حدیث نمبر: 175
أَنْبَأَنَا سُفْيَانُ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيِّبِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " أُعْطِيتُ خَمْسًا لَمْ يُعْطَهُنَّ أَحَدٌ قَبْلِي جُعِلَتْ لِي الأَرْضُ مَسْجِدًا ، وَطَهُورًا وَنُصِرْتُ بِالرُّعْبِ وَأُحِلَّتْ لِيَ الْغَنَائِمُ وَأُرْسِلْتُ إِلَى الأَحْمَرِ ، وَالأَبْيَضِ ، وَأُعْطِيتُ الشَّفَاعَةَ " . حَدَّثَنَا أَحْمَدُ قَالَ : سَمِعْتُ الْمُزَنِيَّ يَقُولُ : قَالَ مُحَمَّدُ بْنُ إِدْرِيسَ : ثُمَّ جَلَسْتُ إِلَى سُفْيَانَ فَذَكَرَ هَذَا الْحَدِيثَ فَقَالَ : الزُّهْرِيُّ ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ ، أَوْ ، عَنْ سَعِيدٍ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ثُمَّ ذَكَرَهُ .
نوید مجید طیب
سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”مجھے پانچ چیزیں عنایت کی گئیں جو مجھ سے پہلے کسی نبی کو بھی نہیں ملیں میرے لیے ساری زمین مسجد اور ذریعہ طہارت بنائی گئی، دشمن پر میرا رعب ڈال کر میری مدد کی گئی۔ میرے لیے مالِ غنیمت حلال کیا گیا، مجھے سرخ اور سفید کی طرف مبعوث فرمایا گیا اور مجھے شفاعت عطا کی گئی۔“
وضاحت:
➊ ساری زمین امت مسلمہ کے لیے نماز کی جگہ ہے جہاں وقت نماز ہو جائے وہاں ہی نماز پڑھ لی جائے جبکہ پہلی امتیں صرف اپنی عبادت گاہوں میں عبادت کرنے کی پابند تھیں۔ اسی طرح مٹی سے تیمم کرنا بھی امت محمدیہ کی خصوصیت ہے۔
➋ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب جہاد کے لیے جاتے تو دشمن ابھی مہینہ کی مسافت پر ہوتا لیکن آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا نام سن کر خوف زدہ ہو جاتا اور یہی خصوصیت امت محمدی کو دی گئی بشرطیکہ جہاد پر قائم رہے، سیدنا خالد بن ولید رضی اللہ عنہ جس علاقے میں چلے جاتے دشمن آدھی جنگ خالد رضی اللہ عنہ کا نام سن کر ہار جاتا کفر پر دہشت کا دوسرا نام خالد رضی اللہ عنہ تھا۔ ابھی بھی کفر پر جب دہشت پڑتی ہے تو دہشت گرد دہشت گرد کہہ کر چیختے ہیں اور بزدل اس اصطلاح کا مفہوم اذہان میں تبدیل کر کے پیش کر رہے ہیں لیکن کفر پر یہ رعب اور دہشت تا قیامت باقی رہے گی۔ اور یہی حال زمانہ قریب کے مجاہدین کا بھی رہا ہے جیسے بوسنیا میں عبد العزیز رحمہ اللہ کا، شیشان میں خطاب رحمہ اللہ کا اور کشمیر میں الیاس کشمیری رحمہ اللہ اور متعدد روس اور ہندوؤں کے خلاف لڑنے والے مجاہدین کا رعب ہے اور رہے گا۔ اور ایک ماہ کی مسافت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خصوصیت تھی جس کا کچھ حصہ رب تعالیٰ نے امت کے مجاہدین کے لیے رکھ دیا ہے۔
➌ پہلی امتوں کے لیے غنیمت حلال نہ تھی آسمان سے آگ آتی اور غنیمت کو راکھ کر دیتی تھی۔
➍ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم تمام کائنات کے لیے تا قیامت نبی و رسول بنائے گئے ہر سرخ و سفید پر لازم ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو آخری رسول تسلیم کرے۔
➎ مذکورہ شفاعت شفاعتِ کبریٰ ہے یعنی بروز قیامت جب لوگوں کو جمع کیا جائے گا تو حساب و کتاب شروع ہونے میں دیر ہو گی لوگ گھبرائے ہوئے ہوں گے کہ کب انجام کا پتہ چلے تمام انبیاء علیہم السلام کے پاس جائیں گے کہ اللہ تعالیٰ سے سفارش کریں ہمارا حساب شروع کریں تمام انبیاء نفسی نفسی کہیں گے اس وقت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم حساب شروع کرانے کی شفاعت فرمائیں گے اس کو شفاعتِ کبریٰ یا شفاعتِ عامہ بھی کہتے ہیں جو پیارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے خاص ہے اور حدیث میں اس کا ذکر ہے وگرنہ روز قیامت ملائکہ، صالحین، صدیقین، شہداء اور دیگر انبیاء علیہم السلام کی شفاعت بھی کتاب و سنت میں مذکور ہے۔ [صحیح مسلم: 193]
➏ سات مقامات ایسے ہیں جن میں نماز پڑھنا جائز نہیں۔ (1) بیت اللہ کی چھت (2) قبرستان (3) کوڑے کرکٹ کا ڈھیر (4) مذبحہ خانہ (5) حمام (6) اونٹوں کا باڑہ (7) راستہ۔
