کتب حدیثالسنن المأثورةابوابباب: خرید و فروخت کے مسائل کا بیان
حدیث نمبر: 185
عَنْ سُفْيَانَ بْنِ عُيَيْنَةَ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ سَالِمٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " مَنْ بَاعَ عَبْدًا لَهُ مَالٌ فَمَالُهُ لِلْبَائِعِ إِلا أَنْ يَشْتَرِطَ الْمُبْتَاعُ " .
نوید مجید طیب
سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : ”جس نے غلام فروخت کیا اور غلام کا کچھ مال بھی تھا تو مال فروخت کرنے والے کو ملے گا الا یہ کہ خریدار شرط لگائے کہ مال میرا ہوگا۔“
وضاحت:
➊ خرید و فروخت اور تجارت کسب معاش کا بہترین ذریعہ ہے، دین اسلام نے صادق و امین اور جائز ذرائع اختیار کر کے تجارت کرنے والوں کی حوصلہ افزائی فرمائی اور ان کے لیے اخروی نوید سنائی ہے۔
➋ ہمارے پیارے پیغمبر صلی اللہ علیہ وسلم نے بھی تجارت کے پیشہ کو اختیار کیا اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابہ رضی اللہ عنہم کی کثیر تعداد، خاص طور پر مہاجرین صحابہ رضی اللہ عنہم اسی پیشہ تجارت سے وابستہ تھے۔
➌ عہد نبوی میں غلاموں کی تجارت ہوتی تھی اور ان کو مالِ تجارت شمار کیا جاتا تھا، اس لیے شریعت میں ان سے متعلق ہدایات دی گئیں۔
➍ چونکہ غلام کسی چیز کا مالک نہیں ہوتا، اس کا مال حقیقت میں اس کے مالک کا ہی ہوتا ہے، اس لیے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس امر کی وضاحت فرمائی۔
حوالہ حدیث السنن المأثورة / باب في البيوع / حدیث: 185
تخریج حدیث صحیح بخاری، المساقاة، باب الرجل يكون له ممرا وشرب ....... الخ، رقم : 2379 ، صحیح مسلم البيوع، باب من باغ نخلاً عليها ثمر، رقم : 1543 ۔
حدیث نمبر: 186
عَنْ سُفْيَانَ بْنِ عُيَيْنَةَ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ سَالِمٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " مَنْ بَاعَ نَخْلا بَعْدَ أَنْ تُؤَبَّرَ فَثَمَرُهَا لِلْبَائِعِ إِلا أَنْ يَشْتَرِطَ الْمُبْتَاعُ " .
نوید مجید طیب
سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”جس نے کھجوروں کے درخت پیوند کاری کے بعد فروخت کئے تو اس کا پھل فروخت کرنے والے کا ہے الا کہ خریدار شرط عائد کر دے۔“
حوالہ حدیث السنن المأثورة / باب في البيوع / حدیث: 186
تخریج حدیث صحیح بخاری ، البيوع، باب من باع نخلا قد أبرت أو أرضا ..... الخ ، رقم : 2204 ، صحیح مسلم البيوع، باب من باع نخلا عليها ثمر، رقم : 1543 ۔
حدیث نمبر: 187
عَنْ مَالِكٍ ، عَنْ نَافِعٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " مَنْ بَاعَ نَخْلا وَقَدْ أُبِّرَتْ فَثَمَرَتُهَا لِلْبَائِعِ إِلا أَنْ يَشْتَرِطَ الْمُبْتَاعُ " .
نوید مجید طیب
سیدنا عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : ”جس نے پیوند لگانے کے بعد کھجور فروخت کی تو اس کا پھل فروخت کرنے والے کا ہوگا الا یہ کہ خریدار شرط لگائے (کہ پھل میرا ہوگا)۔“
وضاحت:
➊ کھجور کا کھانا اور اس کی خرید و فروخت کرنا جائز ہے۔
➋ درختوں کی پیوند کاری کرنا جائز اور درست ہے۔
➌ بائع اور مشتری سامانِ تجارت سے متعلق شروط رکھ سکتے ہیں۔
➍ شرائط کے ساتھ منسلک تجارت جائز ہے البتہ اس امر کا خیال رہے کہ شروط خلافِ شرع نہ ہوں۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: «من اشترط شرطاً ليس فى كتاب الله فهو باطل و ان اشترط مائة شرط» [صحیح بخاری: 2155]
جس نے خلافِ شرع شرط لگائی وہ باطل ہے اگرچہ سو شرائط ہوں۔
حوالہ حدیث السنن المأثورة / باب في البيوع / حدیث: 187
تخریج حدیث صحیح بخاری، البيوع، باب من باع نخلا قد أبرت أو أرضا ..... الخ ، رقم : 2204 ، صحیح مسلم ، البيوع، باب من باع نخلا عليها ثمر، رقم : 1543 ۔
حدیث نمبر: 188
عَنْ سُفْيَانَ بْنِ عُيَيْنَةَ ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ ، عَنْ سَالِمٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " نَهَى عَنْ بَيْعِ الثَّمَرِ حَتَّى يَبْدُوَ صَلاحُهُ " .
نوید مجید طیب
سیدنا عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے رسول اللہ ﷺ نے پھل کے پکنے کی صلاحیت ظاہر ہونے سے پہلے اس کی خرید و فروخت سے منع فرمایا۔
حوالہ حدیث السنن المأثورة / باب في البيوع / حدیث: 188
تخریج حدیث صحیح بخاری، الزكاة، باب من باع ثمارة او نخله ..... الخ، رقم : 1486 ۔
حدیث نمبر: 189
عَنْ سُفْيَانَ بْنِ عُيَيْنَةَ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ دِينَارٍ ، سَمِعَ ابْنَ عُمَرَ ، يَقُولُ : " نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ بَيْعِ الثَّمَرِ حَتَّى يَبْدُوَ صَلاحُهُ " .
نوید مجید طیب
سید نا عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے پھلوں کی بیع سے منع کیا حتی کہ ان کے پکنے کی صلاحیت واضح ہو جائے۔
حوالہ حدیث السنن المأثورة / باب في البيوع / حدیث: 189
تخریج حدیث صحیح مسلم ،البيوع، باب النهي عن بيع الثمار قبل يبدو صلاتها ، رقم : 1534 ۔
حدیث نمبر: 190
وَأَنْبَأَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ ، عَنِ ابْنِ أَبِي ذِئْبٍ , عَنْ عُثْمَانَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ سُرَاقَةَ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عُمَرَ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " نَهَى عَنْ بَيْعِ الثِّمَارِ حَتَّى تَذْهَبَ الْعَاهَةُ " . قَالَ عُثْمَانُ بْنُ سُرَاقَةَ : فَسَأَلْتُ ابْنَ عُمَرَ : مَتَى يَكُونُ ذَلِكَ ؟ فَقَالَ : طُلُوعَ الثُّرَيَّا .
نوید مجید طیب
سیدنا عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے پھلوں کی بیع سے منع کیا حتی کہ پھلوں کی بیماری کا خطرہ ٹل جائے راوی عثمان کہتے ہیں میں نے سیدنا عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے پوچھا بیماری کس وقت دور ہوتی ہے؟ تو سیدنا عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے فرمایا : ”جب ثریا ستارہ طلوع ہو جائے۔“
حوالہ حدیث السنن المأثورة / باب في البيوع / حدیث: 190
تخریج حدیث مسند احمد : 119/9، رقم : 5105 وقال الارنوؤط: اسناده صحیح علی شرط البخارى ، السنن الكبرى للبيهقي : 300/5 ۔
حدیث نمبر: 191
عَنْ مَالِكِ بْنِ أَنَسٍ ، عَنْ نَافِعٍ ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ ، " أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَهَى عَنْ بَيْعِ الثِّمَارِ حَتَّى يَبْدُوَ صَلاحُهَا ، نَهَى الْبَائِعَ وَالْمُشْتَرِي " .
نوید مجید طیب
سیدنا عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے رسول اللہ ﷺ نے پھلوں کی بیع سے منع کیا حتی کہ ان کے پکنے کی صلاحیت واضح ہو جائے بائع اور مشتری دونوں کو منع فرمایا۔
حوالہ حدیث السنن المأثورة / باب في البيوع / حدیث: 191
تخریج حدیث صحیح بخاری ، البيوع، باب بيع الثمار قبل ان يبدو صلاتها، رقم : 2194 صحیح مسلم ،البيوع، باب النهي عن بيع الثمار ..... الخ، رقم : 1534 ۔
حدیث نمبر: 192
عَنْ مَالِكِ بْنِ أَنَسٍ ، عَنْ حُمَيْدٍ الطَّوِيلِ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَهَى عَنْ بَيْعِ الثِّمَارِ حَتَّى تُزْهِيَ فَقِيلَ : يَا رَسُولَ اللَّهِ وَمَا تُزْهِي ؟ قَالَ : " حَتَّى تَحْمَرَّ " ، وَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " أَرَأَيْتَ إِنْ مَنَعَ اللَّهُ الثَّمَرَ فِيمَ يَأْخُذُ أَحَدُكُمْ مَالَ أَخِيهِ ؟ " .
نوید مجید طیب
سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے رسول اللہ ﷺ نے درخت پر لگے پھل کو پکنے سے پہلے فروخت کرنے سے منع فرمایا آپ ﷺ سے پوچھا گیا ”تذھو“ سے آپ کی کیا مراد ہے؟ آپ ﷺ نے فرمایا : ”یہاں تک کہ سرخ ہو جائے ۔“ پس رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : ”تمہارا کیا خیال ہے اگر پھل پر آفت آجائے تو اپنے مسلمان بھائی سے کس چیز کے پیسے وصول کرے گا ؟“
حوالہ حدیث السنن المأثورة / باب في البيوع / حدیث: 192
تخریج حدیث صحیح بخاری، الزكاة، باب من باع ثماره أو نخله ...... الخ، رقم : 1488 ، صحیح مسلم ، المساقاة، باب وضع الحوائج ، رقم : 1555 ۔
حدیث نمبر: 193
أَنْبَأَنَا عَبْدُ الْوَهَّابِ بْنُ عَبْدِ الْمَجِيدِ الثَّقَفِيُّ ، عَنْ حُمَيْدٍ الطَّوِيلِ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَهَى عَنْ ثَمَرِ النَّخْلِ أَنْ يُبَاعَ حَتَّى تُزْهَى ، قَالَ : وَمَا تُزْهَى يَا رَسُولَ اللَّهِ ؟ قَالَ : " حَتَّى يَحْمَرَّ " .
نوید مجید طیب
سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے کھجور کے پھل کو (درخت پر) پکنے سے پہلے فروخت کرنے سے منع فرمایا پکنے سے مراد سرخی ظاہر ہونا ہے۔
حوالہ حدیث السنن المأثورة / باب في البيوع / حدیث: 193
تخریج حدیث صحیح بخاری ، البيوع، باب بيع الثمار قبل ان يبدو صلاتها، رقم : 2195، صحیح مسلم المساقاة، باب وضع الحوائج ، رقم : 1555 ۔
حدیث نمبر: 194
وَأَنْبَأَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ دِينَارٍ ، عَنْ إِسْمَاعِيلَ الشَّيْبَانِيِّ ، قَالَ : بِعْتُ مَا فِي رُءُوسِ نَخْلِي بِمِائَةِ وَسْقٍ إِنْ زَادَ فَلَهُمْ وَإِنْ نَقَصَ فَعَلَيْهِمْ فَسَأَلْتُ ابْنَ عُمَرَ عَنْ ذَلِكَ فَقَالَ : نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " عَنْ بَيْعِ الثَّمَرَةِ بِالتَّمْرِ إِلا أَنَّهُ قَدْ رَخَّصَ فِي الْعَرَايَا " .
