کتب حدیثالسنن المأثورةابوابباب: سواری پر نماز پڑھنے کا بیان
حدیث نمبر: 77
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ ، عَنِ ابْنِ أَبِي ذِئْبٍ ، عَنْ عُثْمَانَ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ سُرَاقَةَ ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، " أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي غَزْوَةِ بَنِي أَنْمَارٍ كَانَ يُصَلِّي عَلَى رَاحِلَتِهِ مُوَجَّهَةً بِهِ قِبَلَ الْمَشْرِقِ " .
نوید مجید طیب
سیدنا جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ غزوہ بنی انمار میں سواری پر نماز پڑھ رہے تھے جبکہ آپ کا چہرہ مشرق کی جانب تھا۔
وضاحت:
➊ اس حدیث مبارکہ میں نفلی نماز کا ذکر ہے یعنی غزوہ بنی انمار کے سفر میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم سواری پر نماز پڑھ رہے تھے جبکہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا چہرہ مبارک قبلہ کی جانب نہیں تھا کیونکہ نفلی نماز میں نماز شروع کرتے ہوئے قبلہ رخ ہو کر شروع کرنا ضروری ہے پھر جدھر بھی سواری کا رخ ہو، کوئی حرج نہیں۔
➋ سواری پر نفلی نماز ادا کرنا درست ہے۔
حوالہ حدیث السنن المأثورة / باب ما جاء في الصلاة على الراحلة / حدیث: 77
تخریج حدیث صحیح بخاری، المغازی، باب غزوة انمار ، رقم : 4140۔
حدیث نمبر: 78
أَنْبَأَنَا مَالِكُ بْنُ أَنَسٍ ، عَنْ أَبِي بَكْرِ بْنِ عُمَرَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ يَسَارٍ ، أَنَّهُ قَالَ : كُنْتُ أَسِيرُ مَعَ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ بِطَرِيقِ مَكَّةَ قَالَ سَعِيدٌ : فَلَمَّا خَشِيتُ الْفَجْرَ فَنَزَلْتُ فَأَوْتَرْتُ ، فَقَالَ : أَلَيْسَ لَكَ فِي رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أُسْوَةٌ ؟ فَقُلْتُ : بَلَى وَاللَّهِ قَالَ : فَإِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ " يُوتِرُ عَلَى الْبَعِيرِ " .
نوید مجید طیب
سیدنا سعید بن یسار رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ وہ سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کے ساتھ مکہ جا رہے تھے، جب صبح قریب ہونے لگی تو میں سواری سے اترا اور نماز وتر ادا کی، تو سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے فرمایا: کیا تیرے لیے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اسوہ نہیں؟ میں نے کہا کیوں نہیں! اللہ کی قسم، تو انہوں نے کہا کہ رسول اللہ ﷺ اونٹ پر ہی وتر پڑھ لیا کرتے تھے۔
وضاحت:
➊ عام نفلی نمازوں کی طرح وتر بھی سواری پر پڑھنا درست ہے۔
➋ نماز وتر فرض یا واجب نہیں ہے۔
➌ بعض لوگ جو وتر کو فرض یا واجب سمجھتے ہیں یہ حدیث ان کے خلاف دلیل ہے۔
➍ نماز وتر کا وقت طلوع فجر سے پہلے تک ہے۔
حوالہ حدیث السنن المأثورة / باب ما جاء في الصلاة على الراحلة / حدیث: 78
تخریج حدیث صحیح بخاری، الوتر، باب الوتر على الدابة، رقم : 999، صحیح مسلم، المساجد ومواضع الصلاة، باب جواز صلاة النافلة علی الدابة في السفر، رقم : 700۔
حدیث نمبر: 79
وَأَنْبَأَنَا مَالِكٌ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ يَحْيَى الْمَازِنِيِّ ، عَنْ أَبِي الْحُبَابِ سَعِيدِ بْنِ يَسَارٍ , عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ أَنَّهُ قَالَ : " رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُصَلِّي عَلَى حِمَارٍ وَهُوَ مُوَجَّهٌ إِلَى خَيْبَرَ " .
نوید مجید طیب
سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو گدھے پر سفر کے دوران نماز پڑھتے دیکھا اور وہ خیبر جا رہے تھے۔
وضاحت:
➊ یہ روایت سیدنا انس رضی اللہ عنہ سے بھی منقول ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم خیبر کے سفر میں گدھے پر نفل پڑھ رہے تھے۔ [سنن نسائی: 741]
➋ گدھے کا گوشت حرام ہے اس پر سواری جائز ہے معلوم ہوا کسی جانور کے حرام ہونے سے یہ لازم نہیں آتا کہ وہ پلید و ناپاک بھی ہے۔ لہذا اگر ظاہری گندگی نہیں لگی تو نماز نفل پڑھی جا سکتی ہے جیسا کہ احادیث سے صاف ظاہر ہے اور عقل شریعت کے تابع ہے نہ کہ شریعت عقل کے۔
➌ معلوم ہوا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم دوران سفر بھی عبادت میں مشغول رہتے اللہ ہمیں بھی توفیق دے۔ آمین!
حوالہ حدیث السنن المأثورة / باب ما جاء في الصلاة على الراحلة / حدیث: 79
تخریج حدیث صحیح مسلم، المساجد ومواضع الصلاة، باب جواز صلاة النافلة علی الدابة في السفر، رقم : 700۔
حدیث نمبر: 80
وَأَنْبَأَنَا مَالِكٌ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ دِينَارٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ ، أَنَّهُ قَالَ : " كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُصَلِّي عَلَى رَاحِلَتِهِ فِي السَّفَرِ حَيْثُمَا تَوَجَّهَتْ بِهِ " . قَالَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ دِينَارٍ : وَكَانَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ يَفْعَلُ ذَلِكَ .
نوید مجید طیب
سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ سفر میں سواری پر (نفلی) نماز پڑھتے تھے سواری کا منہ جدھر بھی ہو۔ عبداللہ بن دینار رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما بھی ایسے ہی کرتے تھے۔
وضاحت:
➊ سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سنت پر عمل کرنے میں بہت حریص تھے، حتی کہ سفر حج میں اُن کی کوشش ہوتی کہ اسی گھاٹی، وادی، اور راستے سے گزریں جہاں سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم گزرتے تھے، سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کے بیٹے نے ایک دفعہ حدیث رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی مخالفت کی تو اس وجہ سے امام مجاہد رحمہ اللہ بیان کرتے ہیں: «فما كلمه عبد الله حتى مات» پھر عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے وفات تک اپنے بیٹے سے بات چیت نہیں کی تھی۔ [مسند احمد: 4933]
حوالہ حدیث السنن المأثورة / باب ما جاء في الصلاة على الراحلة / حدیث: 80
تخریج حدیث تقدم تخرجه برقم : 70۔
حدیث نمبر: 81
أَنْبَأَنَا مَالِكُ بْنُ أَنَسٍ عَنْ نَافِعٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " صَلاةُ الْجَمَاعَةِ تَفْضُلُ عَلَى صَلاةِ الْفَذِّ بِسَبْعٍ وَعِشْرِينَ دَرَجَةً " .
نوید مجید طیب
سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا: ”با جماعت نماز اکیلے آدمی کی نماز سے ستائیس درجہ فضیلت والی ہے۔“
حوالہ حدیث السنن المأثورة / باب ما جاء في الصلاة على الراحلة / حدیث: 81
تخریج حدیث صحیح بخاری، الاذان، باب فضل صلاة الجماعة، رقم : 645، صحیح مسلم ، المساجد ومواضع الصلاة، باب فضل صلاة الجماعة .... الخ، رقم : 650۔
حدیث نمبر: 82
أَنْبَأَنَا مَالِكُ بْنُ أَنَسٍ ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيِّبِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " صَلاةُ الْجَمَاعَةِ أَفْضَلُ مِنْ صَلاةِ أَحَدِكُمْ وَحْدَهُ بِخَمْسَةٍ وَعِشْرِينَ جُزْءًا " .
نوید مجید طیب
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”با جماعت نماز تم میں سے کسی کے اکیلے نماز پڑھنے سے پچیس درجے زیادہ فضیلت والی ہے۔“
وضاحت:
➊ جس طرح نماز فرض ہے اسی طرح نماز با جماعت بھی فرض ہے، ارشاد باری تعالیٰ ہے: ﴿أَقِيمُوا الصَّلوةَ وَأَتُوا الزَّكوة وَارْكَعُوا مَعَ الركعِينَ﴾ [البقرہ: 43]
اور نماز قائم کرو اور زکاۃ ادا کرو اور رکوع کرنے والوں کے ساتھ رکوع کرو۔
➋ اسلام میں اجتماعیت پر زیادہ زور دیا گیا ہے، کیونکہ اجتماعیت سے آپس میں محبت اور جذبہ عمل بڑھتا ہے اکیلا آدمی سست بن جاتا ہے ایک روایت میں ستائیس اور دوسری میں چھبیس کا ذکر ہے اس کی مختلف توجیہات بیان ہوئی ہیں۔ مثلاً
(الف) اس سے مراد کثرت ثواب ہے نہ کہ مخصوص عدد جیسے کہتے ہیں میں نے تمہیں 100 دفعہ کہا ہے مراد کثرت ہوتی ہے اگر چہ سو دفعہ نہ کہا ہو۔
(ب) بعض اہل علم کا کہنا ہے کہ جہری نمازیں ستائیس گنا اور سری نمازیں چھبیس گنا زیادہ ثواب کی حامل ہیں۔
(ت) خشوع و خضوع کے اعتبار سے ثواب بڑھتا اور کم ہوتا ہے۔
حوالہ حدیث السنن المأثورة / باب ما جاء في الصلاة على الراحلة / حدیث: 82
تخریج حدیث صحیح مسلم، المساجد ومواضع الصلاة، باب فضل صلاة الجماعة و بیان التشديد في التخلف عنها ، رقم : 649۔
حدیث نمبر: 83
أَنْبَأَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي سُلَيْمَانَ ، سَمِعْتُ عِرَاكَ بْنَ مَالِكٍ ، سَمِعْتُ أَبَا هُرَيْرَةَ ، يَقُولُ : " وَرَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِخَيْبَرَ وَرَجُلٌ مِنْ بَنِي غَفَّارٍ يَؤُمُّ النَّاسَ فَسَمِعْتُهُ يَقْرَأُ فِي صَلاةِ الصُّبْحِ فِي الرَّكْعَةِ الأُولَى بِسُورَةِ مَرْيَمَ ، وَفِي الثَّانِيَةِ : قَدِمْتُ الْمَدِينَةَ بِ وَيْلٌ لِلْمُطَفِّفِينَ " . وَكَانَ عِنْدَنَا رَجُلٌ لَهُ مِكْيَالانِ يَأْخُذُ بِأَحَدِهِمَا وَيُعْطِي بِالآخَرِ ، فَقُلْتُ : وَيْلٌ لِفُلانٍ .
