حدیث نمبر: 137
حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، قَالَ : سَمِعْتُ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي صَعْصَعَةَ ، قَالَ : سَمِعْتُ أَبِي وَكَانَ نَائِمًا فِي حِجْرِ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ قَالَ : قَالَ لِي أَبُو سَعِيدٍ : أَيْ بُنَيَّ إِذَا كُنْتَ فِي هَذِهِ الْبَوَادِي فَارْفَعْ صَوْتَكَ بِالأَذَانِ ، فَإِنِّي سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ : " لا يَسْمَعُهُ إِنْسٌ وَلا جِنٌّ وَلا حَجَرٌ وَلا شَجَرٌ إِلا شَهِدَ لَهُ " .
نوید مجید طیب
عبدالرحمن بن ابی صعصعہ سے روایت ہے (جو سیدنا ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ کی کفالت میں تھے) وہ ان کی گود میں سوئے ہوئے تھے فرماتے ہیں مجھے ابوسعید رضی اللہ عنہ نے فرمایا : ”اے بیٹے! جب تم اس جنگل میں ہو تو بآواز بلند اذان کہو کیونکہ میں نے رسول اللہ ﷺ سے سنا آپ ﷺ نے فرمایا: ”اذان کو جو بھی انسان، جن، پتھر، درخت سنے گا (قیامت کو) حق مؤذن گواہی دے گا۔““
حدیث نمبر: 138
أَنْبَأَنَا مَالِكُ بْنُ أَنَسٍ , عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي صَعْصَعَةَ الأَنْصَارِيِّ ثُمَّ الْمَازِنِيِّ , عَنْ أَبِيهِ ، أَنَّهُ أَخْبَرَهُ أَنَّ أَبَا سَعِيدٍ الْخُدْرِيَّ قَالَ لَهُ : " إِنِّي أَرَاكَ تُحِبُّ الْغَنَمَ وَالْبَادِيَةَ فَإِذَا كُنْتَ فِي غَنَمِكَ أَوْ بَادِيَتِكَ فَأَذَّنْتَ لِلصَّلاةِ فَارْفَعْ صَوْتَكَ بِالنِّدَاءِ فَإِنَّهُ لا يَسْمَعُ مُدَى صَوْتِ الْمُؤَذِّنِ جِنٌّ وَلا إِنْسٌ وَلا شَيْءٌ إِلا شَهِدَ لَهُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ . قَالَ أَبُو سَعِيدٍ : سَمِعْتُهُ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ . حَدَّثَنَا أَحْمَدُ قَالَ : سَمِعْتُ الْمُزَنِيَّ يَقُولُ : قَالَ الشَّافِعِيُّ رَحِمَهُ اللَّهُ : يُشْبِهُ أَنْ يَكُونَ مَالِكٌ أَصَابَ اسْمَ الرَّجُلِ .
نوید مجید طیب
عبدالرحمن بن ابی صعصعہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ سیدنا ابوسعید رضی اللہ عنہ نے فرمایا : ”میں دیکھ رہا ہوں کہ تجھے بکریاں اور صحرا پسند ہے دیکھ جب تو اپنی بکریوں یا صحرا میں ہو تو جب نماز کے لیے اذان کہے تو بآواز بلند کہو! کیونکہ مؤذن کی آواز جو بھی جن، انسان یا کوئی بھی چیز، جس تک آواز پہنچ رہی ہے سن لے تو وہ قیامت والے دن مؤذن کے حق میں گواہی دے گی۔“ سیدنا ابوسعید رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ”میں نے یہ بات رسول اللہ ﷺ سے سنی ہے۔“ امام شافعی رحمہ اللہ کہتے ہیں ممکن ہے کہ امام مالک رحمہ اللہ نے آدمی کا نام درست بتایا ہو۔
وضاحت:
➊ انسان اکیلا ہو پھر بھی اذان کہنی چاہیے۔
➋ بے جان اشیاء بھی شعور رکھتی ہیں اگرچہ ہم نہ سمجھ سکیں۔
➌ بروزِ قیامت بے زبان چیز کی گواہی پر قرآن شاہد ہے۔
➍ ارشاد باری تعالیٰ ہے: ﴿يَوْمَئِذٍ تُحَدِّثُ أَخْبَارَهَا﴾ [الزلزال: 4]
