حدیث نمبر: 294
حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ ، عَنْ سُمَيٍّ مَوْلَى أَبِي بَكْرٍ سَمِعَهُ مِنْ أَبِي بَكْرِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْحَارِثِ بْنِ هِشَامٍ ، عَنْ عَائِشَةَ ، قَالَتْ : " كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُدْرِكُهُ الصُّبْحُ وَهُوَ جُنُبٌ فَيَغْتَسِلُ وَيَصُومُ يَوْمَهُ " .
نوید مجید طیب
ام المومنین سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ جنابت کی حالت میں صبح کرتے تو غسل فرماتے اور اس دن کا روزہ بھی رکھتے تھے۔
حدیث نمبر: 295
وَأَخْبَرَنَا مَالِكُ بْنُ أَنَسٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ مَعْمَرٍ الأَنْصَارِيِّ ، عَنْ أَبِي يُونُسَ ، مَوْلَى عَائِشَةَ أُمِّ الْمُؤْمِنِينَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا , عَنْ عَائِشَةَ ، أَنَّ رَجُلا قَالَ لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ وَاقِفٌ عَلَى الْبَابِ وَأَنَا أَسْمَعُ : يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنِّي أُصْبِحُ جُنُبًا وَأَنَا أُرِيدُ الصِّيَامَ ، فَقَالَ لَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " وَأنَا أُصْبِحُ جُنُبًا وَأَنَا أُرِيدُ الصِّيَامَ فَأَغْتَسِلُ ثُمَّ أَصُومُ ذَلِكَ الْيَوْمَ " ، فَقَالَ الرَّجُلُ : إِنَّكَ لَسْتَ مِثْلَنَا قَدْ غَفَرَ اللَّهُ لَكَ مَا تَقَدَّمَ مِنْ ذَنْبِكَ وَمَا تَأَخَّرَ فَغَضِبَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، ثُمَّ قَالَ : " وَاللَّهِ إِنِّي لأَرْجُو أَنْ أَكُونَ أَخْشَاكُمْ لِلَّهِ عَزَّ وَجَلَّ وَأَعْلَمَكُمْ بِمَا أَتَّقِي " .
نوید مجید طیب
ام المومنین سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے ایک آدمی نے رسول اللہ ﷺ سے کہا جبکہ آپ ﷺ دروازے میں کھڑے تھے اور میں سن رہی تھی اے اللہ کے رسول ﷺ! میں صبح جنابت کی حالت میں کرتا ہوں جبکہ میرا ارادہ روزے کا ہوتا ہے تو رسول اللہ ﷺ نے اس سے فرمایا: ”میں بھی جنابت کی حالت میں صبح کرتا ہوں اور میرا ارادہ روزے کا ہوتا ہے تو غسل کرتا ہوں پھر اُس دن روزہ بھی رکھتا ہوں“ تو وہ آدمی کہنے لگا آپ ﷺ تو ہماری مانند نہیں آپ ﷺ کے تو پہلے پچھلے اللہ نے معاف کر دیے ہیں۔ اس پر رسول اللہ ﷺ غضبناک ہوئے پھر فرمایا: ”اللہ کی قسم مجھے امید ہے کہ میں تم میں سب سے زیادہ اللہ سے ڈرنے والا ہوں اور میں تم میں سب سے زیادہ ان چیزوں کو جانتا ہوں جن سے بچنا چاہیے۔“
حدیث نمبر: 296
وَأَنْبَأَنَا مَالِكُ بْنُ أَنَسٍ ، عَنْ سُمَيٍّ ، مَوْلَى أَبِي بَكْرِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ أَنَّهُ سَمِعَ أَبَا بَكْرِ بْنَ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، يَقُولُ : كُنْتُ أَنَا وَأَبِي ، عِنْدَ مَرْوَانَ بْنِ الْحَكَمِ وَهُوَ أَمِيرُ الْمَدِينَةِ فَذَكَرَ أَنَّ أَبَا هُرَيْرَةَ ، يَقُولُ : مَنْ أَصْبَحَ جُنُبًا أَفْطَرَ ذَلِكَ الْيَوْمَ فَقَالَ مَرْوَانُ : أَقْسَمْتُ عَلَيْكَ يَا عَبْدَ الرَّحْمَنِ لَتَذْهَبَنَّ إِلَى أُمِّ الْمُؤْمِنِينَ عَائِشَةَ وَأُمِّ سَلَمَةَ عَنْ ذَلِكَ قَالَ أَبُو بَكْرٍ : فَذَهَبَ عَبْدُ الرَّحْمَنِ وَذَهَبْتُ مَعَهُ حَتَّى دَخَلْنَا عَلَى عَائِشَةَ فَسَلَّمْنَا عَلَيْهَا ثُمَّ قَالَ عَبْدُ الرَّحْمَنِ : يَا أُمَّ الْمُؤْمِنِينَ ، إِنَّا كُنَّا عِنْدَ مَرْوَانَ فَذُكِرَ لَهُ أَنَّ أَبَا هُرَيْرَةَ يَقُولُ : مَنْ أَصْبَحَ جُنُبًا أَفْطَرَ ذَلِكَ الْيَوْمَ ، فَقَالَتْ عَائِشَةُ : لَيْسَ كَمَا قَالَ أَبُو هُرَيْرَةَ ، يَا عَبْدَ الرَّحْمَنِ أَتَرْغَبُ عَمَّا كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَصْنَعُ ؟ ! قَالَ : فَقَالَ عَبْدُ الرَّحْمَنِ : لا وَاللَّهِ ، قَالَتْ : فَأَشْهَدُ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " أَنَّهُ كَانَ يُصْبِحُ جُنُبًا مِنْ غَيْرِ احْتِلامٍ ثُمَّ يَصُومُ ذَلِكَ الْيَوْمَ " ، قَالَ : ثُمَّ خَرَجْنَا حَتَّى دَخَلْنَا عَلَى أُمِّ سَلَمَةَ فَسَأَلَهَا عَنْ ذَلِكَ فَقَالَتْ مِثْلَ مَا قَالَتْ عَائِشَةُ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا ، قَالَ : فَخَرَجْنَا حَتَّى جِئْنَا مَرْوَانَ فَذَكَرَ لَهُ عَبْدُ الرَّحْمَنِ مَا قَالَتَا ، فَقَالَ مَرْوَانُ : أَقْسَمْتُ عَلَيْكَ يَا أَبَا مُحَمَّدٍ لَتَرْكَبَنَّ دَابَّتِي فَإِنَّهَا بِالْبَابِ فَلْتَذْهَبَنَّ إِلَى أَبِي هُرَيْرَةَ فَإِنَّهُ بِأَرْضِهِ بِالْعَقِيقِ فَلَتُخْبِرَنَّهُ ذَلِكَ قَالَ أَبُو بَكْرٍ : فَرَكِبَ عَبْدُ الرَّحْمَنِ وَرَكِبْتُ مَعَهُ حَتَّى أَتَيْنَا أَبَا هُرَيْرَةَ فَتَحَدَّثَ مَعَهُ عَبْدُ الرَّحْمَنِ سَاعَةً ثُمَّ ذَكَرَ ذَلِكَ لَهُ ، فَقَالَ أَبُو هُرَيْرَةَ : " لا عِلْمَ لِي بِذَلِكَ إِنَّمَا أَخْبَرَنِيهِ مُخْبِرٌ " .
