حدیث نمبر: 37
أَنْبَأَنَا مَالِكُ بْنُ أَنَسٍ ، عَنْ نَافِعٍ ، أَنَّ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عُمَرَ أَذَّنَ بِالصَّلاةِ فِي لَيْلَةٍ ذَاتِ بَرْدٍ وَرِيحٍ , فَقَالَ : أَلا صَلُّوا فِي الرِّحَالِ , ثُمّ قَالَ : إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يَأْمُرُ الْمُؤَذِّنَ إِذَا كَانَتْ لَيْلَةٌ بَارِدَةٌ ذَاتُ مَطَرٍ يَقُولُ : " أَلا صَلُّوا فِي الرِّحَالِ " .
نوید مجید طیب
نافع رحمہ اللہ سے روایت ہے سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے ایک ٹھنڈی سرد رات میں اذان دی تو کہا «أَلَا صَلُّوا فِي الرِّحَالِ» خبر دار اپنی قیام گاہوں میں ہی نماز ادا کر لو پھر فرمایا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سردی و بارش کی رات مؤذن کو حکم دیتے تھے کہ وہ یہ الفاظ کہے: «أَلَا صَلُّوا فِي الرِّحَالِ»
حدیث نمبر: 38
أَنْبَأَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ ، عَنْ أَيُّوبَ ، عَنْ نَافِعٍ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يَأْمُرُ مُنَادِيَهُ فِي اللَّيْلَةِ الْمَطِيرَةِ أَوِ اللَّيْلَةِ الْبَارِدَةِ ذَاتِ رِيحٍ : " أَلا صَلُّوا فِي رِحَالِكُمْ " .
نوید مجید طیب
عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم بارش والی رات یا سرد آندھی والی رات مؤذن کو حکم فرماتے کہ اعلان کرے «أَلَا صَلُّوا فِي الرِّحَالِ» خبر دار لوگو! گھروں میں ہی نماز پڑھ لو۔
وضاحت:
➊ بارش سردی کی وجہ سے باجماعت نماز سے رخصت حاصل ہے، آئمہ محدثین امام ابو داؤد رحمہ اللہ، امام نسائی رحمہ اللہ وغیرہ نے «أَلَا صَلُّوا فِي الرِّحَالِ» کے الفاظ سے یہی استدلال کیا ہے، بارش میں نمازیں جمع کرانے کی بجائے یہ اعلان بھی کیا جا سکتا ہے کہ گھر میں ہی ادا کر لو۔
➋ سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے مقام ضجنان جو ایک پہاڑی کا نام ہے مکہ سے ایک منزل دور ہے اس مقام پر اذان دے کر یہ حدیث بیان کی۔ [صحیح بخاری: 632]
➌ «أَلَا صَلُّوا فِي الرِّحَالِ» کے الفاظ «حي على الصلاة» اور «حي على الفلاح» کی جگہ دو دو دفعہ پڑھے جا سکتے ہیں یا اذان کے بعد ان الفاظ سے اعلان کیا جا سکتا ہے جیسا کہ حدیث کا ظاہر اس بات پر دلالت کرتا ہے واللہ اعلم۔
➋ سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے مقام ضجنان جو ایک پہاڑی کا نام ہے مکہ سے ایک منزل دور ہے اس مقام پر اذان دے کر یہ حدیث بیان کی۔ [صحیح بخاری: 632]
➌ «أَلَا صَلُّوا فِي الرِّحَالِ» کے الفاظ «حي على الصلاة» اور «حي على الفلاح» کی جگہ دو دو دفعہ پڑھے جا سکتے ہیں یا اذان کے بعد ان الفاظ سے اعلان کیا جا سکتا ہے جیسا کہ حدیث کا ظاہر اس بات پر دلالت کرتا ہے واللہ اعلم۔
حدیث نمبر: 39
أَنْبَأَنَا مَالِكُ بْنُ أَنَسٍ ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ يَزِيدَ اللَّيْثِيِّ ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " إِذَا سَمِعْتُمُ النِّدَاءَ فَقُولُوا مِثْلَ مَا يَقُولُ الْمُؤَذِّنُ " .
