حدیث نمبر: 151
أَنْبَأَنَا سُفْيَانُ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيِّبِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ : أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَمَّا رَفَعَ رَأْسَهُ مِنَ الرَّكْعَةِ الثَّانِيَةِ مِنَ الصُّبْحِ قَالَ : " اللَّهُمَّ أَنْجِ الْوَلِيدَ بْنَ الْوَلِيدِ ، وَسَلَمَةَ بْنَ هِشَامٍ ، وَعَيَّاشَ بْنَ أَبِي رَبِيعَةَ ، وَالْمُسْتَضْعَفِينَ بِمَكَّةَ ، وَاشْدُدِ اللَّهُمَّ وَطْأَتَكَ عَلَى مُضَرَ ، وَاجْعَلْهَا عَلَيْهِمْ سِنِينَ كَسِنِي يُوسُفَ " .
نوید مجید طیب
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے جب دوسرے رکوع سے سر اٹھایا (تو یہ دعا کی): ”اے اللہ! ولید بن ولید (خالد بن ولید رضی اللہ عنہ کے بھائی)، سلمہ بن ہشام اور عیاش بن ابی ربیعہ اور کمزور مسلمانوں کو کفار مکہ کی قید سے نجات دے۔ اے اللہ! قبیلہ مضر کے کافروں کو سختی سے کچل ڈال اور ان پر قحط مسلط کر جیسے یوسف علیہ السلام کے زمانے میں قحط آیا تھا۔“
حدیث نمبر: 152
أَنْبَأَنَا عَبْدُ الْوَهَّابِ بْنُ عَبْدِ الْمَجِيدِ , عَنْ أَيُّوبَ السَّخْتِيَانِيِّ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ سِيرِينَ ، قَالَ : سَأَلْتُ أَنَسَ بْنَ مَالِكٍ عَنِ الْقُنُوتِ ، فَقَالَ : " قَنَتَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَعْدَ الرُّكُوعِ " .
نوید مجید طیب
محمد بن سیرین رحمہ اللہ کہتے ہیں میں نے سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے قنوت کے بارے میں سوال کیا آپ نے فرمایا کہ رسول اللہ ﷺ نے رکوع کے بعد قنوت کیا۔
وضاحت:
➊ قنوت نازلہ رکوع کے بعد ہے جبکہ قنوت وتر رکوع سے پہلے ہے۔
➋ امام قنوت نازلہ میں اہل اسلام کے لیے دعا اور کفار کے لیے بد دعا کرتا ہے۔ قنوت نازلہ کی دعائیں عربی زبان میں امام بآواز بلند پڑھے گا اور مقتدی آمین کہیں گے جیسا کہ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پیچھے قنوت نازلہ میں آمین کہتے تھے۔ [سنن ابی داؤد: 1443]
➌ حقیقی کافر سرکش کا نام لے کر بھی اس کے خلاف بد دعا کی جا سکتی ہے۔
➍ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی دعا قبول ہوئی مکہ والے ہڈیاں، چمڑے اور مردار کھانے پر مجبور ہوئے پھر ابوسفیان رضی اللہ عنہ مدینہ آئے اور دعا کی درخواست کی آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دعا کی تو قحط سالی دور ہو گئی۔
➋ امام قنوت نازلہ میں اہل اسلام کے لیے دعا اور کفار کے لیے بد دعا کرتا ہے۔ قنوت نازلہ کی دعائیں عربی زبان میں امام بآواز بلند پڑھے گا اور مقتدی آمین کہیں گے جیسا کہ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پیچھے قنوت نازلہ میں آمین کہتے تھے۔ [سنن ابی داؤد: 1443]
➌ حقیقی کافر سرکش کا نام لے کر بھی اس کے خلاف بد دعا کی جا سکتی ہے۔
➍ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی دعا قبول ہوئی مکہ والے ہڈیاں، چمڑے اور مردار کھانے پر مجبور ہوئے پھر ابوسفیان رضی اللہ عنہ مدینہ آئے اور دعا کی درخواست کی آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دعا کی تو قحط سالی دور ہو گئی۔
حدیث نمبر: 153
أَنْبَأَنَا سُفْيَانُ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ عَبَّادِ بْنِ تَمِيمٍ ، عَنْ عَمِّهِ ، قَالَ : شَكَا رَجُلٌ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ يَجِدُ الشَّيْءَ فِي الصَّلاةِ ، فَقَالَ : " لا تَنْصَرِفْ حَتَّى تَجِدَ رِيحًا أَوْ تَسْمَعَ صَوْتًا " .
نوید مجید طیب
عباد بن تمیم رحمہ اللہ اپنے چچا سے بیان کرتے ہیں کہ ایک آدمی نے رسول اللہ ﷺ سے شکایت کی کہ اسے نماز میں وہم ہوتا ہے کہ ہوا خارج ہوئی ہے۔ آپ ﷺ نے فرمایا: ”نماز سے نہ پھیر جب تک بدبو یا آواز نہ سن لے۔“
وضاحت:
➊ یقین شک کی بناء پر زائل نہیں ہو سکتا محض شک سے وضو نہیں ٹوٹتا، اس حدیث میں وہم اور شک میں پڑنے سے روکا گیا ہے۔
➋ اگر یقین ہے کہ ہوا نکلی ہے چاہے بدبو ناک تک نہیں پہنچی تو وضو ٹوٹ گیا ہے۔ جب شک ہو پتا نہیں وضو ٹوٹا ہے یا نہیں تو پھر دو چیزیں دیکھی جائیں گی۔ آواز اور بدبو۔
➌ ہوا خارج ہونے سے وضو ٹوٹ جاتا ہے۔
➍ محض شک کی بنا پر طہارت کے معاملہ میں بے یقینی کی کیفیت میں مبتلا ہونا درست نہیں۔
➋ اگر یقین ہے کہ ہوا نکلی ہے چاہے بدبو ناک تک نہیں پہنچی تو وضو ٹوٹ گیا ہے۔ جب شک ہو پتا نہیں وضو ٹوٹا ہے یا نہیں تو پھر دو چیزیں دیکھی جائیں گی۔ آواز اور بدبو۔
➌ ہوا خارج ہونے سے وضو ٹوٹ جاتا ہے۔
➍ محض شک کی بنا پر طہارت کے معاملہ میں بے یقینی کی کیفیت میں مبتلا ہونا درست نہیں۔