حدیث نمبر: 265
عَنْ سُفْيَانَ بْنِ عُيَيْنَةَ ، وَمَالِكِ بْنِ أَنَسٍ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ أَبِي بَكْرِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْحَارِثِ بْنِ هِشَامِ ، عَنْ أَبِي مَسْعُودٍ ، " أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَهَى عَنْ ثَمَنِ الْكَلْبِ وَمَهْرِ الْبَغِيِّ وَحُلْوَانِ الْكَاهِنِ " .
نوید مجید طیب
سیدنا ابو مسعود رضی اللہ عنہ سے روایت ہے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے کتے کی قیمت زانیہ کی اجرت اور کاہن کی شرینی کھانے سے منع فرمایا۔
وضاحت:
➊ عرب میں بھی اسلام سے قبل پیری فقیری کے دھندے بہت تھے کہانت ان ہی کی ایک قسم ہے جس میں ایک کاہن آئندہ رونما ہونے والے امور سے متعلق دعوے کر کے کمائی کرتا ہے۔ کہانت اور اس سے ملتے جلتے امور سے حاصل کی گئی کمائی حرام ہے۔ یہ سب حرام خوری ہے۔
➋ کتوں کی تجارت بھی حرام ہے چاہے کتا شکاری ہو یا شوقیہ رکھا گیا ہو۔
➌ زانیہ کی آمدنی یا ان کو لائسنس جاری کر کے ٹیکس وصول کرنا یا رنڈیوں کا کاروبار سب حرام خوری ہے۔
➍ غیب کے دعویداروں کے جنات و شیاطین سے روابط ہوتے ہیں جو آدمی کے شیطان سے پوچھ لیتے ہیں کہ یہ بندہ کس کام آیا ہے اور گھر کے دروازے کتنے ہیں؟ وغیرہ وغیرہ پھر کاہن اپنے شیطان سے پوچھ کر لوگوں کو بتاتا ہے جس کی وجہ سے لوگ اس جادوگر کو پہنچی ہوئی سرکار متصور کر لیتے ہیں اور اس پر تحائف نچھاور کرتے ہیں اسلام نے ان سب کمائیوں سے منع کر دیا ہے۔ ایسی کمائیاں کرنا کرانا، سبب بننا یا کسی طور اعانت کرنا حرام ہے اور اکثر لوگ ان کے سبب شرکیات میں مبتلا ہو کر ایمان سے ہاتھ دھو بیٹھتے ہیں۔
➎ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: «من أتى عرافا فسأله عن شئ لم تقبل له صلاة أربعين ليلة» جو غیب کی خبریں بتانے کے دعویدار کے پاس آیا اور اس سے کچھ پوچھا تو اس کی چالیس روز تک نماز قبول نہیں ہوتی۔ [صحیح مسلم، رقم الحدیث: 2230]
➋ کتوں کی تجارت بھی حرام ہے چاہے کتا شکاری ہو یا شوقیہ رکھا گیا ہو۔
➌ زانیہ کی آمدنی یا ان کو لائسنس جاری کر کے ٹیکس وصول کرنا یا رنڈیوں کا کاروبار سب حرام خوری ہے۔
➍ غیب کے دعویداروں کے جنات و شیاطین سے روابط ہوتے ہیں جو آدمی کے شیطان سے پوچھ لیتے ہیں کہ یہ بندہ کس کام آیا ہے اور گھر کے دروازے کتنے ہیں؟ وغیرہ وغیرہ پھر کاہن اپنے شیطان سے پوچھ کر لوگوں کو بتاتا ہے جس کی وجہ سے لوگ اس جادوگر کو پہنچی ہوئی سرکار متصور کر لیتے ہیں اور اس پر تحائف نچھاور کرتے ہیں اسلام نے ان سب کمائیوں سے منع کر دیا ہے۔ ایسی کمائیاں کرنا کرانا، سبب بننا یا کسی طور اعانت کرنا حرام ہے اور اکثر لوگ ان کے سبب شرکیات میں مبتلا ہو کر ایمان سے ہاتھ دھو بیٹھتے ہیں۔
➎ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: «من أتى عرافا فسأله عن شئ لم تقبل له صلاة أربعين ليلة» جو غیب کی خبریں بتانے کے دعویدار کے پاس آیا اور اس سے کچھ پوچھا تو اس کی چالیس روز تک نماز قبول نہیں ہوتی۔ [صحیح مسلم، رقم الحدیث: 2230]
حدیث نمبر: 266
عَنْ سُفْيَانَ بْنِ عُيَيْنَةَ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ حِرَامِ بْنِ سَعْدِ بْنِ مُحَيِّصَةَ ، عَنْ أَبِيهِ ، أَنَّ مُحَيِّصَةَ سَأَلَ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ كَسْبِ الْحَجَّامِ فَنَهَاهُ عَنْهُ فَلَمْ يَزَلْ يُكَلِّمُهُ حَتَّى قَالَ : " أَطْعِمْهُ رَقِيقَكَ وَاعْلِفْهُ نَاضِحَكَ " .
