حدیث نمبر: 55
حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ دِينَارٍ ، عَنْ كُرَيْبٍ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّهُ بَاتَ عِنْدَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَيْلَةَ خَالَتِهِ مَيْمُونَةَ , " فَقَامَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَتَوَضَّأَ مِنْ شَنَّةٍ مُعَلَّقَةٍ " , قَالَ : فَوَصَفَ وُضُوءَهُ , وَجَعَلَ يُقَلِّلُهُ بِيَدِهِ , ثُمَّ قَامَ ابْنُ عَبَّاسٍ فَصَنَعَ مِثْلَ مَا صَنَعَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , قَالَ : ثُمَّ جِئْتُ فَقُمْتُ عَنْ شِمَالِهِ , " فَأَخْلَفَنِي فَجَعَلَنِي عَنْ يَمِينِهِ فَصَلَّى , ثُمَّ اضْطَجَعَ فَنَامَ حَتَّى نَفَحَ " , ثُمَّ أَتَى بِلالٌ فَآذَنَهُ بِالصُّبْحِ , " فَصَلَّى وَلَمْ يَتَوَضَّأْ " . قَالَ سُفْيَانُ : لأَنَّهُ بَلَغَنَا أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَتْ تَنَامُ عَيْنَاهُ وَلا يَنَامُ قَلْبُهُ .
نوید مجید طیب
سیدنا عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے انہوں نے اپنی خالہ میمونہ رضی اللہ عنہا کے گھر رات گزاری جس رات نبی صلی اللہ علیہ وسلم بھی میمونہ رضی اللہ عنہا کے پاس تھے، رات کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم بیدار ہوئے ایک لٹکے ہوئے مشکیزے سے وضو فرمایا: راوی کہتے ہیں کہ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما نے وضو کرنے کا طریقہ بھی بیان کیا اور اپنے ہاتھ سے بتایا کہ کم پانی استعمال کیا پھر سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما اٹھے اسی طرح وضو کیا اور کہتے ہیں کہ میں واپس آیا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نماز پڑھ رہے تھے میں اُن کے بائیں جانب کھڑا ہو گیا، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے پیچھے سے پکڑ کر گھوما کر دائیں جانب کھڑا کر لیا پھر آپ نے نماز پڑھی پھر آکر لیٹ گئے حتی کہ خراٹے بھر نے لگے پھر سیدنا بلال رضی اللہ عنہ آئے (فجر کی اذان کہی) آپ کو نماز فجر کی اطلاع دی آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے نماز پڑھائی وضو نہ کیا۔ محدث سفیان رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ ہمیں خبر پہنچی کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی آنکھیں سو جاتیں اور دل جاگتا رہتا تھا۔
وضاحت:
➊ ام المومنین سیدہ میمونہ رضی اللہ عنہا ام فضل زوجہ عباس رضی اللہ عنہ کی چھوٹی بہن تھیں، اور ابن عباس رضی اللہ عنہما بعض دفعہ اپنی خالہ کے گھر رات گزارنے آجاتے تھے۔
➋ انبیاء علیہم السلام کا سونا غفلت سے پاک ہوتا ہے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا خاصہ تھا کہ آپ کا دل جاگتا رہتا اور آنکھیں سو جاتیں اس لیے انبیاء علیہم السلام کے خواب بھی وحی ہوتے ہیں کیونکہ دل بیدار رہتا ہے۔
➌ امت محمدیہ کا کوئی فرد اگر ٹیک لگا کر سو جائے تو وضو ٹوٹ جاتا ہے، چار زانو ہو کر اونگھ لے تو وضو نہیں ٹوٹتا۔
➍ وضو کے لیے کم پانی استعمال کرنا چاہیے۔
➎ ایک مقتدی کو بھی جماعت کرائی جا سکتی ہے جو دائیں جانب کھڑا کیا جائے گا اور برابر کھڑا ہوگا، بعض لوگوں کا امام سے ایک دو قدم پیچھے کھڑا ہونا درست نہیں۔
➏ اگر ایک امام اور ایک نابالغ بچہ ہو تو بھی جماعت کرائی جا سکتی ہے۔
➐ نماز میں ایسی حرکت جو نماز سے متعلقہ ہو یا ضروری نوعیت کی ہو کی جا سکتی ہے اس سے نماز نہیں ٹوٹتی اور نہ ثواب کم ہوتا ہے۔ (واللہ اعلم!)
