کتب حدیثالسنن المأثورةابوابباب: اذان کا بیان
حدیث نمبر: 274
أَنْبَأَنَا مُسْلِمُ بْنُ خَالِدٍ ، وَعَبْدُ اللَّهِ بْنُ الْحَارِثِ الْمَخْزُومِيُّ ، قَالا : حَدَّثَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ ، أَخْبَرَنِي عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ أَبِي مَحْذُورَةَ ، أَنَّ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ مُحَيْرِيزٍ ، أَخْبَرَهُ وَكَانَ ، يَتِيمًا فِي حِجْرِ أَبِي مَحْذُورَةَ حَتَّى جَهَّزَهُ إِلَى الشَّامِ قَالَ : فَقُلْتُ لأَبِي مَحْذُورَةَ : أَيْ عَمِّ إِنِّي خَارِجٌ إِلَى الشَّامِ وَإِنِّي أَخْشَى أَنْ أُسْأَلَ عَنْ تَأْذِينِكِ ، فَأَخْبَرَنِي أَنَّ أَبَا مَحْذُورَةَ قَالَ لَهُ : نَعَمْ خَرَجْتُ فِي نَفَرٍ فَكُنَّا بِبَعْضِ طَرِيقِ حُنَيْنٍ فَقَفَلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ حُنَيْنٍ فَلَقِينَا رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي بَعْضِ الطَّرِيقِ فَأَذَّنَ مُؤَذِّنُ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِالصَّلاةِ عِنْدَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَسَمِعْنَا صَوْتَ الْمُؤَذِّنِ وَنَحْنُ مُتَنَكِّبُونَ فَصَرَخْنَا نَحْكِيهِ وَنَسْتَهْزِئُ بِهِ ، فَسَمِعَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الصَّوْتَ فَأَرْسَلَ إِلَيْنَا إِلَى أَنْ وَقَفْنَا بَيْنَ يَدَيْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " أَيُّكُمُ الَّذِي سَمِعْتُ صَوْتَهُ قَدِ ارْتَفَعَ ؟ " فَأَشَارَ الْقَوْمُ كُلُّهُمْ إِلَيَّ وَصَدَقُوا فَأَرْسَلَ كُلَّهُمْ وَحَبَسَنِي فَقَالَ : " قُمْ فَأَذِّنْ بِالصَّلاةِ " ، فَقُمْتُ وَلا شَيْءَ أَكْرَهُ إِلَيَّ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَلا مِمَّا يَأْمُرُنِي بِهِ ، فَقُمْتُ بَيْنَ يَدَيْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَأَلْقَى عَلَيَّ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ التَّأْذِينَ هُوَ نَفْسَهُ ، فَقَالَ : " قُلِ : اللَّهُ أَكْبَرُ اللَّهُ أَكْبَرُ , اللَّهُ أَكْبَرُ اللَّهُ أَكْبَرُ ، أَشْهَدُ أنْ لا إِلَهَ إِلا اللَّهُ , أَشْهَدُ أَنْ لا إِلَهَ إِلا اللَّهُ . أَشْهَدُ أنَّ مُحَمَّدًا رَسُولُ اللَّهِ , أَشْهَدُ أَنَّ مُحَمَّدًا رَسُولُ اللَّهِ " ، ثُمَّ قَالَ لِي : " ارْجِعْ وَامْدُدْ مِنْ صَوْتِكَ ثُمَّ قَالَ لِي : قُلْ : أَشْهَدُ أنْ لا إِلَهَ إِلا اللَّهُ , أَشْهَدُ أَنْ لا إِلَهَ إِلا اللَّهُ ، أَشْهَدُ أنَّ مُحَمَّدًا رَسُولُ اللَّهِ , أَشْهَدُ أَنَّ مُحَمَّدًا رَسُولُ اللَّهِ ، حَيَّ عَلَى الصَّلاةِ حَيَّ عَلَى الصَّلاةِ , حَيَّ عَلَى الْفَلاحِ , حَيَّ عَلَى الْفَلاحِ , اللَّهُ أَكْبَرُ اللَّهُ أَكْبَرُ , لا إِلَهَ إِلا اللَّهُ " ، ثُمَّ دَعَانِي حِينَ قَضَيْتُ التَّأْذِينَ وَأَعْطَانِي صُرَّةً فِيهَا شَيْءٌ مِنْ فِضَّةٍ ثُمَّ وَضَعَ يَدَهُ عَلَى نَاصِيَةِ أَبِي مَحْذُورَةَ ثُمَّ أَمَرَّهَا عَلَى وَجْهِهِ ثُمَّ بَيْنَ ثَدْيَيْهِ ثُمَّ عَلَى كَبِدِهِ ثُمَّ بَلَغَتْ يَدُ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سُرَّةَ أَبِي مَحْذُورَةَ ثُمَّ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " بَارِكَ اللَّهُ فِيكَ وَبَارِكَ عَلَيْكَ " فَقُلْتُ : يَا رَسُولَ اللَّهِ مُرْنِي بِالتَّأْذِينِ بِمَكَّةَ . قَالَ : " قَدْ أَمَرْتُكَ بِهِ " وَذَهَبَ كُلُّ شَيْءٍ كَانَ لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ كَرَاهِيَةٍ ، وَعَادَ ذَلِكَ كُلُّهُ مَحَبَّةً لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَدِمْتُ عَلَى عَتَّابِ بْنِ أَسِيدٍ عَامَلِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِمَكَّةَ فَأَذَّنْتُ مَعَهُ بِالصَّلاةِ عَنْ أَمْرِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ . قَالَ ابْنُ جُرَيْجٍ : وَأَخْبَرَنِي ذَلِكَ مَنْ أَدْرَكْتُ مِنَ آلِ أَبِي مَحْذُورَةَ فَمَنْ أَدْرَكَ أَبَا مَحْذُورَةَ عَلَى نَحْوِ مِمَّا أَخْبَرَ ابْنُ مُحَيْرِيزٍ .
