کتب حدیثالسنن المأثورةابوابباب: نماز خوف کا بیان
حدیث نمبر: 59
أَنْبَأَنَا مَالِكُ بْنُ أَنَسٍ ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ رُومَانَ ، عَنْ صَالِحِ بْنِ خَوَّاتٍ ، عَمَّنْ صَلَّى مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَوْمَ ذَاتِ الرِّقَاعِ صَلاةَ الْخَوْفِ , " أَنَّ طَائِفَةً صَفَّتْ مَعَهُ , وَطَائِفَةً وِجَاهَ الْعَدُوِّ , فَصَلَّى بِالَّذِينَ مَعَهُ رَكْعَةً , ثُمَّ ثَبَتَ قَائِمًا " , وَأَتَمُّوا لأَنْفُسِهِمْ , ثُمَّ انْصَرَفُوا , فَصَفُّوا وِجَاهَ الْعَدُوِّ , وَجَاءَتِ الطَّائِفَةُ الأُخْرَى " فَصَلَّى بِهِمُ الرَّكْعَةَ الَّتِي بَقِيَتْ مِنْ صَلاتِهِ , ثُمَّ ثَبَتَ جَالِسًا , وَأَتَمُّوا لأَنْفُسِهِمْ , ثُمَّ سَلَّمَ بِهِمْ " .
نوید مجید طیب
صالح بن خوات اس صحابی رضی اللہ عنہ سے روایت کرتے ہیں جنہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ غزوہ ذات الرقاع میں نماز خوف پڑھی تھی کہ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کا ایک گروہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پیچھے کھڑا ہوا جبکہ دوسرا دشمن کے سامنے، جو صحابہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ تھے انہوں نے ایک رکعت پڑھی دوسری رکعت میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے قیام لمبا رکھا صحابہ رضی اللہ عنہم پیچھے اپنے طور پر دوسری رکعت پوری کر کے دشمن کے سامنے صف بستہ ہو گئے پھر دوسرا گروہ آیا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اُن کو ایک بقیہ رکعت پڑھائی پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے تشہد کی دعائیں لمبی کر دیں حتی کہ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم دوسری رکعت پوری کر کے تشہد میں بیٹھ گے پھر اکٹھا سلام پھیرا۔
وضاحت:
➊ حدیث بالا میں صلاۃ الخوف کی جو صورت بیان ہوئی اس سے یہ بات واضح ہوتی ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ہر ایک گروہ کو ایک ایک رکعت پڑھائی اور ایک رکعت انہوں نے اپنے طور پر پڑھی، پہلے گروہ نے خود سلام پھیرا جبکہ دوسرے گروہ نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ سلام پھیرا۔
➋ غزوہ ذات الرقاع 7 ہجری کو غزوہ خیبر کے بعد ہوا تھا۔
«عمن صلى مع رسول الله صلى الله عليه وسلم» سے مراد راجح قول کے مطابق صالح بن خوات کے والد صحابی رسول خوات بن جبیر رضی اللہ عنہ ہیں جیسا کہ ابن حجر رحمہ اللہ نے ابن مندہ کے حوالہ سے بیان کیا ہے۔ [دیکھئے: بلوغ المرام، کتاب الصلاة، باب الخوف]
حوالہ حدیث السنن المأثورة / باب ما جاء في صلاة الخوف / حدیث: 59
تخریج حدیث صحيح مسلم، المساجد ومواضع الصلاة، باب صلاة الخوف، رقم : 842۔
حدیث نمبر: 60
وَأَخْبَرَنِي بَعْضُ أَصْحَابِنَا , عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ بْنِ حَفْصٍ ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ ، عَنِ الْقَاسِمِ بْنِ مُحَمَّدٍ ، عَنْ صَالِحِ بْنِ خَوَّاتِ بْنِ جُبَيْرٍ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِثْلَ مَعْنَى حَدِيثِ مَالِكٍ , عَنْ يَزِيدَ بْنِ رُومَانَ .
نوید مجید طیب
سیدنا صالح بن خوات بن جبیر رضی اللہ عنہ نبی کریم ﷺ سے حدیث مالک کی طرح یزید بن رومان سے بیان کرتے ہیں۔
وضاحت:
➊ اہل سیر و مغازی نے چار مقامات کا ذکر کیا ہے جہاں پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے نماز خوف پڑھائی: ذات الرقاع، بطن نخل، عسفان اور ذی قرد۔
➋ نماز وہ فریضہ ہے جو حالت جنگ میں بھی معاف نہیں نماز خوف حضر وسفر جہاں بھی دشمن کا خوف ہو پڑھی جاسکتی ہے ارشادِ باری تعالی ہے: ﴿وَإِذَا ضَرَبْتُمْ فِي الْأَرْضِ فَلَيْسَ عَلَيْكُمْ جُنَاحٌ أَن تَقْصُرُوا مِنَ الصَّلَوةِ إِنْ خِفْتُمْ أَن يَفْتِنَكُمُ الَّذِينَ كَفَرُوا إِنَّ الْكَفِرِينَ كَانُوا لَكُمْ عَدُوًّا مُّبِينًا﴾ [النساء: 101]
"اور جب تم زمین میں سفر کرو تو تم پر کوئی گناہ نہیں کہ تم نماز قصر کر لو، اگر تمھیں ڈر ہو کہ کافر (حملہ کر کے) تمھیں فتنے میں ڈال دیں گے، بے شک کافر تمھارے کھلے دشمن ہیں۔" [سنن ابی داود: 1240]
مروان بن حکم رحمہ اللہ نے سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے دریافت کیا، کیا آپ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ نماز خوف ادا کی؟ تو انہوں نے فرمایا: ہاں۔
➌ صلاۃ الخوف کی کئی صورتیں ہیں جن کو مفصل شروحات میں دیکھا جائے۔ اگر جنگ جاری ہو نماز خوف کی کوئی صورت بھی ممکن نہ ہو تو ﴿فَرِجَالاً أَوْ رُكْبَانًا﴾ جس حالت میں ہیں نماز پڑھ سکتے ہیں بغیر قبلہ کے ہی پڑھ لیں۔
➍ اگر اوپر سے تیر یا گولے مسلسل برس رہے ہیں تو غزوہ احزاب کی طرح قضا و جمع بھی کی جا سکتی ہیں کیونکہ ایسی صورت میں سوائے جمع کرنے کے اور کوئی حل نہیں ہے۔
حوالہ حدیث السنن المأثورة / باب ما جاء في صلاة الخوف / حدیث: 60
تخریج حدیث مسند الشافعی، رقم: 370؛ معرفة السنن والآثار للبيهقی: 1828۔
حدیث نمبر: 61
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ حَسَّانَ , عَنِ اللَّيْثِ بْنِ سَعْدٍ ، عَنْ بُكَيْرِ بْنِ الأَشَجِّ ، عَنْ نَابِلٍ ، صَاحِبِ الْعَبَّاسِ , عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ ، عَنْ صُهَيْبٍ ، قَالَ : " مَرَرْتُ بِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , فَسَلَّمْتُ عَلَيْهِ , فَرَدَّ إِلَيَّ إِشَارَةً , وَقَالَ : لا أَعْلَمُ إِلا أَنَّهُ قَالَ : قَدْ أَشَارَ بِأُصْبُعِهِ .