➋ انبیاء علیہم السلام کا سونا غفلت سے پاک ہوتا ہے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا خاصہ تھا کہ آپ کا دل جاگتا رہتا اور آنکھیں سو جاتیں اس لیے انبیاء علیہم السلام کے خواب بھی وحی ہوتے ہیں کیونکہ دل بیدار رہتا ہے۔
➌ امت محمدیہ کا کوئی فرد اگر ٹیک لگا کر سو جائے تو وضو ٹوٹ جاتا ہے، چار زانو ہو کر اونگھ لے تو وضو نہیں ٹوٹتا۔
➍ وضو کے لیے کم پانی استعمال کرنا چاہیے۔
➎ ایک مقتدی کو بھی جماعت کرائی جا سکتی ہے جو دائیں جانب کھڑا کیا جائے گا اور برابر کھڑا ہوگا، بعض لوگوں کا امام سے ایک دو قدم پیچھے کھڑا ہونا درست نہیں۔
➏ اگر ایک امام اور ایک نابالغ بچہ ہو تو بھی جماعت کرائی جا سکتی ہے۔
➐ نماز میں ایسی حرکت جو نماز سے متعلقہ ہو یا ضروری نوعیت کی ہو کی جا سکتی ہے اس سے نماز نہیں ٹوٹتی اور نہ ثواب کم ہوتا ہے۔ (واللہ اعلم!)
حدیث نمبر: 56
حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ ، عَنْ إِسْحَاقَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي طَلْحَةَ ، سَمِعَ عَمَّهُ أَنَسَ بْنَ مَالِكٍ ، يَقُولُ : " صَلَّيْتُ أَنَا وَيَتِيمٌ لَنَا خَلْفَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي بَيْتِنَا , وَأُمُّ سُلَيْمٍ خَلْفَنَا " .
نوید مجید طیب
سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں میں نے اور ہمارے ایک یتیم لڑکے نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پیچھے اپنے گھر میں نماز ادا کی اور (ہماری والدہ) ام سلیم رضی اللہ عنہا ہمارے پیچھے کھڑی تھیں۔
وضاحت:
➊ دو مقتدی چاہے بچے ہوں وہ بھی امام کے پیچھے کھڑے ہوں گے، اور عورت مردوں کی صف میں کھڑی نہیں ہوگی چاہے اکیلی ہو، اگر صرف عورت مقتدی ہو تب بھی پیچھے اکیلی کھڑی ہوگی۔
➋ اکیلی عورت امام کے پیچھے کھڑی ہو سکتی ہے البتہ مرد نہیں ہو سکتا۔
➌ مسجد میں باجماعت نماز کے ساتھ ملنے والا شخص اگر پہلی صفوں کو مکمل پاتا ہے تو وہ اکیلا نماز پڑھ سکتا ہے۔ اگر پہلی صفوں میں جگہ موجود ہے تو ایسی صورت میں پیچھے اکیلا کھڑے ہونے والے کی نماز نہ ہوگی۔
➍ مکمل صفوں سے آدمی کو پیچھے کھینچ کر اپنے ساتھ کھڑا کرنا اور اگلی صف میں نقص پیدا کرنا درست نہیں۔
➎ اگلی صف سے بندہ کھینچنے سے متعلق وارد روایت سنداً کمزور ہے۔
➋ اکیلی عورت امام کے پیچھے کھڑی ہو سکتی ہے البتہ مرد نہیں ہو سکتا۔
➌ مسجد میں باجماعت نماز کے ساتھ ملنے والا شخص اگر پہلی صفوں کو مکمل پاتا ہے تو وہ اکیلا نماز پڑھ سکتا ہے۔ اگر پہلی صفوں میں جگہ موجود ہے تو ایسی صورت میں پیچھے اکیلا کھڑے ہونے والے کی نماز نہ ہوگی۔
➍ مکمل صفوں سے آدمی کو پیچھے کھینچ کر اپنے ساتھ کھڑا کرنا اور اگلی صف میں نقص پیدا کرنا درست نہیں۔
➎ اگلی صف سے بندہ کھینچنے سے متعلق وارد روایت سنداً کمزور ہے۔
حدیث نمبر: 57