نوید مجید طیب
اسماعیل شیبانی کہتے ہیں کہ میں نے سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے پوچھا (اگر اس طرح فروخت ہو) کہ کھجور پر لگے پھل کو میں سو وسق کے بدلے فروخت کر دوں کہ اگر کھجور پر لگا پھل سو وسق سے زیادہ ہو گیا تو تمہارا اگر کم ہو گیا تو بھی تم ذمہ دار (کیا ایسا سودا جائز ہے؟) سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما نے فرمایا کہ رسول اللہ ﷺ نے پھل کے بدلے پھل فروخت کرنے سے منع فرمایا صرف عرايا نامی بیع کی اجازت دی ہے۔
حوالہ حدیث السنن المأثورة / باب في البيوع / حدیث: 194
تخریج حدیث مسند احمد: 1968، رقم: 4590، وقال الارنؤوط: اسناده حسن، مسند الحمیدی: 296/2، رقم: 673 ۔
حدیث نمبر: 195
عَنْ سُفْيَانَ بْنِ عُيَيْنَةَ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ سَالِمٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " نَهَى عَنْ بَيْعِ الثَّمَرِ بِالتَّمْرِ .
نوید مجید طیب
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما نے بیان کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے پھل کے بدلے پھل فروخت کرنے سے منع فرمایا۔
حوالہ حدیث السنن المأثورة / باب في البيوع / حدیث: 195
تخریج حدیث مسند احمد : 441/10، رقم : 6376 وقال الارنوؤط: اسناده صحيح على شرط الشيخين ۔
حدیث نمبر: 196
قَالَ قَالَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ وَحَدَّثَنَا زَيْدُ بْنُ ثَابِتٍ ، " أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَخَّصَ فِي بَيْعِ الْعَرَايَا .
نوید مجید طیب
سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں ہمیں سیدنا زید بن ثابت رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ نبی ﷺ نے بیع عرايا کی اجازت دی۔
حوالہ حدیث السنن المأثورة / باب في البيوع / حدیث: 196
تخریج حدیث نظر ما قبلہ ، برقم : 195
حدیث نمبر: 197
عَنْ سُفْيَانَ بْنِ عُيَيْنَةَ ، عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ ، عَنْ عَطَاءٍ ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، قَالَ : " نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنِ الْمُزَابَنَةِ وَالْمُزَابَنَةُ بَيْعُ الثَّمَرِ بِالتَّمْرِ إِلا أَنَّهُ رَخَّصَ فِي الْعَرَايَا " .
نوید مجید طیب
سیدنا جابر بن عبد اللہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم ﷺ نے بیع مزابنہ سے منع کیا بیع مزابنہ پھل کے بدلے پھل کی بیع ہے۔ مگر بیع عرايا کی اجازت دی۔
حوالہ حدیث السنن المأثورة / باب في البيوع / حدیث: 197
تخریج حدیث صحیح بخاری، المساقاة، باب الرجل يكون له ممر او شرب ....... الخ ، رقم : 2189، صحیح مسلم ، البيوع، باب النهي عن المحاقلة والمزانبة ..... الخ، رقم : 1536 ۔
حدیث نمبر: 198
عَنْ سُفْيَانَ بْنِ عُيَيْنَةَ ، عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ ، عَنْ بُشَيْرِ بْنِ يَسَارٍ ، عَنْ سَهْلِ بْنِ أَبِي حَثْمَةَ ، " أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَهَى عَنْ بَيْعِ الثَّمَرِ بِالتَّمْرِ إِلا أَنَّهُ رَخَّصَ فِي بَيْعِ الْعَرِيَّةِ أَنْ تُبَاعَ بِخَرْصِهَا مِنَ التَّمْرِ يَأْكُلُهَا أَهْلُهَا رُطَبًا " .
نوید مجید طیب
سیدنا سہل بن ابی حثمہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے رسول اللہ ﷺ نے پھل کے بدلے پھل کی بیع سے منع کیا مگر بیع عریہ کی اجازت دی بیع عریہ یہ ہے کہ کھجور پر لگے پھل کا اندازہ لگا کر اپنے اہل وعیال کے کھانے کے لیے رطبا کھجور خشک کے بدلے لے لی جائے۔
حوالہ حدیث السنن المأثورة / باب في البيوع / حدیث: 198
تخریج حدیث صحیح بخاری، البيوع، باب بيع الثمر على رؤس النخل، رقم : 2191، صحیح مسلم البيوع، باب تحريم بيع الرطب بالتمر الا فى العرايا ، رقم : 1540 ۔
حدیث نمبر: 199
أَنْبَأَنَا مَالِكُ بْنُ أَنَسٍ ، عَنْ نَافِعٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ ، عَنْ زَيْدِ بْنِ ثَابِتٍ ، " أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَرْخَصَ لِصَاحِبِ الْعَرِيَّةِ أَنْ يَبِيعَهَا بِخَرْصِهَا " .
نوید مجید طیب
سیدنا زید بن ثابت رضی اللہ عنہ سے روایت ہے رسول اللہ ﷺ نے بیع عریہ کرنے والے کے لیے اندازے سے فروخت کرنے کی اجازت دی۔
حوالہ حدیث السنن المأثورة / باب في البيوع / حدیث: 199
تخریج حدیث صحیح بخارى، البيوع، باب بيع المزابنة، رقم : 2188، صحيح مسلم البيوع، باب تحريم بيع الرطب بالتمر الا في العرايا ، رقم : 1539 ۔
حدیث نمبر: 200
عَنْ مَالِكِ بْنِ أَنَسٍ ، عَنْ دَاوُدَ بْنِ الْحُصَيْنِ ، عَنْ أَبِي سُفْيَانَ ، مَوْلَى ابْنِ أَبِي أَحْمَدَ , عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، " أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَخَّصَ فِي بَيْعِ الْعَرَايَا فِيمَا دُونَ خَمْسَةِ أَوْسُقٍ أَوْ فِي خَمْسَةِ أَوْسُقٍ " . شَكَّ دَاوُدُ قَالَ : خَمْسَةٌ ، أَوْ دُونَ خَمْسَةٍ .
نوید مجید طیب
سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے رسول اللہ ﷺ نے بیع عرايا کی اجازت پانچ وسق تک دی راوی داؤد نے خمس اوسق یا دون خمسہ اوسق میں شک کیا یعنی پانچ وسق تک اجازت دی یا پانچ سے کم وسق تک اجازت دی۔
حوالہ حدیث السنن المأثورة / باب في البيوع / حدیث: 200
تخریج حدیث صحیح بخاری البیوع باب بيع الثمر على رووس النحل، رقم : 2190، صحیح مسلم، البيوع، باب تخريج بيع الرطب بالتمر الا.... الخ، رقم : 1541 ۔
حدیث نمبر: 201
عَنْ سُفْيَانَ بْنِ عُيَيْنَةَ ، عَنْ حُمَيْدٍ الأَعْرَجِ ، عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ عَتِيقٍ ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، " أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَهَى عَنْ بَيْعِ السِّنِينَ وَأَمَرَ بِوَضْعِ الْجَوَائِحِ " .
نوید مجید طیب
سیدنا جابر بن عبد اللہ رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ نبی اکرم ﷺ نے متعدد سالوں کے لیے درختوں کے پھل فروخت کرنے سے منع فرمایا اور آفات سے پہنچنے والے نقصان کی صورت میں (رقم) ساقط کر دینے کا حکم دیا ہے۔
وضاحت:
➊ شریعت اسلامیہ کی یہ خصوصیت ہے کہ اس نے تجارت کے اصول وضوابط متعین کیے ہیں ہر وہ بیع جس میں دھوکا فریب یا خیانت یا فریق واحد کا سراسر نقصان ہو تو شریعت نے اس سے منع کیا ہے۔
➋ سوق تمر میں ٹھیکیدار آج بھی مالکان سے پھل درختوں پر ہی خرید لیتے ہیں خود اتار کر اپنی دکانوں پر جیسے جیسے ضرورت پڑتی ہے لاتے رہتے ہیں شریعت نے اصول دیا کہ جب تک پھل سرخی مائل نہ ہو جائے یعنی اس بات کا یقین نہ ہو جائے کہ ابھی آفت سے پھل بچ گیا ہے فروخت نہ کرے کیونکہ اگر کچا فروخت کر دیا جائے تو اس سے خدشہ ہے کہ بیماری یا کیڑا کی وجہ سے اور بسا اوقات پھل کچے ہی گرنا شروع ہو جاتے ہیں تو اس سے خریدار کو سراسر نقصان تھا جب پھل سُرخ ہو جائے تو پھر آندھی وغیرہ سے گر بھی جائے تو کسی حد تک قابل استعمال ہوسکتا ہے۔
➌ جب ثریا ستارہ طلوع ہو جاتا ہے اس وقت عموماً پھل آب و ہوا کی بیماریوں سے محفوظ ہو جاتا ہے موسم معتدل ہو جاتا ہے اس میں ستارے کا کوئی کمال یا تاثیر نہیں اور نہ اسلام اس طرح کی تاثیر کا قائل ہے مقصود وقت بتانا ہے پرانے وقتوں میں اوقات کار سائے کی لمبائی، ستاروں کے جھرمٹ، اور طلوع، غروب سے ہی متعین کیے جاتے تھے، رات کے مسافر بھی ستاروں کو دیکھ کر ٹائم کا اندازہ لگاتے تھے میرے والد صاحب ہمیں بچپن میں بتایا کرتے تھے کہ یہ ستاروں کا جھرمٹ جب وہاں پہنچے گا تو سحری ہو جائے گی وغیرہ وغیرہ۔
➍ پھل پکنے سے پہلے فروخت کرنا منع ہے تو ضرورت کے پیش نظر اجازت بخشی گئی، یہ اجازت تجارت کی غرض سے نہیں محض کھانے کے لیے ہے۔
"عریہ" یہ ہے کہ ایک آدمی کے پاس اپنا درخت یا باغ نہیں اس کے بچے رطب کھجور کھانا چاہتے ہیں تو وہ آدمی کسی کو خشک کھجور دے کر اس کے بدلے رطب لے لے تو پانچ وسق تک یہ جائز ہے۔ اس سے زیادہ تجارت بن جاتی ہے لہذا پانچ وسق تک تازہ کھجور کھانے کا شوق پورا کیا جاسکتا ہے۔
➏ تجارت کے لیے آدمی خشک کھجور کے بدلے تازہ رطب کھجور نہیں لے سکتا ہے بلکہ خشک علیحدہ فروخت کرے گا جو پیسے ملیں گے اُن سے علیحدہ رطب کا سودا کرے گا ایسے ہی اعلیٰ ایک کلو کھجور ردی دو کلو کے بدلے لینا جائز نہیں ان کو علیحدہ علیحدہ فروخت کرے گا۔
➐ کئی سالوں کے لیے درخت کا پھل فروخت کرنے میں دھوکا تھا اور اس بات کے قوی امکان تھے کہ آئندہ سالوں میں درخت جل جائیں، کیڑا لگ جائے یا کوئی اور خرابی واقع ہو جائے۔
➑ ایسے ہی ہر دھوکے کی تجارت جیسے پانی میں موجود مچھلی، آسمان پر اڑتا کبوتر، بھیڑ کی پیٹھ پر اون، تھن میں دودھ، پیٹ میں بچہ، دودھ میں گھی یہ سب مجہول اشیاء ہیں جن کو فروخت کرنا حرام و ناجائز ہے کیونکہ اس میں دھوکے کا امکان ہے۔
➒ آفت میں قیمت کا ساقط ہونا یہ اس وقت کی بات ہے جب پھل پکنے سے قبل فروخت کرنا منع نہ کیا گیا تھا جو پہلے سودے ہو چکے تھے اور آفات آگئی ان کی قیمت ساقط کر کے تلافی کی گئی اب چونکہ پکنے سے پہلے سیل کرنا منع ہے اگر بعد میں سیل کرتا ہے پھر آفت آ جاتی ہے تو از راہ کرم مالک کو کچھ معاف کر دینا چاہیے اور اس آدمی پر مخیر حضرات صدقہ کریں کہ نقصان پورا ہو جائے کیونکہ تمام مسلم جسد واحد کی طرح ہیں ایک کو تکالیف پہنچتی ہے تو سارے بے چین ہو جاتے ہیں۔
➓ یہ ضابطہ پھلوں کے بارے میں ہے اگر گاڑی خریدی ایکسیڈنٹ ہو گیا تو فروخت کرنے والا ذمہ دار نہیں اور نہ تلافی کرنے کا پابند ہے۔ البتہ از راہ کرم کچھ رقم معاف کر دے تو اس کی نیکی ہے۔
حوالہ حدیث السنن المأثورة / باب في البيوع / حدیث: 201
تخریج حدیث سنن ابی داؤد، البيوع، باب في بيع السنين، رقم : 3374 وقال الالبانی: صحيح ۔
حدیث نمبر: 202
أَنْبَأَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ ، عَنْ جَابِرٍ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِمِثْلِهِ . قَالَ أَبُو جَعْفَرٍ : سَمِعْتُ الْمُزَنِيَّ يَقُولُ : قَالَ الشَّافِعِيُّ رَحِمَهُ اللَّهُ : قَدْ كَانَ سُفْيَانُ يُحَدِّثُ بِهَذَا الْحَدِيثِ لا يَذْكُرُ فِيهِ وَضْعَ الْجَوَائِحِ وَقَالَ : إِنِّي لَمْ أَذْكُرْ : وَضْعَ الْجَوَائِحِ ؛ لأَنَّهُ لَيْسَ فِي الْحَدِيثِ وَلَكِنْ كَانَ فِي الْحَدِيثِ كَلامٌ قَبْلَ وَضْعِ الْجَوَائِحِ لَمْ أَحْفَظْهُ ؛ فَلِذَلِكَ لَمْ أَكُنْ أَذْكُرُهُ .
