حدیث نمبر: 159
أَنْبَأَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ سُحَيْمٍ الْمَدِينِيِّ ، قَالَ : أَخْبَرَنِي إِبْرَاهِيمُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَعْبَدٍ , عَنْ أَبِيهِ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ : كَشَفَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ السِّتَارَةَ وَالنَّاسُ صُفُوفٌ خَلْفَ أَبِي بَكْرٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ، فَقَالَ : " أَلا إِنِّي نُهِيتُ أَنْ أَقْرَأَ رَاكِعًا أَوْ سَاجِدًا فَأَمَّا الرُّكُوعُ فَعَظِّمُوا فِيهِ الرَّبَّ وَأَمَّا السُّجُودُ فَاجْتَهِدُوا فِيهِ مِنَ الدُّعَاءِ فَقَمِنٌ أَنْ يُسْتَجَابَ لَكُمْ " .
نوید مجید طیب
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے حجرے کا پردہ اٹھایا (دیکھا کہ) لوگ سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ کے پیچھے نماز پڑھ رہے ہیں آپ ﷺ نے فرمایا: ”خبردار! مجھے رکوع اور سجدہ میں تلاوتِ قرآن سے منع کیا گیا ہے۔ رکوع میں رب کی عظمت «سُبْحَانَ رَبِّيَ الْعَظِيمِ» کہو اور سجدہ میں خوب دعا کرو یہ حالت اس لائق ہوتی ہے کہ دعا قبول کر لی جائے۔“
حدیث نمبر: 160
أَنْبَأَنَا مَالِكٌ ، عَنْ نَافِعٍ ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ حُنَيْنٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ ، " أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَهَى عَنْ لُبْسِ الْقَسِّيِّ ، وَعَنْ لُبْسِ الْمُعَصْفَرِ ، وَعَنْ تَخَتُّمِ الذَّهَبِ ، وَعَنْ قِرَاءَةِ الْقُرْآنِ فِي الرُّكُوعِ " .
نوید مجید طیب
سیدنا علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ریشمی لباس، زرد رنگ کا لباس، سونے کی انگوٹھی پہننے اور رکوع میں قرآن کی تلاوت سے منع فرمایا۔
حدیث نمبر: 161
أَنْبَأَنَا سُفْيَانُ , عَنْ عَمْرِو بْنِ دِينَارٍ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَلِيٍّ ، أَنَّ عَلِيَّ بْنَ أَبِي طَالِبٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ، قَالَ : " نَهَانِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَلا أَقُولُ نَهَاكُمْ أَنْ أَقْرَأَ الْقُرْآنَ رَاكِعًا أَوْ سَاجِدًا ، وَأَنْ أَتَخَتَّمَ بِالذَّهَبِ " .
نوید مجید طیب
سیدنا علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ مجھے رسول اللہ ﷺ نے منع کیا میں یہ نہیں کہتا کہ تمہیں منع کیا کہ رکوع میں یا سجدہ میں تلاوتِ قرآن کروں یا سونے کی انگوٹھی پہنوں۔
وضاحت:
➊ قرآن کی تلاوت باعث اجر و ثواب ہے لیکن بے محل تلاوت کرنا ممنوع ہے جیسا کہ رکوع و سجود کی حالتیں اللہ کے نزدیک پسندیدہ ہیں لیکن تلاوت قرآن ممنوع ہے۔ لہذا جہاں جس صورت و حالت میں تلاوت قرآن مشروع ہے وہیں اس کو اختیار کرنا چاہیے۔
➋ سیدنا حذیفہ بن یمان رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم رکوع میں «سبحان ربي العظيم» اور سجدہ میں «سبحان ربي الاعليٰ» پڑھتے تھے۔ [صحيح مسلم: 772]
➌ درج بالا دعاؤں کے علاوہ بھی رکوع و سجود کی متعدد دعائیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے ثابت ہیں جن کو ادعیہ ماثورہ کی کتب میں دیکھا جاسکتا ہے۔
