کتب حدیثالسنن المأثورةابوابباب: عورتوں کا مساجد میں با جماعت نماز میں حاضر ہونے کا بیان
حدیث نمبر: 178
أَنْبَأَنَا سُفْيَانُ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، قَالَ : أَخْبَرَنِي سَالِمُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ ، عَنْ أَبِيهِ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " إِذَا اسْتَأْذَنَتْ أَحَدَكُمُ امْرَأَتُهُ إِلَى الْمَسْجِدِ فَلا يَمْنَعْهَا " .
نوید مجید طیب
سیدنا عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”جب تم میں سے کسی کی بیوی مسجد میں جانے کی اجازت طلب کرے تو وہ اسے منع نہ کرے۔“
حوالہ حدیث السنن المأثورة / باب ما جاء في حضور النساء مساجد الجماعة / حدیث: 178
تخریج حدیث صحیح بخاری، النكاح، باب استئذان المرأة زوجها في الخروج الخ، رقم : 873 ، صحیح مسلم، الصلاة، باب خروج النساء الى المساجد رقم : 442 ۔
حدیث نمبر: 179
أَنْبَأَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ ، عَنْ عَاصِمٍ ، عَنْ مَوْلَى أُبَيٍّ ، قَالَ أَبُو جَعْفَرٍ : هَكَذَا قَرَأَهُ عَلَيْنَا الْمُزَنِيُّ عَنْ مَوْلَى أَبِي رُهْمٍ , قَالَ : لَقِيَ أَبُو هُرَيْرَةَ امْرَأَةً ، فَقَالَ : أَيْنَ تُرِيدِينَ ؟ فَقَالَتِ : الْمَسْجِدَ قَالَ : وَلَهُ خَرَجْتِ أَوْ لَهُ تَطَيَّبْتِ ؟ قَالَتْ : نَعَمْ ، قَالَ : فَإِنِّي سَمِعْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ : " أَيُّمَا امْرَأَةٍ تَطَيَّبَتْ ثُمَّ خَرَجَتْ تُرِيدُ الْمَسْجِدَ لَمْ يُقْبَلْ لَهَا كَذَا وَكَذَا وَلا صِيَامٌ حَتَّى تَرْجِعَ فَتَغْتَسِلَ غُسْلَهَا مِنَ الْجَنَابَةِ " .
نوید مجید طیب
مولی ابی زہم رحمہ اللہ سے روایت ہے سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ کو راستے میں ایک عورت ملی جس سے سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ نے پوچھا: ”کہاں جا رہی ہو؟“ کہنے لگی: ”مسجد میں“ سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ فرمانے لگے: ”مسجد کے لیے نکلی ہو اور خوشبو بھی لگائی ہے؟“ کہنے لگی: ”ہاں“ سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ”میں نے نبی اکرم ﷺ کو فرماتے سنا: ”جو عورت خوشبو لگائے، پھر مسجد کے لیے گھر سے نکلے تو اس کی اتنے عرصے تک نماز قبول نہیں ہوتی اور نہ روزہ قبول ہوتا ہے حتی کہ گھر جا کر غسل جنابت کرے۔“
حوالہ حدیث السنن المأثورة / باب ما جاء في حضور النساء مساجد الجماعة / حدیث: 179
تخریج حدیث سنن ابی داؤد الترجل، باب ماجاء في المرأة تطيب للخروج، رقم : 4174 وقال الالبانى ،صحیح سنن ابن ماجه الفتن، باب فتنة النساء، رقم : 4002 وقال الالبانی: حسن صحیح ۔
حدیث نمبر: 180
أَنْبَأَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرِو بْنِ عَلْقَمَةَ ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " لا تَمْنَعُوا إِمَاءَ اللَّهِ مَسَاجِدَ اللَّهِ وَلْتَخْرُجْنَ وَهُنَّ تَفِلاتٌ " . قَالَ أَبُو جَعْفَرٍ : يَعْنِي غَيْرَ مُتَطَيِّبَاتٍ .