نوید مجید طیب
امام شافعی نے سفیان سے بیان کیا انہوں نے ابو زبیر سے انہوں نے سیدنا جابر رضی اللہ عنہ کے واسطے سے نبی اکرم ﷺ سے گذشتہ حدیث کی مانند روایت کیا ہے۔
حوالہ حدیث السنن المأثورة / باب في البيوع / حدیث: 202
تخریج حدیث سنن نسائی ، البيوع، باب بيع السنين رقم: 4626 وقال الالباني صحيح ۔
حدیث نمبر: 203
عَنْ سُفْيَانَ بْنِ عُيَيْنَةَ ، عَنْ إِسْمَاعِيلَ بْنِ أُمَيَّةَ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ يَزِيدَ ، عَنْ أَبِي عَيَّاشٍ الزُّرَقِيِّ ، عَنْ سَعْدٍ ، أَنَّهُ سُئِلَ عَنْ رَجُلَيْنِ ، تَبَايَعَا بِسُلْتٍ وَشَعِيرٍ ، فَقَالَ سَعْدٌ : تَبَايَعَ رَجُلانِ عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِتَمْرٍ وَرُطَبٍ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " أَيَنْقُصُ الرُّطَبُ إِذَا يَبِسَ ؟ " فَقَالُوا : نَعَمْ ، فَنَهَى عَنْهُ .
نوید مجید طیب
سیدنا سعد رضی اللہ عنہ سے روایت ہے اُن سے سوال ہوا کہ دو آدمیوں نے سلت اور جو کا آپس میں تبادلہ کیا ہے تو سیدنا سعد رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ نبی اکرم ﷺ کے زمانے میں دو آدمیوں نے خشک اور تازہ کھجور کا آپس میں تبادلہ کیا تھا جس پر رسول اللہ ﷺ نے دریافت کیا تھا کہ ”کیا رطب کھجور خشک ہو کر وزن کم کر دیتی ہے؟“ صحابہ نے عرض کی: ”ہاں“ تو پھر انہیں ایسی بیع سے منع کر دیا۔
وضاحت:
➊ سلت ایک دانے کا نام ہے جو گندم کے دانے سے چھوٹا اور جو سے بڑا ہوتا ہے لیکن اس پر جو کے دانے کی طرح چھلکا نہیں ہوتا تاثیر کے اعتبار سے جو کی طرح ٹھنڈا ہوتا ہے۔
➋ ایک ہی جنس کی دو چیزیں وزن کی کمی بیشی کے ساتھ فروخت کرنا ممنوع ہیں۔ [مزید دیکھئے شرح حدیث نمبر 203، 209، 210]
حوالہ حدیث السنن المأثورة / باب في البيوع / حدیث: 203
تخریج حدیث سنن نسائی، البيوع، باب اشتراء التمر بالرطب، رقم : 4546 وقال الالبانی: صحيح ۔
حدیث نمبر: 204
عَنْ مَالِكٍ ، عَنْ عَبْدِ الْمَجِيدِ بْنِ سُهَيْلٍ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيِّبِ ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، أَوْ هُمَا أَوْ عَنْ أَحَدِهِمَا عَنِ الآخَرِ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ اسْتَعْمَلَ رَجُلا عَلَى خَيْبَرَ فَجَاءَهُ بِتَمْرٍ جَنِيبٍ فَقَالَ لَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " أَكَلُّ تَمْرِ خَيْبَرَ هَكَذَا ؟ " قَالَ : لا وَاللَّهِ يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنَّا لَنَأْخُذُ الصَّاعَ بِالصَّاعَيْنِ ، وَالصَّاعَيْنِ بِالثَّلاثَةِ ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " فَلا تَفْعَلْ بِعِ الْجَمْعَ بِالدَّرَاهِمِ ثُمَّ اشْتَرِ بِالدَّرَاهِمِ جَنِيبًا .
نوید مجید طیب
سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے خیبر میں ایک تحصیلدار تعینات کیا جو ریونیو میں بڑی عمدہ کھجوریں لایا تو رسول اللہ ﷺ نے پوچھا: ”کیا سارے خیبر میں ایسی ہی کھجوریں ہیں؟“ اس نے کہا: ”نہیں واللہ اے اللہ کے رسول! ہم دو صاع ردی کھجور دے کر ایک صاع یہ عمدہ لیتے ہیں اور تین صاع دے کر دو صاع لے لیتے ہیں۔“ تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”ایسا مت کرو اپنی تمام کھجور درہموں کے عوض فروخت کیا کرو پھر درہم سے عمدہ کھجور علیحدہ خرید لیا کرو۔“
وضاحت:
➊ خیبر مدینہ سے شمال مشرق کی جانب واقع ہے مدینہ کے جلا وطن یہودی قبائل یہاں آباد ہوئے پھر اُن کی سازشوں کے باعث محرم 7ھ میں 1400 صحابہ رضی اللہ عنہم کے ہمراہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ علاقہ فتح کیا پھر نصف پیداوار پر انہوں نے صلح کی ہر سال رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا تحصیلدار اپنا حصہ وصول کرنے جاتا جو آفیسر ریونیو کہلاتا ہے اس کا نام سیدنا سواد بن غزیہ رضی اللہ عنہ تھا۔
➋ اس حدیث سے معلوم ہوا کہ اشیاء خوردنی ہم جنس کا تبادلہ کمی و بیشی کے ساتھ درست نہیں گو قیمت کے اعتبار سے ایک مہنگی ہی کیوں نہ ہو کیونکہ یہ اشیاء خوردنی میں سود ہے لہذا ہر ایک کو علیحدہ علیحدہ بیچو جب جنس ایک ہو۔
➌ جب جنس ایک اور وزن برابر ہو مثلاً ایک کلو گندم کے بدلے ایک کلو ہی گندم لی جائے تو نقد جائز ہے۔
➍ اگر گندم کلو کے بدلے دو کلو کھجور دی جائے یعنی جنس مختلف ہو تو کمی و بیشی بھی جائز ہے لیکن یہ بھی سودا نقد ہونا ضروری ہے ادھار ناجائز ہے۔ یعنی گندم آج لے لے اور کھجور کل دے دینا یہ ناجائز ہے۔ «يدا بيد» کی شرط ہے نقد و نقد۔ اس کی مزید وضاحت حدیث نمبر 209 اور 210 میں آئے گی۔
حوالہ حدیث السنن المأثورة / باب في البيوع / حدیث: 204
تخریج حدیث صحیح بخاری ، البيوع، باب اذا اراد بيع تمر بتمر خير منه، رقم : 2202 ، صحیح مسلم المساقاة، باب بيع الطعام مثلا بمثل رقم : 1593 ۔
حدیث نمبر: 205
عَنْ مَالِكٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ يَزِيدَ ، مَوْلَى الأَسْوَدِ بْنِ سُفْيَانَ أَنَّ زَيْدًا أَبَا عَيَّاشٍ ، أَخْبَرَهُ أَنَّهُ ، سَأَلَ سَعْدَ بْنَ أَبِي وَقَّاصٍ عَنِ الْبَيْضَاءِ بِالسُّلْتِ ، فَقَالَ : أَيَّتُهُمَا أَفْضَلُ ؟ فَقَالُوا : الْبَيْضَاءُ فَنَهَى عَنْ ذَلِكَ ، فَقَالَ : سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُسْأَلُ عَنْ شِرَاءِ التَّمْرِ بِالرُّطَبِ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " أَيَنْقُصُ إِذَا يَبِسَ ؟ " فَقَالُوا : نَعَمْ ، فَنَهَى عَنْ ذَلِكَ .