"اس دن زمین اپنی خبریں بیان کرے گی۔"
مؤذن اعلانِ توحید بلند کرتا ہے اور نماز کی دعوت دیتا ہے جو بہت بڑی نیکی ہے، اس نیکی کو کم نہیں جاننا چاہیے بلکہ اس کا اہتمام کرنا چاہیے۔
➎ کسبِ معاش کے لیے بکریاں پالنا اور بکریاں چرانا انبیاء علیہم السلام کی سنت ہے۔ سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: «مَا بَعَثَ اللهُ نَبِيًّا إِلَّا رَعَى الْغَنَمَ» [صحيح بخاري: 2262]
"اللہ رب العزت کے ہر نبی نے بکریاں چرائی ہیں۔"
➋ بے جان اشیاء بھی شعور رکھتی ہیں اگرچہ ہم نہ سمجھ سکیں۔
➌ بروزِ قیامت بے زبان چیز کی گواہی پر قرآن شاہد ہے۔
➍ ارشاد باری تعالیٰ ہے: ﴿يَوْمَئِذٍ تُحَدِّثُ أَخْبَارَهَا﴾ [الزلزال: 4]
"اس دن زمین اپنی خبریں بیان کرے گی۔"
مؤذن اعلانِ توحید بلند کرتا ہے اور نماز کی دعوت دیتا ہے جو بہت بڑی نیکی ہے، اس نیکی کو کم نہیں جاننا چاہیے بلکہ اس کا اہتمام کرنا چاہیے۔
➎ کسبِ معاش کے لیے بکریاں پالنا اور بکریاں چرانا انبیاء علیہم السلام کی سنت ہے۔ سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: «مَا بَعَثَ اللهُ نَبِيًّا إِلَّا رَعَى الْغَنَمَ» [صحيح بخاري: 2262]
"اللہ رب العزت کے ہر نبی نے بکریاں چرائی ہیں۔"
حدیث نمبر: 139
أَنْبَأَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ , عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ شَدَّادٍ ، عَنْ مَيْمُونَةَ ، قَالَتْ : " كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُصَلِّي فِي مِرْطٍ بَعْضُهُ عَلَيَّ وَبَعْضُهُ عَلَيْهِ وَأَنَا حَائِضٌ " .
نوید مجید طیب
ام المومنین سیدہ میمونہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ (رات کو) نماز پڑھتے، چادر کا کچھ حصہ رسول اللہ ﷺ پر ہوتا، کچھ مجھ پر حالانکہ میں حیض کی حالت میں (بھی) ہوتی تھی۔
حدیث نمبر: 140
أَنْبَأَنَا أَنْبَأَنَا مَالِكُ بْنُ أَنَسٍ , عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ عَائِشَةَ ، أَنَّهَا قَالَتْ : " كُنْتُ أُرَجِّلُ رَأْسَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَنَا حَائِضٌ " .
نوید مجید طیب
ام المومنین سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ میں حیض کی حالت میں رسول اللہ ﷺ کی کنگھی کرتی تھی۔
حدیث نمبر: 141
أَنْبَأَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ عَائِشَةَ ، أَنَّهَا قَالَتْ : " كُنْتُ أُرَجِّلُ رَأْسَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَنَا حَائِضٌ " .
نوید مجید طیب
ام المومنین سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے: ”میں رسول اللہ ﷺ کی کنگھی کرتی تھی حالانکہ میں حالت حیض میں ہوتی تھی۔“
حدیث نمبر: 142
أَنْبَأَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ عَائِشَةَ ، قَالَتْ : " كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مُعْتَكِفًا فِي الْمَسْجِدِ فَأَخْرَجَ إِلَيَّ رَأْسَهُ فَغَسَلْتُهُ وَأَنَا حَائِضٌ .
