کتب حدیثالسنن المأثورةابوابباب: خرید و فروخت کے مسائل کا بیان
حدیث نمبر: 225
عَنْ مَالِكٍ ، عَنْ نَافِعٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ ، قَالَ : " كُنَّا نَبْتَاعُ الطَّعَامَ فِي زَمَانِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَيَبْعَثُ عَلَيْنَا مَنْ يَأْمُرُنَا بِانْتِقَالِهِ مِنَ الْمَكَانِ الَّذِي ابْتَعْنَاهُ فِيهِ إِلَى مَكَانٍ سِوَاهُ قَبْلَ أَنْ نَبِيعَهُ " .
نوید مجید طیب
سیدنا عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے ہم زمانہ رسول صلی اللہ علیہ وسلم میں غلہ خریدتے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم ہم پر ایسے لوگ مقرر کرتے جو ہمیں حکم کرتے کہ ہم غلہ اس جگہ جہاں سے خریدا ہے سے دوسری جگہ آگے فروخت کرنے سے پہلے منتقل کریں۔
وضاحت:
➊ معلوم ہوا عہد نبوی صلی اللہ علیہ وسلم میں بازار میں احتساب آفیسر مقرر تھے جو غیر شرعی بیوع کا جائزہ لیتے اور بر وقت خرید و فروخت اسلامی اصولوں پر کرنے کی ہدایت کرتے تھے۔
➋ حکومت کو چاہیے کہ تحصیلداروں اور انتظامی افیسران کو ہدایت کرے کہ منڈیوں کے چکر لگائیں جو ماپ تول یا عمدہ اور ردی خلط کر کے فروخت کرتا پایا جائے اسے عبرت ناک سزائیں دیں جرمانے کریں، مال ضبط کریں۔
➌ جس قوم کی تجارت اسلامی اصولوں پر استوار نہیں اس کی معیشت کبھی مضبوط نہیں ہو سکتی دھوکہ فراڈ معیشت کو تباہ کر دیتا ہے۔
حوالہ حدیث السنن المأثورة / باب في البيوع / حدیث: 225
تخریج حدیث صحیح بخاری، البيوع، باب منتهى التلقى، رقم: 2166، صحیح مسلم، البيوع، باب بطلان بيع المبيع قبل القبض، رقم: 1527
حدیث نمبر: 226
أَنْبَأَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ دِينَارٍ ، عَنْ طَاوُسٍ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ : " أَمَّا الَّذِي نَهَى عَنْهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَهُوَ الطَّعَامُ أَنْ يُبَاعَ حَتَّى يُكَالَ . قَالَ سُفْيَانُ يَعْنِي يُقْبَضَ . قَالَ عَمْرٌو : قَالَ طَاوُسٌ : إِنَّ ابْنَ عَبَّاسٍ قَالَ بِرَأْيِهِ وَلا أَحْسِبُ كُلَّ شَيْءٍ إِلا مِثْلَهُ .
نوید مجید طیب
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایسے غلے کو فروخت کرنے سے منع کیا جو ماپا نہ گیا ہو۔ راوی سفیان رحمہ اللہ کہتے ہیں ماپنے سے مراد قبضہ میں لینا ہے، طاؤوس رحمہ اللہ کہتے ہیں یہ ابن عباس رضی اللہ عنہ کی رائے تھی میرے خیال میں تمام چیزوں کا یہی حکم ہے۔ (یعنی کوئی بھی چیز غلہ ہو یا کوئی اور قبضہ سے پہلے آگے فروخت نہیں کرنی چاہیے)
وضاحت:
➊ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہ کے نزدیک قبضہ سے قبل فروخت کرنے والی بات کا تعلق محض غذائی اجناس سے ہے جبکہ طاؤوس رحمہ اللہ کہتے ہیں یہ حکم عام ہے۔
➋ اگر کسی چیز کی قسم، وزن، مقدار، رقم اور اوصاف کا تعین کر لیا گیا ہو اور پھر مقررہ مدت پر ادائیگی ہو جائے تو پیشگی قیمت دے کر وقت مقررہ پر چیز وصول کر لینا جائز ہے۔ اسے بیع سلم یا سلف کہتے ہیں۔
حوالہ حدیث السنن المأثورة / باب في البيوع / حدیث: 226
تخریج حدیث صحیح بخاری، البيوع، باب بيع الطعام قبل ان يقبض وبيع ما ليس عندك، رقم: 2135، صحیح مسلم، البيوع، باب بطلان بيع المبيع قبل القبض، رقم: 1525
حدیث نمبر: 227
عَنْ عَبْدِ الْوَهَّابِ بْنِ عَبْدِ الْمَجِيدِ الثَّقَفِيِّ ، عَنْ خَالِدٍ الْحَذَّاءِ ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ أَبِي رَبَاحٍ , عَنْ حَكِيمِ بْنِ حِزَامٍ ، قَالَ حَكِيمٌ : كُنْتُ أَشْتَرِي الطَّعَامَ " فَنَهَانِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ أَبِيعَ طَعَامًا حَتَّى أَقْبِضَهُ " .
نوید مجید طیب
سیدنا حکیم بن حزام رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ہم غلہ کی خریدو فروخت کرتے تھے تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے غلہ قبضہ میں لینے سے پہلے فروخت کرنے سے منع فرمایا۔
حوالہ حدیث السنن المأثورة / باب في البيوع / حدیث: 227
تخریج حدیث سنن نسائی، البيوع، باب بيع الطعام قبل ان يستوفي، رقم: 4603، وقال الالبانی: صحیح، مسند احمد: 44/24، رقم: 15316، 15329، وصححه ابن الجارود، رقم: 602
حدیث نمبر: 228
عَنْ سُفْيَانَ بْنِ عُيَيْنَةَ , عَنْ أَيُّوبَ السَّخْتِيَانِيِّ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، " أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَهَى عَنْ بَيْعِ حَبَلِ الْحَبَلَةِ " .
نوید مجید طیب
سیدنا عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حاملہ جانور کا حمل میں موجود بچہ فروخت کرنے سے منع فرمایا۔
حوالہ حدیث السنن المأثورة / باب في البيوع / حدیث: 228
تخریج حدیث سنن نسائی، البيوع، باب بيع حبل الحبلة، رقم: 4623، سنن ابن ماجه، التجارات، باب النهي عن شراء ما في بطون الانعام ...... الخ، رقم: 2197، وقال الالبانی: صحیح
حدیث نمبر: 229
عَنْ مَالِكِ بْنِ أَنَسٍ ، عَنْ نَافِعٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ ، " أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَهَى عَنْ بَيْعِ حَبَلِ الْحَبَلَةِ وَكَانَ بَيْعًا يَبْتَاعُهُ أَهْلُ الْجَاهِلِيَّةِ كَانَ الرَّجُلُ يَبْتَاعُ الْجَزُورَ إِلَى أَنْ تُنْتَجَ النَّاقَةُ ثُمَّ يُنْتَجُ الَّذِي فِي بَطْنِهَا .
نوید مجید طیب
سیدنا عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حاملہ کے حمل کی بیع سے منع فرمایا یہ بیع جاہلیت میں رائج تھی ایک آدمی اونٹ / اونٹنی خریدتا اور قیمت کی معیاد یہ مقرر کرتا کہ اونٹنی کا حمل بڑا ہو کر آگے حمل بنے گا (تو پیسے دوں گا)۔
وضاحت:
زمانہ جاہلیت میں اس بیع کی دو صورتیں تھیں ایک یہ کہ اونٹنی کے پیٹ کے بچے کا سودا کر دیتے مرے، جئے، نر ہو یا مادہ وضع حمل کے بعد خریدار طے شدہ رقم کے عوض اس کا مالک قرار پاتا اور دوسری بیع اس طرح کہ اس کی قیمت اس وقت قابل اداء ہو گی جب تیسری نسل معرض وجود میں آئے گی شرعاً یہ دونوں صورتیں ممنوع ہیں کیونکہ اس میں غرر اور دیگر غیر شرعی صورتیں موجود ہیں۔
حوالہ حدیث السنن المأثورة / باب في البيوع / حدیث: 229
تخریج حدیث صحیح بخاری، البيوع، باب بيع الغرر وحبل الحبلة، رقم: 2143، صحیح مسلم، البيوع، باب تحريم بيع حبل الحبلة، رقم: 1514
حدیث نمبر: 230
عَنْ إِسْمَاعِيلَ بْنِ عُلَيَّةَ قَالَ : حَدَّثَنَا أَيُّوبُ بْنُ أَبِي تَمِيمَةَ السَّخْتِيَانِيُّ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ ، وَنَافِعٍ ، مَوْلَى عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ ، " أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَهَى عَنْ بَيْعِ حَبَلِ الْحَبَلَةِ .