نوید مجید طیب
سیدنا صہیب رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ میں رسول اللہ ﷺ کے پاس سے گزرا آپ ﷺ نماز پڑھ رہے تھے میں نے سلام کیا آپ ﷺ نے اشارہ سے جواب دیا راوی حدیث ابن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں میرے علم کے مطابق سیدنا صہیب رضی اللہ عنہ نے کہا: آپ ﷺ نے اپنی انگلی کے اشارے سے جواب دیا۔
وضاحت:
➊ نمازی کو سلام مناسب آواز میں کیا جاسکتا ہے، نمازی اشارے سے جواب دے گا جس کے چار طریقے احادیث میں آئے ہیں۔
(1) ہاتھ سے اشارہ کر کے۔
(2) ہتھیلی سے اشارہ کر کے۔
(3) انگلی سے اشارہ کر کے۔
(4) سر سے اشارہ کر کے۔
➋ اسلام میں پہلے نماز میں ایک دوسرے سے کلام کرنا بھی جائز تھا، نماز میں وعلیکم السلام کہہ کر جواب دیا جاتا تھا پھر جب کلام منع ہوا تو صرف اشارہ سے جواب دینے کی اجازت باقی رہی۔ [حدیث نمبر: 62]
➌ بعض الناس نے عبادات کے لیے خود ساختہ اصول وضوابط بنائے۔ اس لیے بہت سی سنتوں پر عمل کرنے سے محروم ہیں۔ احادیث صحیحہ کی روشنی میں اشارہ سے جواب دینا درست ہے۔
➍ سیدنا صہیب رومی رضی اللہ عنہ مشہور و معروف جلیل القدر صحابی ہیں آپ سابقون الاولون میں سے ہیں بدر واحد، خندق اور دیگر غزوات میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ شریک رہے آپ نے 38 ھ کو مدینہ منورہ میں وفات پائی۔
حوالہ حدیث السنن المأثورة / باب ما جاء في صلاة الخوف / حدیث: 61
تخریج حدیث سنن ابی داؤد، الصلاة، باب رد السلام فی الصلاة، رقم: 925؛ سنن ترمذی، الصلاة، باب ماجاء فی الاشارة فی الصلاة، رقم: 367؛ سنن نسائی، السهو، باب رد السلام بالاشارة فی الصلاة، رقم: 1186۔
حدیث نمبر: 62
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ حَسَّانَ ، عَنِ اللَّيْثِ بْنِ سَعْدٍ ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ الْمَكِّيِّ ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، قَالَ : بَعَثَنِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِحَاجَةٍ , ثُمَّ أَدْرَكَتْهُ وَهُوَ يَسِيرُ , فَسَلَّمْتُ عَلَيْهِ , فَأَشَارَ إِلَيَّ , فَلَمَّا فَرَغَ دَعَانِي , فَقَالَ : " إِنَّكَ سَلَّمْتَ عَلَيَّ آنِفًا وَأَنَا أُصَلِّي " , وَهُوَ مُوَجَّهٌ حِينَئِذٍ قِبَلَ الْمَشْرِقِ .
نوید مجید طیب
سیدنا جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ نبی ﷺ نے مجھے کسی کام سے بھیجا جب میں واپس آیا تو آپ ﷺ کوچ کر رہے تھے میں نے سلام کیا آپ ﷺ نے ہاتھ سے اشارہ کیا (حالت نماز میں) جب آپ ﷺ نماز سے فارغ ہوئے مجھے بلایا اور فرمایا: ”تو نے ابھی سلام کیا تھا اور میں نماز میں تھا“ آپ ﷺ مشرق کی طرف جارہے تھے۔
وضاحت:
➊ یہ سفر کی بات ہے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نفلی نماز سواری پر ادا کر رہے تھے۔
➋ سواری پر نماز شروع کرتے ہوئے قبلہ رخ ہونا چاہیے پھر جدھر بھی رخ رہے جائز ہے۔
➌ یہ نہی کلام فی الصلاۃ کا ابتدائی دور تھا سیدنا جابر رضی اللہ عنہ نہ سمجھ پائے اس لیے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کو وضاحت فرمادی۔
➍ شریعت اسلامیہ میں نسخ موجود ہے۔
➎ نماز میں گفتگو ممنوع ہے۔
➏ سواری پر نفلی نماز ادا کرنے کی سنت کو بھی زندہ کرنا چاہیے۔
حوالہ حدیث السنن المأثورة / باب ما جاء في صلاة الخوف / حدیث: 62
تخریج حدیث صحیح مسلم، المساجد ومواضع الصلاة باب تحریم الکلام فی الصلاة ونسخ ما کان من اباحة، رقم: 540۔
حدیث نمبر: 63
حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ , عَنْ عَاصِمٍ ، عَنْ أَبِي وَائِلٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ ، قَالَ : كُنَّا نُسَلِّمُ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ فِي الصَّلاةِ قَبْلَ أَنْ نَأْتِيَ أَرْضَ الْحَبَشَةِ , فَيَرُدُّ عَلَيْنَا وَهُوَ فِي الصَّلاةِ , فَلَمَّا رَجَعْنَا مِنَ أَرْضِ الْحَبَشَةِ أَتَيْتُهُ لأُسَلِّمَ عَلَيْهِ , فَوَجَدْتُهُ يُصَلِّي , فَسَلَّمْتُ عَلَيْهِ , فَلَمْ يَرُدَّ عَلَيَّ , فَأَخَذَنِي مَا قَرُبَ وَمَا بَعُدَ , فَجَلَسْتُ , حَتَّى إِذَا قَضَى صَلاتَهُ أَتَيْتُهُ , فَقَالَ : " إِنَّ اللَّهَ يُحْدِثُ مِنْ أَمْرِهِ مَا شَاءَ , وَإِنَّ مِمَّا أَحْدَثَ أَنَّهُ قَضَى أَنْ لا تَتَكَلَّمُوا فِي الصَّلاةِ " .
