کتب حدیثالسنن المأثورةابوابباب: نماز کسوف کا بیان
حدیث نمبر: 47
أَنْبَأَنَا مَالِكُ بْنُ أَنَسٍ ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ عَائِشَةَ ، أَنَّهَا قَالَتْ : خُسِفَتِ الشَّمْسُ فِي عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , فَصَلَّى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِالنَّاسِ , فَقَامَ , فَأَطَالَ الْقِيَامَ , ثُمَّ رَكَعَ فَأَطَالَ الرُّكُوعَ , ثُمَّ قَامَ فَأَطَالَ الْقِيَامَ وَهُوَ دُونَ الْقِيَامِ الأَوَّلِ , ثُمَّ رَكَعَ فَأَطَالَ الرُّكُوعَ وَهُوَ دُونَ الرُّكُوعِ الأَوَّلِ , ثُمَّ رَفَعَ فَسَجَدَ , ثُمَّ فَعَلَ ذَلِكَ فِي الرَّكْعَةِ الأُخْرَى مِثْلَ ذَلِكَ , ثُمَّ انْصَرَفَ , وَقَدْ تَجَلَّتِ الشَّمْسُ , فَخَطَبَ النَّاسَ , فَحَمِدَ اللَّهَ وَأَثْنَى عَلَيْهِ , ثُمَّ قَالَ : " إِنَّ الشَّمْسَ وَالْقَمَرَ آيَتَانِ مِنْ آيَاتِ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ , لا يَخْسِفَانِ لِمَوْتِ أَحَدٍ وَلا لِحَيَاتِهِ , فَإِذَا رَأَيْتُمْ ذَلِكَ فَادْعُوا اللَّهَ وَكَبِّرُوا وَتَصَدَّقُوا " , وَقَالَ : " يَا أُمَّةَ مُحَمَّدٍ , وَاللَّهِ , مَا مِنْ أَحَدٍ أَغْيَرَ مِنَ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ أَنْ يَزْنِيَ عَبْدُهُ أَوْ تَزْنِيَ أَمَتُهُ , يَا أُمَّةَ مُحَمَّدٍ , لَوْ تَعْلَمُونَ مَا أَعْلَمُ , لَضَحِكْتُمْ قَلِيلا , وَلَبَكَيْتُمْ كَثِيرًا " .
نوید مجید طیب
ام المومنین سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے میں سورج گرہن لگا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے لوگوں کو جماعت کرائی ایک لمبا قیام فرمایا پھر ایک لمبا رکوع کیا پھر قیام میں کھڑے ہو کر لمبا قیام کیا لیکن یہ پہلے قیام سے کچھ ہلکا تھا پھر رکوع میں گئے یہ رکوع پہلے والے رکوع سے کم تھا پھر رکوع سے سر اٹھایا اور سجدہ کیا پھر اسی طرح دوسری رکعت میں بھی کیا پھر واپس پلٹے تو سورج گرہن ختم ہو چکا تھا۔ پھر لوگوں کو خطبہ دیا ، تو حمد وثناء کے بعد فرمایا: ”سورج اور چاند اللہ کی نشانیوں میں سے نشانی ہیں جو کسی کی موت یا زندگی پر گرہن زدہ نہیں ہوتے ، جب تم گرہن دیکھو تو دعائیں کرو، تکبیرات کہو، اور صدقہ کا اہتمام کرو۔“ اور فرمایا: ”اے امت محمد! اللہ کی قسم اللہ سے بڑھ کر کوئی غیرت مند نہیں کہ اس کا غلام زنا کرے یا لونڈی زنا کرے اے امت محمد! اگر تم وہ جان لیتے جو میں جانتا ہوں تو کم ہنسو اور زیادہ رؤو۔“
حوالہ حدیث السنن المأثورة / باب ما جاء في صلاة الكسوف / حدیث: 47
تخریج حدیث صحيح بخارى، الكسوف، باب الصدقة في الكسوف، رقم: 1044 ، صحيح مسلم، الكسوف، باب صلاة الكسوف، رقم: 901۔
حدیث نمبر: 48
وَأَنْبَأَنَا مَالِكُ بْنُ أَنَسٍ ، عَنْ زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ يَسَارٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ : خَسَفَتِ الشَّمْسُ , فَصَلَّى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَالنَّاسُ مَعَهُ , فَقَامَ قِيَامًا طَوِيلا , قَالَ : نَحْوًا مِنْ سُورَةِ الْبَقَرَةِ , قَالَ : ثُمَّ رَكَعَ رُكُوعًا طَوِيلا , ثُمَّ رَفَعَ , فَقَامَ قِيَامًا طَوِيلا , وَهُوَ دُونَ الْقِيَامِ الأَوَّلِ , ثُمَّ رَكَعَ رُكُوعًا طَوِيلا , وَهُوَ دُونَ الرُّكُوعِ الأَوَّلِ , ثُمَّ سَجَدَ , ثُمَّ انْصَرَفَ , وَقَدْ تَجَلَّتِ الشَّمْسُ , فَقَالَ : " إِنَّ الشَّمْسَ وَالْقَمَرَ آيَتَانِ مِنْ آيَاتِ اللَّهِ , لا يَخْسِفَانِ لِمَوْتِ أَحَدٍ وَلا لِحَيَاتِهِ , فَإِذَا رَأَيْتُمْ ذَلِكَ فَاذْكُرُوا اللَّهَ " , قَالُوا : يَا رَسُولَ اللَّهِ , رَأَيْنَاكَ تَنَاوَلْتَ فِي مَقَامِكَ هَذَا شَيْئًا , ثُمَّ رَأَيْنَاكَ تَكَعْكَعْتَ ! قَالَ : " إِنِّي رَأَيْتُ الْجَنَّةَ , فَتَنَاوَلْتُ مِنْهَا عُنْقُودًا , وَلَوْ أَخَذْتُهُ لأَكَلْتُمْ مِنْهُ مَا بَقِيَتِ الدُّنْيَا , وَرَأَيْتُ أَوْ أُرِيتُ النَّارَ فَلَمْ أَرَ كَالْيَوْمِ مَنْظَرًا قَطُّ , وَرَأَيْتُ أَكْثَرَ أَهْلِهَا النِّسَاءَ " , قَالُوا : بِمَ يَا رَسُولَ اللَّهِ ؟ قَالَ : " بِكُفْرِهِنَّ " , قِيلَ : أَيَكْفُرْنَ بِاللَّهِ ؟ ! قَالَ : " يَكْفُرْنَ الْعَشِيرَ , وَيَكْفُرْنَ الإِحْسَانَ , لَوْ أَحْسَنْتَ إِلَى إِحْدَاهُنَّ الدَّهْرَ ثُمَّ رَأَتْ مِنْكَ شَيْئًا قَالَتْ : مَا رَأَيْتُ مِنْكَ خَيْرًا قَطُّ ! " .