نوید مجید طیب
عبداللہ بن محیریز رحمہ اللہ سے روایت ہے وہ یتیم تھے سیدنا ابومحذورہ رضی اللہ عنہ کی گود میں پرورش پائی حتی کہ سیدنا ابومحذورہ رضی اللہ عنہ نے انہیں تیار کر کے شام روانہ کیا تو کہتے ہیں کہ میں نے سیدنا ابومحذورہ رضی اللہ عنہ سے عرض کیا: چچا میں شام جا رہا ہوں مجھے امید ہے کہ (وہاں) مجھ سے آپ کی اذان کے بارے میں سوال کیا جائے گا (مجھے کچھ بتا دیں) تو سیدنا ابومحذورہ رضی اللہ عنہ نے فرمایا: میں کچھ لوگوں کے ساتھ نکلا ہم حنین کے راستے پر تھے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم حنین سے واپس آ رہے تھے راستے میں ہماری ملاقات ہوئی تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے مؤذن نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے نماز کے لیے اذان کہی ہم نے مؤذن کی آواز سنی ہم کچھ دور تھے ہم نے بلند آواز مؤذن کی نقل اتارنی شروع کی ہم اس کا مذاق اڑا رہے تھے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے آوازیں سنی تو ہمیں بلوایا حتی کہ ہم آپ کے سامنے کھڑے ہو گئے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تم میں سے وہ کون ہے جس کی بلند آواز میں نے سنی ہے؟“ لوگوں نے میری طرف اشارہ کیا اور سچ کہا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سب کو چھوڑ دیا مجھے روک لیا اور فرمایا: ”اٹھو نماز کی اذان کہو“ میں کھڑا ہوا تو مجھے سب سے ناپسند رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور ان کا یہ حکم تھا۔ (اس وقت یہ مسلمان نہیں تھے) میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے کھڑا ہو گیا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے خود مجھے اذان سکھائی فرمایا کہ: «اللَّهُ اَكْبَرُ اللَّهُ اَكْبَرُ، اللهُ أَكْبَرُ اللَّهُ اَكْبَرُ، اَشْهَدُ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ، أَشْهَدُ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللهُ، اَشْهَدُ أَنَّ مُحَمَّدًا رَسُولُ اللهِ، اَشْهَدُ أَنَّ مُحَمَّدًا رَسُولُ اللهِ»، پھر آپ نے فرمایا دوبارہ سے کہو: «اَشْهَدُ اَنْ لَّا إِلَهَ إِلَّا اللهُ، اَشْهَدُ اَنْ لا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ، اَشْهَدُ أَنَّ مُحَمَّدًا رَسُوْلُ اللهِ، اَشْهَدُ أَنَّ مُحَمَّدًا رَسُولُ اللهِ، حَيَّى عَلَى الصَّلاةِ، حَيَّ عَلَى الصَّلَاةِ، حَيَّ عَلَى الْفَلَاحِ، حَيَّ عَلَى الْفَلَاحِ، اللهُ أَكْبَرُ اللهُ أَكْبَرُ لَا إِلَهَ إِلَّا اللهُ» پھر مجھے بلایا جب اذان پوری ہوگئی پھر مجھے ایک تھیلی دی جس میں چاندی تھی پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنا ہاتھ میری پیشانی پر رکھا چہرے پر پھر سامنے دل پر پھیرا پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ناف پر ہاتھ رکھا پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے دعا دی «بَارِكَ اللَّهُ فِيكَ وَبَارِكَ عَلَيْكَ» (تو ایمان اندر سرایت کر چکا تھا) میں نے عرض کیا: اے اللہ کے رسول! مجھے مکہ کا مؤذن بنا دیں آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تجھے تعینات کر دیا“ تو ساری کراہت جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے تھی جاتی رہی اس کی جگہ محبت لوٹ آئی تو میں گورنر مکہ عتاب بن اسید رضی اللہ عنہ کے پاس آیا ان کے سامنے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے حکم سے اذان کہتا رہا۔ ابن جریج رحمہ اللہ کہتے ہیں ہمیں امام مالک رحمہ اللہ نے خبر دی کہ میں نے آل ابی محذورہ رضی اللہ عنہ سے بھی ایسے ہی سنا جیسے عبد اللہ بن محیریز رحمہ اللہ نے خبر دی۔
وضاحت:
➊ سیدنا ابو محذورہ رضی اللہ عنہ کفر کی حالت میں دیگر لوگوں کے ساتھ اذان کا مذاق اڑا رہے تھے، آواز اونچی اور پیاری تھی، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے سپاہی آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے حکم سے انہیں گرفتار کر کے لائے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی شفقت اور رحمت سے اسلام کی دولت ملی اور وہ مؤذن رسول صلی اللہ علیہ وسلم تعینات ہو گئے۔
➋ اس اذان کو دوہری اذان کہا جاتا ہے، یہ بھی جائز اور سنت طریقہ ہے۔
➌ تمام کتب احادیث میں اذان «الله اكبر» سے شروع ہوتی ہے۔ دین میں اضافہ کرنے والے جو نعوذ باللہ یہ کہنا چاہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے نقص چھوڑ دیا اور ہم پورا کرنے آئے ہیں، وہ اذان «الصلاة والسلام عليك» سے شروع کرتے ہیں جو سراسر بدعت اور مخالفت رسول صلی اللہ علیہ وسلم ہے۔ دودھ میں پانی یا زمزم ڈالا جائے پھر بھی وہ ملاوٹ ہی شمار ہو گی، اسی طرح اذان کے شروع میں کسی نیک ہستی یا بڑے امام کی بات بھی شامل کی جائے تو وہ ملاوٹ اور اضافہ ہی رہے گا۔ خالص اذان وہی ہے جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سکھا کر گئے۔
فرمان رسول صلی اللہ علیہ وسلم ہے: «من أحدث فى أمرنا هذا ما ليس فيه فهو رد» [صحیح بخاری: 2697]
یعنی جس نے ہمارے اس دینی معاملے میں کوئی ایسی چیز ایجاد کی جو اس میں سے نہیں تو وہ مردود ہے۔
➍ ترجیع والی یا دوہری اذان میں شہادتین کے کلمات پہلے دو دو دفعہ پست آواز میں اور پھر دوبارہ بلند آواز میں کہے جائیں گے۔ [سنن ابي داود: 500]
ابو محذورہ رضی اللہ عنہ والی اذان کے 19 کلمات ہیں اور اقامت کے 17 کلمات ہیں، یعنی اذان دوہری دی جائے تو اقامت بھی دوہری کہنی چاہیے۔ مقلدین اذان بلال رضی اللہ عنہ والی اور اقامت ابو محذورہ رضی اللہ عنہ والی کہتے ہیں، اگرچہ اذان کے شروع میں خود ساختہ کلمات بھی لگاتے ہیں جس کا نام انہوں نے درود رکھا ہوا ہے۔
➎ اذان کے لیے بلند اور خوبصورت آواز والے مؤذن کا انتخاب کرنا چاہیے۔
➏ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم بذات خود شعائر اسلام کی نو مسلموں کو تعلیم دیتے تھے۔
➐ جس انسان میں جو صلاحیت و لیاقت ہو اس سے وہ خدمت لینا طریقہ نبوی صلی اللہ علیہ وسلم ہے۔
➑ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے جیسے ہی کفر کو چھوڑا، ایمان ان کے سینوں میں رچ بس گیا اور پھر ان کی محبت و دشمنی کے معیار فوراً بدل گئے۔
➒ ایک ہی دل میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا بغض اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی محبت جمع نہیں ہو سکتے۔
➓ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے کریمانہ اخلاق سے متاثر ہو کر اکثر و بیشتر صحابہ کرام رضی اللہ عنہم اسلام لائے۔
⓫ کسی علاقہ میں سرکاری ذمہ داری سنبھالنے والے شخص کو اس علاقہ کے سینئر آفیسر کو تقرری لیٹر پیش کرنا چاہیے تاکہ مسائل جنم نہ لیں۔
حوالہ حدیث السنن المأثورة / باب ما جاء في الأذان / حدیث: 274
تخریج حدیث سنن ابی داؤد، الصلاة، باب كيف الأذان، رقم: 503 وقال الالباني: صحيح، سنن نسائی، الاذان، باب كيف الاذان، رقم: 632، سنن ابن ماجه، الاذان، باب الترجيع في الأذان، رقم: 708
حدیث نمبر: 275
عَنْ عَبْدِ الْمَجِيدِ بْنِ عَبْدِ الْعَزِيزِ بْنِ أَبِي رَوَّادٍ ، قَالَ : أَخْبَرَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ ، قَالَ : أَخْبَرَنِي عُمَرُ بْنُ عَطَاءِ بْنِ أَبِي الْخُوَارِ ، أَنَّ نَافِعَ بْنَ جُبَيْرٍ أَرْسَلَهُ إِلَى السَّائِبِ بْنِ يَزِيدَ ابْنِ أُخْتِ نَمِرٍ يَسْأَلُ عَنْ شَيْءٍ ، رَآهُ مِنْ مُعَاوِيَةَ فِي الصَّلاةِ ، فَقَالَ : نَعَمْ ، صَلَّيْتُ مَعَ مُعَاوِيَةَ الْجُمُعَةَ فِي الْمَقْصُورَةِ فَلَمَّا سَلَّمَ قُمْتُ فِي مَقَامِي فَصَلَّيْتُ ، فَلَمَّا دَخَلَ أَرْسَلَ إِلَيَّ ، فَقَالَ : لا تَعُدْ لِمَا فَعَلْتَ ، إِذَا صَلَّيْتَ الْجُمُعَةَ فَلا تَصِلْهَا بِصَلاةٍ حَتَّى تَكَلَّمَ أَوْ تَخْرُجَ ، " فَإِنَّ نَبِيَّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " أَمَرَ بِذَلِكَ لا تُوصَلُ صَلاةٌ بِصَلاةٍ حَتَّى تَخْرُجَ أَوْ تَكَلَّمَ " .