نوید مجید طیب
سیدنا عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ہم رسول اللہ ﷺ کو ہجرت حبشہ سے پہلے حالت نماز میں سلام کہتے تھے آپ ﷺ نماز کی حالت میں ہی جواب دے دیتے، جب ہم حبشہ سے واپس آئے تو میں خدمت رسالت میں حاضر ہوا تاکہ آپ ﷺ کو سلام کرلوں میں نے آپ ﷺ کو حالت نماز میں پایا، سلام کیا لیکن جواب نہ ملا مجھے کئی قسم کے خیالات نے آگھیرا، میں بیٹھ گیا یہاں تک کہ آپ ﷺ نے نماز پوری کر لی، تو میں آپ ﷺ کے پاس آیا آپ ﷺ نے فرمایا: ”اللہ اپنے دین میں جو چاہتا ہے نیا حکم صادر فرماتا ہے، اللہ تعالیٰ نے نیا حکم دیا ہے کہ نماز میں بات چیت نہ کی جائے۔“
حوالہ حدیث السنن المأثورة / باب ما جاء في صلاة الخوف / حدیث: 63
تخریج حدیث سنن النسائی، السهو، باب الکلام فی الصلاة، رقم: 1221؛ مسند احمد: 6/46، رقم: 3757۔
حدیث نمبر: 64
أَنْبَأَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ ، عَنْ زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ ، " أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ دَخَلَ مَسْجِدًا يُصَلِّي فِيهِ , وَدَخَلَتْ عَلَيْهِ رِجَالٌ مِنَ الأَنْصَارِ يُسَلِّمُونَ عَلَيْهِ فَسَأَلْتُ صُهَيْبًا كَيْفَ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَرُدُّ عَلَيْهِمْ ؟ فَقَالَ : كَانَ يَرُدُّ عَلَيْهِمُ إِشَارَةً " .
نوید مجید طیب
سیدنا عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے رسول اللہ ﷺ مسجد میں داخل ہو کر نماز پڑھنے لگے، انصار صحابہ رضی اللہ عنہم آئے آپ ﷺ کو سلام کہتے میں نے سیدنا صہیب رضی اللہ عنہ سے پوچھا: رسول اللہ ﷺ ان کو سلام کا جواب (حالت نماز میں) کیسے دیتے تھے؟ انہوں نے فرمایا: آپ ﷺ اشارے سے جواب دیتے تھے۔
حوالہ حدیث السنن المأثورة / باب ما جاء في صلاة الخوف / حدیث: 64
تخریج حدیث سنن ابن ماجہ، الصلاة باب المصلی لیسلم علیہ کیف یرد، رقم: 1017؛ سنن نسائی، السهو، باب رد السلام بالاشارة فی الصلاة، رقم: 1187۔
حدیث نمبر: 65
أَنْبَأَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ دِينَارٍ ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ أَبِي رَبَاحٍ ، قَالَ : كَانَ الرَّجُلُ إِذَا جَاءَ وَقَدْ صَلَّى النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ شَيْئًا مِنْ صَلاتِهِ سَأَلَ , فَإِذَا أُخْبِرَ كَمْ سُبِقَ صَلَّى الَّذِي سُبِقَ , ثُمَّ دَخَلَ مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي صَلاتِهِ , فَأَتَى ابْنُ مَسْعُودٍ , فَدَخَلَ مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي صَلاتِهِ وَلَمْ يَسْأَلْ , فَلَمَّا صَلَّى النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَامَ فَقَضَى مَا بَقِيَ , فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " إِنَّ ابْنَ مَسْعُودٍ قَدْ سَنَّ لَكُمْ سُنَّةً فَاتَّبِعُوهَا " . قَالَ سُفْيَانُ : وَقَالَ غَيْرُ عَمْرٍو : هُوَ مُعَاذٌ . قَالَ الْمُزَنِيُّ : يُحْتَمَلُ أَنْ يَكُونَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أُمِرَ أَنْ يَسُنَّ هَذِهِ السُّنَّةَ , فَوَافَقَ ذَلِكَ فِعْلَ ابْنِ مَسْعُودٍ , وَذَلِكَ أَنَّ بِالنَّاسِ حَاجَةً إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي كُلِّ مَا سَنَّ , وَلَيْسَ بِهِمْ حَاجَةٌ إِلَى غَيْرِهِ , فَالسُّنَّةُ سُنَّتُهُ , لا تَجِبُ وَلا تَكُونُ مِنْ غَيْرِهِ .
