حدیث نمبر: 342
أَنْبَأَنَا عَبْدُ الْوَهَّابِ بْنُ عَبْدِ الْمَجِيدِ الثَّقَفِيُّ ، عَنْ خَالِدٍ الْحَذَّاءِ ، عَنْ أَبِي قِلابَةَ ، عَنْ أَبِي الأَشْعَثِ ، عَنْ شَدَّادِ بْنِ أَوْسٍ ، قَالَ : كُنْتُ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ زَمَنَ الْفَتْحِ فَرَأَى رَجُلا يَحْتَجِمُ لِثَمَانِ عَشْرَةَ لَيْلَةً خَلَتْ مِنْ رَمَضَانَ ، فَقَالَ وَهُوَ آخِذٌ بِيَدِي : " أَفْطَرَ الْحَاجِمُ وَالْمَحْجُومُ " .
نوید مجید طیب
سیدنا شداد بن اوس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے فتح مکہ کے سال میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ تھا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اٹھارہ رمضان کو ایک آدمی کو سینگی لگواتے دیکھا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جبکہ آپ میرا ہاتھ پکڑے ہوئے تھے ”سنگی لگانے اور لگوانے والے کا روزہ ٹوٹ گیا۔“
حدیث نمبر: 343
حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَهَّابِ بْنُ عَبْدِ الْمَجِيدِ ، عَنْ يُونُسَ بْنِ عُبَيْدٍ ، عَنِ الْحَسَنِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " أَفْطَرَ الْحَاجِمُ وَالْمَحْجُومُ " .
نوید مجید طیب
سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ”سینگی لگانے اور لگوانے والے کا روزہ ٹوٹ گیا۔“
وضاحت:
سینگی سے روزہ ٹوٹنے میں اہل علم کے ہاں اختلاف ہے۔ جمہور علماء کا مذہب یہ ہے کہ جن احادیث میں روزہ ٹوٹنے کا ذکر ہے وہ منسوخ ہیں۔ اور اس شخص کے لیے حالت روزہ میں سینگی مکروہ ضرور ہے جسے کمزوری لاحق ہو جیسا کہ سیدنا انس بن مالک رضی اللہ اللہ عنہ سے دریافت کیا گیا: «أكنتم تكرهون الحجامة للصائم قال لا إلا من أجل الضعف»
کیا آپ لوگ روزہ دار کے لیے سینگی مکروہ جانتے ہیں تو انہوں نے جواباً کہا نہیں البتہ کمزوری کے خیال سے حالت روزہ میں سینگی لگوانا اچھا نہیں سمجھتے۔ [صحیح بخاری: 1940]
کیا آپ لوگ روزہ دار کے لیے سینگی مکروہ جانتے ہیں تو انہوں نے جواباً کہا نہیں البتہ کمزوری کے خیال سے حالت روزہ میں سینگی لگوانا اچھا نہیں سمجھتے۔ [صحیح بخاری: 1940]
حدیث نمبر: 344
عَنْ سُفْيَانَ ، قَالَ : أَخْبَرَنَا يَزِيدُ بْنُ أَبِي زِيَادٍ ، عَنْ مِقْسَمٍ مَوْلَى ابْنِ عَبَّاسٍ ، " أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ احْتَجَمَ صَائِمًا مُحْرِمًا " .
نوید مجید طیب
مقسم رحمہ اللہ مولی ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ بے شک رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے (روزے کی حالت میں احرام میں) سینگی لگوائی۔
وضاحت:
➊ سینگی ایک خاص قسم کا طریقہ علاج ہے جس میں معالج خاص طریقے سے پچھ لگا کر خون نکالتا ہے۔
➋ اس حدیث سے معلوم ہوا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حالت روزہ اور حالت احرام میں سینگی لگوائی۔
➌ سینگی کی ممانعت سے متعلق وارد احادیث منسوخ ہیں۔
➍ حالت روزہ میں سینگی سے متعلق احتیاط کا معاملہ پیچھے گزر چکا ہے۔ دیکھیے شرح حدیث نمبر 343
➋ اس حدیث سے معلوم ہوا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حالت روزہ اور حالت احرام میں سینگی لگوائی۔
➌ سینگی کی ممانعت سے متعلق وارد احادیث منسوخ ہیں۔
➍ حالت روزہ میں سینگی سے متعلق احتیاط کا معاملہ پیچھے گزر چکا ہے۔ دیکھیے شرح حدیث نمبر 343