حدیث نمبر: 157
حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " مَنْ صَامَ شَهْرَ رَمَضَانَ إِيمَانًا وَاحْتِسَابًا غُفِرَ لَهُ مَا تَقَدَّمَ مِنْ ذَنْبِهِ " .
نوید مجید طیب
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: ”جس نے ایمان کی حالت میں اور ثواب کی نیت سے رمضان کے روزے رکھے اس کے سابقہ گناہ بخش دیئے جاتے ہیں۔“
حدیث نمبر: 158
أَنْبَأَنَا مَالِكُ ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ ، عَنْ حُمَيْدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " مَنْ صَامَ رَمَضَانَ إِيمَانًا وَاحْتِسَابًا غُفِرَ لَهُ مَا تَقَدَّمَ مِنْ ذَنْبِهِ " .
نوید مجید طیب
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”جس شخص نے ایمان کی حالت اور نیتِ ثواب رکھتے ہوئے قیامِ رمضان کیا اس کے سابقہ گناہ معاف کر دیے جاتے ہیں۔“
وضاحت:
➊ رمضان المبارک کے روزے فرض ہیں، ارشاد باری تعالیٰ ہے: ﴿يَايُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا كُتِبَ عَلَيْكُمُ الصِّيَامُ كَمَا كُتِبَ عَلَى الَّذِينَ مِنْ قَبْلِكُمْ لَعَلَّكُمْ تَتَّقُونَ﴾ [البقره: 183]
"اے لوگو جو ایمان لائے ہو! تم پر روزہ رکھنا اسی طرح فرض کیا گیا ہے جس طرح ان لوگوں پر فرض کیا گیا تھا جو تم سے پہلے تھے تاکہ تم متقی بن جاؤ۔"
اعمال کی قبولیت کے لیے ایمان اور خالص نیت شرط ہے، روزہ گناہوں کو مٹا دیتا ہے البتہ حقوق العباد کی تقصیر کی اس سے تلافی نہیں ہوتی، جب تک جس کا حق تلف کیا اس سے تلافی نہ کرائی جائے یا وہ خود ہی معاف کر دے۔
➋ ایمان سے محرومی اخروی خسارے کا باعث ہے، ارشاد باری تعالیٰ ہے: ﴿وَمَن يَكْفُرْ بِالْإِيمَانِ فَقَدْ حَبِطَ عَمَلُهُ وَهُوَ فِي الْآخِرَةِ مِنَ الْخَاسِرِينَ﴾ [المائده: 5]
"اور جس نے ایمان کا انکار کیا یقیناً اس کے عمل ضائع ہو گئے اور وہ آخرت میں نقصان اٹھانے والوں میں سے ہے۔"
کفر اور شرک دونوں ایمان کے متضاد ہیں، لہٰذا انسان کو ایسے افعال و اقوال سے اجتناب کرنا چاہیے جن سے کفر و شرک لازم آتا ہے۔
➌ فرائض کی پابندی اور دیگر اعمالِ صالحہ سے محض صغیرہ گناہ معاف ہوتے ہیں، کبائر کی معافی کے لیے توبہ و استغفار لازم ہے۔ ارشاد باری تعالیٰ ہے: ﴿اِنْ تَجْتَنِبُوْا كَبَآىٕرَ مَا تُنْهَوْنَ عَنْهُ نُكَفِّرْ عَنْكُمْ سَیِّاٰتِكُمْ وَ نُدْخِلْكُمْ مُّدْخَلًا كَرِیْمًا﴾ [النساء: 31]
"اگر تم بڑے گناہوں سے بچو گے جن سے تمہیں روکا جاتا ہے، تو ہم تمہاری (چھوٹی چھوٹی) برائیاں تم سے دور کر دیں گے اور تمہیں عزت کی جگہ میں داخل کریں گے۔"
"اے لوگو جو ایمان لائے ہو! تم پر روزہ رکھنا اسی طرح فرض کیا گیا ہے جس طرح ان لوگوں پر فرض کیا گیا تھا جو تم سے پہلے تھے تاکہ تم متقی بن جاؤ۔"
اعمال کی قبولیت کے لیے ایمان اور خالص نیت شرط ہے، روزہ گناہوں کو مٹا دیتا ہے البتہ حقوق العباد کی تقصیر کی اس سے تلافی نہیں ہوتی، جب تک جس کا حق تلف کیا اس سے تلافی نہ کرائی جائے یا وہ خود ہی معاف کر دے۔
➋ ایمان سے محرومی اخروی خسارے کا باعث ہے، ارشاد باری تعالیٰ ہے: ﴿وَمَن يَكْفُرْ بِالْإِيمَانِ فَقَدْ حَبِطَ عَمَلُهُ وَهُوَ فِي الْآخِرَةِ مِنَ الْخَاسِرِينَ﴾ [المائده: 5]
"اور جس نے ایمان کا انکار کیا یقیناً اس کے عمل ضائع ہو گئے اور وہ آخرت میں نقصان اٹھانے والوں میں سے ہے۔"
کفر اور شرک دونوں ایمان کے متضاد ہیں، لہٰذا انسان کو ایسے افعال و اقوال سے اجتناب کرنا چاہیے جن سے کفر و شرک لازم آتا ہے۔
➌ فرائض کی پابندی اور دیگر اعمالِ صالحہ سے محض صغیرہ گناہ معاف ہوتے ہیں، کبائر کی معافی کے لیے توبہ و استغفار لازم ہے۔ ارشاد باری تعالیٰ ہے: ﴿اِنْ تَجْتَنِبُوْا كَبَآىٕرَ مَا تُنْهَوْنَ عَنْهُ نُكَفِّرْ عَنْكُمْ سَیِّاٰتِكُمْ وَ نُدْخِلْكُمْ مُّدْخَلًا كَرِیْمًا﴾ [النساء: 31]
"اگر تم بڑے گناہوں سے بچو گے جن سے تمہیں روکا جاتا ہے، تو ہم تمہاری (چھوٹی چھوٹی) برائیاں تم سے دور کر دیں گے اور تمہیں عزت کی جگہ میں داخل کریں گے۔"