نوید مجید طیب
سیدنا عطاء بن ابی رباح رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ (ابتداء اسلام میں) جب کوئی آدمی آتا رسول اللہ ﷺ نماز پڑھا رہے ہوتے کچھ رکعت گزر چکی ہوتیں آدمی دوسرے نمازی سے پوچھ لیتا (کہ کونسی رکعت چل رہی ہے) جب اسے بتایا جاتا تو جلدی سے سابقہ رکعات پڑھ کر نبی ﷺ کے ساتھ مل جاتا، سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ آئے تو جماعت کے ساتھ شامل ہو گئے یہ نہ پوچھا کتنی پڑھی جا چکی ہیں جب نبی ﷺ نے سلام پھیرا تو ابن مسعود رضی اللہ عنہ نے کھڑے ہو کر بقیہ نماز پوری کر لی، تو نبی ﷺ نے فرمایا: ”اے صحابہ! ابن مسعود رضی اللہ عنہ نے تمہارے لیے ایک طریقہ اختیار کیا تم بھی ایسے ہی کیا کرو۔“ (یعنی جس حال میں امام کو پاؤ اس کے ساتھ مل جاؤ بقیہ نماز بعد میں پوری کرو بجائے اس کے ہر ایک اپنی گذشتہ رکعات پوری کر کے شامل ہو کہ کوئی قیام میں کوئی رکوع میں کوئی سجدہ میں پڑھا ہو ایک نظم و ضبط ہونا چاہیے۔) راوی سفیان کہتے ہیں کہ عمرو بن دینار کے علاوہ راویوں نے سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ کی جگہ سیدنا معاذ رضی اللہ عنہ کا نام لیا ہے۔ (یعنی وہ صحابی ابن مسعود رضی اللہ عنہ نہیں بلکہ معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ تھے۔)
وضاحت:
➊ مذکورہ احادیث میں اس بات کا ذکر ہے کہ ابتداء اسلام میں نماز میں کلام سے منع نہ کیا گیا تھا، اسلام کے احکام چونکہ آہستہ آہستہ نازل ہوئے ہیں جوں جوں حکم آتا گیا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم رہ نمائی کرتے گئے سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ یا سیدنا معاذ رضی اللہ عنہ کے فعل کو چونکہ حدیث تقریری سے اولا تائید ملی پھر قولی تائید ملی تو فی الحقیقت وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا ہی فرمان ہو گیا یہ نہیں کہا جا سکتا کہ سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ کی ہر بات سنت کا درجہ رکھتی ہے۔ امتی کی بات نہ سنت ہوتی ہے نہ دین جب تک کہ اس پر زبان رسالت سے مہر نہ ثبت ہو۔
➋ ان احادیث میں کوفیوں کا بھی رد ہے جو ﴿وَإِذَا قُرِئَ الْقُرْآنُ﴾ مکی آیت سے فاتحہ نہ پڑھنے پر استدلال کرتے ہیں آیت صحیح ہے البتہ استدلال باطل ہے کیونکہ مدینہ میں بھی ابتداء اسلام میں نماز میں کلام کی اجازت بھی تھی، سلام کا جواب دیا جاتا، رکعات کی تعداد تک بتائی جاتی تو مکی آیت نے اس کلام کو تو نہ روکا سورۃ فاتحہ خلف الامام کو کیسے روک دیا؟
خود بدلتے نہیں، قرآن کو بدل دیتے ہیں
ہوئے کس درجہ فقیہانِ حرم بے توفیق
➌ سیدنا معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ کی روایت کے لیے دیکھئے [سنن ابی داؤد: 506، 507]
حوالہ حدیث السنن المأثورة / باب ما جاء في صلاة الخوف / حدیث: 65
تخریج حدیث السنن المأثورة عن الشافعی للمزنی، رقم: 64؛ نصب الرایة للزیلعی 2/273۔
حدیث نمبر: 66
أَنْبَأَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيِّبِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " إِذَا أَتَيْتُمُ الصَّلاةَ فَلا تَأْتُوهَا وَأَنْتُمْ تَسْعَوْنَ , وَأْتُوهَا وَأَنْتُمْ تَمْشُونَ , وَعَلَيْكُمُ السَّكِينَةُ لَهَا , مَا أَدْرَكْتُمْ فَصَلُّوا , وَمَا فَاتَكُمْ فَاقْضُوا " .
نوید مجید طیب
سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”جب تم باجماعت نماز کی طرف آؤ تو مت دوڑو عام چال میں آؤ، سکون و وقار کو لازم پکڑو، جو جماعت کے ساتھ نماز مل جائے پڑھ لو جو رہ جائے بعد میں پوری کر لو۔“
وضاحت:
➊ مسجد اللہ کا گھر ہے جس کا ادب و احترام لازم ہے اس میں دوڑنا نامناسب ہے لہذا اپنی رکعت بچانے کے لیے مسجد کی بے حرمتی کرنا، دوڑ کر نمازیوں کے خشوع میں خلل ڈالنا کسی صورت مناسب نہیں۔ [صحیح بخاری: 636، صحیح مسلم: 602]
﴿فاقضوا﴾ سے معلوم ہوتا ہے کہ آدمی جب نماز میں داخل ہوتا ہے تو وہ اس کی پہلی رکعت ہوتی ہے اور جو سلام کے بعد پڑھتا ہے وہ آخری رکعات ہوتی ہیں لیکن یہ سادہ سی بات ان لوگوں کو کون سمجھائے جن کے ہاں نہ ترتیب وضوء ضروری اور نہ نماز میں رکعات کی ترتیب ضروری سمجھتے ہیں۔
عقل کے اندھوں کو سب الٹا نظر آتا ہے
لیلی نظر آتا ہے مجنوں نظر آتی ہے
حوالہ حدیث السنن المأثورة / باب ما جاء في صلاة الخوف / حدیث: 66
تخریج حدیث صحیح بخاری، الاذان، باب لا یسعی الی الصلاة، رقم: 636؛ صحیح مسلم، المساجد ومواضع الصلاة، باب استحباب اتیان الصلاة بوقار وسکینة، رقم: 602۔
حدیث نمبر: 67
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ بْنِ أَبِي فُدَيْكٍ ، عَنِ ابْنِ أَبِي ذِئْبٍ ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيِّبِ ، وَأَبِي سَلَمَةَ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " إِذَا سَمِعْتُمُ الإِقَامَةَ فَامْشُوا وَعَلَيْكُمُ السَّكِينَةُ فَمَا أَدْرَكْتُمْ فَصَلُّوا وَمَا فَاتَكُمْ فَأَتِمُّوا " .
