کتب حدیثالسنن المأثورةابوابباب: عاشورا کے روزوں کا بیان
حدیث نمبر: 323
حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ ، قَالَ : سَمِعْتُ عُبَيْدَ اللَّهِ بْنَ أَبِي يزَيْدٍ ، قَالَ : سَمِعْتُ ابْنَ عَبَّاسٍ ، يَقُولُ : " مَا عَلِمْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ صَامَ يَوْمًا يَتَحَرَّى فَضْلَهُ عَلَى الأَيَّامِ إِلا هَذَا الْيَوْمَ يَعْنِي يَوْمَ عَاشُورَاءَ " .
نوید مجید طیب
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ میں نہیں جانتا کہ نبی اکرم ﷺ نے عاشوراء سے کسی دن کو افضل شمار کر کے روزہ رکھا ہو۔
حوالہ حدیث السنن المأثورة / باب ما جاء في صيام عاشوراء / حدیث: 323
تخریج حدیث صحيح بخارى، الصوم، باب صوم يوم عاشوراء، رقم : 2006، صحیح مسلم، الصيام، باب صوم يوم عاشوراء، رقم : 1132
حدیث نمبر: 324
وَأَخْبَرَنَا يَحْيَى بْنُ حَسَّانَ ، عَنِ اللَّيْثِ بْنِ سَعْدٍ ، عَنْ نَافِعٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ ، قَالَ : ذُكِرَ عِنْدَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَوْمُ عَاشُورَاءَ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " كَانَ يَوْمًا يَصُومُهُ أَهْلُ الْجَاهِلِيَّةِ فَمَنْ أَحَبَّ مِنْكُمْ أَنْ يَصُومَهُ فَلْيَصُمْهُ وَمَنْ كَرِهَ فَلْيَدَعْهُ " .
نوید مجید طیب
سیدنا عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے رسول اللہ ﷺ کے پاس عاشوراء کے روزے کا تذکرہ ہوا تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : ”اس دن کا اہل جاہلیت بھی روزہ رکھتے تھے جو پسند کرے اس دن روزہ رکھ لے جو نا پسند کرے نہ رکھے۔“
حوالہ حدیث السنن المأثورة / باب ما جاء في صيام عاشوراء / حدیث: 324
تخریج حدیث صحيح مسلم، الصيام، باب صوم يوم عاشوراء، رقم : 1126
حدیث نمبر: 325
وَأَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ ، عَنِ ابْنِ أَبِي ذِئْبٍ ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ ، عَنْ عُرْوَةَ ، عَنْ عَائِشَةَ زَوْجِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَتْ : " كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَصُومُ عَاشُورَاءَ وَيَأْمُرُنَا بِصِيَامِهِ " .
نوید مجید طیب
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا زوجہ نبی ﷺ فرماتی ہیں کہ رسول اللہ ﷺ عاشوراء کا روزہ رکھتے تھے اور ہمیں بھی روزہ رکھنے کا حکم دیتے تھے۔
حوالہ حدیث السنن المأثورة / باب ما جاء في صيام عاشوراء / حدیث: 325
تخریج حدیث سنن ابن ماجه الصيام، باب صيام يوم عاشوراء، رقم : 1733 وقال الالباني: صحيح، مسند احمد : 211/43، رقم : 26107 وقال الارنوؤط: اسناده صحيح على شرط الشيخين
حدیث نمبر: 326
وَأَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ ، عَنِ ابْنِ أَبِي ذِئْبٍ ، عَنِ الْقَاسِمِ بْنِ عَبَّاسٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَيْرٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبَّاسٍ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " لَئِنْ سَلِمْتُ إِلَى قَابِلٍ لأَصُومَنَّ الْيَوْمَ التَّاسِعَ " .
