حدیث نمبر: 348
أَنْبَأَنَا مَالِكُ بْنُ أَنَسٍ ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْهَادِ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِبْرَاهِيمَ بْنِ الْحَارِثِ التَّيْمِيِّ ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ ، أَنَّهُ قَالَ : كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَعْتَكِفُ الْعَشْرَ الْوَسَطَ مِنْ رَمَضَانَ فَاعْتَكَفَ عَامًا حَتَّى إِذَا كَانَ لَيْلَةُ إِحْدَى وَعِشْرِينَ وَهِيَ اللَّيْلَةُ الَّتِي كَانَ يَخْرُجُ فِي صَبِيحَتِهَا مِنَ اعْتِكَافِهِ قَالَ : " مَنْ كَانَ اعْتَكَفَ مَعِي فَلْيَعْتَكِفِ الْعَشْرَ الأَوَاخِرَ " وَقَالَ : " أُرِيتُ هَذِهِ اللَّيْلَةُ ثُمَّ أُنْسِيتُهَا " ، وَقَالَ : " رَأَيْتُنِي أَسْجُدُ مِنْ صَبِيحَتِهَا فِي مَاءٍ وَطِينٍ فَالْتَمِسُوهَا فِي الْعَشْرِ الأَوَاخِرِ وَالْتَمِسُوهَا فِي كُلِّ وِتْرٍ " . قَالَ أَبُو سَعِيدٍ : فَأُمْطِرَتِ السَّمَاءُ مِنْ تِلْكَ اللَّيْلَةِ وَكَانَ الْمَسْجِدُ عَلَى عَرِيشٍ فَوَكَفَ الْمَسْجِدُ قَالَ أَبُو سَعِيدٍ : فَأَبْصَرَتْ عَيْنَايَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ انْصَرَفَ عَلَيْنَا وَعَلَى جَبْهَتِهِ وَأَنْفِهِ أَثَرُ الْمَاءِ وَالطِّينِ مِنْ صَبِيحَةِ إِحْدَى وَعِشْرِينَ " .
نوید مجید طیب
سیدنا ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک سال رمضان کے درمیانی عشرے کا اعتکاف فرمایا حتی کہ اکیسویں رات آئی جس رات آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اعتکاف سے نکلنا تھا (خطبہ دیا) تو فرمایا : ”جو لوگ میرے ساتھ اعتکاف بیٹھے تھے (واپس آجائیں) آخری عشرہ بھی اعتکاف کریں“ اور فرمایا: ”لیلۃ القدر مجھے (خواب میں) دکھائی گئی پھر بھلا دی گئی ہے میں نے خواب میں دیکھا گویا صبح کیچڑ میں سجدہ کر رہا ہوں پس تم آخری عشرے میں لیلۃ القدر تلاش کرو اور طاق راتوں میں تلاش کرو۔“ سیدنا ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ اسی رات بارش آئی، مسجد کی چھت کھجور کی شاخ سے بنی تھی اس لیے ٹپکنے لگی ابو سعید رضی اللہ عنہ کہتے ہیں خود میں نے اپنی آنکھوں سے دیکھا کہ اکیسویں کی صبح کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی پیشانی اور ناک مبارک پر کیچڑ لگا ہوا تھا۔
وضاحت:
➊ رمضان المبارک کے آخری عشرہ کا اعتکاف مسنون ہے۔
➋ اعتکاف کا محل مرد و عورت کے لیے مسجد ہے۔
➌ بھول نبوت و رسالت کے منافی نہیں۔
➍ لیلۃ القدر رمضان المبارک کے آخری عشرے کی طاق راتوں میں ہے۔
➎ دورانِ سجدہ نمازی کے ماتھے اور ناک دونوں کا زمین پر لگنا ضروری ہے۔
➋ اعتکاف کا محل مرد و عورت کے لیے مسجد ہے۔
➌ بھول نبوت و رسالت کے منافی نہیں۔
➍ لیلۃ القدر رمضان المبارک کے آخری عشرے کی طاق راتوں میں ہے۔
➎ دورانِ سجدہ نمازی کے ماتھے اور ناک دونوں کا زمین پر لگنا ضروری ہے۔
حدیث نمبر: 349
وَأَخْبَرَنَا مَالِكٌ ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ ، عَنْ عُرْوَةَ بْنِ الزُّبَيْرِ ، عَنْ عَمْرَةَ بِنْتِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا زَوْجِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، أَنَّهَا قَالَتْ : " كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا اعْتَكَفَ يُدْنِي إِلَيَّ رَأْسَهُ فَأُرَجِّلُهُ وَكَانَ لا يَدْخُلُ الْبَيْتَ إِلا لِحَاجَةِ الإِنْسَانِ " .
