیٰ انبیاء و صدیقین میں پہنچا دے۔ [صحیح بخاری: 4437]
➍ ملک الموت نے موسیٰ علیہ السلام سے بھی ان کی روح مبارک قبض کرنے سے قبل اجازت چاہی تھی۔ [صحیح بخاری: 1339]
حدیث نمبر: 380
عَنْ عَنْ عَبْدِ الْمَجِيدِ بْنِ أَبِي رَوَّادٍ ، عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا ابْنُ شِهَابٍ ، عَنْ حَدِيثِ سَالِمِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ ، أَنَّ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عُمَرَ ، " كَانَ يُفْتِي الرَّجُلَ إِذَا رَعَفَ فِي صَلاتِهِ أَوْ ذَرَعَهُ قَيْءٌ أَوْ وَجَدَ مَذْيًا أَنْ يَنْصَرِفَ ثُمَّ يَرْجِعَ فَيَبْنِيَ عَلَى مَا بَقِيَ مِنْ صَلاتِهِ " . قَالَ سَالِمٌ : وَكَانَ مِسْوَرُ بْنُ مَخْرَمَةَ يَقُولُ : يَبْتَدِئُ صَلاتَهُ .
نوید مجید طیب
سالم بن عبد اللہ کہتے ہیں سیدنا عبد اللہ بن عمر فتویٰ دیتے تھے کہ ”نماز میں قے آ جائے یا مذی نکل جائے تو آدمی واپس پلٹ جائے وضو کر کے آئے نماز جہاں سے چھوڑی تھی وہاں سے شروع کر لے۔“ سالم کہتے ہیں کہ مسور بن محزمہ کہتے ہیں: ”آدمی نئے سرے سے نماز پڑھے گا۔“
وضاحت:
➊ صحیح اور راجح بات یہی ہے کہ قے سے وضو نہیں ٹوٹتا البتہ مذی سے ٹوٹ جاتا ہے۔ [صحیح بخاری: 132]
➋ نماز نئے سرے سے پڑھنی پڑے گی۔ یہی فتویٰ درست ہے۔
➌ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: «من أصابه قيء أو رعاف أو قلس أو مذي فلينصرف فليتوضأ ثم ليبن على صلاته وهو فى ذلك لا يتكلم»
جس شخص کو نماز میں قے آ جائے یا نکسیر پھوٹ پڑے یا پیٹ سے کوئی چیز منہ میں آ جائے یا مذی نکل آئے تو اسے چاہیے کہ نماز چھوڑ کر چلا جائے، نیا وضو کرے اور پھر اپنی نماز وہیں سے شروع کرے جہاں سے اس نے چھوڑی بشرطیکہ اس دوران وہ کلام نہ کرے۔
مندرجہ بالا روایت ضعیف ہے۔ [سنن ابن ماجہ: 1221]
➋ نماز نئے سرے سے پڑھنی پڑے گی۔ یہی فتویٰ درست ہے۔
➌ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: «من أصابه قيء أو رعاف أو قلس أو مذي فلينصرف فليتوضأ ثم ليبن على صلاته وهو فى ذلك لا يتكلم»
جس شخص کو نماز میں قے آ جائے یا نکسیر پھوٹ پڑے یا پیٹ سے کوئی چیز منہ میں آ جائے یا مذی نکل آئے تو اسے چاہیے کہ نماز چھوڑ کر چلا جائے، نیا وضو کرے اور پھر اپنی نماز وہیں سے شروع کرے جہاں سے اس نے چھوڑی بشرطیکہ اس دوران وہ کلام نہ کرے۔
مندرجہ بالا روایت ضعیف ہے۔ [سنن ابن ماجہ: 1221]
حدیث نمبر: 381
وَأَخْبَرَنَا عَبْدُ الْمَجِيدِ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ ، عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ ، قَالَ : أَخْبَرَنِي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عُثْمَانَ ، عَنْ نَافِعِ بْنِ سَرْجِسٍ ، قَالَ : عُدْنَا أَبَا وَاقِدٍ الْبَدْرِيَّ فِي وَجَعِهِ الَّذِي مَاتَ فِيهِ فَسَمِعْتُهُ يَقُولُ : كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " أَخَفَّ النَّاسِ صَلاةً عَلَى النَّاسِ وَأَطْوَلَ النَّاسِ صَلاةً لِنَفْسِهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " .
نوید مجید طیب
نافع بن سرجس رحمہ اللہ سے روایت ہے کہ ہم ابو واقد بدری کی عیادت کے لیے گئے اسی بیماری میں جس میں وہ وفات پا گئے تھے تو میں نے اُن کو فرماتے ہوئے سنا: ”رسول اللہ ﷺ عام لوگوں کو ہلکی نماز پڑھاتے تھے اور خود اکیلے بہت لمبی نماز پڑھتے تھے۔“
وضاحت:
➊ ہماری حالت اس کے برعکس ہے کہ لوگوں کو لمبی اور خود ہلکی نماز پڑھاتے ہیں، درستگی لازم ہے۔
➋ صحابہ رضی اللہ عنہم مرض الموت میں بھی احادیث رسول صلی اللہ علیہ وسلم ہی بیان کرتے تھے۔
➌ سیدنا ثوبان رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جب کوئی مسلمان اپنے مسلمان بھائی کی عیادت کرتا ہے تو وہ واپس آنے تک جنت کے میوے چنے میں مصروف رہتا ہے۔ [صحیح مسلم: 2568]
➋ صحابہ رضی اللہ عنہم مرض الموت میں بھی احادیث رسول صلی اللہ علیہ وسلم ہی بیان کرتے تھے۔
➌ سیدنا ثوبان رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جب کوئی مسلمان اپنے مسلمان بھائی کی عیادت کرتا ہے تو وہ واپس آنے تک جنت کے میوے چنے میں مصروف رہتا ہے۔ [صحیح مسلم: 2568]
حدیث نمبر: 382
وَأَخْبَرَنَا عَبْدُ الْمَجِيدِ ، قَالَ : حَدَّثَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ ، قَالَ : أَخْبَرَنِي عَامِرُ بْنُ مُصْعَبٍ ، أَنَّ طَاوُسًا ، أخْبَرَهُ أَنَّهُ ، سَأَلَ ابْنَ عَبَّاسٍ عَنِ الرَّكْعَتَيْنِ بَعْدَ الْعَصْرِ فَنَهَاهُ عَنْهُمَا ، قَالَ : فَقُلْتُ : مَا أَدَعُهُمَا ، فَقَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ : " وَمَا كَانَ لِمُؤْمِنٍ وَلا مُؤْمِنَةٍ إِذَا قَضَى اللَّهُ وَرَسُولُهُ أَمْرًا أَنْ يَكُونَ لَهُمُ الْخِيَرَةُ مِنْ أَمْرِهِمُ الآيَةَ " .
نوید مجید طیب
امام طاوس رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ میں نے سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہ سے عصر کے بعد دو رکعت پڑھنے کے بارے میں دریافت کیا تو انہوں نے منع کیا میں نے کہا کیا میں یہ چھوڑ دوں؟ تو سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہ نے فرمایا : کسی مومن مرد اور نہ ہی کسی مومنہ عورت کے لیے یہ جائز ہے کہ جب اللہ اور اس کے رسول کا فیصلہ آجائے وہ اپنا اختیار استعمال کریں۔
وضاحت:
➊ ادھر فرمان محمد صلی اللہ علیہ وسلم ہوا ادھر گردن جھکائی، مومن کی یہی شان ہے۔
➋ نماز عصر کے بعد جب تک سورج کی ٹکیہ سفید ہو نماز پڑھنا جائز ہے، جیسے ہی سورج زرد ہو جائے نماز کا ممنوعہ وقت شروع ہو جاتا ہے۔
➋ نماز عصر کے بعد جب تک سورج کی ٹکیہ سفید ہو نماز پڑھنا جائز ہے، جیسے ہی سورج زرد ہو جائے نماز کا ممنوعہ وقت شروع ہو جاتا ہے۔
حدیث نمبر: 383
عَنْ عَبْدِ الْوَهَّابِ بْنِ عَبْدِ الْمَجِيدِ ، عَنْ خَالِدٍ الْحَذَّاءِ ، عَنْ أَبِي قِلابَةَ ، عَنِ النُّعْمَانِ بْنِ بَشِيرٍ ، قَالَ : كَسَفَتِ الشَّمْسُ عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَخَرَجَ فَزِعًا يَجُرُّ ثَوْبَهُ ، فَلَمْ يَزَلْ يُصَلِّي حَتَّى انْجَلَتْ فَلَمَّا انْجَلَتْ ، قَالَ : " إِنَّ نَاسًا يَزْعُمُونَ أَنَّ الشَّمْسَ وَالْقَمَرَ لا يَكْسِفَانِ إِلا لِمَوْتِ عَظِيمٍ مِنَ الْعُظَمَاءِ وَلَيْسَ كَذَلِكَ إِنَّ الشَّمْسَ وَالْقَمَرَ لا يَنْكَسِفَانِ لِمَوْتِ أَحَدٍ وَلا لِحَيَاتِهِ فَإِذَا رَأَيْتُمْ ذَلِكَ فَصَلُّوا " .