نوید مجید طیب
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ سورج گرہن لگا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے نماز پڑھائی اور لوگ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ تھے۔ آپ نے سورۃ البقرۃ کی قرآت جتنا لمبا قیام کیا پھر لمبا رکوع کیا، رکوع سے اٹھ کر پھر لمبا قیام کیا، لیکن یہ قیام پہلے قیام سے قدرے کم تھا پھر رکوع کیا جو پہلے رکوع سے قدرے کم تھا پھر سجدہ کیا پھر نماز مکمل کر کے سلام پھیرا تو گرہن ختم ہو چکا تھا آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”سورج اور چاند اللہ کی نشانیوں میں سے نشانی ہیں جن کے گرہن کا تعلق کسی کی موت یا حیات سے نہ ہے جب تم گرہن دیکھو تو اللہ کا ذکر کرو۔“ لوگوں نے عرض کیا: اے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم! ہم نے آپ کو قیام کے دوران دیکھا کہ کسی چیز کو پکڑ رہے ہیں پھر ہم نے دیکھا آپ پیچھے ہٹے؟ آپ نے فرمایا: ”میں نے جنت دیکھی تو میں نے اس سے ایک خوشہ لینے کی کوشش کی اگر میں لے لیتا تو تم رہتی دنیا تک اسے کھاتے اور میں نے آگ دیکھی یا مجھے دکھائی گئی اس جیسا خوف ناک منظر پہلے کبھی نہیں دیکھا میں نے جہنم میں اکثریت عورتوں کی دیکھی۔“ صحابہ نے عرض کیا عورتیں زیادہ کیوں تھیں؟ آپ نے فرمایا: ”اپنے کفر کی وجہ سے۔“ صحابہ نے عرض کیا: کیا اللہ کے ساتھ کفر کرتی ہیں؟ آپ نے فرمایا: ”نہیں خاوند کی ناشکری کرتی ہیں اور احسان فراموش ہوتی ہیں اگر تو ساری زندگی ان سے حسن سلوک کرے پھر تھوڑی سی ناگوار چیز دیکھ لیں تو کہیں گی میں نے تجھ سے کبھی بھلائی نہ دیکھی۔“
حوالہ حدیث السنن المأثورة / باب ما جاء في صلاة الكسوف / حدیث: 48
تخریج حدیث صحيح بخاری، الکسوف، باب صلاة الكسوف جماعة، رقم: 1052 ، 1053 ، صحيح مسلم، الكسوف، باب ما عرض على النبي في صلاة الكسوف من امر الجنة والنار، رقم: 907۔
حدیث نمبر: 49
أَنْبَأَنَا مَالِكُ بْنُ أَنَسٍ ، عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ ، عَنْ عَمْرَةَ ابْنَةِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، عَنْ عَائِشَةَ زَوْجِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ يَهُودِيَّةً جَاءَتْ تَسْأَلُهَا , فَقَالَتْ : أَعَاذَكِ اللَّهُ مِنْ عَذَابِ الْقَبْرِ , فَسَأَلَتْ عَائِشَةُ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : أَيُعَذَّبُ النَّاسُ فِي قُبُورِهِمْ ؟ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " عَائِذًا بِاللَّهِ مِنْ ذَلِكَ ! " ثُمَّ رَكِبَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ذَاتَ غَدَاةٍ مَرْكَبًا , فَخَسَفَتِ الشَّمْسُ ضُحًى , فَخَرَجَ فَمَرَّ بَيْنَ ظَهْرَيِ الْحُجَرِ , ثُمَّ قَامَ يُصَلِّي , فَقَامَ النَّاسُ وَرَاءَهُ , فَقَامَ قِيَامًا طَوِيلا , ثُمَّ رَكَعَ رُكُوعًا طَوِيلا , ثُمَّ رَفَعَ فَقَامَ قِيَامًا طَوِيلا , وَهُوَ دُونَ الْقِيَامِ الأَوَّلِ , ثُمَّ رَكَعَ رُكُوعًا طَوِيلا , وَهُوَ دُونَ الرُّكُوعِ الأَوَّلِ , ثُمَّ رَفَعَ فَسَجَدَ , ثُمَّ قَامَ قِيَامًا طَوِيلا , وَهُوَ دُونَ الْقِيَامِ الأَوَّلِ , ثُمَّ رَكَعَ رُكُوعًا طَوِيلا , وَهُوَ دُونَ الرُّكُوعِ الأَوَّلِ , ثُمَّ رَفَعَ فَسَجَدَ , وَانْصَرَفَ , فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَا شَاءَ اللَّهُ أَنْ يَقُولَ , ثُمَّ " أَمَرَهُمْ أَنْ يَتَعَوَّذُوا بِاللَّهِ مِنْ عَذَابِ الْقَبْرِ .
نوید مجید طیب
ام المومنین سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ ایک یہودی عورت بھیک مانگنے آئی اور کہنے لگی تجھے اللہ عذاب قبر سے پناہ میں رکھے سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے دریافت کیا لوگوں کو قبر میں عذاب ہو گا؟ تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”میں اللہ تعالیٰ سے اس کی پناہ مانگتا ہوں۔“ پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ایک صبح سواری پر سوار ہو کر کہیں چلے گئے تو سورج کو گرہن لگا آپ صلی اللہ علیہ وسلم اشراق کے وقت واپس لوٹے حجروں کے درمیان سے گزرے پھر نماز پڑھنے لگے لوگ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پیچھے کھڑے ہو گئے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے لمبا قیام کیا پھر لمبا رکوع کیا پھر رکوع سے اٹھ کر ایک لمبا قیام کیا وہ پہلے قیام سے کچھ کم تھا پھر رکوع لمبا کیا لیکن پہلے سے کم لمبا تھا پھر اٹھے اور سجدہ کیا پھر (دوسری رکعت) میں لمبا قیام کیا لیکن پہلے سے کم تھا پھر لمبارکوع کیا جو پہلے سے کم تھا پھر لمبا قیام جو اپنے پہلے سے کم تھا پھر رکوع کیا لمبا تو تھا لیکن پہلے سے کم پھر سجدہ کیا پھر اٹھے دوسرا سجدہ کیا پھر لمبا قیام کیا جو پہلے سے کم تھا پھر رکوع لمبا کیا لیکن پہلے والے سے کم تھا پھر اٹھے لمبا قیام کیا جو پہلے سے کم تھا پھر لمبارکوع کیا جو پہلے سے کم تھا پھر رکوع سے اٹھے سجدہ کیا اور نماز سے فارغ ہوئے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے جو اللہ نے چاہا دُعا کی پھر صحابہ کو حکم دیا کہ اللہ تعالیٰ سے عذاب قبر سے پناہ طلب کریں۔
حوالہ حدیث السنن المأثورة / باب ما جاء في صلاة الكسوف / حدیث: 49
تخریج حدیث صحيح بخاری، الكسوف، باب صلاة الكسوف في المسجد، رقم: 1055 ، 1056 ، صحيح مسلم الكسوف، باب صلاة الكسوف، رقم: 901۔
حدیث نمبر: 50
وَسَمِعْتُ سُفْيَانَ بْنَ عُيَيْنَةَ ، يُحَدِّثُ عَنْ إِسْمَاعِيلَ بْنِ أَبِي خَالِدٍ ، عَنْ قَيْسِ بْنِ أَبِي حَازِمٍ ، عَنْ أَبِي مَسْعُودٍ الأَنْصَارِيِّ ، قَالَ : انْكَسَفَتِ الشَّمْسُ يَوْمَ مَاتَ إِبْرَاهِيمُ ابْنُ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , فَقَالَ النَّاسُ : كَسَفَتِ الشَّمْسُ لِمَوْتِ إِبْرَاهِيمَ , فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " إِنَّ الشَّمْسَ وَالْقَمَرَ آيَتَانِ مِنْ آيَاتِ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ , لا يَنْكَسِفَانِ لِمَوْتِ أَحَدٍ وَلا لِحَيَاتِهِ , فَإِذَا رَأَيْتُمْ ذَلِكَ فَافْزَعُوا إِلَى ذِكْرِ اللَّهِ وَإِلَى الصَّلاةِ " .