نوید مجید طیب
سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”جب اقامت سنو تو نماز کے لیے چل پڑو اور تم وقار کو لازمی پکڑو جو امام کے ساتھ مل جائے پڑھ لو جو فوت ہو جائے بعد میں پوری کر لو۔“
وضاحت:
➊ معلوم ہوا جب اقامت کی آواز سنائی دے صف بندی شروع کر دینی چاہیے، «حي على الصلاة» کے الفاظ سن کر اٹھنا اور صف بندی کرنا خود ساختہ طریقہ ہے۔
➋ نماز ذہنی و جسمانی تسکین کے لیے ہے لہذا نمازی کو نماز کے لیے پرسکون ہو کر آنا چاہیے۔
حوالہ حدیث السنن المأثورة / باب ما جاء في صلاة الخوف / حدیث: 67
تخریج حدیث صحیح بخاری، الاذان، باب لا یسعی الی الصلاة، رقم: 636؛ صحیح مسلم، المساجد ومواضع الصلاة، باب استحباب اتیان الصلاة بوقار وسکینة، رقم: 602۔
حدیث نمبر: 68
أَنْبَأَنَا مَالِكُ بْنُ أَنَسٍ ، عَنِ الْعَلاءِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، عَنْ أَبِيهِ ، وَإِسْحَاقَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، أَنَّهُمَا أَخْبَرَاهُ أَنَّهُمَا سَمِعَا أَبَا هُرَيْرَةَ ، يَقُولُ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " إِذَا ثُوِّبَ بِالصَّلاةِ فَلا تَأْتُوهَا وَأَنْتُمْ تَسْعَوْنَ وَأْتُوهَا وَعَلَيْكُمُ السَّكِينَةُ مَا أَدْرَكْتُمْ فَصَلُّوا وَمَا فَاتَكُمْ فَأَتِمُّوا فَإِنَّ أَحَدَكُمْ فِي صَلاةٍ مَا كَانَ يَعْمِدُ إِلَى الصَّلاةِ " .
نوید مجید طیب
سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”جب اقامت کہی جائے تو اس حال میں نہ آؤ کہ دوڑ لگائی ہو بلکہ اس حال میں آؤ کہ باوقار، پرسکون ہو جو رکعت پالو پڑھ لو جو رہ جائے (بعد میں) پوری کرو، بے شک تم میں سے کوئی جب نماز کا ارادہ کر کے آتا ہے تو وہ نماز میں ہی ہوتا ہے۔“
حوالہ حدیث السنن المأثورة / باب ما جاء في صلاة الخوف / حدیث: 68
تخریج حدیث صحیح مسلم، المساجد ومواضع الصلاة، باب استحباب اتیان الصلاة بوقار وسکینة، رقم: 602۔
حدیث نمبر: 69
أَنْبَأَنَا عَبْدُ الْوَهَّابِ بْنُ عَبْدِ الْمَجِيدِ الثَّقَفِيُّ , عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ ، قَالَ : أَخْبَرَنِي مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، أَنَّهُ سَمِعَ عَمْرَةَ ، تُحَدِّثُ عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا أَنَّهَا كَانَتْ تَقُولُ : " كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُصَلِّي رَكْعَتَيِ الْفَجْرِ فَيُخَفِّفُهُمَا حَتَّى إِنِّي لأَقُولُ هَلْ : قَرَأَ فِيهِمَا بِأُمِّ الْقُرْآنِ " .
نوید مجید طیب
ام المومنین سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ وہ کہتی تھیں: رسول اللہ ﷺ فجر کی دو سنتیں (اذان کے بعد) اتنی ہلکی سی پڑھتے میں دل میں کہتی کیا آپ ﷺ نے ان رکعات میں سورۃ فاتحہ بھی پڑھی ہے؟
وضاحت:
➊ فجر کی سنتوں سے متعلق نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: «لهما أحب الي من الدنيا جميعا» یہ دو سنتیں مجھے ساری دنیا سے محبوب ہیں۔ [صحیح مسلم: 725]
➋ اس حدیث مبارکہ سے یہ مراد نہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم فاتحہ نہیں پڑھتے تھے بلکہ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے مبالغہ یہ بات کہی، کیونکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم عام نماز میں خصوصا تہجد میں بہت لمبا قیام کرتے اور سورۃ فاتحہ بھی انتہائی ٹھہر ٹھہر کر پڑھتے تھے اگر ان کا مقارنہ فجر کی سنتوں سے کیا جائے تو یہی خیال آئے گا جو امی جی کو آیا ہے۔
➌ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سنت فجر کی پہلی رکعت میں سورہ کافرون اور دوسری رکعت میں سورۂ اخلاص پڑھتے تھے۔ [صحیح مسلم: 726]
➍ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں نبی صلی اللہ علیہ وسلم سنت فجر کی پہلی رکعت میں سورۃ بقرہ کی آیت: ﴿قُولُوا آمَنَّا بِاللَّهِ وَمَا أُنزِلَ إِلَيْنَا﴾ [البقرة: 136] اور دوسری رکعت میں سورۃ آل عمران کی آیت: ﴿تَعَالَوْا إِلَىٰ كَلِمَةٍ سَوَاءٍ بَيْنَنَا وَبَيْنَكُمْ﴾ [آل عمران: 64] پڑھتے تھے۔ [صحیح مسلم: 727]
حوالہ حدیث السنن المأثورة / باب ما جاء في صلاة الخوف / حدیث: 69
تخریج حدیث صحیح مسلم، المساجد ومواضع الصلاة، باب استحباب رکعتی سنة الفجر، رقم: 724۔
حدیث نمبر: 70
أَنْبَأَنَا عَبْدُ الْوَهَّابِ بْنُ عَبْدِ الْمَجِيدِ الثَّقَفِيُّ ، عَنْ حُمَيْدٍ الطَّوِيلِ , عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَقْبَلَ عَلَى أَصْحَابِهِ بِوَجْهِهِ بَعْدَمَا أُقِيمَتِ الصَّلاةُ قَبْلَ أَنْ يُكَبِّرَ فَقَالَ : " أَقِيمُوا صُفُوفَكُمْ وَتَرَاصُّوا ، إِنِّي لأَرَاكُمْ خَلْفَ ظَهْرِي " .