نوید مجید طیب
ام المومنین سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب اعتکاف فرماتے تو اپنا سر (دروازے) سے میرے قریب کر دیتے میں کنگھی کر دیتی اور آپ انسانی ضرورت کے بغیر گھر میں تشریف نہ لاتے تھے۔
حدیث نمبر: 350
أَنْبَأَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا قَالَتْ : " كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مُعْتَكِفًا فِي الْمَسْجِدِ فَأَخْرَجَ إِلَيَّ رَأْسَهُ فَغَسَلْتُهُ وَأَنَا حَائِضٌ " .
نوید مجید طیب
ام المومنین سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مسجد میں اعتکاف فرماتے تو اپنا سر مبارک میری طرف نکالتے (حجرہ میں) میں دھو دیتی حالانکہ میں حیض کی حالت میں ہوتی تھی۔
حدیث نمبر: 351
أَنْبَأَنَا عَبْدُ الْوَهَّابِ بْنُ عَبْدِ الْمَجِيدِ الثَّقَفِيُّ ، عَنْ خَالِدٍ الْحَذَّاءِ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ سِيرِينَ ، عَنْ عَائِشَةَ ، أَنَّهَا قَالَتْ : " كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُصْغِي إِلَيَّ رَأْسَهُ مِنَ الْمَسْجِدِ وَهُوَ مُعْتَكِفٌ وَأَنَا حَائِضٌ فَأَغْسِلُهُ " .
نوید مجید طیب
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اپنا سر مبارک مسجد سے میرے حجرے کی طرف مائل کر دیتے آپ صلی اللہ علیہ وسلم اعتکاف میں ہوتے، میں حیض سے ہوتی اس کے باوجود آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا سر مبارک دھو دیتی۔
وضاحت:
➊ اعتکاف کی حالت میں بیوی اپنے شوہر کو ہاتھ لگا سکتی ہے اور ضروری کام کاج کر سکتی ہے۔
➋ حالتِ اعتکاف میں غسل کیا جا سکتا ہے۔
➌ حیض کی حالت میں بھی خاوند کی خدمت کی جا سکتی ہے۔
➍ اگر مسجد میں بیت الخلا نہیں تو اعتکاف کرنے والا گھر جا کر قضاۓ حاجت کر سکتا ہے۔ روٹی دینے والا کوئی نہیں تو گھر جا کر کھانا کھا سکتا ہے، لیکن گپ شپ نہ لگائے، ضروری بات چیت ہی کرے اور فوراً واپسی کی راہ لے۔
➋ حالتِ اعتکاف میں غسل کیا جا سکتا ہے۔
➌ حیض کی حالت میں بھی خاوند کی خدمت کی جا سکتی ہے۔
➍ اگر مسجد میں بیت الخلا نہیں تو اعتکاف کرنے والا گھر جا کر قضاۓ حاجت کر سکتا ہے۔ روٹی دینے والا کوئی نہیں تو گھر جا کر کھانا کھا سکتا ہے، لیکن گپ شپ نہ لگائے، ضروری بات چیت ہی کرے اور فوراً واپسی کی راہ لے۔
حدیث نمبر: 352
أَخْبَرَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ مُحَمَّدٍ ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْهَادِ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِبْرَاهِيمَ ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ ، قَالَ : كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُجَاوِرُ فِي رَمَضَانَ الْعَشْرَ الَّتِي وَسَطُ الشَّهْرِ فَإِذَا كَانَ حِينَ يُمْسِي مِنْ عِشْرِينَ لَيْلَةً تَمْضِي وَيَسْتَقْبِلُ إِحْدَى وَعِشْرِينَ يَرْجِعُ إِلَى مَسْكَنِهِ وَيَرْجِعُ مَنْ كَانَ يُجَاوِرُ مَعَهُ ، ثُمَّ قَامَ فِي شَهْرٍ جَاوَرَ فِيهِ تِلْكَ اللَّيْلَةَ الَّتِي كَانَ يَرْجِعُ ، فِيهَا فَخَطَبَ النَّاسَ وَأَمَرَهُمْ بِمَا شَاءَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ ، فَقَالَ : " إِنِّي كُنْتُ أُجَاوِرُ هَذَا الْعَشْرَ ثُمَّ قَدْ بَدَا لِي أَنْ أُجَاوِرَ هَذَا الْعَشْرَ الأَوَاخِرَ فَمَنْ كَانَ اعْتَكَفَ مَعِي فَلْيَثْبُتْ فِي مُعْتَكَفِهِ وَقَدْ رَأَيْتُ هَذِهِ اللَّيْلَةَ ثُمَّ أُنْسِيتُهَا فَابْتَغُوهَا فِي الْعَشْرِ الأَوَاخِرِ وَابْتَغُوهَا فِي كُلِّ وِتْرٍ وَقَدْ رَأَيْتُنِي صَبِيحَتَهَا أَسْجُدُ فِي طِينٍ وَمَاءٍ " . قَالَ أَبُو سَعِيدٍ : فَاسْتَهَلَّتِ السَّمَاءُ فِي تِلْكَ اللَّيْلَةِ فَأَمْطَرَتْ فَوَكَفَ الْمَسْجِدُ فِي مُصَلَّى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَيْلَةَ إِحْدَى وَعِشْرِينَ فَبَصُرَتْ عَيْنِي : نَظَرْتُ إِلَيْهِ انْصَرَفَ مِنْ صَلاةِ الصُّبْحِ وَجَبِينُهُ يَمْتَلِئُ طِينًا وَمَاءً .
نوید مجید طیب
سیدنا ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم رمضان کے درمیانے عشرے کا اعتکاف کرتے ہیں راتیں گزارنے کے بعد جب اکیسویں کی رات آتی تو شام کو گھر واپس آجاتے، آپ کے ساتھ دیگر اعتکاف کرنے والے بھی واپس چلے جاتے تو ایک دفعہ (21 رات کو) مسجد میں ہی مقیم رہے جس میں آپ کی عادت گھر آجانے کی تھی پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے لوگوں کو خطبہ دیا اور جو اللہ عزوجل نے چاہا حکم فرمایا پھر فرمایا : ”میں درمیانے عشرے میں اعتکاف کیا کرتا تھا لیکن اب ظاہر ہوا ہے کہ آخری عشرے کا اعتکاف کرنا چاہیے بایں باعث جس نے میرے ساتھ اعتکاف کیا وہ معتکف میں ہی ٹھہرے مجھے لیلۃ القدر دکھائی گئی پھر بھلا دی گئی اس کو آخری عشرے میں تلاش کرو اور طاق راتوں میں تلاش کرو میں نے (خواب میں) اپنے آپ کو کیچڑ میں سجدہ کرتے دیکھا۔“ سیدنا ابو سعید رضی اللہ عنہ نے یہ بھی کہا کہ پھر اُس رات آسمان پر بادل آئے بارش برسی نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے مصلے پر چھت کا پانی ٹپکا یہ اکیسویں رات کا واقعہ ہے میں نے اپنی آنکھوں سے یہ منظر دیکھا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے صبح کی نماز پڑھا کر ہماری طرف رُخ مبارک کیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے چہرے مبارک پر کیچڑ لگا ہوا تھا۔
وضاحت:
➊ اس حدیث سے یہ بھی ثابت ہوتا ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم غیب نہیں جانتے تھے، غیب اللہ تعالیٰ کی صفت ہے جو کسی مخلوق میں نہیں پائی جاتی اور مخلوق میں اللہ کی صفات ماننا شرک ہے۔
➋ اعتکاف سنت ہے، اگر نذر مانی جائے تو واجب ہو جاتا ہے جسے پورا کرنا ضروری ہوتا ہے، جو شخص اعتکاف کا ارادہ رکھتا ہے اسے اکیسویں رات مسجد میں جانا چاہیے، رات بھر مسجد میں عبادت کرے اور نمازِ فجر پڑھ کر معتکف میں داخل ہو۔
➌ عورت کا اعتکاف گھر میں نہیں ہوتا، جو عورت گھر میں اعتکاف کرے اس کا کوئی اعتکاف نہیں کیونکہ اعتکاف کی جگہ مسجد ہے جیسا کہ قرآن کریم نے اور سنتِ مطہرہ نے بتایا، امہات المومنین رضی اللہ عنہم بھی مسجد میں اعتکاف کرتی تھیں، حفاظت کی ذمہ داری ولی کی ہے، اگر حفاظت نہیں تو اعتکاف نہ بیٹھے کیونکہ یہ فرض یا واجب نہیں۔
➍ اگر نذر کا اعتکاف نہیں تھا، عام اعتکاف تھا اور کسی امرِ مجبوری سے توڑ دیا تو اس کا کوئی مالی کفارہ نہیں اور نہ ہی اعتکاف توڑنے کی کوئی سزا بیان ہوئی ہے، البتہ عبادات محبت سے سرشار ہو کر کرنی چاہئیں۔
➎ نفلی اور نذر کا اعتکاف ایک رات کا بھی ہو سکتا ہے۔ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے زمانہ جاہلیت میں حرم مکی میں ایک رات اعتکاف کی نذر مانی، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے مسئلہ پوچھا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: «أوف بنذرك» (تم اپنی نذر کو پورا کرو)۔ [صحیح بخاری: 2043]
➋ اعتکاف سنت ہے، اگر نذر مانی جائے تو واجب ہو جاتا ہے جسے پورا کرنا ضروری ہوتا ہے، جو شخص اعتکاف کا ارادہ رکھتا ہے اسے اکیسویں رات مسجد میں جانا چاہیے، رات بھر مسجد میں عبادت کرے اور نمازِ فجر پڑھ کر معتکف میں داخل ہو۔
➌ عورت کا اعتکاف گھر میں نہیں ہوتا، جو عورت گھر میں اعتکاف کرے اس کا کوئی اعتکاف نہیں کیونکہ اعتکاف کی جگہ مسجد ہے جیسا کہ قرآن کریم نے اور سنتِ مطہرہ نے بتایا، امہات المومنین رضی اللہ عنہم بھی مسجد میں اعتکاف کرتی تھیں، حفاظت کی ذمہ داری ولی کی ہے، اگر حفاظت نہیں تو اعتکاف نہ بیٹھے کیونکہ یہ فرض یا واجب نہیں۔
➍ اگر نذر کا اعتکاف نہیں تھا، عام اعتکاف تھا اور کسی امرِ مجبوری سے توڑ دیا تو اس کا کوئی مالی کفارہ نہیں اور نہ ہی اعتکاف توڑنے کی کوئی سزا بیان ہوئی ہے، البتہ عبادات محبت سے سرشار ہو کر کرنی چاہئیں۔
➎ نفلی اور نذر کا اعتکاف ایک رات کا بھی ہو سکتا ہے۔ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے زمانہ جاہلیت میں حرم مکی میں ایک رات اعتکاف کی نذر مانی، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے مسئلہ پوچھا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: «أوف بنذرك» (تم اپنی نذر کو پورا کرو)۔ [صحیح بخاری: 2043]