نوید مجید طیب
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ وہ مدینہ آئے، رسول اللہ ﷺ خیبر فتح کرنے گئے ہوئے تھے، بنی غفار کا ایک آدمی لوگوں کو امامت کرا رہا تھا، میں نے نماز فجر میں اسے پہلی رکعت میں سورۃ مریم اور دوسری میں سورة المطففين پڑھتے ہوئے سنا (چونکہ اس سورۃ میں ناپ تول میں کمی کرنے والوں کی مذمت کی گئی ہے) تو ہمارے علاقے کا ایک آدمی تھا جس نے دو ترازو رکھے ہوئے تھے، اگر سامان خریدنا ہو تو ایک ترازو سے وزن کرتا اور اگر سامان بیچنا ہوتا تو دوسرے ترازو سے وزن کرتا، تو میں نے کہا : ہلاکت ہو فلاں کے لیے۔
وضاحت:
➊ سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ 7 ہجری کو اسلام لائے پھر مدینہ آئے تو پتہ چلا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم خیبر کے لیے نکل چکے ہیں تو سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ بھی آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پیچھے خیبر چلے گئے جب خیبر پہنچے تو خیبر فتح ہو چکا تھا، ان کو بھی مال غنیمت سے حصہ ملا، علم پر بہت حریص تھے چند سال رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی صحبت نصیب ہوئی لیکن سب صحابہ کرام رضی اللہ عنہم سے حفظ حدیث میں سبقت لے گئے آپ کی روایات کی تعداد پانچ ہزار تین سو چوہتر (5374) ہے، امام نووی رحمہ اللہ فرماتے ہیں: سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ کی ایک بڑی منقبت یہ بھی ہے کہ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم میں سے انہوں نے سب سے زیادہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے حدیثیں بیان کی ہیں۔ ان کے حافظے کے لیے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے خاص دعا فرمائی تھی۔ [شرح النووی: 67/1]
➋ سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں مجھ سے زیادہ کسی صحابی کے پاس رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی احادیث نہیں سوائے عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما کے، کیونکہ وہ لکھا کرتے تھے اور میں لکھتا نہیں تھا۔ [صحیح بخاری: 113]
➌ حدیث میں ناپ تول کا بھی بیان ہے کم تولنا بہت بڑا گناہ ہے۔ قوم شعیب علیہ السلام اس گناہ کے سبب ہلاک ہوئی، عصر حاضر میں مسلم دکاندار کس قدر دھوکے کا شکار ہیں۔
➍ ناپ تول میں کمی کرنے والوں کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے قحط سالی، مشکلات اور ظالم حکمرانوں کے تسلط کی وعید سنائی ہے۔ [سنن ابن ماجہ: 4019]
حوالہ حدیث السنن المأثورة / باب ما جاء في الصلاة على الراحلة / حدیث: 83
تخریج حدیث مسند احمد: 226/14، رقم : 8552 وقال الارنوؤط: اسناده صحیح علی شرط الشيخين ، السنن الكبرى للبيهقي : 390/2۔
حدیث نمبر: 84
أَنْبَأَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ ، حَدَّثَنَا زِيَادُ بْنُ عِلاقَةَ قَالَ : سَمِعْتُ الْمُغِيرَةَ بْنَ شُعْبَةَ ، يَقُولُ : قَامَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَتَّى تَوَرَّمَتْ قَدَمَاهُ فَقِيلَ : أَلَيْسَ قَدْ غَفَرَ اللَّهُ لَكَ مَا تَقَدَّمَ مِنْ ذَنْبِكَ وَمَا تَأَخَّرَ ؟ فَقَالَ : " أَفَلا أَكُونُ عَبْدًا شَكُورًا " . ═════ متابعت ═════ أَخْبَرَنَا الطَّحَاوِي ، قَالَ الرَّبِيعُ بْنُ سُلَيْمَانَ الْجِيزِيُّ قَالَ : سَعِيدُ بْنُ أَبِي مَرْيَمَ ، قَالَ : أَنْبَأَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ سُوَيْدِ بْنِ حَيَّانَ ، قَالَ : أَنْبَأَنَا أَبُو صَخْرٍ عَنْ يَزِيدَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ قُسَيْطٍ ، عَنْ عُرْوَةَ ، عَنْ عَائِشَةَ زَوْجِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَتْ : كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا صَلَّى قَامَ حَتَّى تَنْفَطِرَ رِجْلاهُ ، قَالَتْ عَائِشَةُ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، أَتَصْنَعُ هَذَا وَقَدْ غَفَرَ اللَّهُ لَكَ مَا تَقَدَّمَ مِنْ ذَنْبِكَ وَمَا تَأَخَّرَ ! قَالَ : " أَفَلا أَكُونُ عَبْدًا شَكُورًا " .
نوید مجید طیب
سیدنا مغیرہ بن شعبہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اتنا لمبا قیام کیا کہ پاؤں سوج گئے آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے کہا گیا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو لمبے قیام کی کیا ضرورت ہے آپ کی تو اللہ تعالی نے بخشش فرما دی ہے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ”کیا میں اللہ کا شکر گزار بندہ نہ بن جاؤں؟“
وضاحت:
➊ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نماز تہجد میں لمبا قیام فرماتے تھے۔
➋ اللہ تعالیٰ نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو گناہوں اور غلطیوں سے پاک کر دیا ہے۔
➌ انسان پر جس قدر اللہ رب العزت کی نوازشیں اور عنایتیں ہوں اس کو اسی قدر شکر گزار بن کر زندگی گزارنی چاہیے۔ ہمارے ہاں لوگوں کا معاملہ بالکل مختلف ہے جس کے پاس جتنا زیادہ ہے وہ اتنا ہی شریعت سے دور اور عبادات سے بعید ہے۔ «اعاذنا الله منه!»
➍ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اطمینان، سکون، خشوع و خضوع اور ترتیل سے قرآن کی تلاوت فرماتے تھے، عبادت چاہے دو ہی رکعت ہو آرام آرام سے کرنی چاہیے، جو ایک رات میں کئی سو یا ہزار نوافل پڑھ کر خوش ہوتے ہیں نہ رکوع میں اطمینان نہ سجدے میں بلکہ کوے کی طرح ٹھونگے مارتے ہیں ایسی نماز کا کوئی فائدہ نہیں فرشتے منہ پر مار دیتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ کو بغیر سنت عمل کے پڑھی نمازیں نہیں چاہئیں ایک آدمی کو صحابی رسول سیدنا حذیفہ رضی اللہ عنہ نے ایسی نماز پڑھتے دیکھا جس میں رکوع و سجود مکمل نہ تھے تو فرمایا: تو نے نماز نہیں پڑھی اگر ایسی نمازیں پڑھتے مر گیا تو تیری موت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے طریقے پر نہیں ہوگی۔ [صحیح بخاری: 389]
بلکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے «مسيء الصلاة» والی حدیث میں ایسی تیز نماز پڑھنے پر فرمایا: «ارجع فصل فإنك لم تصل» جاؤ واپس پھر پڑھو تم نے نماز نہیں پڑھی۔ [صحیح بخاری: 757]
حوالہ حدیث السنن المأثورة / باب ما جاء في الصلاة على الراحلة / حدیث: 84
تخریج حدیث صحیح بخاری، التفسير ، باب قوله ليغفر لك الله ما تقدم من ذنبك وما تأخر، رقم : 4836 ، صحیح مسلم صفة القيامة والجنة والنار، باب اكثار الاعمال والاجتهاد في العبادة، رقم : 2819۔
حدیث نمبر: 85
أَنْبَأَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا زِيَادُ بْنُ عِلاقَةَ ، قَالَ : سَمِعْتُ عَمِّي قُطْبَةَ بْنَ مَالِكٍ ، يَقُولُ : " سَمِعْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقْرَأُ فِي الْفَجْرِ وَالنَّخْلَ بَاسِقَاتٍ " .
نوید مجید طیب
سیدنا قطبہ بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ انہوں نے نبی کریم ﷺ کو نماز فجر میں ﴿وَالنَّخْلَ بَاسِقَاتٍ﴾ (یعنی سورۃ ق) کی تلاوت کرتے سنا۔
حوالہ حدیث السنن المأثورة / باب ما جاء في الصلاة على الراحلة / حدیث: 85
تخریج حدیث صحیح مسلم، الصلاة، باب القرأة في الصبح، رقم : 457۔
حدیث نمبر: 86
أَنْبَأَنَا مَالِكُ بْنُ أَنَسٍ ، وَسُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ جُبَيْرِ بْنِ مُطْعِمٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، قَالَ : سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " قَرَأَ بِ الطُّورِ فِي الْمَغْرِبِ " .
نوید مجید طیب
سیدنا جبیر بن مطعم رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، وہ فرماتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو نماز مغرب میں سورۃ الطور کی تلاوت کرتے سنا۔
وضاحت:
➊ نماز مغرب میں قراءت بالجہر ہے۔
➋ کبھی کبھار مغرب کی نماز میں لمبی سورتوں کی تلاوت بھی کر لینی چاہیے ہمارے یہاں یہ سنت مجموعی طور پر متروک ہو چکی ہے۔
حوالہ حدیث السنن المأثورة / باب ما جاء في الصلاة على الراحلة / حدیث: 86
تخریج حدیث صحیح بخاری، الاذان، باب الجهر في المغرب، رقم : 765 ، مسلم، الصلاة، باب القرأة في الصبح ، رقم : 463۔
حدیث نمبر: 87
أَنْبَأَنَا مَالِكُ بْنُ أَنَسٍ ، وَسُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ جُبَيْرِ بْنِ مُطْعِمٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، قَالَ : سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " قَرَأَ بِ الطُّورِ فِي الْمَغْرِبِ " .
نوید مجید طیب
سیدنا جبیر بن مطعم رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، وہ فرماتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو نماز مغرب میں سورۃ الطور کی تلاوت کرتے سنا۔
وضاحت:
➊ نماز مغرب میں قراءت بالجہر ہے۔
➋ کبھی کبھار مغرب کی نماز میں لمبی سورتوں کی تلاوت بھی کر لینی چاہیے ہمارے یہاں یہ سنت مجموعی طور پر متروک ہو چکی ہے۔
حوالہ حدیث السنن المأثورة / باب ما جاء في الصلاة على الراحلة / حدیث: 87
تخریج حدیث صحیح بخاری، الاذان، باب الجهر في المغرب، رقم : 765 ، مسلم، الصلاة، باب القرأة في الصبح ، رقم : 463۔
حدیث نمبر: 88
أَنْبَأَنَا مَالِكُ بْنُ أَنَسٍ ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُتْبَةَ بْنِ مَسْعُودٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبَّاسٍ ، أَنَّهُ قَالَ : إِنَّ أُمَّ الْفَضْلِ ابْنَةَ الْحَارِثِ سَمِعَتْهُ وَهُوَ يَقْرَأُ وَالْمُرْسَلاتِ عُرْفًا ، فَقَالَتْ : يَا بُنَيَّ ، لَقَدْ ذَكَّرْتَنِي بِقِرَاءَتِكَ هَذِهِ السُّورَةَ ، إِنَّهَا لآخِرُ مَا سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقْرَأُ بِهَا فِي الْمَغْرِبِ .
نوید مجید طیب
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ ان کی ماں ام فضل بنت حارث نے ان کو ﴿وَالْمُرْسَلَاتِ عُرْفًا﴾ پڑھتے سنا تو کہنے لگیں : اے میرے بیٹے! تو نے اس سورۃ کی تلاوت کر کے مجھے یاد دلا دیا کہ بے شک یہ آخری سورۃ ہے جو میں نے رسول اللہ ﷺ کو نماز مغرب میں تلاوت کرتے سنی۔
وضاحت:
➊ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی سنتوں سے والہانہ لگاؤ تھا، مرد و زن نے امور شرع کو محفوظ کرنے میں یکساں محنت کی۔
➋ سنت رسول صلی اللہ علیہ وسلم پر عمل کرنے والے بچوں کی بڑوں کو حوصلہ افزائی کرنی چاہیے۔
➌ ام فضل رضی اللہ عنہا ام المومنین سیدہ میمونہ بنت حارث رضی اللہ عنہا کی ہمشیرہ اور سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما کی والدہ ماجدہ ہیں۔
حوالہ حدیث السنن المأثورة / باب ما جاء في الصلاة على الراحلة / حدیث: 88
تخریج حدیث صحیح بخاری، الاذان، باب القرأة في المغرب، رقم : 763 ، مسلم، الصلاة، باب القرأة في الصبح ، رقم : 462۔
حدیث نمبر: 89
أَنْبَأَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، عَنْ أُمِّهِ أُمِّ الْفَضْلِ ، " أَنَّهَا سَمِعَتْ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقْرَأُ بِهَا فِي الْمَغْرِبِ بِالْمُرْسَلاتِ " .