نوید مجید طیب
سیدنا ابو مسعود انصاری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے جس دن ابراہیم رضی اللہ عنہ بن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فوت ہوئے اس دن سورج گرہن لگا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”شمس و قمر اللہ کی دو نشانیاں ہیں جن کے گرہن کا تعلق کسی کی موت و حیات سے نہ ہے جب تم یہ نشانی دیکھو تو فوراً اللہ کی یاد اور نماز کی طرف لپکو۔“
حوالہ حدیث السنن المأثورة / باب ما جاء في صلاة الكسوف / حدیث: 50
تخریج حدیث صحيح مسلم الكسوف، باب ذكر النداء بصلاة الكسوف، الصلاة جامعة ، رقم: 911۔
حدیث نمبر: 51
أَنْبَأَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ ، قَالَ : سَمِعْتُ يَحْيَى بْنَ سَعِيدٍ ، يَقُولُ : سَمِعْتُ عَمْرَةَ ابْنَةَ عَبْدِ الرَّحْمَنِ تُحَدِّثُ عَنْ عَائِشَةَ ، قَالَتْ : أَتَتْنِي يَهُودِيَّةٌ , فَقَالَتْ : أَعَاذَكِ اللَّهُ مِنْ عَذَابِ الْقَبْرِ , فَذَكَرْتُهُ لِلنَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , فَقَالَ كَلِمَةً إِلَيَّ , كَأَنَّهُ لَمْ يَكُنْ عِنْدَهُ فِيهَا شَيْءٌ , قَالَ : فَخَرَجَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَوْمًا فِي مَرْكَبٍ لَهُ , فَخَرَجْتُ أَنَا وَنِسْوَةٌ بَيْنَ الْحُجَرِ , فَجَاءَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ مَرْكَبِهِ سَرِيعًا , حَتَّى قَامَ فِي مُصَلاهُ , فَكَبَّرَ فَقَامَ قِيَامًا طَوِيلا , ثُمَّ رَكَعَ رُكُوعًا طَوِيلا , ثُمَّ رَفَعَ فَقَامَ قِيَامًا طَوِيلا , وَهُوَ دُونَ الْقِيَامِ الأَوَّلِ , ثُمَّ رَكَعَ فَأَطَالَ الرُّكُوعَ , وَهُوَ دُونَ الرُّكُوعِ الأَوَّلِ , ثُمَّ رَفَعَ فَسَجَدَ سُجُودًا طَوِيلا , ثُمَّ رَفَعَ فَسَجَدَ سُجُودًا طَوِيلا , وَهُوَ دُونَ السُّجُودِ الأَوَّلِ , ثُمَّ فَعَلَ فِي الثَّانِيَةِ مِثْلَهُ , فَكَانَتْ صَلاتُهُ أَرْبَعَ رَكَعَاتٍ فِي أَرْبَعِ سَجَدَاتٍ , قَالَ : فَسَمِعْتُهُ بَعْدَ ذَلِكَ يَتَعَوَّذُ مِنْ عَذَابِ الْقَبْرِ , فَقُلْتُ : يَا رَسُولَ اللَّهِ , إِنَّا لَنُعَذَّبُ فِي قُبُورِنَا ؟ فَقَالَ : " نَعَمْ ، تُفْتَنُونَ فِي قُبُورِكُمْ , كَفِتْنَةِ الْمَسِيحِ أَوْ كَفِتْنَةِ الدَّجَّالِ " .
نوید مجید طیب
ام المومنین سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ میرے پاس یہودی عورت آئی کہنے لگی اللہ تجھے قبر کے عذاب سے بچائے جس کا میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے تذکرہ کیا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے جواباً ایسا فرمایا گویا ابھی تک اس سے متعلق آپ کے پاس وحی نہیں آئی۔ راوی کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ایک دن سواری پر کسی کام کے لیے نکلے سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں میں دوسری عورتوں کے ساتھ حجروں سے نکلی کہ اچانک رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جلدی سے آرہے تھے حتی کہ جائے نماز پر پہنچ گئے تکبیر کہی اور لمبا قیام کیا پھر لمبا رکوع کیا پھر اٹھ کر لمبا قیام کیا لیکن پہلے سے کم تھا پھر لمبارکوع کیا جو پہلے سے کم تھا پھر رکوع سے اٹھے لمبا سجدہ کیا پھر دوسری رکعت ایسے ہی پڑھی آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی نماز چار رکوع اور چار سجدوں پر مشتمل تھی اس کے بعد میں نے سنا آپ صلی اللہ علیہ وسلم عذاب قبر سے پناہ مانگ رہے تھے میں نے کہا کیا ہم عذاب قبر دیے جائیں گے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تم قبروں میں دجال کی آزمائش کی طرح آزمائش میں ڈالے جاؤ گے۔“
حوالہ حدیث السنن المأثورة / باب ما جاء في صلاة الكسوف / حدیث: 51
تخریج حدیث صحيح مسلم، الكسوف، باب ذكر عذاب القبر في صلاة الخسوف، رقم: 903۔
حدیث نمبر: 52
أَنْبَأَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ ، حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ عُرْوَةَ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ عَائِشَةَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِثْلَ حَدِيثِ عَمْرَةَ فِي أَرْبَعِ رَكَعَاتٍ .
نوید مجید طیب
ہمیں خبر دی سفیان بن عینیہ نے انہوں نے کہا : ہمیں حدیث بیان کی ہشام بن عروہ نے اپنے باپ عروہ سے انہوں نے سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے انہوں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے۔ آگے حدیث عمرہ کی حدیث کی مانند ہے اس میں بھی چار رکوع کا ذکر ہے۔
وضاحت:
➊ ان احادیث سے معلوم ہوا کہ شمس و قمر اللہ کی نشانیاں ہیں ان کے گرہن کا کسی کی موت یا حیات سے کوئی تعلق نہیں۔
➋ یہ واقعہ 28 شوال 10ھ کا ہے جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے بیٹے ابراہیم رضی اللہ عنہ فوت ہوئے بعض لوگوں کا نظریہ تھا کہ شاید ابراہیم رضی اللہ عنہ کے غم میں سورج رو رہا ہے جس پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس نظریے کا رد فرمایا اور تمام روایات میں موت و حیات کا ذکر ہے جس سے معلوم ہوتا ہے جتنی احادیث اس باب میں روایت ہوئی ہیں سب ایک ہی واقعے کو مختلف انداز میں بیان کرتی ہیں۔
➌ سورج یا چاند کو گرہن لگنے کی صورت میں پڑھی جانے والی نماز کو کسوف یا خسوف کہتے ہیں بعض اہل لغت کے نزدیک سورج گرہن کے لیے کسوف اور چاند گرہن کے لیے خسوف کا لفظ استعمال کرنا زیادہ مناسب ہے۔
➍ سورج اور چاند اللہ کی دو عظیم نشانیاں ہیں روز قیامت یہ بے نور ہو جائیں گے دنیا میں ان کا گہنا جانا ہمیں فکر آخرت دلاتا ہے لہذا ایسے موقع پر عجز و انکساری کا اظہار کرتے ہوئے عبادت کرنا، صدقہ و خیرات کرنا، استغفار کرنا مسنون اعمال ہیں۔
➎ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے نماز کسوف کی ہر رکعت میں تین رکوع بھی منقول ہیں، سیدنا جابر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں عہد رسالت میں سورج گرہن لگا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دو رکعات میں چھ رکوع اور چار سجدے کیے تھے۔ [صحیح مسلم: 907]
➏ حسب استطاعت ایک رکعت چار رکوع کے ساتھ پڑھنا بھی سنت ہے سیدنا عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے چار رکوع کے ساتھ نماز کسوف کی ایک رکعت پڑھائی۔ [صحیح مسلم: 909]
➐ ضروری نہیں کہ جب تک گرہن رہے قیام کرتے ہی رہنا ہے اتفاقاً جب آپ فارغ ہوئے گرہن ختم ہو گیا تھا گرہن اللہ کے حکم سے ختم ہوتا ہے اگر نماز نہ بھی پڑھی جائے تو بھی گرہن نے ختم ہونا ہی ہے۔
➑ انسانوں کے گناہوں کی وجہ سے یہ نشانیاں ظاہر ہوتی ہیں اس لیے پہلی حدیث کی روشنی میں زنا جیسے گناہ سے ڈرایا گیا، دوسری میں جہنم کا تذکرہ ہوا، عورتوں کی نافرمانی جیسا گناہ بیان ہوا، عذاب قبر سے پناہ کا حکم ہوا، ذکر الہی، نماز صدقات اور نیک کام کا حکم فرمایا۔
➒ دور حاضر میں جب گرہن لگتا ہے نمازوں کی طرف لپکنے کی بجائے مسلمان معمولات زندگی میں مشغول رہتے ہیں۔ بعض دقیانوس اس منظر سے لطف اندوز ہوتے ہیں۔ العیاذ باللہ!