نوید مجید طیب
عمر بن عطاء رحمہ اللہ سے روایت ہے کہ نافع بن جبیر رحمہ اللہ نے انہیں نمر کے بھانجے سائب بن یزید رضی اللہ عنہ کے پاس بھیجا کہ اُن سے اُس بات کے بارے میں دریافت کروں جو سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ نے ان کی نماز میں دیکھی تھی سائب رحمہ اللہ نے کہا: ہاں میں نے مسجد کے حجرے میں سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ کے ساتھ نماز جمعہ ادا کی اور جب امام نے سلام پھیرا میں نے اپنی جگہ پر ہی کھڑے ہو کر نماز پڑھی جب سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ اندر داخل ہوئے تو مجھے بلایا اور فرمایا یہ کام آئندہ نہ کرنا، جب تم جمعہ پڑھ لو تو اسے کسی دوسری نماز سے نہ ملانا حتی کہ بات کر لو یا اس جگہ سے نکل جاؤ کیونکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس بات کا حکم دیا تھا کہ ”تو ایک نماز کو دوسری سے نہ ملانا یہاں تک کہ اس جگہ سے منتقل نہ ہو جائے یا گفتگو نہ کر لے۔“
وضاحت:
➊ عالم کو مسئلہ بیان کرتے ہوئے دلیل بھی بیان کرنی چاہیے جیسا کہ سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ نے بیان کی، اور صحابہ کرام رضی اللہ عنہم اکثر مسئلہ بیان کرتے ہوئے حدیث رسول صلی اللہ علیہ وسلم کا باقاعدہ حوالہ پیش کیا کرتے تھے۔
➋ دین اسلام اپنے پیروکاروں کو منظم زندگی گزارنے کی ہدایت کرتا ہے۔
➌ فرضوں کے فوراً بعد سنن ادا نہیں کرنی چاہئیں بلکہ تھوڑے وقفہ سے، نماز کے بعد کے مسنون اذکار سے فارغ ہو کر سنن و نوافل کا اہتمام کرنا چاہیے۔
➍ آج کل جوں ہی امام سلام پھیرتا ہے بعض لوگ فوراً بھاگ کھڑے ہوتے ہیں، نہ اذکار کرتے ہیں اور نہ گھر جا کر سنن ادا کرتے ہیں، اور بعض فوراً اٹھ کر سنن شروع کر دیتے ہیں، یہ خلاف سنت عمل ہے اور ان کی حوصلہ شکنی کرنی چاہیے۔
➎ حافظ ابن حجر رحمہ اللہ نے فتح الباری میں لکھا ہے کہ: «فالسنة هو أن يفصل بين الفريضة و النافلة إما بالمكان أو بالكلام» یعنی سنت عمل یہ ہے کہ فرض اور نفل نماز میں جگہ کی تبدیلی یا بات چیت سے کچھ وقفہ کرنا چاہیے۔
➏ فرائض کے بعد مسنون اذکار کرنے چاہئیں، انفرادی طور پر دعا بھی کی جا سکتی ہے۔
➐ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: «أيعجز أحدكم أن يتقدم أو يتأخر أو عن يمينه أو عن شماله» [سنن ابی داؤد: 1006]
"کیا تم اس بات سے عاجز ہو کہ فرضوں کے بعد آگے پیچھے یا دائیں بائیں ہو جاؤ" (نفل و سنن پڑھنے کے لیے)۔
➑ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کے سامنے ایک بندہ فوراً کھڑا ہو کر نوافل پڑھنے لگا تو انہوں نے فرمایا: بیٹھ جاؤ، اہل کتاب کی ہلاکت کی ایک وجہ یہ بھی تھی کہ وہ نمازوں میں فصل اور وقفہ نہیں کرتے تھے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے سنا تو فرمایا: "عمر نے اچھا کیا ہے۔" [سلسلہ صحیحہ: 2549]
امام البانی رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ یہ حدیث واضح دلیل ہے کہ ایسا فعل حرام ہے جیسا کہ کثیر عجمی اور خصوصی طور پر ترکی حرمین میں کرتے ہیں کہ جوں ہی سلام پھیرا سنن کے لیے کھڑے ہو گئے۔ [سلسلہ صحیحہ: 105/6]
حوالہ حدیث السنن المأثورة / باب ما جاء في الأذان / حدیث: 275
تخریج حدیث صحیح مسلم، الجمعة، باب الصلاة بعد الجمعة، رقم: 883
حدیث نمبر: 276
عَنْ عَبْدِ الْمَجِيدِ بْنِ أَبِي رَوَّادٍ ، وَمُسْلِمِ بْنِ خَالِدٍ ، قَالا : أَخْبَرَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ ، أَخْبَرَنِي مُوسَى بْنُ عُقْبَةَ , عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ فَضْلِ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الأَعْرَجِ ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي رَافِعٍ ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ إِذَا ابْتَدَأَ الصَّلاةَ الْمَكْتُوبَةَ قَالَ : " وَجَّهْتُ وَجْهِيَ لِلَّذِي فَطَرَ السَّمَوَاتِ وَالأَرْضَ حَنِيفًا وَمَا أَنَا مِنَ الْمُشْرِكِينَ , إِنَّ صَلاتِي وَنُسُكِي وَمَحْيَايَ وَمَمَاتِي لِلَّهِ رَبِّ الْعَالَمِينَ لا شَرِيكَ لَهُ , وَبِذَلِكَ أُمِرْتُ وَأَنَا أَوَّلُ الْمُسْلِمِينَ , اللَّهُمَّ أَنْتَ الْمَلِكُ لا إِلَهَ إِلا أَنْتَ سُبْحَانَكَ وَبِحَمْدِكَ أَنْتَ رَبِّي وَأَنَا عَبْدُكَ ظَلَمْتُ نَفْسِي وَاعْتَرَفْتُ بِذَنْبِي , فَاغْفِرْ لِي ذُنُوبِي جَمِيعًا لا يَغْفِرُ الذُّنُوبَ إِلا أَنْتَ , وَاهْدِنِي لأَحْسَنِ الأَخْلاقِ وَلا يَهْدِي لأَحْسَنِهَا إِلا أَنْتَ , وَاصْرِفْ عَنِّي سَيِّئَهَا وَلا يَصْرِفُ عَنِّي سَيِّئَهَا إِلا أَنْتَ , لَبَّيْكَ وَسَعْدَيْكَ وَالْخَيْرُ بِيَدَيْكَ , وَالْمَهْدِيُّ مَنْ هَدَيْتَ , أَنَا بِكَ تَبَارَكْتَ وَتَعَالَيْتَ , أَسْتَغْفِرُكَ وَأَتُوبُ إِلَيْكَ " .
نوید مجید طیب
سیدنا علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم جب فرضی نماز شروع کرتے تو یہ دعا پڑھتے ”میں نے اپنا چہرہ اس ذات کی جانب متوجہ کیا جس نے آسمان اور زمین پیدا فرمائے، اس حالت میں کہ میں دین حنیف کا تابعدار ہوں اور میں مشرکین سے نہیں بے شک میری نماز میری قربانی میری حیاتی میری موت اللہ رب العالمین کے لیے جس کا کوئی شریک نہیں اسی کا مجھے حکم ہے اور میں مسلمان ہوں۔ اے اللہ تو بادشاہ ہے تیرے سوا کوئی برحق معبود نہیں تو پاک ہے اور تیرے ہی لیے ہر قسم کی تعریف ہے۔ تو میرا رب ہے میں تیرا بندہ ہوں میں نے اپنے اوپر ظلم کیا میں گناہوں کا معترف ہوں لہذا میرے سارے گناہ معاف فرما تیرے سوا کوئی گناہ معاف کرنے والا نہیں اچھی عادات و اخلاق کی طرف میری رہنمائی کر دے تیرے سوا اچھے اخلاق کی طرف رہنمائی کرنے والا کوئی نہیں بُرے اخلاق و عادات سے دور کر دے تیرے سوا کوئی انہیں دور کرنے والا نہیں میں حاضر ہوں میں تیرا فرماں بردار ہوں، ساری خیر تیرے ہاتھ میں ہے ہدایت یافتہ وہ ہے جسے تو نے ہدایت دی میں تیری مدد سے اور تیرے ہی سپرد ہوں تو بابرکت بلند ہے میں بخشش کا طالب ہوں اور تیری طرف ہی توجہ کرتا ہوں۔“
حوالہ حدیث السنن المأثورة / باب ما جاء في الأذان / حدیث: 276
تخریج حدیث سنن ابی داؤد، الصلاة، باب ما يستفتح به الصلاة من الدعاء رقم: 761 وقال الالباني: حسن صحيح، سنن ترمذی، الدعوات، باب منه، رقم: 3423 وقال حسن صحيح
حدیث نمبر: 277
عَنْ عَبْدُ الْمَجِيدِ ، قَالَ : ، أَنْبَأَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ ، قَالَ : أَخْبَرَنِي مُوسَى بْنُ عُقْبَةَ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْفَضْلِ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الأَعْرَجِ ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي رَافِعٍ ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ ، كَرَّمَ اللَّهُ وَجْهَهُ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِمِثْلِ مَعْنَاهُ إِلا أَنَّهُ كَانَ إِذَا افْتَتَحَ الصَّلاةَ قَالَ : " وَجَّهْتُ وَجْهِي " .