نوید مجید طیب
سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے رسول اللہ ﷺ اقامت کے بعد تکبیر تحریمہ سے قبل اپنا چہرہ صحابہ کی طرف کر کے متوجہ ہوئے تو فرمایا: ”صفیں درست کرو، اور آپس میں مل کر کھڑا ہو جاؤ میں تمہیں اپنے پیچھے سے دیکھتا ہوں۔“
وضاحت:
➊ امام کو صفیں درست کرائے بغیر جماعت نہیں کرانی چاہیے۔
➋ صفیں درست کرنے کا طریقہ یہ ہے کہ پاؤں کے ساتھ پاؤں کندھے کے ساتھ کندھا ٹخنے کے ساتھ ٹخنہ ملایا جائے پاؤں کو کندھوں کی چوڑائی کے برابر کھولنا چاہیے نہ زیادہ نہ کم۔
➌ ایک صف سے دوسری صف کے درمیان بھی اتنا ہی فاصلہ ہو جتنا کہ سجدہ ہو جائے۔
➍ سیدنا براء بن عازب رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم صفوں کے درمیان ایک طرف سے دوسری طرف چلتے اس دوران آپ ہمارے سینوں اور کندھوں پر ہاتھ پھیرتے اور فرماتے «لا تختلفوا فتختلف قلوبكم» آگے پیچھے مت کھڑے ہوں ورنہ تمہارے دلوں میں بھی اختلاف آجائے گا۔ [سنن ابی داؤد: 664]
➎ جہاں دیگر بہت سی سنتیں متروک ہو چکیں صف بندی کے سلسلہ میں یہ اہتمام بھی عرب و عجم سے رخصت ہو رہا ہے۔ اللہ رب العزت ہمیں سنتوں پر عمل پیرا رکھے۔ «آمين!»
➏ یہ بھی معلوم ہوا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پیچھے بھی اسی طرح دیکھتے تھے جیسے آگے دیکھتے تھے یہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا معجزہ تھا، مہر نبوت سے دیکھنا ہو تب بھی اور اگر ویسے اللہ دیکھا دے تب بھی یہ علم غیب نہیں بلکہ معجزہ رسول صلی اللہ علیہ وسلم ہے۔
حوالہ حدیث السنن المأثورة / باب ما جاء في صلاة الخوف / حدیث: 70
تخریج حدیث صحیح بخاری، الاذان باب اقبال الامام علی الناس عند تسویة الصفوف، رقم: 719۔
حدیث نمبر: 71
أَنْبَأَنَا عَبْدُ الْوَهَّابِ بْنُ عَبْدِ الْمَجِيدِ الثَّقَفِيُّ ، عَنْ أَيُّوبَ السَّخْتِيَانِيِّ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ سِيرِينَ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ، قَالَ : كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَدْخُلُ عَلَى أُمِّ سُلَيْمٍ فَتَبْسُطُ لَهُ نِطَعًا فَيَقِيلُ عَلَيْهِ فَتَأْخُذُ مِنْ عَرَقِهِ فَتَجْعَلُهُ فِي طِيبِهَا وَتَبْسُطُ لَهُ الْخُمْرَةَ فَيُصَلِّي عَلَيْهَا .
