کتب حدیثالسنن المأثورةابوابباب: دفینہ کی زکاۃ کا بیان
حدیث نمبر: 360
عَنْ سُفْيَانَ بْنِ عُيَيْنَةَ ، وَمَالِكِ بْنِ أَنَسٍ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيِّبِ ، وَأَبِي سَلَمَةَ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " وَفِي الرِّكَازِ الْخُمُسُ " . ═════ متابعت ═════ حَدَّثَنَا يُونُسُ بْنُ عَبْدِ الأَعْلَى ، قَالَ : حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيِّبِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " وَفِي الرِّكَازِ الْخُمُسُ " . فَقَالَ لَهُ السَّائِلُ : يَا أَبَا مُحَمَّدٍ ، تَعْنِي سُفْيَانَ مَعَهُ أَبُو سَلَمَةَ ؟ فَقَالَ : إِنْ كَانَ مَعَهُ فَهُوَ مَعَهُ .
نوید مجید طیب
سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”دفن شدہ خزانے میں پانچواں حصہ (بیت المال) کا ہے۔“
حوالہ حدیث السنن المأثورة / باب الحق في الركاز / حدیث: 360
تخریج حدیث صحیح بخاری، الزکاۃ، باب فی الرکاز الخمس، رقم : 1499، صحیح مسلم، الحدود، باب جرح العجماء والمعدن والبئر جبار، رقم : 1710۔ دیکھئے: صحیح بخاری، رقم الحدیث: 1483 ، صحیح مسلم، رقم الحدیث: 981
حدیث نمبر: 361
عَنْ مَالِكٍ ، عَنْ أَبِي الزِّنَادِ ، عَنِ الأَعْرَجِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " وَفِي الرِّكَازِ الْخُمُسُ " .
نوید مجید طیب
سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : ”دفن شدہ خزانہ ملنے پر پانچواں حصہ زکاۃ ہے۔“
وضاحت:
➊ کسی بنجر و بے آباد زمین کی کھدائی میں خزانہ مل جائے تو اس کا پانچواں حصہ بیت المال میں عام مسلمانوں کی منفعت کے لیے دینا شرعی قانون ہے، چونکہ مال بلا مشقت ملا ہے اور اس مال کا مالک نامعلوم ہے، اس کو پاک اور حلال کر کے کھانے کا یہی طریقہ ہے کہ خمس ادا کیا جائے۔
➋ جس کی ادائیگی کے بعد بقیہ مال اس شخص کی ملکیت ہوگا جس کو خزانہ ملا ہے۔
➌ آج کل ایسے اموال کو حکومتِ وقت کا مکمل طور پر قبضے میں لے لینا غیر شرعی ہے۔
حوالہ حدیث السنن المأثورة / باب الحق في الركاز / حدیث: 361
تخریج حدیث مسند الحمیدی، رقم : 1080 ، مسند احمد : 527/11، رقم : 8971 وقال الارنوؤط: صحیح
حدیث نمبر: 362
أَنْبَأَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ ، عَنِ الْحَارِثِ ، عَنْ عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " قَدْ تَجَاوَزْنَا لَكُمْ عَنْ صَدَقَةِ الْخَيْلِ وَالرَّقِيقِ " .
نوید مجید طیب
سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : ”ہم نے گھوڑوں اور غلاموں کی زکاۃ تم پر معاف کر دی ہے (یعنی ان میں زکاۃ نہیں)“
حوالہ حدیث السنن المأثورة / باب الحق في الركاز / حدیث: 362
تخریج حدیث سنن ابن ماجہ الزکاۃ، باب صدقۃ الخیل والرقیق، رقم : 1813 وقال الالبانی صحیح ، مسند احمد : 334/2، رقم : 1097 وقال الارنوؤط: صحیح لغیرہ
حدیث نمبر: 363
وَحَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ دِينَارٍ ، أَنَّهُ سَمِعَ سُلَيْمَانَ بْنَ يَسَارٍ ، يُحَدِّثُ عَنْ عِرَاكِ بْنِ مَالِكٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " لَيْسَ عَلَى الْمُسْلِمِ فِي عَبْدِهِ وَلا فِي فَرَسِهِ صَدَقَةٌ " .
نوید مجید طیب
سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : ”مسلمان پر اس کے غلام اور گھوڑے میں زکاۃ نہیں ہے۔“
حوالہ حدیث السنن المأثورة / باب الحق في الركاز / حدیث: 363
تخریج حدیث سنن ابن ماجہ الزکاۃ، باب صدقۃ الخیل والرقیق، رقم : 1812 وقال الالبانی صحیح، مسند احمد : 150/16، رقم : 10187 وقال الارنوؤط: اسنادہ صحیح علی شرط الشیخین
حدیث نمبر: 364
عَنْ مَالِكِ بْنِ أَنَسٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ دِينَارٍ ، عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ يَسَارٍ ، عَنْ عِرَاكِ بْنِ مَالِكٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " لَيْسَ عَلَى الْمُسْلِمِ فِي عَبْدِهِ وَلا فِي فَرَسِهِ صَدَقَةٌ " .
نوید مجید طیب
سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : ”مسلمان پر اس کے غلام اور اس کے گھوڑے میں کوئی زکاۃ نہیں۔“
وضاحت:
➊ مویشیوں میں سے صرف اونٹ، گائے اور بھیڑ، بکریوں پر زکاۃ واجب ہے۔ گھوڑوں کی زکاۃ سے متعلق اگرچہ اہل علم رحمہ اللہ میں اختلاف ہے تاہم راجح بات یہی ہے کہ ان میں زکاۃ فرض نہیں ہے۔
➋ حدیث میں مذکورہ غلام سے مراد ذاتی خدمت کے لیے رکھا گیا غلام جبکہ گھوڑے سے مراد ذاتی سواری کا گھوڑا ہے۔
➌ اگر غلام اور گھوڑا تجارت کی غرض سے ہوں تو ان پر مال تجارت ہونے کی وجہ سے زکاۃ ہوگی۔
➍ کتاب و سنت میں صدقہ کا کلمہ نفلی صدقہ اور فرضی زکاۃ کے معنی میں مستعمل ہے۔ یہاں احادیث میں صدقہ بمعنی فرضی زکاۃ ہے۔
حوالہ حدیث السنن المأثورة / باب الحق في الركاز / حدیث: 364
تخریج حدیث صحیح بخاری، الزکاۃ، باب لیس علی المسلم فی عبدہ صدقۃ ، رقم : 1463 ، صحیح مسلم ، الزکاۃ، باب لا زکاۃ علی المسلم فی عبدہ و فرسہ ، رقم : 982