نوید مجید طیب
سیدنا ابوسعید الخدری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جب تم اذان سنو تو جو کلمات مؤذن کہتا ہے تم بھی کہو۔“
حدیث نمبر: 40
وَأَنْبَأَنَا عَبْدُ الْمَجِيدِ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ بْنِ أَبِي رَوَّادٍ ، عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ ، قَالَ : أَخْبَرَنِي عَمْرُو بْنُ يَحْيَى الأَنْصَارِيُّ ، أَنَّ عِيسَى بْنَ عُمَرَ ، أَخْبَرَهُ , أَنَّ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عَلْقَمَةَ بْنِ وَقَّاصٍ قَالَ : إِنِّي لَعِنْدَ مُعَاوِيَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ إِذْ أَذَّنَ مُؤَذِّنُهُ , فَقَالَ مُعَاوِيَةُ كَمَا قَالَ مُؤَذِّنُهُ , حَتَّى إِذَا بَلَغَ حَيَّ عَلَى الصَّلاةِ قَالَ : " لا حَوْلَ وَلا قُوَّةَ إِلا بِاللَّهِ " , وَلَمَا قَالَ : حَيَّ عَلَى الْفَلاحِ ، قَالَ : " لا حَوْلَ وَلا قُوَّةَ إِلا بِاللَّهِ " , ثُمَّ قَالَ بَعْدَ ذَلِكَ مَا قَالَ الْمُؤَذِّنُ , ثُمَّ قَالَ : سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ مِثْلَ ذَلِكَ .
نوید مجید طیب
سیدنا علقمہ بن وقاص رحمہ اللہ سے روایت ہے وہ سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ کے پاس تھے کہ اُن کے مؤذن نے اذان کہی تو سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ اسی طرح کہتے تھے جس طرح مؤذن نے کہا حتی کہ جب مؤذن نے «حَيَّ عَلَى الصَّلَاةِ»، «حَيَّ عَلَى الْفَلَاحِ» کہا تو معاویہ رضی اللہ عنہ نے «لَا حَوْلَ وَلَا قُوَّةَ إِلَّا بِاللَّهِ» کہا پھر باقی کلمات اسی طرح اداء کیے جیسے مؤذن نے کہے پھر سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ نے فرمایا : ”میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو ایسے ہی کہتے سنا تھا۔“
وضاحت:
➊ شریعت اسلامیہ نے اذان کا جواب دینے کی تاکید کی ہے لہذا اس کا اہتمام کرنا چاہیے۔
➋ اذان شعائر اسلام میں سے ہے یہ مسلم معاشرے کی پہچان ہے۔ مسلم آبادی کو اس کا ہر صورت اہتمام کرنا چاہیے۔
➌ «حى على الصلاة» اور «حي على الفلاح» کی آواز سن کر «لَا حَوْلَ وَلا قُوَّةَ إِلَّا بِاللَّهِ» کہنا چاہیے۔ جس کا مطلب ہے "گناہ سے بچنا اور نیکی کرنا اللہ تعالی کی توفیق کے بغیر ممکن نہیں۔"
➍ فجر کی اذان میں «الصلاة خير من النوم» کی جگہ یہی الفاظ دوہرائے جائیں گے۔
➎ اذان کا جواب دینے کے بعد درود ابراہیمی پڑھا جائے گا پھر دعائے وسیلہ پڑھی جائے گی جس موحد نے یہ کام ہمیشگی کے ساتھ کیا اس کے لیے شفاعت رسول صلی اللہ علیہ وسلم لازم ہو جائے گی۔[صحیح مسلم: 384]
➏ اذان کے بعد «أشهد أن لا إله إلا الله وحده لا شريك له وأن محمدا عبده ورسوله، رضيت بالله ربا وبمحمد رسولا وبالإسلام دينا» پڑھنے والے کے لیے گناہوں کی بخشش کا پروانہ جاری ہوتا ہے۔ [صحیح مسلم: 386]
➐ دعاء وسیلہ میں مسنون الفاظ پر ہی اکتفاء کرنا چاہیے «والدرجة الرفيعه» کا اضافہ خود ساختہ ہے۔ اس کا کوئی ثبوت نہیں ہے۔
➑ ﴿وإنك لا تخلف الميعاد﴾ سنن بیہقی میں الفاظ آئے ہیں لیکن شاذ اور سنداً نا قابل حجت ہیں لہذا یہ الفاظ بھی نہیں کہنے چاہئیں صرف دعا کے وہی الفاظ پڑھنے چاہئیں جو صحیح سند کے ساتھ حدیث میں موجود ہیں۔
➒ اذان کا جواب ساتھ ساتھ دینا چاہیے بعض علماء کا کہنا ہے کہ اگر کسی عذر کے باعث بر وقت جواب نہیں دیا تو اذان کے آخر میں جواب دے کر دعا پڑھ لی جائے۔ ہمارے استاذ محترم شیخ الحدیث مولانا محمد اکرم جمیل رحمہ اللہ ایک دفعہ ہمیں درس دے رہے تھے اس دوران اذان ہونے لگ گئی انہوں نے اذان ختم ہونے اور درس مکمل کرنے پر پوری اذان کا جواب دیا اور دعائیں پڑھیں۔ بہتر و افضل یہی ہے کہ بروقت جواب دیا جائے۔ (واللہ اعلم!)