نوید مجید طیب
سیدنا عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے حاملہ کے حمل کی بیع سے منع فرمایا۔
حوالہ حدیث السنن المأثورة / باب في البيوع / حدیث: 230
تخریج حدیث انظر ما قبلہ، برقم: 229
حدیث نمبر: 231
وَأَنْبَأَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ يَزِيدَ ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ ، " أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَهَى عَنْ بَيْعَتَيْنِ وَعَنْ لِبْسَتَيْنِ أَمَا الْبَيْعَتَانِ فَالْمُلامَسَةُ ، وَالْمُنَابَذَةُ وَأَمَّا اللِّبْسَتَانِ فَاشْتِمَالُ الصَّمَّاءِ ، وَالاحْتِبَاءُ بِثَوْبٍ وَاحِدٍ لَيْسَ عَلَى فَرْجِهِ مِنْهُ شَيْءٌ .
نوید مجید طیب
سیدنا ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے دو قسم کی بیع اور دو قسم کے لباس سے منع فرمایا جو دو بیع ہیں وہ ملامسہ، منابذہ اور لباس اشتمال الصماء اور الاحتباء یعنی ایک ہی کپڑے میں ایسے انداز سے بیٹھنا کہ شرمگاہ پر کوئی چیز نہ ہو اس سے منع فرمایا۔
وضاحت:
«اشتمال الصماء» سے مراد ایک کپڑے میں خود کو اس طرح جکڑ دینا ہے کہ وہی شلوار اور قمیض کا کام دے اور ہاتھ بھی باہر نہ آ سکیں شریعت نے اس سے منع کیا آدمی کو اس صورت میں اگر کوئی حادثہ پیش آجائے تو حرکت ممکن نہیں اور دوسرا جب سجدہ کرے گا تو پچھلی صف کے لیے بے پردہ ہو جائے گا۔ اس لیے اس حالت سے منع فرمایا۔
«الاحتباء» سے مراد ایک کپڑا لپیٹ کر اس انداز میں بیٹھنا کہ شرم گاہ ننگی ہو جائے جیسے تہبند پہن کر گھٹنے پکڑ کر بیٹھنا یا مرد حضرات حالت احرام میں ایسے بیٹھیں تو پردہ ظاہر ہو جاتا ہے اس لیے اس سے بھی منع فرمایا۔
➌ شریعت ہمیں با حیا با پردہ دیکھنا چاہتی ہے۔ لہذا ہر وہ بیٹھنے یا لیٹنے کا طریقہ جس سے پردہ قائم نہ رہ سکے اس سے بچنا ضروری ہے۔
حوالہ حدیث السنن المأثورة / باب في البيوع / حدیث: 231
تخریج حدیث صحیح بخاری، الاستئذان، باب الجلوس كيف ما تيسر، رقم: 6284، صحیح مسلم، البیوع، باب ابطال بيع الملامسة والمنابذة، رقم: 1512
حدیث نمبر: 232
عَنْ مَالِكٍ ، عَنْ أَبِي الزِّنَادِ ، عَنِ الأَعْرَجِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، " أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَهَى عَنِ الْمُلامَسَةِ وَالْمُنَابَذَةِ " .
نوید مجید طیب
سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ملامسہ اور منابذہ بیع سے منع فرمایا۔
وضاحت:
«ملامسه» اس بیع میں خریدار کپڑے کو بغیر دیکھے چھوتا ہے اور اس کے چھونے سے ہی بیع لازم ہو جاتی ہے۔
«منابذه» ایک آدمی اپنا کپڑا بیچنے کے لیے خریدار کی طرف پھینکتا ہے قبل اس سے کہ خریدار کپڑے کو الٹ پلٹ کر کے غور و فکر سے دیکھے محض پھینکنے سے بیع لازم ہو جاتی ہے۔
مذکورہ بالا دونوں بیوع میں چونکہ دھوکہ و فریب کا اندیشہ ہے اس لیے ان سے منع کیا گیا ہے نیز یہ دونوں طریقے خیار مجلس کے ابطال کا بھی باعث ہیں اس لیے یہ بیوع جائز نہیں۔
➋ یہ اور اس طرح کی دیگر بیوع جاہلیت کی بیوع ہیں دور حاضر پھر سے پہلی جاہلیت کی طرف پلٹ گیا ہے اور اس کو جہالت کے سبب ترقی اور معاشیات کے اصول سمجھ بیٹھا ہے حالانکہ صدیوں قبل تاجدار مدینہ صلی اللہ علیہ وسلم ان جعلی اور مبنی بر دھوکہ بیوع کو ختم کر گئے ہیں۔
لوٹ جا عہد نبوی صلی اللہ علیہ وسلم کی سمت رفتار جہاں
پھر مری پسماندگی کو ارتقا درکار ہے
➌ دوسرا مقام افسوس یہ ہے کہ علماء نے تجارت چھوڑ دی ہے جبکہ محدثین آئمہ میں سے متعدد بزرگ تجارت کے پیشے سے منسلک تھے جن کی بدولت بازاروں میں لوگوں کو اسلامی تجارتی اصولوں سے واقفیت رہتی تھی اور دوسری طرف علماء معاش میں خود کفیل ہو جاتے بلا خوف حق بیان کرتے۔ اور حاکم/ خلیفہ کی طرف سے صاحب السوق آفیسر بھی گشت کرتا رہتا تھا جہاں خرابی نظر آتی اصلاح کرتا تھا۔
حوالہ حدیث السنن المأثورة / باب في البيوع / حدیث: 232
تخریج حدیث صحیح بخاری، البيوع، باب بيع المنابذہ، رقم: 2146، صحیح مسلم، البيوع، باب ابطال بيع الملامسة والمنابذہ، رقم: 1511
حدیث نمبر: 233
أَنْبَأَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ دِينَارٍ ، أَنَّهُ سَمِعَ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عُمَرَ ، يَقُولُ : سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ : " الْبَيِّعَانِ كُلُّ وَاحِدٍ مِنْهُمَا بِالْخِيَارِ عَلَى صَاحِبِهِ مَا لَمْ يَفْتَرِقَا أَوْ يَكُونُ بَيْعُهُمَا عَنْ خِيَارٍ فَإِذَا كَانَ الْبَيْعُ عَنْ خِيَارٍ فَقَدْ وَجَبَ " .
نوید مجید طیب
سیدنا عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا بائع اور خریدار ہر دو کو جدا ہونے سے قبل بیع ختم کرنے کا اختیار ہے یا ان کی بیع میں خیار ہوا اگر ایسی بات ہے تو بیع پکی ہوگئی۔
وضاحت:
جب تک بائع یا مشتری نے مجلس بیع تبدیل نہیں کی ہر ایک کو بیع ختم کرنے کا اختیار ہے اگر دوکان چھوڑ کر گاہک چلا گیا تو بیع پکی ہوگئی یا مجلس میں طے کر لیں کہ بیع پکی ہے ہمارا خیار ختم پھر بھی بیع پکی متصور ہو گی۔ اگر دونوں طے کر لیں کہ اتنی مدت تک ہمیں سوچنے کا اختیار ہوگا تو اُس مدت تک اختیار باقی رہے گا۔
حوالہ حدیث السنن المأثورة / باب في البيوع / حدیث: 233
تخریج حدیث صحیح بخاری، البيوع، باب اذا كان البائع بالخيار هل يجوز ...... الخ، رقم: 2113، صحیح مسلم، البيوع، باب ثبوت خيار المجلس للمتبايعين، رقم: 1531
حدیث نمبر: 234
عَنْ سُفْيَانَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ قَالَ : أَمْلَى عَلَيَّ نَافِعٌ أَنَّ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عُمَرَ أَخْبَرَهُ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " إِذَا تَبَايَعَ الْمُتَبَايِعَانِ بِالْبَيْعِ فَكُلُّ وَاحِدٍ مِنْهُمَا بِالْخِيَارِ مِنْ بَيْعِهِ مَا لَمْ يَتَفَرَّقَا أَوْ يَكُونُ بَيْعُهُمَا عَنْ خِيَارٍ وَإِذَا كَانَ عَنْ خِيَارٍ فَقَدْ وَجَبَ " . فَكَانَ ابْنُ عُمَرَ إِذَا بَاعَ الرَّجُلُ وَلَمْ يُخَيِّرْهُ فَأَرَادَ أَنْ لا يَقْبَلَهُ قَامَ فَمَشَى هُنَيْهَةً ثُمَّ رَجَعَ .