نوید مجید طیب
ابو بکر بن عبدالرحمن رحمہ اللہ سے روایت ہے کہ میں اور میرے والد عبدالرحمن رضی اللہ عنہ امیر مدینہ مروان بن حکم رحمہ اللہ کے پاس تھے تو اس سے ذکر کیا گیا کہ سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں جس کی صبح جنابت کی حالت میں ہو جائے وہ اس دن روزہ نہ رکھے بلکہ افطار کرے۔ تو مروان رحمہ اللہ نے کہا اے عبدالرحمن! تجھے قسم ہے جاؤ اور جا کر ام المومنین سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا اور سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا سے مسئلہ پوچھ کر آؤ۔ ابو بکر رحمہ اللہ کہتے ہیں ہم عبد الرحمن کے ساتھ میں بھی گیا جب حجرہ عائشہ رضی اللہ عنہا میں داخل ہوئے تو سلام کیا پھر عبد الرحمن نے پوچھا: اے ام المومنین! ہم مروان کے پاس تھے کہ اسے بتایا گیا سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ فتوی دیتے ہیں کہ جس نے سحری تک غسل نہ کیا جنابت میں صبح کر لی اس دن کا روزہ افطار کرے (یعنی حالت جنابت میں روزہ نہیں رکھ سکتا)۔ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کہنے لگی مسئلہ اس طرح بالکل نہیں جیسے سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ نے بتایا اے عبدالرحمن! کیا تو رسول اللہ ﷺ کا طریقہ چھوڑے گا؟ عبدالرحمن نے کہا: نہیں اللہ کی قسم! تو فرمانے لگی کہ میں گواہی دیتی ہوں کہ رسول اللہ ﷺ احتلام کے بغیر یعنی ہمبستری سے جنبی ہوتے پھر اس دن کا روزہ بھی رکھتے۔ ابو بکر رحمہ اللہ کہتے ہیں پھر ہم سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا کی طرف گئے انہیں سلام کیا اور یہی مسئلہ پوچھا تو اُن کا جواب بھی سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا والا تھا ہم وہاں سے نکلے مروان کے ہاں آئے تو عبدالرحمن نے انہیں دونوں کے جواب سے آگاہ فرمایا تو مروان نے پھر قسم دی کہ اے ابا محمد! دروازے پر میری سواری ہے اس پر سوار ہو کر سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ کے پاس جاؤ وہ اپنی زمین عقیق میں ہیں (اس وقت) انہیں ضرور مسئلہ بتاؤ۔ ابو بکر رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ سیدنا عبد الرحمن سوار ہوئے تو میں بھی اُن کے ساتھ ہو لیا حتی کہ سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ کے پاس پہنچے کچھ دیر عبدالرحمن اُن سے بات چیت کرتے رہے پھر اُن سے مسئلہ کا تذکرہ کیا، سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ نے فرمایا: مجھے (بروئے حدیث) اس کا علم نہیں مجھے کسی نے اس طرح بتایا تھا۔
حدیث نمبر: 297
وَأَخْبَرَنَا مَالِكٌ ، عَنْ عَبْدِ رَبِّهِ بْنِ سَعِيدِ بْنِ قَيْسٍ ، عَنْ أَبِي بَكْرِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، عَنْ عَائِشَةَ ، وَأُمِّ سَلَمَةَ أُمَّيِ الْمُؤْمِنِينَ ، أَنَّهُمَا قَالَتَا : " كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُصْبِحُ جُنُبًا مِنْ جِمَاعٍ غَيْرِ احْتِلامٍ فِي رَمَضَانَ ثُمَّ يَصُومُ ذَلِكَ الْيَوْمَ " .
نوید مجید طیب
ابو بکر بن عبد الرحمن رحمہ اللہ سے روایت ہے کہ ام المومنین سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا اور ام المومنین سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا دونوں نے فرمایا رسول اللہ ﷺ ماہ رمضان میں جماع کرنے کی وجہ سے جنبی ہوتے احتلام سے نہیں، تو پھر (اسی حالت میں) روزہ بھی اس دن کا رکھ لیتے۔
وضاحت:
➊ نہارِ رمضان میں بیوی سے جماع کرنا منع ہے اور اس کا کیا کفارہ ہے اس کی تفصیل بیان ہو چکی ہے دیکھئے شرح حدیث نمبر 286، 288۔
➋ روزے دار حالتِ جنابت میں سحری کر سکتا ہے۔
➌ سحری کے بعد نمازِ فجر سے قبل غسل کرنا لازم ہے۔
➍ خیر القرون میں حکمران بھی مسائل کی پوری تحقیق کرتے احادیثِ رسول صلی اللہ علیہ وسلم کو دریافت کرنے کی جستجو میں رہتے اور مجتہدین تک احادیث پہنچاتے آج کے حکمرانوں کو بھی چاہیے کہ احادیثِ رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی نشر و اشاعت کریں صحیح و ضعیف کا امتیاز کریں علماء کو کتبِ احادیث مہیا کریں جیسا کہ مروان رحمہ اللہ نے ایک حدیث سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ تک پہنچانے کے لیے گھوڑا مہیا کیا۔
➎ سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ کا حدیثِ رسول صلی اللہ علیہ وسلم سن کر ذاتی اجتہاد یا دوسرے کسی امتی کے بتائے ہوئے فتوے سے فوراً رجوع کرنا علماءِ امت کے لیے نمونہ ہے۔
اصل دین آمد کلام اللہ معظم وا ثمن
پس حدیثِ مصطفی بر جاں مسلم داشتن
➏ سیدنا عبد الرحمن رضی اللہ عنہ جو حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کے بھائی تھے کا سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ کا احترام کرنا پہلے دائیں بائیں کی باتیں کرنا پھر عالمِ دین کو احترام سے کہنا کہ حاکمِ وقت نے اس غرض سے آپ کے پاس بھیجا ہے ادب کی عظیم مثال ہے آج کل کے جاہل کانسٹیبلان کے لیے اس میں نمونہ ہے مساجد میں علماء کے پاس حکومتی حکم نامہ لے کر جاتے ہیں تو بد تمیزی کرتے ہیں کہ ہمارے ہاتھ میں تو حکومتی آرڈر ہے، اس پر حکومت کو غور کرنا چاہیے کہ اسلامی تربیت کارندوں کے لیے کتنی ضروری ہے۔
➋ روزے دار حالتِ جنابت میں سحری کر سکتا ہے۔
➌ سحری کے بعد نمازِ فجر سے قبل غسل کرنا لازم ہے۔
➍ خیر القرون میں حکمران بھی مسائل کی پوری تحقیق کرتے احادیثِ رسول صلی اللہ علیہ وسلم کو دریافت کرنے کی جستجو میں رہتے اور مجتہدین تک احادیث پہنچاتے آج کے حکمرانوں کو بھی چاہیے کہ احادیثِ رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی نشر و اشاعت کریں صحیح و ضعیف کا امتیاز کریں علماء کو کتبِ احادیث مہیا کریں جیسا کہ مروان رحمہ اللہ نے ایک حدیث سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ تک پہنچانے کے لیے گھوڑا مہیا کیا۔
➎ سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ کا حدیثِ رسول صلی اللہ علیہ وسلم سن کر ذاتی اجتہاد یا دوسرے کسی امتی کے بتائے ہوئے فتوے سے فوراً رجوع کرنا علماءِ امت کے لیے نمونہ ہے۔
اصل دین آمد کلام اللہ معظم وا ثمن
پس حدیثِ مصطفی بر جاں مسلم داشتن
➏ سیدنا عبد الرحمن رضی اللہ عنہ جو حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کے بھائی تھے کا سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ کا احترام کرنا پہلے دائیں بائیں کی باتیں کرنا پھر عالمِ دین کو احترام سے کہنا کہ حاکمِ وقت نے اس غرض سے آپ کے پاس بھیجا ہے ادب کی عظیم مثال ہے آج کل کے جاہل کانسٹیبلان کے لیے اس میں نمونہ ہے مساجد میں علماء کے پاس حکومتی حکم نامہ لے کر جاتے ہیں تو بد تمیزی کرتے ہیں کہ ہمارے ہاتھ میں تو حکومتی آرڈر ہے، اس پر حکومت کو غور کرنا چاہیے کہ اسلامی تربیت کارندوں کے لیے کتنی ضروری ہے۔
حدیث نمبر: 298
حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، قَالَ : قُلْتُ لِعَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْقَاسِمِ أَخْبَرَكَ أَبُوكَ , عَنْ عَائِشَةَ ، " أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يُقَبِّلُهَا وَهُوَ صَائِمٌ " ، فَطَأْطَأَ رَأْسَهُ وَاسْتَحْيَا وَسَكَتَ قَلِيلا ، ثُمَّ قَالَ : نَعَمْ " .
