حدیث نمبر: 145
أَنْبَأَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ ، قَالَ : سَمِعْتُ الزُّهْرِيَّ ، يُحَدِّثُ , عَنْ مَحْمُودِ بْنِ رَبِيعٍ ، عَنْ عِتْبَانَ بْنِ مَالِكٍ ، قَالَ : قُلْتُ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، إِنِّي مَحْجُوبُ الْبَصَرِ وَإِنَّ السُّيُولَ تَحُولُ بَيْنِي وَبَيْنَ الْمَسْجِدِ فَهَلْ لِي مِنْ عُذْرٍ ؟ فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " هَلْ تَسْمَعُ النِّدَاءَ ؟ " فَقَالَ : نَعَمْ ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " مَا أَجِدُ لَكَ عُذْرًا ، إِذَا سَمِعْتَ النِّدَاءَ " .
═════ متابعت ═════
قَالَ سُفْيَانُ : وَفِيهِ قِصَّةٌ لَمْ أَحْفَظْهَا . قَالَ الشَّافِعِيُّ رَحِمَهُ اللَّهُ : وَلَمْ أَرَهُ اسْتَجْلَسَ النَّاسَ فِي حَدِيثٍ قَطُّ إِلا هَذَا وَحَدِيثُهُ : يَا نَعَايَا الْعَرَبِ . قَالَ الْمُزَنِيُّ : وَهُوَ عِنْدِي نَعَاءِ الْعَرَبِ . حَدَّثَنَا أَحْمَدُ قَالَ : سَمِعْتُ الْمُزَنِيَّ يَقُولُ : قَالَ مُحَمَّدُ بْنُ إِدْرِيسَ : هَكَذَا حَدَّثَنَاهُ سُفْيَانُ وَكَانَ يَتَوَقَّاهُ وَيَعْرِفُ أَنَّهُ لا يَضْبِطُهُ وَقَدْ أَوْهَمَ فِيهِ فِيمَا نَرَى وَالدَّلالَةُ عَلَى ذَلِكَ وَاللَّهُ أَعْلَمُ .
نوید مجید طیب
سیدنا عتبان بن مالک رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے عرض کی: ”اے اللہ کے رسول ﷺ! میں نابینا ہوں، میرے گھر اور مسجد کے درمیان نالے بہتے ہیں کیا میرا یہ عذر گھر میں نماز پڑھ لینے کے لیے کافی ہے؟“ نبی ﷺ نے پوچھا: ”کیا تو اذان سنتا ہے؟“ عرض کی: ”جی ہاں۔“ آپ ﷺ نے فرمایا: ”جب تو اذان کی آواز سنتا ہے تو میں تیرے لیے کوئی عذر نہیں پاتا۔“
حدیث نمبر: 146
أَنَّ مَالِكًا أَخْبَرَنَا عَنِ ابْنِ شِهَابٍ ، عَنْ مَحْمُودِ بْنِ الرَّبِيعِ ، أَنَّ عِتْبَانَ بْنَ مَالِكٍ كَانَ يَؤُمُّ قَوْمَهُ وَهُوَ أَعْمَى وَأَنَّهُ قَالَ لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : إِنَّهَا تَكُونُ الظُّلْمَةُ وَالْمَطَرُ وَالسَّيْلُ وَأَنَا رَجُلٌ ضَرِيرُ الْبَصَرِ فَصَلِّ يَا رَسُولَ اللَّهِ فِي بَيْتِي مَكَانًا أَتَّخِذُهُ مُصَلًّى قَالَ : فَجَاءَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ : " أَيْنَ تُحِبُّ أَنْ أُصَلِّيَ ؟ " فَأَشَارَ لَهُ إِلَى مَكَانٍ مِنَ الْبَيْتِ فَصَلَّى فِيهِ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ .
نوید مجید طیب
سیدنا عتبان بن مالک رضی اللہ عنہ قوم کو امامت کراتے تھے اور وہ نابینے تھے تو انہوں نے رسول اللہ ﷺ سے درخواست کی کہ اندھیرا بھی ہوتا ہے بارش اور سیلاب بھی اور میں نابینا ہوں تو میرے گھر میں آپ ﷺ نماز پڑھیں تاکہ میں اس جگہ کو مصلیٰ بنا لوں۔ رسول اللہ ﷺ تشریف لائے اور فرمایا: ”کس جگہ نماز پڑھنا پسند کرتے ہو؟“ تو انہوں نے اشارہ کیا کہ یہاں، تو اس جگہ رسول اللہ ﷺ نے نماز پڑھی۔
حدیث نمبر: 147
أَنْبَأَنَا أَنْبَأَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ سَعْدٍ ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ عَنْ مَحْمُودِ بْنِ الرَّبِيعِ ، أَنَّ عِتْبَانَ بْنَ مَالِكٍ ، " كَانَ يَؤُمُّ قَوْمَهُ وَهُوَ أَعْمَى " .
نوید مجید طیب
ابن شہاب کی روایت میں بھی ہے کہ سیدنا عتبان بن مالک رضی اللہ عنہ قوم کو امامت کرواتے تھے اور نابینا تھے۔
حدیث نمبر: 148
أَنْبَأَنَا مَالِكٌ , عَنْ أَبِي الزِّنَادِ ، عَنِ الأَعْرَجِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " وَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ ، لَقَدْ هَمَمْتُ أَنْ آمُرَ بِحَطَبٍ فَيُحْطَبَ ثُمَّ آمُرَ بِالصَّلاةِ فَيُؤَذَّنَ لَهَا ثُمَّ آمُرَ رَجُلا فَيَؤُمَّ النَّاسَ ثُمَّ أُخَالِفَهُ إِلَى رِجَالٍ فَأُحَرِّقَ عَلَيْهِمْ بُيُوتَهُمْ وَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ لَوْ يَعْلَمُ أَحَدُهُمُ أَنَّهُ يَجِدُ عَرْقًا سَمِينًا أَوْ مِرْمَاتَيْنِ حَسَنَتَيْنِ لَشَهِدَ الْعِشَاءَ " . قَالَ الطَّحَاوِيُّ : الْمِرْمَاتَانِ هُمَا ظِلْفَا الشَّاةِ .
نوید مجید طیب
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”قسم اس ذات کی جس کے ہاتھ میں میری جان ہے! میں نے مصمم ارادہ کیا کہ لکڑیاں اکٹھی کرنے کا حکم دوں پھر نماز کا حکم دوں اذان دی جائے پھر ایک بندے کو جماعت کرانے کا کہوں پھر خود ان لوگوں کی طرف جاؤں جو نماز سے غائب ہیں انہیں گھروں سمیت جلا ڈالوں، اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے! اگر جماعت میں نہ شریک ہونے والے لوگ کو پتہ چلے کہ مسجد میں ایک اچھے گوشت والی ہڈی ملے گی یا دو عمدہ پائے مل جائیں گے تو عشاء میں ضرور پہنچ آئیں۔“
وضاحت:
➊ ان احادیث میں باجماعت نماز کی اہمیت بتائی گئی ہے کہ مردوں کی گھر میں بغیر جماعت کے نماز نہیں ہوتی۔
➋ جماعت فرض عین ہے جیسا کہ امام احمد رحمہ اللہ کا موقف ہے، اگر عورتوں اور بچوں کا خدشہ نہ ہوتا تو جماعت سے پیچھے رہنے والوں کے گھروں کو جلا دیا جاتا۔
➌ اگر نابینا کو اجازت نہیں ملی تو آنکھوں والوں کے لیے بالکل گنجائش نہیں؟
➍ مزید اس حدیث سے معلوم ہوا کہ مجرموں کے گھر پر چھاپہ مارا جا سکتا ہے اور ان کو مالی سزا بھی دی جا سکتی ہے۔ گھروں سے نکالا جا سکتا ہے لیکن اس دوران پردہ متاثر نہیں ہونا چاہیے۔
➎ بے نماز کو حاکم وقت کو سزا دینی چاہیے، جب صرف سستی برتنے والوں کے گھر جلائے جا سکتے ہیں تو بے نماز کو سزا بالاولیٰ دینی چاہیے۔
➏ مزید معلوم ہوا کہ مسجد کی جگہ وغیرہ کا قوم کے امام اعظم یا بڑے عالم سے افتتاح کرانا جائز امر ہے۔