وَأَنْبَأَنَا مَالِكُ بْنُ أَنَسٍ ، عَنْ مَخْرَمَةَ بْنِ سُلَيْمَانَ ، عَنْ كُرَيْبٍ مَوْلَى ابْنِ عَبَّاسٍ ، أَنَّ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عَبَّاسٍ أَخْبَرَهُ أَنَّهُ بَاتَ عِنْدَ مَيْمُونَةَ زَوْجِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهِيَ خَالَتُهُ , قَالَ : فَاضْطَجَعْتُ فِي عَرْضِ الْوِسَادَةِ , " وَاضْطَجَعَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَهْلُهُ فِي طُولِهَا , فَنَامَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , حَتَّى إِذَا انْتَصَفَ اللَّيْلُ أَوْ قَبْلَهُ بِقَلِيلٍ أَوْ بَعْدَهُ , اسْتَيْقَظَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , فَجَلَسَ يَمْسَحُ النَّوْمَ عَنْ وَجْهِهِ بِيَدَيْهِ , ثُمَّ قَرَأَ الْعَشْرَ الآيَاتِ الْخَوَاتِمَ مِنْ سُورَةِ آلِ عِمْرَانَ , ثُمَّ قَامَ إِلَى شَنٍّ مُعَلَّقَةٍ , فَتَوَضَّأَ مِنْهَا فَأَحْسَنَ وُضُوءَهُ , ثُمَّ قَامَ يُصَلِّي " , قَالَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَبَّاسٍ : فَقُمْتُ فَصَنَعْتُ مِثْلَ مَا صَنَعَ , ثُمَّ ذَهَبْتُ فَقُمْتُ إِلَى جَنْبِهِ , " فَوَضَعَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَدَهُ الْيُمْنَى عَلَى رَأْسِي , فَأَخَذَ بِأُذُنِي يَفْتِلُهَا , فَصَلَّى رَكْعَتَيْنِ , ثُمَّ رَكْعَتَيْنِ , ثُمَّ رَكْعَتَيْنِ , ثُمَّ رَكْعَتَيْنِ , ثُمَّ رَكْعَتَيْنِ , ثُمَّ رَكْعَتَيْنِ , ثُمَّ أَوْتَرَ , ثُمَّ اضْطَجَعَ حَتَّى جَاءَهُ الْمُؤَذِّنُ , فَقَامَ فَصَلَّى رَكْعَتَيْنِ خَفِيفَتَيْنِ , ثُمَّ خَرَجَ فَصَلَّى الصُّبْحَ " .
نوید مجید طیب
سیدنا عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے انہوں نے اپنی خالہ اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس رات گزاری ابن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں میں تکیے کے عرض میں جبکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور آپ کی اہلیہ اس کے طول میں لیٹ گئے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نصف یا اس سے تھوڑا وقت قبل رات تک سوئے پھر بیدار ہوئے تو نیند کو اپنے چہرے پر ہاتھ پھیر کر دور کیا۔ پھر سورۃ آل عمران کی آخری ﴿دس آیات﴾ [سورة آل عمران: 190-200] پڑھیں پھر لٹکے ہوئے مشکیزے کی طرف گئے بہترین وضو کیا پھر نماز پڑھنے لگے سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ میں نے بھی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی طرح کیا پھر جا کر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پہلو میں کھڑا ہو گیا آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنا دایاں ہاتھ میرے سر پر رکھا اور میرا کان (پیار سے) پکڑ کر مروڑا (یعنی بائیں طرف کھڑے ہوئے تو آپ نے کان سے پکڑا کر دائیں جانب کر دیا) آپ نے دو رکعت پڑھی، پھر دو رکعت، پھر دو رکعت، پھر دو رکعت پھر دو رکعت پھر دو رکعت پھر وتر پڑھے پھر لیٹ گے حتی کہ مؤذن آیا پھر کھڑے ہوئے تو ہلکی سی دو رکعتیں پڑھیں پھر حجرے سے نکلے اور فجر کی نماز پڑھائی۔
وضاحت:
➊ اس حدیث سے معلوم ہوا کہ اگر آدمی سو کر اٹھے تو زبانی قرآن کی تلاوت وضو کرنے سے پہلے کی جا سکتی ہے۔
➋ رات کی نماز دو دو رکعت کر کے پڑھنا افضل ہے۔
➌ چھوٹے بچے کا پیار سے کان پکڑنا درست ہے۔
➍ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما کا دینی جذبہ و نیک عمل کا شوق انہیں "خیر الامہ" بنا گیا۔
