حدیث نمبر: 334
أَنْبَأَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ دِينَارٍ ، سَمِعَ مُحَمَّدَ بْنَ حُنَيْنٍ ، يَقُولُ سَمِعَ ابْنَ عَبَّاسٍ ، يَقُولُ : نَتَعَجَّبُ مِمَّنْ يَتَقَدَّمُ الشَّهْرَ ، فَقَدْ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " إِذَا رَأَيْتُمُوهُ فَصُومُوا وَإِذَا رَأَيْتُمُوهُ فَأَفْطِرُوا فَإِنَّ غُمَّ عَلَيْكُمْ فَأَكْمِلُوا الْعِدَّةَ ثَلاثِينَ " .
نوید مجید طیب
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ مجھے اس شخص پر تعجب ہے جو ماہ رمضان شروع ہونے سے پہلے روزہ رکھتا ہے حالانکہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : ”جب چاند دیکھو تو روزہ رکھو اور جب (عید کا چاند دیکھو) افطار کر دو اگر مطلع ابر آلود ہو جائے تو تیس کی تعداد پوری کرو۔“
حدیث نمبر: 335
وَأَخْبَرَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ سَعْدٍ ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ ، عَنْ سَالِمٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " إِذَا رَأَيْتُمُ الْهِلالَ فَصُومُوا وَإِذَا رَأَيْتُمُوهُ فَأَفْطِرُوا فَإِنَّ غُمَّ عَلَيْكُمْ فَاقْدُرُوا لَهُ " . قَالَ : وَكَانَ عَبْدُ اللَّهِ يَصُومُ قَبْلَ الْهِلالِ بِيَوْمٍ . وَقِيلَ لإِبْرَاهِيمَ : تَتَقَدَّمُهُ ؟ قَالَ : نَعَمْ .
نوید مجید طیب
سیدنا عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : ”جب تم چاند دیکھو تو روزہ رکھو اور جب چاند دیکھو تو روزہ افطار کر دو اگر مطلع ابر آلود ہو جائے تو تیس کی گنتی مکمل کرو۔“ راوی کہتے ہیں سید نا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما چاند دیکھنے سے ایک روز پہلے ہی روزہ رکھ لیتے۔ ابراہیم رحمہ اللہ راوی کو کہا گیا کہ آپ بھی ایک دن پہلے روزہ رکھتے ہیں انہوں نے کہا ہاں۔
حدیث نمبر: 336
أَنْبَأَنَا عَمْرُو بْنُ أَبِي سَلَمَةَ ، عَنِ الأَوْزَاعِيِّ ، قَالَ : حَدَّثَنِي يَحْيَى بْنُ أَبِي كَثِيرٍ ، قَالَ : حَدَّثَنِي أَبُو سَلَمَةَ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " لا تَتَقَدَّمُوا بَيْنَ يَدَيْ رَمَضَانَ بِيَوْمٍ أَوْ بِيَوْمَيْنِ إِلا رَجُلٌ كَانَ يَصُومُ صِيَامًا فَلْيَصُمْهُ " .
نوید مجید طیب
سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : ”رمضان سے پہلے ایک دن یا دو دن (بطور استقبال) روزے نہ رکھو ہاں ایک آدمی کی عادت تھی کہ وہ (جمعرات ،سوموار یا ایک دن چھوڑ کر) روزے رکھتا ہے تو (اتفاق سے وہ دن رمضان سے ایک دو دن پہلے آگیا) وہ روزہ رکھ سکتا ہے۔“
حدیث نمبر: 337
وَأَخْبَرَنَا مَالِكُ بْنُ أَنَسٍ ، عَنْ نَافِعٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ذَكَرَ رَمَضَانَ فَقَالَ : " لا تَصُومُوا حَتَّى تَرَوُا الْهِلالَ وَلا تُفْطِرُوا حَتَّى تَرَوْهُ فَإِنْ غُمَّ عَلَيْكُمْ فَاقْدُرُوا لَهُ " .