➓ حالت حیض، جنابت، بے وضو ہونا اذان کا جواب دینے میں مانع نہ ہے۔
➋ اذان شعائر اسلام میں سے ہے یہ مسلم معاشرے کی پہچان ہے۔ مسلم آبادی کو اس کا ہر صورت اہتمام کرنا چاہیے۔
➌ «حى على الصلاة» اور «حي على الفلاح» کی آواز سن کر «لَا حَوْلَ وَلا قُوَّةَ إِلَّا بِاللَّهِ» کہنا چاہیے۔ جس کا مطلب ہے "گناہ سے بچنا اور نیکی کرنا اللہ تعالی کی توفیق کے بغیر ممکن نہیں۔"
➍ فجر کی اذان میں «الصلاة خير من النوم» کی جگہ یہی الفاظ دوہرائے جائیں گے۔
➎ اذان کا جواب دینے کے بعد درود ابراہیمی پڑھا جائے گا پھر دعائے وسیلہ پڑھی جائے گی جس موحد نے یہ کام ہمیشگی کے ساتھ کیا اس کے لیے شفاعت رسول صلی اللہ علیہ وسلم لازم ہو جائے گی۔[صحیح مسلم: 384]
➏ اذان کے بعد «أشهد أن لا إله إلا الله وحده لا شريك له وأن محمدا عبده ورسوله، رضيت بالله ربا وبمحمد رسولا وبالإسلام دينا» پڑھنے والے کے لیے گناہوں کی بخشش کا پروانہ جاری ہوتا ہے۔ [صحیح مسلم: 386]
➐ دعاء وسیلہ میں مسنون الفاظ پر ہی اکتفاء کرنا چاہیے «والدرجة الرفيعه» کا اضافہ خود ساختہ ہے۔ اس کا کوئی ثبوت نہیں ہے۔
➑ ﴿وإنك لا تخلف الميعاد﴾ سنن بیہقی میں الفاظ آئے ہیں لیکن شاذ اور سنداً نا قابل حجت ہیں لہذا یہ الفاظ بھی نہیں کہنے چاہئیں صرف دعا کے وہی الفاظ پڑھنے چاہئیں جو صحیح سند کے ساتھ حدیث میں موجود ہیں۔
➒ اذان کا جواب ساتھ ساتھ دینا چاہیے بعض علماء کا کہنا ہے کہ اگر کسی عذر کے باعث بر وقت جواب نہیں دیا تو اذان کے آخر میں جواب دے کر دعا پڑھ لی جائے۔ ہمارے استاذ محترم شیخ الحدیث مولانا محمد اکرم جمیل رحمہ اللہ ایک دفعہ ہمیں درس دے رہے تھے اس دوران اذان ہونے لگ گئی انہوں نے اذان ختم ہونے اور درس مکمل کرنے پر پوری اذان کا جواب دیا اور دعائیں پڑھیں۔ بہتر و افضل یہی ہے کہ بروقت جواب دیا جائے۔ (واللہ اعلم!)
➓ حالت حیض، جنابت، بے وضو ہونا اذان کا جواب دینے میں مانع نہ ہے۔
حدیث نمبر: 41
حَدَّثَنَا حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا حُمَيْدٌ ، قَالَ : سَمِعْتُ أَنَسَ بْنَ مَالِكٍ ، يَقُولُ : كَانَ أَبُو بَكْرٍ ، وَعُمَرُ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا " يَفْتَتِحَانِ الْقِرَاءَةَ بِ الْحَمْدُ لِلَّهِ سورة الفاتحة آية 2 .