نوید مجید طیب
سیدنا محیصہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے پچھنا لگانے کے بارے میں سوال کیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں اس سے منع فرمایا لیکن وہ بار بار آپ سے اجازت چاہتے رہے حتی کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”(اس سے حاصل ہونے والی رقم) اپنے غلام کو کھلا دے یا اپنے اونٹ کے چارے پر خرچ کر دے۔“
حدیث نمبر: 267
عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْمَاعِيلَ ، عَنِ ابْنِ أَبِي ذِئْبٍ ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ ، عَنْ حَرَامِ بْنِ سَعْدِ بْنِ مُحَيِّصَةَ الْحَارِثِيِّ ، عَنْ أَبِيهِ ، أَنَّهُ سَأَلَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ كَسْبِ الْحَجَّامِ : " فَنَهَاهُ عَنْهُ فَذَكَرَ لَهُ الْحَاجَةَ فَأَمَرَهُ أَنْ يَعْلِفَهُ نَوَاضِحَهُ " .
نوید مجید طیب
سیدنا محیصہ الحارثی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے پچھنا لگانے سے حاصل شدہ کمائی کے بارے میں سوال کیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے منع کیا تو محیصہ رضی اللہ عنہ نے اس کی ضرورت و حاجت ذکر کی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے حکم دیا کہ ”اس سے حاصل ہونے والی رقم اپنے اونٹ کے چارے پر خرچ کر دیا کر۔“
وضاحت:
➊ بعض پیشے جن کو شرعاً مستحسن نہیں سمجھا گیا ان میں سے ایک پیشے کا ذکر اس حدیث میں ہوا، اس دور میں سینگی لگانے والا گندا خون چوس کر باہر کھینچتا تھا اب جدید طریقہ آ گیا کپ یا گلاس خون کو خود کھینچ لیتا ہے۔
➋ اگر بطور مشورہ کوئی پوچھے تو اسے اچھا پیشہ اختیار کرنے کی تلقین کرنی چاہیے اور جہاں تک اس کے جواز کا تعلق ہے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے خود ابو طیبہ رضی اللہ عنہ سے سینگی لگوائی اور اجرت دی۔ [بخاري: 2102]
اگر یہ پیشہ مطلقاً حرام ہوتا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کبھی اجرت نہ دیتے اس لیے علماء نے اس کو مکروہ یعنی ناپسندیدہ کام جانا ہے۔
➌ سینگی ایک خاص طریقہ علاج ہے جو ماہر سے ہی لگوانی چاہیے۔ ماہرین خصوصی پوائنٹ پر درست کٹ لگا کر خون نکالتے ہیں۔ نیم حکیم خطرہ جان بھی بن سکتے ہیں۔
➍ یہ بات ذہن نشین رہے کہ یہ طریقہ علاج ہے بلا جواز سینگیاں لگواتے رہنا درست عمل نہیں۔
➋ اگر بطور مشورہ کوئی پوچھے تو اسے اچھا پیشہ اختیار کرنے کی تلقین کرنی چاہیے اور جہاں تک اس کے جواز کا تعلق ہے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے خود ابو طیبہ رضی اللہ عنہ سے سینگی لگوائی اور اجرت دی۔ [بخاري: 2102]
اگر یہ پیشہ مطلقاً حرام ہوتا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کبھی اجرت نہ دیتے اس لیے علماء نے اس کو مکروہ یعنی ناپسندیدہ کام جانا ہے۔
➌ سینگی ایک خاص طریقہ علاج ہے جو ماہر سے ہی لگوانی چاہیے۔ ماہرین خصوصی پوائنٹ پر درست کٹ لگا کر خون نکالتے ہیں۔ نیم حکیم خطرہ جان بھی بن سکتے ہیں۔
➍ یہ بات ذہن نشین رہے کہ یہ طریقہ علاج ہے بلا جواز سینگیاں لگواتے رہنا درست عمل نہیں۔
حدیث نمبر: 268
عَنْ عَبْدِ الْوَهَّابِ الثَّقَفِيِّ ، عَنْ خَالِدٍ الْحَذَّاءِ ، عَنْ عِكْرِمَةَ ، وَمُحَمَّدِ بْنِ سِيرِينَ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، " أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ احْتَجَمَ وَأَعْطَى الْحَجَّامَ أَجْرَهُ , وَلَوْ كَانَ خَبِيثًا لَمْ يُعْطِهِ " .