نوید مجید طیب
سیدنا عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے رمضان کا تذکرہ کیا تو فرمایا: ”چاند دیکھنے سے قبل روزہ نہ رکھو اور چاند دیکھنے سے پہلے افطار بھی نہ کرو اگر مطلع ابر آلود ہو جائے تو تیس دن گن لو۔“
حدیث نمبر: 338
وَأَخْبَرَنَا مَالِكُ بْنُ أَنَسٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ دِينَارٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " الشَّهْرُ تِسْعٌ وَعِشْرُونَ لا تَصُومُوا حَتَّى تَرَوُا الْهِلالَ وَلا تُفْطِرُوا حَتَّى تَرَوْهُ فَإِنَّ غُمَّ عَلَيْكُمْ فَاكْمِلُوا الْعَدَدَ ثَلاثِينَ " .
نوید مجید طیب
سیدنا عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ”مہینہ انتیس کا بھی ہوتا ہے روزہ نہ رکھو حتی کہ چاند دیکھ لو اور روزہ ترک نہ کرو حتی کہ چاند دیکھ لو تو اگر بادل آجائیں تو تیس کی تعداد پوری کرلو۔“
حدیث نمبر: 339
وَأَخْبَرَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ مُحَمَّدٍ الدَّرَاوَرْدِيُّ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرِو بْنِ عَلْقَمَةَ ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ بَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " لا تَقَدَّمُوا الشَّهْرَ بِيَوْمٍ وَلا بِيَوْمَيْنِ إِلا أَنْ يُوَافِقَ ذَلِكَ صَوْمًا كَانَ يَصُومُهُ أَحَدُكُمْ صُومُوا لِرُؤْيَتِهِ وَأَفْطِرُوا لِرُؤْيَتِهِ فَإِنْ غُمَّ عَلَيْكُمْ فَعُدُّوا ثَلاثِينَ ثُمَّ أَفْطِرُوا " .
نوید مجید طیب
سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ”ماہ رمضان سے ایک دن یا دو دن پہلے روزہ نہ رکھو ہاں اگر کسی کے معمول کا روزہ آجائے اتفاقا تو وہ رکھ لے، رویت ہلال پر روزہ رکھو، اور رؤیت ہلال پر ہی افطار کرو اگر چاند ابر آلود ہو تو تیس کی تعداد پوری کر لو پھر عید کرو۔“
وضاحت:
➊ ارشاد باری تعالیٰ ہے: ﴿یَسْئَلُوْنَكَ عَنِ الْاَهِلَّةِ١ؕ قُلْ هِیَ مَوَاقِیْتُ لِلنَّاسِ وَ الْحَجِّ١ؕ وَ لَیْسَ الْبِرُّ بِاَنْ تَاْتُوا الْبُیُوْتَ مِنْ ظُهُوْرِهَا وَ لٰكِنَّ الْبِرَّ مَنِ اتَّقٰى١ۚ وَ اْتُوا الْبُیُوْتَ مِنْ اَبْوَابِهَا وَ اتَّقُوا اللّٰهَ لَعَلَّكُمْ تُفْلِحُوْنَ﴾ [البقرہ: 189]
اے نبی صلی اللہ علیہ وسلم! آپ سے چاند کے احوال کے متعلق سوال کرتے ہیں۔ کہہ دیجیے! وہ لوگوں کے لیے اور حج کے لیے اوقات مقررہ ہیں اور نیکی یہ نہیں کہ تم اپنے گھروں میں ان کے پچھواڑوں کی طرف سے آؤ بلکہ نیکی یہ ہے کہ آدمی پرہیز گاری اختیار کرے، اور تم اپنے گھروں میں ان کے دروازوں سے آؤ، اور تم اللہ سے ڈرو، تاکہ تم فلاح پاؤ۔
➋ سورج ایک ہی حالت میں رہتا ہے اس کے ذریعے وقت اور تاریخ معلوم کرنا دنیا کے ہر حصے میں رہنے والوں کے لیے ممکن نہ تھا اس لیے اللہ تعالیٰ نے بدلنے والے چاندوں کو بطور کیلنڈر مقرر فرمایا۔ حج، کفارات، روزہ، عید الفطر، معاملات، طلاق اور وفات کی عدتیں چاند ہی کے لحاظ سے مقرر و متعین ہیں۔