نوید مجید طیب
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے، وہ اپنی ماں سیدہ ام فضل رضی اللہ عنہا سے بیان کرتے ہیں کہ انہوں نے رسول اللہ ﷺ کو نماز مغرب میں سورۃ المرسلات پڑھتے سنا۔
حوالہ حدیث السنن المأثورة / باب ما جاء في الصلاة على الراحلة / حدیث: 89
تخریج حدیث تقدم تخرجه برقم : 88۔
حدیث نمبر: 90
أَنْبَأَنَا مَالِكُ بْنُ أَنَسٍ ، عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ ، عَنْ عَدِيِّ بْنِ ثَابِتٍ ، عَنِ الْبَرَاءِ بْنِ عَازِبٍ ، أَنَّهُ قَالَ : " صَلَّيْتُ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِالْعَتَمَةِ فَقَرَأَ فِيهَا بِالتِّينِ وَالزَّيْتُونِ " .
نوید مجید طیب
سیدنا براء بن عازب رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کے ساتھ نماز عشاء پڑھی جس میں آپ ﷺ نے ﴿وَالتِّينِ وَالزَّيْتُونِ﴾ کی تلاوت فرمائی۔
وضاحت:
➊ نماز عشاء میں قرآت جہری ہے۔
➋ سورۃ التین کی نماز عشاء میں تلاوت مسنون ہے۔
حوالہ حدیث السنن المأثورة / باب ما جاء في الصلاة على الراحلة / حدیث: 90
تخریج حدیث صحیح مسلم، الصلاة، باب القرأة في العشاء، رقم : 464۔
حدیث نمبر: 91
أَنْبَأَنَا عَبْدُ الْوَهَّابِ بْنُ عَبْدِ الْمَجِيدِ ، قَالَ : سَمِعْتُ يَحْيَى بْنَ سَعِيد ، قَالَ : أَخْبَرَنِي عَدِيُّ بْنُ ثَابِتٍ ، عَنِ الْبَرَاءِ بْنِ عَازِبٍ ، أَنَّهُ أَخْبَرَهُ ، " أَنَّهُ صَلَّى مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْعِشَاءَ فَقَرَأَ فِيهَا بِالتِّينِ وَالزَّيْتُونِ " .
نوید مجید طیب
سیدنا براء بن عازب رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے عشاء کی نماز میں سورۃ والتین کی تلاوت فرمائی۔
وضاحت:
➊ گزشتہ احادیث میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا مختلف نمازوں میں مختلف سورتیں قراءت کرنے کا بیان ہے، نماز مغرب میں سورۃ الطور اور المرسلات کی تلاوت بھی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کی جبکہ آج کل اتنی لمبی سورتیں نماز فجر میں پڑھی جاتی ہیں، کیونکہ اکثر لوگ سمجھتے ہیں کہ شاید مغرب کا وقت بہت کم ہے صرف سورۃ الکوثر، الفلق، الناس کی ہی گنجائش ہے جبکہ ایسا نہیں کبھی کبھار لوگوں کی ذہن سازی کر کے نماز مغرب میں سورۃ الطور یا المرسلات بھی پڑھ لینی چاہیے۔
➋ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے عشاء میں ﴿وَالتِّينِ﴾ کی بھی تلاوت کی حالانکہ عشاء کا وقت رات کے آخری پہر تک ہے تو حالات کے پیش نظر تلاوت کم زیادہ کی جا سکتی ہے جیسا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے نماز فجر میں معوذتین بھی پڑھیں اور سورۃ الزلزال بھی بیان جواز کے لیے پڑھی۔
ان دلائل سے یہ بات واضح ہوتی ہے کہ مختلف نمازوں میں چھوٹی، بڑی سورتوں کی تلاوت کی جا سکتی ہے البتہ نماز فجر میں ساٹھ سے سو آیات کی کم از کم تلاوت ہونی چاہیے۔ [صحیح بخاری: 547، صحیح مسلم: 461]
حوالہ حدیث السنن المأثورة / باب ما جاء في الصلاة على الراحلة / حدیث: 91
تخریج حدیث تقدم تخرجه برقم 90۔
حدیث نمبر: 92
أَنْبَأَنَا مَالِكُ بْنُ أَنَسٍ ، عَنْ حَمْزَةَ بْنِ سَعِيدٍ الْمَازِنِيِّ ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُتْبَةَ ، أَنَّ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ سَأَلَ أَبَا وَاقِدٍ اللَّيْثِيَّ مَاذَا كَانَ يَقْرَأُ بِهِ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي الأَضْحَى وَالْفِطْرِ ؟ قَالَ : " كَانَ يَقْرَأُ ق ، وَالْقُرْآنِ الْمَجِيدِ ، وَاقْتَرَبَتِ السَّاعَةُ ، وَانْشَقَّ الْقَمَرُ " .
نوید مجید طیب
سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے ابو واقد لیثی رضی اللہ عنہ سے پوچھا کہ رسول اللہ ﷺ عید الاضحی اور عید الفطر کی نماز میں کون سی سورتیں پڑھتے تھے؟ انہوں نے کہا کہ آپ ﷺ سورہ ق اور سورہ قمر کی تلاوت فرماتے تھے۔
وضاحت:
➊ عیدین کی نمازوں میں قرآۃ بالجہر ہے۔
➋ نماز جمعہ اور نماز عیدین کی پہلی رکعت میں سورۃ الاعلیٰ اور دوسری رکعت میں سورۃ الغاشیہ کی تلاوت بھی مسنون ہے۔ اگر بروز جمعہ عید ہو تو نماز جمعہ اور نماز عید دونوں میں ان سورتوں کی تلاوت کرنی چاہیے۔ [صحیح مسلم: 878]
حوالہ حدیث السنن المأثورة / باب ما جاء في الصلاة على الراحلة / حدیث: 92
تخریج حدیث صحیح مسلم، صلاة العيدين، باب ما يقرأ به في صلاة العيدين، رقم : 891۔
حدیث نمبر: 93
أَنْبَأَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ ، عَنْ عَبْدَةَ بْنِ أَبِي لُبَابَةَ ، وَعَاصِمِ ابْنِ بَهْدَلَةَ ، عَنْ زِرِّ بْنِ حُبَيْشٍ ، قَالَ : سَأَلْتُ أُبَيَّ بْنَ كَعْبٍ عَنِ الْمُعَوِّذَتَيْنِ ، فَقُلْتُ لَهُ : إِنَّ أَخَاكَ ابْنَ مَسْعُودٍ يُحْكِمُهَا مِنَ الْمُصْحَفِ ، فَقَالَ : إِنِّي سَأَلْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَقَالَ : قِيلَ لِي ، فَقُلْتُ : فَنَحْنُ نَقُولُ كَمَا قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ .
نوید مجید طیب
زر بن حبیش رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ میں نے سیدنا ابی بن کعب رضی اللہ عنہ سے معوذتین (سورۃ الفلق اور سورۃ الناس) کے بارے میں سوال کیا اور ان سے کہا کہ آپ کے دینی بھائی ابن مسعود رضی اللہ عنہ ان دونوں سورتوں کو مصحف سے کھرچ دیتے ہیں، تو سیدنا ابی بن کعب رضی اللہ عنہ نے فرمایا : میں نے اس بارے میں رسول اللہ ﷺ سے پوچھا تھا، تو آپ ﷺ نے فرمایا : (جبرائیل کے واسطے سے) مجھے یوں کہا گیا کہ ایسا کہو ﴿قل اعوذ...﴾ (یعنی وہی آئی) میں نے ﴿قل اعوذ...﴾ کہا سیدنا ابی بن کعب رضی اللہ عنہ نے فرمایا ہم بھی وہی کہتے ہیں جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا۔
وضاحت:
➊ سیدنا عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کا خیال یہ تھا کہ معوذتین کا نزول محض دم کے لیے ہوا ہے یہ دعائیہ کلمات ہیں جبکہ دیگر صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے ان کو مستقل قرآنی سورتیں شمار کیا ہے اور یہی بات صحیح اور راجح ہے کہ یہ قرآنی سورتیں ہیں۔
➋ عہد صحابہ میں عام لوگ اپنے اشکال دور کرنے کے لیے مختلف اہل علم اصحاب رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف رجوع کرتے تھے۔
➌ سیدنا عقبہ بن عامر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں معوذتین کے ساتھ نماز فجر کی امامت کرائی۔ اس حدیث سے بھی یہی بات ثابت ہوتی ہے یہ دونوں سورتیں قرآن کا حصہ ہیں، ممکن ہے سیدنا عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کو یہ بات نہ پہنچی ہو۔ [سنن ابی داؤد: 1462]
حوالہ حدیث السنن المأثورة / باب ما جاء في الصلاة على الراحلة / حدیث: 93
تخریج حدیث صحیح بخاری، التفسير ، باب سورة قل اعوذ برب الناس، رقم : 4977۔
حدیث نمبر: 94
أَنْبَأَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ ، عَنْ عَاصِمِ بْنِ بَهْدَلَةَ ، عَنْ بَكْرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ الْمُزَنِيِّ ، قَالَ : جَاءَ رَجُلٌ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ : رَأَيْتُ كَأَنَّ رَجُلا يَكْتُبُ الْقُرْآنَ فَلَمَّا مَرَّ بِالسَّجْدَةِ الَّتِي فِي ص سَجَدَتْ شَجَرَةٌ ، فَقَالَتِ : اللَّهُمَّ أَعْطِنِي بِهَا أَجْرًا وَاحْطُطْ بِهَا وِزْرًا أَوْ أَحْدِثْ بِهَا شُكْرًا . فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " فَنَحْنُ أَحَقُّ بِالسُّجُودِ مِنَ الشَّجَرَةِ " فَسَجَدَهَا وَأَمَرَ بِالسُّجُودِ فِيهَا .
نوید مجید طیب
بکر بن عبد اللہ رحمہ اللہ کہتے ہیں ایک آدمی رسول اللہ ﷺ کے پاس حاضر ہوا اور کہا کہ میں نے (خواب میں) ایک بندہ دیکھا جو قرآن لکھ رہا تھا، جب سورۃ ص کے سجدے پر پہنچا تو پاس درخت تھا جو سجدے میں گر گیا اور درخت نے کہا : ”اے اللہ! اس کے بدلے تو میرے لیے اجر لکھ دے اور میرا بوجھ مٹا دے، اور اس کو سجدہ شکر بنا دے۔“ نبی اکرم ﷺ نے یہ خواب سن کر فرمایا: ”ہم درخت سے زیادہ سجدہ کرنے کے حقدار ہیں۔“ پس رسول اللہ ﷺ نے سجدہ کیا اور اس سورت میں سجدہ کا حکم بھی دیا۔
وضاحت:
➊ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما نے بیان کیا ایک آدمی نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا تو اس نے کہا: اے اللہ کے رسول! رات میں نے خواب میں خود کو ایک درخت کے پیچھے نماز پڑھتے دیکھا، میں نے نماز میں سجدہ تلاوت کیا تو درخت نے بھی میرے ساتھ سجدہ کیا اور میں نے اسے پڑھتے سنا: ﴿اللهم اكتب لى بها عندك اجراً وضع عنى بها وزراً واجعلها لي عندك ذخرا و تقبلها منى كما تقبلتها من عبدك داؤد﴾ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں بعد ازاں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے بھی سجدہ تلاوت میں اس دعا کو پڑھا۔ [سنن ترمذی: 3424]
➋ سجدہ تلاوت مسنون ہے۔
➌ سجدہ تلاوت کا حکم تلاوت قرآن کا حکم ہے۔
حوالہ حدیث السنن المأثورة / باب ما جاء في الصلاة على الراحلة / حدیث: 94
تخریج حدیث السنن الكبرى للبيهقي : 320/2 ، مستدرك حاكم: 432/2 وقال الذهبي على شرط مسلم، مجمع الزوائد للهيثمي : 284/2 وقال رواه احمد ورجاله رجال الصحيح، السلسلة الصحيحة للالباني : 472/6۔
حدیث نمبر: 95
وَأَنْبَأَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ ، عَنِ ابْنِ أَبِي ذِئْبٍ , عَنْ يَزِيدَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ قُسَيْطٍ ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ يَسَارٍ ، عَنْ زَيْدِ بْنِ ثَابِتٍ ، " أَنَّهُ قَرَأَ عِنْدَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِالنَّجْمِ فَلَمْ يَسْجُدْ فِيهَا " .
