حدیث نمبر: 353
أَخْبَرَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ يَحْيَى الْمَازِنِيِّ ، قَالَ : أَخْبَرَنِي أَبِي ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " لَيْسَ فِيمَا دُونَ خَمْسِ ذَوْدٍ صَدَقَةٌ " .
نوید مجید طیب
سیدنا ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”پانچ اونٹوں سے کم میں زکاۃ نہیں۔“
حدیث نمبر: 354
وَأَخْبَرَنَا مَالِكٌ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ يَحْيَى الْمَازِنِيِّ ، عَنْ أَبِيهِ ، قَالَ : سَمِعْتُ أَبَا سَعِيدٍ الْخُدْرِيَّ ، يَقُولُ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " لَيْسَتْ فِيمَا دُونَ خَمْسِ ذَوْدٍ صَدَقَةٌ " .
نوید مجید طیب
سیدنا ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”پانچ اونٹوں سے کم میں زکاۃ نہیں۔“
حدیث نمبر: 355
عَنْ مَالِكِ بْنِ أَنَسٍ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ يَحْيَى الْمَازِنِيِّ ، عَنْ أَبِيهِ ، قَالَ : سَمِعْتُ أَبَا سَعِيدٍ الْخُدْرِيَّ ، يَقُولُ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " وَلَيْسَ فِيمَا دُونَ خَمْسَةِ أَوْسُقٍ صَدَقَةٌ " .
نوید مجید طیب
سیدنا ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”پانچ وسق سے کم میں زکاۃ نہیں ہے۔“
حدیث نمبر: 356
عَنْ مَالِكٍ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ صَعْصَعَةَ الْمَازِنِيِّ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " لَيْسَ فِيمَا دُونَ خَمْسَةِ أَوْسُقٍ مِنَ التَّمْرِ صَدَقَةٌ " .
نوید مجید طیب
سیدنا ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”پانچ وسق سے کم غلے میں زکاۃ نہیں۔“
حدیث نمبر: 357
عَنْ سُفْيَانَ بْنِ عُيَيْنَةَ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ يَحْيَى الْمَازِنِيِّ ، قَالَ : أَخْبَرَنِي أَبِي ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " لَيْسَ فِيمَا دُونَ خَمْسِ أَوَاقٍ صَدَقَةٌ " .
نوید مجید طیب
سیدنا ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”پانچ اوقیہ سے کم چاندی پر زکاۃ نہیں۔“
حدیث نمبر: 358
عَنْ مَالِكِ بْنِ أَنَسٍ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ يَحْيَى الْمَازِنِيِّ ، عَنْ أَبِيهِ ، أَنَّهُ قَالَ : سَمِعْتُ أَبَا سَعِيدٍ الْخُدْرِيَّ ، يَقُولُ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " وَلَيْسَ فِيمَا دُونَ خَمْسَةِ أَوَاقٍ صَدَقَةٌ " .
نوید مجید طیب
سیدنا ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”پانچ اوقیہ سے کم چاندی میں زکاۃ نہیں۔“
حدیث نمبر: 359
عَنْ مَالِكِ بْنِ أَنَسٍ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي صَعْصَعَةَ الْمَازِنِيِّ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " وَلَيْسَ فِيمَا دُونَ خَمْسِ أَوَاقٍ مِنَ الْوَرِقِ صَدَقَةٌ " .
