کتب حدیثالسنن المأثورةابوابباب: رات کے پہلے اور آخری پہر وتر پڑھنے کا بیان
حدیث نمبر: 171
أَنْبَأَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيِّبِ ، أَنَّ أَبَا بَكْرٍ ، وَعُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا تَذَاكَرَا الْوِتْرَ عِنْدَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ أَبُو بَكْرٍ : أَمَّا أَنَا فَأُوتِرُ فِي أَوَّلِ اللَّيْلِ ، وَقَالَ عُمَرُ : أَمَّا أَنَا فَأُوتِرُ آخِرَ اللَّيْلِ ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " حَذِرَ هَذَا وَقَوِيَ هَذَا " .
نوید مجید طیب
سیدنا سعید بن مسیب رحمہ اللہ سے روایت ہے کہ سیدنا ابو بکر رضی اللہ عنہ اور سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے رسول اللہ ﷺ کے پاس اپنے اپنے وتر پڑھنے کا طریقہ ذکر کیا سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ کہنے لگے کہ ”میں رات کے پہلے پہر ہی وتر پڑھ لیتا ہوں“، سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا : کہ ”میں رات کے آخری پہر وتر پڑھتا ہوں“ تو نبی اکرم ﷺ نے سیدنا ابو بکر رضی اللہ عنہ کو خبر دار کیا اور سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کی تائید کی۔
حوالہ حدیث السنن المأثورة / باب من أوتر من أول الليل وآخره / حدیث: 171
تخریج حدیث مصنف عبدالرزاق : 14/3، رقم : 4615، مصنف ابن ابي شيبة : 282/2 مرسل رجاله ثقات صحیح
حدیث نمبر: 172
أَنْبَأَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ ، عَنْ أَبِي يَعْقُوبَ , عَنْ مُسْلِمٍ ، عَنْ مَسْرُوقٍ ، عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا ، قَالَتْ : " مِنْ كُلِّ اللَّيْلِ قَدْ أَوْتَرَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، وَانْتَهَى ، وِتْرُهُ إِلَى السَّحَرِ .
نوید مجید طیب
ام المومنین سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے رات کے ہر حصہ میں وتر پڑھا ہے (لیکن) آخری امر یہی تھا کہ سحری کے وقت وتر پڑھتے تھے۔
حوالہ حدیث السنن المأثورة / باب من أوتر من أول الليل وآخره / حدیث: 172
تخریج حدیث صحیح بخاری، الوتر، باب ساعات الوتر، رقم : 996، مسلم صلاة المسافرين باب صلاة الليل وعدد ركعات النبي صلی اللہ علیہ وسلم ..... الخ، رقم : 745
حدیث نمبر: 173
أَنْبَأَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ سَعْدٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيِّبِ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ لأَبِي بَكْرٍ : " مَتَى تُوتِرُ ؟ " فَقَالَ : قَبْلَ أَنْ أَنَامَ أَوْ قَالَ : أَوَّلَ اللَّيْلِ ، وَقَالَ : " يَا عُمَرُ مَتَى تُوتِرُ ؟ " قَالَ : آخِرَ اللَّيْلِ ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " أَلا أضْرِبُ لَكُمَا مَثَلا ؟ أَمَّا أَنْتَ يَا أَبَا بَكْرٍ فَكَالَّذِي قَالَ : أَحْرَزْتُ نَهْبِي ، وَابْتَغَى النَّوَافِلَ ، وَأَمَّا أَنْتَ يَا عُمَرُ فَتَعْمَلُ بِعَمَلِ الأَقْوِيَاءِ " . قَالَ أَبُو جَعْفَرٍ : نَهْبِي يَعْنِي سَهْمِي .