نوید مجید طیب
سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ”جب بیع کرنے والے آپس میں سودا کریں تو دونوں کو جدا ہونے تک بیع ختم کرنے کا اختیار ہے یا ان کی بیع میں خیار ختم کر دیا گیا ہو اگر ایسی بات ہے تو بیع پکی ہوگئی۔“ نافع رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ ابن عمر رضی اللہ عنہما جب کسی سے سودا کرتے خیار نہ دیا ہوتا تو چاہتے کہ وہ اقالہ یعنی بیع کی واپسی کا مطالبہ نہ کرے۔ تو ابن عمر رضی اللہ عنہما تھوڑا سا چلتے پھر اس کے پاس واپس آجاتے۔
وضاحت:
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما راوی حدیث کے عمل سے معلوم ہوا کہ اس حدیث میں خیار سے مراد مجلس کی تبدیلی ہے نہ کہ تبدیل کلام بعض کہتے ہیں کہ خیار سے مراد سودا کرتے ہوئے کلام میں خیار ہے یعنی کہے کہ بھائی میں نہیں لیتا، یا سودا کر کے اگر دائیں بائیں کی باتیں شروع کر دے تو بیع پکی ہے اب واپس نہیں کر سکتا جبکہ دلائل کا تقاضا ہے کہ جب تک مجلس تبدیل نہیں ہوتی بائع اور مشتری کو بیع کے نفاذ یا فسخ کا اختیار ہے۔
حوالہ حدیث السنن المأثورة / باب في البيوع / حدیث: 234
تخریج حدیث صحیح مسلم، البيوع، باب ثبوت خيار المجلس للمتبايعين، رقم: 1531
حدیث نمبر: 235
عَنْ يَحْيَى بْنِ حَسَّانَ ، عَنِ اللَّيْثِ بْنِ سَعْدٍ ، عَنْ نَافِعٍ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، أَنَّهُ قَالَ : " إِذَا ابْتَاعَ الرَّجُلانِ فَكُلُّ وَاحِدٍ مِنْهُمَا بِالْخِيَارِ مَا لَمْ يَتَفَرَّقَا إِلا بَيْعَ الْخِيَارِ وَكَانَا جَمِيعًا أَوْ يُخَيِّرُ أَحَدُهُمَا الآخَرَ فَإِنْ خَيَّرَ أَحَدُهُمَا الآخَرَ فَتَبَايَعَا عَلَى ذَلِكَ فَقَدْ وَجَبَ الْبَيْعُ وَإِنْ تَفَرَّقَا بَعْدَ أَنْ تَبَايَعَا وَلَمْ يَتْرُكْ وَاحِدٌ مِنْهُمَا الْبَيْعَ فَقَدْ وَجَبَ الْبَيْعُ " .
نوید مجید طیب
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ”جب دو آدمی خرید و فروخت کریں تو دونوں کو جدا ہونے تک بیع ختم کرنے کا اختیار ہے مگر بیع خیار (اختیار ختم کرتا ہے یا اختیار کی مدت مقرر کر دیتا ہے اس کا حکم جدائی سے متعلق نہ ہوگا) اور دونوں اکٹھے رہیں (الا یہ کہ) ان میں سے کوئی ایک دوسرے کو (بوقت بیع) اختیار دے دے اگر بیع کے وقت ہی ان دونوں نے ایک دوسرے کو اختیار دے دیا تو وہ اس پر سودا کر لیں تو بیع پکی ہوگئی اور اگر سودا کرنے کے بعد وہ ایک دوسرے سے جدا ہوئے اور اس وقت تک کسی نے بیع واپس نہیں کی تو بیع پکی ہوگئی (ناقابل واپسی ہے)“
حوالہ حدیث السنن المأثورة / باب في البيوع / حدیث: 235
تخریج حدیث صحیح بخاری، البيوع، باب اذا خير احدهما صاحبه بعد البيع فقد وجب البيع، رقم: 2112، صحیح مسلم، البيوع، باب ثبوت خيار المجلس للمتبايعين، رقم: 1531
حدیث نمبر: 236
عَنْ مَالِكٍ ، عَنْ نَافِعٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " الْمُتَبَايِعَانِ كُلُّ وَاحِدٍ مِنْهُمَا بِالْخِيَارِ عَلَى صَاحِبِهِ مَا لَمْ يَتَفَرَّقَا إِلا بَيْعَ الْخِيَارِ " .
نوید مجید طیب
سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”لین دین کرنے والے جدا ہونے سے قبل قبل بیع ختم کرنے کا اختیار رکھتے ہیں بیع خیار کے علاوہ۔“
وضاحت:
اگر کہیں خیار ختم ہے بیع پکی ہے تو اس صورت میں چونکہ انہوں نے خود خیار ختم کیا تو بیع پکی متصور ہوگی اگر کہیں دس دن قابلِ واپسی کا اختیار ہے تو جیسا انہوں نے طے کیا وہی ہوگا۔
حوالہ حدیث السنن المأثورة / باب في البيوع / حدیث: 236
تخریج حدیث صحیح بخاری، البيوع، باب البيعان بالخيار ما لم يتفرقا، رقم: 2111، صحیح مسلم، البيوع، باب ثبوت خيار المجلس للمتبايعين، رقم: 1531
حدیث نمبر: 237
عَنْ سُفْيَانَ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَجْلانَ ، عَنْ عَوْنِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، عَنِ ابْنِ مَسْعُودٍ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " إِذَا اخْتَلَفَ الْبَيِّعَانِ فَالْقَوْلُ مَا قَالَ الْبَائِعُ وَالْمُبْتَاعُ بِالْخِيَارِ " .
نوید مجید طیب
سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے روایت ہے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جب بائع ومشتری کا اختلاف ہو جائے تو بائع کے قول کا اعتبار ہوگا اور مشتری کو اختیار ہے۔“
وضاحت:
➊ لین دین میں اختلاف کا ہو جانا عین ممکن ہے۔ اگر بائع اور مشتری میں اختلاف واقع ہو جائے تو ایسی صورت میں بائع کے قول کو معتبر مانا جائے گا اور مشتری کو بیع نافذ کرنے یا فسخ کرنے کا اختیار ہوگا۔
➋ سیدنا اشعث رضی اللہ عنہ نے سیدنا عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے بیس ہزار میں کچھ غلام خریدے جو کہ خمس کے تھے سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ نے قیمت لینے کے لیے آدمی بھیجا تو انہوں نے کہا میں نے انہیں دس ہزار میں لیا ہے، سیدنا اشعث رضی اللہ عنہ نے کہا آپ خود ہی میرے اور اپنے درمیان فیصلہ کر دیں تو سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے مذکورہ بالا حدیث سنائی۔ [سنن ابي داود: 3511]
حوالہ حدیث السنن المأثورة / باب في البيوع / حدیث: 237
تخریج حدیث سنن ترمذی، البيوع، باب ماجاء اذا اختلف البيعان، رقم: 1270، وقال الالبانی صحیح، مسند احمد: 444/7، رقم: 4444، وقال الارنوؤط حسن
حدیث نمبر: 238
عَنْ مَالِكِ بْنِ أَنَسٍ ، عَنْ أَبِي الزِّنَادِ ، عَنِ الأَعْرَجِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " مَطْلُ الْغَنِيِّ ظُلْمٌ وَإِذَا أُتْبِعَ أَحَدُكُمْ عَلَى مَلِيءٍ فَلْيَتْبَعْ " .