نوید مجید طیب
سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے اسی طرح کی روایت بیان کی اتنا فرق ہے کہ جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم نماز شروع کرتے تو «وجهت وجهي» پڑھتے۔
وضاحت:
➊ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے متعدد دعائے استفتاح ثابت ہیں جن میں سے ایک دعا حدیث بالا میں مذکور ہے۔
➋ یہ دعا استفتاح صلاۃ میں پڑھی جا سکتی ہے، چاہے فرضی نماز ہو یا نفلی۔ بعض روایات میں صلاۃ اللیل یعنی رات کی نفلی نماز کا ذکر ہے جبکہ اس حدیث میں فرضی کا ذکر ہے، یعنی یہ دونوں میں پڑھی جا سکتی ہے۔
حوالہ حدیث السنن المأثورة / باب ما جاء في الأذان / حدیث: 277
تخریج حدیث صحیح مسلم، المساجد باب الدعاء في صلاة الليل، وقيامه، رقم: 771
حدیث نمبر: 278
عَنْ عَبْدِ الْمَجِيدِ ، قَالَ : حَدَّثَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ ، عَنْ مُوسَى بْنِ عُقْبَةَ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْفَضْلِ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الأَعْرَجِ ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي رَافِعٍ , عَنْ عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ إِذَا رَكَعَ قَالَ : " اللَّهُمَّ لَكَ رَكَعْتُ وَبِكَ آمَنْتُ وَلَكَ أَسْلَمْتُ أَنْتَ رَبِّي خَشَعَ لَكَ سَمْعِي وَبَصَرِي وَلَحْمِي وَعَظْمِي وَمَا اسْتَقَلَّتْ بِهِ قَدَمِي لِلَّهِ رَبِّ الْعَالَمِينَ " .
نوید مجید طیب
سیدنا علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم ﷺ رکوع میں پڑھتے: ”اے اللہ میں نے تیرے لیے رکوع کیا، تجھ پر ایمان لایا اپنے آپ کو تیرے سپرد کیا تو میرا رب ہے، میرے کان، آنکھیں، گوشت اور ہڈیاں تیرے سامنے جھکے، میرے قدم تمام جہانوں کے پالنے والے رب کے لیے کھڑے ہوئے۔
وضاحت:
➊ انسان کو اللہ رب العالمین نے پیدا کیا ہے لہذا اس کا ہر عضو اللہ تعالیٰ کی عبادت کے لیے وقف ہونا چاہیے۔ سر جھکے تو رب کے سامنے، قدم چلیں تو رب کے لیے، زبان بولے تو اللہ کے لیے اور ہاتھ حرکت کرے تو رب کے احکام کی بجا آوری کے لیے، یہی مقصود زندگی ہے۔
زندگی آمد برائے بندگی
زندگی بے بندگی شرمندگی
"اللہ تعالیٰ نے زندگی اپنی بندگی کے لیے دی ہے، بندگی کے بغیر زندگی انسان کے لیے باعث ندامت و شرمندگی ہو گی"۔
➋ رکوع و سجود کی متعدد ادعیہ ماثورہ ہیں، جو بسند صحیح ثابت ہوں انسان کو وہ سب یاد کر کے ان پر وقتاً فوقتاً عمل کرنا چاہیے۔
حوالہ حدیث السنن المأثورة / باب ما جاء في الأذان / حدیث: 278
تخریج حدیث سنن نسائی، التطبيق، باب نوع آخر منه، رقم : 1050 ، وقال الالبانی: صحيح
حدیث نمبر: 279
عَنْ عَبْدِ الْمَجِيدِ ، عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ ، قَالَ : أَخْبَرَنِي أَبُو الزُّبَيْرِ ، أَنَّهُ سَمِعَ جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ ، يَقُولُ : " كُنَّا نَبِيعُ سَرَارِيَّنَا أُمَّهَاتِ الأَوْلادِ وَالنَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَيٌّ فِينَا لا نَرَى بِذَلِكَ بَأْسًا " .
نوید مجید طیب
سیدنا جابر بن عبد اللہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ ہم اپنی لونڈیاں جو اولاد کی مائیں تھیں فروخت کرتے تھے جبکہ نبی ﷺ ہم میں زندہ تھے، ہم اس میں کوئی حرج نہیں سمجھتے تھے۔
وضاحت:
➊ عہد رسالت مآب صلی اللہ علیہ وسلم سے قبل غلاموں اور لونڈیوں کا کاروبار عام تھا۔ شریعت اسلامیہ نے بھی اس کی اجازت دی البتہ اس سلسلہ میں کچھ ایسے اصول و ضوابط وضع کیے جن سے ان کی آزادی آسان بنائی اور اس کاروبار کی وجہ سے جو عام غلاموں اور لونڈیوں کو پریشانیاں تھیں ان کا ازالہ کیا۔
➋ لونڈی کی اگر مالک کے نطفے سے اولاد ہو جائے تو اولاد آزاد ہو گی اور مالک کی وفات پر عورت بھی آزاد ہو جائے گی، لیکن اولاد پیدا ہونے کے باوجود کیا مالک لونڈی آگے فروخت کر سکتا ہے یا نہیں؟ اس میں اختلاف ہے اور دونوں طرف دلائل ہیں۔ البتہ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے اپنے عہد خلافت میں اس بیع پر سرکاری طور پر پابندی عائد کر دی تھی۔ [سنن ابي داود: 3954]
اس کی ایک وجہ بعض علماء نے یہ بیان کی ہے کہ اسلام کے ابتدائی دور میں یہ بیع جائز تھی بعد میں اس سے منع کر دیا گیا تھا جس کو سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے نافذ کیا۔ حافظ ابن حجر رحمہ اللہ نے فتح الباری میں لکھا ہے کہ متقدمین میں یہ مسئلہ مختلف فیہ رہا لیکن متاخرین میں ممنوع ہونے پر اتفاق ہو گیا تھا۔ امام شوکانی رحمہ اللہ نے بھی ممانعت کو راجح قرار دیا ہے۔
حوالہ حدیث السنن المأثورة / باب ما جاء في الأذان / حدیث: 279
تخریج حدیث سنن ابن ماجه ، العتق باب أمهات الاولاد، رقم : 2517 وقال الالبانی: صحیح، مسند احمد : 340/22، رقم : 14446 وقال الارنوؤط: اسناده صحيح على شرط مسلم
حدیث نمبر: 280
عَنْ عَبْدِ الْوَهَّابِ بْنِ عَبْدِ الْمَجِيدِ الثَّقَفِيِّ ، عَنْ حُمَيْدٍ الطَّوِيلِ ، عَنْ أَنَسٍ ، أَنَّهُ قَالَ : " لِلْبِكْرِ سَبْعٌ وَلِلثَّيِّبِ ثَلاثٌ فَتِلْكُمُ السُّنَّةُ " .
نوید مجید طیب
سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ (شادی شدہ آدمی) کنواری عورت سے شادی کر لے تو اس کے ہاں سات روز ٹھہرے اور اگر بیوہ یا مطلقہ سے شادی کرے تو اس کے پاس تین دن ٹھہرے (پھر باری مقرر کرے) یہ سنت ہے۔
وضاحت:
«فتلكم السنة» کے الفاظ اس حدیث کے مرفوع ہونے پر دلالت کرتے ہیں۔
➋ دین اسلام نے عدل کی شرط کے ساتھ مردوں کو دو دو، تین تین، اور چار چار شادیوں کی اجازت دی ہے۔
➌ تمام بیویوں میں عدل کرنا فرض ہے، عدل تین چیزوں کا نام ہے: نان و نفقہ، رہائش اور رات گزارنے میں۔
➍ شادی شدہ مرد جس کی پہلے عورت یا عورتیں موجود ہوں اگر کنواری لڑکی بیاہ لائے تو سات دن اس کے ساتھ رہے پھر باری مقرر کرے گا، اگر ثیبہ، بیوہ یا مطلقہ جو شادی کا مزہ چکھ چکی ہے بیاہ لایا ہے تو اس کے ہاں تین دن ٹھہرے گا پھر باری مقرر کرے گا۔
➎ سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: «من كانت له امرأتان فمال إلى إحداهما جاء يوم القيامة وشقه مائل» [سنن ابی داؤد: 2133، وقال الالبانی: صحیح]
جس شخص کی دو بیویاں ہوں اور وہ کسی ایک کی طرف مائل ہو گیا تو وہ قیامت کے روز اس حال میں آئے گا کہ اس کا ایک پہلو جھکا ہوا ہو گا۔
حوالہ حدیث السنن المأثورة / باب ما جاء في الأذان / حدیث: 280
تخریج حدیث صحیح بخاری ، النکاح، باب اذا تزوج البكر على الثيب، رقم : 5213 ، صحیح مسلم ،الرضاع، باب قدر ما تستحقه البكر والثيب ...... الخ، رقم : 1461 ، سنن ابی داؤد، رقم الحدیث: 3954، وقال الالبانی: صحیح
حدیث نمبر: 281
عَنْ مَالِكٍ ، عَنْ حُمَيْدٍ الطَّوِيلِ ، عَنْ أَنَسٍ ، مِثْلَهُ .