➍ میں یہ نہیں کہتا کہ تمہیں منع کیا اس سے یہ مراد نہیں کہ اُمت میں صرف سیدنا علی رضی اللہ عنہ کو منع کیا تھا اور باقی کے لیے جائز ہے۔ بلکہ مراد یہ ہے کہ جس وقت آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا اس وقت صرف میں موجود تھا۔
➎ ریشم اور سونا مردوں پر حرام ہے۔
➏ مردوں کے لیے ایسا کپڑا پہننا نا جائز ہے جو عورتوں کا خاص رنگ ہے عورت پیلا رنگ پہن سکتی ہے۔ جیسے سونا پہن سکتی ہے البتہ سجدہ اور رکوع میں تلاوت قرآن دونوں مرد و عورت کے لیے منع ہے۔ خالص ہندوانی رنگ یا جو بدھ مت کا شعار ہے ان کے ساتھ تشبیہ سے بچنے کے لیے دونوں کو نہیں پہننا چاہیے۔ جیسے کالا رنگ جائز ہے لیکن محرم میں جب مجوسی اس کو اپنا شعار بنا ئیں تو مشابہت سے بچنے کے لیے اجتناب کرنا چاہیے۔ کیونکہ اسلام کی اپنی ثقافت اور کلچر ہے وہ کسی سے متاثر نہیں ہوتا اور نہ ہی اسلام کسی ثقافت کا محتاج ہے۔
➐ جو کہتے ہیں قرآن ہی پڑھا ہے، قرآن پڑھنا کوئی منع ہے، ان کے لیے بھی ان احادیث میں سبق ہے کہ ہر جگہ قرآن نہیں پڑھنا جہاں شریعت نے پڑھنے کا حکم دیا وہاں پڑھیں خود شریعت سازی نہ کریں۔
➑ سجدہ میں دعا کی جاسکتی ہے علماء امت کے نزدیک فرائض میں ماثور ادعیہ کے علاوہ کچھ نہ پڑھیں اور نوافل میں حالت سجدہ میں جو مانگنا چاہیں مانگ لیں۔ واللہ اعلم۔
➋ سیدنا حذیفہ بن یمان رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم رکوع میں «سبحان ربي العظيم» اور سجدہ میں «سبحان ربي الاعليٰ» پڑھتے تھے۔ [صحيح مسلم: 772]
➌ درج بالا دعاؤں کے علاوہ بھی رکوع و سجود کی متعدد دعائیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے ثابت ہیں جن کو ادعیہ ماثورہ کی کتب میں دیکھا جاسکتا ہے۔
➍ میں یہ نہیں کہتا کہ تمہیں منع کیا اس سے یہ مراد نہیں کہ اُمت میں صرف سیدنا علی رضی اللہ عنہ کو منع کیا تھا اور باقی کے لیے جائز ہے۔ بلکہ مراد یہ ہے کہ جس وقت آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا اس وقت صرف میں موجود تھا۔
➎ ریشم اور سونا مردوں پر حرام ہے۔
➏ مردوں کے لیے ایسا کپڑا پہننا نا جائز ہے جو عورتوں کا خاص رنگ ہے عورت پیلا رنگ پہن سکتی ہے۔ جیسے سونا پہن سکتی ہے البتہ سجدہ اور رکوع میں تلاوت قرآن دونوں مرد و عورت کے لیے منع ہے۔ خالص ہندوانی رنگ یا جو بدھ مت کا شعار ہے ان کے ساتھ تشبیہ سے بچنے کے لیے دونوں کو نہیں پہننا چاہیے۔ جیسے کالا رنگ جائز ہے لیکن محرم میں جب مجوسی اس کو اپنا شعار بنا ئیں تو مشابہت سے بچنے کے لیے اجتناب کرنا چاہیے۔ کیونکہ اسلام کی اپنی ثقافت اور کلچر ہے وہ کسی سے متاثر نہیں ہوتا اور نہ ہی اسلام کسی ثقافت کا محتاج ہے۔
➐ جو کہتے ہیں قرآن ہی پڑھا ہے، قرآن پڑھنا کوئی منع ہے، ان کے لیے بھی ان احادیث میں سبق ہے کہ ہر جگہ قرآن نہیں پڑھنا جہاں شریعت نے پڑھنے کا حکم دیا وہاں پڑھیں خود شریعت سازی نہ کریں۔
➑ سجدہ میں دعا کی جاسکتی ہے علماء امت کے نزدیک فرائض میں ماثور ادعیہ کے علاوہ کچھ نہ پڑھیں اور نوافل میں حالت سجدہ میں جو مانگنا چاہیں مانگ لیں۔ واللہ اعلم۔
حدیث نمبر: 162
أَنْبَأَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيِّبِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " إِذَا أَمَّنَ الإِمَامُ فَأَمِّنُوا فَإِنَّ الْمَلائِكَةَ تُؤَمِّنُ فَمَنْ وَافَقَ تَأْمِينُهُ تَأْمِينَ الْمَلائِكَةِ غُفِرَ لَهُ مَا تَقَدَّمَ مِنْ ذَنْبِهِ " .