➓ صلاۃ کسوف کے موقع پر (الصلاة جامعة الصلاة جامعة) کے الفاظ کے ساتھ منادی کرنا مسنون ہے۔ [صحیح بخاری: 1066، صحیح مسلم: 910]
⓫ بعض لوگ عام نماز کی طرح کسوف میں بھی ایک ہی رکوع کے قائل ہیں۔ یہ فہم صریح احادیث صحیحہ کے خلاف ہے۔
⓬ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو اللہ تعالیٰ نے اسی دوران جنت و جہنم دکھائی یہ علامات نبوت میں سے ہے۔
⓭ نماز میں معمولی حرکات و سکنات نماز کو باطل نہیں کرتیں۔
⓮ جنت کی نعمتیں دائمی اور ابدی ہیں۔
⓯ عورتوں پر خاوندوں کی شکر گزاری فرض ہے۔
⓰ عذاب قبر برحق ہے اور یہ اہل کتاب کا بھی عقیدہ تھا۔
⓱ عذاب قبر سے پناہ مانگتے رہنا چاہیے اور اس سلسلہ میں وارد مسنون دعاؤں کو اپنی زندگی کے معمولات میں شامل کرنا چاہیے۔
⓲ عوام میں موجود جاہلانہ، ہندوانہ اور مشرکانہ عقائد و نظریات کی سختی سے تردید کرنا اہل علم کا فریضہ ہے۔
⓳ نماز کسوف میں قراءت بالجہر ہے۔
حوالہ حدیث السنن المأثورة / باب ما جاء في صلاة الكسوف / حدیث: 52
تخریج حدیث صحیح مسلم، الكسوف، باب صلاة الكسوف، رقم: 901۔
حدیث نمبر: 53
أَنْبَأَنَا عَبْدُ الْكَرِيمِ بْنُ مُحَمَّدٍ الْجُرْجَانِيُّ ، عَنْ زُهَيْرِ بْنِ مُعَاوِيَةَ ، عَنِ الأَسْوَدِ بْنِ قَيْسٍ ، عَنْ ثَعْلَبَةَ بْنِ عَبَّادٍ الْعَبْدِيِّ ، قَالَ : خَطَبَنَا سَمُرَةُ بْنُ جُنْدُبٍ , فَحَدَّثَنَا فِي خُطْبَتِهِ حَدِيثًا عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : بَيْنَمَا أَنَا وَشَابٌّ مِنَ الأَنْصَارِ نَنْتَضِلُ بَيْنَ غَرَضَيْنِ لَنَا , إِذِ ارْتَفَعَتِ الشَّمْسُ , ثُمَّ اسْوَدَّتْ حَتَّى آضَتْ كَأَنَّهَا تَنُّومَةٌ , فَقَالَ أَحَدُنَا لِصَاحِبِهِ : انْطَلِقْ بِنَا , فَوَاللَّهِ لَيُحْدِثَنَّ شَأْنُ هَذِهِ الشَّمْسِ لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَدَثًا فِي أَصْحَابِهِ , فَانْطَلَقْنَا , فَدَفَعْنَا إِلَى الْمَسْجِدِ , وَهُوَ يَأْزَزُ , فَوَافَقْنَا خُرُوجَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , فَصَلَّى بِنَا , فَقَامَ كَأَطْوَلِ مَا قَامَ فِي صَلاةٍ قَطُّ , لا نَسْمَعُ لَهُ حِسًّا , ثُمَّ رَكَعَ كَأَطْوَلِ مَا رَكَعَ فِي صَلاةٍ قَطُّ , لا نَسْمَعُ لَهُ حِسًّا , ثُمَّ رَفَعَ فَسَجَدَ , ثُمَّ فَعَلَ فِي الرَّكْعَةِ الثَّانِيَةِ مِثْلَ ذَلِكَ , فَوَافَقَ فَرَاغَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنَ الصَّلاةِ تَجَلِّي الشَّمْسِ , فَقَامَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ خَطِيبًا أَوْ قَامَ عَلَى الْمِنْبَرِ , فَحَمِدَ اللَّهَ , وَأَثْنَى عَلَيْهِ , ثُمَّ قَالَ : " أَمَّا بَعْدُ , فَإِنَّ رِجَالا يَزْعُمُونَ أَنَّ كُسُوفَ هَذِهِ الشَّمْسِ , وَكُسُوفَ هَذَا الْقَمَرِ , وَزَوَالَ هَذِهِ النُّجُومِ عَنْ مَطَالِعِهَا لِمَوْتِ عَظِيمٍ مِنْ أَهْلِ الأَرْضِ , وَقَدْ كَذَبُوا , لَيْسَ كَذَلِكَ , وَلَكِنَّهَا آيَاتٌ مِنْ آيَاتِ اللَّهِ , لِيَنْظُرَ مَنْ يُحْدِثُ لَهُ فِيهِمْ تَوْبَةً , أَلا وَإِنِّي قَدْ رَأَيْتُ فِي مَقَامِي هَذَا مَا أَنْتُمْ لاقُونَ إِلَى يَوْمِ الْقِيَامَةِ , وَلَنْ تَقُومَ السَّاعَةُ حَتَّى يَخْرُجَ ثَلاثُونَ دَجَّالا كَذَّابًا , كُلُّهُمْ يَكْذِبُ عَلَى اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ , وَعَلَى رَسُولِهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , آخِرُهُمُ الأَعْوَرُ الدَّجَّالُ , مَمْسُوخُ الْعَيْنِ الْيُمْنَى , كَأَنَّهَا عَيْنُ أَبِي يَحْيَى ، لِرَجُلٍ بَيْنَهُ وَبَيْنَ حُجْرَةِ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا ، فَمَنْ صَدَّقَهُ وَآمَنَ لَمْ يَنْفَعْهُ صَالِحٌ مِنْ عَمَلِهِ سَلَفَ , وَمَنْ كَذَّبَهُ وَكَفَرَ بِهِ لَمْ يَضُرَّهُ شَيْءٌ مِنْ عَمَلِهِ سَلَفَ " .