نوید مجید طیب
سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”اللہ تعالیٰ کی بندیوں کو مساجد میں آنے سے نہ روکو انہیں چاہیے کہ زیب وزینت کے بغیر بڑی چادروں میں لپٹی ہوئی نکلیں۔“
وضاحت:
➊ عورتیں مسجد میں نماز کے لیے آ سکتی ہیں لیکن عورت کی افضل نماز گھر میں ہے، عید کے لیے عورتوں کو خصوصی حکم ہے کہ عید میں شریک ہوں چاہے حیض کی حالت میں ہوں جو نماز تو نہ پڑھیں البتہ مسلمانوں کی دعا میں شریک ہو جائیں لیکن اس شرط کے ساتھ کہ بغیر زیب و زینت کے آئیں خوشبو نہ لگائیں بے پردگی نہ ہو۔
➋ ایک روایت میں ہے جو عورت خوشبو لگا کر نامحرم کے پاس سے گزرتی ہے تاکہ وہ اس کی خوشبو سونگھیں (یعنی اس کی خوشبو انہیں اپنی طرف متوجہ کر دے) تو وہ زانیہ ہے۔[سنن نسائی: 5129]
➌ غسل جنابت کے حکم سے مراد خوشبو کو اچھی طرح دھونا ہے جیسے غسل جنابت میں اعضاء اچھی طرح دھوئے جاتے ہیں۔ (واللہ اعلم)
➍ زانیہ سے مراد زنا کی دعوت دینے کا سبب بننے والی ہے اگر حقیقی زانیہ اور حقیقی غسل جنابت مراد ہوتا تو ایسی عورت کو رجم کا بھی حکم ہوتا جس سے اشارہ ملتا ہے کہ اصل چیز کا حکم سبب پر بولا گیا ہے کہ اس عمل کا بالآخر انجام بدکاری ہے لہذا انجام سے ڈرانا مقصود ہے۔
➎ خوشبو لگا کر عورت کا باہر نکلنا کبیرہ گناہ ہے چاہے مسجد میں ہی جانا مقصود ہو اس سے ان بہنوں اور بیٹیوں کو عبرت حاصل کرنی چاہیے جو خوشبو لگا کر، بے پردہ ہو کر اپنے بدن کی نمائش کرنے بازاروں، دفتروں اور پارکوں میں ہر نظر کے لیے شاملاٹ بن جاتی ہیں۔ اگر مجبورا گھر سے نکلنا پڑے تو بغیر خوشبو کے سادہ حالت میں با پردہ ہو کر نکلیں جیسا کہ اسلام کا حکم ہے۔
➏ عورت کا بناؤ سنگھار صرف شوہر کے لیے ہے اور کسی مقام پر جائز نہیں نہ شادیوں میں، نہ سکولوں، کالجوں میں اور نہ پرائی عورتوں کے سامنے تاکہ دوسری اس کا حسن اپنے خاوند کے سامنے نہ بیان کرے۔
➐ جس عورت کا خاوند نہیں پسند کرتا کہ اس کی بیوی سرخی لگائے اسے خاوند کے لیے بھی نہیں لگانی چاہیے۔
➑ عورتوں کو غیر شرعی طریقے اختیار کر کے زینت اپنانا ممنوع ہے۔ [صحیح بخاری: 4886]
➒ بڑی عمر کے بزرگوں کو جب فتنہ کا اندیشہ نہ ہو عورتوں کو نصیحت کرنی چاہیے۔ سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ حکومتی عہدے پر بھی فائز رہے ہیں محاسب کے آفیسر بازاروں میں عورتوں کو وعظ و نصیحت کے علاوہ، اگر قانون موجود ہو تو مار پیٹ بھی کر سکتے ہیں۔
➓ بعض الناس کی طرف سے فتنہ کے اندیشہ کے پیش نظر خواتین کو مساجد میں آنے سے روکنا خلافِ شرع ہے۔
حوالہ حدیث السنن المأثورة / باب ما جاء في حضور النساء مساجد الجماعة / حدیث: 180
تخریج حدیث سنن ابی داؤد، الصلاة، باب ماجاء فى خروج النساء الى المسجد، رقم : 565 وقال الالبانی: حسن صحیح، وصححه ابن خزیمہ، رقم : 1679 ۔
حدیث نمبر: 181
أَنْبَأَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ عَبَّادِ بْنِ تَمِيمٍ ، عَنْ عَمِّهِ ، قَالَ : رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " مُسْتَلْقِيًا فِي الْمَسْجِدِ وَاضِعًا إِحْدَى رِجْلَيْهِ عَلَى الأُخْرَى " . قَالَ أَبُو جَعْفَرٍ : عَمُّ عَبَّادِ بْنِ تَمِيمٍ هُوَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ زَيْدٍ الْمَازِنِيُّ أَحَدُ الْمَقْتُولِينَ يَوْمَ أُحُدٍ وَهُوَ عَمُّ عَبَّادِ بْنِ تَمِيمٍ وَأَخُوهُ لأُمِّهِ .