نوید مجید طیب
سفیان رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ میں نے عبدالرحمن بن قاسم رحمہ اللہ سے کہا مجھے آپ کے والد نے بتایا کہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ روزے کی حالت میں اُن کا بوسہ لے لیا کرتے تھے تو انہوں نے حیاء سے سر جھکا لیا تھوڑی دیر خاموش رہے پھر فرمایا ہاں ایسا ہی ہے۔
حدیث نمبر: 299
عَنْ يَحْيَى بْنِ حَسَّانَ ، عَنْ لَيْثِ بْنِ سَعْدٍ ، عَنْ بُكَيْرٍ ، عَنْ أَبِي بَكْرِ بْنِ الْمُنْكَدِرِ ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ , عَنْ زَيْنَبَ بِنْتِ أَبِي سَلَمَةَ , عَنْ أُمِّ سَلَمَةَ ، قَالَ : كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُقَبِّلُ وَهُوَ صَائِمٌ " .
نوید مجید طیب
ام المومنین سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے رسول اللہ ﷺ حالت روزہ میں بوسہ دے دیا کرتے تھے۔
حدیث نمبر: 300
عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ ، عَنْ عَمْرَةَ ، عَنْ عَائِشَةَ ، " أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يُقَبِّلُ وَهُوَ صَائِمٌ " . قَالَ لَنَا أَبُو جَعْفَرٍ : لَيْسَ هَذَا الْحَدِيثُ فِي أَصْلِ اللَّيْثِ بْنِ سَعْدٍ وَإِنَّمَا حَدَّثَ بِهِ عَنْهُ يَحْيَى بْنُ حَسَّانَ وَعَبْدُ الْغَفَّارِ بْنُ دَاوُدَ الْحَرَّانِيُّ .
نوید مجید طیب
ام المومنین سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ روزے کی حالت میں بوسہ دے لیتے تھے۔
حدیث نمبر: 301
عَنْ يَحْيَى بْنِ حَسَّانَ ، عَنِ اللَّيْثِ ، عَنْ بُكَيْرٍ ، عَنْ عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ سَعِيدٍ الأَنْصَارِيِّ ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، عَنْ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ، قَالَ : قَبَّلْتُ يَوْمًا وَأَنَا صَائِمٌ ، فَأَتَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَقُلْتُ : فَعَلْتُ الْيَوْمَ أَمْرًا عَظِيمًا قَبَّلْتُ وَأَنَا صَائِمٌ ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " أَرَأَيْتُ لَوَ تَمَضْمَضْتَ وَأَنْتَ صَائِمٌ ؟ " قَالَ : فَقُلْتُ لا بَأْسَ بِذَلِكَ ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " فَفِيمَ ؟ " .
نوید مجید طیب
سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ سے روایت ہے میں نے روزے کی حالت میں (بیوی کو) بوسہ دیا اور رسول اللہ ﷺ کے پاس آکر بتایا کہ مجھ سے آج بڑا معاملہ ہو گیا روزے کی حالت میں بوسہ لے لیا۔ تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”تیرا کیا خیال ہے اگر تو روزے کی حالت میں کلی کرے (تو کیا روزہ ٹوٹے گا؟)“ میں نے کہا اس میں تو کوئی حرج نہیں تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”(اس میں بھی کوئی حرج نہیں) روزہ پورا کر۔“
حدیث نمبر: 302
عَنْ إِبْرَاهِيمَ بْنِ سَعْدٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ طَلْحَةَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُثْمَانَ التَّيْمِيِّ ، عَنْ عَائِشَةَ ، قَالَتْ : أَرَادَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ يُقَبِّلَنِيَ ، فَقُلْتُ : إِنِّي صَائِمَةٌ ، فَقَالَ : " وَأَنَا صَائِمٌ " فَقَبَّلَنِي .
نوید مجید طیب
ام المومنین سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے مجھے بوسہ دینا چاہا میں نے کہا میں روزے سے ہوں آپ ﷺ نے فرمایا: ”میں بھی تو روزے سے ہوں“ پھر میرا بوسہ لیا۔
حدیث نمبر: 303
وَأَخْبَرَنَا مَالِكٌ ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ عَائِشَةَ أُمِّ الْمُؤْمِنِينَ ، قَالَتْ : " إِنْ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَيُقَبِّلُ بَعْضَ أَزْوَاجِهِ وَهُوَ صَائِمٌ ثُمَّ تَضْحَكُ " .
نوید مجید طیب
عروہ رحمہ اللہ بیان کرتے ہیں کہ اُم المومنین سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ رسول اللہ ﷺ اپنی بعض بیویوں کا بوسہ روزے کی حالت میں لے لیتے پھر ہنس پڑتی (کیونکہ بعض سے مراد وہ خود تھی)۔
وضاحت:
➊ بوسہ دینے سے روزہ نہیں ٹوٹتا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم روزے کی حالت میں بوسہ دیتے اور ساتھ لیٹ بھی جایا کرتے تھے لیکن اپنے جذبات پر خوب ضبط رکھنے والے تھے۔ [سنن ابی داؤد: 2382]
➋ امہات المومنین رضی اللہ عنہن کا مخفی خانگی امور کا بیان کرنا امت کی آگاہی کے لیے فرض تھا وگرنہ بہت سے اہم امور امت سے اوجھل رہتے، میاں بیوی کے تعلقات شریعت کی نظر میں کس طرح ہونے چاہئیں، غسلِ جنابت کا طریقہ، میاں بیوی کا اکٹھا غسل کرنا، وغیرہ وغیرہ پوشیدہ مسائل امہات المومنین سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا، سیدہ میمونہ رضی اللہ عنہا، سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا نے بیان کر کے امت کی بہت سی مشکلات آسان کر دی ہیں۔
➌ عام امت میں سے کسی کے لیے جائز نہیں کہ کوئی مرد دوسرے مرد سے یا عورت دوسری عورت سے اپنے خاوند کا بوس و کنار و جماع کرنے کا تذکرہ کرے کسی امتی کے طریقوں میں امت کی کوئی رہنمائی نہیں بلکہ بہت سارے مفاسد ہیں۔
➍ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی متعدد شادیوں کی ایک حکمت یہ بھی بیان ہوئی ہے کہ گھریلو زندگی میں جو رہنمائی تھی امت تک پہنچ جائے۔
➎ جماع کرنے سے روزہ ٹوٹ جاتا ہے اور کفارہ لازم آتا ہے جماع سے کم تر معاملات بوس و کنار، ساتھ لیٹنا، جسم ساتھ لگانے معانقہ کرنے سے روزہ نہیں ٹوٹتا، تاہم اگر خدشہ ہو کہ بوس و کنار سے معاملہ آگے بڑھ جائے گا بے قابو ہو کر جماع کر بیٹھے گا تو اس شخص کو بوس و کنار سے بھی پر ہیز کرنا چاہیے۔
➏ مرد عالمہ عورت سے اور عورت عالمِ دین سے شرعی مسئلہ پوچھ سکتی ہے البتہ الفاظ میں احتیاط برتی جائے گی۔ تا کہ مسئلہ بھی معلوم ہو جائے اور شرم و حیا بھی برقرار رہے۔
➐ ضمناً معلوم ہوتا ہے کہ مذی کے خروج سے روزہ نہیں ٹوٹتا البتہ منی کے خروج سے ٹوٹ جاتا ہے۔ «والله اعلم»
➋ امہات المومنین رضی اللہ عنہن کا مخفی خانگی امور کا بیان کرنا امت کی آگاہی کے لیے فرض تھا وگرنہ بہت سے اہم امور امت سے اوجھل رہتے، میاں بیوی کے تعلقات شریعت کی نظر میں کس طرح ہونے چاہئیں، غسلِ جنابت کا طریقہ، میاں بیوی کا اکٹھا غسل کرنا، وغیرہ وغیرہ پوشیدہ مسائل امہات المومنین سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا، سیدہ میمونہ رضی اللہ عنہا، سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا نے بیان کر کے امت کی بہت سی مشکلات آسان کر دی ہیں۔