نوید مجید طیب
سیدنا نعمان بن بشیر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ عہد نبوی میں سورج گرہن لگ گیا تو رسول اللہ ﷺ گھبراہٹ سے چادر گھسیٹتے ہوئے آئے گرہن صاف ہونے تک نماز جاری رکھی، جب مطلع صاف ہو گیا فرمایا : ”لوگوں کا خیال ہے کہ سورج و چاند کا گرہن کسی بڑے کی موت کے باعث ہوتا ہے۔ (وہ بھی اظہار غم کرتے ہیں) حالانکہ ایسا بالکل نہیں شمس و قمر کو گرہن کسی کی موت و زندگی سے نہیں لگتا (یہ اللہ کی نشانیاں ہیں) جب گرہن دیکھو نماز پڑھو۔“
وضاحت:
➊ معلوم ہوا حادثات کے وقت انسان کو اللہ تعالیٰ کی طرف رجوع کرنا چاہیے اور توبہ تائب ہونا چاہیے۔
➋ نماز کسوف کی تفصیل کے لیے دیکھیے شرح حدیث نمبر 52۔
➋ نماز کسوف کی تفصیل کے لیے دیکھیے شرح حدیث نمبر 52۔
حدیث نمبر: 384
وَسَمِعْتُ عَبْدَ الْوَهَّابِ بْنَ عَبْدِ الْمَجِيدِ الثَّقَفِيَّ ، يُحَدِّثُ عَنْ خَالِدٍ الْحَذَّاءِ ، عَنْ أَبِي الْمَلِيحِ ، عَنْ نُبَيْشَةَ ، قَالَ : سَأَلَ رَجُلٌ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَقَالَ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، إِنَّا كُنَّا نَعْتِرُ عَتِيرَةً فِي رَجَبَ فَمَا تَأْمُرُنَا ؟ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " ادْعُوا اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ فِي أَيِّ شَهْرٍ كَانَ وَبَرُّوا اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ وَأَطْعِمُوا " . قَالَ أَبُو جَعْفَرٍ : سَمِعْتُ الْمُزَنِيَّ يَقُولُ : " وَبَرُّوا اللَّهَ " أَوْ " أَوْثِرُوا اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ " الشَّكُّ مِنَ الْمُزَنِيِّ .