نوید مجید طیب
ابو عیاش یزید رضی اللہ عنہ نے سیدنا سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ سے بیضاء نامی غلے کو سلت نامی غلے سے فروخت کرنے کے بارے سوال کیا تو سیدنا سعد رضی اللہ عنہ نے پوچھا: ”ان دونوں میں سے عمدہ غلہ کون سا ہے؟“ شاگردوں نے عرض کیا: ”بیضاء“ تو انہوں نے منع کر دیا اور فرمایا: ”میں نے رسول اللہ ﷺ سے سنا آپ سے سوال کیا گیا کہ کیا خشک کھجور تازی کھجور کے عوض خریدیں؟ آپ ﷺ نے فرمایا: ”کیا رطب خشک ہو کر وزن میں کم ہو جائے گی؟“ صحابہ رضی اللہ عنہم نے عرض کیا: ”جی ہاں“ تو آپ ﷺ نے اس بیع سے منع کر دیا۔“
وضاحت:
➊ بظاہر لگتا ہے کہ بیضاء سلت کی ہی ہم جنس یا اسی کی اعلی قسم ہے اس لیے سیدنا سعد رضی اللہ عنہ نے اس سے منع کر دیا۔
حوالہ حدیث السنن المأثورة / باب في البيوع / حدیث: 205
تخریج حدیث سنن ابی داؤد ،البيوع ، باب في التمر بالتمر، رقم : 3359 وقال الالباني: صحيح ، سنن ترمذی، البيوع، باب ماجاء في النهي عن المحاقلة والمزانبة، رقم : 1225 وقال: حسن صحيح۔
حدیث نمبر: 206
عَنْ سُفْيَانَ بْنِ عُيَيْنَةَ ، عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ ، عَنْ عَطَاءٍ ، عَنْ جَابِرٍ ، قَالَ : " نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنِ الْمُحَاقَلَةِ ، وَالْمُزَابَنَةِ " . وَالْمُحَاقَلَةُ أَنْ يَبِيعَ الرَّجُلُ الزَّرْعَ بِمِائَةِ فَرَقِ حِنْطَةٍ . وَالْمُزَابَنَةُ أَنْ يَبِيعَ التَّمْرَ فِي رُءُوسِ النَّخْلِ بِمِائَةِ فَرَقِ تَمْرٍ .
نوید مجید طیب
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے محاقلہ اور مزابنہ بیوع سے منع فرمایا۔ محاقلہ سے مراد کھیت میں اُگی فصل معین مقدار میں خشک غلے کے عوض فروخت کرنا ہے اور مزابنہ ، درخت پر لگے پھل کو معین مقدار میں خشک پھل کے عوض فروخت کرنے کو کہتے ہیں۔
وضاحت:
➊ محاقلہ اور مزابنہ کی بیوع منع ہیں البتہ بیع عرایا اس سے مستثنیٰ ہے جس کی ایک صورت اس طرح بھی ہوتی ہے کہ باغ والا ایک درخت غریب کو دے دیتا ہے کہ اس کا پھل تم لے لو درخت مالک کا ہی رہتا ہے تو غریب بار بار چکر لگائے گا کبھی پانی دینے کبھی کھجور اتارنے اس سے مالک کی ٹینشن میں اضافہ ہوگا اس مجبوری کو سامنے رکھ کر شریعت نے عرایا کی اجازت دی کہ وہ مالک سے خشک کھجور اس درخت پر لگے پھل کے عوض لے لے یہ بھی ایک عرایا کی شکل ہے۔ [مزید دیکھئے: شرح حدیث نمبر 199، 200]
➋ مزابنہ اور محاقلہ سے منع کرنے کی وجہ یہ ہے کہ اس میں ایک فریق کے نقصان کا احتمال ہے کہ ہو سکتا ہے پھل تھوڑا نکلے یا اس پر کوئی آفت آن پڑے پھر جھگڑا کھڑا ہو جائے تو شریعت ہر فراڈ، دھوکے اور ایسی بیوع جو امت مسلمہ میں حسد بغض، نفرت کدورت کا باعث بنتی ہوں یا اغلب گمان ہو اس سے منع کرتی ہے۔
حوالہ حدیث السنن المأثورة / باب في البيوع / حدیث: 206
تخریج حدیث صحیح بخاری، المساقاة، باب الرجل يكون له ممر ...... الخ، رقم : 2381، صحیح مسلم ، البيوع، باب النهي عن المحاقلة والمزابنة ..... الخ، رقم : 1536 ۔
حدیث نمبر: 207
عَنْ مَالِكٍ ، عَنْ نَافِعٍ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، " أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَهَى عَنِ الْمُزَابَنَةِ ، وَالْمُزَابَنَةُ بَيْعُ الثَّمَرِ بِالتَّمْرِ كَيْلا وَبَيْعُ الْكَرْمِ بِالزَّبِيبِ كَيْلا " .
نوید مجید طیب
سیدنا عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے رسول اللہ ﷺ نے مزابنہ سے منع فرمایا بیع مزابنہ یہ ہے کہ درخت پر لگی کھجور خشک کھجور کے بدلے ماپ کر فروخت کی جائے اسی طرح بیل پر لگے انگور منقی کے بدلے فروخت کیے جائیں۔
وضاحت:
➊اس بیع میں بھی کمی و بیشی کا احتمال ہے جب اشیاء ہم جنس ہوں تو کمی و بیشی کے ساتھ فروخت کرنا سود ہے۔ ایسی صورت میں برابر وزن اور نقد سودا کرنا جائز ہے۔
حوالہ حدیث السنن المأثورة / باب في البيوع / حدیث: 207
تخریج حدیث صحیح بخاری، البيوع، باب بيع الزبيب بالزبيب، رقم : 2171، صحیح مسلم ، البيوع، باب تحريم بيع الرطب بالتمر ..... الخ، رقم : 1542 ۔
حدیث نمبر: 208
عَنْ مَالِكٍ ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيِّبِ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " نَهَى عَنِ الْمُزَابَنَةِ وَالْمُحَاقَلَةِ " . وَالْمُزَابَنَةُ اشْتِرَاءُ الثَّمَرِ بِالتَّمْرِ ، وَالْمُحَاقَلَةُ اشْتِرَاءُ الزَّرْعِ بِالْحِنْطَةِ وَاسْتِكْرَاءُ الأَرْضِ بِالْحِنْطَةِ .
نوید مجید طیب
سیدنا سعید بن مسیب رحمہ اللہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے مزابنہ اور محاقلہ سے منع فرمایا مزابنہ سے مراد خشک کھجور کے بدلے درخت پر لگی کھجور اور محاقلہ سے مراد دانوں کے بدلے اُگی فصل خرید لینا اور دانوں کے بدلے زمین ٹھیکے پر دینے سے بھی منع فرمایا۔
وضاحت:
➊ زمین ٹھیکے پر دینا یا بٹائی پر دینے کو استکراء، کراء وغیرہ کہا جاتا ہے، اس کی دو صورتیں ہیں۔
(الف) ناجائز صورت: زمین ٹھیکے پر اس طرح دی جائے کہ اچھی پیداوار والی مالک اپنے لیے مخصوص کرے اور بنجر زمین مزارع کو دے دے یا فصل اگنے کے بعد اچھی فصل والا رقبہ مالک کہے میں لوں گا یہ صورت حرام ہے۔
(ب) جائز صورت یہ ہے کہ پیداوار جتنی بھی ہو اس کا نصف یا 1/3 یا جو بھی پرسنٹیج طے پائے یا پیسے لے کر زمین کرائے پر دے دینا یہ دونوں صورتیں جائز ہیں۔
➋ حنظلہ بن قیس رحمہ اللہ کہتے ہیں میں نے سیدنا رافع رضی اللہ عنہ سے زمین کرائے پر دینے کے بارے میں پوچھا انہوں نے فرمایا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے زمین بٹائی پر دینے سے منع فرمایا میں نے کہا درہم و دینار یعنی بعوض پیسے بھی منع ہے؟ انہوں نے کہا نہیں آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے صرف زمین کی پیداوار کے عوض دینے سے منع فرمایا تھا سونے چاندی کے عوض تو کوئی حرج نہیں۔ [سنن نسائي: 3900] اس ممانعت سے مراد خاص حصہ اپنے لیے مخصوص کر لینا ہے، اگر مالک جملہ پیداوار سے حصہ لیتا ہے تو منع نہیں بلکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے خود ارض خیبر یہودیوں کو کرائے پر دی سالانہ نصف پیداوار لیتے تھے۔[بخاری: 2328]
➌ اس لیے ممانعت سے مراد یہ ہے کہ پہلے ہی مخصوص غلہ لے کر ٹھیکہ پر دی جائے یا فصل میں سے اچھا حصہ مخصوص کر لینا منع ہے۔
حوالہ حدیث السنن المأثورة / باب في البيوع / حدیث: 208
تخریج حدیث مؤطا امام مالك ، البيوع، باب ماجاء في المزانبة والمحاقلة، رقم : 25، وقال ابن عبدالبر هذا الحديث مرسل فى المؤطا عند جميع الرواة التمهيد : 441/6 ۔
حدیث نمبر: 209
عَنْ سُفْيَانَ بْنِ عُيَيْنَةَ ، أَنَّهُ سَمِعَ عُبَيْدَ اللَّهِ بْنَ أَبِي يَزِيدَ ، يَقُولُ : سَمِعْتُ ابْنَ عَبَّاسٍ ، يَقُولُ : أَخْبَرَنِي أُسَامَةُ بْنُ زَيْدٍ ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " إِنَّمَا الرِّبَا فِي النَّسِيئَةِ " .
نوید مجید طیب
سیدنا اسامہ بن زید رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : ”سود صرف ادھار میں ہے۔“
وضاحت:
➊ جب اشیاء خوردنی کا تبادلہ ہو رہا ہو تو نقد و نقد ہونا چاہیے اگر ایک ادھار ہو تو سود ہو گا۔ یہ لمبی حدیث کا ایک ٹکڑا ذکر ہوا ہے۔ اس کی وضاحت پہلے گزر چکی ہے اور مزید وضاحت کے لیے دیکھئے حدیث نمبر 210۔
حوالہ حدیث السنن المأثورة / باب في البيوع / حدیث: 209
تخریج حدیث صحیح بخاری، البيوع، باب بيع الدنیار بالدنیار نساء، رقم : 2178، 2179، صحیح مسلم ، المساقاة، باب بيع الطعام مثلا بمثل ، رقم : 1596 ۔
حدیث نمبر: 210
عَنْ سُفْيَانَ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، سَمِعَ مَالِكَ بْنَ أَوْسِ بْنِ الْحَدَثَانِ ، يَقُولُ : سَمِعْتُ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ ، يَقُولُ : سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ : " الذَّهَبُ بِالْوَرِقِ رِبًا إِلا هَاءَ وَهَاءَ وَالْبُرُّ بِالْبُرِّ رِبًا إِلا هَاءَ ، وَهَاءَ ، وَالْبُرِّ بِالْبُرِّ رِبًا إِلا هَاءَ وَهَاءَ , وَالشَّعِيرُ بِالشَّعِيرِ رِبًا إِلا هَاءَ وَهَاءَ " .