➌ عام امت میں سے کسی کے لیے جائز نہیں کہ کوئی مرد دوسرے مرد سے یا عورت دوسری عورت سے اپنے خاوند کا بوس و کنار و جماع کرنے کا تذکرہ کرے کسی امتی کے طریقوں میں امت کی کوئی رہنمائی نہیں بلکہ بہت سارے مفاسد ہیں۔
➍ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی متعدد شادیوں کی ایک حکمت یہ بھی بیان ہوئی ہے کہ گھریلو زندگی میں جو رہنمائی تھی امت تک پہنچ جائے۔
➎ جماع کرنے سے روزہ ٹوٹ جاتا ہے اور کفارہ لازم آتا ہے جماع سے کم تر معاملات بوس و کنار، ساتھ لیٹنا، جسم ساتھ لگانے معانقہ کرنے سے روزہ نہیں ٹوٹتا، تاہم اگر خدشہ ہو کہ بوس و کنار سے معاملہ آگے بڑھ جائے گا بے قابو ہو کر جماع کر بیٹھے گا تو اس شخص کو بوس و کنار سے بھی پر ہیز کرنا چاہیے۔
➏ مرد عالمہ عورت سے اور عورت عالمِ دین سے شرعی مسئلہ پوچھ سکتی ہے البتہ الفاظ میں احتیاط برتی جائے گی۔ تا کہ مسئلہ بھی معلوم ہو جائے اور شرم و حیا بھی برقرار رہے۔
➐ ضمناً معلوم ہوتا ہے کہ مذی کے خروج سے روزہ نہیں ٹوٹتا البتہ منی کے خروج سے ٹوٹ جاتا ہے۔ «والله اعلم»
حدیث نمبر: 304
حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ صَفْوَانَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ صَفْوَانَ ، عَنْ أُمِّ الدَّرْدَاءِ ، عَنْ كَعْبِ بْنِ عَاصِمٍ الأَشْعَرِيِّ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " لَيْسَ مِنَ الْبِرِّ الصِّيَامُ فِي السَّفَرِ " .
نوید مجید طیب
كعب بن عاصم اشعری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : ”سفر میں روزہ رکھنا نیکی نہیں۔“
حدیث نمبر: 305
حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ ، عَنْ مَنْصُورٍ ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ ، عَنْ عَلْقَمَةَ ، عَنْ عَائِشَةَ ، قَالَتْ : " كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُقَبِّلُ وَهُوَ صَائِمٌ وَيُبَاشِرُ وَهُوَ صَائِمٌ وَكَانَ أَمْلَكَكُمْ لإِرْبِهِ .
نوید مجید طیب
ام المومنین سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ روزے کی حالت میں بوسہ دیتے اور روزے کی حالت میں معانقہ بھی کر لیتے لیکن اپنے نفس پر تم سب سے زیادہ کنٹرول رکھتے تھے۔
حدیث نمبر: 306
حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا ، أَنَّ حَمْزَةَ بْنَ عَمْرٍو الأَسْلَمِيَّ سَأَلَ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ : يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنِّي أَسْرُدُ الصَّوْمَ أَفَأَصُومُ فِي السَّفَرِ ؟ قَالَ : " إِنْ شِئْتَ فَصُمْ وَإِنْ شِئْتَ فَأَفْطِرْ " .
نوید مجید طیب
ام المومنین سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ حمزہ بن عمرو اسلمی رضی اللہ عنہ نے نبی اکرم ﷺ سے سوال کیا کہنے لگے اے اللہ کے رسول ﷺ! میں لگا تار روزے رکھتا ہوں تو کیا سفر میں روزہ رکھ سکتا ہوں؟ آپ ﷺ نے فرمایا: ”اگر تو چاہے تو روزہ رکھ لے اور اگر چاہے تو افطار کر لے۔“
حدیث نمبر: 307
عَنْ عَمْرِو بْنِ أَبِي سَلَمَةَ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ عَبْدِ الْعَزِيزِ ، عَنْ إِسْمَاعِيلَ بْنِ عُبَيْدِ اللَّهِ ، عَنْ أُمِّ الدَّرْدَاءِ ، عَنْ أَبِي الدَّرْدَاءِ ، قَالَ : " كُنَّا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي السَّفَرِ وَإِنْ كَانَ أَحَدُنَا لَيَضَعُ يَدَهُ عَلَى رَأْسِهِ مِنْ شِدَّةِ الْحَرِّ فَمَا مِنَّا صَائِمٌ إِلا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَعَبْدُ اللَّهِ بْنُ رَوَاحَةَ ، أَوِ ابْنُ حُذَافَةَ " . شَكَّ الشَّافِعِيُّ لا يَدْرِي هُوَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ رَوَاحَةَ أَوْ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ حُذَافَةَ .
نوید مجید طیب
سیدنا ابو درداء رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ ہم رسول اللہ ﷺ کے ساتھ سفر پر تھے ہم گرمی کی شدت کے باعث ہاتھ سر پر رکھ لیے تھے ہم میں صرف رسول اللہ ﷺ اور عبداللہ بن رواحہ رضی اللہ عنہ کا روزہ تھا یا عبد اللہ بن حذافہ رضی اللہ عنہ کا۔ عبداللہ بن رواحہ رضی اللہ عنہ تھے یا ابن حذافہ رضی اللہ عنہ، امام شافعی رحمہ اللہ کو شک ہو گیا۔
حدیث نمبر: 308
أَنْبَأَنَا مَالِكُ بْنُ أَنَسٍ ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُتْبَةَ بْنِ مَسْعُودٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ ، قَالَ أَبُو جَعْفَرٍ الطَّحَاوِيُّ : يَعْنِي ابْنَ عَبَّاسٍ : " أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ خَرَجَ إِلَى مَكَّةَ عَامَ الْفَتْحِ فِي رَمَضَانَ فَصَامَ حَتَّى بَلَغَ الْكَدِيدَ ثُمَّ أَفْطَرَ النَّاسُ فَكَانُوا يَأْخُذُونَ بِالأَحْدَثِ فَالأَحْدَثِ مِنْ أَمْرِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ .
نوید مجید طیب
سیدنا عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہما روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ فتح مکہ کے لیے رمضان میں نکلے تو روزہ رکھا یہاں تک کہ کدید نامی جگہ پر پہنچے تو لوگوں نے افطار کیا صحابہ کرام رضی اللہ عنہم رسول اللہ ﷺ کے ہر جدید حکم کی پیروی کرتے تھے (یعنی رسول اللہ ﷺ نے فرمایا تھا افطار کر دو تو انہوں نے عمل کیا)۔
حدیث نمبر: 309
أَنْبَأَنَا مَالِكٌ ، عَنْ سُمَيٍّ ، مَوْلَى أَبِي بَكْرِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ , عَنْ أَبِي بَكْرِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، عَنْ بَعْضِ أَصْحَابِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَمَرَ النَّاسَ فِي سَفَرِهِ عَامَ الْفَتْحِ بِالْفِطْرِ ، وَقَالَ : " تَقَوَّوْا لِعَدُوِّكُمْ " وَصَامَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ . قَالَ أَبُو بَكْرٍ : قَالَ الَّذِي حَدَّثَنِي : لَقَدْ رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِالْعَرْجِ يَصُبُّ عَلَى رَأْسِهِ مِنَ الْعَطَشِ أَوْ مِنَ الْحَرِّ ، فَقِيلَ : يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنَّ طَائِفَةً مِنَ النَّاسِ صَامُوا حِينَ صُمْتَ قَالَ : فَلَمَّا كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِالْكَدِيدِ دَعَا بِقَدَحِ مَاءٍ فَشَرِبَ فَأَفْطَرَ النَّاسُ .
نوید مجید طیب
ابو بکر بن عبد الرحمن رحمہ اللہ بعض اصحاب رسول ﷺ سے روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فتح مکہ کے سفر میں لوگوں کو حکم دیا کہ روزہ افطار کر لو تاکہ دشمن کے مقابلے کے لیے تقویت ہو، رسول اللہ ﷺ نے روزہ رکھا۔ ابو بکر رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ جس نے مجھے یہ حدیث بیان کی اس نے کہا کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو عرج کے مقام پر دیکھا کہ پیاس کی شدت سے سر پر پانی بہا رہے تھے یا گرمی کی شدت سے، تو رسول اللہ ﷺ کو بتایا گیا کہ ”آپ ﷺ نے روزہ رکھا ہوا ہے اس لیے ایک گروہ نے ابھی تک روزہ نہیں توڑا“، تو جب رسول اللہ ﷺ کدید پہنچے تو پانی کا پیالہ منگوایا (لوگوں کے سامنے) پیا تو تمام لوگوں نے افطار کر لیا۔
حدیث نمبر: 310
أَنْبَأَنَا مَالِكٌ ، عَنْ حُمَيْدٍ الطَّوِيلِ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ، أَنَّهُ قَالَ : " سَافَرْنَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي رَمَضَانَ فَلَمْ يَعِبِ الصَّائِمُ عَلَى الْمُفْطِرِ وَلَمْ يَعِبِ الْمُفْطِرُ عَلَى الصَّائِمِ " .
نوید مجید طیب
سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ہم نے رسول اللہ ﷺ کے ساتھ سفر کیا ماہ رمضان میں (بعض صحابہ رضی اللہ عنہم روزے سے تھے بعض بغیر روزے کے) تو صائم بے روز پر اعتراض نہ کرتا تھا اور روزہ نہ رکھنے والا رکھنے والے پر عیب نہ لگاتا تھا۔
حدیث نمبر: 311
أَنْبَأَنَا مَالِكٌ ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ عَائِشَةَ زَوْجِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّ حَمْزَةَ بْنَ عَمْرٍو الأَسْلَمِيَّ قَالَ لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : أَصُومُ فِي السَّفَرِ ؟ وَكَانَ كَثِيرَ الصِّيَامِ ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " إِنْ شِئْتَ فَصُمْ وَإِنْ شِئْتَ فَأَفْطِرْ " .
نوید مجید طیب
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا زوجہ نبی ﷺ روایت کرتی ہیں کہ حمزہ بن عمرو اسلمی رضی اللہ عنہ نے رسول اللہ ﷺ سے کہا: ”کیا میں سفر میں روزہ رکھ لوں؟“ وہ بہت زیادہ روزے رکھتے رہتے تھے، تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”چاہے تو رکھ لے چاہے تو افطار کر لے۔“
حدیث نمبر: 312
عَنْ عَبْدِ الْوَهَّابِ بْنِ عَبْدِ الْمَجِيدِ الثَّقَفِيِّ ، عَنْ حُمَيْدٍ الطَّوِيلِ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ، قَالَ : " سَافَرْنَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَمِنَّا الصَّائِمُ وَمِنَّا الْمُفْطِرُ لا يَعِيبُ الصَّائِمُ عَلَى الْمُفْطِرِ وَلا الْمُفْطِرُ عَلَى الصَّائِمِ " .
نوید مجید طیب
سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ہم نے رسول اللہ ﷺ کے ہمراہ سفر کیا، ہم روزے والے اور بغیر روزے والے سب تھے ایک دوسرے پر اعتراض نہیں کرتے تھے۔
حدیث نمبر: 313
وَأَخْبَرَنَا عَبْدُ الْوَهَّابِ بْنُ عَبْدِ الْمَجِيدِ الثَّقَفِيُّ ، عَنِ الْجُرَيْرِيِّ ، عَنْ أَبِي نَضْرَةَ ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ ، قَالَ : " كُنَّا نُسَافِرُ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَمِنَّا الصَّائِمُ وَمِنَّا الْمُفْطِرُ لا يَجِدُ الْمُفْطِرُ عَلَى الصَّائِمِ وَلا الصَّائِمُ عَلَى الْمُفْطِرِ يَرَوْنَ أَنَّهُ مَنْ وَجَدَ قُوَّةً فَصَامَ أَنَّ ذَلِكَ حَسَنٌ جَمِيلٌ وَمَنْ وَجَدَ ضَعْفًا فَأَفْطَرَ أَنَّ ذَلِكَ حَسَنٌ جَمِيلٌ " .
نوید مجید طیب
سیدنا ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ہم نے رسول اللہ ﷺ کے ہمراہ سفر کیا ہم روزے دار بھی تھے، بغیر روزہ کے بھی، ایک دوسرے کو کچھ نہیں کہتے تھے ان کا خیال تھا کہ جس کو ہمت ہے وہ روزے رکھ لے تو اچھی بات ہے اور جو کمزوری محسوس کرے وہ سفر میں روزہ نہ رکھے تو (اس کے حق میں) یہ اچھی بات ہے۔
وضاحت:
➊ سفر میں روزہ کی رخصت ہے لیکن اگر طاقت و قوت ہو تو رکھنے کی بھی اجازت ہے جیسا کہ مذکورہ بالا احادیث میں صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے روزہ رکھا بھی اور بعض نے افطار بھی کیا اور حمزہ بن عمرو اسلمی رضی اللہ عنہ کو بھی ہمت و طاقت کی وجہ سے اجازت دی گئی۔
➋ جس حدیث میں یہ ہے کہ سفر میں روزہ نیکی نہیں اس سے مراد مشقت میں پڑنے کے باوجود روزہ نہ چھوڑنا کہ اپنی جان کو خطرے میں ڈال دیا جائے اس طرح کا روزہ نیکی نہیں بلکہ خود کشی ہے۔
➌ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے سفر میں ایک آدمی کو دیکھا جس نے دوسروں کو بھی مشقت میں ڈالا ہوا ہے لوگوں نے اس پر سایہ کیا ہوا ہے اس کی زندگی بچا رہے ہیں پتہ چلا یہ روزے دار ہے اس موقعہ پر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تھا: سفر میں روزہ رکھ لینا کوئی نیکی نہیں۔ [صحیح بخاری: 1946]
➍ سفر میں روزہ کی رخصت ہر حال میں قائم ہے چاہے پیدل سفر ہو یا ہوائی جہاز پر خواہ تھکاوٹ ہو یا سفر آرام دہ ہو کیونکہ شریعت نے مطلقاً اجازت دی ہے اہل رائے کی قیود کا خیال نہیں رکھا کہ اب سفر آسان ہو گئے ہیں نماز قصر نہ کرو یا روزہ نہ چھوڑو ٹیکنالوجی کی دریافت سے شرعی احکام معطل نہیں ہو سکتے جو عہد نبوی میں سنت تھی آج بھی سنت ہے اور قیامت تک سنت ہی رہے گی، جو اس وقت دین نہیں تھا آج بھی دین نہیں ہو سکتا، کل بھی دین نہیں ہو سکتا۔
درد دل مسلم مقام مصطفٰی است
آبروئے ماز نام مصطفٰی است
➋ جس حدیث میں یہ ہے کہ سفر میں روزہ نیکی نہیں اس سے مراد مشقت میں پڑنے کے باوجود روزہ نہ چھوڑنا کہ اپنی جان کو خطرے میں ڈال دیا جائے اس طرح کا روزہ نیکی نہیں بلکہ خود کشی ہے۔
➌ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے سفر میں ایک آدمی کو دیکھا جس نے دوسروں کو بھی مشقت میں ڈالا ہوا ہے لوگوں نے اس پر سایہ کیا ہوا ہے اس کی زندگی بچا رہے ہیں پتہ چلا یہ روزے دار ہے اس موقعہ پر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تھا: سفر میں روزہ رکھ لینا کوئی نیکی نہیں۔ [صحیح بخاری: 1946]