نوید مجید طیب
سیدنا نبیشہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے ایک آدمی نے رسول اللہ ﷺ سے سوال کیا کہ ”اے اللہ کے رسول ﷺ! ہم رجب (کے پہلے دس دنوں) میں جانور ذبح کرتے ہیں اس کے بارے میں آپ کا کیا حکم ہے؟“ تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : (رجب کے ساتھ کیوں خاص کیا ہوا ہے) ”اللہ تعالیٰ (کی رضا) کے لیے ذبح کرو جو بھی مہینہ ہو، اللہ تعالیٰ کی رضا کے لیے نیکی کرو کھانا کھلاؤ۔“
حدیث نمبر: 385
عَنِ الثَّقَفِيِّ ، عَنْ خَالِدٍ الْحَذَّاءِ ، عَنْ أَبِي الْمَلِيحِ ، عَنْ نُبَيْشَةَ ، قَالَ : سَأَلَ رَجُلٌ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَقَالَ : يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنَّا كُنَّا نُفْرِعُ فَرَعًا فِي الْجَاهِلِيَّةِ فَمَا تَأْمُرُنَا ؟ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " فِي كُلِّ سَائِمَةٍ فَرَعٌ تَغْذُوهُ مَاشِيَتُكَ حَتَّى إِذَا اسْتَحْمَلَ ذَبَحْتَهُ وَأَطْعَمْتَهُ فَإِنَّ ذَلِكَ هُوَ خَيْرٌ لَكَ " .
نوید مجید طیب
سیدنا نبیشہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ایک بندے نے نبی اکرم ﷺ سے پوچھا ”اے اللہ کے رسول ﷺ! ہم زمانہ جاہلیت میں فرع (جانور کا پہلا بچہ) ذبح کیا کرتے تھے آپ ﷺ کا کیا حکم ہے؟“ تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”ہر قسم کے سائمة (چرنے والے جانوروں) میں سے کوئی جانور ذبح کرنا چاہیے مگر اس طرح کہ اسے ماں دودھ پلائے یہاں تک کے سواری کے قابل ہو جائے تو (جوان ہو جائے) پھر ذبح کر اور تو اسے چارا کھلا یہ تیرے لیے بہتر ہے۔“
وضاحت:
➊ نیکی کو کسی ماہ میں خاص کر لینا یا ایسی قید لگا دینا جو اللہ تعالیٰ نے نہیں لگائی، دین میں اپنے اختیار استعمال کرنے کے مترادف ہے جو کہ بدعت اور کبیرہ گناہ ہے۔ اسی طرح اذکار اپنی طرف سے خاص کر لینا اور اس طرح کی قیود لگانا ان احادیث سے ثابت ہوتا ہے کہ جائز نہیں، اگر اذکار شریعت کے ہیں تو طریقہ بھی شریعت کا ہی چلے گا اپنا نہیں۔
➋ فرع: اونٹنی کا پہلا بچہ، زمانہ جاہلیت میں لوگ بتوں کے نام ذبح کرتے، اس کا چمڑا درخت پر ڈالتے اور گوشت کھاتے تھے۔ [سنن ابی داؤد: 2833]
جب اسلام آیا تو وہم پرستی کا خاتمہ ہوا۔ حجۃ الوداع میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے لوگوں نے منی کے مقام پر پوچھا کہ اسلام فرع کے بارے میں کیا کہتا ہے تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے رہنمائی کی کہ اللہ کے نام پر ذبح کیا جا سکتا ہے لیکن بہتر یہ ہے کہ اسے جوان ہونے دیا کرو۔ اس بچے کو ذبح کر کے نہ تمہارا پیٹ بھرے گا اور نہ غریب مسکین کا، اونٹنی غم کے باعث دودھ کم کر دے گی اور بچے کی محبت میں اونٹنی پریشان ہوگی۔ [سنن ابی داؤد: 2842]
لہذا جانور جوان ہونے دیا کرو جب جوان ہو جائے تو مرضی ہے، پھر صدقہ کرو، جہاد کے لیے دو، کسی بیوہ کو دو یا ذبح کر کے کھانا کھلاؤ، یہ بہتر کام ہے۔
➌ عتیرہ:
لوگ زمانہ جاہلیت میں ماہ رجب کے پہلے دس دنوں میں اپنے اپنے اعتقاد کے مطابق جانور ذبح کرتے تھے، تو اسلام نے ماہ رجب کی قید سے بھی انسانیت کو آزاد کیا۔