نوید مجید طیب
سیدنا زید بن ثابت رضی اللہ عنہ سے روایت ہے انہوں نے رسول اللہ ﷺ کے پاس سورہ نجم کی تلاوت کی آپ ﷺ نے سجدہ تلاوت نہیں کیا۔
وضاحت:
➊ سجدہ تلاوت فرض یا واجب نہیں ہے۔
➋ سجدہ تلاوت کا حکم تلاوت قرآن کا ہے۔ جو چیزیں تلاوت قرآن کے لیے ضروری ہیں وہی سجدہ تلاوت کے لیے ضروری ہیں۔
حوالہ حدیث السنن المأثورة / باب ما جاء في الصلاة على الراحلة / حدیث: 95
تخریج حدیث صحیح بخاری سجود القرآن باب من قرأ السجدة ولم يسجد ، رقم: 1072 ، صحیح مسلم، المساجد ومواضع الصلاة، باب سجود التلاوة، رقم : 577۔
حدیث نمبر: 96
وَأَنْبَأَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ ، عَنِ ابْنِ أَبِي ذِئْبٍ ، عَنِ الْحَارِثِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ ثَوْبَانَ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، " أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَرَأَ بِالنَّجْمِ فَسَجَدَ فِيهَا وَسَجَدَ النَّاسُ مَعَهُ إِلا رَجُلَيْنِ قَالَ : أَرَادَا الشُّهْرَةَ " .
نوید مجید طیب
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے رسول اللہ ﷺ نے سورۃ نجم کی تلاوت فرمائی اور سجدہ تلاوت کیا تمام لوگوں نے آپ ﷺ کے ساتھ سجدہ کیا ماسوائے دو آدمیوں کے انہوں نے مشہور ہونے کے لیے سجدہ نہ کیا۔
وضاحت:
➊ جیسے شیطان سجدہ نہ کر کے مشہور ہوا، یہ مکہ کا واقعہ ہے تمام کافر بھی سجدہ میں پڑ گئے تھے سوائے ایک دو کے جو کہ امیہ بن خلف، عتبہ بن ربیعہ یا ولید بن مغیرہ تھے جو کفر کی حالت میں ہی مرے۔
➋ سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ نے ایک آدمی کا ذکر کیا ہے جبکہ سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ نے دو آدمیوں کا، ہر ایک نے اپنے علم کے مطابق بیان کر دیا کوئی تعارض نہیں۔
حوالہ حدیث السنن المأثورة / باب ما جاء في الصلاة على الراحلة / حدیث: 96
تخریج حدیث مسند احمد : 404/13، رقم : 8034 وقال الارنوؤط: اسناده قوی ، سنن دار قطنی : 409/1 ، مصنف ابن ابى شيبة : 8/2۔
حدیث نمبر: 97
وَأَنْبَأَنَا مَالِكُ بْنُ أَنَسٍ , عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ يَزِيدَ ، مَوْلَى الأَسْوَدِ بْنِ سُفْيَانَ , عَنْ أَبِي سَلَمَةَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، أَنَّ أَبَا هُرَيْرَةَ قَرَأَ لَهُمْ إِذَا السَّمَاءُ انْشَقَّتْ فَسَجَدَ فِيهَا فَلَمَّا انْصَرَفَ أَخْبَرَهُمْ " أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سَجَدَ فِيهَا " .
نوید مجید طیب
ابو سلمہ بن عبد الرحمن رحمہ اللہ سے روایت ہے سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے انہیں نماز پڑھائی، ﴿إِذَا السَّمَاءُ انْشَقَّتْ﴾ کی تلاوت کی تو سجدہ تلاوت فرمایا جب نماز سے فارغ ہوئے تو بتایا کہ رسول اللہ ﷺ نے بھی اس سورۃ کی تلاوت پر سجدہ تلاوت فرمایا تھا۔
حوالہ حدیث السنن المأثورة / باب ما جاء في الصلاة على الراحلة / حدیث: 97
تخریج حدیث صحیح مسلم، المساجد ومواضع الصلاة، باب سجود التلاوة، رقم : 578۔
حدیث نمبر: 98
أَنْبَأَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ ، عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ ، عَنْ أَبِي بَكْرِ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرِو بْنِ حَزْمٍ , عَنْ عُمَرَ بْنِ عَبْدِ الْعَزِيزِ ، عَنْ أَبِي بَكْرِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْحَارِثِ بْنِ هِشَامٍ , عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ : " سَجَدْنَا مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي إِذَا السَّمَاءُ انْشَقَّتْ " .
نوید مجید طیب
ابوبکر بن عبد الرحمن رحمہ اللہ سے روایت ہے سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ہم نے نبی اکرم ﷺ کے ساتھ ﴿إِذَا السَّمَاءُ انْشَقَّتْ﴾ میں سجدہ کیا۔
حوالہ حدیث السنن المأثورة / باب ما جاء في الصلاة على الراحلة / حدیث: 98
تخریج حدیث سنن ابن ماجه، الصلاة، باب عدد سجود القرآن، رقم : 1059 وقال الالباني: صحيح ، مسند احمد : 392/12، رقم : 7371 وقال الارنوؤط: اسناده صحیح علی شرط الشيخين۔
حدیث نمبر: 99
أَنْبَأَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ مُحَمَّدِ الدَّرَاوَرْدِيُّ ، قَالَ : حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْهَادِ , عَنْ أَبِي سَلَمَةَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، أَنَّهُ رَآهُ يَسْجُدُ فِي إِذَا السَّمَاءُ انْشَقَّتْ ، قَالَ أَبُو سَلَمَةَ : فَلَمَّا انْصَرَفَ قُلْتُ لَهُ : سَجَدْتَ فِي سُورَةٍ مَا رَأَيْتُ النَّاسَ يَسْجُدُونَ فِيهَا ، قَالَ : " إِنَّنِي لَوْ لَمْ أَرَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَسْجُدُ فِيهَا لَمْ أَسْجُدْ فِيهَا " .
نوید مجید طیب
ابو سلمہ بن عبد الرحمن رحمہ اللہ سے روایت ہے انہوں نے سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کو ﴿إِذَا السَّمَاءُ انْشَقَّتْ﴾ کی تلاوت پر سجدہ تلاوت کرتے دیکھا، ابوسلمہ رحمہ اللہ کہتے ہیں جب سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ فارغ ہوئے تو میں نے کہا: اس سورت پر میں نے لوگوں کو سجدہ تلاوت کرتے نہیں دیکھا آپ کیوں کرتے ہیں؟ سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ”اگر میں نے رسول اللہ ﷺ کو اس میں سجدہ کرتے نہ دیکھا ہوتا تو نہ کرتا۔“
وضاحت:
➊ سورہ انشقاق میں سجدہ تلاوت مسنون ہے۔
➋ سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ یہ کمال درجہ کے متبع سنت تھے۔
➌ اگر کوئی عالم معمول سے ہٹ کر عمل کرے تو اس سے دلیل کا مطالبہ کرنا درست ہے۔
➍ کسی بھی عمل کے مشروع ہونے کے لیے کتاب و سنت سے دلیل کا ہونا ضروری ہے۔
➎ سجدہ تلاوت سے متعلقہ مزید مسائل کے لیے دیکھئے شرح حدیث نمبر 94۔
حوالہ حدیث السنن المأثورة / باب ما جاء في الصلاة على الراحلة / حدیث: 99
تخریج حدیث صحیح بخاری، بسجود القرآن باب سجدة اذا السماء انشقت، رقم : 1074 ، صحیح مسلم ، المساجد ومواضع الصلاة، باب سجود التلاوة ، رقم : 578۔
حدیث نمبر: 100
أَخْبَرَنَا مَالِكُ بْنُ أَنَسٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي بَكْرِ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرِو بْنِ حَزْمٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ سُلَيْمٍ الزُّرَقِيِّ ، أَنَّهُ قَالَ : أَخْبَرَنِي أَبُو حُمَيْدٍ السَّاعِدِيُّ ، أَنَّهُمْ قَالُوا : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، كَيْفَ نُصَلِّي عَلَيْكَ ؟ قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " قُولُوا : اللَّهُمَّ صَلِّ عَلَى مُحَمَّدٍ وَأَزْوَاجِهِ وَذُرِّيَّتِهِ كَمَا صَلَّيْتَ عَلَى آلِ إِبْرَاهِيمَ ، وَبَارِكْ عَلَى مُحَمَّدٍ وَأَزْوَاجِهِ وَذُرِّيَّتِهِ كَمَا بَارَكْتَ عَلَى آلِ إِبْرَاهِيمَ ، إِنَّكَ حَمِيدٌ مَجِيدٌ " .
نوید مجید طیب
سیدنا ابوحمید الساعدی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے صحابہ رضی اللہ عنہم نے عرض کیا : اے اللہ کے رسول ﷺ ! ہم آپ پر کن الفاظ میں درود بھیجیں؟ تو آپ ﷺ نے فرمایا: ”اس طرح کہو: ”اے اللہ! رحمت نازل فرما محمد ﷺ پر، ان کی بیویوں پر اور ان کی اولاد پر جس طرح تو نے رحمت نازل فرمائی آل ابراہیم (علیہم السلام) پر اور برکت نازل فرما محمد ﷺ پر، ان کی بیویوں اور ان کی اولاد پر جیسا کہ تو نے برکت نازل کی آل ابراہیم (علیہم السلام) پر بے شک تو انتہائی قابل تعریف اور بزرگی والا ہے۔“
حوالہ حدیث السنن المأثورة / باب ما جاء في الصلاة على الراحلة / حدیث: 100
تخریج حدیث صحیح بخاری احادیث الانبیاء، باب يزفون النسلان في المشي، رقم : 3369، 6369، صحیح مسلم، الصلاة، باب الصلاة على النبي بعد التشهد، رقم : 407۔
حدیث نمبر: 101
أَنْبَأَنَا مَالِكُ بْنُ أَنَسٍ ، عَنْ نُعَيْمِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ الْمُجْمِرِ ، أَنَّ مُحَمَّدَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ زَيْدٍ الأَنْصَارِيَّ ، وَعَبْدُ اللَّهِ بْنُ زَيْدٍ هُوَ الَّذِي كَانَ أُرِيَ النِّدَاءَ بِالصَّلاةِ وَأَخْبَرَهُ عَنْ أَبِي مَسْعُودٍ الأَنْصَارِيِّ ، أَنَّهُ قَالَ : أَتَانَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي مَجْلِسِ سَعْدِ بْنِ عُبَادَةَ ، فَقَالَ لَهُ بَشِيرُ بْنُ سَعْدٍ : أَمَرَنَا اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ أَنْ نُصَلِّيَ عَلَيْكَ يَا رَسُولَ اللَّهِ فَكَيْفَ نُصَلِّي عَلَيْكَ ؟ قَالَ : فَسَكَتَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَتَّى تَمَنَّيْنَا أَنَّهُ لَمْ يَسْأَلْهُ ، ثُمَّ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " قُولُوا : اللَّهُمَّ صَلِّ عَلَى مُحَمَّدٍ وَعَلَى آلِ مُحَمَّدٍ كَمَا صَلَّيْتَ عَلَى آلِ إِبْرَاهِيمَ وَبَارِكْ عَلَى مُحَمَّدٍ وَعَلَى آلِ مُحَمَّدٍ كَمَا بَارَكْتَ عَلَى آلِ إِبْرَاهِيمَ فِي الْعَالَمِينَ إِنَّكَ حُمَيْدٌ مَجِيدٌ " .