نوید مجید طیب
ثعلبہ بن عباد العبدی رحمہ اللہ سے روایت ہے ہمیں سیدنا سمرہ بن جندب رضی اللہ عنہ نے خطبہ دیا اور خطبہ میں حدیث بیان کی کہ میں اور ایک انصاری نوجوان نشانہ بازی کر رہے تھے سورج بلند ہوا پھر سیاہ ہو گیا گویا کہ تنومہ بوٹی ہو (جو سیاہی مائل ہوتی ہے) ہم نے آپس میں کہا چلو چلیں اللہ کی قسم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سورج کی اس کیفیت میں صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کو ضرور کوئی نئی بات ارشاد فرمائیں گے ہم مسجد کی طرف آ گئے تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم گھر سے تشریف لائے ہم بھی اسی وقت آئے تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں جماعت کرائی اور آپ نے نہایت لمبا قیام کرایا ایسا لمبا قیام کبھی کسی بھی نماز میں نہیں کرایا تھا آپ کی آواز نہیں سنائی دے رہی تھی پھر ایسا لمبا رکوع کیا جو عام نمازوں میں نہیں کرتے تھے آپ کی آواز سنائی نہیں دے رہی تھی پھر کھڑے ہو کر سجدہ کیا پھر دوسری رکعت میں ایسا ہی کیا جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نماز سے فارغ ہوئے سورج صاف ہو چکا تھا پھر آپ نے خطبہ دیا یا منبر پر کھڑے ہوئے حمدوثنا کے بعد فرمایا: ”«أَمَّا بَعْدُ» ! کچھ لوگ یہ سمجھتے ہیں کہ شمس و قمر کا گرہن اور ستاروں کا ٹوٹنا کسی اہل ارض میں سے بڑے کی موت کے باعث ہوتا ہے، یقیناً ان کا نظریہ مبنی بر جھوٹ ہے حقیقت میں یہ اللہ کی نشانیاں ہیں اللہ دیکھتے ہیں توبہ کون کرتا ہے، میں نے اپنے اس مقام پر وہ سب دیکھا جس سے تمہارا قیامت تک پالا پڑنے والا ہے، قیامت ہرگز نہیں آئے گی حتیٰ کہ 30 دجال کذاب نکلیں گے، ہر ایک اللہ پر جھوٹ باندھے گا اور اس کے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پر بھی، اُن جھوٹوں کا آخری کانا دجال، بے نور دائیں آنکھ والا ہو گا جیسے ابی یحییٰ کی آنکھ ہے یہ آدمی دوران خطبہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم اور حجرہ عائشہ رضی اللہ عنہا کے درمیان بیٹھا ہوا تھا۔ جس شخص نے دجال کی تصدیق کی اور اس پر ایمان لایا، اس کو گزشتہ صالح اعمال بھی نفع نہ دیں گے اور جس نے اسے جھوٹا کہا اور اس کے ساتھ کفر کیا اس کے سابقہ بد اعمال اس کا کچھ نقصان نہیں کریں گے۔“
وضاحت:
➊ بعض الناس نے اس ضعیف روایت سے نماز کسوف کی ہر رکعت میں ایک رکوع کا استدلال کیا ہے۔ جبکہ صحیح احادیث کو تاویلات باطلہ سے رد کر دیتے ہیں۔
➋ نماز کسوف اور خسوف میں ایک رکعت میں دو، تین اور چار رکوع ہیں قراءت بھی جہری ہوتی ہے۔ [ديكهئے: فوائد حديث نمبر 52]
➌ حدیث کے الفاظ آواز سنائی نہیں دے رہی تھی سے سری قراءت پر استدلال کرنا درست نہیں کیونکہ ایک تو روایت ضعیف ہے دوسرا راوی حدیث اگر اس کو قابل حجت بھی مان لیں تو رش کی وجہ سے پچھلی صفوں میں ہوں گے جس سے انہیں آواز سنائی نہیں دے رہی ہوگی۔
➍ نوجوان صحابہ رضی اللہ عنہم فارغ اوقات میں نشانہ بازی، جہاد کی تیاری کیا کرتے تھے جبکہ ہمارے نوجوان فرصت میں فیس بک چلاتے ہیں، اللہ ان کو ہدایت دے نوجوان قوم کا اثاثہ ہوتے ہیں، اپنے اوقات ہر اس کام میں صرف کرنے چاہئیں جو امت کے لیے نفع بخش ہوں اگر یہی نوجوان فارغ اوقات میں اللہ کا دین سیکھیں، احادیث پڑھیں، صحابہ رضی اللہ عنہم و تابعین رحمہ اللہ اور محدثین رحمہ اللہ کی سیرت پر کتابیں پڑھیں، مطالعہ کتب اور کتاب بینی کا شوق پیدا کر لیں تو ان سے خیر پھوٹے جو ملک و ملت کے لیے باعث خیر ہو اور سوشل میڈیا کے گند سے بھی بچ جائیں۔
➎ احادیث صحیحہ میں تیس دجالوں کا ذکر آیا ہے اور ان کا آخری کانا دجال ہو گا۔ [مسند احمد: 16/5]
➏ اسی طرح احادیث صحیحہ میں دجالوں کا بھی ذکر آیا ہے دجال دجل سے ہے جس کا مطلب دھوکہ ہے بڑا دجال تو قیامت کے قریب نمودار ہو گا لیکن چھوٹے چھوٹے دجال ہر گلی میں آپ کو مل جائیں گے جو بڑے دجال کے لیے لوگوں کی ذہن سازی کر رہے ہیں دجال لوگوں سے جو کام کروائے گا اس کی پریکٹس یہ چھوٹے دجال امت محمدیہ علی صاحبہا الصلاۃ والسلام کی ایک بڑی تعداد سے کروا رہے ہیں تا کہ دجال آئے تو آگے ذہنی طور پر اس کے پیروکار بالکل تیار ہوں۔
➐ تمام شعبدہ بازیاں، قسمت کی خبریں دینا، غیب کے دعوے، شیطانوں سے مرید کے حال احوال پوچھ کر مرید کو بتا کر اپنا پرستار بنا لینا، جادو کو کرامتوں کے نام دے کر گرویدہ کرنا، یہ سب بڑے دجال کے لیے میدان تیار کرنا ہے۔
➑ مسیح الدجال اس کائنات کا سب سے بڑا فتنہ ہے جس کے ظہور کے بعد ایمان لانا فائدہ نہ دے گا۔ [صحیح مسلم: 158]
➒ دجال اور اس کے فتنوں سے ہر نبی نے اپنی امت کو خبردار کیا ہے۔ [صحیح مسلم: 2946]