نوید مجید طیب
سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ سے روایت ہے انہوں نے رسول اللہ ﷺ کو فرماتے ہوئے سنا کہ ”سونے کا سودا چاندی کے ساتھ سود ہے الا یہ کہ نقدا ایک ہاتھ لو اور ایک ہاتھ دو ہو اور گندم گندم کے عوض ادھار ہوتو سود ہے، جو کا سودا جو سے ادھار کی صورت میں سود ہے۔“
وضاحت:
➊ اس حدیث میں خرید و فروخت کا سود بیان ہوا ہے۔ اصول یہ ہے کہ اشیاء خوردنی اگر بعوض اشیاء خوردنی ہوں تو دونوں طرف سے مال حاضر ہو، ایک ہاتھ لو اور دوسرے ہاتھ دو، ورنہ سود ہے اور اگر دونوں اشیاء ہم جنس ہیں تو وزن بھی برابر برابر اور نقد و نقد کی بھی شرط ہے ورنہ سود ہے اور اگر جنس مختلف ہے ایک طرف گندم جبکہ دوسری طرف جو ہے تو وزن کم زیادہ ہو سکتا ہے لیکن نقد و نقد کی اس میں بھی شرط ہے ورنہ سود ہے۔
➋ اگر پیسوں کے عوض خریدنا ہے تو ادھار بھی جائز ہے۔
حوالہ حدیث السنن المأثورة / باب في البيوع / حدیث: 210
تخریج حدیث صحیح بخاری ، البيوع، باب ما يذكر في بيع الطعام والحكرة رقم : 2134، صحیح مسلم ، المساقاة، باب الصرف بيع الذهب بالورق نقدا، رقم : 1586 ۔
حدیث نمبر: 211
عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْمَاعِيلَ ، عَنِ ابْنِ أَبِي ذِئْبٍ , عَنْ خَالِهِ الْحَارِثِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، كَانَ يَرْزُقُهُمْ طَعَامًا فِيهِ شَيْءٌ فَيَسْتَطِيبُونَ فَيَأْخُذُونَ صَاعًا بِصَاعَيْنِ ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " أَلَمْ يَبْلُغْنِي مَا تَصْنَعُونَ ؟ ! " قَالَ : قُلْنَا : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، إِنَّكَ تَرْزُقُنَا طَعَامًا فِيهِ شَيْءٌ فَنَسْتَطِيبُ فَنَأْخُذُ صَاعًا بِصَاعَيْنِ ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " دِينَارٌ بِدِينَارٍ وَدِرْهَمٌ بِدِرْهَمٍ وَصَاعُ تَمْرٍ بِصَاعِ تَمْرٍ وَصَاعُ شَعِيرٍ بِصَاعِ شَعِيرٍ لا فَضْلَ بَيْنَ شَيْءٍ مِنْ ذَلِكَ " .
نوید مجید طیب
سیدنا ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے رسول اللہ ﷺ انہیں کھانے کے لیے کھجوریں دیتے جو ناقص ہوتیں (کیونکہ میسر ہی وہ تھی) تو صحابہ کرام رضی اللہ عنہم دو صاع کے بدلے ایک صاع اچھے والی لے لیتے رسول اللہ ﷺ کو ہمارے سودے کے متعلق معلوم ہوا تو ہم سے پوچھا: ”ایسا ہی ہے؟“ ہم نے کہا: ”آپ کی طرف سے اعلی قسم کی کھجوریں ہمارے حصے نہ آئی تھیں تو ہم نے دو صاع دے کر ایک صاع لینے کا سودا کیا“ تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”ایک دینار ایک دینار کے بدلے میں اور ایک درہم ایک درہم کے بدلے میں ہی ہوتا ہے اور ایک صاع کھجور ایک صاع کے بدلے میں ہی اور ایک صاع جو ایک صاع جو کے ہی عوض ہے (وزن کے اعتبار سے) دونوں میں کوئی فضیلت نہیں۔“
وضاحت:
➊ ہم جنس اشیاء کا تبادلہ وزن کی کمی و بیشی اور ادھار کے ساتھ جائز نہیں، دینار اگر ایک ہے، نیا ہو یا پرانا وہ ایک ہی رہے گا کیونکہ مارکیٹ ویلیو میں ایک دینار کے ہی برابر ہے۔
➋ اس حدیث کی روشنی میں یہ بات بھی معلوم ہوئی کہ نئے نوٹ کو پرانے نوٹ زیادہ دے کر خریدنا قطعاً حرام اور سود ہے۔
حوالہ حدیث السنن المأثورة / باب في البيوع / حدیث: 211
تخریج حدیث صحیح بخاری، البيوع، باب بيع من التمر، رقم : 2080، صحیح مسلم، المساقاة، باب بيع الطعام مثلا بمثل، رقم : 1593 ۔
حدیث نمبر: 212
عَنْ مَالِكِ بْنِ أَنَسٍ ، عَنْ مُوسَى بْنِ أَبِي تَمِيمٍ , عَنْ سَعِيدِ بْنِ يَسَارٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " الدِّينَارُ بِالدِّينَارِ وَالدِّرْهَمُ بِالدِّرْهَمِ لا فَضْلَ بَيْنَهُمَا " .
نوید مجید طیب
سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : ”ایک دینار ایک دینار کے ہی برابر ہے اور ایک درہم ایک درہم ہی کے برابر ہے ان میں کوئی اور فضیلت نہیں۔“
وضاحت:
➊ عہد نبوی صلی اللہ علیہ وسلم میں مختلف درہم و دینار رائج تھے لیکن ہر درہم دوسرے درہم کے برابر ہی سمجھا جاتا تھا۔ لہذا ایک ہی جنس کی کرنسی کا باہمی تبادلہ برابری کی بنیاد پر تو درست ہے لیکن کمی و بیشی سے جائز نہیں ہے۔
حوالہ حدیث السنن المأثورة / باب في البيوع / حدیث: 212
تخریج حدیث صحیح مسلم، المساقاة، باب الصرف وبيع الذهب بالورق نقدا، رقم : 1588 ۔
حدیث نمبر: 213
عَنْ مَالِكٍ ، عَنْ حُمَيْدِ بْنِ قَيْسٍ ، عَنْ مُجَاهِدٍ ، أَنَّهُ قَالَ : كُنْتُ مَعَ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ فَجَاءَهُ صَائِغٌ ، فَقَالَ : يَا عَبْدَ الرَّحْمَنِ إِنِّي أَصُوغُ الذَّهَبَ ثُمَّ أَبِيعُ الشَّيْءَ مِنْ ذَلِكَ بِأَكْثَرَ مِنْ وَزْنِهِ فَأَسْتَفْضِلُ فِي ذَلِكَ قَدْرَ عَمَلِ يَدِي . فَنَهَاهُ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ عَنْ ذَلِكَ فَجَعَلَ الصَّائِغُ يُرَدِّدُ عَلَيْهِ الْمَسْأَلَةَ وَعَبْدُ اللَّهِ يَنْهَاهُ حَتَّى انْتَهَى إِلَى بَابِ الْمَسْجِدِ أَوْ إِلَى دَابَّتِهِ يُرِيدُ أَنْ يَرْكَبَهَا ، ثُمَّ قَالَ عَبْدُ اللَّهِ : " الدِّينَارُ بِالدِّينَارِ وَالدِّرْهَمُ بِالدِّرْهَمِ لا فَضْلَ بَيْنَهُمَا هَذَا عَهْدُ نَبِيِّنَا صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَيْنَا وَعَهْدُنَا إِلَيْكُمْ " . حَدَّثَنَا أَحْمَدُ قَالَ : سَمِعْتُ الْمُزَنِيَّ يَقُولُ : قَالَ الشَّافِعِيُّ رَحِمَهُ اللَّهُ : هَذَا خَطَأٌ .
نوید مجید طیب
مجاہد بیان کرتے ہیں کہ میں سیدنا عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کے ساتھ تھا ان کے پاس ایک سنار آیا کہنے لگا ”اے ابو عبدالرحمن ! میں زیور تیار کرتا ہوں تو اپنی مزدوری اس سے کاٹ کر (تو اس کا وزن کٹوتی سے کم ہو جاتا ہے) پھر اسے وزن سے زیادہ میں فروخت کر دیتا ہوں“ سیدنا عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے اسے اس عمل سے منع کیا سنار بار بار یہی سوال کر رہا تھا سیدنا عبد اللہ رضی اللہ عنہ اسے منع فرما رہے تھے حتی کہ مسجد کے دروازے یا سواری تک سوار ہونے کے لیے آ گئے پھر سیدنا عبداللہ رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ”دینار سے دینار کے تبادلے میں اور درہم سے درہم کے تبادلے میں ان کے درمیان اضافہ جائز نہیں، یہ ہمیں اپنے نبی ﷺ کی طرف سے تاکید ہے اور ہماری تم کو تاکید ہے۔“
حوالہ حدیث السنن المأثورة / باب في البيوع / حدیث: 213
تخریج حدیث سنن نسائى، البيوع، باب بيع الدرهم بالدرهم، رقم : 4568 وقال الالبانی: صحيح بما قبله، مؤطا امام مالك ، البيوع، باب بيع الذهب بالفضة تبرا وعينا، رقم : 31 ۔
حدیث نمبر: 214
أَنْبَأَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ وَرْدَانَ الرُّومِيِّ ، أَنَّهُ سَأَلَ ابْنَ عُمَرَ فَقَالَ : إِنِّي رَجُلٌ أَصُوغُ الْحُلِيَّ ثُمَّ أَبِيعُهُ فَأَسْتَفْضِلُ قَدْرَ أُجْرَتِي أَوْ عَمَلَ يَدِي ، فَقَالَ ابْنُ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ : الذَّهَبُ بِالذَّهَبِ لا فَضْلَ بَيْنَهُمَا هَذَا عَهْدُ صَاحِبِنَا إِلَيْنَا وَعَهْدُنَا إِلَيْكُمْ " . حَدَّثَنَا أَحْمَدُ قَالَ : سَمِعْتُ الْمُزَنِيَّ يَقُولُ : قَالَ الشَّافِعِيُّ رَحِمَهُ اللَّهُ : يَعْنِي صَاحِبَنَا عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ .
نوید مجید طیب
وردان رومی سے روایت ہے انہوں نے سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے سوال کیا کہ ”میں سنار ہوں زیور بنا کر فروخت کرتا ہوں اس سونے سے کٹوتی کر کے اجرت رکھ لیتا ہوں“ (بقیہ جتنا سونے کا پہلے وزن تھا اتنے میں ہی فروخت کرتا ہوں علیحدہ سے اجرت نہیں لیتا مثلا ایک دینار کا زیور بنایا تو اسی سے سونا اپنی مزدوری کاٹ لیا پھر دینار کو اگے سیل کر دیا) تو سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما نے فرمایا : ”سونے (زیور) کا سودا سونے (دینار) سے کرنا ہو تو کمی پیشی جائز نہیں۔
وضاحت:
➊ دینار سونے سے بنایا جاتا تھا اور درہم چاندی سے، جو حکم سونے کا ہوتا وہی دینار کا اور جو حکم چاندی کا وہی درہم کا تھا۔
➋ موجودہ زمانے میں کاغذی روپیہ چاندی اور سونے کا متبادل ہے اس لیے زیور خریدتے ہوئے مارکیٹ ویلیو سے زیادہ کاغذی روپیہ نہ دیا جائے، مزدوری علیحدہ طے کی جانی چاہیے۔ یعنی بنوائی کی اجرت علیحدہ طے ہونی چاہیے۔ زیورات سے سونے کی صورت میں کٹوتی درست نہیں۔ واللہ اعلم۔
➌ اس طرح سونا اور چاندی کی جیولری کا لین دین کرتے وقت ادھار لین دین کرنا اور کمی و بیشی بھی جائز نہیں ہے۔
حوالہ حدیث السنن المأثورة / باب في البيوع / حدیث: 214
تخریج حدیث السنن الكبرى للبيهقي : 275/5 ، التمهيد لابن عبدالبر : 247/2، معانی الآثار للطحاوي : 66/4، حدیث صحیح ۔
حدیث نمبر: 215
أَنْبَأَنَا مَالِكٌ ، عَنْ زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ يَسَارٍ ، أَنَّ مُعَاوِيَةَ بْنَ أَبِي سُفْيَانَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ بَاعَ سِقَايَةً مِنْ ذَهَبَ أَوْ وَرِقٍ بِأَكْثَرَ مِنْ وَزْنِهَا ، فَقَالَ لَهُ أَبُو الدَّرْدَاءِ : سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَهَى عَنْ مِثْلِ هَذَا إِلا مِثْلا بِمِثْلٍ . فَقَالَ مُعَاوِيَةُ : مَا أَرَى بِهَذَا بَأْسًا . فَقَالَ أَبُو الدَّرْدَاءِ : مَنْ يَعْذِرُنِي مِنْ مُعَاوِيَةَ ؟ أُخْبِرُهُ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَيُخْبِرُنِي عَنْ رَأْيِهِ ! لا أُسَاكِنُكَ بِأَرْضٍ أَنْتَ فِيهَا ، ثُمَّ قَدِمَ أَبُو الدَّرْدَاءِ عَلَى عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ فَذَكَرَ ذَلِكَ لَهُ ، فَكَتَبَ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ إِلَى مُعَاوِيَةَ : " أَنْ لا تَبِيعَ ذَلِكَ إِلا مِثْلا بِمِثْلٍ وَوَزْنًا بِوَزْنٍ " .