نوید مجید طیب
سیدنا ابومسعود انصاری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے بیان کرتے ہیں رسول اللہ ﷺ ہمارے پاس سیدنا سعد بن عبادہ رضی اللہ عنہ کی مجلس میں تشریف لائے تو سیدنا بشیر بن سعد رضی اللہ عنہ نے عرض کیا : اے اللہ کے رسول ﷺ ! اللہ تعالیٰ نے ہمیں آپ پر درود بھیجنے کا حکم دیا ہے ہم آپ پر درود کیسے بھیجیں؟ راوی کہتے ہیں رسول اللہ ﷺ خاموش ہو گئے حتیٰ کہ ہم نے خواہش کی کہ آپ سے سوال نہ کرتے، پھر رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”ایسے کہا کرو: «اللَّهُمَّ صَلِّ عَلَى مُحَمَّدٍ وَعَلَى آلِ مُحَمَّدٍ كَمَا صَلَّيْتَ عَلَى آلِ إِبْرَاهِيمَ وَبَارِكْ عَلَى مُحَمَّدٍ وَعَلَى آلِ مُحَمَّدٍ كَمَا بَارَكْتَ عَلَى آلِ إِبْرَاهِيمَ فِى الْعَالَمِينَ إِنَّكَ حَمِيدٌ مَجِيدٌ» اور سلام جیسا کہ تمہیں سکھا دیا گیا ہے۔“
وضاحت:
➊ ارشاد باری تعالیٰ ہے: ﴿إِنَّ اللهَ وَمَلَائِكَتَهُ يُصَلُّونَ عَلَى النَّبِيِّ يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا صَلُّوا عَلَيْهِ وَسَلِّمُوا تَسْلِيمًا﴾ [الاحزاب: 56]
"بے شک اللہ اور اس کے فرشتے نبی پر صلوۃ بھیجتے ہیں، اے لوگو جو ایمان لائے ہو! اس پر صلوٰۃ بھیجو اور سلام بھیجو، خوب سلام بھیجنا۔"
اس آیت مبارکہ کے نزول کے بعد صحابہ رضی اللہ عنہم نے سوال کیا کہ سلام تو ہمیں پتہ چل گیا جو کہ تشہد میں ہے السلام علیک ایھا النبی ورحمۃ اللہ وبرکاتہ درود کیسے بھیجیں؟ تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے «اللهم صل على محمد... الخ» ، درود ابراہیمی سکھایا۔
➋ سیدنا عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ جب تک آپ صلی اللہ علیہ وسلم بقید حیات تھے صحابہ رضی اللہ عنہم خطاب کے صیغے ﴿أيها النبي﴾ سے سلام کہتے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات کے بعد «السلام على النبى صلى الله عليه وسلم» کہنے لگے یعنی لفظ «يا» کے بغیر کہتے تھے۔ [صحیح بخاری: 6265]
معلوم ہوا نماز کے علاوہ خطاب کے صیغہ کے بغیر «السلام على رسول الله» کہا جا سکتا ہے۔
➌ درود جو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے صحابہ رضی اللہ عنہم کو سکھایا وہ درود ابراہیمی ہے جو کہ مختلف الفاظ سے وارد ہوا ہے جبکہ سب الفاظ میں ابراہیم علیہ السلام کا تذکرہ موجود ہے نماز میں درود ابراہیمی کے علاوہ کوئی اور خود ساختہ درود پڑھنا بالکل جائز نہیں اصلی درود وہ ہے جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے سکھایا اور جعلی وہ ہے جو مولویوں نے خود گھڑ لیے مولوی تاج نے درود تاج بنا لیا نگینہ بی بی نے درود نگینہ گھڑ لیا امت محمدیہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی پابند ہے نہ کہ مولوی تاج کی لہذا ایسے من گھڑت درود بالکل نہیں پڑھنے چاہئیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے بتائے ہوئے الفاظ سے لوگوں کو پھیرنے کے لیے یہ گھڑے گئے ہیں تمام مسلمانوں کو ایسی سازشوں سے ہوشیار رہنا چاہیے۔
➍ صحابہ رضی اللہ عنہم کو مسئلہ کا پتہ نہ ہوتا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھ لیا کرتے تھے اپنی طرف سے شریعت سازی نہ کیا کرتے تھے۔ اگر آج بھی مسئلہ پتہ نہ ہو تو حدیث سے پوچھ لینا چاہیے اپنی طرف سے شریعت سازی نہیں کرنی چاہیے اور جو حدیث کم عقلی کے باعث سمجھ نہ آئے علماء سے سمجھ لینی چاہیے۔ ارشاد باری تعالیٰ ہے: ﴿فَسْــٴَـلُـوْۤا اَهْلَ الذِّكْرِ اِنْ كُنْتُمْ لَا تَعْلَمُوْنَ﴾ [النحل: 43]
"اور اہل ذکر سے پوچھ لو اگر تم نہیں جانتے ہو۔"
حوالہ حدیث السنن المأثورة / باب ما جاء في الصلاة على الراحلة / حدیث: 101
تخریج حدیث صحیح مسلم، الصلاة، باب الصلاة على النبي بعد التشهد، رقم : 405۔
حدیث نمبر: 102
أَنْبَأَنَا مَالِكُ بْنُ أَنَسٍ ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ ، عَنْ عُرْوَةَ بْنِ الزُّبَيْرِ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَبْدٍ الْقَارِيِّ ، أَنَّهُ قَالَ : سَمِعْتُ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ، يَقُولُ : سَمِعْتُ هِشَامَ بْنَ حَكِيمِ بْنِ حِزَامٍ ، يَقْرَأُ سُورَةَ الْفُرْقَانِ عَلَى غَيْرِ مَا أَقْرَؤُهَا وَكَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَقْرَأَنِيهَا فَكِدْتُ أَنْ أَعْجَلَ عَلَيْهِ ثُمَّ أَمْهَلْتُهُ حَتَّى انْصَرَفَ لَيْلَتَهُ فَجِئْتُ بِهِ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقُلْتُ : يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنِّي سَمِعْتُ هَذَا يَقْرَأُ سُورَةَ الْفُرْقَانِ عَلَى غَيْرِ مَا أَقْرَأْتَنِيهَا فَقَالَ لَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " اقْرَأْ " ، فَقَرَأَ الْقِرَاءَةَ الَّتِي سَمِعْتُهُ يَقْرَأُ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " هَكَذَا أُنْزِلَتْ " ، ثُمَّ قَالَ لِي : " اقْرَأْ " فَقَرَأْتُ فَقَالَ : " هَكَذَا أُنْزِلَتْ ، إِنَّ هَذَا الْقُرْآنَ أُنْزِلَ عَلَى سَبْعَةِ أَحْرُفٍ فَاقْرَءُوا مَا تَيَسَّرَ مِنْهُ " .
نوید مجید طیب
سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ میں نے ہشام بن حکیم بن حزام رضی اللہ عنہ کو سورۃ الفرقان کو ایک دوسری قرآت میں پڑھتے سنا جو میری قراءت سے مختلف تھی حالانکہ میری قرات خود رسول اللہ ﷺ نے مجھے سکھائی تھی، قریب تھا کہ میں اس سے جھگڑا کرنے میں جلد بازی سے کام لیتا لیکن میں نے اس کو مہلت دی حتیٰ کہ وہ نماز سے فارغ ہو گیا، تو میں اسے رسول اللہ ﷺ کے پاس لے آیا، میں نے کہا: اے اللہ کے رسول ﷺ! میں نے اسے سورۃ الفرقان کی تلاوت اس قرات سے کرتے ہوئے سنا جو اس قرات سے مختلف ہے جو آپ ﷺ نے مجھے پڑھائی ہے، تو رسول اللہ ﷺ نے اسے کہا: ”پڑھ۔“ اس نے اسی طریقے سے پڑھا جیسا کہ میں نے اسے پڑھتے سنا تھا، آپ ﷺ نے فرمایا: ”اسی طرح نازل ہوئی ہے۔“ پھر مجھے کہا: ”تم پڑھو۔“ میں نے پڑھا تو آپ ﷺ نے فرمایا: ”اس طرح بھی نازل ہوئی ہے۔ بلاشبہ یہ قرآن سات حروف پر نازل کیا گیا ہے، پس ان میں سے جو قرآت تمہارے لیے آسان ہو اسی کے مطابق پڑھو۔“
وضاحت:
➊ قرآن کو عرب کے لہجے میں پڑھنا چاہیے صحیح البخاری وغیرہ کی روایت میں ہے کہ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ ہشام رضی اللہ عنہ کی گردن میں چادر ڈال کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس لے آئے کہ یہ سنت کے خلاف پڑھتے ہیں سیدنا عمر رضی اللہ عنہ آج کا پنجابی لہجہ دیکھ لیتے تو یقیناً اس سے متعلق سخت سے سخت رد عمل دیتے۔
➋ قرآن سات حروف میں نازل ہوا اس بارے میں ابن العربی رحمہ اللہ نے پینتیس اقوال نقل کیے ہیں اصح ترین بات یہی لگتی ہے کہ مختلف لہجے مراد ہیں عرب میں بعض حروف کے مختلف قبائل میں مختلف لہجے تھے آسانی کی خاطر اللہ تعالیٰ نے عرب کے مختلف لہجوں کی اجازت عنایت فرمائی مثلاً ایک قبیلہ ﴿بَاعِدْ بَيْنَ أَسْفَارِنَا﴾ اور دوسرا ﴿بَعِدْ بَيْنَ أَسْفَارِنَا﴾ پڑھتا ہے۔
➌ بعض نے مختلف قراتوں کو سات حروف سے تعبیر کیا ہے۔ سات حروف سے ہر صحابی رضی اللہ عنہ بھی علیحدہ علیحدہ واقف نہیں تھا اسی لیے سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے سیدنا ہشام رضی اللہ عنہ کو پکڑ لیا۔ اس لیے سات حروف کی تفصیل حتمی طور پر معلوم نہیں ہو سکی سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ نے سیدنا زید رضی اللہ عنہ کی سربراہی میں قرآن جمع کر دیا اور کہا جس لفظ کی قرآت میں اختلاف ہو جائے قریش کے لہجے میں لکھ دیں پھر بقیہ قراءات والے نسخہ جات ختم کرا دیے۔ [صحيح بخاري: 4987]
➍ سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ کا یہ انتہائی اچھا اقدام تھا وگرنہ عجمی جو کہ پہلے ہی مفتون قوم ہے ہر فتنے کو اپنی دہلیز پر دعوت دینے سے گریزاں نہ ہیں یہ سات قرآن بنا لیتے۔
حوالہ حدیث السنن المأثورة / باب ما جاء في الصلاة على الراحلة / حدیث: 102
تخریج حدیث صحیح بخاری، الخصومات، باب كلام الخصوم بعضهم في بعض، رقم : 2419، صحیح مسلم، المساجد ومواضع الصلاة، باب بيان ان القرآن ..... الخ، رقم : 818۔
حدیث نمبر: 103
أَنْبَأَنَا مَالِكُ بْنُ أَنَسٍ ، عَنْ نَافِعٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " إِنَّمَا مَثَلُ صَاحِبِ الْقُرْآنِ كَمَثَلِ صَاحِبِ الإِبِلِ الْمُعَلَّقَةِ إِنْ عَاهَدَ عَلَيْهَا أَمْسَكَهَا وَإِنْ أَطْلَقَهَا ذَهَبَتْ " .