نوید مجید طیب
امام شافعی رحمہ اللہ نے امام مالک رحمہ اللہ سے روایت بیان کی، انہوں نے حمید رحمہ اللہ سے، انہوں نے سیدنا انس رضی اللہ عنہ سے گزشتہ حدیث کی مانند روایت کیا۔
حوالہ حدیث السنن المأثورة / باب ما جاء في الأذان / حدیث: 281
تخریج حدیث انظر ما قبلہ، برقم: 280
حدیث نمبر: 282
عَنْ سُفْيَانَ ، عَنْ عَمْرٍو ، عَنْ عَطَاءٍ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، أَنَّهُ كَانَ يَأْمُرُ إِذَا صَلَّى الْمَكْتُوبَةَ فَأَرَادَ أَنْ يَتَنَفَّلَ بَعْدَهَا أَلا يَتَنَفَّلَ حَتَّى يَتَقَدَّمَ أَوْ يَتَكَلَّمَ وَرُبَّمَا حَدَّثَهُ ، فَقَالَ : " وَإِذَا صَلَّى أَحَدُكُمُ الْمَكْتُوبَةَ ثُمَّ أَرَادَ أَنْ يُصَلِّيَ بَعْدَهَا فَلا يُصَلِّي حَتَّى يَتَقَدَّمَ أَوْ يَتَكَلَّمَ " .
نوید مجید طیب
عطاء رحمہ اللہ سے روایت ہے کہ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہ حکم دیا کرتے تھے کہ فرضی نماز کے بعد اگر نفل پڑھنے کا ارادہ ہو تو جگہ تبدیل کریں یا کلام کریں پھر نفل یا سنن پڑھیں۔ عطاء رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ ابن عباس رضی اللہ عنہ نے حدیث بیان کی کہ ”جب تم میں سے کوئی فرض پڑھ لے پھر اس کے بعد کچھ پڑھنا چاہے تو اس وقت تک نہ پڑھے جب تک تھوڑا آگے نہ ہو جائے یا بات چیت نہ کر لے۔“
وضاحت:
➊ معلوم ہوا کہ مسجد میں بات چیت بقدر ضرورت کی جا سکتی ہے۔ ➋ مسئلہ کی تفصیل کے لیے دیکھیے شرح حدیث 275۔
حوالہ حدیث السنن المأثورة / باب ما جاء في الأذان / حدیث: 282
تخریج حدیث مصنف عبدالرزاق : 416/2 ، سنن الكبرى للبيهقي : 191/2 ، سنن ابی داؤد، رقم الحدیث: 2133، وقال الالبانی: صحیح
حدیث نمبر: 283
عَنْ سُفْيَانَ بْنِ عُيَيْنَةَ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ سَالِمٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " إِنَّ بِلالا يُنَادِي بِلَيْلٍ فَكُلُوا وَاشْرَبُوا حَتَّى يُنَادِيَ ابْنُ أُمِّ مَكْتُومٍ " .
نوید مجید طیب
سیدنا عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: ”بے شک جب بلال رات کو اذان دیتے ہیں تم کھاؤ پیو حتی کہ ابن ام مکتوم اذان کہیں۔“ (پھر رک جاؤ)
حوالہ حدیث السنن المأثورة / باب ما جاء في الأذان / حدیث: 283
تخریج حدیث صحیح بخاری، الشهادات، باب شهادة الأعمى الخ، رقم : 2656، صحیح مسلم، الصیام باب بيان ان الدخول في الصوم ...... الخ، رقم : 1092
حدیث نمبر: 284
أَخْبَرَنَا مَالِكُ بْنُ أَنَسٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ دِينَارٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " إِنَّ بِلالا يُنَادِي بِلَيْلٍ فَكُلُوا وَاشْرَبُوا حَتَّى يُنَادِيَ ابْنُ أُمِّ مَكْتُومٍ " .
نوید مجید طیب
سیدنا عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: ”رات کو اذانِ بلال پر کھاؤ پیو (سحری کرو) اور ابن ام مکتوم کی اذان پر سحری بند کر دو۔“
حوالہ حدیث السنن المأثورة / باب ما جاء في الأذان / حدیث: 284
تخریج حدیث صحیح بخاری، الاذان، باب الاذان بعد الفجر، رقم : 620
حدیث نمبر: 285
أَنْبَأَنَا مَالِكٌ ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ ، عَنْ سَالِمِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " إِنَّ بِلالا يُنَادِي بِلَيْلٍ فَكُلُوا وَاشْرَبُوا حَتَّى يُنَادِيَ ابْنُ أُمِّ مَكْتُومٍ " . قَالَ : وَكَانَ رَجُلا أَعْمَى لا يُنَادِي حَتَّى يُقَالَ لَهُ : أَصْبَحْتَ أَصْبَحْتَ .
نوید مجید طیب
سالم بن عبد اللہ بن عمر اپنے والد سے روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”بے شک بلال رات کو اذان کہتے ہیں تو تم کھا پی لو یہاں تک کہ ابن ام مکتوم اذان کہیں“، راوی کہتے ہیں کہ ابن اُم مکتوم نابینے تھے وہ اذان اسی وقت کہتے تھے جب اُن سے کہا جاتا کہ ”صبح ہو گئی، آپ نے صبح کر لی۔“
وضاحت:
➊ امام بخاری رحمہ اللہ نے اس حدیث سے خبر واحد کی حجیت پر استدلال کیا ہے۔
➋ اس سے ثابت ہوتا ہے کہ عہد نبوی میں نماز فجر سے قبل دو اذانیں ہوتی تھیں، ایک سحری کے وقت دوسری طلوع فجر پر۔
➌ آج کل یہ سنت متروک ہو چکی ہے اسے زندہ کرنے کی ضرورت ہے، اہل حدیث رمضان میں اس پر عمل کرتے ہیں حالانکہ پورا سال اس پر عمل ہونا چاہیے۔
➍ سنت کو چھوڑ دینے سے آنے والے وقت میں عمل کرنا مزید مشکل ہو جاتا ہے، لوگ سمجھتے ہیں یہ نیا دین آ گیا ہے جس کی وجہ سابقہ بے عملی ہوتی ہے۔
➎ بعض احادیث میں ہے کہ سیدنا عبد اللہ بن ام مکتوم رضی اللہ عنہ پہلی اذان دیتے تھے اور سیدنا بلال رضی اللہ عنہ دوسری، اس سے بات عیاں ہوتی ہے کہ ان کی باری تبدیل بھی ہوتی رہتی تھی۔ [سنن نسائی: 640، وقال الالبانی: صحیح]
➏ سیدنا ابن ام مکتوم رضی اللہ عنہ وہ جلیل القدر صحابی ہیں جن کے بارے میں سورۃ عبس نازل ہوئی۔
➐ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مدینہ سے باہر جاتے ہوئے ان کو اپنا نائب مقرر کر جاتے تھے، جو امت کی امامت بھی کرواتے تھے۔
➑ نابینا آدمی اذان، نماز کی امامت وغیرہ سے متعلقہ ذمہ داریاں ادا کر سکتا ہے۔
➒ نابینے مؤذن یا امام کو اوقات سے متعلق آگاہ کرنا بینے لوگوں کی ذمہ داری ہے۔
➓ بعض لوگوں کا نابینے کی امامت سے متعلق اظہار کراہت غیر مستحسن اور غیر شرعی ہے۔
حوالہ حدیث السنن المأثورة / باب ما جاء في الأذان / حدیث: 285
تخریج حدیث مؤطا امام مالك، الصلاة، باب قدر السحور من النداء، رقم : 15 ، سنن نسائی، رقم الحدیث: 640، وقال الالبانی: صحیح
حدیث نمبر: 286
حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ حُمَيْدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ : أَتَى النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَجُلٌ فَقَالَ لَهُ : هَلَكْتُ ، قَالَ : " وَمَا أَهْلَكَكَ ؟ " قَالَ : وَقَعْتُ عَلَى امْرَأَتِي فِي رَمَضَانَ فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " هَلْ تَجِدُ رَقَبَةً تُعْتِقُهَا ؟ " قَالَ : لا قَالَ : " فَهَلْ تَسْتَطِيعُ صَوْمَ شَهْرَيْنِ مُتَتَابِعَيْنِ ؟ " قَالَ : لا قَالَ : " فَهَلْ تَسْتَطِيعُ إِطْعَامَ سِتِّينَ مِسْكِينًا ؟ " قَالَ : لا أَجِدُهُ قَالَ لَهُ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " اجْلِسْ " ، فَبَيْنَمَا هُوَ جَالِسٌ كَذَلِكَ إِذْ أُتِيَ بِعَرَقٍ فِيهِ تَمْرٌ ، قَالَ سُفْيَانُ : وَالْعَرَقُ الْمِكْيَالُ ، فَقَالَ لَهُ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " اذْهَبْ فَتَصَدَّقْ بِهِ " قَالَ : يَا رَسُولَ اللَّهِ وَالَّذِي بَعَثَكَ بِالْحَقِّ فَمَا بَيْنَ لابَتَيْهَا أَهْلُ بَيْتٍ أَحْوَجُ إِلَيْهِ مِنَّا قَالَ : فَضَحِكَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَتَّى بَدَتْ أَنْيَابُهُ ثُمَّ قَالَ : " اذْهَبْ فَأَطْعِمْهُ عِيَالَكَ " .