نوید مجید طیب
عطاء بن یسار رحمہ اللہ سے روایت ہے کہ سیدنا معاویہ بن ابی سفیان رضی اللہ عنہ نے سونے یا چاندی کا برتن اس کے وزن سے زیادہ سونے یا چاندی کے عوض خریدا، تو سیدنا ابو درداء رضی اللہ عنہ نے انہیں کہا کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو اس جیسے سودے سے منع فرماتے ہوئے سنا الا یہ کہ دونوں کا وزن برابر ہو معاویہ رضی اللہ عنہ نے کہا مجھے اس میں کوئی حرج نہیں لگتا (کیونکہ زیادہ مزدوری کے عوض ہے)۔ (بعض نسخوں کے مطابق) سیدنا ابو درداء رضی اللہ عنہ نے کہا میرے معاملے میں سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ سے کون نمٹے گا میں حدیث سنا رہا ہوں یہ اپنی رائے دے رہا ہے پھر ابو درداء رضی اللہ عنہ نے کہا میں ایسی زمین میں سکونت اختیار نہیں کر سکتا جہاں تم ہو پھر سیدنا ابو درداء رضی اللہ عنہ نے سیدنا عمر رضی اللہ عنہ سے آکر شکایت کی کہ وہاں حدیث پر عمل نہیں کیا جا رہا تو سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ کے نام حکم لکھا کہ ”سونا چاندی کی خرید و فروخت وزن بروزن اور مثل بمثل (یعنی دونوں کی جب جنس ایک ہو تو وزن برابر برابر ہو اور نقد ہو) ہوں۔“
وضاحت:
➊ سونے چاندی کا برتن کھانے پینے کے استعمال میں لانا منع ہے، کسی دوسرے مقصد کے لیے، تجارت، زینت نمائش کے لیے استعمال ہو سکتا ہے۔ سیدنا حذیفہ بن یمان رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ ہمیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے سونے اور چاندی کے برتنوں میں کھانے پینے سے منع کیا۔ [بخاري: 5837]
➋ اس حدیث میں بھی اجرت کا معاملہ زیر بحث آیا کہ سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ نے اس میں کوئی حرج نہیں جانی کہ محنت تو ہوئی ہے جس پر سیدنا ابو درداء رضی اللہ عنہ نے اعتراض اٹھایا۔ اس کا حل یہ ہے کہ سونے کی چیزیں خریدنے کے لیے عوض میں چاندی دے دی جائے پھر اگر اندر اجرت بھی شامل ہو جائے تو چونکہ جنس مختلف ہے تو کمی بیشی جائز ہے۔ اور چاندی کی چیزیں خریدے تو دینار سے خریدے کمی پیشی جائز ہے کیونکہ جنس مختلف ہے۔ یا دوسرا حل یہ ہے کہ اجرت علیحدہ سے طے کر لی جائے۔
➌ صحابہ کرام رضی اللہ عنهم میں بعض مسائل کی تفہیم میں فرق تھا اور اس طرح کا معمول اختلاف عیب نہیں ہے۔
➍ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ خلیفہ راشد تھے اور کبار صحابہ کرام رضی اللہ عنهم کی رائے کا احترام کرتے تھے۔
➎ باہمی اختلاف کا حل سنت رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی اتباع ہے۔
حوالہ حدیث السنن المأثورة / باب في البيوع / حدیث: 215
تخریج حدیث سنن نسائی، البيوع، باب الذهب بالذهب، رقم : 4572 وقال الالباني: صحیح مختصر، السنن الكبرى للبيهقى : 280/5 ، مؤطا امام مالك، البيوع، باب بيع الذهب بالفضة تبرا وعنيا ، رقم : 33 ۔
حدیث نمبر: 216
عَنْ مَالِكٍ ، عَنْ نَافِعٍ ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " لا تَبِيعُوا الذَّهَبَ بِالذَّهَبِ إِلا مِثْلا بِمِثْلٍ وَلا تُشِفُّوا بَعْضَهَا عَلَى بَعْضٍ وَلا تَبِيعُوا الْوَرِقَ بِالْوَرِقِ إِلا مِثْلا بِمِثْلٍ ، وَلا تُشِفُّوا بَعْضَهَا عَلَى بَعْضٍ ، وَلا تَبِيعُوا شَيْئًا مِنْهَا غَائِبًا بِنَاجِزٍ " .
نوید مجید طیب
سیدنا ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”سونا سونے کے بدلے اس وقت تک نہ بیچو جب تک دونوں برابر برابر نہ ہوں دونوں اطراف سے کسی قسم کی کمی یا زیادتی کو روانہ رکھو اور چاندی کو چاندی کے بدلے میں اس وقت تک نہ بیچو جب تک دونوں برابر برابر نہ ہوں دونوں اطراف سے کمی یا زیادتی روا نہ رکھو، اور نہ ادھار کو نقد کے بدلے میں بیچو۔“
وضاحت:
➊ اس میں برابری اور نقد کی شرط ہے کیونکہ جنس ایک ہے ورنہ سود ہو جائے گا۔
حوالہ حدیث السنن المأثورة / باب في البيوع / حدیث: 216
تخریج حدیث صحيح البخاري، البيوع، باب بيع الفضة بالفضة، رقم : 2177، صحيح مسلم ، المساقاة، باب الربا، رقم : 1584 ۔
حدیث نمبر: 217
عَنْ مَالِكٍ ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ ، عَنْ مَالِكِ بْنِ أَوْسِ بْنِ الْحَدَثَانِ النَّصْرِيِّ ، أَنَّهُ : أَخْبَرَهُ أَنَّهُ الْتَمَسَ ، صَرْفًا بِمِائَةِ دِينَارٍ فَدَعَانِي طَلْحَةُ بْنُ عُبَيْدِ اللَّهِ فَتَرَاوَضْنَا حَتَّى اصْطَرَفَ مِنِّي وَأَخَذَ الذَّهَبَ يُقَلِّبُهَا فِي يَدِهِ ، ثُمَّ قَالَ : حَتَّى يَأْتِيَ خَازِنِي مِنَ الْغَابَةِ أَوْ تَأْتِيَ خَازِنَتِي شَكَّ مُحَمَّدُ بْنُ إِدْرِيسَ رَحِمَهُ اللَّهُ وَعُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ يَسْمَعُ ، فَقَالَ عُمَرُ : وَاللَّهِ لا تُفَارِقْهُ حَتَّى تَأْخُذَ مِنْهُ ، ثُمَّ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " الذَّهَبُ بِالْوَرِقِ رِبًا إِلا هَاءَ وَهَاءَ ، وَالْبُرُّ بِالْبُرِّ رِبًا إِلا هَاءَ وَهَاءَ ، وَالتَّمْرُ بِالتَّمْرِ ، رِبًا إِلا هَاءَ وَهَاءَ ، وَالشَّعِيرُ بِالشَّعِيرِ رِبًا إِلا هَاءَ وَهَاءَ " .
نوید مجید طیب
سیدنا مالک بن اوس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ انہیں سو دینار کا چینج چاہیے تھا تو انہیں سیدنا طلحہ بن عبید اللہ رضی اللہ عنہ نے بلایا معاملہ طے پایا وہ دینار ہاتھ میں لے کر الٹنے پلٹنے لگے اور کہنے لگے ”ذرا میرے خادمہ یا خزانچی کو غابہ سے آلینے دو“ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ یہ باتیں سن رہے تھے آپ رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ”واللہ جب تک سیدنا طلحہ رضی اللہ عنہ سے دینار نہ لے لو ان سے جدا نہ ہونا کیونکہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”سونا اگر چاندی کے بدلہ میں نقد انقد نہ ہو تو سود ہو گا، گندم گندم کے بدلے میں اگر نقد نہ ہو تو سود ہو جاتا ہے کھجور، کھجور کے بدلہ میں اگر نقد نہ ہو تو سود ہو جاتی ہے، جو جو کے بدلے اگر نقد نہ ہو تو سود ہو جاتا ہے۔“
وضاحت:
➊ ان اشیاء میں ہم وزن اور اسی مجلس میں ہی قبضہ شرط ہے وگرنہ سود ہو جاتا ہے کیونکہ کرنسی ریٹ یا مارکیٹ ریٹ روزانہ تبدیل ہوتا رہتا ہے شریعت متوقع سود سے بھی نفرت کرتی ہے کیونکہ سود رب تعالیٰ سے اعلانِ جنگ ہے۔
حوالہ حدیث السنن المأثورة / باب في البيوع / حدیث: 217
تخریج حدیث صحیح بخاری البیوع باب بيع الشعير بالشعير، رقم : 2174، صحيح مسلم، المساقاة، باب الصرف وبيع الذهب بالورق نقدًا، رقم : 1586 ۔
حدیث نمبر: 218
حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَهَّابِ بْنُ عَبْدِ الْمَجِيدِ الثَّقَفِيُّ ، عَنْ أَيُّوبَ السَّخْتِيَانِيِّ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ سِيرِينَ ، عَنْ مُسْلِمِ بْنِ يَسَارٍ ، وَرَجُلٍ آَخَرُ , عَنْ عُبَادَةَ بْنِ الصَّامِتِ ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " لا تَبِيعُوا الذَّهَبَ بِالذَّهَبِ وَلا الْوَرِقَ بِالْوَرِقِ وَلا الْبُرَّ بِالْبُرِّ وَلا الشَّعِيرَ بِالشَّعِيرِ وَلا التَّمْرَ بِالتَّمْرِ وَلا الْمِلْحَ بِالْمِلْحِ إِلا سَوَاءً بِسَوَاءٍ عَيْنًا بِعَيْنٍ يَدًا بِيَدٍ وَلَكِنْ بِيعُوا الذَّهَبَ بِالْوَرِقِ وَالْوَرِقَ بِالذَّهَبِ وَالْبُرَّ بِالشَّعِيرِ وَالشَّعِيرَ بِالْبُرِّ وَالتَّمْرَ بِالْمِلْحِ وَالْمِلْحَ بِالتَّمْرِ يَدًا بِيَدٍ كَيْفَ شِئْتُمْ " . قَالَ وَنَقَصَ أَحَدُهُمَا التَّمْرَ أَوِ الْمِلْحَ وَزَادَ الآخَرُ : " مَنْ زَادَ أَوِ ازْدَادَ فَقَدْ أَرْبَى " .