نوید مجید طیب
سیدنا ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”پانچ اوقیہ سے کم چاندی پر زکاۃ نہیں ہے۔“
وضاحت:
➊ نصاب سے کم مال میں زکاۃ فرض نہیں ہے۔
➋ اونٹوں کا نصابِ زکاۃ پانچ اونٹوں سے شروع ہوتا ہے، گائے اور بھینس کا 30 سے اور بکری و بھیڑ کا 40 سے شروع ہوتا ہے۔
➌ چاندی کا ایک اوقیہ 40 درہم کا ہوتا ہے، 5 اوقیہ 200 درہم کا ہوتا ہے یعنی تقریباً ساڑھے باون تولے چاندی یا اتنی مالیتی کرنسی ہو تو اس پر قانونِ زکاۃ لاگو ہوگا، جبکہ سونا ساڑھے سات تولے ہو تو زکاۃ کا قانون لاگو ہوگا، ان پر سال گزرنا شرط ہے۔
➍ غلے کی زکاۃ کٹائی کے وقت ہے اس کے بعد صدیوں غلہ پڑا رہے اس پر زکاۃ نہیں الا یہ کہ کاروبار کے لیے ہو تو کاروبار پر کرنسی کے حساب سے زکاۃ ہوگی۔
➎ غلے کا نصاب 5 وسق ہے، ایک وسق میں 60 ساٹھ صاع ہوتے ہیں اور صاع اڑھائی کلو کا ہوتا ہے، اس اعتبار سے تقریباً 19 من وزن غلہ ہو تو اس پر زکاۃ ہوگی۔
➏ کرنسی، سونا اور چاندی کو اڑھائی فیصد یعنی کل رقم کو چالیس سے تقسیم کریں جو جواب ہوگا وہ اڑھائی فیصد ہے، وہی زکاۃ ہے۔
➐ جانور کا اپنا اپنا حساب ہے تفصیل کے لیے مطولات کی طرف رجوع کریں۔
➑ غلہ اگر بارش، چشموں اور دریاؤں سے خود بخود سیراب ہوتا رہا ہے تو دسواں حصہ زکاۃ ہے اور اگر آبپاشی خرچ مانگتی رہی ہے، خود سیراب کیا ہے اونٹوں یا موٹروں کے ذریعے تو اس میں نصف عشر یعنی بیسواں حصہ زکاۃ ہے۔ [صحیح بخاری: 1483، صحیح مسلم: 981]
➋ اونٹوں کا نصابِ زکاۃ پانچ اونٹوں سے شروع ہوتا ہے، گائے اور بھینس کا 30 سے اور بکری و بھیڑ کا 40 سے شروع ہوتا ہے۔
➌ چاندی کا ایک اوقیہ 40 درہم کا ہوتا ہے، 5 اوقیہ 200 درہم کا ہوتا ہے یعنی تقریباً ساڑھے باون تولے چاندی یا اتنی مالیتی کرنسی ہو تو اس پر قانونِ زکاۃ لاگو ہوگا، جبکہ سونا ساڑھے سات تولے ہو تو زکاۃ کا قانون لاگو ہوگا، ان پر سال گزرنا شرط ہے۔
➍ غلے کی زکاۃ کٹائی کے وقت ہے اس کے بعد صدیوں غلہ پڑا رہے اس پر زکاۃ نہیں الا یہ کہ کاروبار کے لیے ہو تو کاروبار پر کرنسی کے حساب سے زکاۃ ہوگی۔
➎ غلے کا نصاب 5 وسق ہے، ایک وسق میں 60 ساٹھ صاع ہوتے ہیں اور صاع اڑھائی کلو کا ہوتا ہے، اس اعتبار سے تقریباً 19 من وزن غلہ ہو تو اس پر زکاۃ ہوگی۔
➏ کرنسی، سونا اور چاندی کو اڑھائی فیصد یعنی کل رقم کو چالیس سے تقسیم کریں جو جواب ہوگا وہ اڑھائی فیصد ہے، وہی زکاۃ ہے۔
➐ جانور کا اپنا اپنا حساب ہے تفصیل کے لیے مطولات کی طرف رجوع کریں۔
➑ غلہ اگر بارش، چشموں اور دریاؤں سے خود بخود سیراب ہوتا رہا ہے تو دسواں حصہ زکاۃ ہے اور اگر آبپاشی خرچ مانگتی رہی ہے، خود سیراب کیا ہے اونٹوں یا موٹروں کے ذریعے تو اس میں نصف عشر یعنی بیسواں حصہ زکاۃ ہے۔ [صحیح بخاری: 1483، صحیح مسلم: 981]