نوید مجید طیب
ام المومنین سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے: ”رسول اللہ ﷺ مسجد میں اعتکاف بیٹھے ہوتے سر مبارک میرے حجرے کی طرف کر دیتے میں حیض کی حالت میں ہی دھو دیتی تھی۔“
وضاحت:
➊ حیض کی وجہ سے عورت کا جسم ناپاک نہیں کہ ہاتھ لگ جائے تو نماز ٹوٹ جائے۔
➋ حائضہ سے صرف جماع فی الفرج منع ہے باقی اس کے ساتھ لیٹنا، مانوس ہونا، اس کے ہاتھ کا کھانا کھانا، اس میں کوئی حرج والی بات نہیں۔
➌ یہود اپنی عورتوں کو حالت حیض میں گھروں سے نکال کر علیحدہ جھونپڑی میں بھیج دیتے، جب پاک ہوتی تو واپس آتی۔ اسلام نے عورت کو عزت بخشی، جو عورت یہودی یا عیسائی کلچر میں عزت تلاش کرنے کی کوشش کرتی ہے وہ ناداں اور تاریخ سے ناواقف ہے، عورت کو ان کلچروں نے بھیڑ بکری کی طرح بازاروں میں فروخت کیا۔ اور آج کے فراڈ بھرے نعرے میرا جسم میری مرضی دوبارہ سے عورت کو شاملاٹ بنانا چاہتے ہیں، جبکہ عورت کی عزت اسلام کے علاوہ کہیں بھی نہیں۔
➍ اسلام میں عورت کو وہ تمام حقوق حاصل ہیں جو مرد کو ہیں البتہ عورت کی صنفی صلاحیت کو سامنے رکھتے ہوئے دائرہ کار مختلف رکھا گیا ہے جو فطری طور پر ضروری ہے۔ خاندانی یونٹ برقرار رکھنے کے لیے مرد کو سربراہ بنایا گیا کیونکہ کوئی بھی ادارہ دو برابر اختیار کے حامل افراد کی سربراہی میں نہیں چل سکتا، یورپ نے مرد کی سربراہی کی نفی کی اس کا خمیازہ بکھرے خاندانی نظام کی صورت میں بھگت رہے ہیں۔ اسلامی دنیا کے بوڑھے میاں بیوی بھی ایک دوسرے کے دلوں کے قریب رہتے ہیں جبکہ یورپین کے سہارا کتے بنتے ہیں، خاندانی نظام تباہ ہونے کے بعد اپنے اوقات کتوں کے ساتھ گزارتے ہیں، مرتے ہوئے اپنی جائیداد کی وصیت کتے کے نام کر جاتے ہیں۔ یہ وہ ذلت ہے جو اللہ تعالیٰ نے ان پر دنیا میں مسلط کی ہے، کون عقل مند مسلم یہ ذلت خریدنے کے لیے تیار ہے؟
➋ حائضہ سے صرف جماع فی الفرج منع ہے باقی اس کے ساتھ لیٹنا، مانوس ہونا، اس کے ہاتھ کا کھانا کھانا، اس میں کوئی حرج والی بات نہیں۔
➌ یہود اپنی عورتوں کو حالت حیض میں گھروں سے نکال کر علیحدہ جھونپڑی میں بھیج دیتے، جب پاک ہوتی تو واپس آتی۔ اسلام نے عورت کو عزت بخشی، جو عورت یہودی یا عیسائی کلچر میں عزت تلاش کرنے کی کوشش کرتی ہے وہ ناداں اور تاریخ سے ناواقف ہے، عورت کو ان کلچروں نے بھیڑ بکری کی طرح بازاروں میں فروخت کیا۔ اور آج کے فراڈ بھرے نعرے میرا جسم میری مرضی دوبارہ سے عورت کو شاملاٹ بنانا چاہتے ہیں، جبکہ عورت کی عزت اسلام کے علاوہ کہیں بھی نہیں۔