نوید مجید طیب
سیدنا عبادہ بن صامت رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : ”سونا سونے کے بدلے، چاندی چاندی کے بدلے، گندم گندم کے بدلے جو جو کے بدلے، کھجور کھجور کے بدلے، نمک نمک کے بدلے، نہ فروخت کرو الا یہ کہ برابر، برابر نقد بنقد ہو ایک ہاتھ دو دوسرے سے لو والا معاملہ ہولیکن سونا چاندی کے عوض، چاندی سونے کے عوض، گندم جو کے عوض، جو گندم کے عوض، کھجور نمک کے عوض نمک کھجور کے عوض کا سودا ہو تو جیسے مرضی فروخت کرو (وزن میں برابری ضروری نہیں لیکن) ہو نقد ونقد جنس ایک ہے تو کمی پیشی کرنا یا کرانا سود ہے۔“
وضاحت:
➊ جنس مختلف ہو جائے تو کمی و بیشی جائز ہے لیکن دونوں میں نقد ونقد کی شرط ہے۔
➋ سوال یہ ہے کہ اگر کلو کھجور دے کر کلو ہی لینی ہے تو کیا فائدہ ہے؟ ظاہر ہے کلو ردی کے بدلے تو اعلیٰ قسم کی کلو تو کوئی نہیں دے گا۔ تو بعض علماء نے لکھا ہے کہ اس سے ایک مقصد سادگی اور قناعت پسندی بھی ہے کہ لوگ ذائقے کی تلاش میں سرگرداں نہ رہیں جو پاس موجود ہے وہی کھاؤ اس سے مہنگائی بھی کنٹرول ہوتی ہے، اب یہ حکم صرف مذکورہ چھ اشیاء میں ہے یا باقی بھی اشیاء خوردنی میں ہے اس بارے میں امام مالک رحمہ اللہ کا کہنا ہے کہ ہر وہ چیز جو بطور خوراک استعمال ہوتی ہے اور ذخیرہ کی جاسکتی ہے اس کا یہی حکم ہے۔
➌ اہلِ فقہ ظاہریہ صرف ان چھ اشیاء میں یہ حکم تسلیم کرتے ہیں امام ابو حنیفہ رحمہ اللہ کے نزدیک ہر وہ چیز اس میں داخل ہے جو ناپی یا تولی جاتی ہے۔ امام شافعی رحمہ اللہ کہتے ہیں ناپی تولی کے ساتھ خوراک ہونی چاہیے۔
➍ راقم کے نزدیک موجودہ دور میں تو کاغذی کرنسی نے یہ اشکال دور کر دیے ہیں اگر کرنسی کی بجائے اشیاء کا تبادلہ کیا جائے تو ہر چیز کا یہی حکم ہوگا الا یہ ہے کہ نص نے کوئی چیز مستثنی کی ہو۔ کیونکہ حدیث نے سونے اور چاندی کے تبادلے میں بھی یہی شرط لگائی ہے جبکہ یہ دونوں خوراک نہیں اس لیے اس حکم کو محض خوراک اور ذخیرے سے مشروط کر دینا درست معلوم نہیں ہوتا (واللہ اعلم)۔
حوالہ حدیث السنن المأثورة / باب في البيوع / حدیث: 218
تخریج حدیث سنن نسائی، البيوع، باب بيع البر بالبر، رقم : 4560، سنن ابن ماجه التجارات ، باب الصرف و مالا يجوز متفاضلا يداً بيد ، رقم : 2254، وقال الالباني: صحيح ۔
حدیث نمبر: 219
عَنْ عَبْدِ الْوَهَّابِ بْنِ عَبْدِ الْمَجِيدِ الثَّقَفِيِّ ، عَنْ دَاوُدَ بْنِ أَبِي هِنْدَ ، عَنْ أَبِي نَضْرَةَ ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ ، قَالَ : أَتَى رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَجُلٌ بِصَاعٍ مِنْ تَمْرٍ ، فَقَالَ : " مِنْ أَيْنَ لَكَ هَذَا ؟ " فَقَالَ : أُعْطِيتُ صَاعَيْنِ وَأَخَذْتُ صَاعًا مِنْ هَذَا ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " أَرْبَيْتَ ، وَلَكِنْ بِعْ تَمْرَكَ بِسِلْعَةٍ ثُمَّ اشْتَرِ بِهَا " .
نوید مجید طیب
سیدنا ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ کے پاس کھجور لائی گئی آپ ﷺ نے فرمایا : ”یہ کھجور تو ہماری کھجوروں میں سے نہیں؟“ اس پر ایک آدمی نے کہا: ”اللہ کے رسول ﷺ ہم نے اپنی کھجور کے دو صاع دے کر ایک صاع یہ لی ہے“ آپ ﷺ نے فرمایا: ”یہ سود ہے اسے واپس کرو پھر اپنی کھجور قیمتاً فروخت کرو پھر اس قیمت سے ہمارے لیے یہ کھجور علیحدہ سے خرید لو۔“
حوالہ حدیث السنن المأثورة / باب في البيوع / حدیث: 219
تخریج حدیث صحیح مسلم ، البيوع، باب بيع الطعام مثلاً بمثل رقم : 1594 ۔
حدیث نمبر: 220
عَنْ عَبْدِ الْوَهَّابِ ، عَنْ دَاوُدَ بْنِ أَبِي هِنْدَ ، عَنْ أَبِي نَضْرَةَ ، قَالَ : بَيْنَا أَنَا جَالِسٌ ، عِنْدَ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ إِذْ غَمَزَنِي رَجُلٌ مِنْ خَلْفِي ، فَقَالَ : سَلْهُ عَنِ الْفِضَّةِ بِالْفِضَّةِ بِفَضْلٍ ، فَقُلْتُ : إِنَّ هَذَا يَأْمُرُنِي أَنْ أَسْأَلَكَ عَنِ الْفِضَّةِ بِالْفِضَّةِ ، فَقَالَ أَبُو سَعِيدٍ : هُوَ رِبًا ، فَقَالَ : سَلْهُ بِرَأْيِهِ يَقُولُ أَمْ سَمِعَهُ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ؟ فَقُلْتُ : إِنَّ هَذَا يَقُولُ : سَلْهُ بِرَأْيِهِ يَقُولُ أَمْ سَمِعَهُ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ؟ فَقَالَ : شَهِدْتُ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَا أُحَدِّثُكُمْ : جَاءَهُ صَاحِبُ نَخْلَةٍ بِصَاعِ تَمْرٍ طَيِّبٍ ، فَقَالَ لَهُ : " كَأَنَّ هَذَا أَجْوَدُ مِنْ تَمْرِنَا " فَقَالَ : إِنِّي أَعْطَيْتُ صَاعَيْنِ مِنْ تَمْرِنَا وَأَخَذْتُ صَاعًا مِنْ هَذَا التَّمْرِ ، فَقَالَ : " أَرْبَيْتَ ؟ " فَقَالَ : يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنَّ سِعْرَ هَذَا فِي السُّوقِ كَذَا وَكَذَا وَسِعْرُ هَذَا فِي السُّوقِ كَذَا وَكَذَا ، قَالَ : " فَبِعْهُ بِسِلْعَةٍ ، ثُمَّ اشْتَرِ بِسِلْعَتِكَ أَيَّ تَمْرٍ شِئْتَ " . قَالَ أَبُو سَعِيدٍ : التَّمْرُ أَحَقُّ أَنْ يَكُونَ فِيهِ الرِّبَا أَمِ الْفِضَّةُ .
نوید مجید طیب
ابو نضرۃ رحمہ اللہ سے روایت ہے کہ میں سیدنا ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ کے پاس بیٹھا ہوا تھا کہ ایک آدمی نے مجھے پیچھے سے دبایا کہنے لگا ابو سعید رضی اللہ عنہ سے پوچھ چاندی بعوض چاندی کمی و بیشی کے ساتھ (سودا جائز ہے؟) میں نے سیدنا ابو سعید رضی اللہ عنہ سے کہا: یہ آدمی مجھے کہتا ہے کہ میں آپ سے چاندی بعوض چاندی کا مسئلہ پوچھوں ابوسعید رضی اللہ عنہ نے فرمایا: یہ تو سود ہے۔ اس آدمی نے کہا اب پوچھ یہ آپ رضی اللہ عنہ کی ذاتی رائے ہے یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا ہے؟ میں نے سیدنا ابو سعید رضی اللہ عنہ سے کہا یہ کہتا ہے یہ رائے جناب والا کی ہے یا حدیث رسول صلی اللہ علیہ وسلم ہے؟ سیدنا ابو سعید رضی اللہ عنہ نے فرمایا: میں نے وہ بیان کیا جو میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی مجلس میں مشاہدہ کیا ایک کھجور والا ایک صاع عمدہ کھجور لایا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے کہا ”یہ ہماری کھجور سے گویا عمدہ ہے۔“ اس آدمی نے عرض کی اپنی کھجور کی دو صاع دے کر ایک صاع لی ہے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تو نے سودی سودا کیا“ تو اس نے کہا اللہ کے رسول اس کی قیمت بازار میں یہ یہ ہے اور ہماری کھجور کا بازاری ریٹ یہ یہ ہے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اپنی کھجور کو قیمت فروخت کیا کر پھر قیمتا جو اچھی لگے خرید لیا کر“ سیدنا ابوسعید رضی اللہ عنہ نے فرمایا: کھجور میں اگر سود ہو گا تو چاندی میں کیوں نہیں ہو گا؟
وضاحت:
➊ چاندی کے بارے میں علیحدہ سے نصوص بھی موجود ہیں جیسا کہ پہلے یہ مسئلہ تفصیل سے گزر چکا ہے۔
➋ اس مسئلہ میں سیدنا ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ نے نص یاد نہ ہونے پر قیاس کیا۔
➌ اس حدیث میں اس بات کا بھی ذکر ہے کہ مسئلہ عالم سے دلیل کے ساتھ دریافت کرنا چاہیے۔ اور دلیل کا تقاضا کرنا ہر فرد کا حق ہے۔ دلیل کے مطالبے پر سیخ پا ہو جانا انتہائی نامناسب عمل ہے جیسا کہ پیر وطریقت کے سلسلوں سے وابستگی رکھنے والوں میں یہ معاملہ عام موجود ہے۔
حوالہ حدیث السنن المأثورة / باب في البيوع / حدیث: 220
تخریج حدیث انظر ما قبلہ ، برقم : 219 ۔
حدیث نمبر: 221
أَنْبَأَنَا عَبْدُ الْوَهَّابِ ، عَنْ خَالِدٍ الْحَذَّاءِ ، عَنْ أَبِي قِلابَةَ , عَنْ أَبِي الأَشْعَثِ الصَّنْعَانِيِّ ، أَنَّهُ قَدِمَ أُنَاسٌ فِي إِمَارَةِ مُعَاوِيَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ يَبِيعُونَ آنِيَةَ الذَّهَبِ وَالْفِضَّةِ إِلَى الْعَطَا ، فَقَامَ عُبَادَةُ بْنُ الصَّامِتِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ، فَقَالَ : " إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَهَى عَنْ بَيْعِ الذَّهَبِ بِالذَّهَبِ ، وَالْفِضَّةِ بِالْفِضَّةِ ، وَالْبُرِّ بِالْبُرِّ ، وَالتَّمْرِ بِالتَّمْرِ ، وَالشَّعِيرِ بِالشَّعِيرِ ، وَالْمِلْحِ بِالْمِلْحِ ، إِلا مِثْلا بِمِثْلٍ سَوَاءً بِسَوَاءٍ ، فَمَنْ زَادَ أَوِ ازْدَادَ فَقَدْ أَرْبَى " .