➎ بچہ بھی نماز تہجد پڑھ سکتا ہے۔
➏ بچوں کے ساتھ شفقت و نرمی والا معاملہ رکھنا چاہیے اور ان کے اعمال خیر کی بڑوں کو حوصلہ افزائی کرنی چاہیے تا کہ وہ نمازی اور دین دار بن سکیں۔
➋ رات کی نماز دو دو رکعت کر کے پڑھنا افضل ہے۔
➌ چھوٹے بچے کا پیار سے کان پکڑنا درست ہے۔
➍ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما کا دینی جذبہ و نیک عمل کا شوق انہیں "خیر الامہ" بنا گیا۔
➎ بچہ بھی نماز تہجد پڑھ سکتا ہے۔
➏ بچوں کے ساتھ شفقت و نرمی والا معاملہ رکھنا چاہیے اور ان کے اعمال خیر کی بڑوں کو حوصلہ افزائی کرنی چاہیے تا کہ وہ نمازی اور دین دار بن سکیں۔
حدیث نمبر: 58
أَنْبَأَنَا مَالِكُ بْنُ أَنَسٍ ، عَنْ إِسْحَاقَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي طَلْحَةَ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ، أَنَّ جَدَّتَهُ مُلَيْكَةَ دَعَتْ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِطَعَامٍ صَنَعَتْهُ , فَأَكَلَ مِنْهُ , ثُمَّ قَالَ : " قُومُوا , فَلأُصَلِّ لَكُمْ " , قَالَ أَنَسٌ : فَقُمْتُ إِلَى حَصِيرٍ لَنَا قَدِ اسْوَدَّ مِنْ طُولِ مَا لُبِسَ , فَنَضَحْتُهُ بِمَاءٍ , فَقَامَ عَلَيْهِ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , وَصَفَفْتُ أَنَا وَالْيَتِيمُ وَرَاءَهُ , وَالْعَجُوزُ مِنْ وَرَائِنَا , فَصَلَّى بِنَا رَكْعَتَيْنِ , ثُمَّ انْصَرَفَ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ .
نوید مجید طیب
سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ اُن کی دادی ملیکہ رضی اللہ عنہا نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو کھانے پر بلایا آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے کھانا تناول فرمایا پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”کھڑے ہو جاؤ تا کہ میں تمہیں نماز پڑھاؤں۔“ سیدنا انس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں میں نے چٹائی دھوئی جو طولِ زمن سے کالی ہو چکی تھی اس پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کھڑے ہوئے، میں اور ایک یتیم آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پیچھے اور دادی ہمارے پیچھے کھڑی ہوئیں آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں دو رکعت نماز پڑھائی پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم واپس تشریف لے گئے۔
وضاحت:
➊ عورت مرد کے برابر نہیں کھڑی ہو گی چاہے مرد محرم ہی ہو۔
➋ سیدنا انس رضی اللہ عنہ کے گھرانے کا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے بے حد پیار تھا۔
➌ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اپنے ساتھیوں کی دعوت طعام قبول فرماتے اور ان کے گھر تشریف لے جاتے تھے۔
➍ نفل نماز کسی بھی وقت باجماعت ادا کی جا سکتی ہے۔
➋ سیدنا انس رضی اللہ عنہ کے گھرانے کا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے بے حد پیار تھا۔
➌ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اپنے ساتھیوں کی دعوت طعام قبول فرماتے اور ان کے گھر تشریف لے جاتے تھے۔
➍ نفل نماز کسی بھی وقت باجماعت ادا کی جا سکتی ہے۔