نوید مجید طیب
سیدنا عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”اگر میں آئندہ سال زندہ رہا تو ضرور نو محرم کو روزہ رکھوں گا۔“
حوالہ حدیث السنن المأثورة / باب ما جاء في صيام عاشوراء / حدیث: 326
تخریج حدیث صحيح مسلم، الصيام، باب أى يوم يصام في عاشوراء، رقم : 1134
حدیث نمبر: 327
حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ ، عَنْ حُمَيْدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، قَالَ : سَمِعْتُ مُعَاوِيَةَ بْنَ أَبِي سُفْيَانَ يَوْمَ عَاشُورَاءَ عَلَى مِنْبَرِ الْمَدِينَةِ وَأَخْرَجَ قُصَّةً مِنْ كُمِّهِ ، فَقَالَ : أَيْنَ عُلَمَاؤُكُمْ يَا أَهْلَ الْمَدِينَةِ ؟ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَنْهَى عَنْ مِثْلِ هَذِهِ ، وَقَالَ : " إِنَّمَا هَلَكَتْ بَنُو إِسْرَائِيلَ حِينَ اتَّخَذَهَا نِسَاؤُهُمْ " ، ثُمَّ قَالَ : سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي هَذَا الْيَوْمِ يَقُولُ : " إِنِّي صَائِمٌ فَمَنْ شَاءَ فَلْيَصُمْ " .
نوید مجید طیب
حمید بن عبد الرحمن رحمہ اللہ فرماتے ہیں میں نے سیدنا معاویہ بن ابی سفیان رضی اللہ عنہ سے منبر مدینہ پر عاشوراء کے دن سنا انہوں نے اپنی آستین سے بالوں کا ایک گچھا نکال کر فرمایا : ”اے اہل مدینہ تمہارے علماء کدھر گئے ہیں؟ میں نے رسول اللہ ﷺ سے سنا آپ نے اس سے منع فرمایا اور فرمایا تھا کہ : بنو اسرائیل اس وقت ہلاک ہوئے جب ان کی خواتین نے یہ بناوٹی بال لگائے۔“ پھر فرمایا: ”میں نے اس دن رسول اللہ ﷺ کو فرماتے سنا کہ: میں نے روزہ رکھا ہے جو چاہیے اس دن کا روزہ رکھے۔“
حوالہ حدیث السنن المأثورة / باب ما جاء في صيام عاشوراء / حدیث: 327
تخریج حدیث صحیح بخاری احادیث الانبياء، باب رقم : 3468، صحیح مسلم، الصيام، باب صوم يوم عاشوراء، رقم : 1129
حدیث نمبر: 328
وَأَنْبَأَنَا مَالِكٌ ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا ، أَنَّهَا قَالَتْ : " كَانَ يَوْمُ عَاشُورَاءَ يَوْمًا يَصُومُهُ قُرَيْشٌ فِي الْجَاهِلِيَّةِ وَكَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَصُومُهُ فِي الْجَاهِلِيَّةِ فَلَمَّا قَدِمَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْمَدِينَةَ صَامَهُ وَأَمَرَ بِصِيَامِهِ فَلَمَّا فُرِضَ رَمَضَانُ كَانَ الْفَرِيضَةَ وَتُرِكَ يَوْمُ عَاشُورَاءَ فَمَنْ شَاءَ صَامَهُ وَمَنْ شَاءَ تَرَكَهُ " .
نوید مجید طیب
ام المومنین سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں یوم عاشوراء کا روزہ قریش جاہلیت میں بھی رکھتے تھے اور رسول اللہ ﷺ بھی اس زمانے میں روزہ رکھتے جب رسول اللہ ﷺ مدینہ تشریف لائے عاشوراء کا روزہ رکھا اور اس کے روزے کا حکم بھی دیا پھر جب رمضان کے روزے فرض ہوئے تو عاشوراء کے روزہ کی فرضیت جاتی رہی جس کا جی چاہے رکھ لے جو چاہے نہ رکھے۔
حوالہ حدیث السنن المأثورة / باب ما جاء في صيام عاشوراء / حدیث: 328
تخریج حدیث صحیح بخاری، الصوم، باب صوم يوم عاشوراء، رقم : 2022، صحیح مسلم، الصيام، باب صوم يوم عاشوراء، رقم : 1125
حدیث نمبر: 329
أَنْبَأَنَا مَالِكٌ ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ ، عَنْ حُمَيْدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، أَنَّهُ سَمِعَ مُعَاوِيَةَ بْنَ أَبِي سُفْيَانَ يَوْمَ عَاشُورَاءَ عَامَ حَجَّ وَهُوَ عَلَى الْمِنْبَرِ ، يَقُولُ : يَا أَهْلَ الْمَدِينَةِ أَيْنَ عُلَمَاؤُكُمْ ؟ ! سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ : " إِنَّ هَذَا الْيَوْمَ يَوْمُ عَاشُورَاءَ وَلَمْ يَكْتُبِ اللَّهُ عَلَيْكُمْ صِيَامَهُ وَأَنَا صَائِمٌ فَمَنْ شَاءَ فَلْيَصُمْ وَمَنْ شَاءَ فَلْيُفْطِرْ " .