نوید مجید طیب
سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے سیدنا ابو بکر رضی اللہ عنہ اور سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نماز کی قرآت «الْحَمْدُ لِلَّهِ رَبِّ الْعَالَمِينَ» سے بآواز بلند شروع کرتے۔
حدیث نمبر: 42
أَخْبَرَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ ، عَنْ أَيُّوبَ السَّخْتِيَانِيِّ ، عَنْ قَتَادَةَ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ، قَالَ : " كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَبُو بَكْرٍ , وَعُمَرُ , وَعُثْمَانُ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ يَفْتَتِحُونَ الْقِرَاءَةَ بِ الْحَمْدُ لِلَّهِ رَبِّ الْعَالَمِينَ " .
نوید مجید طیب
سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سیدنا ابو بکر رضی اللہ عنہ ، سیدنا عمر رضی اللہ عنہ اور سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ (جہری) قرآت کا آغاز «الْحَمْدُ لِلَّهِ رَبِّ الْعَالَمِينَ» سے فرماتے تھے۔
حدیث نمبر: 43
وَأَنْبَأَنَا عَبْدُ الْوَهَّابِ بْنُ عَبْدِ الْمَجِيدِ الثَّقَفِيُّ ، عَنْ حُمَيْدٍ الطَّوِيلِ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ، " أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَبَا بَكْرٍ وَعُمَرَ وَعُثْمَانَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ كَانُوا يَفْتَتِحُونَ الصَّلاةَ بِ الْحَمْدُ لِلَّهِ رَبِّ الْعَالَمِينَ سورة الفاتحة آية 2 .
نوید مجید طیب
سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے بے شک نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم، سیدنا ابو بکر رضی اللہ عنہ ، سیدنا عمر رضی اللہ عنہ اور سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ نماز کا (بآواز بلند) آغاز ﴿الْحَمْدُ لِلَّهِ رَبِّ الْعَالَمِينَ﴾ [سورة الفاتحة: 2] سے فرماتے تھے۔
وضاحت:
➊ ایک ہی مفہوم کی دو تین احادیث بعض دفعہ امام صاحب جب اکٹھی لاتے ہیں تو ان کی اسناد مختلف ہوتی ہیں، جن میں کئی علم حدیث سے متعلقہ فنی فوائد ہیں۔ جس سے اہل علم اور اس فن کے ماہرین مستفید و محظوظ ہوتے ہیں۔
➋ ان احادیث میں اس بات کا ذکر ہے کہ امام کو جہری نماز میں قرآت کرتے ہوئے الحمد للہ سے قرآت بآواز بلند شروع کرنی چاہیے قراءت سے ماقبل والی دعا استفتاح اور بسم اللہ آہستہ آواز سے پڑھنی چاہیے یہ مراد نہیں کہ پہلے کچھ نہیں پڑھنا۔
➌ سیدنا انس رضی اللہ عنہ کے بیان کے مطابق نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم، سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ، سیدنا عمر رضی اللہ عنہ اور سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ قراءت فاتحہ کا آغاز الحمد للہ سے کرتے۔ [صحیح بخاری: 743، صحیح مسلم: 399]
صحیح مسلم کی مذکورہ روایت میں یہ بھی ہے کہ قرآت کے اول و آخر بسم اللہ نہیں پڑھتے تھے۔ ایک روایت میں ہے۔ «كانوا يسرون» بسم اللہ سری پڑھتے تھے۔ [صحیح ابن خزیمہ: 491]
ان روایات کا ما حاصل یہ ہے کہ قرآت کے آغاز میں بسم اللہ سرا پڑھتے تھے جہرا نہیں پڑھتے تھے۔ واللہ اعلم بالصواب!