نوید مجید طیب
عباد بن تمیم اپنے چچا (سیدنا عبد اللہ بن زید رضی اللہ عنہ) سے بیان کرتے ہیں کہ انہوں نے کہا: میں نے رسول اللہ ﷺ کو مسجد میں چت لیٹے ہوئے دیکھا اس حال میں کہ آپ کی ایک ٹانگ دوسری کے اوپر تھی۔
حوالہ حدیث السنن المأثورة / باب ما جاء في حضور النساء مساجد الجماعة / حدیث: 181
تخریج حدیث صحیح بخاری، الاستئذان باب ،الاستلقا رقم : 6287، صحیح مسلم ،اللباس، باب فى اباحة الاستلقاء .... الخ، رقم : 2100 ۔
حدیث نمبر: 182
أَخْبَرَنِي مَالِكُ بْنُ أَنَسٍ ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ ، عَنْ عَبَّادِ بْنِ تَمِيمٍ ، عَنْ عَمِّهِ ، أَنَّهُ رَأَى رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " مُسْتَلْقِيًا فِي الْمَسْجِدِ وَاضِعًا إِحْدَى رِجْلَيْهِ عَلَى الأُخْرَى " .
نوید مجید طیب
عباد بن تمیم اپنے چچا (سیدنا عبد اللہ بن زید رضی اللہ عنہ) سے بیان کرتے ہیں انہوں نے کہا: میں نے رسول اللہ ﷺ کو مسجد میں سیدھے چت لیٹے دیکھا ایک ٹانگ کو دوسری پر رکھا ہوا تھا۔
وضاحت:
➊ یہ دو روایات جن میں سے ایک کو امام شافعی رحمہ اللہ بسند امام مالک رحمہ اللہ جبکہ دوسری کو بسند امام سفیان بن عیینہ رحمہ اللہ لائے ہیں۔ جن میں اس بات کا ذکر ہے کہ آدمی سیدھا لیٹ کر ایک ٹانگ کو دوسری پر چڑھا سکتا ہے جبکہ صحیح مسلم وغیرہ میں ہے کہ سیدھے لیٹ کر ایک ٹانگ پر دوسری چڑھانا منع ہے۔ تطبیق اس طرح ہے کہ اگر تہبند باندھا ہو تو اس انداز میں لیٹنا منع ہے کیونکہ پردہ زائل ہو جاتا ہے اور اگر پردہ قائم ہو تو چت لیٹ کر کسی بھی ٹانگ کو دوسری پر رکھا جا سکتا ہے۔ (واللہ اعلم!)
➋ عباد بن تمیم رحمہ اللہ کے چچا کا نام عبد اللہ بن زید بن عاصم انصاری رضی اللہ عنہ ہے یہ ان کے والد محترم کے اخیافی (ماں کی طرف سے) بھائی تھے۔ یہ جلیل القدر صحابی ہیں ان کو احد، خندق اور دیگر غزوات میں شرکت کا اعزاز ملا ہے جنگ یمامہ میں وحشی رضی اللہ عنہ کے ساتھ مل کر مسیلمہ کذاب کو قتل کیا۔ 63ھ کو یوم الحرہ وفات پائی۔
حوالہ حدیث السنن المأثورة / باب ما جاء في حضور النساء مساجد الجماعة / حدیث: 182
تخریج حدیث صحیح بخاری، الصلاة، باب الاستلقاء في المسجد ومد الرجل، رقم : 475، صحیح مسلم، اللباس والزينة ، باب في اباحة الاستلقاء، رقم : 2100 ۔
حدیث نمبر: 183
أَنْبَأَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ عَبَّادِ بْنِ تَمِيمٍ ، عَنْ عَمِّهِ ، قَالَ : رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " مُسْتَلْقِيًا فِي الْمَسْجِدِ وَاضِعًا إِحْدَى رِجْلَيْهِ عَلَى الأُخْرَى " . قَالَ أَبُو جَعْفَرٍ : عَمُّ عَبَّادِ بْنِ تَمِيمٍ هُوَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ زَيْدٍ الْمَازِنِيُّ أَحَدُ الْمَقْتُولِينَ يَوْمَ أُحُدٍ وَهُوَ عَمُّ عَبَّادِ بْنِ تَمِيمٍ وَأَخُوهُ لأُمِّهِ .