نوید مجید طیب
سیدنا سعید بن مسیب رحمہ اللہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے سیدنا ابو بکر رضی اللہ عنہ سے پوچھا: ”آپ وتر کب پڑھتے ہیں؟“ سیدنا ابو بکر رضی اللہ عنہ نے عرض کیا: ”سونے سے پہلے پڑھ لیتا ہوں“ یا کہا ”رات کے پہلے حصے میں پڑھتا ہوں“ اور آپ ﷺ نے سیدنا عمر رضی اللہ عنہ سے پوچھا: ”عمر رضی اللہ عنہ تم کب پڑھتے ہو؟“ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ”رات کے آخری پہر“ آپ ﷺ نے فرمایا: ”کیا میں تمہیں ایک مثال نہ بیان کروں؟ ابو بکر رضی اللہ عنہ تمہاری مثال اس شخص کی طرح ہے جس نے کہا ”میں نے اپنا حصہ بچا لیا ہے“ یعنی میں نے سونے سے پہلے جو واجب کام تھا کر دیا اگر آنکھ کھلی تو نوافل بھی پڑھ لوں گا اور اے عمر رضی اللہ عنہ یہ تو نے مضبوط لوگوں والا عمل کیا۔“
وضاحت:
➊ وتر رات کے آخری پہر میں پڑھنا افضل ہے البتہ مسئلہ میں گنجائش ہے، اگر آخری پہر میں اٹھنے کا یقین ہو تو آخری پہر وتر پڑھے یعنی نماز تہجد کے بعد اور اگر پتہ ہو کہ نہیں اٹھ سکوں گا تو سونے سے پہلے ہی پڑھے جیسا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: «من خشى منكم ان لا يستيقظ من آخر الليل فليوتر اوله ومن طمع منكم ان يقوم من آخِرِ الليل فليو ترمن آخر الليل فان قراءة القرآن فى آخر الليل محضورة وهى افضل»
تم میں سے جس کو اندیشہ ہو کہ وہ رات کے آخری پہر میں نہیں اٹھ سکے گا تو وہ رات کے شروع میں ہی وتر پڑھ لے اور جو رات کے آخری حصہ میں اٹھنے کی امید رکھتا ہو تو وہ رات کے آخری حصہ میں وتر پڑھے کیونکہ رات کے آخری حصہ میں قرآن پڑھنے پر فرشتے حاضر ہوتے ہیں اور یہ افضل وقت ہے۔ [جامع ترمذی: 455]
➋ سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی وصیت کے مطابق رات سونے سے قبل وتر پڑھ لیا کرتے تھے۔ [صحیح بخاری: 1178، صحیح مسلم: 721]
حوالہ حدیث السنن المأثورة / باب من أوتر من أول الليل وآخره / حدیث: 173
تخریج حدیث مصنف عبدالرزاق : 14/3 ، رقم : 4616 مرسل ورجاله ثقات ۔
حدیث نمبر: 174
وَأَنْبَأَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ ، عَنْ صَفْوَانَ بْنِ سُلَيْمٍ ، عَنْ نَافِعِ بْنِ جُبَيْرٍ ، عَنْ سَهْلِ بْنِ أَبِي حَثْمَةَ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " إِذَا صَلَّى أَحَدُكُمْ إِلَى سُتْرَةٍ فَلْيَدْنُ مِنْهَا لا يَقْطَعِ الشَّيْطَانُ عَلَيْهِ صَلاتُهُ " .
نوید مجید طیب
سیدنا سہل بن ابی حثمہ رضی اللہ عنہ بیان فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”جب تم آگے سترہ رکھ کر نماز پڑھو تو اس کے قریب کھڑے ہو (تا کہ) شیطان نماز توڑ نہ دے۔“
وضاحت:
➊ سترہ تقریبا ڈیڑھ فٹ اونچا ہونا چاہیے۔
➋ سترے کا اہتمام کرنا چاہیے تاکہ گزرنے والوں کو بھی سہولت رہے اور آدمی کی نماز میں خلل بھی نہ پڑے، سترہ رکھنے سے خیالات منتشر نہیں ہوتے۔
➌ سترہ اور آدمی کے درمیان صرف سجدہ کی جگہ ہونی چاہیے، مسجد کا ستون، دیوار وغیرہ سے کوئی بھی رکاوٹ بطور سترہ استعمال میں لائی جاسکتی ہے۔
➍ نمازیوں کو چاہیے خالی مسجد میں بھی جب نماز پڑھنے لگیں تو دیوار کے قریب کھڑے ہوں نہ کہ مسجد کے وسط میں تاکہ شیطان آگے سے گزر کر نماز نہ توڑے اور خیالات منتشر نہ ہوں۔
➎ ویرانے میں سواری وغیرہ کو بھی سترہ بنایا جا سکتا ہے۔ [صحیح بخاری: 430]
➏ امام کا سترہ مقتدیوں کے لیے کافی ہے۔
➐ نمازی کے آگے سے گزرنا سخت گناہ ہے، چنانچہ سیدنا ابو جہیم رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: «لو يعلم المار بين يدى المصلى ما ذا عليه لكان ان يقف اربعين خيراله من أن يمر بين يديه»
اگر نمازی کے سامنے سے گزرنے والا جانتا کہ اس کا کتنا بڑا گناہ ہے تو اس کے سامنے سے گزرنے پر چالیس دن، مہینہ یا سال وہیں کھڑے رہنے کو ترجیح دیتا۔ [صحیح بخاری: 510]
حوالہ حدیث السنن المأثورة / باب من أوتر من أول الليل وآخره / حدیث: 174
تخریج حدیث سنن ابی داؤد، الصلاة، باب الدنو من السترة، رقم : 695 وقال الالبانی: صحیح، سنن نسائی، القبلة، باب الامر بالدنو من السترة، رقم : 748 وصححه ابن خزيمة، رقم : 803 ، وابن حبان، رقم : 409 وقال الحاكم صحيح على شرط الشيخين و وافقه الذهبي المستدرک : 251/1 ۔ جامع ترمذی: رقم الحديث 455- وقال الالبانی: صحیح ۔