➍ اسلام میں عورت کو وہ تمام حقوق حاصل ہیں جو مرد کو ہیں البتہ عورت کی صنفی صلاحیت کو سامنے رکھتے ہوئے دائرہ کار مختلف رکھا گیا ہے جو فطری طور پر ضروری ہے۔ خاندانی یونٹ برقرار رکھنے کے لیے مرد کو سربراہ بنایا گیا کیونکہ کوئی بھی ادارہ دو برابر اختیار کے حامل افراد کی سربراہی میں نہیں چل سکتا، یورپ نے مرد کی سربراہی کی نفی کی اس کا خمیازہ بکھرے خاندانی نظام کی صورت میں بھگت رہے ہیں۔ اسلامی دنیا کے بوڑھے میاں بیوی بھی ایک دوسرے کے دلوں کے قریب رہتے ہیں جبکہ یورپین کے سہارا کتے بنتے ہیں، خاندانی نظام تباہ ہونے کے بعد اپنے اوقات کتوں کے ساتھ گزارتے ہیں، مرتے ہوئے اپنی جائیداد کی وصیت کتے کے نام کر جاتے ہیں۔ یہ وہ ذلت ہے جو اللہ تعالیٰ نے ان پر دنیا میں مسلط کی ہے، کون عقل مند مسلم یہ ذلت خریدنے کے لیے تیار ہے؟
حدیث نمبر: 143
أَنْبَأَنَا سُفْيَانُ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، قَالَ : سَمِعْتُ أَنَسَ بْنَ مَالِكٍ ، يَقُولُ : سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، يَقُولُ : " إِذَا حَضَرَ الْعَشَاءُ وَأُقِيمَتِ الصَّلاةُ فَابْدَءُوا بِالْعَشَاءِ " .
نوید مجید طیب
سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو فرماتے ہوئے سنا کہ جب رات کا کھانا پک کر سامنے آجائے اور نماز کھڑی ہو جائے تو پہلے کھانا کھالو۔
حدیث نمبر: 144
أَنْبَأَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ عَائِشَةَ ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " إِذَا وُضِعَ الْعَشَاءُ وَأُقِيمَتِ الصَّلاةُ فَابْدَءُوا بِالْعَشَاءِ " . حَدَّثَنَا أَحْمَدُ قَالَ : سَمِعْتُ الْمُزَنِيَّ يَقُولُ : قَالَ الشَّافِعِيُّ رَحِمَهُ اللَّهُ : أُمِرَ النَّاسُ بِحُضُورِ الصَّلاةِ فِي الْجَمَاعَةِ لِفَضْلِ الْجَمَاعَةِ عَلَى الانْفِرَادِ وَرُخِّصَ فِي التَّخَلُّفِ عَنِ الْجَمَاعَةِ لِمَعْنًى وَذَلِكَ أَنْ يَحْضُرَ عَشَاءُ أَحَدِهِمْ وَتُقَامَ الصَّلاةُ أَوْ تُقَامَ الصَّلاةُ وَهُوَ يَحْتَاجُ إِلَى الْوُضُوءِ حَاجَةً حَاضِرَةً وَقَدْ نُهِيَ أَنْ يُصَلِّيَ وَهُوَ يُدَافِعُ الأَخْبَثَيْنِ الْغَائِطَ وَالْبَوْلَ وَلَوْ صَلَّى أَجْزَأَ عَنْهُ صَلاتُهُ وَلَكِنَّهُ مُرَخَّصٌ لَهُ لِلْعُذْرِ فِي تَرْكِ الْجَمَاعَةِ وَمَحْبُوبٌ لَهُ أَنْ يَدْخُلَ الصَّلاةَ لا شَاغِلَ لِقَلْبِهِ عَنْهَا وَلا مُعَجِّلَ لَهُ عَنْ إِكْمَالِهَا وَالأَغْلَبُ مِمَّا يَعْرِفُ النَّاسُ أَنَّهُ إِذَا دَخَلَهَا وَبِهِ حَاجَةٌ إِلَى تَعْجِيلِ قَضَاءِ الْحَاجَةِ كَادَ أَنْ يَجْمَعَ أَمْرَيْنِ الْعَجَلَةَ عَنِ الإِكْمَالِ وَالشُّغُلَ عَنِ الإِقْبَالِ وَقَدْ يُخَافُ هَذَا عَلَى مَنْ حَضَرَ عَشَاؤُهُ لِحَاجَةِ النَّاسِ إِلَى الْمَطْعَمِ وَتَوَقَانِ أَنْفُسِهِمْ إِلَيْهِ وَلاسِيَّمَا أَهْلِ الصَّوْمِ وَالْحَاجَةِ إِلَى الْمَأْكَلِ .