➓ مکہ اور مدینہ کے علاوہ دجال دنیا کے ہر ملک کو تاراج کرے گا۔[صحیح بخاری: 1881]
⓫ دجال کے ساتھ آگ اور پانی بھی ہو گا، اس کی آگ دراصل ٹھنڈا پانی اور اس کا پانی در حقیقت آگ ہوگی۔ [صحیح بخاری: 7130]
⓬ اصفہان (ایران کے دارالحکومت تہران سے جنوب کی جانب قریباً 340 کلومیٹر کے فاصلے پر واقع شہر) کے ستر ہزار جبہ پوش یہودی دجال کے پیروکار بن جائیں گے۔ [صحیح مسلم: 2944]
⓭ کافر و منافق مدینہ سے نکل کر دجال کے پیروکار بن جائیں گے۔ [صحیح بخاری: 1881]
⓮ جاہل اور گنوار دیہاتی بھی دجال کے پیروکار ہوں گے۔ [سنن ابن ماجہ: 4077]
⓯ بہت سی عورتیں بھی دجال کے لشکر میں شامل ہو جائیں گی۔ [مسند احمد: 67/2]
⓰ فتنہ دجال سے محفوظ رہنے کے لیے، دجال کی خبر سن کر اس سے دور رہنا ضروری ہے۔ [سنن ابی داؤد: 4319]
⓱ سورۃ الکہف کی ابتدائی دس آیات حفظ کرنے والا بھی فتنہ دجال سے محفوظ رہے گا۔ [صحیح مسلم: 809]
⓲ آخری تشہد میں دجال سے پناہ مانگنا مسنون عمل ہے۔ [صحیح بخاری: 1377، صحیح مسلم: 588]
⓳ عیسیٰ علیہ السلام دجال کو "باب لد" میں قتل کریں گے۔ [سنن ترمذی: 2244]
(20) بنو تمیم قبیلے کے لوگ دجال کے مقابلے میں سب سے سخت واقع ہوں گے۔ [صحیح بخاری: 2543]
حوالہ حدیث السنن المأثورة / باب ما جاء في صلاة الكسوف / حدیث: 53
تخریج حدیث سنن ابی داؤد، صلاة الكسوف، باب من قال اربع ركعات، رقم: 1184 وقال الالبانی: ضعیف؛ سنن نسائی، الکسوف، باب نوع آخر، رقم: 1484۔
حدیث نمبر: 54
أَنْبَأَنَا أَنْبَأَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ أَبِي يَحْيَى ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي بَكْرِ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرِو بْنِ حَزْمٍ ، عَنْ صَفْوَانَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ صَفْوَانَ ، قَالَ : رَأَيْتُ ابْنَ عَبَّاسٍ " صَلَّى عَلَى ظَهْرِ زَمْزَمَ لِكُسُوفِ الشَّمْسِ رَكْعَتَيْنِ , فِي كُلِّ رَكْعَةٍ رَكْعَتَانِ " . وَسَمِعْتُ أَبَا جَعْفَرٍ الطَّحَاوِيَّ يَقُولُ : سَمِعْتُ الْمُزَنِيَّ يَقُولُ : قَالَ مُحَمَّدُ بْنُ إِدْرِيسَ الشَّافِعِّيُّ : إِنَّمَا صَلَّى ابْنُ عَبَّاسٍ وَحْدَهُ ؛ لأَنَّ الإِمَامَ لَمْ يُصَلِّ , وَلَوْ صَلَّى الإِمَامُ لَصَلَّى بِصَلاتِهِ , وَهَكَذَا مَا رَأَى اللَّيْثُ بْنُ سَعْدٍ بِمَكَّةَ : تَرَكَ الإِمَامُ الصَّلاةَ , فَلَمْ تَكُنْ جَمَاعَةٌ تُصَلَّى , وَذَكَرَ أَنَّهُ رَأَى بَعْضَهُمْ يَدْعُو قَائِمًا بَعْدَ الْعَصْرِ فَأَمَّا مَنْ رَأَى مِنَ الْمَكِّيِّيِنَ , فَلَيْسُوا يَتَوَقَّوْنَ الصَّلاةَ بَعْدَ الْعَصْرِ فِيمَا يَلْزَمُهُمْ ، يُصَلُّونَ لِلطَّوَافِ وَكُلَّ صَلاةٍ لَزِمَتْ , وَلَعَلَّهُمْ إِنَّمَا تَرَكُوا ذَلِكَ تَقِيَّةً لِلسُّلْطَانِ إِذْ لَمْ يُصَلِّ , فَإِنَّ السُّلْطَانَ قَدْ كَانَ يَعْبَثُ بِهِمْ فِي ذَلِكَ الزَّمَانِ . وَأَمَّا أَيُّوبُ بْنُ مُوسَى فَمَذْهَبُ أَصْحَابِهِ الْمَدَنِيِّينَ أَنْ لا يُصَلَّى بَعْدَ الْعَصْرِ , وَلا بَعْدَ الصُّبْحِ لِطَوَافٍ وَلا غَيْرِهِ , إِلا أَنَّهُ يَدْخُلُ عَلَيْهِمْ أَنَّهُمْ يُصَلُّونَ فِي ذَلِكَ الْوَقْتِ الصَّلاةَ الْفَائِتَةَ , وَالصَّلاةَ عَلَى الْجِنَازَةِ ، حَدَّثَنَا أَحْمَدُ قَالَ : سَمِعْتُ الْمُزَنِيَّ يَقُولُ : قَالَ مُحَمَّدُ بْنُ إِدْرِيسَ : وَأَرَى وَاللَّهُ أَعْلَمُ اسْتِدْلالا بِالسُّنَّةِ أَنْ أُصَلِّيَ كُلَّ صَلاةٍ لَزِمَتْ فِي كُلِّ وَقْتٍ مِنَ الأَوْقَاتِ , وَأَسْتَدِلُّ بِالسُّنَّةِ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِنَّمَا نَهَى عَنِ الصَّلاةِ فِي الأَوْقَاتِ الَّتِي نَهَى عَنْهَا فِيمَا لا يَلْزَمُهُ , وَأَرَى لأَهْلِ الْقُرَى الصِّغَارِ الَّتِي لا إِمَامَ لَهُمْ , وَالْبَوَادِي وَالْمُسَافِرِينَ أَنْ يُصَلُّوا عِنْدَ الْكُسُوفِ مُجْتَمِعِينَ وَمُتَفَرِّقِينَ , وَأَرَى ذَلِكَ لأَهْلِ الأَمْصَارِ إِذْ لَمْ يَكُنِ الإِمَامُ , إِلَى أَنْ يَدَعُوا ذَلِكَ تَقِيَّةً وَالصَّلاةُ فِي كُسُوفِ الشَّمْسِ وَالْقَمَرِ سَوَاءٌ , لا تَخْتَلِفَانِ , إِلا أَنَّهُ يُجْهَرُ بِالْقِرَاءَةِ فِي الصَّلاةِ فِي كُسُوفِ الْقَمَرِ , وَيُخَافَتُ بِهَا فِي كُسُوفِ الشَّمْسِ , لاخْتِلافِ صَلاةِ اللَّيْلِ وَالنَّهَارِ فِي الْجَهْرِ وَالْمُخَافَتَةِ سَمِعْتُ الْمُزَنِيَّ قَالَ : قَالَ الشَّافِعِيُّ رَحِمَهُ اللَّهُ : وَإِذَا دَخَلَ فِي صَلاةِ الْكُسُوفِ كَبَّرَ , ثُمَّ اسْتَفْتَحَ , ثُمَّ قَرَأَ بِأُمِّ الْقُرْآنِ , ثُمَّ قَرَأَ بَعْدَهَا نَحْوًا مِنْ سُورَةِ الْبَقَرَةِ , ثُمَّ رَكَعَ رُكُوعًا طَوِيلا يَكُونُ أَكْثَرَ مِنْ نِصْفِ قِيَامِهِ , ثُمَّ رَفَعَ فَقَرَأَ بِأُمِّ الْكِتَابِ , وَسُورَةٍ تَكُونُ نَحْوًا مِنْ مِائَتَيْ آيَةٍ , ثُمَّ رَكَعَ رُكُوعًا أَخَفَّ مِنْ رُكُوعِهِ الأَوَّلِ , ثُمَّ سَجَدَ , ثُمَّ صَنَعَ فِي الرَّكْعَةِ الثَّانِيَةِ مِثْلَ ذَلِكَ , إِلا أَنَّهُ يَجْعَلُ الْقِيَامَيْنِ فِيهَا أَخَفَّ مِنَ الْقِيَامَيْنِ فِي الأُولَى , ثُمَّ يَتَشَهَّدُ وَيُسَلِّمُ , وَإِنْ سَهَا فِيهَا , فَالسَّهْوُ فِيهَا كَالسَّهْوِ فِي صَلاةٍ غَيْرِهَا , يَسْجُدُ لَهُ قَبْلَ السَّلامِ , وَإِنِ انْصَرَفَ قَبْلَ تَجَلِّي الشَّمْسِ أَوِ الْقَمَرِ لَمْ يَكُنْ عَلَيْهِ عِنْدِي أَنْ يَعُودَ لِصَلاةٍ أُخْرَى , وَلَوْ عَادَ النَّاسُ مُنْفَرِدِينَ فَصَلُّوا , كَانَ أَحَبَّ إِلَيَّ , وَلَوْ كُسِفَتِ الشَّمْسُ فَأَبْطَأَ عَنِ الصَّلاةِ حَتَّى انْجَلَتْ كُلُّهَا لَمْ يَكُنْ عَلَيْهِ أَنْ يُصَلِّيَ ؛ لأَنَّهَا صَلاةٌ فِي وَقْتٍ , إِذَا زَالَ لَمْ تُصَلَّ فِي غَيْرِهِ ؛ لأَنَّ أَصْلَهَا لَيْسَ بِفَرْضٍ , وَلَوْ تَجَلَّى أَكْثَرُهَا , وَبَقِيَ مِنْهَا شَيْءٌ صَلَّى , وَلَوْ دَخَلَ فِي الصَّلاةِ ثُمَّ تَجَلَّتْ مِنْ مَكَانِهَا أَوْ بَعْدَ ذَلِكَ مَضَى لِصَلاتِهِ ؛ لأَنَّهُ دَخَلَ فِيهَا فِي وَقْتٍ أُمِرَ أَنْ يُصَلِّيَ فِيهِ وَيُتِمَّهَا كَمَا كَانَ يُتِمُّهَا لَوْ لَمْ تَنْجَلِ , وَلَوْ كُسِفَتْ فَغَابَتِ الشَّمْسُ وَهِيَ كَاسِفَةٌ , وَقَدْ فَرَّطَ فِي الصَّلاةِ فِي النَّهَارِ وَلَمْ يُصَلِّ صَلاةَ الْكُسُوفِ لِلشَّمْسِ فِي اللَّيْلِ , وَيُصَلِّيهَا فِي النَّهَارِ مَا كَانَتْ كَاسِفَةً , الْقَمَرُ فِي كُلِّ مَا وَصَفْنَا فِي الشَّمْسِ مِنَ الصَّلاةِ . وَفِي قَوْلِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي حَدِيثِ مَالِكٍ : " إِنَّ الشَّمْسَ وَالْقَمَرَ آيَتَانِ مِنْ آيَاتِ اللَّهِ , لا يَخْسِفَانِ لِمَوْتِ أَحَدٍ وَلا لِحَيَاتِهِ , فَإِذَا رَأَيْتُمْ ذَلِكَ , فَاذْكُرُوا اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ " دَلِيلٌ عَلَى أَنَّ الصَّلاةَ فِي كُسُوفِ الْقَمَرِ كَهِيَ فِي كُسُوفِ الشَّمْسِ ؛ لأَنَّهُ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَمَرَ بِذِكْرِ اللَّهِ عِنْدَ كُسُوفِهَا أَمْرًا وَاحِدًا , وَقَدْ يَذْكُرُ اللَّهَ فَيَفْزَعُ إِلَيْهِ بِنَوْعٍ مِنْ أَعْمَالِ الْبِرِّ , فَلَمَّا فَزِعَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَى الصَّلاةِ عِنْدَ كُسُوفِ الشَّمْسِ كَانَ الذِّكْرُ الَّذِي أَمَرَ بِهِ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عِنْدَ كُسُوفِ الشَّمْسِ وَالْقَمَرِ الذِّكْرَ لِيُصَلَّى لِلَّهِ عَزَّ وَجَلَّ . وَهَذَا يُشْبِهُ مَعْنَى قَوْلِ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ : قَدْ أَفْلَحَ مَنْ تَزَكَّى وَذَكَرَ اسْمَ رَبِّهِ فَصَلَّى مَعَ أَنَّ حَدِيثَ سُفْيَانَ يُبَيِّنُ أَنَّهُ أَمَرَ بِالصَّلاةِ عِنْدَ كُسُوفِ الشَّمْسِ وَالْقَمَرِ , وَأَمْرُهُ كَفِعْلِهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ . فَحَدِيثُ ابْنِ أَبِي يَحْيَى يُبَيِّنُ أَنَّهُ صَلَّى فِي كُسُوفِ الْقَمَرِ . وَقَدْ حَضَرْتُ مِنْ فُقَهَائِنَا مَنْ يُصَلِّي عِنْدَ كُسُوفِ الْقَمَرِ وَيَأْمُرُ بِهِ الْوُلاةَ , وَيُصَلِّي مَعَهُمْ حَدَّثَنَا أَحْمَدُ قَالَ : سَمِعْتُ الْمُزَنِيَّ يَقُولُ : قَالَ مُحَمَّدُ بْنُ إِدْرِيسَ الشَّافِعِيُّ رَحِمَهُ اللَّهُ : وَلا أَرَى لازِمًا أَنْ يَجْمَعَ صَلاةً عِنْدَ شَيْءٍ مِنَ الآيَاتِ غَيْرَ الْكُسُوفِ , وَقَدْ كَانَتْ آيَاتٌ , مَا عَلِمْنَا رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَمَرَ بِالصَّلاةِ عِنْدَ شَيْءٍ مِنْهَا , وَلا مِنْ خُلَفَائِهِ عَلَيْهِمُ السَّلامُ , وَقَدْ زُلْزِلَتِ الأَرْضُ فِي عَهْدِ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ , فَمَا عَلِمْنَاهُ صَلَّى , وَقَدْ قَامَ خَطِيبًا , فَحَضَّ عَلَى الصَّدَقَةِ , وَأَمَرَ بِالتَّوْبَةِ . وَأَنَا أُحِبُّ لِلنَّاسِ أَنْ يُصَلِّيَ كُلُّ رَجُلٍ مِنْهُمْ مُنْفَرِدًا عِنْدَ الظُّلْمَةِ وَالزَّلْزَلَةِ وَشِدَّةِ الرِّيحِ وَالْخَسْفِ وَانْتِشَارِ النُّجُومِ وَغَيْرِ ذَلِكَ مِنَ الآيَاتِ وَقَدْ رَوَى الْبَصْرِيُّونَ أَنَّ ابْنَ عَبَّاسٍ صَلَّى بِهِمْ فِي زَلْزَلَةٍ , وَإِنَّمَا تَرَكْنَا ذَلِكَ لِمَا وَصَفْنَا مِنْ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَمْ يَأْمُرْ بِجَمْعِ الصَّلاةِ إِلا عِنْدَ الْكُسُوفِ , وَأَنَّهُ لَمْ يُحْفَظْ أَنَّ عُمَرَ عَلَيْهِ السَّلامُ صَلَّى عِنْدَ الزَّلْزَلَةِ .