➍ سفر میں روزہ کی رخصت ہر حال میں قائم ہے چاہے پیدل سفر ہو یا ہوائی جہاز پر خواہ تھکاوٹ ہو یا سفر آرام دہ ہو کیونکہ شریعت نے مطلقاً اجازت دی ہے اہل رائے کی قیود کا خیال نہیں رکھا کہ اب سفر آسان ہو گئے ہیں نماز قصر نہ کرو یا روزہ نہ چھوڑو ٹیکنالوجی کی دریافت سے شرعی احکام معطل نہیں ہو سکتے جو عہد نبوی میں سنت تھی آج بھی سنت ہے اور قیامت تک سنت ہی رہے گی، جو اس وقت دین نہیں تھا آج بھی دین نہیں ہو سکتا، کل بھی دین نہیں ہو سکتا۔
درد دل مسلم مقام مصطفٰی است
آبروئے ماز نام مصطفٰی است
حدیث نمبر: 314
حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنِ ابْنِ أَبِي لَبِيدٍ ، قَالَ : سَمِعْتُ أَبَا سَلَمَةَ هُوَ ابْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ يَقُولُ : دَخَلْتُ عَلَى عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا ، فَقُلْتُ : أَيْ أُمَّهْ ، أَخْبِرِينِي عَنْ صِيَامِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَقَالَتْ : كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " يَصُومُ حَتَّى نَقُولَ قَدْ صَامَ وَيُفْطِرُ حَتَّى نَقُولَ قَدْ أَفْطَرَ وَمَا رَأَيْتُهُ صَائِمًا فِي شَهْرٍ قَطُّ أَكْثَرَ مِنْ صِيَامِهِ فِي شَعْبَانَ كَانَ يَصُومُهُ كُلَّهُ بَلْ كَانَ يَصُومُهُ إِلا قَلِيلا " .
نوید مجید طیب
ابو سلمہ بن عبد الرحمن رحمہ اللہ کہتے ہیں میں ام المومنین سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کے پاس گیا اور عرض کی اماں جی مجھے رسول اللہ ﷺ کے روزوں کے بارے میں بتائیں، تو انہوں نے کہا: رسول اللہ ﷺ (نفلی) روزے (اس تسلسل سے) رکھتے کہ ہم کہتے روزے ہی رکھتے جارہے ہیں اور افطار کرتے حتی کہ ہم کہتے آپ ﷺ نے روزے چھوڑ ہی دیئے ہیں، میں نے نبی اکرم ﷺ کو کبھی شعبان سے زیادہ کسی ماہ کے روزے رکھتے نہیں دیکھا (گویا کہ پورا ماہ روزے میں ہی گزار دیتے چند دن ہی چھوڑتے)۔
وضاحت:
➊ نفلی روزے مسلسل رکھنا جائز ہے بشرطیکہ پورا ماہ نہ رکھے جائیں۔
➋ وصال کرنا یا پورے سال روزے میں رکھنا خلاف شرع ہے اور اس سے منع کیا گیا ہے۔ ماہ شعبان میں نفلی روزے کا اہتمام دیگر ماہ کی نسبت زیادہ کرنا چاہیے، بہترین روزے رکھنے کا طریقہ یہ ہے کہ ایک دن روزہ ہو اور ایک دن افطار ہو جیسے داؤد علیہ السلام رکھتے تھے۔ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم ہر عمل رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پر نظر رکھتے اور وہ عمل کرنے کی کوشش کرتے تھے۔
➋ وصال کرنا یا پورے سال روزے میں رکھنا خلاف شرع ہے اور اس سے منع کیا گیا ہے۔ ماہ شعبان میں نفلی روزے کا اہتمام دیگر ماہ کی نسبت زیادہ کرنا چاہیے، بہترین روزے رکھنے کا طریقہ یہ ہے کہ ایک دن روزہ ہو اور ایک دن افطار ہو جیسے داؤد علیہ السلام رکھتے تھے۔ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم ہر عمل رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پر نظر رکھتے اور وہ عمل کرنے کی کوشش کرتے تھے۔
حدیث نمبر: 315
أَنْبَأَنَا مَالِكُ بْنُ أَنَسٍ ، عَنْ أَبِي النَّضْرِ ، مَوْلَى عُمَرَ بْنِ عُبَيْدِ اللَّهِ , عَنْ أَبِي سَلَمَةَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، عَنْ عَائِشَةَ زَوْجِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، أَنَّهَا قَالَتْ : " كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَصُومُ حَتَّى نَقُولَ لا يُفْطِرُ وَيُفْطِرُ حَتَّى نَقُولَ لا يَصُومُ ، وَمَا رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ اسْتَكْمَلَ صِيَامَ شَهْرٍ قَطُّ إِلا رَمَضَانَ ، وَمَا رَأَيْتُهُ أَكْثَرَ صِيَامًا مِنْهُ فِي شَعْبَانَ " .
نوید مجید طیب
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا زوجہ نبی ﷺ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ (مسلسل) روزے رکھتے حتی کہ ہم کہتے ابھی افطار نہیں کریں گے اور افطار کرتے تو ہم کہتے اب روزے نہیں رکھیں گے، پورے ماہ کے روزے رمضان کے سوا میں نے نہیں رکھتے دیکھا اور رمضان سے زیادہ کسی اور ماہ میں نفلی روزے بھی میں نے رکھتے نہیں دیکھا۔
حدیث نمبر: 316
حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ سَالِمٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، أَنَّ رَجُلا رَأَى لَيْلَةَ الْقَدْرِ ، فَقَالَ : رَأَيْتُ أَنَّهَا لَيْلَةُ كَذَا وَكَذَا فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " أَرَى رُؤْيَاكُمْ قَدْ تَوَاطَأَتْ فَالْتَمِسُوهَا فِي الْعَشْرِ الأَوَاخِرِ فِي الْوِتْرِ مِنْهَا " ، أَوْ " فِي السَّبْعِ الْبَوَاقِي " . شَكَّ سُفْيَانُ : قَالَ : " فِي الْوِتْرِ " ، أَوْ " فِي السَّبْعِ الْبَوَاقِي " .
نوید مجید طیب
سالم رحمہ اللہ اپنے باپ سے بیان کرتے ہیں کہ ایک آدمی نے خواب میں لیلتہ القدر دیکھی اس نے کہا کہ ”میں نے ایسے ایسے دیکھا ہے“، تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”میں دیکھتا ہوں کہ تمہارے خواب موافقت کر رہے ہیں تو لیلۃ القدر کو آخری عشرے کی طاق راتوں میں تلاش کرو یا جو سات باقی راتیں رہ گئی ہیں ان میں تلاش کرو۔“ سفیان رحمہ اللہ (راوی) نے شک کیا کہ طاق میں تلاش کرنے کا کہا یا باقی سات میں تلاش کرنے کا کہا۔
حدیث نمبر: 317
عَنْ سُفْيَانَ بْنِ عُيَيْنَةَ ، عَنْ عَاصِمٍ ، وَعَبْدَةَ ، عَنْ زِرِّ بْنِ حُبَيْشٍ ، قَالَ : قُلْتُ لأُبَيِّ بْنِ كَعْبٍ : إِنَّ أَخَاكَ ابْنَ مَسْعُودٍ قَالَ : مَنْ يَقُمِ الْحَوْلَ يُصِبْ لَيْلَةَ الْقَدْرِ ، فَقَالَ : يَرْحَمُ اللَّهُ أَبَا عَبْدِ الرَّحْمَنِ لَقَدْ عَلِمَ أَنَّهَا فِي رَمَضَانَ وَأَنَّهَا لَيْلَةُ سَبْعٍ وَعِشْرِينَ وَلَكِنْ أَرَادَ أَنْ لا يَتَّكِلُوا ثُمَّ حَلَفَ أُبَيٌّ لا يَسْتَثْنِي أَنَّهَا لَيْلَةُ سَبْعٍ وَعِشْرِينَ مِنْ رَمَضَانَ قُلْتُ : يَا أَبَا الْمُنْذِرِ بِأَيِّ شَيْءٍ تَعْلَمُ ذَلِكَ ؟ قَالَ : بِالآيَةِ الَّتِي أَخْبَرَنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّ الشَّمْسَ تَطْلُعُ صَبِيحَةَ ذَلِكَ الْيَوْمَ لا شُعَاعَ لَهَا .