➋ ان احادیث میں اس بات کا ذکر ہے کہ امام کو جہری نماز میں قرآت کرتے ہوئے الحمد للہ سے قرآت بآواز بلند شروع کرنی چاہیے قراءت سے ماقبل والی دعا استفتاح اور بسم اللہ آہستہ آواز سے پڑھنی چاہیے یہ مراد نہیں کہ پہلے کچھ نہیں پڑھنا۔
➌ سیدنا انس رضی اللہ عنہ کے بیان کے مطابق نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم، سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ، سیدنا عمر رضی اللہ عنہ اور سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ قراءت فاتحہ کا آغاز الحمد للہ سے کرتے۔ [صحیح بخاری: 743، صحیح مسلم: 399]
صحیح مسلم کی مذکورہ روایت میں یہ بھی ہے کہ قرآت کے اول و آخر بسم اللہ نہیں پڑھتے تھے۔ ایک روایت میں ہے۔ «كانوا يسرون» بسم اللہ سری پڑھتے تھے۔ [صحیح ابن خزیمہ: 491]
ان روایات کا ما حاصل یہ ہے کہ قرآت کے آغاز میں بسم اللہ سرا پڑھتے تھے جہرا نہیں پڑھتے تھے۔ واللہ اعلم بالصواب!
حدیث نمبر: 44
وَأَنْبَأَنَا وَأَنْبَأَنَا عَبْدُ الْمَجِيدِ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ بْنِ أَبِي رَوَّادٍ ، قَالَ : أَنْبَأَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُثْمَانَ بْنِ خُثَيْمٍ ، أَنَّ أَبَا بَكْرِ بْنَ حَفْصِ بْنِ عُمَرَ ، أَخْبَرَهُ , أَنَّ أَنَسَ بْنَ مَالِكٍ أَخْبَرَهُ ، قَالَ : صَلَّى مُعَاوِيَةُ بِالْمَدِينَةِ صَلاةً فَجَهَرَ فِيهَا بِالْقِرَاءَةِ , فَقَرَأَ فِيهَا : بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ سورة الفاتحة آية 1 لأُمِّ الْقُرْآنِ , وَلَمْ يَقْرَأْ بِهَا لِلسُّورَةِ الَّتِي بَعْدَهَا , حَتَّى قَضَى تِلْكَ الصَّلاةَ , وَلَمْ يُكَبِّرْ حِينَ يَهْوِي سَاجِدًا , حَتَّى قَضَى تِلْكَ الصَّلاةَ , فَلَمَّا نَادَاهُ مَنْ سَمِعَ ذَلِكَ مِنَ الْمُهَاجِرِينَ وَالأَنْصَارِ مِنْ كُلِّ مَكَانٍ : يَا مُعَاوِيَةُ , أَسَرَقْتَ الصَّلاةَ ؟ أَمْ نَسِيتَ ؟ ! قَالَ : فَلَمَّا صَلَّى بَعْدَ ذَلِكَ قَرَأَ : بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ سورة الفاتحة آية 1 , لِلسُّورَةِ الَّتِي بَعْدَ أُمِّ الْقُرْآنِ , وَكَبَّرَ حِينَ يَهْوِي سَاجِدًا . سَمِعْتُ أَحْمَدَ يَقُولُ : سَمِعْتُ الْمُزَنِيَّ يَقُولُ : قَالَ الشَّافِعِيُّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ : قَدْ خُولِفَ ابْنُ أَبِي رَوَّادٍ فِي هَذَا الإِسْنَادِ , وَالْحَدِيثُ صَحِيحٌ .