نوید مجید طیب
سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ”قرض کی ادائیگی میں مالدار کا ٹال مٹول کرنا ظلم ہے اور جب تم میں سے کسی قرض خواہ کو کسی مالدار شخص کے پیچھے لگایا جائے (کہ اس سے وصول کر لو) تو اس کے پیچھے لگ جانا چاہیے۔“
وضاحت:
➊ ایک آدمی نے قرض دینا ہے لیکن استطاعت نہیں رکھتا کوئی تیسرا آدمی کہتا ہے کہ میں اداء کر دوں گا تو قرض خواہ کو یہ بات تسلیم کر لینی چاہیے، یا قرض خواہ کو مقروض کسی تیسرے آدمی کی طرف بھیجتا ہے کہ اُس سے وصولی کر لیں تو آدمی کو اس سے رابطہ کرنا چاہیے تاکہ اپنا حق جلد وصول کر لے اگر تیسرا آدمی انکار کرتا ہے تو پہلے آدمی سے ہی وصول کرے گا۔
➋ مالدار کا ٹال مٹول ظلم ہے جیسے ایک آدمی قرض لیتا ہے پھر واپس کرنے کی استطاعت بھی رکھتا ہے اس کے باوجود ٹال مٹول کرتا ہے تو یہ ظلم ہے اگر نادار بندہ ہے تو اس کا ٹال مٹول ظلم نہیں اسے مہلت دینی چاہیے اور نرمی برتنی چاہیے۔
➌ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد گرامی ہے کہ جو قرض ادائیگی کی نیت سے لیتا ہے اللہ اس کی مدد کرتے ہیں۔ یعنی اللہ تعالیٰ اسے توفیق دیتا ہے یا مالی حالت بہتر کر دیتا ہے اللہ کی مدد سے قرض واپس ہو جاتا ہے۔ [سنن نسائی، رقم الحدیث: 4687]
اس کا ایک مطلب یہ ہے کہ جو قرض اس نیت سے لیتا ہے کہ واپس نہیں کرے گا اللہ اسے قرض کی واپسی کی توفیق بھی نہیں دیتا نہ اس کی مدد کی جاتی ہے حتی کہ یہی قرض اس کو جہنم میں لے جائے گا۔ «العياذ بالله»
➍ قرض کا معاملہ بہت سخت ہے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے اگر ایک بندہ اللہ کے راستہ میں شہید کر دیا جائے پھر زندہ ہو پھر شہید پھر زندہ پھر شہید ہو جائے اور اس کے ذمے قرض واجب الاداء ہو تو (تین دفعہ شہادت کا مقام پانے والا) جنت میں داخل نہیں ہوگا جب تک کہ اس کی طرف سے قرض ادا نہ کر دیا جائے۔ [سنن نسائی، رقم الحدیث: 4684]
عام شہید شہادت کے ساتھ ہی جنت میں بغیر حساب پہنچ جاتا ہے لیکن قرض اسے بھی معاف نہیں جنت میں جانے میں قرض رکاوٹ ہے۔
➎ میت کے مال کو تقسیم کرنے سے قبل اس کی وصیت کو پورا کرنا اور اس کے ذمہ قرض کی ادائیگی لازم ہے پھر وراثت تقسیم ہوگی۔ [النساء: 12]
➏ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مقروض کا جنازہ نہ پڑھاتے تھے ایک میت پر تین دینار قرض تھا آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: «صلوا على صاحبكم» تم اپنے ساتھی کا جنازہ پڑھ لو۔ [صحیح بخاری، رقم الحدیث: 2289]
یہ بظاہر معمولی سی رقم ہے لیکن اس کے باوجود رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے جنازہ پڑھانے سے انکار کر دیا، جب رقم کی ادائیگی کا ذمہ لیا گیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے نماز جنازہ پڑھائی۔
حوالہ حدیث السنن المأثورة / باب في البيوع / حدیث: 238
تخریج حدیث صحیح بخاری، الحوالات، باب في الحوالة وهل يرجع في الحوالة، رقم : 2287 ، صحیح مسلم ، المساقاة، باب تحريم مطل الغنى، رقم : 1564
حدیث نمبر: 239
أَنْبَأَنَا مَالِكُ بْنُ أَنَسٍ ، عَنْ زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ يَسَارٍ ، عَنْ أَبِي رَافِعٍ مَوْلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، أَنَّهُ قَالَ : اسْتَسْلَفَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَكْرًا ، فَجَاءَتْهُ إِبِلٌ مِنَ الصَّدَقَةِ ، قَالَ أَبُو رَافِعٍ : فَأَمَرَنِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ أَقْضِيَ الرَّجُلَ بَكْرَهُ ، فَقُلْتُ لَهُ : إِنِّي لا أَجِدُ فِي الإِبِلِ إِلا جَمَلا خِيَارًا رَبَاعِيًا ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " أَعْطِهِ إِيَّاهُ ؛ فَإِنَّ خِيَارَ النَّاسِ أَحْسَنُهُمْ قَضَاءً " .
نوید مجید طیب
سیدنا ابو رافع رضی اللہ عنہ مولی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک جوان اونٹ قرض پر لیا جب صدقے کے اونٹ آئے تو سیدنا ابو رافع رضی اللہ عنہ سے فرمایا: ”اس آدمی کا قرض اداء کر دو۔“ سیدنا ابو رافع رضی اللہ عنہ کہتے ہیں میں نے عرض کی اونٹوں میں اس طرح کا کوئی (نوعمر) نہیں مگر چوگا ساتویں سال کا اچھا اونٹ ہی ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اسے وہی دے دو لوگوں میں بہتر وہ ہے جو ادائیگی میں بہتر ہو۔“
وضاحت:
➊ قرض واپس کرتے ہوئے اگر احسان کرتے ہوئے خود زیادہ یا عمدہ واپس کر دیا جائے تو جائز ہے جبکہ ابتداء میں اضافہ کی شرط لگانا اسی طرح قرض خواہ کا زیادہ مطالبہ کرنا سود ہے۔
➋ اس حدیث سے معلوم ہوا کہ قرض کی ادائیگی میں وکیل مقرر کرنا درست ہے۔
➌ جانور قرض لیا جا سکتا ہے اگر ہو بہو جانور لوٹانا ممکن ہو تو بہتر جانور واپس کرنا چاہیے۔
➍ جانور کا قرض ادھار درست ہے لیکن جانور کی بیع جانور کے ساتھ ہو تو ادھار حرام ہے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حیوان کے بدلے حیوان کی ادھار بیع سے منع فرمایا۔ [سنن ابی داؤد، رقم الحدیث: 3356]
➎ حیوان کی بیع حیوان کے ساتھ نقد ہو تو کمی و بیشی درست ہے ایک بکری کے عوض دو چھوٹی بکریاں لینا جائز ہے۔ اس طرح بیع اور قرض کے حکم میں فرق ہے، عام طور پر گاؤں میں آلو، ماچس یا کوئی بھی گھریلو چیز ختم ہو جائے تو عورتیں پڑوس سے ادھار مانگ لاتی ہیں کہ جب ہم لائیں گے واپس کر دیں گے اور واپسی ظاہر ہے کمی پیشی کے ساتھ کرتی ہیں تو اگر یہ بیع ہوتی تو ادھار پر بیع حرام ہوتی کیونکہ جنس ایک ہے لیکن قرض تھا تو بوجہ ضرورت جائز ہے۔ تجارت میں ادھار صرف اس صورت منع ہے جب عوض میں وہی جنس دینی ہے اگر روپے واپس کرنے ہیں تو پھر ادھار تجارت بھی جائز ہے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک غلام دو کالے غلاموں کے بدلے خریدا۔ [صحیح مسلم، رقم الحدیث: 1602]
➏ تمام حیوانات کا یہی حکم ہے جبکہ غلہ، اشیاء خوردنی اور سونے چاندی میں کمی و بیشی سے منع کیا، لیکن نقد بنقد کی دونوں میں شرط ہے، نقد بنقد کی صرف اس وقت شرط نہیں جب خریدار اشیاء کے بدلے کرنسی ادا کرے۔
حوالہ حدیث السنن المأثورة / باب في البيوع / حدیث: 239
تخریج حدیث صحیح مسلم، المساقاة، باب من استسلف شيئًا فقضى خيرا منه رقم 1600
حدیث نمبر: 240
عَنْ سُفْيَانَ بْنِ عُيَيْنَةَ ، عَنْ أَبِي الزِّنَادِ ، عَنِ الأَعْرَجِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " لا تَلَقَّوَا الرُّكْبَانَ " .
نوید مجید طیب
سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تجارتی قافلوں کو منڈی سے باہر جا کر نہ ملو“
وضاحت:
➊ مال کے متعلقہ منڈی میں پہنچنے سے پہلے اس کو خریدنا درست نہیں۔ کیونکہ ایک تو باہر سے آنے والے کو بازار کا بھاؤ پتہ نہیں ہوتا اس سے سستے دام خرید کر اس کا نقصان کرنا نامناسب ہے۔ دوسرا اس حرکت سے مہنگائی بڑھ جاتی ہے ذخیرہ اندوزی اور منڈی پر اجارہ داری بھی پروان چڑھتی ہے۔ باہر سے آنے والا بسا اوقات جاتے ہوئے عوام کو سستا سامان فروخت کر جاتا ہے جس سے غریب بھی استفادہ کرتے ہیں۔
➋ اسلام نہیں چاہتا کہ تاجر مسلمانوں کی منڈیوں سے واپس جائیں تو دلوں میں حسرت بغض اور نفرت لے کر جائیں اسلام ہر ایک کو معاشی آزادی دیتا ہے چاہے کافر ہو۔ اگر مسلمان حکمران ان سنہری اسلامی اصولوں پر عمل پیرا ہوں تو مہنگائی کو کنٹرول کر سکتے ہیں معیشت کے ڈوبتے بیڑے کا واحد سہارا اسلامی اصول تجارت ہی ہے۔
حوالہ حدیث السنن المأثورة / باب في البيوع / حدیث: 240
تخریج حدیث سنن نسائی، البيوع، باب النهي عن المصراة، رقم : 4487، وقال الالباني: صحيح ، مسند الحمیدی، رقم : 1027
حدیث نمبر: 241
أَنْبَأَنَا مَالِكٌ ، عَنْ أَبِي الزِّنَادِ ، عَنِ الأَعْرَجِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " لا تَلَقَّوَا الرُّكْبَانَ بِالْبَيْعِ " .