نوید مجید طیب
ام المومنین سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ نبی اکرم ﷺ نے ایک چادر میں نماز پڑھی اور فرمایا : ”اس نے مجھے نماز سے مشغول کر دیا اسے ابو جہم رضی اللہ عنہ کے پاس لے جاؤ اور اس کے بدلے انبیجانی چادر لے آؤ۔“
وضاحت:
➊ انبجان علاقے کا نام ہے جہاں چادریں بنتی تھیں، انبجانی چادریں سادہ اور بغیر دھاریوں کے ہوتی تھیں۔
➋ سیدنا ابو جہم رضی اللہ عنہ نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو تحفے میں خوبصورت دھاریوں والی چادر دی، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے سادہ چادر لینے کے لیے کہا تاکہ اگر وہ واپس کی جائے تو ان کا دل نہ دکھے۔
➌ یہ نماز آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دہرائی نہیں، اس سے معلوم ہوتا ہے کہ دھاری دار چادر میں نماز پڑھ لی تو نماز تو ہو جائے گی البتہ جو چیز نماز میں خلل ڈالے اسے بدل دینا چاہیے، اور ضروری نہیں کہ ایک چیز اگر ایک آدمی کو خلل ڈالتی ہے تو دوسرے کو بھی خلل ڈالے گی، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے تمام صحابہ رضی اللہ عنہم کو حکم نہیں دیا کہ آج کے بعد کوئی دھاری دار لباس پہن کر نماز نہ پڑھے بلکہ اپنا خلل دور فرمایا۔ (واللہ اعلم!)
➍ بعض لوگ مساجد کے قالین پر اعتراض کر کے پوری مسجد کے لیے وبال بن جاتے ہیں کہ اس کو دور کرو، جبکہ مسئلہ صرف ایک بندے کو ہوتا ہے، اسے چاہیے کہ وہ گھر سے سادہ مصلیٰ لے آیا کرے۔ (واللہ اعلم!)
➎ اگر کسی جاندار کی شکل بنی ہوئی ہے یا کوئی بت بنا ہے تو اس قالین پر نماز درست نہ ہو گی، اس کو تبدیل کرنا ضروری ہے، البتہ اہل المساجد کو چاہیے کہ قالین ایک رنگ والا خریدیں اور سادگی کو ہر چیز میں ترجیح دیں، شوخ رنگ اور پھول بوٹوں والے جائے نماز مساجد میں نہ ڈالیں تاکہ خلل واقع نہ ہو۔
حوالہ حدیث السنن المأثورة / باب ما جاء في حضور النساء مساجد الجماعة / حدیث: 183
تخریج حدیث صحیح بخاری، الاذان، باب التفات في الصلاة، رقم : 752، صحیح مسلم ،المساجد، باب كراهة الصلاة فى ثوب له ،أعلام، رقم : 556 ۔
حدیث نمبر: 184
أَخْبَرَنِي مَالِكُ بْنُ أَنَسٍ ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ ، عَنْ عَبَّادِ بْنِ تَمِيمٍ ، عَنْ عَمِّهِ ، أَنَّهُ رَأَى رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " مُسْتَلْقِيًا فِي الْمَسْجِدِ وَاضِعًا إِحْدَى رِجْلَيْهِ عَلَى الأُخْرَى " .
نوید مجید طیب
ام المومنین سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ ابو جہم بن حذیفہ رضی اللہ عنہ نے رسول اللہ ﷺ کو ایک شامی چادر تحفے میں دی جس پر لکیریں تھیں اس میں آپ ﷺ نے نماز پڑھی جب واپس پلٹے فرمایا: ”یہ چادر ابو جہم رضی اللہ عنہ کو واپس کر دو میں نے نماز میں ان نشانات کو دیکھا تو قریب تھا کہ مجھے آزمائش میں ڈال دیتے۔“
وضاحت:
➊ تحائف کا تبادلہ مسنون عمل ہے۔ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم پیارے پیغمبر صلی اللہ علیہ وسلم کو تحفے دیتے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم قبول فرما لیتے تھے۔
➋ مزید شرح اور مسائل کے لیے دیکھیے حدیث نمبر 183۔
حوالہ حدیث السنن المأثورة / باب ما جاء في حضور النساء مساجد الجماعة / حدیث: 184
تخریج حدیث مسند احمد : 278/42 وقال الارنوؤط حدیث صحیح وهذا اسناد حسن ، اخرجه الشيخان من غير هذا الطريق ۔