نوید مجید طیب
سیدنا انس بن مالک رضی اللہ سے روایت ہے سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ نے مدینہ میں ایک جہری نماز پڑھائی تو سورۃ فاتحہ سے پہلے «بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ» پڑھی لیکن فاتحہ کے بعد جو سورۃ پڑھی ، اس کے ساتھ (جہرا) بسم اللہ نہ پڑھی حتی کہ نماز پوری کر دی اور جب سجدہ کے لیے گئے تو (بآواز بلند) اللہ اکبر بھی نہ کہی حتی کہ وہ نماز پوری کی ہر طرف سے مہاجر و انصار نے آوازیں بلند کیں اے معاویہ! نماز کی چوری کی ہے یا بھول گئے ہو؟ سیدنا انس رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ اس کے بعد جو نماز بھی سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ نے پڑھائی اس میں ہر سورۃ کے ساتھ بسم اللہ بھی پڑھی اور سجدہ میں جاتے ہوئے بآواز بلند تکبیر بھی کہی۔
وضاحت:
➊ اس حدیث میں ہر سورۃ سے پہلے جہری بسم اللہ پڑھنے کا ذکر ہے اس مسئلہ میں راجح یہی ہے کہ بسم اللہ فاتحہ کے ساتھ سری پڑھی جائے بقیہ سورتوں کے ساتھ جہری پڑھی جائے۔ اور اگر اونچی پڑھ لی جائے تو اس طرح کی احادیث سے جواز ثابت ہوتا ہے۔ واللہ اعلم۔
➋ اگر امام سے غلطی ہو جائے تو اہل علم مقتدیوں کو اچھے انداز سے آگاہ کرنا چاہیے۔
➌ شرعی امور میں اصلاح کو قبول کر لینا اسلاف امت کا طرز عمل تھا جو مرور زمانہ کے ساتھ ضد، تعصب اور ہٹ دھرمی کی نظر ہوتا جا رہا ہے۔ واضح شرعی نصوص کو دیکھ سن لینے کے باوجود لوگ تقلید جامد چھوڑنے کو تیار نہیں۔ «هداهم الله»
➍ اس حدیث سے صحابہ رضی اللہ عنہم کی جرات اور دین کی حرص بھی معلوم ہوتی ہے کہ وہ سنت رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی کس طرح سے پاسداری کرتے تھے۔
➋ اگر امام سے غلطی ہو جائے تو اہل علم مقتدیوں کو اچھے انداز سے آگاہ کرنا چاہیے۔
➌ شرعی امور میں اصلاح کو قبول کر لینا اسلاف امت کا طرز عمل تھا جو مرور زمانہ کے ساتھ ضد، تعصب اور ہٹ دھرمی کی نظر ہوتا جا رہا ہے۔ واضح شرعی نصوص کو دیکھ سن لینے کے باوجود لوگ تقلید جامد چھوڑنے کو تیار نہیں۔ «هداهم الله»
➍ اس حدیث سے صحابہ رضی اللہ عنہم کی جرات اور دین کی حرص بھی معلوم ہوتی ہے کہ وہ سنت رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی کس طرح سے پاسداری کرتے تھے۔
حدیث نمبر: 45
أَنْبَأَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ ، عَنِ ابْنِ أَبِي ذِئْبٍ ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيِّبِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " إِذَا قُلْتَ لِصَاحِبِكَ : أَنْصِتْ , وَالإِمَامُ يَخْطُبُ فَقَدْ لَغَوْتَ " .
نوید مجید طیب
سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”جب امام خطبہ جمعہ دے رہا ہو (تیرا ساتھی بات کر رہا تھا اور تو اسے خاموش کرانے کے لیے) کہے کہ بھائی خاموش ہو جا تو تو نے لغو بات کی۔“
حدیث نمبر: 46
أَنْبَأَنَا مَالِكُ بْنُ أَنَسٍ ، عَنْ أَبِي الزِّنَادِ ، عَنِ الأَعْرَجِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " إِذَا قُلْتَ لِصَاحِبِكَ : أَنْصِتْ , فَقَدْ لَغَوْتَ " . يُرِيدُ بِذَلِكَ وَالإِمَامُ يَخْطُبُ يَوْمَ الْجُمُعَةِ .