نوید مجید طیب
سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : تم سودے کرنے کے لیے تجارتی قافلوں کو راستے میں ہی اپروچ نہ کر لو۔
وضاحت:
اگر کوئی آدمی منڈی میں مال پہنچنے سے پیشتر سودا کر لے تو بائع کو سودا فسخ کرنے کا اختیار ہے۔ سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: «لا تلقوا الجلب فمن تلقى فاشترى منه فاذا اتى سيده السوق فهو بالخيار» باہر سے شہر غلہ لانے والوں کو آگے جا کر نہ ملو اور جو کوئی آگے جا کر ملاقات کر کے مال خرید لے اور مال کا مالک بعد میں منڈی میں آئے تو اسے سودا فسخ کرنے کا اختیار ہے۔ [صحيح مسلم: 1519]
حوالہ حدیث السنن المأثورة / باب في البيوع / حدیث: 241
تخریج حدیث صحیح بخاری ، البيوع، باب النهى للبائع ان لا يحفل ...... الخ، رقم : 2150، صحیح مسلم ،البيوع، باب تحريم بيع الرجل على بيع اخيه، رقم : 1515 ، صحیح مسلم، رقم الحدیث: 1519
حدیث نمبر: 242
عَنْ سُفْيَانَ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيِّبِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " وَلا يَبِيعُ الرَّجُلُ عَلَى بَيْعِ أَخِيهِ " .
نوید مجید طیب
سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: کوئی تاجر دوسرے کے سودے پر سودا نہ کرے۔
حوالہ حدیث السنن المأثورة / باب في البيوع / حدیث: 242
تخریج حدیث صحیح بخاری، البيوع، باب لا يبيع على بيع اخيه، رقم : 2140، صحیح مسلم، النکاح باب تحريم الخطبة على خطبة أخيه ..... الخ، رقم : 1413
حدیث نمبر: 243
عَنْ سُفْيَانَ ، عَنْ أَبِي الزِّنَادِ ، عَنِ الأَعْرَجِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " لا يَبِعْ بَعْضُكُمْ عَلَى بَيْعِ بَعْضٍ " .
نوید مجید طیب
سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: تمہارا کوئی شخص دوسرے کے سودے پر سودا نہ کرے۔
حوالہ حدیث السنن المأثورة / باب في البيوع / حدیث: 243
تخریج حدیث صحیح بخاری، البيوع، باب النهى للبائع ان لا يحفل الابل، رقم : 2150 صحیح مسلم البيوع، باب تحريم بيع الرجل على بيع أخيه، رقم : 1515
حدیث نمبر: 244
عَنْ سُفْيَانَ ، عَنْ أَيُّوبَ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ سِيرِينَ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِثْلَهُ .
نوید مجید طیب
محمد ابن سیرین رحمہ اللہ نے بھی سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے انہوں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے سابقہ روایت کی مانند روایت کیا۔
حوالہ حدیث السنن المأثورة / باب في البيوع / حدیث: 244
تخریج حدیث سنن ابی داؤد ،البیوع باب التلق، رقم : 3437 ، وقال الالباني: حديث ابى هريرة صحيح
حدیث نمبر: 245
عَنْ مَالِكِ بْنِ أَنَسٍ ، عَنْ أَبِي الزِّنَادِ ، عَنِ الأَعْرَجِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " وَلا يَبِيعُ بَعْضُكُمْ عَلَى بَيْعِ بَعْضٍ " .
نوید مجید طیب
سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ”تم میں سے کوئی بھی دوسرے کے سودے پر سودا نہ کرے۔“
حوالہ حدیث السنن المأثورة / باب في البيوع / حدیث: 245
تخریج حدیث تقدم تخريجه ، برقم : 244
حدیث نمبر: 246
أَنْبَأَنَا مَالِكُ بْنُ أَنَسٍ ، عَنْ نَافِعٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " لا يَبِعْ بَعْضُكُمْ عَلَى بَيْعِ بَعْضٍ " .
نوید مجید طیب
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : کوئی شخص دوسرے کی بیع پر بیع نہ کرے۔
وضاحت:
➊ خرید و فروخت اور تجارت انسانی زندگی کی بنیادی ضروریات میں سے ہے۔ اس لیے شریعت اسلامیہ نے اس سے متعلق ایسے اصول وضوابط وضع کیے ہیں جن کو اپنا کر اس نظام کو ظلم و جور سے پاک منفعت بخش بنایا جاسکتا ہے۔
➋ تجارتی اصولوں میں سے ایک اہم اصول اس حدیث میں بیان ہوا ہے کہ بیع پر بیع جائز نہیں۔
➌ امام ابو داؤد رحمہ اللہ فرماتے ہیں: امام سفیان رحمہ اللہ نے کہا: بیع پر بیع نہ کرنے کا مطلب یہ ہے کہ کوئی تیسرا آدمی سودا کے وقت آ کر کہے کہ میرے پاس اس سے بہتر مال موجود ہے۔ [سنن ابی داؤد، رقم الحدیث: 3437]
➍ ایسی حرکات سے اجتناب لازم ہے جن سے دوسروں کی حق تلفی ہو یا فتنہ و فساد کا خدشہ ہو۔
حوالہ حدیث السنن المأثورة / باب في البيوع / حدیث: 246
تخریج حدیث صحیح بخاری ، البيوع، باب لا يبيع على بیع أخيه، رقم : 2139، صحیح مسلم ، البيوع، باب تحريم بيع الرجل على بيع أخيه ، رقم : 1412
حدیث نمبر: 247
عَنْ سُفْيَانَ بْنِ عُيَيْنَةَ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيِّبِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " لا تَنَاجَشُوا " .
نوید مجید طیب
سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ”دھوکا دینے کے لیے قیمت نہ بڑھاؤ۔“
حوالہ حدیث السنن المأثورة / باب في البيوع / حدیث: 247
تخریج حدیث تقدم ، تخرجه برقم : 243
حدیث نمبر: 248
عَنْ مَالِكِ بْنِ أَنَسٍ ، عَنْ نَافِعٍ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، " أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَهَى عَنِ النَّجْشِ " .
نوید مجید طیب
سیدنا عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے دھوکا دینے کے لیے قیمت بڑھانے سے منع کیا۔
حوالہ حدیث السنن المأثورة / باب في البيوع / حدیث: 248
تخریج حدیث صحیح بخاری، البيوع، باب النجش، رقم: 2142، صحیح مسلم، البيوع، باب تحريم بيع الرجل على بيع اخيه، رقم: 1516
حدیث نمبر: 249
أَنْبَأَنَا مَالِكٌ ، وَسُفْيَانُ ، عَنْ أَبِي الزِّنَادِ ، عَنِ الأَعْرَجِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " وَلا تَنَاجَشُوا " .
نوید مجید طیب
سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”دھوکا دینے کے لیے ایک دوسرے سے بڑھ کر قیمت نہ لگاؤ۔“
حوالہ حدیث السنن المأثورة / باب في البيوع / حدیث: 249
تخریج حدیث تقدم تخريجه برقم: 245
حدیث نمبر: 250
عَنْ سُفْيَانَ بْنِ عُيَيْنَةَ ، عَنْ أَيُّوبَ ، عَنِ ابْنِ سِيرِينَ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " وَلا تَنَاجَشُوا " .
نوید مجید طیب
سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”دھوکہ دینے کے لیے قیمت نہ بڑھاؤ۔“
وضاحت:
➊ نجش: کسی کو دھوکا دینے کے لیے جو چیز بکتی ہے اس کی تعریف کرنا، دھوکا دینے کی نیت سے نرخ بڑھانا تاکہ دوسرا شخص اس کو جلد خریدے یا کسی بکتی چیز کی برائی کرنا تاکہ خریدار اس کو چھوڑ کر دوسری طرف جائے۔ [لغات الحدیث: 4/304، 305]
➋ ہمارے عرف میں بولی دے کر چیز فروخت کی جاتی ہے کہ 500 کی لے لو، اگر 500 پر کوئی آمادہ نہیں ہوتا تو 50 اور کم کر کے کہتا ہے 450 کی لے لو، یہ بولی جائز ہے کیونکہ اس میں کوئی دھوکا نہیں وہی حصہ لیتا ہے جس نے خریدنی ہوتی ہے، اگر اس کی بھی کوئی ایسی صورت ہے کہ غیر خریدار قیمت بڑھا رہا ہے تو پھر یہ بھی ناجائز ہو جائے گی۔
➌ حدیث میں مذکور صورت کو اس لیے ممنوع قرار دیا گیا کیونکہ بولی دینے والا جھوٹ بول کر محض دھوکا دہی کرتا ہے۔
حوالہ حدیث السنن المأثورة / باب في البيوع / حدیث: 250
تخریج حدیث السنن الكبرى للبيهقى: 344/5 و اسناده صحيح
حدیث نمبر: 251
حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيِّبِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " وَلا يَبِيعُ حَاضِرٌ لِبَادٍ " .
نوید مجید طیب
سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”کوئی شہری کسی دیہاتی کا سامان نہ بیچے۔“
حوالہ حدیث السنن المأثورة / باب في البيوع / حدیث: 251
تخریج حدیث صحیح بخاری، البيوع، باب لا يبيع على بيع اخيه ولا يسوم على سوم اخيه الخ، رقم: 2140، صحیح مسلم، البيوع، باب تحريم بيع الحاضر للبادى، رقم: 1520
حدیث نمبر: 252
عَنْ سُفْيَانَ بْنِ عُيَيْنَةَ ، عَنْ أَبِي الزِّنَادِ ، عَنِ الأَعْرَجِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " وَلا يَبِعْ حَاضِرٌ لِبَادٍ " .