نوید مجید طیب
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: ”جب امام آمین کہے تم بھی آمین کہو کیونکہ ملائکہ بھی آمین کہتے ہیں جس کی آمین فرشتوں کی آمین کے ساتھ مل گئی اس کے سابقہ گناہ معاف کر دیے جاتے ہیں۔“
حدیث نمبر: 163
أَنْبَأَنَا مَالِكُ بْنُ أَنَسٍ ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيِّبِ ، وَعَنْ أَبِي سَلَمَةَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، أَنَّهُمَا : أَخْبَرَاهُ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " إِذَا أَمَّنَ الإِمَامُ فَأَمِّنُوا فَإِنَّهُ مَنْ وَافَقَ تَأْمِينُهُ تَأْمِينَ الْمَلائِكَةِ غُفِرَ لَهُ مَا تَقَدَّمَ مِنْ ذَنْبِهِ " .
نوید مجید طیب
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: ”جب امام آمین کہے تو تم بھی آمین کہو بے شک جس کی آمین فرشتوں کی آمین سے مل گئی اس کے زندگی بھر کے گناہ معاف کر دیے جاتے ہیں۔“
حدیث نمبر: 164
أَنْبَأَنَا مَالِكٌ , عَنْ سُمَيٍّ ، مَوْلَى أَبِي بَكْرِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ , عَنْ أَبِي صَالِحٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " إِذَا قَالَ الإِمَامُ غَيْرِ الْمَغْضُوبِ عَلَيْهِمْ ، وَلا الضَّالِّينَ فَقُولُوا : آمِينَ فَإِنَّهُ مَنْ وَافَقَ قَوْلُهُ قَوْلَ الْمَلائِكَةِ غُفِرَ لَهُ مَا تَقَدَّمَ مِنْ ذَنْبِهِ " .
نوید مجید طیب
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”جب امام ﴿غَيْرِ الْمَغْضُوبِ عَلَيْهِمْ وَلَا الضَّالِّينَ﴾ کہے تم سب آمین کہو جس کا قول ملائکہ کے قول سے اتفاق کر گیا اس کے گناہوں کو معاف کر دیا گیا۔“
حدیث نمبر: 165
أَنْبَأَنَا مَالِكٌ ، عَنْ أَبِي الزِّنَادِ ، عَنِ الأَعْرَجِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " إِذَا قَالَ أَحَدُكُمْ : آمِينَ وَقَالَتِ الْمَلائِكَةُ فِي السَّمَاءِ : آمِينَ فَوَافَقَتْ إِحْدَاهُمَا الأُخْرَى غُفِرَ لَهُ مَا تَقَدَّمَ مِنْ ذَنْبِهِ " .
نوید مجید طیب
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : ”تم میں سے کوئی آمین کہتا ہے فرشتے آسمان پر آمین کہتے ہیں تو زمین کی آمین جب آسمان کی آمین سے ملتی ہے تو گناہ معاف کر دیے جاتے ہیں۔“
حدیث نمبر: 166
أَنْبَأَنَا مَالِكٌ ، عَنْ سُمَيٍّ ، مَوْلَى أَبِي بَكْرٍ , عَنْ أَبِي صَالِحٍ السَّمَّانِ , عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " إِذَا قَالَ الإِمَامُ : سَمِعَ اللَّهُ لِمَنْ حَمِدَهُ ، فَقُولُوا : اللَّهُمَّ رَبَّنَا لَكَ الْحَمْدُ فَإِنَّهُ مَنْ وَافَقَ تَأْمِينُهُ تَأْمِينَ الْمَلائِكَةِ غُفِرَ لَهُ مَا تَقَدَّمَ مِنْ ذَنْبِهِ " .