نوید مجید طیب
ابو اشعث صنعانی رحمہ اللہ سے روایت ہے کہ سیدنا امیر معاویہ رضی اللہ عنہ کے عہد حکومت میں کچھ لوگ بازاروں میں آئے جو سونے کے برتن اور ہار وغیرہ فروخت کرتے تھے تو سیدنا عبادہ بن صامت رضی اللہ عنہ نے کھڑے ہو کر فرمایا: کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے سونا سونے کے بدلے اور چاندی چاندی کے بدلے اور گندم گندم کے بدلے، اور کھجور کھجور کے بدلے اور جو جو کے بدلے اور نمک نمک کے بدلے فروخت کرنے سے منع کیا الا یہ کہ دونوں عوض ایک جیسے ہوں وزن میں برابر ہوں، جس نے کمی و بیشی کی یا کرائی اس نے سود کا سودا کیا۔
حوالہ حدیث السنن المأثورة / باب في البيوع / حدیث: 221
تخریج حدیث صحيح مسلم ، المساقاة، باب الصرف وبيع الذهب بالورق نقداً، رقم : 1587 ۔
حدیث نمبر: 222
أَنْبَأَنَا عَبْدُ الْوَهَّابِ بْنُ عَبْدِ الْمَجِيدِ ، عَنْ أَيُّوبَ السَّخْتِيَانِيِّ ، عَنْ أَبِي قِلابَةَ ، عَنْ أَبِي الأَشْعَثِ ، قَالَ : كُنَّا فِي غَزَاةٍ عَلَيْنَا مُعَاوِيَةُ فَأَصَبْنَا ذَهَبًا وَفِضَّةً فَأَمَرَ مُعَاوِيَةُ رَجُلا أَنْ يَبِيعَهَا النَّاسَ فِي أُعْطِيَاتِهِمْ قَالَ : فَسَارَعَ النَّاسُ فِيهَا فَقَامَ عُبَادَةُ فَنَهَاهُمْ فَرَدُّوهَا فَأَتَى الرَّجُلُ مُعَاوِيَةَ فَشَكَا إِلَيْهِ فَقَامَ مُعَاوِيَةُ خَطِيبًا فَقَالَ : مَا بَالُ رِجَالٍ يُحَدِّثُونَ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَحَادِيثَ يَكْذِبُونَ فِيهَا عَلَيْهِ لَمْ نَسْمَعْهَا ، فَقَامَ عُبَادَةُ ، فَقَالَ : وَاللَّهِ لَنُحَدِّثَنَّ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَإِنْ كَرِهَ مُعَاوِيَةُ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " لا تَبِيعُوا الذَّهَبَ بِالذَّهَبِ وَلا الْفِضَّةَ بِالْفِضَّةِ وَلا الْبُرَّ بِالْبُرِّ وَلا الشَّعِيرَ بِالشَّعِيرِ وَلا التَّمْرَ بِالتَّمْرِ وَلا الْمِلْحَ بِالْمِلْحِ إِلا مِثْلا بِمِثْلٍ سَوَاءً بِسَوَاءٍ يَدًا بِيَدٍ عَيْنًا بِعَيْنٍ " .
نوید مجید طیب
ابو اشعث رحمہ اللہ سے روایت ہے کہ ہم نے ایک لڑائی سیدنا امیر معاویہ رضی اللہ عنہ کی قیادت میں لڑی۔ مال غنیمت میں سونا چاندی ہاتھ لگا تو سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ نے ایک آدمی کو حکم دیا کہ وہ اس مالِ غنیمت کو لوگوں کو ملنے والے عطیات (تنخواہ) کے عوض فروخت کر دے (یعنی جب عطیات ملے قیمت اس وقت وصول کر لیں گے) لوگوں نے خریداری میں جلدی کی سیدنا عبادہ رضی اللہ عنہ کھڑے ہو گئے لوگوں کو منع کیا تو لوگوں نے سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ کے نمائندے کو سونا چاندی واپس کر دیا اس نے جا کر سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ کو شکایت کر دی سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ نے لوگوں کو خطبہ دیا کہ لوگوں کا حال کیا ہو گیا وہ احادیث رسول کی یہ بیان کرتے ہیں اور آپ کی یہ تم پر جھوٹ باندھتے ہیں (ہم بھی صحابہ رضی اللہ عنہم ہیں) ہم نے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے ایسا نہیں سنا سیدنا عبادہ رضی اللہ عنہ پھر کھڑے ہو گئے اور فرمایا: واللہ ہم وہ احادیث ضرور بیان کریں گے جو ہم نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنی خواہ معاویہ ناپسند کرے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تھا۔ سونے کو سونے سے، چاندی کو چاندی سے، گندم کو گندم سے، جو کو جو سے کھجور کو کھجور سے نمک کو نمک سے نہ بیچو الا یہ کہ برابر برابر ہو ایک جیسے اور نقد بنقد ہوں۔
وضاحت:
➊ سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ کا انکار کرنا اس لیے تھا کہ انہیں مسئلہ کا پتہ نہ تھا بعض مجوسی النسل اس سے نعوذ باللہ سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ پر طعن کرتے ہیں۔ حالانکہ تاریخ شاہد ہے کہ رافضیوں نے نہ کبھی اسلام کی خاطر تیر چلایا نہ تلوار اور نہ ہی تا قیامت انہوں نے اسلام کی خدمت کرنی ہے بلکہ الٹا اسلام میں شک وشبہات پیدا کر رہے ہیں۔
➋ سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ کو سیدنا ابو درداء رضی اللہ عنہ کی شکایت پر عمر رضی اللہ عنہ نے لکھا تھا کہ یہ سود ہے جیسا کہ اس حدیث میں عبادہ رضی اللہ عنہ نے کہا تو وہ باز آگئے تھے۔ دیکھیے حدیث نمبر 217۔
حوالہ حدیث السنن المأثورة / باب في البيوع / حدیث: 222
تخریج حدیث انظر ما قبلہ ، برقم : 221 ۔
حدیث نمبر: 223
أَنْبَأَنَا مَالِكُ بْنُ أَنَسٍ ، عَنْ نَافِعٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " مَنِ ابْتَاعَ طَعَامًا فَلا يَبِعْهُ حَتَّى يَسْتَوْفِيَهُ " .
نوید مجید طیب
سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے غلہ کو پوری طرح قبضہ کرنے سے پہلے آگے فروخت کر دینے سے منع فرمایا۔
حوالہ حدیث السنن المأثورة / باب في البيوع / حدیث: 223
تخریج حدیث صحیح بخاری، البيوع، باب الكيل على البائع والمعطى، رقم: 2126، صحیح مسلم، البيوع، باب بطلان بيع المبيع قبل القبض، رقم: 1526
حدیث نمبر: 224
عَنْ مَالِكٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ دِينَارٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " مَنِ ابْتَاعَ طَعَامًا فَلا يَبِعْهُ حَتَّى يَقْبِضَهُ " .
نوید مجید طیب
سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جو غذائی جنس خریدے تو قبضہ میں لینے سے پہلے آگے فروخت نہ کرے۔“
وضاحت:
➊ کھانے پینے کی اشیاء کو قبضے میں لینے سے قبل فروخت کر دینا جائز نہیں غلہ یا مال کو پورا وصول کر لینے اور قبضہ میں لینے کے بعد فروخت کرنے میں بے شمار حکمتیں ہیں جن میں سے چند درج ذیل ہیں: (الف) ماپ تول کے عمل سے گزرنے پر اس کا اصل وزن معلوم ہو جاتا ہے۔ نتیجتا خریدار دھوکے سے بچ جاتا ہے۔
(ب) مال کی کوالٹی اور معیار سامنے آجاتا ہے۔
(ج) مارکیٹ میں جمود نہیں رہتا۔
(د) سرمایہ دارانہ نظام کی حوصلہ شکنی ہوتی ہے اور سرمایہ گردش میں رہتا ہے۔
(س) مہنگائی کنٹرول ہوتی ہے اور ذخیرہ اندوزی کی حوصلہ شکنی ہوتی ہے۔
(ص) مال کے ایک جگہ سے دوسری جگہ منتقل ہونے سے مزدور کو مزدوری ملتی ہے۔
➋ موجودہ مارکیٹنگ اسی فیصد سود اور حرام بیوع پر مبنی ہے۔ الا ماشاء الله بڑے تاجر ایک ہی سٹور میں پڑی چیز کا سودے پر سودا کیے جاتے ہیں حالانکہ قبضہ میں لینے سے قبل فروخت کر دینا نا جائز وحرام ہے۔ کیونکہ اس میں بہت سی قباحتیں ہیں مبیع سامان تجارت کو نہ کوئی دیکھتا ہے اور نہ ماپ تول کرتا ہے تو گویا کہ یہ روپیہ روپے کے بدلے کمی و بیشی سے فروخت ہوا اور پھر اگر چیز خراب ہوئی تو اس کا نقصان آخری خریدار کو ہو گا۔
➌ امام شافعی رحمہ اللہ نے غیر غذائی اجناس میں قبضہ کی شرط لگائی ہے بیوع میں اگر بنظر عمیق دیکھا جائے تو اسلام محنت کا قائل ہے اس لیے وہ تمام بیوع جس پر بغیر محنت کے مال مل جائے جیسے انعامی سکیمیں، قرعہ انداز یاں، پرائیس بانڈز وغیرہ یہ سب جوا اور سود کے زمرے میں آتے ہیں۔
➍ سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہ سے غلہ کو پوری طرح قبضہ میں لینے سے قبل فروخت کرنے کی ممانعت سے متعلق دریافت کیا گیا کہ ایسا کیوں ہے؟ تو انہوں نے فرمایا: (اگر ایسا نہ ہو) تو یہ تو درہموں کا درہموں کے بدلے بیچنا ہوا جبکہ غلہ تو میعاد آنے پر ہی دیا جائے گا۔ [بخاري: 3132]
اس کی صورت یہ ہے کہ ایک آدمی گندم کی ایک بوری دس ہزار کے عوض خرید لے اور گندم ایک ماہ بعد لینا طے پائے پھر خریدار کسی تیسرے آدمی کو وہی گندم بارہ ہزار میں فروخت کر دے جبکہ گندم ابھی اس کے قبضہ میں نہ آئی ہو تو ایسی صورت میں پہلے شخص نے دس ہزار کو بارہ ہزار کے عوض بیچا جو صریحاً سود ہے کیونکہ گندم تو وقت مقررہ پر ملنی ہے۔ (واللہ اعلم!)
حوالہ حدیث السنن المأثورة / باب في البيوع / حدیث: 224
تخریج حدیث صحیح بخاری، البيوع، باب ما يذكر في بيع الطعام والحكرة، رقم: 2133، صحیح مسلم، البيوع، باب بطلان بيع المبيع قبل القبض، رقم: 1526