نوید مجید طیب
سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”کوئی شہری کسی دیہاتی کا مال نہ بیچے۔“
حوالہ حدیث السنن المأثورة / باب في البيوع / حدیث: 252
تخریج حدیث صحیح بخاری، البيوع، باب النهى للبائع ان لا يحفل الابل، رقم: 2150، صحیح مسلم، البيوع، باب تحريم بيع الرجل على بيع أخيه رقم: 1515
حدیث نمبر: 253
عَنْ سُفْيَانَ ، قَالَ الطَّحَاوِيُّ : أُرَاهُ عَنْ أَيُّوبَ ، عَنِ ابْنِ سِيرِينَ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِثْلَهُ .
نوید مجید طیب
سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ کے واسطہ سے ایک اور سند سے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے گزشتہ حدیث کی مانند مروی ہے۔
حوالہ حدیث السنن المأثورة / باب في البيوع / حدیث: 253
تخریج حدیث شرح معانی الآثار للطحاوي: 11/4، اسناده صحيح
حدیث نمبر: 254
عَنْ مَالِكٍ ، عَنْ أَبِي الزِّنَادِ ، عَنِ الأَعْرَجِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " وَلا يَبِيعُ حَاضِرٌ لِبَادٍ " .
نوید مجید طیب
سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”کوئی شہری کسی دیہاتی کا سامان نہ بیچے۔“
حوالہ حدیث السنن المأثورة / باب في البيوع / حدیث: 254
تخریج حدیث تقدم تخریجه برقم: 252
حدیث نمبر: 255
عَنْ سُفْيَانَ بْنِ عُيَيْنَةَ ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ ، عَنْ جَابِرٍ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " لا يَبِيعُ حَاضِرٌ لِبَادٍ دَعُوا النَّاسَ يَرْزُقُ اللَّهُ بَعْضَهُمْ مِنْ بَعْضٍ " .
نوید مجید طیب
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”کوئی شہری کسی دیہاتی کا سامان نہ فروخت کرے بلکہ لوگوں کو خود فروخت کر لینے دو تاکہ اللہ تعالیٰ ان کو ایک دوسرے سے رزق عطا فرمائے۔“
حوالہ حدیث السنن المأثورة / باب في البيوع / حدیث: 255
تخریج حدیث صحیح مسلم، البيوع، باب تحريم بيع الحاضر للبادى رقم: 1522
حدیث نمبر: 256
عَنْ مَالِكِ بْنِ أَنَسٍ ، عَنْ أَبِي الزِّنَادِ ، عَنِ الأَعْرَجِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " وَلا يَبِيعُ حَاضِرٌ لِبَادٍ " .
نوید مجید طیب
سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”شہری دیہاتی کا مال فروخت نہ کرے۔“
وضاحت:
➊ سیدنا عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے مذکورہ حدیث کی وضاحت طلب کی گئی تو انہوں نے فرمایا: «لا يكون له سمساراً» کہ کوئی شہری کسی دیہاتی کے لیے دلال نہ بنے۔ [صحیح بخاری، رقم الحدیث: 2158، صحیح مسلم، رقم الحدیث: 1521]
➋ امام نووی رحمہ اللہ فرماتے ہیں: ہمارے نزدیک اس سے مراد یہ ہے کہ ایک اجنبی آدمی دیہات سے یا دوسرے شہر سے ایسا سامان جس کی سبھی کو ضرورت ہے اس روز کے نرخ کے مطابق فروخت کرنے کے لیے لاتا ہے اور شہری اسے کہتا ہے اس کو میرے پاس چھوڑ دو تاکہ میں اسے بتدریج اعلیٰ نرخ پر بیچوں۔ [شرح مسلم: 164/10]
➌ شہری اور دیہاتی ہر ایک کو آزادانہ تجارت کا حق حاصل ہے۔
➍ لوگوں کے لین دین کے معاملات میں مداخلت جائز نہیں۔
➎ اس حدیث کے ذریعے ذخیرہ اندوزی، مصنوعی قلت پیدا کرنے کے رجحان کی بھی حوصلہ شکنی کی گئی ہے۔
➏ لوگوں کو ایک دوسرے سے رزق ملتا ہے لہذا تجارت آزاد رہنی چاہیے تاکہ اشیائے ضرورت ہر بندے تک آسانی سے پہنچتی رہیں۔
حوالہ حدیث السنن المأثورة / باب في البيوع / حدیث: 256
تخریج حدیث تقديم تخريجه، برقم: 252
حدیث نمبر: 257
عَنْ سُفْيَانَ ، عَنْ أَبِي الزِّنَادِ ، عَنِ الأَعْرَجِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " وَلا تُصَرُّوا الإِبِلَ وَلا الْغَنَمَ لِلْبَيْعِ فَمَنِ ابْتَاعَهَا بَعْدَ ذَلِكَ فَهُوَ بِخَيْرِ النَّظَرَيْنِ بَعْدَ أَنْ يَحْلِبَهَا إِنْ رَضِيَهَا أَمْسَكَهَا وَإِنْ سَخِطَهَا رَدَّهَا وَصَاعًا مِنْ تَمْرٍ " .
نوید مجید طیب
سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اونٹنی یا بکری کو فروخت کرنے کے لیے دودھ تھن میں نہ روکو جس نے ایسا جانور خریدا تو دودھ نکال لینے کے بعد اسے دو باتوں کا اختیار ہے اگر اس بیع سے راضی ہے تو روک لے اگر ناراض ہے تو جانور واپس کر دے اور ساتھ ایک صاع کھجور بھی دے۔“
وضاحت:
➊ بیع المصراۃ یا حدیث المصراۃ کے نام سے یہ حدیث مشہور ہے، اس حدیث میں دلیل ہے کہ عیب دار چیز بسبب عیب جو بائع نے مخفی رکھا ظاہر ہونے پر سودا منسوخ ہوگا۔
➋ جانوروں کا دودھ روکنے کا مقصد گاہک کو دھوکا دینا ہے کہ جانور بہت دودھ دینے والا ہے اسی حساب سے قیمت لگاتا ہے خریدار خریدنے کے بعد تین دن جانور چیک کر سکتا ہے دودھ آزما سکتا ہے اگر پسند ہے تو روک لے اگر پسند نہ آئے تو واپس کرے اور ساتھ ایک صاع کھجور یا جو بھی مواد غذائیہ ہو دے تاکہ جانور سے استفادے کا ازالہ ہو سکے اور مسلمانوں میں صلہ رحمی قائم رہے۔
➌ بعض الناس کا اس حدیث کو خود ساختہ فقہی اصولوں کے خلاف قرار دیتے ہوئے اس حدیث پر عمل نہ کرنا یا اسے منسوخ قرار دینا درست نہیں۔
خود بدلتے نہیں قرآن کو بدل دیتے ہیں
ہوئے کس درجہ فقیہانِ حرم بے توفیق
➍ حدیث کے راوی سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کو غیر فقیہ قرار دینا اور یہ کہنا کہ اگر کوئی غیر فقیہ راوی قیاس کے خلاف حدیث بیان کرے تو اس کو قبول نہیں کیا جائے گا سراسر نا انصافی اور ظلم ہے۔
حوالہ حدیث السنن المأثورة / باب في البيوع / حدیث: 257
تخریج حدیث سنن نسائی، البيوع، باب النهي عن المصراة، رقم: 4487 وقال الالباني: صحيح، مسند الحمیدی: 446/2، رقم: 1028
حدیث نمبر: 258
عَنْ سُفْيَانَ ، عَنْ أَيُّوبَ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ سِيرِينَ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِثْلَهُ إِلا أَنَّهُ قَالَ : " رَدَّهَا وَصَاعًا مِنْ تَمْرٍ لا سَمْرَاءَ " .