ان مقامات سے متعلقہ روایت اگرچہ ضعیف ہے لیکن ہر وہ جگہ جو ناپاک ہو یا وہاں ضرر ہو وہاں نماز پڑھنا جائز نہیں یہی مسئلہ درست ہے۔
➋ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب جہاد کے لیے جاتے تو دشمن ابھی مہینہ کی مسافت پر ہوتا لیکن آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا نام سن کر خوف زدہ ہو جاتا اور یہی خصوصیت امت محمدی کو دی گئی بشرطیکہ جہاد پر قائم رہے، سیدنا خالد بن ولید رضی اللہ عنہ جس علاقے میں چلے جاتے دشمن آدھی جنگ خالد رضی اللہ عنہ کا نام سن کر ہار جاتا کفر پر دہشت کا دوسرا نام خالد رضی اللہ عنہ تھا۔ ابھی بھی کفر پر جب دہشت پڑتی ہے تو دہشت گرد دہشت گرد کہہ کر چیختے ہیں اور بزدل اس اصطلاح کا مفہوم اذہان میں تبدیل کر کے پیش کر رہے ہیں لیکن کفر پر یہ رعب اور دہشت تا قیامت باقی رہے گی۔ اور یہی حال زمانہ قریب کے مجاہدین کا بھی رہا ہے جیسے بوسنیا میں عبد العزیز رحمہ اللہ کا، شیشان میں خطاب رحمہ اللہ کا اور کشمیر میں الیاس کشمیری رحمہ اللہ اور متعدد روس اور ہندوؤں کے خلاف لڑنے والے مجاہدین کا رعب ہے اور رہے گا۔ اور ایک ماہ کی مسافت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خصوصیت تھی جس کا کچھ حصہ رب تعالیٰ نے امت کے مجاہدین کے لیے رکھ دیا ہے۔
➌ پہلی امتوں کے لیے غنیمت حلال نہ تھی آسمان سے آگ آتی اور غنیمت کو راکھ کر دیتی تھی۔
➍ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم تمام کائنات کے لیے تا قیامت نبی و رسول بنائے گئے ہر سرخ و سفید پر لازم ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو آخری رسول تسلیم کرے۔
➎ مذکورہ شفاعت شفاعتِ کبریٰ ہے یعنی بروز قیامت جب لوگوں کو جمع کیا جائے گا تو حساب و کتاب شروع ہونے میں دیر ہو گی لوگ گھبرائے ہوئے ہوں گے کہ کب انجام کا پتہ چلے تمام انبیاء علیہم السلام کے پاس جائیں گے کہ اللہ تعالیٰ سے سفارش کریں ہمارا حساب شروع کریں تمام انبیاء نفسی نفسی کہیں گے اس وقت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم حساب شروع کرانے کی شفاعت فرمائیں گے اس کو شفاعتِ کبریٰ یا شفاعتِ عامہ بھی کہتے ہیں جو پیارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے خاص ہے اور حدیث میں اس کا ذکر ہے وگرنہ روز قیامت ملائکہ، صالحین، صدیقین، شہداء اور دیگر انبیاء علیہم السلام کی شفاعت بھی کتاب و سنت میں مذکور ہے۔ [صحیح مسلم: 193]
➏ سات مقامات ایسے ہیں جن میں نماز پڑھنا جائز نہیں۔ (1) بیت اللہ کی چھت (2) قبرستان (3) کوڑے کرکٹ کا ڈھیر (4) مذبحہ خانہ (5) حمام (6) اونٹوں کا باڑہ (7) راستہ۔
ان مقامات سے متعلقہ روایت اگرچہ ضعیف ہے لیکن ہر وہ جگہ جو ناپاک ہو یا وہاں ضرر ہو وہاں نماز پڑھنا جائز نہیں یہی مسئلہ درست ہے۔
حدیث نمبر: 176
أَنْبَأَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ يَحْيَى ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " الأَرْضُ كُلُّهَا مَسْجِدٌ إِلا الْحَمَّامَ وَالْمَقْبَرَةَ " .
نوید مجید طیب
سیدنا ابوسعید الخدری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”ساری زمین نماز کی جگہ ہے ماسوائے حمام اور مقبرے کے۔“
حدیث نمبر: 177
أَنْبَأَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَجْلانَ ، عَنْ أَبِيهِ ، أَوْ عَنْ سَعِيدٍ الْمَقْبُرِيِّ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ قَالَ : " خَيْرُ صُفُوفِ الرِّجَالِ أَوَّلُهَا وَشَرُّهَا آخِرُهَا وَخَيْرُ صُوفِ النِّسَاءِ آخِرُهَا وَشَرُّهَا أَوَّلُهَا " .
نوید مجید طیب
سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا: ”مردوں کی بہترین صفیں پہلی اور بدترین آخری ہیں (جبکہ) عورتوں کی بہترین صفیں آخری اور بد ترین پہلی ہیں۔“
وضاحت:
➊ عورتوں کی جو صف مردوں سے دور ہے وہ بہترین ہے اسی طرح مردوں کی پہلی صف عورتوں سے دور تھی اس لیے اس کو بہترین کہا گیا ہے اس حدیث میں اختلاط سے دوری کی طرف اشارہ ہے، شر پہلی صف کے مقابلے میں ہے نہ کہ مطلقاً۔