نوید مجید طیب
صفوان بن عبداللہ بن صفوان رحمہ اللہ سے روایت ہے انہوں نے سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہ کو دیکھا وہ مکہ میں زمزم کے کنویں پر (اکیلے ہی) نماز کسوف دو رکعت چار رکوعات کے ساتھ اداء فرما رہے تھے۔ امام شافعی رحمہ اللہ نے فرمایا کہ یہ ابن عباس رضی اللہ عنہ نے اکیلے اس لیے نماز اداء فرمائی کیونکہ امام نے نماز نہ پڑھائی تھی اگر امام پڑھاتا تو اس کے ساتھ پڑھتے۔ اسی طرح لیث بن سعد رحمہ اللہ نے مکہ میں دیکھا کہ امام صلاۃ کسوف نہیں پڑھاتے تھے تو جماعت نہیں ہوتی تھی اور انہوں نے ذکر کیا کہ بعض لوگ عصر کے بعد کھڑے ہو کر دعا فرما رہے ہوتے تھے۔ اس واقعہ کو بنیاد بنا کر جو صلاۃ عصر کے بعد صلاۃ کسوف پڑھنے کے منکر ہیں اُن کو لازم آتا ہے کہ وہ طواف کی دو رکعات تو پڑھتے ہیں ! اسی طرح لازمی نماز بھی پڑھ لیتے (جیسے نماز قضاء وغیرہ) ہیں۔ اُن کو پتہ ہونا چاہیے کہ اہل مکہ نے جو با جماعت صلاۃ الکسوف چھوڑی تھی وہ اس وقت کے حکمران سے بچنے کے لیے ایسا کیا تھا حکمران اس کا قائل نہیں تھا اس زمانے کا حکمران دینی معاملات میں کھلواڑ کرتا رہتا تھا۔ ایوب بن موسیٰ رحمہ اللہ کے مدنی اصحاب کا مذہب ہے کہ عصر اور فجر کے بعد طواف وغیرہ کے بھی نوافل نہیں پڑھنے چاہئیں لیکن ان پر بھی یہ اعتراض وارد ہوتا ہے کہ پھر فوت شدہ نماز اور نماز جنازہ کیوں ان اوقات میں پڑھتے ہو؟؟ امام شافعی رحمہ اللہ کا مسلک یہی ہے کہ سببی نماز کسی بھی وقت اداء کی جاسکتی ہے، جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ممنوعہ اوقات میں نماز پڑھنے سے منع کیا ہے وہ سببی ولازمی کے علاوہ ہے یعنی عام نوافل وغیرہ سے متعلق نہی ہے۔ امام صاحب کہتے ہیں کہ میری رائے کے مطابق چھوٹی بستیاں ، دیہات اور مسافر لوگ بھی صلاۃ کسوف با جماعت یا اکیلے پڑھیں ، اہل امصار بھی ایسا کریں اگر اُن کو امام میسر نہیں الا یہ کہ تقیہ کرتے ہوئے یعنی حاکم کے فتنہ سے ڈر کر چھوڑ دیں تو اور بات ہے۔ اور سورج و چاند کے گرہن کے مسائل ایک جیسے ہیں البتہ سورج گرہن چونکہ دن کو ہوتا تو قرأت تھوڑی آہستہ اور چاند گرہن رات کو ہوتا ہے تو قرأت اونچی کرنی چاہیے۔ امام شافعی رحمہ اللہ کا کہنا ہے کہ نماز کسوف شروع کرتے ہوئے تکبیر کہے پھر دعا استفتاء پھر فاتحہ پھر تقریبا سورۃ بقرہ جتنی لمبی قرأت پھر لمبارکوع جو کہ سورۃ بقرہ کے نصف برابر ہو کرے پھر رکوع سے اٹھ کر دوبارہ سورۃ فاتحہ پھر تقریباً دوسو آیات پڑھے پھر پہلے رکوع سے چھوٹا رکوع کرے، پھر سجدہ کرے پھر دوسری رکعت میں ایسا ہی کرے البتہ دوسری رکعت کے قیام پہلی رکعت کے قیام سے چھوٹے ہونے چاہئیں پھر تشہد پڑھے اور سلام پھیر دے۔ اگر نماز کسوف میں بھول ہو جائے تو دوسری نمازوں کی طرح سلام پھیرنے سے قبل سجدہ سہو کرے۔ اگر نماز کسوف گرہن ختم ہونے سے قبل پوری ہو جائے تو میرا فتویٰ یہ نہیں کہ دوبارہ نماز پڑھنا شروع کر دے۔ ہاں اگر بعد میں بھی لوگ منفرد طور پر نوافل اداء کرتے ہیں تو اُن کی مرضی ہے۔ اگر گرہن لگا لیکن بندہ آئیں بائیں شائیں کرتا رہا پھر گرہن ختم ہو گیا تو گرہن ختم ہونے کے بعد اس پر نماز نہیں کیونکہ اس نماز کا وقت نکل گیا ہے نماز بغیر وقت کے نہیں پڑھے گا کیونکہ اصلاً صلاۃ کسوف فرض نہیں۔ اگر اکثر گرہن ختم ہو گیا اور تھوڑا باقی ہے تو بھی نماز پڑھ لے۔ اگر دوران نماز گرہن ختم ہو گیا تو نماز پوری کرے کیونکہ نماز کی شروعات وقت میں ہوئی تھی۔ اگر گرہن لگتے ہی سورج غروب ہو جائے تو نماز نہ پڑھے کیونکہ سورج گرہن کی نماز رات کی نماز نہیں بلکہ دن میں پڑھنی ہے جب تک گرہن ہے۔ اور یہی احکام چاند کے بھی ہیں کیونکہ حدیث میں ہے سورج اور چاند اللہ کی نشانیوں میں سے دو نشانیاں ہیں جن کا تعلق کسی کی موت وحیات سے نہیں جب تم ان کو دیکھو اللہ کا ذکر کرو۔ تو یہ حدیث اس بات کی دلیل ہے کہ چاند گرہن پر بھی نماز ہے کیونکہ دونوں نشانیوں کے بعد ایک ہی حکم دیا کہ ذکر کرو نماز پڑھو۔ اللہ کا ذکر اللہ کی طرف رجوع کرنا ہے نیکی کے اعمال کر کے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب گرہن دیکھ کر گھبرائے تو نماز کا حکم دیا یہ حکم حکم قرآنی کی طرح ہے۔ ﴿قَدْ أَفْلَحَ مَنْ تَزَكَّى وَذَكَرَ اسْمَ رَبِّهِ فَصَلَّى﴾ [العلى : 14-15] حدیث سفیان رحمہ اللہ میں بیان ہوا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے کسوف شمس و قمر میں نماز کا حکم دیا آپ کا حکم آپ کے عمل کی طرح ہے۔ ابن ابی یحییٰ رحمہ اللہ کی روایت میں ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے چاند گرہن پر نماز پڑھی ، ہمارے فقہاء کسوف قمر پر نماز پڑھتے ہیں اور گورنر کو بھی حکم دیتے اور اُن کے ساتھ یہ نماز پڑھتے رہے۔ امام شافعی رحمہ اللہ کا مسلک یہ ہے کہ گرہن کے علاوہ اگر کوئی نشانی ظاہر ہو تو با جماعت نماز لازم نہیں، دیگر نشانیاں عہد نبوی صلی اللہ علیہ وسلم میں ظاہر ہوتی رہیں آپ نے کسی اور نشانی پر نماز کا حکم نہیں دیا اور نہ آپ کے بعد خلفاء نے ایسا کیا۔ عہد فاروقی میں زلزلہ آیا لیکن ہمارے علم میں نہیں کہ انہوں نے نماز پڑھی بلکہ خطبہ دیا صدقہ کی ترغیب دی اور توبہ کا حکم دیا۔ شافعی رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ مجھے پسند ہے کہ اندھیرا، زلزلہ، آندھی ، خسف اور ستارے گرنے پر یا اس طرح کی دوسری نشانیوں کے ظہور پر آدمی اکیلے نماز پڑھے با جماعت نہ پڑھے۔ مصریوں نے روایت کیا ہے کہ ابن عباس رضی اللہ عنہ نے زلزلہ کے موقع پر اُن کو جماعت کرائی امام شافعی رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ ہم نے اس پر عمل ترک کیا کیونکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے صرف کسوف کے موقع پر جماعت کرائی ، اور نہ ہی عمر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ انہوں نے زلزلہ کے موقع پر کوئی جماعت کرائی۔
وضاحت:
➊ مسائل کی وضاحت تو امام شافعی رحمہ اللہ نے خود ہی شرح و بسط کے ساتھ فرمائی ہے۔ حدیث بالا سے معلوم ہوا کہ اگر سنت پر عمل حکمران یا امام نہ بھی کریں تو فرداً فرداً ہی سنت کو زندہ رکھنا چاہیے۔
➋ یہ بھی معلوم ہوا کہ مکہ اور مدینہ کے امام کا بھی عمل اسی وقت قابل حجت ہے جب سنت کے مطابق ہوگا۔
➌ حکمران کے فتنہ سے بچنے کے لیے کبھی مسنون عمل کو فرداً فرداً بھی اداء کیا جا سکتا ہے۔
حوالہ حدیث السنن المأثورة / باب ما جاء في صلاة الكسوف / حدیث: 54
تخریج حدیث السنن الكبرى للبيهقى، 3/342، والمعرفة السنن والآثار له، رقم: 1977؛ مسند الشافعي، رقم: 547، اسناده ضعیف لضعف شيخ الشافعي۔