نوید مجید طیب
محمد بن سیرین رحمہ اللہ نے بھی سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے اس طرح روایت کیا لیکن اتنا اضافہ ہے کہ ”گندم نہیں بلکہ ایک صاع کھجور دے۔“
وضاحت:
➊ ایک روایت کی تفصیل یہ ہے کہ جس شخص نے ایسا جانور خریدا اسے تین دن تک اختیار رہتا ہے۔ کیونکہ اتنے دنوں میں اصل دودھ کا پتہ چل جاتا ہے اور دھوکا واضح ہو جاتا ہے۔
➋ گندم چونکہ عرب میں مہنگی اور کھجور سستی تھی اس لیے مہنگی کی قید نہیں لگائی جبکہ ہمارے ہاں کھجور مہنگی گندم سستی ہے گندم یا چاول اگر عام خوراک ہے تو وہ دی جائے گی۔
➌ امام ابو یوسف رحمہ اللہ کی رائے میں گندم کے صاع کی قیمت بھی دی جا سکتی ہے۔
➍ ایک صاع غلہ ساتھ دینا اخلاقی بنیاد پر ہے بائع ناراضگی محسوس نہ کرے تحفہ دلوں کو نرم کرتا ہے محبت بڑھاتا ہے اور تجارت کو منقطع نہیں کرتا۔
➎ جو لوگ صاع کا متبادل تلاش کرنے میں پڑ گئے ہیں کہ یہ پہلے دن کے دودھ کا عوض ہے۔ دودھ زیادہ تھا یا کم یہ سعی لا حاصل ہے ظاہر ہے جب جانور خریدا قیمت دی تو دودھ بھی تو ساتھ ہی خریدا تھا پھر چارہ وغیرہ بھی تو ڈالا ساتھ لے جانے واپس لانے میں بھی تو مشقت اٹھائی اور بسا اوقات گاڑی کا کرایہ بھی برداشت کیا منڈی کی رسید بھی خریدی شریعت کے احکام مستقل اور تا قیامت ہیں اس لیے محض عقلی گھوڑے دوڑانا اور راوی حدیث پر جرح شروع کر دینا کم عقلی کے سوا کچھ نہیں۔
حوالہ حدیث السنن المأثورة / باب في البيوع / حدیث: 258
تخریج حدیث صحیح مسلم، البيوع، باب حكم بيع المصراة، رقم: 1524
حدیث نمبر: 259
عَنْ مَالِكٍ ، عَنْ أَبِي الزِّنَادِ ، عَنِ الأَعْرَجِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " وَلا تُصَرُّوا الإِبِلَ وَلا الْغَنَمَ فَمَنِ ابْتَاعَهَا بَعْدَ ذَلِكَ فَهُوَ بِخَيْرِ النَّظَرَيْنِ بَعْدَ أَنْ يَحْلِبَهَا إِنْ رَضِيَهَا أَمْسَكَهَا وَإِنْ سَخِطَهَا رَدَّهَا وَصَاعًا مِنْ تَمْرٍ " .
نوید مجید طیب
سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”اونٹنی، بکری کا دودھ تھن میں نہ روکو، جس نے ایسا جانور خریدا وہ دودھ دوھنے کے بعد دونوں اختیار رکھتا ہے اگر سودے سے راضی ہے تو رکھ لے اگر راضی نہیں تو واپس کرے ساتھ کھجور کا ایک صاع بھی دے دے۔“
وضاحت:
دودھ روکنے سے منع کیا گیا ہے دھوکا حرام ہے اور اس سے جانور کو بھی تکلیف ہوتی ہے جو حرام ہے، ایسے سودے میں برکت اٹھ جاتی ہے جو مبنی بر دھوکا ہو۔
حوالہ حدیث السنن المأثورة / باب في البيوع / حدیث: 259
تخریج حدیث صحیح بخاری، البيوع، باب النهى للبائع ان لا يحفل ...... الخ، رقم : 2150، صحیح مسلم، البيوع، باب تحريم بيع الرجل على بيع أخيه رقم : 1515
حدیث نمبر: 260
عَنْ سُفْيَانَ بْنِ عُيَيْنَةَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ ، عَنْ نَافِعٍ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، أَنَّ حَبَّانَ بْنَ مُنْقِذٍ ، كَانَ سُفِعَ فِي رَأْسِهِ مَأْمُومَةً فَثَقُلَ لِسَانُهُ فَكَانَ يُخْدَعُ فِي الْبَيْعِ فَجَعَلَ لَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَا ابْتَاعَ مِنْ شَيْءٍ فَهُوَ فِيهِ بِالْخِيَارِ ثَلاثًا , وَقَالَ لَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " قُلْ : لا خِلابَةَ " . قَالَ ابْنُ عُمَرَ فَسَمِعْتُهُ يَقُولُ : " لا خِذَابَةَ لا خِذَابَةَ " .
نوید مجید طیب
سیدنا عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے سیدنا حبان بن منقذ رضی اللہ عنہ کو سر میں چوٹ لگنے سے سوجھ بوجھ میں کچھ کمی تھی اس چوٹ سے زبان میں بھی لکنت پیدا ہو گئی تھی ان کے ساتھ سودے میں دھوکا کیا جاتا تھا تو اُن کی خرید کردہ چیز میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے تین دن کا اختیار مقرر کر دیا اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اُن سے فرمایا: ”سودا کرتے ہوئے کہا کر دھوکا نہیں چلے گا۔“ سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے انہیں (سودا کرتے) سنا وہ کہتے تھے «لا خلابة لا خلابة»۔ دھوکہ نہیں چلے گا، دھوکہ نہیں چلے گا۔
حوالہ حدیث السنن المأثورة / باب في البيوع / حدیث: 260
تخریج حدیث مسند الحمیدی : 292/2، رقم : 662، سنن دار قطنی : 55,54/3، السنن الكبرى للبيهقي : 273/5، مسند احمد : 282/10، رقم : 6134 وقال الارنوؤط: حديث صحيح وهذا اسناده حسن، وصححه ابن الجارود، رقم : 567
حدیث نمبر: 261
أَنْبَأَنَا مَالِكٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ دِينَارٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ ، أَنَّ رَجُلا ذَكَرَ لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ يُخْدَعُ فِي الْبُيُوعِ ، فَقَالَ لَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " إِذَا مَا بَايَعْتَ فَقُلْ : لا خِلابَةَ " . فَكَانَ الرَّجُلُ إِذَا بَاعَ يَقُولُ : لا خِلابَةَ " .
نوید مجید طیب
سیدنا عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ ایک آدمی نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے ذکر کیا کہ وہ سودے میں دھوکا کھا جاتا ہے تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے فرمایا: ”جب تم لین دین کرو تو کہہ دیا کر دھوکا نہ کرنا“ پھر جب وہ لین دین کرتا کہتا دھوکا نہ کرنا۔
وضاحت:
➊ حبان بن منقذ رضی اللہ عنہ کو غزوہ احد میں سر پر پتھر لگا جس سے سوجھ بوجھ میں کچھ خلل آگیا ان کے گھر والے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے کہ ان کو تجارتی معاملات سے روکیں اکثر دھوکا کھا جاتے ہیں لیکن انہوں نے عرض کی میں سودا بازی سے باز نہیں رہ سکتا چاہے کوشش بھی کروں تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: خریدتے وقت شرط لگا آیا کر کہ دھوکا ہوا تو مال واپس کروں گا۔ اور ساتھ تین دن کی مدت مقرر کر دی۔ [سنن ابن ماجہ، رقم الحدیث: 2355]
➋ اس سے ثابت ہوتا ہے کہ حاکم سوق کسی سیدھے سادھے آدمی کے بارے اعلان کر سکتا ہے کہ اس سے اکثر دھوکا ہوتا ہے لہذا اس کا خرید کردہ مال تین دن تک قابلِ واپسی ہوگا لہذا فروخت کرنے والا دیکھ لے کہ کس کو فروخت کر رہا ہے۔
➌ واضح غبن کی واپسی ہوگی۔
➍ کم عقل انسان کے لیے بعض شرعی احکامات میں رخصت اور استثنا موجود ہے۔
«لا خلابة» کے الفاظ سے بیع میں اختیار باقی رہتا تھا۔
➏ جس قدر اسلام حقوق انسانیت کا محافظ و نگہبان ہے دنیا کا کوئی اور دین و مذہب نہیں۔
حوالہ حدیث السنن المأثورة / باب في البيوع / حدیث: 261
تخریج حدیث صحیح بخاری، البيوع، باب ما يكره من الخداع في البيع، رقم : 2117، صحیح مسلم، البيوع، باب من يخدع في البيع، رقم : 1533
حدیث نمبر: 262
عَنْ سُفْيَانَ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ دِينَارٍ ، وَعَنْ طَاوُسٍ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ : بَلَغَ عُمَرَ أَنَّ سَمُرَةَ بَاعَ خَمْرًا ، فَقَالَ : قَاتَلَ اللَّهُ سَمُرَةَ ! أَلَمْ يَعْلَمْ أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " لَعَنَ اللَّهُ الْيَهُودَ حُرِّمَتْ عَلَيْهِمُ الشُّحُومُ أَنْ يَأْكُلُوهَا فَجَمَّلُوهَا فَبَاعُوهَا " . قَالَ أَبُو جَعْفَرٍ : فَجَمَّلُوهَا يَعْنِي أَذَابُوهَا .