نوید مجید طیب
زر بن حبیش رحمہ اللہ کہتے ہیں میں نے سیدنا ابی بن کعب رضی اللہ عنہ سے کہا آپ کے بھائی سیدنا عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ ”جو پورا سال قیام کرتا ہے وہ لیلۃ القدر پالیتا ہے“، تو ابی بن کعب رضی اللہ عنہ نے کہا: ”اللہ اُن پر رحم فرمائے۔ انہیں معلوم ہے کہ لیلتہ القدر رمضان میں ہے اور ستائیسویں رات ہے لیکن انہوں نے چاہا ہے کہ لوگ اس پر قناعت کر کے نہ بیٹھ جائیں“، پھر انہوں نے ان شاء اللہ کہے بغیر قسم کھا کر کہا کہ ”لیلۃ القدر رمضان کی ستائیسویں رات ہی ہے“، میں نے کہا اے ابو منذر آپ کو یہ کیسے معلوم ہوا؟ انہوں نے کہا: ”اس نشانی کی بنیاد پر جو رسول اللہ ﷺ نے بتائی تھی کہ اس صبح جب سورج طلوع ہوتا ہے تو اس کی شعائیں مدہم ہوتی ہیں۔“
حدیث نمبر: 318
وَأَخْبَرَنَا مَالِكٌ ، عَنْ حُمَيْدٍ الطَّوِيلِ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ، أَنَّهُ قَالَ : خَرَجَ عَلَيْنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي رَمَضَانَ فَقَالَ : " إِنِّي أُرِيتُ هَذِهِ اللَّيْلَةَ حَتَّى تَلاحَى رَجُلانِ فَرُفِعَتْ فَالْتَمِسُوهَا فِي التَّاسِعَةِ وَالسَّابِعَةِ وَالْخَامِسَةِ " .
نوید مجید طیب
سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے رسول اللہ ﷺ (اپنے حجرے سے) رمضان میں نکل کر ہمارے پاس آئے تو فرمایا: ”مجھے لیلتہ القدر دکھلائی گئی حتی کہ دو آدمی جھگڑ رہے تھے (میں ان کے معاملہ میں مشغول ہوا) تو دل سے یاد اٹھالی گئی لہذا تم اسے انتیس، ستائیس اور پچیس کی راتوں میں تلاش کرو۔“
حدیث نمبر: 319
أَنْبَأَنَا مَالِكٌ ، عَنْ نَافِعٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ ، أَنَّ رِجَالا مِنْ أَصْحَابِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أُرُوا لَيْلَةَ الْقَدْرِ فِي الْمَنَامِ فِي السَّبْعِ الأَوَاخِرِ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " إِنِّي أَرَى رُؤْيَاكُمْ قَدْ تَوَاطَأَتْ فِي السَّبْعِ الأَوَاخِرِ فَمَنْ كَانَ مِنْكُمْ مُتَحَرِّيَهَا فَلْيَتَحَرَّهَا فِي السَّبْعِ الأَوَاخِرِ " .
نوید مجید طیب
سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ متعدد صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے خواب میں لیلۃ القدر آخری سات راتوں میں دیکھی تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”میں دیکھ رہا ہوں تمہاری خوابیں آخری سات ایام میں موافقت کر رہی ہیں جو تم میں سے اس رات کا متلاشی ہے وہ آخری سات میں تلاش کرے۔“
حدیث نمبر: 320
أَنْبَأَنَا مَالِكٌ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ دِينَارٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " تَحَرَّوْا لَيْلَةَ الْقَدْرِ فِي السَّبْعِ الأَوَاخِرِ " .
نوید مجید طیب
سیدنا عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”لیلۃ القدر کو آخری سات راتوں میں تلاش کرو۔“
حدیث نمبر: 321
عَنْ سُفْيَانَ بْنِ عُيَيْنَةَ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " مَنْ قَامَ لَيْلَةَ الْقَدْرِ إِيمَانًا وَاحْتِسَابًا غُفِرَ لَهُ مَا تَقَدَّمَ مِنْ ذَنْبِهِ " .
نوید مجید طیب
سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”جس نے لیلتہ القدر کا حالت ایمان اور ثواب کی نیت سے قیام کیا اس کے سابقہ گناہ معاف کر دیے جائیں گے۔“
حدیث نمبر: 322
أَنْبَأَنَا عَبْدُ الْوَهَّابِ بْنُ عَبْدِ الْمَجِيدِ الثَّقَفِيُّ ، عَنْ حُمَيْدٍ الطَّوِيلِ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ، عَنْ عُبَادَةَ بْنِ الصَّامِتِ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ خَرَجَ إِلَيْهِمْ وَهُوَ يُرِيدُ أَنْ يُخْبِرَهُمُ بِلَيْلَةِ الْقَدْرِ فَتَلاحَى رَجُلانِ ، فَقَالَ : " إِنِّي خَرَجْتُ وَأَنَا أُرِيدُ أَنْ أُخْبِرَكُمْ بِلَيْلَةِ الْقَدْرِ فَتَلاحَى فُلانٌ وَفُلانٌ وَلَعَلَّ ذَلِكَ أَنْ يَكُونَ خَيْرًا لَكُمْ فَالْتَمِسُوهَا فِي التَّاسِعَةِ وَالسَّابِعَةِ وَالْخَامِسَةِ " .