نوید مجید طیب
حمید بن عبدالرحمن رحمہ اللہ سے روایت ہے انہوں نے سیدنا معاویہ بن ابی سفیان رضی اللہ عنہ کو سنا عاشوراء کا دن تھا حج کا سال تھا سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ منبر پر فرما رہے تھے اے اہل مدینہ ! تمہارے علماء کہاں ہیں؟ (بناوٹی بال لگانے سے تمہیں منع کیوں نہیں کرتے) میں نے رسول اللہ ﷺ کو فرماتے ہوئے سنا: ”آج کا دن عاشوراء کا دن ہے اس کا روزہ اللہ نے فرض نہیں کیا لیکن میں نے روزہ رکھا ہے جو چاہیے روزہ رکھ لے جو چاہیے افطار کر لے۔“
حوالہ حدیث السنن المأثورة / باب ما جاء في صيام عاشوراء / حدیث: 329
تخریج حدیث صحیح بخاری، الصوم، باب صوم يوم عاشوراء، رقم : 2003، صحیح مسلم، الصيام، باب صوم يوم عاشوراء، رقم : 1129
حدیث نمبر: 330
عَنْ سُفْيَانَ بْنِ عُيَيْنَةَ ، سَمِعَ عُبَيْدَ اللَّهِ بْنَ أَبِي يَزِيدَ ، يَقُولُ : سَمِعْتُ ابْنَ عَبَّاسٍ ، يَقُولُ : " صُومُوا التَّاسِعَ وَالْعَاشِرَ ، وَلا تَتَشَبَّهُوا بِيَهُودَ " .
نوید مجید طیب
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے وہ فرماتے ہیں کہ محرم کی نو اور دس تاریخ کا روزہ رکھو یہود سے مشابہت نہ کرو۔
وضاحت:
➊ عاشورہ سے مراد دس محرم الحرام ہے ابتدائے اسلام میں عاشورہ کا روزہ فرض تھا، جب رمضان المبارک کے روزے فرض ہوئے تو اس کی فرضیت ختم کر دی گئی اب یہ روزہ مسنون ہے۔
➋ عاشورہ کا روزہ نفلی روزوں میں سے ایک انتہائی فضیلت والا روزہ ہے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: «احتسب على الله ان يكفر السنة التى قبله» مجھے اللہ سے امید ہے اس کے ذریعے گزشتہ سال کے گناہ معاف ہو جاتے ہیں۔ [صحیح مسلم: 1166]
➌ اہل جاہلیت اور اہل کتاب بھی اس دن روزہ رکھتے تھے اسلام نے جاہلیت کی اچھی باتوں کو برقرار رکھا۔
➍ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو بتایا گیا اس دن موسیٰ علیہ السلام کو اللہ تعالیٰ نے فرعون سے نجات دی تھی اس لیے یہودی شکرانے کے طور پر اس دن روزہ رکھتے ہیں تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: «نحن اولى بموسيٰ منكم» ہم تمہاری نسبت موسیٰ علیہ السلام کے زیادہ قریب ہیں۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس دن کے روزہ کا حکم دیا۔ [صحیح بخاری: 3943]
➎ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے دس کا روزہ رکھا اور نو کا رکھنے کا ارادہ ظاہر فرمایا لیکن آئندہ سال اس دن کے آنے سے قبل ہی آپ صلی اللہ علیہ وسلم وفات پا گئے۔
➏ نو اور دس محرم دو دنوں کے روزہ سے متعلق ترجمان القرآن سیدنا عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہ کی ترجمانی قابل فہم اور راجح ہے اور یہی فہم سلف کا بھی تقاضا ہے۔