نوید مجید طیب
سیدنا عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ تک خبر پہنچی کہ سمرہ رضی اللہ عنہ نے شراب فروخت کی ہے تو سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا: اللہ سمرہ رضی اللہ عنہ کو ہلاک کرے کیا وہ نہیں جانتا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اللہ لعنت کرے یہود پر اُن پر چربی حرام کی گئی کہ نہ کھانا انہوں نے اسے پگھلایا پھر فروخت کر دیا۔“
وضاحت:
➊ سیدنا سمرہ رضی اللہ عنہ بھی صحابی ہیں جو کہ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کے گورنر تھے ذمیوں سے ٹیکس اکٹھا کرتے تھے کہا جاتا ہے کہ ایک ذمی نے بطور ٹیکس شراب دی تو انہوں نے دوسرے ذمی کو دے کر قیمت وصول کر لی کیونکہ انہیں مسئلے کا پتہ نہ تھا کہ جو چیز استعمال میں نہ لائی جاتی ہو اس کا فروخت کرنا بھی منع ہے۔ [بخاري: 2223]
➋ امام خطابی رحمہ اللہ کا موقف ہے کہ سیدنا سمرہ رضی اللہ عنہ نے شراب کا سرکہ بنا کر فروخت کیا جبکہ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ سرکہ کو بھی حرام سمجھتے تھے۔
➌ صحابہ میں سمرہ نام کے دو صحابی ہیں ایک سمرہ بن جنادہ رضی اللہ عنہ اور دوسرے سمرہ بن جندب رضی اللہ عنہ جن کا ذکر اس حدیث میں ہے۔
➍ اس سے ثابت ہوا حیلہ بازی سے حرام حلال نہیں ہو جاتا یہود پر چربی حرام تھی انہوں نے پگھلا کر اس کا نام "ودک" رکھ کر فروخت کرنا شروع کر دی حیلہ بازی کے باعث ان پر لعنت کی گئی۔ علامات قیامت میں سے ہے کہ اشیاء کے نام بدل کر حلال سمجھیں گے حالانکہ حیلہ بازی سے جرم کی نوعیت مزید سنگین ہو جاتی ہے۔
➎ مسلمان کے لیے جائز نہیں کہ خشخاش یا ہیروئن کاشت کرے کہ غیر مسلم کو فروخت کروں گا۔ کوفیوں کے حیلے کہ زکاۃ پر سال پورا ہونے لگے بیوی کو مال گفٹ کر دے زکاۃ کا ماہ گزر جائے بیوی واپس کر دے زکاۃ سے بچ جائیں گے یہ اور اس طرح کے سب امور حرام اور بنی اسرائیل کی روش ہے اللہ رب العزت ہمیں محفوظ رکھے۔
➏ شراب سے متعلق ہر قسم کا کاروبار مسلمان پر حرام ہے شراب کے پرمٹ لائسنس کے اجراء کی فیس سب حرام ہیں۔
➐ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کے قول «قاتل الله» سے مراد لعنت کرنا نہیں بلکہ اظہار غضب ہے کہ سیدنا سمرہ رضی اللہ عنہ فہیم آدمی اس معاملے میں لاعلم ہے۔
➑ بڑے چھوٹوں کی غلطیوں پر سخت الفاظ سے تنبیہ کر سکتے ہیں۔
حوالہ حدیث السنن المأثورة / باب في البيوع / حدیث: 262
تخریج حدیث صحیح بخاری، البيوع، باب لا يذاب شحم الميتة ولا يباع، رقم : 2223، صحیح مسلم، المساقاة، باب تحريم بيع الخمر ..... الخ، رقم : 1582
حدیث نمبر: 263
عَنْ عَبْدِ الْوَهَّابِ بْنِ عَبْدِ الْمَجِيدِ الثَّقَفِيِّ ، عَنْ خَالِدٍ الْحَذَّاءِ ، عَنْ بَرَكَةَ أَبِي الْوَلِيدِ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ : كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَاعِدًا خَلْفَ الْمَقَامِ فَرَفَعَ رَأْسَهُ إِلَى السَّمَاءِ ، فَنَظَرَ سَاعَةً ثُمَّ ضَحِكَ ، ثُمَّ قَالَ : " قَاتَلَ اللَّهُ الْيَهُودَ حُرِّمَتْ عَلَيْهِمُ الشُّحُومُ فَبَاعُوهَا فَأَكَلُوا أَثْمَانَهَا فَإِنَّ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ إِذَا حَرَّمَ عَلَى قَوْمٍ أَكْلَ شَيْءٍ حَرَّمَ عَلَيْهِمْ ثَمَنَهُ " .
نوید مجید طیب
سیدنا عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مقام ابراہیم علیہ السلام کے پیچھے بیٹھے تھے تو سر مبارک آسمان کی طرف اٹھایا پھر دیر تک دیکھا پھر ہنسے اور فرمایا: ”اللہ تعالیٰ یہود کو تباہ فرمائے اُن پر چربی حرام کی گئی تو انہوں نے اسے فروخت کر کے اُس کی قیمت کھانی شروع کر دی بے شک اللہ عزوجل جب کسی قوم پر کوئی چیز کھانا حرام کرتے ہیں تو اس کی قیمت بھی حرام کر دیتے ہیں۔“
وضاحت:
➊ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مردار، شراب، سور، بتوں کی خرید و فروخت سے منع فرمایا تو صحابہ رضی اللہ عنہم نے مردار کی چربی سے استفادہ کرنے کا دریافت کیا کہ ہم کشتیوں پر ملتے ہیں، کھالوں پر تیل ملتے اور چراغ جلاتے ہیں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: نہیں وہ حرام ہیں۔ [صحیح بخاری، رقم الحدیث: 2236]
اس پر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہود کا مذکورہ واقعہ بیان فرمایا۔
➋ اس سے معلوم ہوا کہ کسی چیز کی ہیئت اور نام کی تبدیلی سے حکم تبدیل نہیں ہوتا۔
➌ دور حاضر میں سود اور جوئے کے مختلف نام رکھ کر جواز کے فتاوی دینا سراسر جہالت ہے پرائس بانڈ، جوبلی اسٹیٹ لائف، تکافل سب سود اور جوئے کی مختلف شکلیں ہیں، نام کی تبدیلی سے حکم تبدیل نہیں ہوسکتا۔ بینک کا نام اسلامی بینک یا مسلم کمرشل بینک رکھ لینے سے وہ مسلمان نہیں ہو جاتے جب تک ان کو سود سے خلاصی نہ ملے۔
بدلنا ہے اگر تو رندوں سے کہو کہ اپنا چلن بدلیں
فقط ساقی بدل جانے سے مے خانہ نہ بدلے گا
حوالہ حدیث السنن المأثورة / باب في البيوع / حدیث: 263
تخریج حدیث سنن ابی داؤد باب فى ثمن الخمر والميتة رقم : 3488 وقال الالبانی صحیح، مسند احمد : 95/4، رقم : 2221 وقال الارنوؤط صحیح
حدیث نمبر: 264
عَنْ سُفْيَانَ بْنِ عُيَيْنَةَ ، عَنِ الْعَلاءِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَرَّ بِرَجُلٍ يَبِيعُ طَعَامًا فَأَعْجَبَهُ فَأَدْخَلَ يَدَهُ فِيهِ فَإِذَا هُوَ طَعَامٌ مَبْلُولٌ فَقَالَ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " لَيْسَ مِنَّا مَنْ غَشَّنَا " .
نوید مجید طیب
سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا گزر ایک غلہ فروش سے ہوا جس کا غلہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو پسند آیا آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے غلہ میں ہاتھ ڈالا تو اسے گیلا پایا تو فرمایا: ”جو ہم سے دھوکا کرتا ہے وہ ہم میں سے نہیں“
وضاحت:
➊ ایک روایت میں ہے اس آدمی نے عرض کی کہ غلے پر بارش پڑ گئی تھی جس پر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تو نے بھیگے ہوئے غلے کو اوپر کیوں نہ کیا تاکہ لوگ اس کا مشاہدہ کر لیتے۔ [صحیح مسلم، رقم الحدیث: 102]
➋ بیع میں دھوکے کی مختلف صورتیں ہیں عیب چھپا لینا، ردی مال کی ملاوٹ کر لینا، گھٹیا مال پیکنگ میں اس طرح بند کرنا کہ عیب عیاں نہ ہو یا کھول کر چیک نہ کیا جا سکتا ہو ایسا کاروبار حرام اور ناجائز ہے۔
«ليس منا من غشنا» سے مقصد وعید شدید ہے یعنی کبیرہ گناہ ہے، ان الفاظ سے نہ تو دائرہ اسلام سے خارج متصور کرنا چاہیے اور نہ ہی ان الفاظ کی ایسی نرم تاویل پیش کرنی چاہیے کہ الفاظ کی شدت ختم ہو جائے بلکہ جیسے الفاظ وارد ہوئے ہیں ایسے ہی استعمال کرنے چاہئیں۔
حوالہ حدیث السنن المأثورة / باب في البيوع / حدیث: 264
تخریج حدیث سنن ابی داؤد، البيوع، باب في النهي عن الغش، رقم : 3452 وقال الالبانی: صحیح، سنن ابن ماجه التجارات، باب النهي عن الغش، رقم : 2224