➌ ہماری ملکی حدود اللہ تعالیٰ نے مقرر نہیں کی بلکہ ریڈ کلف نے مقرر کی تھی جس نے اختلاف مطالع کو نہیں بلکہ اختلافِ ادیان کو دیکھ کر فیصلہ کیا لہذا ہمارے یہاں پاکستان میں اختلاف مطالع ممکن ہے۔
➍ اگر آج خلافت واپس آ جائے سعودیہ اور پاکستان کا ایک ہی حکمران ہو جائے تو کیا ہمیشہ کے لیے سعودیہ اور پاکستان میں ایک ہی دن عید ہوا کرے گی؟ عیدوں اور روزوں کا تعلق مطالع (طلوع ہونے کی جگہ) سے ہے نہ کہ ملکی حدود سے۔ ایک بے وقوف قوم ایسی بھی ہے، جو انسانیت کے روپ میں ہی ظاہر ہوئی ہے لیکن کہتی ہے چاند ایک ہے لہذا پوری دنیا ایک ہی دن روزہ رکھے اور ایک ہی دن پوری دنیا میں یوم العید مقرر ہونا چاہیے یہ نقلاً وعقلاً محال ہے۔
➎ سیدنا عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہما ایک دن پہلے روزہ رکھتے بعض نے کہا کہ یہ اُن کی عادات میں سے تھا کہ سوموار اور جمعرات کا روزہ رکھتے تو اتفاقاً وہ دن آگیا اور روزہ رکھ لیا جس کو راوی نے بیان کر دیا۔
➏ مطلع ابر آلود ہو جانے کی صورت میں تیس کی گنتی کو مکمل کیا جائے گا۔
➐ معلوم ہوا رمضان کے روزے فرض ہیں جبکہ عید کے دن روزہ رکھنا ممنوع ہے۔
➑ رمضان المبارک کے روزے شروع کرنے اور عید الفطر منانے کے لیے رویت ہلال ضروری ہے یا پھر گزشتہ چاند کی تیس تک گنتی مکمل کی جائے گی۔
اے نبی صلی اللہ علیہ وسلم! آپ سے چاند کے احوال کے متعلق سوال کرتے ہیں۔ کہہ دیجیے! وہ لوگوں کے لیے اور حج کے لیے اوقات مقررہ ہیں اور نیکی یہ نہیں کہ تم اپنے گھروں میں ان کے پچھواڑوں کی طرف سے آؤ بلکہ نیکی یہ ہے کہ آدمی پرہیز گاری اختیار کرے، اور تم اپنے گھروں میں ان کے دروازوں سے آؤ، اور تم اللہ سے ڈرو، تاکہ تم فلاح پاؤ۔
➋ سورج ایک ہی حالت میں رہتا ہے اس کے ذریعے وقت اور تاریخ معلوم کرنا دنیا کے ہر حصے میں رہنے والوں کے لیے ممکن نہ تھا اس لیے اللہ تعالیٰ نے بدلنے والے چاندوں کو بطور کیلنڈر مقرر فرمایا۔ حج، کفارات، روزہ، عید الفطر، معاملات، طلاق اور وفات کی عدتیں چاند ہی کے لحاظ سے مقرر و متعین ہیں۔
➌ ہماری ملکی حدود اللہ تعالیٰ نے مقرر نہیں کی بلکہ ریڈ کلف نے مقرر کی تھی جس نے اختلاف مطالع کو نہیں بلکہ اختلافِ ادیان کو دیکھ کر فیصلہ کیا لہذا ہمارے یہاں پاکستان میں اختلاف مطالع ممکن ہے۔
➍ اگر آج خلافت واپس آ جائے سعودیہ اور پاکستان کا ایک ہی حکمران ہو جائے تو کیا ہمیشہ کے لیے سعودیہ اور پاکستان میں ایک ہی دن عید ہوا کرے گی؟ عیدوں اور روزوں کا تعلق مطالع (طلوع ہونے کی جگہ) سے ہے نہ کہ ملکی حدود سے۔ ایک بے وقوف قوم ایسی بھی ہے، جو انسانیت کے روپ میں ہی ظاہر ہوئی ہے لیکن کہتی ہے چاند ایک ہے لہذا پوری دنیا ایک ہی دن روزہ رکھے اور ایک ہی دن پوری دنیا میں یوم العید مقرر ہونا چاہیے یہ نقلاً وعقلاً محال ہے۔
➎ سیدنا عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہما ایک دن پہلے روزہ رکھتے بعض نے کہا کہ یہ اُن کی عادات میں سے تھا کہ سوموار اور جمعرات کا روزہ رکھتے تو اتفاقاً وہ دن آگیا اور روزہ رکھ لیا جس کو راوی نے بیان کر دیا۔
➏ مطلع ابر آلود ہو جانے کی صورت میں تیس کی گنتی کو مکمل کیا جائے گا۔