➐ بعض حضرات نے فہم سلف میں اتنا غلو کیا جو کسی طرح تقلید سے کم نہیں، حدیث ایک طرف ہوتی ہے اور عملِ راوی جو بسا اوقات حدیث کے مغائر اس طرح ہوتا ہے کہ دونوں میں تطبیق ممکن ہی نہیں ہوتی، فہم سلف کے نام پر حدیث پر عمل چھوڑ دیتے ہیں، یہ سراسر تقلید ہے اور اسی طرح حرام ہے جس طرح ایک متعصب مقلد کا تقلید کرنا حرام ہے۔
➑ فہم سلف کا معنی صرف یہ ہے کہ سلف میں سے کوئی آدمی آیت یا حدیث بیان کرے اور کہے بھائی اس آیت یا حدیث کا مفہوم، معنی اور مقصود یہ ہے یعنی سلف کی تفسیر ہی فہم سلف ہے۔ اور اگر سلف کا ذاتی عمل ہے یا ذاتی اجتہاد ہے اور اس نے یہ نہیں کہا کہ یہ میرا عمل فلاں حدیث سے مستنبط ہے تو ایسی صورت میں حدیث کو رد کر دینا کہ راوی اپنی روایت کو زیادہ جانتا ہے، یہ موقف رکھنا اور اس کو فہم سلف کہنا غلط ہے۔ اسی تشدد کے باعث ایک فرقہ ایسا بھی ردِ عمل کے طور پر معرض وجود میں آ گیا ہے جس نے فہم سلف کا انکار کر دیا کہ ہم اپنی عقل سے قرآن و حدیث سمجھیں گے۔
➒ ہمارے نزدیک فہم سلف وہی ہے جو کسی نص کی تشریح ہے، ذاتی عمل فہم نہیں کیونکہ انسان میں بھول، سستی اور بے عملی ہر قسم کا احتمال موجود ہے۔
➓ سیدنا معاویہ بن ابی سفیان رضی اللہ عنہ کو تعلیماتِ رسول صلی اللہ علیہ وسلم سے والہانہ محبت و عقیدت تھی، انہوں نے مدینہ میں سنتِ رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی مخالفت دیکھی تو فوراً اہل مدینہ کو تنبیہ فرمائی۔
⓫ اتباعِ نبوی میں حکمران صحابہ کرام رضی اللہ عنہم بھی اہم امور کی نشاندہی کے موقع پر منبر کا استعمال کرتے رہے، افسوس آج مسلمانوں کے حکمران منبر و محراب سے کوسوں دور چلے گئے جس کی وجہ سے وہ ایسے مسائل میں الجھے کہ بقول: نہ خدا ہی ملا نہ وصالِ صنم
ادھر کے رہے نہ ادھر کے رہے
⓬ جس طرح مردوں کے لیے یہود کی مشابہت ممنوع ہے اسی طرح عورتوں کے لیے بھی یہود کی مشابہت ناجائز ہے۔
⓭ عورتوں کا نفلی بال، وگ وغیرہ کا استعمال کرنا جائز نہیں البتہ بالوں کی پیوند کاری درست ہے کیونکہ وہ اصلی بال ہوتے ہیں۔
⓮ حاکمِ وقت کا فرض ہے کہ علماء کو اشاعتِ دین کا فریضہ انجام دینے کی ترغیب دے اور ان کی سستی پر ان کو تنبیہ کرے۔
⓯ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے عاشورہ کے روزے کا خاص اہتمام فرمایا تاہم آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس دن کا روزہ رکھنے اور نہ رکھنے کے بارے میں امت کو اختیار دیا ہے۔
حوالہ حدیث السنن المأثورة / باب ما جاء في صيام عاشوراء / حدیث: 330
تخریج حدیث مصنف عبدالرزاق : 287/4، رقم : 7839، سنن الكبرى للبيهقي : 287/4 ، شرح معانی الآثار للطحاوي : 78/2