نوید مجید طیب
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : ”جب امام «سَمِعَ اللهُ لِمَنْ حَمِدَهُ» کہے تم «اللهمَّ رَبَّنَا لَكَ الْحَمْدُ» کہو پس شان یہ ہے کہ جس کی آمین فرشتوں کی آمین سے مل گئی اس کے گناہ معاف کر دیے گئے۔“
وضاحت:
➊ جہری نمازوں میں اونچی آمین کہنا سنت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم و سنت سواد اعظم ہے، عطاء رحمہ اللہ کہتے ہیں عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہ نے امامت کرائی، مقتدیوں نے اتنی اونچی آواز سے آمین کہی کہ مسجد گونج اٹھی۔ [صحیح بخاری: باب جہر الامام بالتامین]
➋ احناف میں سے علامہ عبدالحی لکھنوی رحمہ اللہ نے لکھا ہے کہ: «قد ثبت الجهر من رسول صلى الله عليه وسلم باسانيد متعددة تقوى بعضها بعضا»
اونچی آمین کہنا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے متعدد اسناد سے ثابت ہے جو ایک دوسری کو تقویت دیتی ہیں۔ ابن ہمام رحمہ اللہ نے فتح القدیر میں اور ان کے شاگرد ابن امیر الحاج رحمہ اللہ نے حلیۃ المصلی میں بھی بلند آواز میں آمین کہنے کو درست گردانا ہے۔ عبد القادر جیلانی رحمہ اللہ نے غنیہ الطالبین میں اونچی آمین اور رفع الیدین کو مدلل بیان کیا ہے۔
➌ بعض لوگوں کا کہنا ہے کہ تم چونکہ فرشتوں کی آمین نہیں سنتے لہذا تم بھی آہستہ کہو گے تو موافقت ہوگی جبکہ یہ بے مقصد بات ہے۔ مقصود آمین کا بآواز بلند کہنا ہے۔ جیسا کہ حدیث میں بیان ہوا عہد صحابہ رضی اللہ عنہم میں آمین سے مسجد گونج اٹھی تھی۔
➍ فرشتوں کی آواز آئے گی تو ہم آمین کہیں گے یہ بعینہ مشرکین مکہ جیسا مطالبہ ہے۔ ارشاد باری تعالیٰ ہے: ﴿أَوْ تَأْتِيَ بِاللَّهِ وَالْمَلَائِكَةِ قَبِيلًا﴾ [الاسراء: 92]
یا اللہ کو اور فرشتوں کو سامنے لے آ۔
﴿یَوْمَ یَرَوْنَ الْمَلٰٓىٕكَةَ لَا بُشْرٰى یَوْمَىٕذٍ لِّلْمُجْرِمِیْنَ﴾ [الفرقان: 22]
جس دن وہ فرشتوں کو دیکھیں گے اس دن مجرموں کے لیے کوئی بشارت نہیں ہوگی۔
﴿قُلْ لَّوْ كَانَ فِی الْاَرْضِ مَلٰٓىٕكَةٌ یَّمْشُوْنَ مُطْمَىٕنِّیْنَ لَنَزَّلْنَا عَلَیْهِمْ مِّنَ السَّمَآءِ مَلَكًا رَّسُوْلًا﴾ [الاسراء: 95]
کہہ دیجیے: اگر زمین میں فرشتے ہوتے جو یہاں مطمئن ہو کر چلتے پھرتے تو ہم ان پر آسمان سے کوئی فرشتہ ہی رسول بنا کر نازل کرتے۔
➎ متبع سنت کو عمل رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور عمل صحابہ رضی اللہ عنہم ہی کافی ہے اور جس نے عناد کرنا ہے وہ فرشتوں کی آواز سن کر بھی نہیں کرے گا جیسا کہ مشرکین کی عادات قرآن مجید نے بیان کیں۔
خود بدلتے نہیں قرآں کو بدل دیتے ہیں
ہوئے کس درجہ فقیہان حرم بے توفیق
➏ اگر امام کی آمین سنائی نہ دے پھر بھی مقتدی کو آمین کہنی چاہیے۔ جیسا کہ حدیث بالا سے واضح ہے۔
➐ بعض روایات میں آمین پر «رب اغفر لي آمين» کا اضافہ درست نہیں یہ اضافہ سنداً ضعیف ہے۔ بھلا اس سے بڑا عاشق رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کون ہو گا جو ایسے اضافے جو احادیث میں تو ہیں لیکن سنداً ضعیف ہیں ان کو مسترد کر دیتا ہے کہ ان کی سند میرے آقا صلی اللہ علیہ وسلم تک نہیں پہنچتی، میں کسی بے سند بات کو اپنے پیارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف منسوب نہیں کر سکتا ایسا عقیدہ رکھنے والا ہی صحیح عاشق۔