➐ معلوم ہوا رمضان کے روزے فرض ہیں جبکہ عید کے دن روزہ رکھنا ممنوع ہے۔
➑ رمضان المبارک کے روزے شروع کرنے اور عید الفطر منانے کے لیے رویت ہلال ضروری ہے یا پھر گزشتہ چاند کی تیس تک گنتی مکمل کی جائے گی۔
حدیث نمبر: 340
وَأَخْبَرَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ مُحَمَّدٍ الدَّرَاوَرْدِيُّ ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْهَادِ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي سَلَمَةَ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ سُلَيْمٍ الزُّرَقِيِّ ، عَنْ أُمِّهِ ، قَالَتْ : بَيْنَمَا نَحْنُ بِمِنًى إِذَا عَلِيُّ بْنُ أَبِي طَالِبٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ عَلَى جَمَلٍ ، يَقُولُ : إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ : " إِنَّ هَذِهِ أَيَّامُ طُعْمٍ وَشُرْبٍ فَلا يَصُومَنَّ أَحَدٌ " ، فَاتَّبَعَ النَّاسَ وَهُوَ عَلَى جَمَلِهِ يَصِيحُ فِيهِمْ بِذَلِكَ .
نوید مجید طیب
عمر بن سلیم الزرقی رحمہ اللہ اپنی ماں سے بیان کرتے ہیں وہ کہتی ہیں کہ ہم منی میں تھے کہ سیدنا علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ اونٹ پر فرما رہے تھے بے شک رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ”یہ دن کھانے پینے کے ہیں ان میں کوئی روزہ نہ رکھے“ لوگوں کے پیچھے پیچھے اونٹ پر بآواز بلند یہ اعلان فرما رہے تھے۔
حدیث نمبر: 341
وَأَخْبَرَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ مُحَمَّدٍ ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْهَادِ ، عَنْ أَبِي مُرَّةَ ، مَوْلَى عَمْرِو بْنِ الْعَاصِ أَنَّهُ دَخَلَ وَعَبْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ عَلَى عَمْرِو بْنِ الْعَاصِ وَذَلِكَ الْغُدُوَّ بَعْدَ الْغَدِ مِنْ يَوْمِ الأَضْحَى فَقَرَّبَ إِلَيْهِمْ عَمْرٌو طَعَامًا ، فَقَالَ لَهُ عَبْدُ اللَّهِ : إِنِّي صَائِمٌ ، فَقَالَ عَمْرٌو : " أَفْطِرْ فَإِنَّ هَذِهِ الأَيَّامُ الَّتِي كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَأْمُرُ بِإِفْطَارِهَا وَيَنْهَى عَنْ صِيَامِهَا " . قَالَ أَبُو مُرَّةَ : فَأَفْطَرَ عَبْدُ اللَّهِ فَأَكَلَ وَأَكَلْتُ مَعَهُ . قَالَ لَنَا أَبُو جَعْفَرٍ : لَيْسَ أَحَدٌ يَقُولُ فِي هَذَا الْحديث عَنْ أَبِي مُرَّةَ مَوْلَى عَمْرِو بْنِ الْعَاصِ ، غَيْرَ الدَّرَاوَرْدِيِّ وَمَا كَتَبْنَاهُ إِلا عَنِ الْمُزَنِيِّ فَأَمَّا مَنْ سِوَاهُ مِمَّا حَدَّثَ عَنْ يَزِيدَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْهَادِ : مِنْهُمْ مَالِكٌ وَحَيْوَةُ بْنُ شُرَيْحٍ وَاللَّيْثُ بْنُ سَعْدٍ فَيَقُولُونَ : عَنْ أَبِي مُرَّةَ مَوْلَى عَقِيلِ بْنِ أَبِي طَالِبٍ وَهُوَ الصَّحِيحُ وَأَبُو مُرَّةَ فِي الْحَقِيقَةِ إِنَّمَا وَلاؤُهُ لأُمِّ هَانِئٍ بِنْتِ أَبِي طَالِبٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا .
نوید مجید طیب
ابو مرہ رحمہ اللہ مولی عمرو بن العاص رضی اللہ عنہ سے روایت ہے وہ اور سیدنا عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہما عمرو بن العاص رضی اللہ عنہ کے پاس عید الاضحی کے دو دن بعد گئے سیدنا عمرو رضی اللہ عنہ نے کھانا پیش کیا تو سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کہنے لگے میرا روزہ ہے سیدنا عمرو رضی اللہ عنہ نے فرمایا : ”روزہ افطار کریں کیونکہ ان دنوں میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے افطاری کا حکم دیا ہے اور ان ایام کے روزے سے منع فرمایا“ ابو مرہ رحمہ اللہ کہتے ہیں سیدنا عبداللہ رضی اللہ عنہ نے روزہ افطار کر لیا ان دونوں نے کھانا کھایا میں نے بھی اُن کے ساتھ کھایا۔
وضاحت:
➊ منی میں رہنے کے دن وہی ہیں جن کو ایام تشریق کہا جاتا ہے یعنی 11، 12، 13 ذی الحجہ ان تاریخوں کو حجاج منی میں کنکریاں مارنے کے لیے رکتے ہیں۔
➋ ان ایام کو ایام تشریق اس لیے کہتے ہیں کہ ان دنوں میں عرب قربانی کا گوشت دھوپ میں خشک کرتے تھے۔
➌ ایام تشریق میں حج تمتع کرنے والا اگر قربانی کی طاقت نہیں رکھتا تو روزے رکھ سکتا ہے۔ [بخاري: 1997]
➍ سیدنا عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے حدیث سن کر فوراً ذاتی فہم سے رجوع کر لیا روزہ افطار کر دیا اصحابِ رسول صلی اللہ علیہ وسلم کا یہی جذبہ اتباع انہیں اقوامِ عالم سے ممتاز کر گیا۔ رضی اللہ عنہم!
ہوتے ہوئے مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وسلم کی گفتار
مت دیکھ کسی کا قول و کردار
➋ ان ایام کو ایام تشریق اس لیے کہتے ہیں کہ ان دنوں میں عرب قربانی کا گوشت دھوپ میں خشک کرتے تھے۔
➌ ایام تشریق میں حج تمتع کرنے والا اگر قربانی کی طاقت نہیں رکھتا تو روزے رکھ سکتا ہے۔ [بخاري: 1997]
➍ سیدنا عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے حدیث سن کر فوراً ذاتی فہم سے رجوع کر لیا روزہ افطار کر دیا اصحابِ رسول صلی اللہ علیہ وسلم کا یہی جذبہ اتباع انہیں اقوامِ عالم سے ممتاز کر گیا۔ رضی اللہ عنہم!
ہوتے ہوئے مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وسلم کی گفتار
مت دیکھ کسی کا قول و کردار