نوید مجید طیب
سیدنا عبادہ بن صامت رضی اللہ عنہ سے روایت ہے رسول اللہ ﷺ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کی طرف نکلے لیلۃ القدر کے بارے میں بتانا چاہتے تھے کہ دو آدمی لڑ پڑے تو رسول اللہ ﷺ نے (بعد میں) فرمایا : ”میں تمہیں لیلۃ القدر بتانے نکلا تھا فلاں فلاں جھگڑ رہے تھے شاید اسی میں تمہاری بہتری ہو تم اسے انتیسویں ستائیسویں اور پچیسویں تاریخوں میں تلاش کرو۔“
وضاحت:
➊ ارشادِ باری تعالیٰ ہے: ﴿إِنَّا أَنزَلْنَاهُ فِي لَيْلَةِ الْقَدْرِ 1 وَمَا أَدْرَاكَ مَا لَيْلَةُ الْقَدْرِ 2 لَيْلَةُ الْقَدْرِ خَيْرٌ مِّنْ أَلْفِ شَهْرٍ 3 تَنَزَّلُ الْمَلَائِكَةُ وَالرُّوحُ فِيهَا بِإِذْنِ رَبِّهِم مِّن كُلِّ أَمْرٍ 4 سَلَامٌ هِيَ حَتَّىٰ مَطْلَعِ الْفَجْرِ 5﴾ [القدر: 1-5]
بلاشبہ ہم نے اسے قدر کی رات میں اتارا۔ اور تجھے کس چیز نے معلوم کروایا کہ قدر کی رات کیا ہے؟ قدر کی رات ہزار مہینے سے بہتر ہے۔ اس میں فرشتے اور روح اپنے رب کے حکم سے ہر امر کے متعلق اترتے ہیں۔ وہ رات فجر طلوع ہونے تک سراسر سلامتی ہے۔
➋ لیلۃ القدر رمضان میں ہونے کی صراحت خود قرآن نے کی ہے، ارشادِ باری تعالیٰ: ﴿شَهْرُ رَمَضَانَ الَّذِي أُنزِلَ فِيهِ الْقُرْآنُ هُدًى لِّلنَّاسِ وَبَيِّنَاتٍ مِّنَ الْهُدَىٰ وَالْفُرْقَانِ ۚ فَمَن شَهِدَ مِنكُمُ الشَّهْرَ فَلْيَصُمْهُ ۖ وَمَن كَانَ مَرِيضًا أَوْ عَلَىٰ سَفَرٍ فَعِدَّةٌ مِّنْ أَيَّامٍ أُخَرَ ۗ يُرِيدُ اللَّهُ بِكُمُ الْيُسْرَ وَلَا يُرِيدُ بِكُمُ الْعُسْرَ وَلِتُكْمِلُوا الْعِدَّةَ وَلِتُكَبِّرُوا اللَّهَ عَلَىٰ مَا هَدَاكُمْ وَلَعَلَّكُمْ تَشْكُرُونَ﴾ [البقرة: 185]
"رمضان کا مہینہ وہ ہے جس میں قرآن نازل کیا گیا جو انسانوں کے لیے ہدایت ہے اور اس میں ہدایت کی واضح اور حق باطل سے جدا کرنے والی دلیلیں ہیں، پھر تم سے جو شخص اس مہینے کو پائے تو اسے چاہیے کہ اس کے روزے رکھے اور جو شخص بیمار ہو یا سفر پر ہو تو دوسرے دنوں میں گنتی پوری کرے۔ اللہ تمہارے لیے آسانی چاہتا ہے اور وہ تمہارے لیے تنگی نہیں چاہتا اور تاکہ تم گنتی پوری کرو اور اس پر اللہ کی بڑائی بیان کرو کہ اس نے تمہیں ہدایت دی اور تاکہ تم شکر کرو۔"
➌ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم رمضان المبارک کے پورے آخری عشرے میں شب بیداری، اعتکاف اور گھر والوں کو جگانے کا اہتمام کرتے تھے۔ [البخاری: 2024]
➍ لیلۃ القدر دعا کی قبولیت کی ایک گھڑی ہے ہر سال لیلۃ القدر بھی چاند کی طرح گھومتی رہتی ہے ضروری نہیں ایک سال ستائیس کو آئی تو آئندہ بھی ستائیس کو ہی آئے گی اس لیے آخری عشرے میں تلاش کرنی چاہیے۔
➎ جس نے لیلۃ القدر میں عقیدہ توحید، ایمان اور خالص نیتِ ثواب سے عبادت کی اس کے گناہ معاف ہوں گے اسی طرح لیلۃ القدر کے علاوہ ہر اذان و اقامت کے درمیان کا وقت، فرضوں کے بعد کا وقت، حالتِ سفر میں، بارش کے نزول کے وقت، ہر روز رات کے آخری پہر اور جمعہ کے روز بھی دعا کی قبولیت کی گھڑیاں موجود ہیں یہ گھڑیاں ہر صحیح العقیدہ اور خالص نیت والے کو میسر ہیں بس انسان متلاشی ہونا چاہیے محض اوہام اور امیدیں انسان کے کام نہیں آتیں ﴿وَأَن لَّيْسَ لِلْإِنسَانِ إِلَّا مَا سَعَى﴾ [النجم: 39] عمل کام آتا ہے: عمل سے زندگی بنتی ہے جنت بھی جہنم بھی
یہ خاکی اپنی فطرت میں نہ نوری ہے نہ ناری
بلاشبہ ہم نے اسے قدر کی رات میں اتارا۔ اور تجھے کس چیز نے معلوم کروایا کہ قدر کی رات کیا ہے؟ قدر کی رات ہزار مہینے سے بہتر ہے۔ اس میں فرشتے اور روح اپنے رب کے حکم سے ہر امر کے متعلق اترتے ہیں۔ وہ رات فجر طلوع ہونے تک سراسر سلامتی ہے۔
➋ لیلۃ القدر رمضان میں ہونے کی صراحت خود قرآن نے کی ہے، ارشادِ باری تعالیٰ: ﴿شَهْرُ رَمَضَانَ الَّذِي أُنزِلَ فِيهِ الْقُرْآنُ هُدًى لِّلنَّاسِ وَبَيِّنَاتٍ مِّنَ الْهُدَىٰ وَالْفُرْقَانِ ۚ فَمَن شَهِدَ مِنكُمُ الشَّهْرَ فَلْيَصُمْهُ ۖ وَمَن كَانَ مَرِيضًا أَوْ عَلَىٰ سَفَرٍ فَعِدَّةٌ مِّنْ أَيَّامٍ أُخَرَ ۗ يُرِيدُ اللَّهُ بِكُمُ الْيُسْرَ وَلَا يُرِيدُ بِكُمُ الْعُسْرَ وَلِتُكْمِلُوا الْعِدَّةَ وَلِتُكَبِّرُوا اللَّهَ عَلَىٰ مَا هَدَاكُمْ وَلَعَلَّكُمْ تَشْكُرُونَ﴾ [البقرة: 185]
"رمضان کا مہینہ وہ ہے جس میں قرآن نازل کیا گیا جو انسانوں کے لیے ہدایت ہے اور اس میں ہدایت کی واضح اور حق باطل سے جدا کرنے والی دلیلیں ہیں، پھر تم سے جو شخص اس مہینے کو پائے تو اسے چاہیے کہ اس کے روزے رکھے اور جو شخص بیمار ہو یا سفر پر ہو تو دوسرے دنوں میں گنتی پوری کرے۔ اللہ تمہارے لیے آسانی چاہتا ہے اور وہ تمہارے لیے تنگی نہیں چاہتا اور تاکہ تم گنتی پوری کرو اور اس پر اللہ کی بڑائی بیان کرو کہ اس نے تمہیں ہدایت دی اور تاکہ تم شکر کرو۔"
➌ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم رمضان المبارک کے پورے آخری عشرے میں شب بیداری، اعتکاف اور گھر والوں کو جگانے کا اہتمام کرتے تھے۔ [البخاری: 2024]
➍ لیلۃ القدر دعا کی قبولیت کی ایک گھڑی ہے ہر سال لیلۃ القدر بھی چاند کی طرح گھومتی رہتی ہے ضروری نہیں ایک سال ستائیس کو آئی تو آئندہ بھی ستائیس کو ہی آئے گی اس لیے آخری عشرے میں تلاش کرنی چاہیے۔
➎ جس نے لیلۃ القدر میں عقیدہ توحید، ایمان اور خالص نیتِ ثواب سے عبادت کی اس کے گناہ معاف ہوں گے اسی طرح لیلۃ القدر کے علاوہ ہر اذان و اقامت کے درمیان کا وقت، فرضوں کے بعد کا وقت، حالتِ سفر میں، بارش کے نزول کے وقت، ہر روز رات کے آخری پہر اور جمعہ کے روز بھی دعا کی قبولیت کی گھڑیاں موجود ہیں یہ گھڑیاں ہر صحیح العقیدہ اور خالص نیت والے کو میسر ہیں بس انسان متلاشی ہونا چاہیے محض اوہام اور امیدیں انسان کے کام نہیں آتیں ﴿وَأَن لَّيْسَ لِلْإِنسَانِ إِلَّا مَا سَعَى﴾ [النجم: 39] عمل کام آتا ہے: عمل سے زندگی بنتی ہے جنت بھی جہنم بھی
یہ خاکی اپنی فطرت میں نہ نوری ہے نہ ناری