نوید مجید طیب
سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”حافظ قرآن کی مثال پاؤں باندھے اونٹ کے مالک جیسی ہے، اگر اس نے اس کی نگہداشت کی تو اسے روکے رکھے گا اور اگر اسے چھوڑ دیا تو وہ چلا جائے گا۔“
وضاحت:
➊ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم عام فہم اور معاشرے کے حالات کے مطابق مثال دے کر بات سمجھایا کرتے تھے، اونٹ کو اگر کھول دیا جائے تو گم ہو جاتا ہے دور نکل جاتا ہے مالک کو بسا اوقات تلاش بسیار کے بعد مل جاتا ہے اور کبھی نہیں ملتا ہے ایسے ہی حافظ قرآن اگر قرآن کی مشق نہ کرے تو بھول جاتا ہے ساری محنت ضائع ہو جاتی ہے کبھی جہد مسلسل سے دوبارہ یاد کر پاتا اور کبھی نام کا حافظ رہ جاتا ہے۔ «والله المستعان!»
➋ اللہ رب العزت نے جس انسان کو حفظ القرآن کی نعمت سے نوازا ہو اسے اس کی قدر کرنی چاہیے۔
حوالہ حدیث السنن المأثورة / باب ما جاء في الصلاة على الراحلة / حدیث: 103
تخریج حدیث صحیح بخاری، فضائل القرآن، باب استذكار القرآن و تعاهده، رقم : 5031، صحیح مسلم، المساجد ومواضع الصلاة، باب الامر بتعهد القرآن، رقم : 789۔
حدیث نمبر: 104
عَنْ سُفْيَانَ بْنِ عُيَيْنَةَ ، عَنْ أَيُّوبَ , عَنْ نَافِعٍ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " مَنْ حَلَفَ بِيَمِينٍ فَقَالَ : إِنْ شَاءَ اللَّهُ ، فَقَدِ اسْتَثْنَى " .
نوید مجید طیب
سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”جس نے قسم کھاتے وقت «إِنْ شَاءَ اللَّهُ» کہہ لیا، وہ قسم پوری کرنے سے مستثنیٰ ہو گیا۔“
وضاحت:
➊ پختہ قسم کھانے پر پوری کرنی واجب ہو جاتی ہے اگر قسم حلال کام پر کھائی جائے تو پوری کرے وگرنہ اس کا کفارہ ادا کرنا ہوتا ہے۔
➋ قسم کا کفارہ اوسط درجے کا دس مساکین کو کھانا کھلانا یا دس مساکین کو کپڑے ہدیہ کرنا، یا غلام آزاد کرنا ہوتا ہے جسے مذکورہ استطاعت نہ ہو وہ تین دن کے روزے رکھے گا۔ [المائدہ: 89]
➌ اگر قسم کھاتے وقت ان شاء اللہ کہہ دے تو حانث نہیں ہو گا۔ (حانث قسم توڑنے والے کو کہتے ہیں) کیونکہ اس نے ان شاء اللہ کہہ کر قسم پورا کرنے سے استثناء حاصل کر لیا ہے۔
➍ ایک حدیث میں ہے: «من حلف على يمين فقال إن شاء الله فهو بالخيار إن شاء أمضى وإن شاء ترك»
"جس نے ان شاء اللہ کہہ کر قسم کھائی اسے اختیار ہے پورا کرے یا قسم توڑ دے (اس پر کوئی کفارہ نہیں)۔" [سنن نسائي، رقم الحديث: 3820، وقال الالباني: صحيح]
➎ یہ اس صورت میں ہے جب ظاہراً ان شاء اللہ الفاظ کے ساتھ کہے اگر دل میں کہتا ہے تو اس کا اعتبار نہیں کیونکہ قسم ظاہری الفاظ سے منعقد ہوتی ہے حکم بھی ظاہر پر لگتا ہے لفظ ان شاء اللہ سے معلوم ہوتا ہے کہ قسم حتمی نہیں اگر پوری کر سکا تو ٹھیک وگرنہ اللہ نے یہی چاہا تھا اس لیے پورا کرنا ضروری نہیں۔
➏ اگر پہلے سے ہی قسم توڑنے کا ارادہ ہے مخالف کو دھوکا دینے کے لیے ان شاء اللہ کو بطور ڈھال استعمال کرتا ہے تو یہ بڑا گناہ ہے۔
➐ قسم صرف اللہ کے نام وصفات کی کھائی جا سکتی ہے قرآن کی قسم جائز ہے کیونکہ قرآن اللہ تعالیٰ کا کلام ہے جو کہ اللہ کی صفت ہے۔ مخلوق کی قسم کھانا شرک ہے سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما نے ایک آدمی کو کعبہ کی قسم کھاتے سنا تو اس کو مخاطب کر کے کہا: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو بیان کرتے سنا ہے: جس نے غیر اللہ کی قسم کھائی اس نے شرک کیا۔ [سنن ابي داؤد، رقم الحديث: 3251، وقال الالباني صحيح سنن ترمذي، رقم الحديث: 1535، وقال حسن]
حوالہ حدیث السنن المأثورة / باب ما جاء في الصلاة على الراحلة / حدیث: 104
تخریج حدیث سنن ابی داؤد، الايمان والنذور، باب الاستثناء في اليمين، رقم : 3261 وقال الالباني صحيح، سنن ترمذی، النذور والايمان، باب ماجاء في الاستثناء في اليمين، رقم : 1531 وقال حسن۔
حدیث نمبر: 105
عَنِ الثَّقَفِيِّ , عَنْ حُمَيْدٍ الطَّوِيلِ , عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ، قَالَ : كَانَ لأَبِي طَلْحَةَ مِنْ أُمِّ سُلَيْمٍ ابْنٌ يُقَالُ لَهُ : أَبُو عُمَيْرٍ وَكَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُضَاحِكُهُ إِذَا دَخَلَ وَكَانَ لَهُ نُغِيرٌ فَدَخَلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَرَأَى أَبَا عُمَيْرٍ حَزِينًا ، فَقَالَ : " مَا شَأْنُ أَبِي عُمَيْرٍ ؟ " فَقِيلَ : يَا رَسُولَ اللَّهِ مَاتَ نُغَيْرُهُ ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " أَبَا عُمَيْرٍ مَا فَعَلَ النُّغَيْرُ ؟ " .
نوید مجید طیب
سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ابو طلحہ رضی اللہ عنہ کا ایک بیٹا جو سیدہ ام سلیم رضی اللہ عنہا کے بطن سے تھا اس کا نام ابو عمیر رضی اللہ عنہ تھا، رسول اللہ ﷺ جب ان کے گھر جاتے تو اس سے مزاح کیا کرتے تھے۔ سیدنا ابو عمیر رضی اللہ عنہ نے ایک پرندہ نغير (بلبل) رکھا ہوا تھا، ایک دن رسول اللہ ﷺ گئے تو دیکھا کہ ابوعمیر رضی اللہ عنہ غمگین ہے، آپ ﷺ نے پوچھا: ”اسے کیا ہوا ہے؟“ بتایا گیا کہ اس کی چڑیا (نغير) مر گئی ہے، تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”اے ابا عمیر! نغير نے کیا کیا؟“
وضاحت:
➊ بچے کی بھی کنیت رکھی جا سکتی ہے۔
➋ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم بچوں سے بھی گھل مل جاتے تھے۔
➌ ابو عمیر رضی اللہ عنہ بچپن میں ہی فوت ہو گیا جب سیدنا ابو طلحہ رضی اللہ عنہ سفر پر تھے واپس آئے پہلے سیدہ ام سلیم رضی اللہ عنہا نے کھانا پیش کیا سیدنا ابو طلحہ رضی اللہ عنہ نے کھانا کھایا ام سلیم رضی اللہ عنہا سے ہم بستری کی اس کے بعد سیدہ ام سلیم رضی اللہ عنہا نے بتایا کہ ابو عمیر رضی اللہ عنہ فوت ہو گیا تھا اسے دفن فرمائیں اس صبر و شکر کی تاریخی مثال پیش کرنے سے قاصر ہے اسی کی برکت سے اس رات سیدہ ام سلیم رضی اللہ عنہا کو حمل ٹھہر گیا تو اللہ تعالیٰ نے ایک اور بچہ عطا فرما دیا۔ [صحیح بخاری، رقم الحدیث: 5470,1301، صحیح مسلم، رقم الحديث: 2144]
حوالہ حدیث السنن المأثورة / باب ما جاء في الصلاة على الراحلة / حدیث: 105
تخریج حدیث صحیح بخاری، الادب، باب الانبساط الى الناس، رقم : 6129، صحیح مسلم، الآداب، باب استحباب تحنيك المولود عند ولادته، رقم : 2150۔
حدیث نمبر: 106
عَنْ سُفْيَانَ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ دِينَارٍ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، قَالَ أَبُو جَعْفَرٍ الطَّحَاوِيُّ : يَقُولُونَ وَهُوَ ابْنُ السَّائِبَةِ كَذَلِكَ , حَدَّثَنَاهُ عَنْ سُفْيَانَ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ دِينَارٍ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، قَالَ أَبُو جَعْفَرٍ الطَّحَاوِيُّ : يَقُولُونَ وَهُوَ ابْنُ السَّائِبَةِ كَذَلِكَ , حَدَّثَنَاهُ يُونُسُ , عَنْ سُفْيَانَ ، نَفْسِهِ , عَنْ عَمْرِو بْنِ دِينَارِ , عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ السَّائِبَةِ ، أَنَّ رَجُلا اسْتَعَارَ بَعِيرًا مِنْ رَجُلٍ فَعَطَبَ ، فَأُتِيَ بِهِ إِلَى مَرْوَانَ بْنِ الْحَكَمِ ، فَأَرْسَلَ مَرْوَانُ إِلَى أَبِي هُرَيْرَةَ فَأَوْقَفُوهُ بَيْنَ السِّمَاطَيْنِ فَسَأَلَهُ ، فَقَالَ : " يَغْرَمُ .
نوید مجید طیب
عبد الرحمن بن السائبہ رحمہ اللہ سے روایت ہے کہ ایک آدمی نے دوسرے سے اونٹ استعمال کے لیے لیا تو اسے کمزور (یا زخمی) کر دیا، اسے مروان بن حکم رحمہ اللہ کے پاس لایا گیا تو مروان رحمہ اللہ نے اسے سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کے پاس فیصلے کے لیے بھیج دیا، انہوں نے اس آدمی کو سپاہیوں کے درمیان کھڑا کیا اور استفسار کیا (یعنی مقدمہ سنا) پھر فیصلہ دیا کہ تاوان ادا کرے۔
وضاحت:
➊ اگر کوئی شخص چیز ادھار بغرض استعمال لیتا ہے تو اس کی حفاظت کا ذمہ دار ہے ضائع کرنے کی صورت میں چٹی ادا کرنی ہوگی۔
➋ سنن الکبریٰ بیہقی میں اس حدیث کو باب العاریہ مضمونہ کے تحت لایا گیا ہے۔ ایک حدیث غزوہ حنین سے متعلق بھی آئی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے صفوان بن امیہ رضی اللہ عنہ سے جنگی سامان ادھار لیا تھا واپسی کے وقت کچھ گم ہو گیا تو اس سے پوچھا: اگر آپ چاہیں تو ہم چٹی ادا کر دیں۔ انہوں نے چٹی لینے سے انکار کر دیا۔ جس سے ثابت ہوتا ہے کہ ضائع کرنے والا ذمہ دار ہے۔ [ابوداؤد: 3563]
حوالہ حدیث السنن المأثورة / باب ما جاء في الصلاة على الراحلة / حدیث: 106
تخریج حدیث مصنف عبدالرزاق : 180/8 ، مصنف ابن ابی شیبه : 145/6، سنن الكبرى للبيهقي : 90/6۔
حدیث نمبر: 107
أَنْبَأَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ , عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " وَمَنْ أَدْرَكَ مِنَ الصَّلاةِ رَكْعَةً فَقَدْ أَدْرَكَ " .