نوید مجید طیب
سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم ﷺ کے پاس ایک آدمی آیا اور کہنے لگا میں ہلاک ہو گیا، آپ ﷺ نے پوچھا: ”تجھے کس چیز نے ہلاک کیا؟“ کہنے لگا روزے کی حالت میں بیوی سے ہمبستری کر لی ہے، تو نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: ”کیا تو غلام آزاد کرنے کی طاقت رکھتا ہے؟“ کہنے لگا نہیں، تو آپ ﷺ نے فرمایا: ”دو ماہ کے مسلسل روزوں کی استطاعت ہے؟“ کہنے لگا نہیں رکھ سکتا، آپ ﷺ نے فرمایا: ”ساٹھ مساکین کو کھانا کھلانے کی طاقت رکھتے ہو؟“ کہنے لگا نہیں، تو نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: ”بیٹھ جاؤ“، وہ ایسے ہی بیٹھا تھا کہ ایک ٹوکری کھجوروں کی آگئی تو نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: ”یہ لے جا کر صدقہ کر دو“، تو کہنے لگا اے اللہ کے رسول ﷺ! اس ذات کی قسم جس نے آپ کو حق کے ساتھ مبعوث فرمایا، ان پہاڑوں کے درمیان مجھ سے زیادہ کھجوروں کا کوئی محتاج نہیں۔ راوی کہتے ہیں رسول اللہ ﷺ اتنے ہنسے کہ آپ کی داڑھیں مبارک نظر آنے لگیں، پھر فرمایا: ”جا یہ ٹوکرا اپنے عیال کو کھلا دے۔“
حوالہ حدیث السنن المأثورة / باب ما جاء في الأذان / حدیث: 286
تخریج حدیث صحیح بخاری، کفارات الايمان، باب قوله تعالى قد فرض الله لكم الخ ، رقم : 6709 ، صحیح مسلم، باب تغليظ تحريم الجماع في نهار ...... الخ، رقم : 1111
حدیث نمبر: 287
عَنْ مَالِكِ بْنِ أَنَسٍ ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ ، عَنْ حُمَيْدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَوْفٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ، أَنَّ رَجُلا أَفْطَرَ فِي رَمَضَانَ ، فَأَمَرَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ يُكَفِّرَ بِعِتْقِ رَقَبَةٍ أَوْ صِيَامِ شَهْرَيْنِ أَوْ إِطْعَامِ سِتِّينَ مِسْكِينًا فَقَالَ : إِنِّي لا أَجِدُ فَأُتِيَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِعَرَقِ تَمْرٍ فَقَالَ : " خُذْ هَذَا فَتَصَدَّقَ بِهِ " ، فَقَالَ : يَا رَسُولَ اللَّهِ مَا أَجِدُ أَحَدًا أَحْوَجَ مِنِّي ، فَضَحِكَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَتَّى بَدَتْ أَنْيَابُهُ ، ثُمَّ قَالَ : " كُلْهُ " .
نوید مجید طیب
سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے ایک آدمی نے رمضان میں روزہ (جماع سے) توڑ دیا تو رسول اللہ ﷺ نے اسے کفارہ کے طور پر غلام آزاد کرنے یا دو ماہ کے روزے رکھنے یا ساٹھ مسکینوں کو کھانا کھلانے کا حکم دیا، وہ آدمی کہنے لگا میں اس کی طاقت نہیں رکھتا۔ تو رسول اللہ ﷺ کے پاس ایک ٹوکری کھجور آئی تو آپ ﷺ نے فرمایا: ”یہ لے لو اس کا صدقہ کر دو“، تو کہنے لگا مجھ سے بڑا ان کا کوئی ضرورت مند نہیں، تو رسول اللہ ﷺ ہنسے حتی کہ داڑھیں مبارک عیاں ہو گئیں، پھر آپ ﷺ نے فرمایا: ”تو ہی کھا لے۔“
حوالہ حدیث السنن المأثورة / باب ما جاء في الأذان / حدیث: 287
تخریج حدیث صحیح بخاری، الصوم، باب اذا جامع في رمضان ولم يكن ...... الخ، رقم : 1936
حدیث نمبر: 288
وَأَخْبَرَنَا عَبْدُ الْمَجِيدِ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ ، عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ ، قَالَ : حَدَّثَنِي الزُّهْرِيُّ ، عَنْ حُمَيْدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، أَنَّ أَبَا هُرَيْرَةَ حَدَّثَهُ , " أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَمَرَ رَجُلا أَفْطَرَ فِي شَهْرِ رَمَضَانَ أَنْ يُعْتِقَ رَقَبَةً ، أَوْ صِيَامَ شَهْرَيْنِ ، أَوْ إِطْعَامَ سِتِّينَ مِسْكِينًا " .