═════ متابعت ═════
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ دَاوُدَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ وَاقِدٍ الْحَرَّانِيُّ ، قَالَ : حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ أَعْيَنَ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ الْحَارِثِ ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ ، أَنَّهُ سَمِعَ أَنَسَ بْنَ مَالِكٍ يُحَدِّثُ ، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، أَنَّهُ قَالَ : " إِذَا أُقِيمَتِ الصَّلاةُ وَأَحَدُكُمْ صَائِمٌ فَلْيَبْدَأْ بِالْعَشَاءِ قَبْلَ صَلاةِ الْمَغْرِبِ وَلا تَعْجَلُوا عَنْ عَشَائِكُمْ " .
═════ متابعت ═════
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ ، قَالَ : حَدَّثَنَا يُونُسُ بْنُ عَبْدِ الأَعْلَى قَالَ : أَخْبَرَنَا ابْنُ وَهْبٍ ، ح وَحَدَّثَنَا بَحْرُ بْنُ نَصْرٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ ، قَالَ : أَخْبَرَنِي عَمْرُو بْنُ الْحَارِثِ ، وَيُونُسُ بْنُ يَزِيدَ ، أَنَّ ابْنَ شِهَابٍ ، أَخْبَرَهُ قَالَ : أَخْبَرَنِي أَنَسُ بْنُ مَالِكٍ ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " إِذَا قُرِّبَ الْعَشَاءُ وَحَضَرَتِ الصَّلاةُ فَابْدَءُوا بِهِ قَبْلَ أَنْ تُصَلُّوا الْمَغْرِبَ " .
نوید مجید طیب
ام المومنین سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: ”جب رات کا کھانا لگ جائے اور نماز عشاء کی اقامت ہو جائے تو پہلے رات کا کھانا کھا لو۔“ ابو جعفر کہتے ہیں: محمد بن ادریس شافعی رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ لوگوں کو باجماعت نماز کا حکم اکیلے پڑھنے سے فضیلت کے باعث دیا گیا ہے اور جماعت سے پیچھے رہنے کی رخصت بھی خاص وجہ سے دی گئی ہے۔ (جس کا ذکر آگے ہے) اور یہ کہ رات کا کھانا آ جائے نماز کھڑی ہو جائے (تو رخصت ہے) یا وضو کی ضرورت ہو جیسے پیشاب آیا ہوا ہو تو اس حالت میں نماز پڑھنا منع ہے لیکن اگر ان حالات میں نماز پڑھ لیتا ہے تو نماز تو ہو جائے گی لیکن عذر کی وجہ سے رخصت دی گئی ہے۔ پسندیدہ بات یہ ہے کہ نماز اس حالت میں پڑھے جب کوئی ٹینشن نہ ہو نہ دل کہیں اور مشغول ہو اور نہ جلدی برتی جائے بلکہ (اکمل طریقے سے پرسکون نماز ادا کی جائے) عام طور پر معلوم بات ہے کہ لوگ جب ٹینشن کی حالت میں نماز پڑھتے ہیں تو پھر نماز عجلت سے پڑھتے ہیں اور دل دماغ بھی کہیں اور ہوتا ہے۔ یہی حالت ہوتی ہے اس کی جو کھانا چھوڑ کر آیا ہوتا ہے خصوصاً روزہ دار جو سارے دن کا بھوکا ہوتا ہے اسے شدید حاجت ہے کھانے کی (یعنی یہ تمام چیزیں نماز سے توجہ ہٹاتی ہیں جبکہ نماز اطمینان اور توجہ کا نام ہے)۔
وضاحت:
➊ نماز سکون کا نام ہے، نماز میں اطمینان، سکون، حضور قلب اور خشوع وخضوع مطلوب ہے اس لیے ہر قسم کی پریشانی سے آزاد ہو کر اللہ باری تعالیٰ کے سامنے کھڑا ہونا چاہیے۔ اگر شدید بھوک نہیں، شوقیہ پیٹ پوجا ہو رہی ہے تو پہلے نماز پڑھنی چاہیے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ایک دفعہ گوشت کھا رہے تھے کہ نماز کی اطلاع ملی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم چھری رکھ کر نماز کے لیے چل دیئے۔ [صحیح البخاری: 208]
➋ بعض نے اس حدیث سے صرف نماز مغرب مراد لی ہے اور یہ حکم صرف روزے دار کے لیے خاص سمجھا ہے لیکن راجح یہ ہے کہ ٹینشن اور عدم سکون کی علت جہاں بھی پائی جائے گی وہاں یہی حکم ہو گا چاہے دوپہر کا کھانا ہو، کیونکہ شریعت کی منشا رفع الحرج اور دفع المشقہ بھی ہے کہ دوبارہ کون کھانا گرم کرے۔ دین اسلام نے انسانی فطرت کا بھی لحاظ رکھا ہے۔ ثانیاً: جب مغرب میں اجازت ہے، جس نماز کا وقت دوسری نمازوں کی نسبت بہت کم ہے، تو دوسری نمازوں میں بھی بالاولیٰ یہی حکم ہو گا۔ واللہ اعلم!
➌ اس رخصت کے باوجود مسلمانوں کو چاہیے کہ دعوتیں نماز کے اوقات سامنے رکھ کر کیا کریں، کھانا لگایا ہی «بعد الصلاة» کریں، کسی بھی رخصت کو دائمی حکم بنا لینا درست نہیں خصوصاً جب ہمارے معاشرے میں کھانے کے بعد گپ شپ کا عام رواج ہے، بعد میں کہنا شروع کر دیتے ہیں کہ جماعت تو ہو گئی ہے ابھی ٹھهر کر پڑھ لیں گے، اس لیے اس کا حل یہی ہے کہ دعوتیں نماز کے بعد رکھی جائیں۔ رمضان المبارک میں نماز مغرب کی جماعت کچھ دیر بعد کھڑی کرنی چاہیے تاکہ روزے دار بقدر ضرورت کچھ کھا پی لیں۔
➋ بعض نے اس حدیث سے صرف نماز مغرب مراد لی ہے اور یہ حکم صرف روزے دار کے لیے خاص سمجھا ہے لیکن راجح یہ ہے کہ ٹینشن اور عدم سکون کی علت جہاں بھی پائی جائے گی وہاں یہی حکم ہو گا چاہے دوپہر کا کھانا ہو، کیونکہ شریعت کی منشا رفع الحرج اور دفع المشقہ بھی ہے کہ دوبارہ کون کھانا گرم کرے۔ دین اسلام نے انسانی فطرت کا بھی لحاظ رکھا ہے۔ ثانیاً: جب مغرب میں اجازت ہے، جس نماز کا وقت دوسری نمازوں کی نسبت بہت کم ہے، تو دوسری نمازوں میں بھی بالاولیٰ یہی حکم ہو گا۔ واللہ اعلم!
➌ اس رخصت کے باوجود مسلمانوں کو چاہیے کہ دعوتیں نماز کے اوقات سامنے رکھ کر کیا کریں، کھانا لگایا ہی «بعد الصلاة» کریں، کسی بھی رخصت کو دائمی حکم بنا لینا درست نہیں خصوصاً جب ہمارے معاشرے میں کھانے کے بعد گپ شپ کا عام رواج ہے، بعد میں کہنا شروع کر دیتے ہیں کہ جماعت تو ہو گئی ہے ابھی ٹھهر کر پڑھ لیں گے، اس لیے اس کا حل یہی ہے کہ دعوتیں نماز کے بعد رکھی جائیں۔ رمضان المبارک میں نماز مغرب کی جماعت کچھ دیر بعد کھڑی کرنی چاہیے تاکہ روزے دار بقدر ضرورت کچھ کھا پی لیں۔