نوید مجید طیب
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا: ”جس نے نماز کی ایک رکعت پالی یقیناً اس نے نماز پالی۔“
حوالہ حدیث السنن المأثورة / باب ما جاء في الصلاة على الراحلة / حدیث: 107
تخریج حدیث صحیح مسلم، المساجد ومواضع الصلاة، باب من ادرك ركعة من الصلاة فقد ادرك تلك الصلاة ، رقم : 607۔
حدیث نمبر: 108
أَنْبَأَنَا مَالِكُ بْنُ أَنَسٍ , عَنْ زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ يَسَارٍ ، وعَنْ بُسْرِ بْنِ سَعِيدٍ ، وَعَنِ الأَعْرَجِ ، يُحَدِّثُونَهُ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " مَنْ أَدْرَكَ رَكْعَةً مِنَ الصُّبْحِ قَبْلَ أَنْ تَطْلُعَ الشَّمْسُ فَقَدْ أَدْرَكَ الصُّبْحَ وَمَنْ أَدْرَكَ رَكْعَةً مِنَ الْعَصْرِ قَبْلَ أَنْ تَغْرُبَ الشَّمْسُ فَقَدْ أَدْرَكَ الْعَصْرَ " .
نوید مجید طیب
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا: ”جس نے سورج طلوع ہونے سے پہلے نماز فجر کی ایک رکعت پالی یقیناً اس نے نماز فجر پالی اور جس نے سورج غروب ہونے سے قبل نماز عصر کی ایک رکعت پالی اس نے عصر کی نماز پالی۔“
حوالہ حدیث السنن المأثورة / باب ما جاء في الصلاة على الراحلة / حدیث: 108
تخریج حدیث صحیح مسلم، المساجد ومواضع الصلاة باب ومن ادرك ركعة من الصلاة فقد ادرك تلك الصلاة، رقم : 608۔
حدیث نمبر: 109
أَنْبَأَنَا مَالِكٌ ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ , عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " مَنْ أَدْرَكَ رَكْعَةً مِنَ الصَّلاةِ فَقَدْ أَدْرَكَ الصَّلاةَ " .
نوید مجید طیب
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”جس نے نماز کی ایک رکعت پالی اس نے نماز پالی۔“
وضاحت:
➊ ان احادیث سے مراد یہ ہے کہ اگر کسی عذر کے باعث سو گیا تھا یا کسی معقول وجہ سے لیٹ ہو گیا۔ آخری وقت میں نماز پڑھنے لگا نماز فجر کی ایک رکعت پڑھی تھی کہ سورج نکل آیا یا عصر کی ایک رکعت پڑھی سورج غروب ہو گیا تو بقیہ نماز پوری کرے اس نے نماز پالی ہے۔
➋ یہ دین کی آسانیاں ہیں لیکن جان بوجھ کر نماز لیٹ کرنا گناہ ہے اسی طرح اگر جماعت کے ساتھ ایک رکعت مل گئی تو جماعت کا ثواب مل گیا۔
➌ اہل رائے کے نزدیک نماز مغرب تو ہو جائے گی کیونکہ شروع بھی مکروہ وقت میں کی تھی اور ختم بھی مکروہ وقت میں ہوئی ہے جبکہ فجر نہیں ہوگی کیونکہ شروع صحیح وقت میں کی ہے اور ختم مکروہ وقت میں کی ہے۔ جبکہ ان کا یہ نظریہ حدیث رسول صلی اللہ علیہ وسلم سے تصادم کی بنا پر مردود ہے۔ یقیناً ایسے لوگوں کا طرز عمل اس فرمانِ الہی کا مصداق ہے: ﴿وَلَوْ أَنَّا كَتَبْنَا عَلَيْهِمْ أَنِ اقْتُلُوا أَنفُسَكُمْ أَوِ اخْرُجُوا مِن دِيَارِكُمْ مَا فَعَلُوهُ إِلَّا قَلِيلٌ مِّنْهُمْ﴾ [النساء: 66]
"اگر ہم ان پر فرض کر دیتے کہ قتل کرو اور گھروں سے نکلو تو ایسے نہ کرتے مگر تھوڑے یعنی حکم ہوا قتل نہ کرو تو انہوں نے قتل کرنا شروع کر دیے اللہ فرماتے ہیں کہ اگر ہم حکم دیتے قتل کرو تو پھر قتل سے باز آجاتے۔"
امام ابن کثیر رحمہ اللہ نے آیت بالا کی تفسیر میں لکھا کہ ان کی ردی طبیعتوں میں نافرمانی کوٹ کوٹ کر بھری ہوئی ہے اور یہی حال ان عقل پرستوں کا ہے۔
حوالہ حدیث السنن المأثورة / باب ما جاء في الصلاة على الراحلة / حدیث: 109
تخریج حدیث صحیح بخاری مواقيت الصلاة، باب من ادرك من الصلاة ركعة، رقم : 580، صحیح مسلم ، المساجد ومواضع الصلاة، باب من ادرك ركعة من الصلاة ...... الخ، رقم : 607۔
حدیث نمبر: 110
أَنْبَأَنَا سُفْيَانُ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ يَزِيدَ ، عَنْ أَبِي أَيُّوبَ الأَنْصَارِيِّ ، " أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَهَى أَنْ نَسْتَقْبِلَ الْقِبْلَةَ بِغَائِطٍ أَوْ بَوْلٍ وَلَكِنْ شَرِّقُوا أَوْ غَرِّبُوا " . قَالَ : فَقَدِمْنَا الشَّامَ قَالَ : فَوَجَدْنَا مَرَاحِيضَ قَدْ بُنِيَتْ قِبَلَ الْقِبْلَةِ فَنَنْحَرِفُ وَنَسْتَغْفِرُ اللَّهَ تَعَالَى .
نوید مجید طیب
سیدنا ابو ایوب انصاری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے رسول اللہ ﷺ نے منع فرمایا کہ قضائے حاجت کے وقت قبلہ رخ ہوا جائے (اگر مدینہ میں ہوں تو) مشرق یا مغرب کی طرف منہ کرنا چاہیے۔ راوی کہتے ہیں ہم شام گئے تو وہاں بیت الخلاء قبلہ رخ بنے ہوئے تھے تو ہم بیت الخلاء میں تھوڑے سے مڑ کر بیٹھتے اور باہر نکل کر استغفار کرتے۔
حوالہ حدیث السنن المأثورة / باب ما جاء في الصلاة على الراحلة / حدیث: 110
تخریج حدیث صحیح بخاری، الصلاة، باب قبلة اهل المدينة و اهل الشام، رقم : 394، صحیح مسلم ، الطهارة، باب الاستطابة، رقم : 264۔
حدیث نمبر: 111
أَنْبَأَنَا مَالِكُ بْنُ أَنَسٍ , عَنْ إِسْحَاقَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي طَلْحَةَ , عَنْ رَافِعِ بْنِ إِسْحَاقَ ، مَوْلَى أَبِي أَيُّوبَ وَكَانَ يُقَالُ لَهُ : مَوْلَى أَبِي طَلْحَةَ ، أَنَّهُ سَمِعَ أَبَا أَيُّوبَ الأَنْصَارِيَّ ، صَاحِبَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ يَقُولُ وَهُوَ بِمِصْرَ : وَاللَّهِ مَا أَدْرِي كَيْفَ أَصْنَعُ بِهَذِهِ الْكَرَايِيسِ وَقَدْ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " إِذَا ذَهَبَ أَحَدُكُمُ الْغَائِطَ أَوِ الْبَوْلَ فَلا يَسْتَقْبِلِ الْقِبْلَةَ وَلا يَسْتَدْبِرْهَا بِفَرْجِهِ " .
نوید مجید طیب
سیدنا ابو ایوب رضی اللہ عنہ کے آزاد کردہ غلام رافع بن اسحاق رحمہ اللہ کہتے ہیں انہوں نے رسول اللہ ﷺ کے ساتھی سیدنا ابو ایوب انصاری رضی اللہ عنہ کو مصر میں یہ کہتے ہوئے سنا: کہ اللہ کی قسم! میں نہیں جانتا کہ ان کراہیس (بیت الخلاء) سے کیا معاملہ کروں اور بے شک رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”جب تم قضائے حاجت کے لیے جاؤ تو نہ کعبہ کی طرف منہ کرو اور نہ پیٹھ۔“
حوالہ حدیث السنن المأثورة / باب ما جاء في الصلاة على الراحلة / حدیث: 111
تخریج حدیث سنن النسائى ، الطهارة، باب النهي عن استقبال القبلة عند الحاجة، رقم : 20 وقال الالباني: صحيح، مسند احمد : 496/38، رقم : 23514 وقال الارنوؤط: اسناده صحیح رجاله ثقات۔
حدیث نمبر: 112
وَأَنْبَأَنَا مَالِكٌ , عَنْ نَافِعٍ ، مَوْلَى عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ , عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ ، أَنَّ رَجُلا ، مِنَ الأَنْصَارِ أَخْبَرَهُ , عَنْ أَبِيهِ ، أَنَّهُ سَمِعَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " يَنْهَى أَنْ تُسْتَقْبَلَ الْقِبْلَةُ لِغَائِطٍ أَوْ بَوْلٍ " .
نوید مجید طیب
سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ انہیں ایک انصاری نے خبر دی کہ اس کے باپ نے رسول اللہ ﷺ سے سنا کہ آپ ﷺ منع فرماتے تھے کہ قضائے حاجت کے وقت قبلہ کی طرف منہ کیا جائے۔
حوالہ حدیث السنن المأثورة / باب ما جاء في الصلاة على الراحلة / حدیث: 112
تخریج حدیث مؤطا مالك ، رقم : 455 ، التمهيد لابن عبدالبر : 126/16، معرفة السنن والآثار للبيهقي : 193/1۔
حدیث نمبر: 113
أَنْبَأَنَا مَالِكٌ , عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ يَحْيَى بْنِ حَبَّانَ ، عَنْ عَمِّهِ وَاسِعِ بْنِ حَبَّانَ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ ، أَنَّهُ كَانَ يَقُولُ : إِنَّ نَاسًا يَقُولُونَ : إِذَا قَعَدْتَ عَلَى حَاجَتِكَ فَلا تَسْتَقْبِلِ الْقِبْلَةَ وَلا بَيْتَ الْمَقْدِسِ ، فَقَالَ عَبْدُ اللَّهِ : لَقَدِ ارْتَقَيْتُ عَلَى ظَهْرِ بَيْتٍ لَنَا فَرَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى لَبِنَتَيْنِ مُسْتَقْبِلا بَيْتَ الْمَقْدِسِ لِحَاجَتِهِ ، وَقَالَ : " لَعَلَّكَ مِنَ الَّذِينَ يُصَلُّونَ عَلَى أَوْرَاكِهِمْ ؟ " قُلْتُ : لا أَدْرِي وَاللَّهِ ، يَعْنِي الَّذِي يَسْجُدُ وَلا يَرْتَفِعُ عَنِ الأَرْضِ يَسْجُدُ وَهُوَ لاصِقٌ بِالأَرْضِ . حَدَّثَنَا أَحْمَدُ , قَالَ : سَمِعْتُ الْمُزَنِيَّ يَقُولُ : قَالَ الشَّافِعِيُّ رَحِمَهُ اللَّهُ : وَلَيْسَ حَدِيثُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ مُخَالِفًا عِنْدَنَا حَدِيثَ أَبِي أَيُّوبَ ، فَيُكْرَهُ لِلَّذِي فِي الصَّحْرَاءِ اسْتِقْبَالُ الْقِبْلَةِ وَاسْتِدْبَارُهَا ؛ لأَنَّهُ لا مُؤْنَةَ عَلَيْهِ فِي تَرْكِ الاسْتِقْبَالِ وَالاسْتِدْبَارِ وَلا مِرْفَقَ لَهُ فِيهِمَا وَإِذَا بُنِيَتِ الْكُنُفُ فِي الْمَنَازِلِ تَوَضَّأَ فِيهَا كَمَا أَمْكَنَهُ لِلْمِرْفَقِ وَقَدْ كَتَبْتُ هَذَا بِتَفْسِيرِهِ فِي غَيْرِ هَذَا الْمَوْضِعِ .