نوید مجید طیب
سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ جب سیدہ ام سلیم رضی اللہ عنہا کے گھر جاتے تو وہ چمڑے کا بستر آپ کے لیے بچھا دیتی تھیں، آپ ﷺ اس پر قیلولہ فرماتے تو سیدہ ام سلیم رضی اللہ عنہا آپ ﷺ کا پسینہ (جمع کر کے شیشی میں لے لیتی تھیں) جس کو اپنی خوشبو میں ملا لیتی تھیں اور آپ ﷺ کے لیے چٹائی بچھا دیتی تھیں جس پر آپ ﷺ نماز پڑھتے تھے۔
وضاحت:
➊ سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ کے گھرانے کو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ خاص عقیدت تھی۔
➋ سیدہ ام سلیم رضی اللہ عنہا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے مبارک پسینہ کو "سُک" نامی خوشبو میں ملاتی اور بستر پر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے جھڑے ہوئے بال بھی جمع کر لیتی تھی، سیدنا انس رضی اللہ عنہ نے اس سک کو سنبھال کر رکھا جب ان کی وفات کا وقت ہوا تو انہوں نے وصیت فرمائی کہ ان کی حنوط میں اس کو ملایا جائے پھر اسی طرح کیا گیا۔ [صحیح بخاری: 6281]
سیدنا انس رضی اللہ عنہ کے گھرانے سے بعض افراد نے تبرک کے لیے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے مبارک بال حاصل بھی کیے تھے۔ [صحیح بخاری: 170]
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ام سلیم رضی اللہ عنہا کے گھر گئے ام سلیم رضی اللہ عنہا گھر نہیں تھی ادھر چمڑے کے بستر پر آپ صلی اللہ علیہ وسلم سو گئے کسی نے ام سلیم رضی اللہ عنہا کو بتایا آپ کے گھر رسول صلی اللہ علیہ وسلم آئے ہیں اور آرام فرما رہے ہیں وہ آئیں دیکھا کہ آپ کا پسینہ چمڑے کے بستر پر جمع ہے سیدہ ام سلیم رضی اللہ عنہا نے خوشبوؤں کی ڈبیہ کھولی اور بستر سے پسینہ ڈبیہ میں ڈالنے لگی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم گھبرا کر اٹھے فرمایا سیدہ ام سلیم رضی اللہ عنہا یہ کیا کر رہی ہو؟ سیدہ ام سلیم رضی اللہ عنہا نے کہا: ہم اپنے بچوں کے لیے برکت کی امید رکھتے ہیں آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تو نے درست کہا۔ [صحیح مسلم: 2331]
➌ یہ انبیاء علیہم السلام کا خاصہ ہے کہ ان کے مبارک اجسام اور ان کے استعمال میں رہنے والی اشیاء سے برکت حاصل کی جاتی ہے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حجۃ الوداع کے موقع پر سیدنا ابوطلحہ رضی اللہ عنہ کو اپنے مبارک سر کی دائیں جانب کے کٹے ہوئے مبارک بال دیئے اور پھر بائیں جانب کے بالوں سے متعلق حکم دیا کہ انہیں تقسیم کر دیں۔ [صحیح مسلم: 1305]
➍ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے مبارک پسینہ سے خوشبو آتی تھی، یہ برکت صرف رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ خاص ہے کسی امتی سے تبرکات حاصل کرنا امتی کو نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے برابر کرنا ہے جو کہ سراسر جہالت ہے۔
➎ معلوم ہوا تعلق والوں کے ہاں آنا جانا سنت رسول صلی اللہ علیہ وسلم ہے۔
➏ اپنے گھر کے علاوہ کسی دوسرے کے گھر میں بھی سو جانے میں حرج نہیں۔
➐ دوسروں کے گھر میں جا کر نفلی نماز پڑھنا درست ہے۔
حوالہ حدیث السنن المأثورة / باب ما جاء في صلاة الخوف / حدیث: 71
تخریج حدیث مسند احمد: 59/19 وقال الارنوؤط اسناده صحيح على شرط الشيخين ، السنن الكبرى للبيهقي : 421/2۔
حدیث نمبر: 72
أَنْبَأَنَا عَبْدُ الْوَهَّابِ بْنُ عَبْدِ الْمَجِيدِ الثَّقَفِيُّ ، عَنْ أَيُّوبَ السَّخْتِيَانِيِّ ، عَنْ أَبِي قِلابَةَ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ : أُمِرَ بِلالٌ أَنْ يَشْفَعَ الأَذَانَ ، وَيُوتِرَ الإِقَامَةَ " .
نوید مجید طیب
سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ سیدنا بلال رضی اللہ عنہ کو حکم دیا گیا کہ اذان دوہری اور اقامت اکہری کہیں۔
وضاحت:
➊ اذان کے دوہرے الفاظ ہیں اور اقامت سنگل ہے۔
➋ اذان ٹھہر ٹھہر کر کہی جاتی ہے اور اقامت جلدی۔
➌ اذان کے وقت کانوں میں انگلیاں ہونی چاہیے جبکہ اقامت کے لیے یہ تقاضا نہیں ہے۔
«حي على الصلاة» پر صرف گردن بدن کے بغیر دائیں جانب گھومانی چاہیے اور «حي على الفلاح» پر بائیں جانب۔
➎ اقامت کا بھی زیادہ حقدار وہی ہے جس نے اذان کہی۔
➏ بغیر عذر کے اذان کے بعد مسجد سے نہیں نکلنا چاہیے۔
➐ اذان سفر میں بھی دے کر نماز پڑھنی چاہیے ہاں اگر پاس آبادی ہے جس کی اذان وہاں گونج چکی ہے تو اذان نہ بھی دے تو کوئی حرج نہیں۔
➑ امام ضامن ہے یعنی اسے نماز کے آداب، طہارت، سنن، خشوع وخضوع کا خیال رکھنا چاہیے اور مؤذن کو امین کہا گیا ہے اس کی اذان پر اعتماد کر کے سحری افطاری، اور نماز ادا کی جاتی ہے لہذا اسے اوقات کا خیال رکھنا چاہیے۔
➒ ترجیع والی اذان کے 19 کلمات ہیں اس کو ہمارے عرف میں دوہری اذان کہتے ہیں اس کا طریقہ یہ ہے کہ مؤذن دوسری دفعہ جب «اشهد ان محمداً رسول الله» کہہ لے پھر دوبارہ سے «اشهد أن لا اله الا الله» سے شروع کر کے آخر تک جائے یہ سیدنا ابو محذورہ رضی اللہ عنہ کی اذان کے نام سے مشہور ہے، جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مکہ میں سکھائی اور وہ وہاں اسی طرح اذان دیتے تھے اگر اذان سیدنا ابو محذورہ رضی اللہ عنہ والی ہو تو اقامت سترہ کلمات پر مشتمل دوہری ہوگی۔ [سنن ابی داؤد: 502]
➓ بعض الناس نے سیدنا ابو محذورہ رضی اللہ عنہ کی اقامت لے لی لیکن ابو محذورہ رضی اللہ عنہ والی اذان سے انکار کر دیا اللہ تعالیٰ انہیں احادیث و سنن ماننے کی توفیق عطا فرمائے۔ «آمين!»