نوید مجید طیب
سیدنا عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے سینگی لگوائی اور حجام کو اجرت دی (راوی کہتے ہیں کہ اگر یہ نا جائز پیشہ ہوتا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم اجرت نہ دیتے۔)
وضاحت:
➊ معلوم ہوا یہ پیشہ حرام نہیں ہے۔
➋ حجامہ کی اجرت لینا جائز ہے۔
➋ حجامہ کی اجرت لینا جائز ہے۔
حدیث نمبر: 269
عَنْ عَبْدِ الْوَهَّابِ بْنِ عَبْدِ الْمَجِيدِ الثَّقَفِيِّ ، عَنْ حُمَيْدٍ الطَّوِيلِ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ، أَنَّهُ قِيلَ لَهُ : احْتَجَمَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ؟ قَالَ : نَعَمْ ، حَجَمَهُ أَبُو طَيْبَةَ فَأَعْطَاهُ صَاعَيْنِ وَأَمَرَ مَوَالِيَهِ أَنْ يُخَفِّفُوا عَنْهُ مِنْ ضَرِيبَتِهِ ، وَقَالَ : " إِنَّ أَمْثَلَ مَا تَدَاوَيْتُمْ بِهِ الْحِجَامَةُ وَالْقُسْطُ الْبَحْرِيُّ لِصِبْيَانَكُمْ مِنَ الْعُذْرَةِ وَلا تُعَذِّبُوهُمْ بِالْغَمْزِ " .
نوید مجید طیب
سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے پوچھا گیا کیا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے سینگی لگوائی؟ تو انہوں نے فرمایا: ہاں ابوطیبہ نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو سینگی لگائی تھی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے دو صاع غلہ بطور اجرت دیا اور ان کے مالکان سے فرمایا: ”اس کے ٹیکس میں کمی کرو۔“ اور فرمایا: ”بلاشبہ بہترین جو تم علاج کرواؤ وہ سینگی ہے اور بچوں کے ٹانسل کا علاج قسط بحری کا استعمال ہے اور تم بچوں کا گلا دبا کر تکلیف مت دو۔“
وضاحت:
➊ ابوطیبہ رضی اللہ عنہ کا نام دینار تھا جو محیصہ بن مسعود انصاری رضی اللہ عنہ کے غلام تھے اپنے مالک کو تین صاع ٹیکس ادا کرتے تھے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے حکم سے ایک صاع معاف ہوا۔
➋ شرعاً جائز امور میں لوگوں کی سفارش کرنا مسنون ہے۔
➌ علاج کروانا مشروع ہے۔
➍ سینگی بہترین طریقہ علاج ہے۔
➎ «القسط» ہندوستان میں پیدا ہونے والی ایک خوشبو دار لکڑی ہے جو بطور دوا اور بطور بخور استعمال ہوتی ہے۔ [القاموس الوحید: 1310]
➏ معلوم ہوا «قسط بحري» یعنی عود ہندی بچوں کے دردِ حلق کے لیے اکسیر ہے۔
➐ حلق یا کوے کو دبا کر عورتوں کا بچوں کا علاج کرنا درست نہیں ہے۔
➑ «العذرة» یہ ایک ورم ہے جو بچے کے حلق میں کثرت خون کی وجہ سے ہو جاتا ہے، اکثر یہ بیماری اس وقت ہوتی ہے جب عذرہ ستارے نکلتے ہیں یعنی وسط گرما میں اور وہ پانچ ستارے ہیں شعری ستارے کے تلے۔ بعض نے کہا عذرہ وہ زخم ہے جو ناک اور حلق کے درمیان بچوں کو ہو جاتا ہے۔ عرب کی عورتیں اس طرح کرتی تھیں کہ حلق میں انگلی ڈال کر اس کو دباتی یا چیتھڑے کو خوب بٹ کر سخت کر کے بچے کی ناک میں گھسیڑتی، وہ اس زخم تک پہنچ کر کالا خون بہا دیتا جب بچہ اچھا ہو جاتا اس کو دغر کہتے، عرب لوگ کہتے ہیں «عذرت الصبي» یعنی بچے کا حلق دبایا عذرہ کی بیماری میں۔ [لغات الحديث: 125]