➐ نابینا کی امامت بلا کراہت جائز ہے، اہل الرائے کہتے ہیں نابینا کو نجاست لگ جاتی ہے، متعدد صحابہ رضی اللہ عنہم نابینے تھے کیا وہ پلید ہی رہتے تھے؟ نعوذ باللہ! آنکھ کے اندھے کے پیچھے نماز ہو جاتی ہے البتہ عقل کے اندھے کے پیچھے پڑھنے سے پرہیز بہتر ہے، جو توحید کو چھوڑ کر شرک اور سنت کو چھوڑ کر بدعت اور حدیث کو چھوڑ کر حکایات کو دین بنائے بیٹھا ہے۔
➑ نابینا صحابی رضی اللہ عنہ نے مندرجہ ذیل عذر پیش کیے۔
1: «ضرير البصر» نابینا ہوں گھر نماز پڑھنے کی اجازت دیں۔
2: «شاسع الدار» گھر دور ہے۔
3: لا قائد لی، مسجد تک لے کر آنے والا کوئی نہیں۔
4: «إن المدينة كثيرة الهوام» مدینہ میں سانپ وغیرہ بہت ہیں۔
5: «واسباع» درندے بھی ہیں۔
6: «السيول تحول بيني وبين المسجد» راستہ میں نالہ بہتا ہے۔
جماعت سے پیچھے رہنے کے لیے نابینا صحابی رضی اللہ عنہ کے چھ عذر قبول نہیں تو آنکھوں والے کا کون سا عذر اس سے بڑھ کر ہوگا؟
➒ مساجد میں محض حرص و لالچ کے لیے حاضر ہونا غیر مستحسن ہے۔
➓ مخلص مومن حصول ثواب جبکہ منافقین مفادات کے لیے مساجد کو رونق بخشتے ہیں۔
➋ جماعت فرض عین ہے جیسا کہ امام احمد رحمہ اللہ کا موقف ہے، اگر عورتوں اور بچوں کا خدشہ نہ ہوتا تو جماعت سے پیچھے رہنے والوں کے گھروں کو جلا دیا جاتا۔
➌ اگر نابینا کو اجازت نہیں ملی تو آنکھوں والوں کے لیے بالکل گنجائش نہیں؟
➍ مزید اس حدیث سے معلوم ہوا کہ مجرموں کے گھر پر چھاپہ مارا جا سکتا ہے اور ان کو مالی سزا بھی دی جا سکتی ہے۔ گھروں سے نکالا جا سکتا ہے لیکن اس دوران پردہ متاثر نہیں ہونا چاہیے۔
➎ بے نماز کو حاکم وقت کو سزا دینی چاہیے، جب صرف سستی برتنے والوں کے گھر جلائے جا سکتے ہیں تو بے نماز کو سزا بالاولیٰ دینی چاہیے۔
➏ مزید معلوم ہوا کہ مسجد کی جگہ وغیرہ کا قوم کے امام اعظم یا بڑے عالم سے افتتاح کرانا جائز امر ہے۔
➐ نابینا کی امامت بلا کراہت جائز ہے، اہل الرائے کہتے ہیں نابینا کو نجاست لگ جاتی ہے، متعدد صحابہ رضی اللہ عنہم نابینے تھے کیا وہ پلید ہی رہتے تھے؟ نعوذ باللہ! آنکھ کے اندھے کے پیچھے نماز ہو جاتی ہے البتہ عقل کے اندھے کے پیچھے پڑھنے سے پرہیز بہتر ہے، جو توحید کو چھوڑ کر شرک اور سنت کو چھوڑ کر بدعت اور حدیث کو چھوڑ کر حکایات کو دین بنائے بیٹھا ہے۔
➑ نابینا صحابی رضی اللہ عنہ نے مندرجہ ذیل عذر پیش کیے۔
1: «ضرير البصر» نابینا ہوں گھر نماز پڑھنے کی اجازت دیں۔
2: «شاسع الدار» گھر دور ہے۔
3: لا قائد لی، مسجد تک لے کر آنے والا کوئی نہیں۔
4: «إن المدينة كثيرة الهوام» مدینہ میں سانپ وغیرہ بہت ہیں۔
5: «واسباع» درندے بھی ہیں۔
6: «السيول تحول بيني وبين المسجد» راستہ میں نالہ بہتا ہے۔
جماعت سے پیچھے رہنے کے لیے نابینا صحابی رضی اللہ عنہ کے چھ عذر قبول نہیں تو آنکھوں والے کا کون سا عذر اس سے بڑھ کر ہوگا؟
➒ مساجد میں محض حرص و لالچ کے لیے حاضر ہونا غیر مستحسن ہے۔
➓ مخلص مومن حصول ثواب جبکہ منافقین مفادات کے لیے مساجد کو رونق بخشتے ہیں۔
حدیث نمبر: 149
أَنْبَأَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ , عَنْ مَعْمَرٍ ، عَنْ يَحْيَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي قَتَادَةَ ، عَنْ أَبِيهِ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " إِذَا أُقِيمَتِ الصَّلاةُ فَلا تَقُومُوا حَتَّى تَرَوْنِي " .