نوید مجید طیب
سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم ﷺ نے ایک آدمی کو حکم دیا جس نے رمضان میں روزہ توڑا تھا کہ ”غلام آزاد کرے یا دو ماہ کے روزے رکھے یا ساٹھ مساکین کو کھانا کھلائے۔“
وضاحت:
➊ نہار رمضان میں بیوی سے ہم بستری کرنے سے تین باتوں میں سے ایک لازم آتی ہے: غلام آزاد کرے، اگر اس کی طاقت نہیں تو دو ماہ مسلسل روزے رکھے، یہ بھی طاقت نہ ہو تو ساٹھ مساکین کو کھانا کھلائے۔
➋ درست بات یہی ہے کہ یہ کفارہ صرف جماع سے روزہ توڑنے پر لازم آتا ہے۔ اگر بیوی بھی راضی ہو تو اس پر بھی یہ کفارہ علیحدہ سے لازم ہے، اگر مجبور کی گئی تو صرف روزے کے بدلے روزہ رکھے اور استغفار کرے۔
➌ جتنے دن اس طریقے سے روزہ توڑے گا اس پر اتنے ہی کفارے پڑیں گے اور روزے کی قضا بھی دے گا۔ اگر کھانا کھا کر روزہ توڑا تو توبہ و استغفار کرے اور روزے کی قضا بھی دے یعنی رمضان کے بعد روزہ رکھے۔
➍ روزہ کھانے پینے، جماع کرنے یا مشت زنی سے ٹوٹ جاتا ہے۔ بعض علماء نے لکھا ہے کہ مشت زنی کرنے سے اگر روزہ توڑا ہے تو شام تک کھانے پینے سے بھی رکا رہے اور اس کی جگہ روزے کی قضا بھی دے۔
➎ جان بوجھ کر روزہ توڑنا کبیرہ گناہ ہے۔
➏ صرف قضا دینے سے لازم نہیں آتا کہ توبہ خود بخود قبول ہو جائے گی بلکہ اللہ رب العزت سے صدق دل سے توبہ و استغفار بھی کرنا ہو گا۔
➐ رمضان المبارک کی راتوں میں ازدواجی تعلقات کی شرعاً اجازت ہے۔ ارشاد باری تعالیٰ ہے: ﴿اُحِلَّ لَكُمْ لَیْلَةَ الصِّیَامِ الرَّفَثُ اِلٰى نِسَآىٕكُمْؕ-هُنَّ لِبَاسٌ لَّكُمْ وَ اَنْتُمْ لِبَاسٌ لَّهُنَّؕ-عَلِمَ اللّٰهُ اَنَّكُمْ كُنْتُمْ تَخْتَانُوْنَ اَنْفُسَكُمْ فَتَابَ عَلَیْكُمْ وَ عَفَا عَنْكُمْۚ-فَالْــٴٰـنَ بَاشِرُوْهُنَّ وَ ابْتَغُوْا مَا كَتَبَ اللّٰهُ لَكُمْ۪-وَ كُلُوْا وَ اشْرَبُوْا حَتّٰى یَتَبَیَّنَ لَكُمُ الْخَیْطُ الْاَبْیَضُ مِنَ الْخَیْطِ الْاَسْوَدِ مِنَ الْفَجْرِ۪-ثُمَّ اَتِمُّوا الصِّیَامَ اِلَى الَّیْلِۚ-وَ لَا تُبَاشِرُوْهُنَّ وَ اَنْتُمْ عٰكِفُوْنَۙ-فِی الْمَسٰجِدِؕ-تِلْكَ حُدُوْدُ اللّٰهِ فَلَا تَقْرَبُوْهَاؕ-كَذٰلِكَ یُبَیِّنُ اللّٰهُ اٰیٰتِهٖ لِلنَّاسِ لَعَلَّهُمْ یَتَّقُوْنَ﴾ [البقرة: 187]
تمھارے لیے روزے کی رات اپنی عورتوں سے صحبت کرنا حلال کر دیا گیا ہے، وہ تمھارے لیے لباس ہیں اور تم ان کے لیے لباس ہو۔ اللہ نے جان لیا کہ بے شک تم اپنی جانوں کی خیانت کرتے تھے، چنانچہ اس نے تم پر توجہ فرمائی اور تمھیں معاف کر دیا، اس لیے اب تم ان سے ہم بستری کر سکتے ہو اور اللہ نے تمھارے لیے جو لکھ رکھا ہے وہ تلاش کرو، اور کھاؤ اور پیو، حتی کہ تمھارے لیے صبح کی سفید دھاری کالی دھاری سے واضح روشن ہو جائے، پھر تم روزے کو رات تک پورا کرو اور جب تم مسجدوں میں اعتکاف بیٹھو تو اپنی عورتوں سے ہم بستری نہ کرو یہ اللہ کی حدیں ہیں، لہذا تم ان کے قریب مت جاؤ، اللہ لوگوں کے لیے اپنی آیتیں اسی طرح بیان فرماتا ہے تاکہ وہ متقی بنیں۔
حوالہ حدیث السنن المأثورة / باب ما جاء في الأذان / حدیث: 288
تخریج حدیث انظر ما قبلہ، برقم: 287
حدیث نمبر: 289
وَأَخْبَرَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا ابْنُ عَجْلانَ ، عَنْ سَعِيدٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، وَعَنْ أَبِي الزِّنَادِ ، عَنِ الأَعْرَجِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " إِنْ أَصْبَحَ أَحَدُكُمْ يَوْمًا صَائِمًا فَلا يَرْفُثْ وَلا يَجْهَلْ فَإِنِ امْرُؤٌ شَاتَمَهُ فَلْيَقُلْ : إِنِّي صَائِمٌ إِنِّي صَائِمٌ " . وَزَادَ أَبُو الزِّنَادِ فِيهِ : " وَإِذَا دُعِيَ أَحَدُكُمْ إِلَى الطَّعَامِ وَهُوَ صَائِمٌ فَلْيَقُلْ : إِنِّي صَائِمٌ " .
نوید مجید طیب
سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : ”جب تم میں سے کوئی کسی دن روزے سے ہو تو فحش گوئی نہ کرے اور نہ جہالت والا کوئی کام کرے اگر اسے کوئی گالم گلوچ کرے تو اسے کہے کہ ”میں نے روزہ رکھا ہوا ہے میں روزہ دار ہوں۔“ ابو الزناد رحمہ اللہ نے اتنا اضافہ کیا کہ جب تمہارا کوئی بندہ کھانے کی طرف بلایا جائے اور وہ روزہ دار ہو تو کہے ”میں روزے سے ہوں۔“
وضاحت:
➊ روزہ انسان کی جسمانی و روحانی تربیت کرتا ہے۔
➋ روزہ محض بھوک اور پیاس برداشت کرنے کا نام نہیں ہے بلکہ ایک روزہ دار کے لیے بداخلاقی، گالم گلوچ اور جہالت کو بھی برداشت کرنا لازم ہے۔
➌ معلوم ہوا روزہ دار کسی کی بداخلاقی کو برداشت کرے گا لہذا اس کے لیے اولیٰ خود بداخلاقی، گالم گلوچ اور ہر قسم کے اخلاق رذیلہ سے اجتناب لازم ہے۔
➍ نفلی روزہ ہو تو کھانے کی دعوت ملے تو دعوت میں شریک بھی ہو سکتا ہے جیسا کہ آگے آرہا ہے، اور اگر اپنا عذر پیش کر دے کہ میں روزے سے ہوں تو یہ ریاکاری میں نہیں آتا۔
حوالہ حدیث السنن المأثورة / باب ما جاء في الأذان / حدیث: 289
تخریج حدیث صحیح مسلم، الصيام، باب حفظ اللسان للصائم، رقم : 1151، سنن ابی داؤد، الصوم، باب الغيبة للصائم، رقم : 2363
حدیث نمبر: 290
حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ ، عَنْ طَلْحَةَ بْنِ يَحْيَى ، عَنْ عَمَّتِهِ ، عَنْ عَائِشَةَ زَوْجِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَتْ : دَخَلَ عَلَيَّ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقُلْتُ : إِنَّا خَبَأْنَا لَكَ حَيْسًا ، فَقَالَ : " أَمَا إِنِّي كُنْتُ أُرِيدُ الصَّوْمَ وَلَكِنْ قَرِّبِيهِ سَأَصُومُ يَوْمًا مَكَانَهُ " . قَالَ لَنَا أَبُو جَعْفَرٍ : سَمِعْتُ الْمُزَنِيَّ يَقُولُ : قَالَ مُحَمَّدُ بْنُ إِدْرِيسَ الشَّافِعِيُّ رَحِمَهُ اللَّهُ : وَسَمِعْتُ سُفْيَانَ عَامَّةَ مُجَالَسَتِهِ لا يَذْكُرُ فِيهِ " سَأَصُومُ يَوْمًا مَكَانَهُ " ، ثُمَّ عَرَضْتُهُ عَلَيْهِ قَبْلَ أَنْ يَمُوتَ بِسَنَةٍ فَأَجَازَ فِيهِ " سَأَصُومُ يَوْمًا مَكَانَهُ " .