➋ شرعاً جائز امور میں لوگوں کی سفارش کرنا مسنون ہے۔
➌ علاج کروانا مشروع ہے۔
➍ سینگی بہترین طریقہ علاج ہے۔
➎ «القسط» ہندوستان میں پیدا ہونے والی ایک خوشبو دار لکڑی ہے جو بطور دوا اور بطور بخور استعمال ہوتی ہے۔ [القاموس الوحید: 1310]
➏ معلوم ہوا «قسط بحري» یعنی عود ہندی بچوں کے دردِ حلق کے لیے اکسیر ہے۔
➐ حلق یا کوے کو دبا کر عورتوں کا بچوں کا علاج کرنا درست نہیں ہے۔
➑ «العذرة» یہ ایک ورم ہے جو بچے کے حلق میں کثرت خون کی وجہ سے ہو جاتا ہے، اکثر یہ بیماری اس وقت ہوتی ہے جب عذرہ ستارے نکلتے ہیں یعنی وسط گرما میں اور وہ پانچ ستارے ہیں شعری ستارے کے تلے۔ بعض نے کہا عذرہ وہ زخم ہے جو ناک اور حلق کے درمیان بچوں کو ہو جاتا ہے۔ عرب کی عورتیں اس طرح کرتی تھیں کہ حلق میں انگلی ڈال کر اس کو دباتی یا چیتھڑے کو خوب بٹ کر سخت کر کے بچے کی ناک میں گھسیڑتی، وہ اس زخم تک پہنچ کر کالا خون بہا دیتا جب بچہ اچھا ہو جاتا اس کو دغر کہتے، عرب لوگ کہتے ہیں «عذرت الصبي» یعنی بچے کا حلق دبایا عذرہ کی بیماری میں۔ [لغات الحديث: 125]
حدیث نمبر: 270
عَنْ مَالِكٍ ، عَنْ حُمَيْدٍ الطَّوِيلِ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ، قَالَ : " حَجَمَ أَبُو طَيْبَةَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَأَمَرَ لَهُ بِصَاعٍ مِنْ تَمْرٍ , وَأَمَرَ أَهْلَهُ أَنْ يُخَفِّفُوا عَنْهُ مِنْ خَرَاجِهِ " .
نوید مجید طیب
سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو ابو طیبہ رضی اللہ عنہ نے سینگی لگائی تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں ایک صاع کھجور اجرت دی اور اس کے مالکان سے کہا کہ ”اس کے ٹیکس میں تخفیف کرو۔“
حدیث نمبر: 271
عَنْ مَالِكٍ ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ ، عَنِ ابْنِ مُحَيِّصَةَ ، أَحَدِ بَنِي حَارِثَةَ , عَنْ أَبِيهِ ، أَنَّهُ اسْتَأْذَنَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي إِجَارَةِ الْحَجَّامِ فَنَهَاهُ عَنْهَا ، فَلَمْ يَزَلْ يَسْأَلُهُ وَيَسْتَأْذِنُهُ حَتَّى قَالَ : " اعْلِفْ بِهَا نَاضِحَكَ وَرَقِيقَكَ " .
نوید مجید طیب
ابن محیصہ حارثی رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ اُن کے باپ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے حجامہ کی اجازت طلب کی تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے منع کیا وہ بار بار اجازت طلب کرتے رہے حتی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”یہ کمائی تو اپنے اونٹ اور غلام پر خرچ کر دیا کر۔“
حدیث نمبر: 272
عَنْ سُفْيَانَ بْنِ عُيَيْنَةَ ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا ، قَالَتْ : سَابَقْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَسَبَقْتُهُ فَلَمَّا حَمَلْتُ اللَّحْمَ سَابَقْتُهُ فَسَبَقَنِي ، فَقَالَ : " هَذِهِ بِتِلْكَ " .