➑ ام المومنین سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: یہودی تم سے کسی چیز پر اتنا حسد نہیں کرتے جتنا سلام کہنے اور آمین پر تم سے حسد کرتے ہیں۔ کیونکہ خود وہ اس نیکی سے محروم ہیں وہ چاہتے ہیں باقی بھی کوئی نہ کہے، یہاں سلام سے مراد ملاقات کے وقت جو السلام علیکم ہے جو ایک دوسرے کو ملاقات کے وقت مسلمان کہتے ہیں اور اونچی آمین اسلام کا شعار ہے۔ جیسے رفع الیدین اور سورۃ فاتحہ اسلام کے شعائر ہیں۔ [سنن ابن ماجہ: 856]
➋ احناف میں سے علامہ عبدالحی لکھنوی رحمہ اللہ نے لکھا ہے کہ: «قد ثبت الجهر من رسول صلى الله عليه وسلم باسانيد متعددة تقوى بعضها بعضا»
اونچی آمین کہنا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے متعدد اسناد سے ثابت ہے جو ایک دوسری کو تقویت دیتی ہیں۔ ابن ہمام رحمہ اللہ نے فتح القدیر میں اور ان کے شاگرد ابن امیر الحاج رحمہ اللہ نے حلیۃ المصلی میں بھی بلند آواز میں آمین کہنے کو درست گردانا ہے۔ عبد القادر جیلانی رحمہ اللہ نے غنیہ الطالبین میں اونچی آمین اور رفع الیدین کو مدلل بیان کیا ہے۔
➌ بعض لوگوں کا کہنا ہے کہ تم چونکہ فرشتوں کی آمین نہیں سنتے لہذا تم بھی آہستہ کہو گے تو موافقت ہوگی جبکہ یہ بے مقصد بات ہے۔ مقصود آمین کا بآواز بلند کہنا ہے۔ جیسا کہ حدیث میں بیان ہوا عہد صحابہ رضی اللہ عنہم میں آمین سے مسجد گونج اٹھی تھی۔
➍ فرشتوں کی آواز آئے گی تو ہم آمین کہیں گے یہ بعینہ مشرکین مکہ جیسا مطالبہ ہے۔ ارشاد باری تعالیٰ ہے: ﴿أَوْ تَأْتِيَ بِاللَّهِ وَالْمَلَائِكَةِ قَبِيلًا﴾ [الاسراء: 92]
یا اللہ کو اور فرشتوں کو سامنے لے آ۔
﴿یَوْمَ یَرَوْنَ الْمَلٰٓىٕكَةَ لَا بُشْرٰى یَوْمَىٕذٍ لِّلْمُجْرِمِیْنَ﴾ [الفرقان: 22]
جس دن وہ فرشتوں کو دیکھیں گے اس دن مجرموں کے لیے کوئی بشارت نہیں ہوگی۔
﴿قُلْ لَّوْ كَانَ فِی الْاَرْضِ مَلٰٓىٕكَةٌ یَّمْشُوْنَ مُطْمَىٕنِّیْنَ لَنَزَّلْنَا عَلَیْهِمْ مِّنَ السَّمَآءِ مَلَكًا رَّسُوْلًا﴾ [الاسراء: 95]
کہہ دیجیے: اگر زمین میں فرشتے ہوتے جو یہاں مطمئن ہو کر چلتے پھرتے تو ہم ان پر آسمان سے کوئی فرشتہ ہی رسول بنا کر نازل کرتے۔
➎ متبع سنت کو عمل رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور عمل صحابہ رضی اللہ عنہم ہی کافی ہے اور جس نے عناد کرنا ہے وہ فرشتوں کی آواز سن کر بھی نہیں کرے گا جیسا کہ مشرکین کی عادات قرآن مجید نے بیان کیں۔
خود بدلتے نہیں قرآں کو بدل دیتے ہیں
ہوئے کس درجہ فقیہان حرم بے توفیق
➏ اگر امام کی آمین سنائی نہ دے پھر بھی مقتدی کو آمین کہنی چاہیے۔ جیسا کہ حدیث بالا سے واضح ہے۔
➐ بعض روایات میں آمین پر «رب اغفر لي آمين» کا اضافہ درست نہیں یہ اضافہ سنداً ضعیف ہے۔ بھلا اس سے بڑا عاشق رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کون ہو گا جو ایسے اضافے جو احادیث میں تو ہیں لیکن سنداً ضعیف ہیں ان کو مسترد کر دیتا ہے کہ ان کی سند میرے آقا صلی اللہ علیہ وسلم تک نہیں پہنچتی، میں کسی بے سند بات کو اپنے پیارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف منسوب نہیں کر سکتا ایسا عقیدہ رکھنے والا ہی صحیح عاشق۔
➑ ام المومنین سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: یہودی تم سے کسی چیز پر اتنا حسد نہیں کرتے جتنا سلام کہنے اور آمین پر تم سے حسد کرتے ہیں۔ کیونکہ خود وہ اس نیکی سے محروم ہیں وہ چاہتے ہیں باقی بھی کوئی نہ کہے، یہاں سلام سے مراد ملاقات کے وقت جو السلام علیکم ہے جو ایک دوسرے کو ملاقات کے وقت مسلمان کہتے ہیں اور اونچی آمین اسلام کا شعار ہے۔ جیسے رفع الیدین اور سورۃ فاتحہ اسلام کے شعائر ہیں۔ [سنن ابن ماجہ: 856]