⓫ مؤذن ایسا شخص ہونا چاہیے جس کی آواز بلند اور خوبصورت ہو بعض بزرگ حضرات کو ضد نہیں کرنی چاہیے جن کی نہ تجوید اچھی ہو اور نہ آواز کہ ایک آواز کے ساتھ دس آوازیں اور نکلیں۔
⓬ جب اذان مشروع نہیں تھی مشورہ کیا گیا لوگوں کو کیسے اکٹھا کیا جائے ایک رائے آئی کہ نرسنگا یہودیوں کی طرح صور پھونکا جائے دوسری رائے آئی کہ عیسائیوں کی طرح ناقوس دو لکڑیاں آپس میں مار کر آواز پیدا کی جائے اہل کتاب عبادات کے لیے ایسے ہی جمع کرتے تھے ایک رائے آگ جلانے کی پیش ہوئی، ایک رائے اعلان کرانے کی کچھ عرصہ اس پر عمل ہوا اعلان ہوتا (الصلاة جامعة الصلاة جامعة) اب نماز کسوف وخسوف کے لیے اس طرح اعلان کیا جاتا ہے۔ حتی کہ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ اور سیدنا عبد اللہ بن زید بن عبد ربہ رضی اللہ عنہ کو فرشتے نے خواب میں آکر اذان سکھائی چونکہ محض امتی کے خواب سے شرعی حکم ثابت نہیں ہوسکتا تو جب اس خواب کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے درست قرار دیا اور اس پر عمل کا حکم دیا تو حکم شرعی بن گیا۔
حوالہ حدیث السنن المأثورة / باب ما جاء في صلاة الخوف / حدیث: 72
تخریج حدیث صحیح بخاری، الاذان، باب الاذان مثنى مثنى، رقم : 605، صحیح مسلم، الصلاة، باب الامر بشفع الاذان و ايتار الاقامة، رقم : 838۔
حدیث نمبر: 73
أَنْبَأَنَا عَبْدُ الْوَهَّابِ بْنُ عَبْدِ الْمَجِيدِ الثَّقَفِيُّ ، عَنْ أَيُّوبَ السَّخْتِيَانِيِّ ، قَالَ : قَالَ أَبُو قِلابَةَ الْجَرْمِيُّ حَدَّثَنَا مَالِكُ بْنُ الْحُوَيْرِثِ أَبُو سُلَيْمَانَ ، قَالَ : أَتَيْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي أُنَاسٍ وَنَحْنُ شَبَبَةٌ مُتَقَارِبُونَ فَأَقَمْنَا عِنْدَهُ عِشْرِينَ لَيْلَةً فَكَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَحِيمًا فَلَمَّا ظَنَّ أَنَّا قَدِ اشْتَهَيْنَا أَهْلِينَا وَاشْتَقْنَا سَأَلَنَا عَمَّنْ تَرَكْنَا بَعْدَنَا فَأَخْبَرْنَاهُ ، فَقَالَ : " ارْجِعُوا إِلَى أَهْلِيكُمْ فَأَقِيمُوا فِيهِمْ وَعَلِّمُوهُمْ وَأْمُرُوهُمْ " ، وَذَكَرَ أَشْيَاءَ أَحْفَظُهَا وَلا أَحْفَظُهَا : " وَصَلُّوا كَمَا رَأَيْتُمُونِي أُصَلِّي فَإِذَا حَضَرَتِ الصَّلاةُ فَلْيُؤَذِّنْ لَكُمْ أَحَدُكُمْ وَلْيَؤُمَّكُمْ أَكْبَرُكُمْ " .
نوید مجید طیب
سیدنا مالک بن حویرث رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ میں رسول اللہ ﷺ کے پاس اپنے قبیلے کے لوگوں میں آیا، ہم ہم عمر نوجوان تھے، ہم نے بیس راتیں آپ ﷺ کے پاس قیام کیا (دین سیکھا)۔ رسول اللہ ﷺ بڑے رحم دل اور نرم مزاج تھے، جب آپ ﷺ کو محسوس ہوا کہ ہمیں گھر یاد آ رہا ہے تو ہم سے گھر والوں کے بارے میں پوچھا، ہم نے اہل و عیال کا بتایا تو آپ ﷺ نے فرمایا: ”اپنے اہل و عیال میں واپس جاؤ، ان میں رہ کر انہیں دین سکھاؤ اور دین کا حکم کرو۔“ چند اشیاء (دینی امور) کا انہوں نے ذکر کیا کچھ یاد ہیں اور بعض یاد نہیں، اور فرمایا: ”نماز اس طریقے سے پڑھو جیسے مجھے پڑھتے دیکھتے ہو۔ جب نماز کا وقت ہو جائے تو تم میں سے ایک اذان دے اور جو بڑا ہو وہ جماعت کرائے۔“
وضاحت:
➊ قبل ازیں اس کی تفصیل گزر چکی ہے کہ سیدنا مالک بن حویرث رضی اللہ عنہ بیس دن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو نماز پڑھتے دیکھتے رہے واپس جاتے ہوئے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے حکم ملا کہ نماز اسی طریقے سے پڑھنا جیسے مجھے دیکھ کر جا رہے ہو اور لوگوں کو اس کی تعلیم بھی دینا انہوں نے پھر ایسا ہی کیا مساجد میں عوام اکٹھی کر کے عملی طور پر نماز محمدی کی انہیں تعلیم دیتے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ایسے نماز پڑھتے تھے۔
➋ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم رحیم شفیق اور مزاج شناس تھے۔
➌ مہمانوں سے ان کے احوال کے علاوہ اہل خانہ کی خبر دریافت کرنا بھی سنت ہے۔
➍ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے دینی تعلیم سیکھتے اور پھر اس کے داعی اور مبلغ بن کر اپنے علاقوں کو لوٹ جاتے تھے۔
➎ امامت کا حقدار علم میں بڑا آدمی ہے اگر سب اس صلاحیت میں برابر ہوں تو عمر میں بڑے آدمی کو ترجیح حاصل ہوگی۔
حوالہ حدیث السنن المأثورة / باب ما جاء في صلاة الخوف / حدیث: 73
تخریج حدیث صحیح بخاری، الاذان، باب الاذان للمسافر، رقم : 631، مسلم، المساجد ومواضع الصلاة، باب من احق بالامامة، رقم : 674۔