نوید مجید طیب
سیدنا ابو قتادہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”جب نماز کے لیے اقامت کہی جائے تو اس وقت تک نہ کھڑے ہو جب تک مجھے نکلتے ہوئے نہ دیکھ لو۔“
وضاحت:
➊ مؤذن کو اقامت اس وقت شروع کرنی چاہیے جب امام کو حجرے سے نکلتا دیکھے جیسا کہ اس حدیث سے امام نسائی رحمہ اللہ نے استدلال کیا ہے۔ «اقامة المؤذن عند خروج الامام»
➋ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم حجرے میں ہوتے مؤذن اجازت لے کر آتا کہ میں اقامت کہوں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے کہو، تو کبھی کچھ دیر بعد آپ صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لاتے لوگوں کو پہلے کھڑا دیکھ کر احساس کرتے شاید ان کو مشکل درپیش ہوئی اس لیے فرمایا: لوگ اس وقت کھڑے ہوں جب امام کو نکلتے دیکھ لیں۔
➌ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا انتظار تو صحابہ کرام رضی اللہ عنہم اقامت کے بعد بھی فرماتے تھے، اقامت کے بعد ایک بندہ مسئلہ پوچھنے لگا آپ صلی اللہ علیہ وسلم کافی زیادہ دیر اسے سمجھاتے رہے پھر اسی اقامت سے جماعت کروائی۔ جبکہ آج کل ائمہ کا لوگ احترام و انتظار نہیں کرتے اس لیے امام نسائی رحمہ اللہ کا استدلال و موقف درست ہے کہ اقامت اس وقت کہی جائے جب امام نکل آئے، اگر زمانہ اولیٰ کی طرح گورنر ہی امام ہوتا تو لوگوں کی کیا مجال تھی احترام نہ کرتے یا انتظار نہ کرتے اور دوسرا یہ فائدہ ہوتا کہ گورنر کے ساتھ بقیہ سیاسی مالشیے بھی نماز میں آتے مسلمان ہونے کا ثبوت دیتے۔
➍ امام شافعی رحمہ اللہ کا موقف ہے کہ تکبیر ختم ہونے کے بعد اٹھنا چاہیے۔ امام مالک رحمہ اللہ کہتے ہیں تکبیر ہوتے ہی اٹھ جانا چاہیے۔ امام ابو حنیفہ رحمہ اللہ کہتے ہیں «قد قامت الصلاة» پر کھڑا ہونا چاہیے۔ امام احمد رحمہ اللہ «حي على الصلاة» پر اٹھنے کا موقف رکھتے ہیں۔ راجح بات یہ ہے کہ اگر امام مصلیٰ پر موجود ہے جیسا کہ آج کل ہوتا ہے تکبیر ہوتے ہی صفیں درست کر لینی چاہئیں، اور اگر امام صاحب حجرہ میں ہوں تو اُن کی آمد پر اٹھنا چاہیے، حتیٰ کہ مجھ دیکھ لو کا یہی تقاضا ہے۔
➎ تکبیر کے بعد امام کو صفیں درست کروا کر جماعت کھڑی کرنی چاہیے۔
➋ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم حجرے میں ہوتے مؤذن اجازت لے کر آتا کہ میں اقامت کہوں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے کہو، تو کبھی کچھ دیر بعد آپ صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لاتے لوگوں کو پہلے کھڑا دیکھ کر احساس کرتے شاید ان کو مشکل درپیش ہوئی اس لیے فرمایا: لوگ اس وقت کھڑے ہوں جب امام کو نکلتے دیکھ لیں۔