نوید مجید طیب
سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جب تو نے ساتھی کو کہا خاموش رہو تو تو نے بھی لغو بات۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی اس سے مراد دورانِ خطبہ جمعہ بات کرنا ہے۔“
وضاحت:
➊ اس حدیث سے معلوم ہوا کہ دورانِ خطبہ کلام درست نہیں خاموش رہنا واجب ہے۔
➋ امام خاموش کرا سکتا ہے امام کو دوران خطبہ مقتدیوں سے بات کی اجازت ہے جیسا کہ سلیک غطفانی رضی اللہ عنہ سے متعلق بات پیچھے گذر چکی ہے۔ [حدیث نمبر: 18]
➌ خطبہ جمعہ کے دوران ایک بندہ آیا کہ اے اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم! بارش کے لیے دعا فرمائیں آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دعا فرمائی۔ [صحیح بخاری: 1013]
اس سے پتہ چلتا ہے کہ مقتدی بھی بقدر ضرورت امام سے بات کر سکتا ہے۔
➍ خطبہ جمعہ ایک ہفتے بعد آتا ہے جس میں دین سیکھنے کا موقع ملتا ہے اگر اس میں بھی بے جا حرکات کر کے ٹائم ضائع کر دیا جائے تو اس سے بڑی جہالت اور خسارہ کیا ہوسکتا ہے۔
➎ اس حدیث سے دین کے نظم و ضبط کا بھی پتہ چلتا ہے کہ مساجد کا انتظام امام کے ہاتھ میں دیا تاکہ ہر چندہ دینے والا اللہ کو چندہ دے کر رعب لوگوں پر نہ جمائے۔
➏ حدیث سے امام و خطیب کی عظمت بھی واضح ہوتی ہے کہ جب وہ منبر پر خطبہ ارشاد فرما رہا ہو تو اس کے بولنے کے دوران کسی کو بولنے کی اجازت نہیں ہے۔
➐ اسی طرح کنکریوں یا صف کے تنکوں سے کھیلنا بھی لغو قرار دیا گیا ہے جس سے ثواب ضائع ہو جاتا ہے۔
➑ ہر وہ عمل جو خطبہ کے استماع اور انہماک میں خلل ڈالے وہ دوران خطبہ جمعہ ممنوع ہے۔
➒ مسجد نبوی میں خطبہ جمعہ کے دوران میں نے ایک طالب علم کو کانوں سے ہیڈ فون لگائے دیکھا نماز کے بعد میں نے اس سے پوچھا آپ نے خطبہ نہیں سنا؟ اس نے کہا میں آن لائن حرم مکی میں الشیخ سدیس یا شریم کا خطبہ جمعہ سن رہا تھا۔ اس طرح کی حرکات بھی نہیں کرنی چاہئیں، فطری دین میں فطری چیزوں پر ہی اکتفاء کرنا چاہیے۔
➋ امام خاموش کرا سکتا ہے امام کو دوران خطبہ مقتدیوں سے بات کی اجازت ہے جیسا کہ سلیک غطفانی رضی اللہ عنہ سے متعلق بات پیچھے گذر چکی ہے۔ [حدیث نمبر: 18]
➌ خطبہ جمعہ کے دوران ایک بندہ آیا کہ اے اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم! بارش کے لیے دعا فرمائیں آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دعا فرمائی۔ [صحیح بخاری: 1013]
اس سے پتہ چلتا ہے کہ مقتدی بھی بقدر ضرورت امام سے بات کر سکتا ہے۔
➍ خطبہ جمعہ ایک ہفتے بعد آتا ہے جس میں دین سیکھنے کا موقع ملتا ہے اگر اس میں بھی بے جا حرکات کر کے ٹائم ضائع کر دیا جائے تو اس سے بڑی جہالت اور خسارہ کیا ہوسکتا ہے۔
➎ اس حدیث سے دین کے نظم و ضبط کا بھی پتہ چلتا ہے کہ مساجد کا انتظام امام کے ہاتھ میں دیا تاکہ ہر چندہ دینے والا اللہ کو چندہ دے کر رعب لوگوں پر نہ جمائے۔
➏ حدیث سے امام و خطیب کی عظمت بھی واضح ہوتی ہے کہ جب وہ منبر پر خطبہ ارشاد فرما رہا ہو تو اس کے بولنے کے دوران کسی کو بولنے کی اجازت نہیں ہے۔
➐ اسی طرح کنکریوں یا صف کے تنکوں سے کھیلنا بھی لغو قرار دیا گیا ہے جس سے ثواب ضائع ہو جاتا ہے۔
➑ ہر وہ عمل جو خطبہ کے استماع اور انہماک میں خلل ڈالے وہ دوران خطبہ جمعہ ممنوع ہے۔
➒ مسجد نبوی میں خطبہ جمعہ کے دوران میں نے ایک طالب علم کو کانوں سے ہیڈ فون لگائے دیکھا نماز کے بعد میں نے اس سے پوچھا آپ نے خطبہ نہیں سنا؟ اس نے کہا میں آن لائن حرم مکی میں الشیخ سدیس یا شریم کا خطبہ جمعہ سن رہا تھا۔ اس طرح کی حرکات بھی نہیں کرنی چاہئیں، فطری دین میں فطری چیزوں پر ہی اکتفاء کرنا چاہیے۔