نوید مجید طیب
سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے، بے شک لوگ کہتے ہیں قضائے حاجت کے وقت قبلہ یا بیت المقدس کی طرف منہ نہ کرو اور عبداللہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں اپنے گھر کی چھت پر چڑھا تو رسول اللہ ﷺ کو دو اینٹوں پر بیٹھے (قضائے حاجت کرتے) دیکھا، آپ ﷺ کا رخ بیت المقدس کی طرف تھا (یعنی پیٹھ بیت اللہ کی طرف تھی)۔ ابن عمر رضی اللہ عنہما نے اپنے شاگرد واسع رحمہ اللہ کو کہا: شاید تو ان لوگوں میں سے ہے جو اپنے چوتڑوں پر نماز پڑھتے ہیں؟ واسع رحمہ اللہ کہتے ہیں میں نے کہا کہ میں نہیں جانتا اللہ کی قسم کہ آپ کی کیا مراد ہے؟ (امام مالک رحمہ اللہ کہتے ہیں: عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے اس سے وہ شخص مراد لیا جو نماز میں زمین سے بلند نہیں ہوتا اور سجدہ میں زمین سے چمٹ جائے جو کہ غلط اور خلاف سنت عمل ہے)۔ ابو جعفر رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ میں نے مزنی رحمہ اللہ سے سنا وہ فرما رہے تھے۔ کہ امام شافعی رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ ہمارے نزدیک سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما والی حدیث اور حدیث ابو ایوب انصاری رضی اللہ عنہ میں تضاد نہیں ہے کھلی فضا میں استقبال استدبار مکروہ ہے کیونکہ اس حدیث پر صحرا میں عمل کرنے میں کوئی مشقت نہیں لہذا کوئی نرمی نہیں اور گھروں میں لیٹرینوں میں جیسے ممکن ہو سکے گا عمل کرے گا امام صاحب رحمہ اللہ کہتے ہیں میں نے اس حدیث کو وضاحت کے ساتھ کسی دوسری جگہ بیان کیا ہے۔
وضاحت:
➊ وہ احادیث جن میں قبلہ رو ہو کر قضائے حاجت کی ممانعت کا حکم ہے اور جن احادیث میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے عمل سے متعلق ابن عمر رضی اللہ عنہما نے خبر دی ان کی بہترین تطبیق کر دی گئی ہے کہ ممانعت کا تعلق صحرا اور کھلی فضا کے ساتھ ہے۔ عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے متعلق مروی ہے کہ انہوں نے سواری قبلہ رُخ بٹھائی پھر اس کی طرف منہ کر کے پیشاب کرنے لگے مروان بن اصفر رحمہ اللہ نے کہا اے ابو عبد الرحمن یہ تو منع ہے؟ آپ رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ کھلی فضا میں اس سے روکا گیا ہے مگر جب تمہارے اور قبلہ کے درمیان کوئی چیز حائل ہو تو کوئی حرج نہیں۔ [ابوداؤد: 11]
راجح بات یہی ہے کہ لیٹرین میں بھی قبلہ رخ نہیں ہونا چاہیے اگرچہ درمیان میں کوئی چیز حائل ہو کیونکہ ابو ایوب انصاری رضی اللہ عنہ جو عمر میں ابن عمر رضی اللہ عنہما سے بڑے ہیں انہوں نے اسے درست نہیں جانا اور پھر اگر قول اور فعل میں تعارض آ جائے تو فقہی قاعدہ ہے کہ قول حجت ہوگا کیونکہ فعل خاص بھی ہو سکتا ہے یا کوئی اور وجہ ہو سکتی ہے جیسے یہ فعل ممانعت سے پہلے کا ہو سکتا ہے یا بامر مجبوری ہو سکتا ہے یا قضاء حاجت سے فارغ ہو کر بیٹھے ہوں اس لیے قول مقدم ہے۔
➋ پیشاب کرتے وقت بیت اللہ کی طرف منہ کرنا یا پیٹھ کرنا منع ہے گزشتہ احادیث میں اسی مسئلے کو بیان کیا گیا ہے۔
➌ سیدنا عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہما اتفاقاً اپنی بہن حفصہ رضی اللہ عنہا کے مکان کی چھت پر چڑھے تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پر نظر پڑ گئی۔
➍ مشرق و مغرب کی طرف رخ کرنے کا مطلب ہے رفع حاجت کے وقت اپنا منہ یا پشت قبلہ رخ کرے، یہ حکم اہل مدینہ کے لیے خاص تھا کیونکہ ان کا قبلہ جنوب کی طرف ہے۔
➎ کتاب وسنت کے منافی امور پر اظہارِ ناراضگی ایمان کی علامت ہے۔
➏ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم پیارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ہر فرمان پر عمل پیرا ہوتے اور اس کی مخالفت کا تصور بھی نہیں کر سکتے تھے۔
➐ گھروں میں بیت الخلاء لیٹرین بنانا درست ہے۔
➑ سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما ام المومنین سیدہ حفصہ رضی اللہ عنہا کے گھر کی چھت پر چڑھے تھے جس کو انہوں نے اپنا گھر کہا۔
حوالہ حدیث السنن المأثورة / باب ما جاء في الصلاة على الراحلة / حدیث: 113
تخریج حدیث صحیح بخاری، الوضوء، باب من تبرز علی لبنتین، رقم : 145، صحیح مسلم ،الطهارة، باب الاستطابة، رقم : 266۔
حدیث نمبر: 114
وَأَنْبَأَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ ، عَنْ إِسْمَاعِيلَ بْنِ أَبِي خَالِدٍ , عَنْ قَيْسِ بْنِ أَبِي حَازِمٍ ، قَالَ : سَمِعْتُ أَبَا مَسْعُودٍ ، يَقُولُ : قَالَ رَجُلٌ لِلنَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنِّي لأَتَخَلَّفُ عَنْ صَلاةِ الصُّبْحِ مِمَّا يُطَوِّلُ بِنَا فُلانٌ ، فَقَالَ : فَمَا رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ غَضِبَ فِي مَوْعِظَةٍ قَطُّ غَضَبَهُ يَوْمَئِذٍ ، فَقَالَ : " إِنَّ مِنْكُمْ مُنَفِّرِينَ إِنَّ مِنْكُمْ مُنَفِّرِينَ فَأَيُّكُمْ أَمَّ النَّاسَ فَإِنَّ فِيهِمُ الْكَبِيرَ وَالسَّقِيمَ وَالضَّعِيفَ وَذَا الْحَاجَةِ " .
نوید مجید طیب
سیدنا ابو مسعود رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ایک آدمی نے رسول اللہ ﷺ سے عرض کیا: اے اللہ کے رسول ﷺ! فلاں امام صاحب لمبی نماز پڑھاتے ہیں اس لیے میں نماز سے پیچھے رہتا ہوں۔ ابو مسعود رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو نصیحت کے وقت اس دن سے زیادہ کبھی غضب ناک نہیں دیکھا، آپ ﷺ نے فرمایا: ”بے شک تم میں سے بعض لوگوں کو دین سے متنفر کرنا چاہتے ہیں، یقیناً تم میں سے بعض لوگوں کو دین سے متنفر کرنا چاہتے ہیں۔ تم میں سے جو کوئی امامت کرائے اسے چاہیے کہ ہلکی نماز پڑھائے بے شک مقتدیوں میں بڑی عمر کے، بیمار، کمزور اور ضروری کام کاج والے لوگ بھی شامل ہوتے ہیں۔“ (سب کا لحاظ رکھنا چاہیے)
حوالہ حدیث السنن المأثورة / باب ما جاء في الصلاة على الراحلة / حدیث: 114
تخریج حدیث صحیح مسلم، الصلاة، باب امر الائمة بتخفيف الصلاة في تمام ، رقم : 466۔
حدیث نمبر: 115
أَنْبَأَنَا سُفْيَانُ ، عَنِ ابْنِ أَبِي خَالِدٍ , عَنْ أَبِيهِ ، قَالَ : قَدِمْتُ الْمَدِينَةَ فَنَزَلْتُ عَلَى أَبِي هُرَيْرَةَ فَرَأَيْتُهُ " يَؤُمُّ النَّاسَ فَصَلَّى صَلاةً فَخَفَّفَ فِيهَا " ، فَقُلْتُ : يَا أَبَا هُرَيْرَةَ أَهَكَذَا كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُصَلِّي ؟ قَالَ : نَعَمْ وَأَوْجَزَ " .
نوید مجید طیب
ابن ابی خالد رحمہ اللہ اپنے باپ سے بیان کرتے ہیں انہوں نے کہا : میں مدینہ منورہ آیا، سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کے پاس ٹھہرا تو میں نے انہیں دیکھا لوگوں کی امامت کرواتے تو ہلکی نماز پڑھاتے، میں نے کہا : اے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ! کیا اس طرح رسول اللہ ﷺ نماز پڑھاتے تھے؟ فرمایا: ہاں اور مختصر پڑھاتے تھے۔
حوالہ حدیث السنن المأثورة / باب ما جاء في الصلاة على الراحلة / حدیث: 115
تخریج حدیث مسند الحميدي : 443/2، رقم : 987 ، السنن الكبرى للبيهقي : 116/3، مسند احمد : 151/14، رقم : 8429 وقال الارنوؤط : حديث صحيح و وهذا اسناده حسن۔
حدیث نمبر: 116
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ ، عَنِ ابْنِ أَبِي ذِئْبٍ ، عَنِ الْحَارِثِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، عَنْ سَالِمِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ ، عَنْ أَبِيهِ ، أَنَّهُ قَالَ : إِنْ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " لَيَأْمُرُنَا بِالتَّخْفِيفِ وَإِنْ كَانَ لَيَؤُمُّنَا بِالصَّافَّاتِ " . ═════ متابعت ═════ أَخْبَرَنَا أَبُو جَعْفَرٍ الطَّحَاوِيُّ ، حَدَّثَنَا أَبُو بِشْرٍ عَبْدُ الْمَلِكِ بْنُ مَرْوَانَ الرَّقِّيُّ ، حَدَّثَنَا حَجَّاجُ بْنُ مُحَمَّدٍ ، عَنِ ابْنِ أَبِي ذِئْبٍ ، عَنِ الْحَارِثِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ , عَنْ سَالِمِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ ، عَنْ أَبِيهِ ، أَنَّهُ قَالَ : إِنْ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " لَيَأْمُرُنَا بِالتَّخْفِيفِ وَإِنْ كَانَ لَيَؤُمُّنَا بِالصَّافَّاتِ فِي الصُّبْحِ " .
نوید مجید طیب
سالم رحمہ اللہ اپنے باپ سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے بیان کرتے ہیں انہوں نے فرمایا: بے شک رسول اللہ ﷺ ہمیں نماز میں تخفیف کا حکم دیتے، اگرچہ آپ ﷺ ہمیں نماز فجر میں سورۃ الصافات پڑھ کر جماعت کرواتے تھے۔
حوالہ حدیث السنن المأثورة / باب ما جاء في الصلاة على الراحلة / حدیث: 116
تخریج حدیث سنن نسائی، الامامة باب الرخصة للامام فى التطويل، رقم : 826 وقال الالبانی صحیح ، مسند احمد : 41/9، رقم : 4989 وقال الارنوؤط: اسناده حسن۔