➌ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا انتظار تو صحابہ کرام رضی اللہ عنہم اقامت کے بعد بھی فرماتے تھے، اقامت کے بعد ایک بندہ مسئلہ پوچھنے لگا آپ صلی اللہ علیہ وسلم کافی زیادہ دیر اسے سمجھاتے رہے پھر اسی اقامت سے جماعت کروائی۔ جبکہ آج کل ائمہ کا لوگ احترام و انتظار نہیں کرتے اس لیے امام نسائی رحمہ اللہ کا استدلال و موقف درست ہے کہ اقامت اس وقت کہی جائے جب امام نکل آئے، اگر زمانہ اولیٰ کی طرح گورنر ہی امام ہوتا تو لوگوں کی کیا مجال تھی احترام نہ کرتے یا انتظار نہ کرتے اور دوسرا یہ فائدہ ہوتا کہ گورنر کے ساتھ بقیہ سیاسی مالشیے بھی نماز میں آتے مسلمان ہونے کا ثبوت دیتے۔
➍ امام شافعی رحمہ اللہ کا موقف ہے کہ تکبیر ختم ہونے کے بعد اٹھنا چاہیے۔ امام مالک رحمہ اللہ کہتے ہیں تکبیر ہوتے ہی اٹھ جانا چاہیے۔ امام ابو حنیفہ رحمہ اللہ کہتے ہیں «قد قامت الصلاة» پر کھڑا ہونا چاہیے۔ امام احمد رحمہ اللہ «حي على الصلاة» پر اٹھنے کا موقف رکھتے ہیں۔ راجح بات یہ ہے کہ اگر امام مصلیٰ پر موجود ہے جیسا کہ آج کل ہوتا ہے تکبیر ہوتے ہی صفیں درست کر لینی چاہئیں، اور اگر امام صاحب حجرہ میں ہوں تو اُن کی آمد پر اٹھنا چاہیے، حتیٰ کہ مجھ دیکھ لو کا یہی تقاضا ہے۔
➎ تکبیر کے بعد امام کو صفیں درست کروا کر جماعت کھڑی کرنی چاہیے۔
حدیث نمبر: 150
أَنْبَأَنَا سُفْيَانُ , عَنْ عَبْدِ اللَّهِ ابْنِ أَخِي يَزِيدَ بْنِ الأَصَمِّ , عَنْ عَمِّهِ يَزِيدَ , عَنْ مَيْمُونَةَ ، قَالَتْ : " كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا سَجَدَ تَجَافَى حَتَّى لَوْ أَنَّ بَهْمَةً أَرَادَتْ أَنْ تَمُرَّ مِنْ تَحْتِهِ لَمَرَّتْ " .
نوید مجید طیب
سیدہ میمونہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ نبی اکرم ﷺ جب سجدہ فرماتے (اپنے بازوؤں، رانوں اور زمین سے الگ رکھتے حتی کہ اگر بکری کا بچہ نیچے سے گزرنا چاہتا تو اتنا فاصلہ ہوتا) گزر جاتا۔
وضاحت:
➊ سجدہ کرتے وقت بازو پہلو اور پیٹ سے جدا رکھنے چاہئیں۔
➋ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سجدہ فرماتے تو بازو اتنے کھولتے کہ بغلوں کی سفیدی نظر آتی۔ [سنن ابی داؤد: 899]
یہ حکم مرد و زن سب کے لیے ہے۔ سجدے میں عورتوں کا زمین کے ساتھ سمٹ جانا درست نہیں، مرد و عورت کے سجدہ کا ایک ہی طریقہ ہے۔
➋ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سجدہ فرماتے تو بازو اتنے کھولتے کہ بغلوں کی سفیدی نظر آتی۔ [سنن ابی داؤد: 899]
یہ حکم مرد و زن سب کے لیے ہے۔ سجدے میں عورتوں کا زمین کے ساتھ سمٹ جانا درست نہیں، مرد و عورت کے سجدہ کا ایک ہی طریقہ ہے۔