➍ دنوں کی تخصیص بغرض عبادت و شعائر یہ اللہ تعالیٰ کا حق ہے، انسان اپنی طرف سے متعین نہیں کر سکتا جیسے بدعتیوں نے عید میلاد النبی اور بے شمار اذکار و عبادات خود سے مخصوص کر لیے ہیں۔
➎ سیدنا عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ہر نبی کے حواری اور اصحاب تھے جو اپنے نبی کی سنت پر عمل کرتے تھے اور حکم کو من و عن تسلیم کرتے تھے، ان کے بعد ایسے نالائق آئے جو دعویٰ کچھ کرتے تھے اور عمل کچھ کرتے تھے یعنی کہتے کچھ تھے اور کرتے کچھ تھے اور ایسی عبادات پر عمل پیرا تھے جن کا حکم نہ اللہ نے دیا نہ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے۔ تو جو ایسے لوگوں سے اپنے ہاتھ سے جہاد کرے، قلم اٹھائے یا تلوار یا جو اُن کے خلاف زبان سے جہاد کرے وہ مومن ہے اور جو دل سے ان کے خلاف جہاد کرے وہ مومن ہے لیکن اس درجے کے بعد رائی کے دانے کے برابر بھی ایمان نہیں۔ [صحیح مسلم: 50]
➏ مزید مسائل کی توضیح کے لیے دیکھیے حدیث نمبر: 398، 399۔
➋ فرع: اونٹنی کا پہلا بچہ، زمانہ جاہلیت میں لوگ بتوں کے نام ذبح کرتے، اس کا چمڑا درخت پر ڈالتے اور گوشت کھاتے تھے۔ [سنن ابی داؤد: 2833]
جب اسلام آیا تو وہم پرستی کا خاتمہ ہوا۔ حجۃ الوداع میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے لوگوں نے منی کے مقام پر پوچھا کہ اسلام فرع کے بارے میں کیا کہتا ہے تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے رہنمائی کی کہ اللہ کے نام پر ذبح کیا جا سکتا ہے لیکن بہتر یہ ہے کہ اسے جوان ہونے دیا کرو۔ اس بچے کو ذبح کر کے نہ تمہارا پیٹ بھرے گا اور نہ غریب مسکین کا، اونٹنی غم کے باعث دودھ کم کر دے گی اور بچے کی محبت میں اونٹنی پریشان ہوگی۔ [سنن ابی داؤد: 2842]
لہذا جانور جوان ہونے دیا کرو جب جوان ہو جائے تو مرضی ہے، پھر صدقہ کرو، جہاد کے لیے دو، کسی بیوہ کو دو یا ذبح کر کے کھانا کھلاؤ، یہ بہتر کام ہے۔
➌ عتیرہ:
لوگ زمانہ جاہلیت میں ماہ رجب کے پہلے دس دنوں میں اپنے اپنے اعتقاد کے مطابق جانور ذبح کرتے تھے، تو اسلام نے ماہ رجب کی قید سے بھی انسانیت کو آزاد کیا۔
➍ دنوں کی تخصیص بغرض عبادت و شعائر یہ اللہ تعالیٰ کا حق ہے، انسان اپنی طرف سے متعین نہیں کر سکتا جیسے بدعتیوں نے عید میلاد النبی اور بے شمار اذکار و عبادات خود سے مخصوص کر لیے ہیں۔
➎ سیدنا عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ہر نبی کے حواری اور اصحاب تھے جو اپنے نبی کی سنت پر عمل کرتے تھے اور حکم کو من و عن تسلیم کرتے تھے، ان کے بعد ایسے نالائق آئے جو دعویٰ کچھ کرتے تھے اور عمل کچھ کرتے تھے یعنی کہتے کچھ تھے اور کرتے کچھ تھے اور ایسی عبادات پر عمل پیرا تھے جن کا حکم نہ اللہ نے دیا نہ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے۔ تو جو ایسے لوگوں سے اپنے ہاتھ سے جہاد کرے، قلم اٹھائے یا تلوار یا جو اُن کے خلاف زبان سے جہاد کرے وہ مومن ہے اور جو دل سے ان کے خلاف جہاد کرے وہ مومن ہے لیکن اس درجے کے بعد رائی کے دانے کے برابر بھی ایمان نہیں۔ [صحیح مسلم: 50]
➏ مزید مسائل کی توضیح کے لیے دیکھیے حدیث نمبر: 398، 399۔