نوید مجید طیب
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا زوجہ رسول اللہ ﷺ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ میرے حجرے میں داخل ہوئے میں نے کہا ہم نے ایک چیز آپ کے لیے چھپا رکھی ہے تو آپ ﷺ نے فرمایا: ”میرا تو روزے کا ارادہ تھا (پھر افطار کیا) فرمایا لیکن قریب ہی کسی دن اس روزے کی جگہ روزہ رکھ لوں گا۔“ امام شافعی رحمہ اللہ فرماتے ہیں سفیان بن عیینہ رحمہ اللہ سے میں عام مجالس میں یہ حدیث سنتا تو ”قریب ہی اس کی جگہ روزہ رکھوں گا“ کے الفاظ نہیں بیان کرتے تھے پھر میں نے یہ حدیث اُن پر ان کی وفات سے ایک سال قبل پڑھی تو انہوں نے ان الفاظ کا اضافہ کروایا کہ ”قریب ہی کسی دن اس روزہ کی جگہ روزہ رکھوں گا۔“
وضاحت:
➊ نفلی روزہ توڑا جا سکتا ہے اور اس کی کوئی قضا یا گناہ نہیں، متعدد روایات میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا اپنا عمل موجود ہے کہ نفلی روزہ کے دوران اگر کچھ کھانے کو میسر آ جاتا تو تناول فرما لیتے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: نفلی روزہ رکھنے والا اپنے نفس کا حاکم ہے، چاہے پورا کرے چاہے تو افطار کرے۔ [سنن ترمذی: 732، وقال الالبانی: صحیح]
➋ مذکورہ حدیث کا اضافہ کہ اس دن کی جگہ روزہ رکھوں گا امام دارقطنی، امام بیہقی اور امام نسائی رحمہ اللہ نے اس زیادتی کو ضعیف قرار دیا ہے۔ ضعیف نہ بھی ہو تو اس کا یہ مطلب نہیں کہ قضا لازم ہو گئی ہے، جو بذات خود لازم نہیں اس کی قضا و بدل کیسے لازم ہو گا؟
حوالہ حدیث السنن المأثورة / باب ما جاء في الأذان / حدیث: 290
تخریج حدیث سنن ابی داؤد، الصوم، باب في الرخصة في ذلك، رقم : 2455 وقال الالباني: حسن صحيح سنن ترمذى، الصوم، باب صيام المتطوع بغير تبييت، رقم : 734 وقال حسن
حدیث نمبر: 291
حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ ، قَالَ : أَخْبَرَنِي عَبْدُ الْحَمِيدِ بْنُ جُبَيْرٍ ، قَالَ : سَمِعْتُ مُحَمَّدَ بْنَ عَبَّادِ بْنِ جَعْفَرٍ ، يَقُولُ : سَأَلْتُ جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ وَهُوَ يَطُوفُ بِالْبَيْتِ أَنَهَى النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ صِيَامِ يَوْمِ الْجُمُعَةِ ؟ قَالَ : " نَعَمْ ، وَرَبِّ هَذَا الْبَيْتِ .
نوید مجید طیب
محمد بن عباد بن جعفر رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ میں نے سیدنا جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ سے سوال کیا (جب) وہ بیت اللہ میں طواف کر رہے تھے کہ کیا نبی اکرم ﷺ نے جمعہ کے دن (نفلی) روزہ رکھنے سے منع کیا ہے؟ کہنے لگے ہاں اس کعبہ کے رب کی قسم۔
حوالہ حدیث السنن المأثورة / باب ما جاء في الأذان / حدیث: 291
تخریج حدیث صحیح مسلم، الصيام، باب كراهة صيام يوم الجمعة منفردا، رقم : 2681
حدیث نمبر: 292
أَنْبَأَنَا عَبْدُ الْمَجِيدِ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ ، عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ ، قَالَ : أَخْبَرَنِي عَبْدُ الْحَمِيدِ بْنُ جُبَيْرِ بْنِ شَيْبَةَ ، أَنَّهُ أَخْبَرَهُ مُحَمَّدُ بْنُ عَبَّادٍ ، أَنَّهُ سَأَلَ جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ وَهُوَ يَطُوفُ بِالْبَيْتِ ، فَقَالَ : " سَمِعْتَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَنْهَى عَنْ صِيَامِ يَوْمِ الْجُمُعَةِ ؟ " فَقَالَ : نَعَمْ ، وَرَبِّ هَذَا الْبَيْتِ .
نوید مجید طیب
محمد بن عباد رحمہ اللہ نے سیدنا جابر بن عبد اللہ رضی اللہ عنہ سے سوال کیا جبکہ وہ بیت اللہ کا طواف کر رہے تھے میں نے سنا ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے جمعہ کے روز (نفلی) روزہ رکھنے سے منع فرمایا ہے انہوں نے کہا ہاں اس کعبہ کے رب کی قسم ایسا ہی ہے۔
حوالہ حدیث السنن المأثورة / باب ما جاء في الأذان / حدیث: 292
تخریج حدیث صحیح بخاری، الصوم، باب صوم يوم الجمعة، صحیح مسلم، الصيام، باب كراهة صيام يوم الجمعة منفرداً، رقم : 1143
حدیث نمبر: 293
عَنْ عَنْ عَمْرِو بْنِ دِينَارٍ ، عَنْ يَحْيَى بْنِ جَعْدَةَ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو الْقَارِيِّ ، قَالَ : سَمِعْتُ أَبَا هُرَيْرَةَ ، يَقُولُ : مَا أَنَا نَهَيْتُ عَنْ صِيَامِ يَوْمِ الْجُمُعَةِ وَلَكِنَّ مُحَمَّدًا صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَرَبِّ هَذَا الْبَيْتِ قَالَهُ " .
نوید مجید طیب
عبداللہ بن عمرو القاری رحمہ اللہ کہتے ہیں میں نے سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے سنا فرماتے تھے کہ جمعہ کا روزہ رکھنے سے میں نہیں منع کر رہا بلکہ محمد ﷺ نے منع فرمایا مجھے اس کعبہ کے رب کی قسم۔
وضاحت:
➊ صرف جمعہ کا نفلی روزہ رکھ لینا منع ہے۔ اس صورت میں جائز ہے اگر ساتھ جمعرات یا ہفتے کا روزہ رکھ لیا جائے۔ سیدہ جویریہ رضی اللہ عنہا نے جمعہ کا روزہ رکھا ہوا تھا تو آپ ﷺ نے پوچھا: کیا تو نے کل بھی روزہ رکھا تھا؟ کہنے لگی: نہیں؛ آپ ﷺ نے پوچھا: کیا آئندہ کل رکھو گی؟ کہنے لگی: نہیں۔ تو آپ ﷺ نے حکم دیا: روزہ افطار کرو۔ [صحیح بخاری: 1986]
➋ بعض آثارِ صحابہ سے بیان ہوا ہے کہ جمعہ کا دن "یوم العید" اور کھانے پینے کا دن ہے۔
➌ حدیثِ جویریہ سے یہ بھی معلوم ہوا کہ ہفتے کے آگے پیچھے ملا کر اگر روزہ رکھا جائے تو بروز ہفتہ بھی روزہ رکھا جا سکتا ہے، اکیلے ہفتے کا روزہ منع ہے کیونکہ یہ یہودیوں کی عبادت کا دن ہے اور ہم ان کی مخالفت پر مامور ہیں۔
➍ ابن باز رحمہ اللہ (سابق مفتیِ سعودیہ) کی رائے میں اکیلے ہفتے کا روزہ رکھا جا سکتا ہے، وہ «لا يصومن احد يوم السبت» والی روایت کو ضعیف قرار دیتے ہیں۔ لیکن بہتر یہی ہے کہ ہفتے کے ساتھ بھی پہلے یا بعد والا دن ملانا چاہیے تاکہ شکوک و شبہات سے دور رہا جا سکے۔
➎ بعض علماء نے ہفتے یا اتوار کا اکیلا روزہ رکھنا مکروہ گردانا ہے الا یہ کہ کوئی آدمی صیام داؤد علیہ السلام رکھتا ہو کہ ایک دن روزہ رکھے ایک دن افطار کرے ایسی صورت میں تو ظاہر ہے یا ہفتے کا روزہ رکھے گا یا اتوار کا تو یہ اس کی عادت ہے لہذا اس کے لیے جواز ہے کیونکہ اس نے خصوصی اہتمام سے اس دن کو خاص نہیں کیا اور یہی بات عمدہ معلوم ہوتی ہے۔ اگر آدمی اپنی طرف سے دنوں کو مخصوص کر کے عبادت کرنا یا اذکار وغیرہ کو اپنی طرف سے مخصوص کرنا چھوڑ دے تو بہت سی بدعات سے بچ جائے گا۔ دن اللہ کے ہیں، عبادت بھی اللہ کی ہے لہذا ان کو خاص کرنا نہ کرنا بھی شارع کا کام ہے کسی مولوی، پیر کا نہیں۔
حوالہ حدیث السنن المأثورة / باب ما جاء في الأذان / حدیث: 293
تخریج حدیث مسند الحميدى، رقم : 1017 ، مسند احمد : 233/13، رقم : 7839 وقال الارنوؤط : حديث صحيح