نوید مجید طیب
ام المومنین سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا دوڑ میں مقابلہ کیا تو میں جیت گئی پھر جب میرا جسم بھاری ہو گیا پھر دوڑ کا مقابلہ کیا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جیت گئے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”یہ اس پہلی دوڑ کا بدلہ ہے۔“
وضاحت:
➊ گھریلو زندگی خوشگوار گزارنے کا ایک انداز معلوم ہوا۔
➋ خاوند بیوی سے دل لگی کرتے ہوئے دوڑ لگا سکتا ہے۔ عورت باپردہ حالت میں دوڑ سکتی ہے بشرطیکہ پبلک نمائش نہ ہو اور غیر محرم نہ دیکھے جیسا کہ عصر حاضر میں ہر کام ویڈیو اور ٹک ٹاک کی خاطر انجام دیے جاتے ہیں۔
➌ شرعاً جائز امور میں مسابقت و مقابلہ بازی درست ہے۔
➍ خاوند و بیوی کا رشتہ پیار و محبت اور احساس کا ہے، دونوں شرعی حدود میں رہتے ہوئے فرحت طبع کے لیے کبھی کبھار خاص پروگرام منعقد کر سکتے ہیں۔
➋ خاوند بیوی سے دل لگی کرتے ہوئے دوڑ لگا سکتا ہے۔ عورت باپردہ حالت میں دوڑ سکتی ہے بشرطیکہ پبلک نمائش نہ ہو اور غیر محرم نہ دیکھے جیسا کہ عصر حاضر میں ہر کام ویڈیو اور ٹک ٹاک کی خاطر انجام دیے جاتے ہیں۔
➌ شرعاً جائز امور میں مسابقت و مقابلہ بازی درست ہے۔
➍ خاوند و بیوی کا رشتہ پیار و محبت اور احساس کا ہے، دونوں شرعی حدود میں رہتے ہوئے فرحت طبع کے لیے کبھی کبھار خاص پروگرام منعقد کر سکتے ہیں۔
حدیث نمبر: 273
أَنْبَأَنَا أَنْبَأَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ رَبَاحِ بْنِ مُحَمَّدٍ الْعَجْلانِيِّ ، عَنْ أَبِيهِ ، قَالَ : رَأَيْتُ أَنَسَ بْنَ مَالِكٍ بِقُبَاءَ " بَالَ ، ثُمَّ مَسَحَ ذَكَرَهُ بِالْجِدَارِ ، ثُمَّ تَوَضَّأَ ، وَمَسَحَ عَلَى خُفَّيْهِ ، ثُمَّ دَخَلَ مَسْجِدَ قُبَاءَ فَصَلَّى " .
نوید مجید طیب
محمد العجلانی کہتے ہیں کہ میں نے سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ کو قباء میں چھوٹا پیشاب کرتے ہوئے دیکھا کہ پیشاب کے بعد انہوں نے شرمگاہ کو صاف کیا پھر وضوء کیا اور موزوں پر مسح کیا مسجد قباء میں داخل ہوئے تو نماز پڑھی۔
وضاحت:
➊ اگر جرابیں یا موزے باوضو حالت میں پہنے ہوں تو اگلی نماز کے لیے مسح کر لینا جائز عمل ہے۔
➋ پیشاب پاخانہ سے مسح باطل نہیں ہوتا۔
➌ اگر وضو ٹوٹ جائے اور آدمی ایک جراب اتار کر پھر پہنے تو مسح نہیں کیا جائے گا بلکہ پاؤں دھوئے گا، ایسے ہی مدت مسح پوری ہو جائے تو بھی پاؤں دھوئے گا۔
➍ مدت مسح مسافر کے لیے تین دن اور تین رات ہے اور مقیم کے لیے ایک دن اور ایک رات یعنی پانچ نمازیں مسح کر کے آدمی پڑھ سکتا ہے۔
➎ اگر باوضو حالت میں جرابیں پہنیں پھر وضو ٹوٹ گیا، اس کے اوپر ایک اور جرابوں کا جوڑا چڑھا لیا تو اس پر بھی مسح کیا جا سکتا ہے کیونکہ پاؤں ننگا نہیں ہوا۔ (واللہ اعلم)
➏ جنبی ہو جانے پر غسل کے لیے جرابیں اور موزے اتارے جائیں گے۔
➐ اس حدیث سے یہ بھی معلوم ہوا کہ بول و براز نواقض وضو میں سے ہے۔
➋ پیشاب پاخانہ سے مسح باطل نہیں ہوتا۔
➌ اگر وضو ٹوٹ جائے اور آدمی ایک جراب اتار کر پھر پہنے تو مسح نہیں کیا جائے گا بلکہ پاؤں دھوئے گا، ایسے ہی مدت مسح پوری ہو جائے تو بھی پاؤں دھوئے گا۔
➍ مدت مسح مسافر کے لیے تین دن اور تین رات ہے اور مقیم کے لیے ایک دن اور ایک رات یعنی پانچ نمازیں مسح کر کے آدمی پڑھ سکتا ہے۔
➎ اگر باوضو حالت میں جرابیں پہنیں پھر وضو ٹوٹ گیا، اس کے اوپر ایک اور جرابوں کا جوڑا چڑھا لیا تو اس پر بھی مسح کیا جا سکتا ہے کیونکہ پاؤں ننگا نہیں ہوا۔ (واللہ اعلم)
➏ جنبی ہو جانے پر غسل کے لیے جرابیں اور موزے اتارے جائیں گے۔
➐ اس حدیث سے یہ بھی معلوم ہوا کہ بول و براز نواقض وضو میں سے ہے۔