حدیث نمبر: 22
أَنْبَأَنَا مَالِكُ بْنُ أَنَسٍ ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ الْمَكِّيِّ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، أَنَّهُ قَالَ : " صَلَّى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الظُّهْرَ وَالْعَصْرَ جَمِيعًا , وَالْمَغْرِبَ وَالْعِشَاءَ جَمِيعًا فِي غَيْرِ خَوْفٍ وَلا سَفَرٍ " , قَالَ مَالِكُ بْنُ أَنَسٍ : أَرَى ذَلِكَ كَانَ فِي الْمَطَرِ .
نوید مجید طیب
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ظہر عصر اور مغرب عشاء ایک ساتھ بغیر خوف اور سفر کے ادا کی۔ سیدنا مالک بن انس رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ میرا خیال ہے ایسا بارش میں ہوا ہے۔
حدیث نمبر: 23
أَنْبَأَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ دِينَارٍ ، قَالَ : أَنْبَأَنَا جَابِرُ بْنُ زَيْدٍ ، أَنَّهُ سَمِعَ ابْنَ عَبَّاسٍ ، يَقُولُ : " صَلَّيْتُ مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِالْمَدِينَةِ ثَمَانِيًا جَمِيعًا وَسَبْعًا جَمِيعًا " . قَالَ : قُلْتُ لأَبِي الشَّعْثَاءِ أَظُنُّهُ أَخَّرَ الظُّهْرَ وَعَجَّلَ الْعَصْرَ , وَأَخَّرَ الْمَغْرِبَ وَعَجَّلَ الْعِشَاءَ , قَالَ : وَأَنَا أَظُنُّ ذَلِكَ .
نوید مجید طیب
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ مدینہ میں رہ کر آٹھ رکعات اکٹھی اور سات رکعات اکٹھی پڑھیں راوی کہتے ہیں میں نے ابو الشعثاء سے کہا: ”میرا خیال ہے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ظہر مؤخر اور عصر متقبل کی اور اسی طرح مغرب مؤخر اور عشاء متجل کی؟“ ابو الشعثاء نے کہا: ”میرا بھی یہی خیال ہے۔“
حدیث نمبر: 24
أَنْبَأَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ : " صَلَّيْتُ مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ثَمَانِيًا جَمِيعًا , وَسَبْعًا جَمِيعًا , قُلْتُ : لِمَ فَعَلَ ذَلِكَ ؟ قَالَ : أَرَادَ أَنْ لا يُحْرِجَ أُمَّتَهُ .
نوید مجید طیب
سیدنا عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ آٹھ رکعات اور سات رکعات (جمع کر کے) پڑھیں راوی کہتے ہیں کہ میں نے ابن عباس رضی اللہ عنہما سے پوچھا: ”ایسا کیوں کیا تھا؟“ تو سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما نے جواب دیا ”تا کہ امت کے لیے آسانی رہے۔“
وضاحت:
➊ اس باب میں حضر میں نمازیں جمع کرنے کا تذکرہ کیا گیا ہے، خلاصۃ القول یہ ہے کہ علماء کا ایک بڑا گروہ اس بات کا قائل ہے کہ بغیر عذر کے نمازوں کو جمع نہیں کیا جا سکتا یعنی حضر میں مقیم آدمی جمع نہیں کر سکتا اور جو شرعی عذر ہیں وہ دشمن کا خوف، بارش یا پھر سفر ہے، ان حضرات نے مذکورہ احادیث کے بارے میں کہا ہے کہ یہ جمع صوری ہے یعنی ظہر مؤخر کر کے آخری وقت اور عصر اپنے پہلے وقت میں ادا کی گئی ہے اسی طرح مغرب و عشاء کا معاملہ ہے اور بعض نے جب یہ دیکھا کہ جمع صوری ہوتی تو ابن عباس رضی اللہ عنہما یہ بیان کرتے جبکہ یہ اصطلاح صوری نکلی ہی کوفہ سے ہے انہوں نے کہا شاید بیماری تھکاوٹ وغیرہ کی وجہ سے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے جمع کی ہیں جس نے بغیر عذر کے کہا وہ اس لیے کہ عام طور پر عذر بارش، سفر اور خوف ہی ہے جب یہ تینوں عذر نہیں تھے تو بغیر عذر کے الفاظ سے تعبیر کر دیا ہے۔ جبکہ دوسرا اہل علم کا گروہ جس میں بڑے بڑے ائمہ شامل ہیں ان کی رائے یہ ہے کہ حدیث کے ظاہر کو بلا چوں چراں تسلیم کیا جائے یعنی بغیر بارش، خوف، سفر کے بھی جمع بین الصلاتین جائز ہے بشرطیکہ اس کو معمول نہ بنا لیا جائے۔
➋ دلائل کی رو سے دوسرا موقف درست ہے کیونکہ اس کی وضاحت ابن عباس رضی اللہ عنہما نے خود فرمائی کہ امت کو مشقت میں نہیں ڈالنا چاہتے تھے اس وضاحت کو سامنے رکھتے ہوئے ہم کہہ سکتے ہیں کہ مریض، تھکا ہوا، سفر سے واپس لوٹنے والا، طالب علم جو امتحانی کمرے میں جانے والا ہے جب نماز کے ضیاع کا خدشہ ہے تو حضر میں ہی جمع کر لے دین میں آسانی ان جیسے ہی مواقع پر کام آئے گی۔
➌ بعض حضرات نے جمع صوری پر کمر کسی وہ اس لیے نہیں کہ فہم حدیث میں بہت بڑا ملکہ حاصل کر گئے ہیں بلکہ محض اس لیے کہ ان کے دین میں جمع صرف اور صرف مزدلفہ میں ہے باقی سب جمع صوری ہے حقیقی نہیں۔ اتنی آسانیوں کو بھی جو ختم کر کے دعوی کرے کہ فقہ النوازل کا حل صرف فقہ حنفی میں ہے وہ مخطی ہے بلکہ ان چرواہوں کی مانند ہے جن کو مدینہ کی آب و ہوا موافق نہیں آئی تھی تو باہر نکال دیے گئے اسی طرح احادیث میں تاویلات کرنے والے کو فہم الحدیث کی آب و ہوا موافق نہیں آتی تو تنگ نظر متعصب مقلد بن کر رہ جاتا ہے اور یہ سزا علمی میدان کی سب سے بڑی سزا ہے۔
عقل سے جب گتھیاں اسلام کی سلجھاتا ہوں میں
اپنے ہی دامن کے تاروں میں الجھ جاتا ہوں میں
➍ حدیث میں ہے کہ آٹھ رکعات یعنی ظہر و عصر جمع کر کے پڑھی اور سات رکعات یعنی مغرب و عشاء جمع کر کے پڑھی۔ اگر جمع صوری ہوتی تو بڑے بڑے ائمہ کو وضاحتیں نہ کرنی پڑتیں کہ شاید بارش ہو جیسے امام مالک رحمہ اللہ نے کہا ہے کہ شاید بارش کے باعث ایسا کیا ہے۔ کسی نے کہا شاید بیماری ہو، صوری تو سیدھی سیدھی ہے کہ ہر نماز اپنے اپنے وقت کے اندر ادا ہوئی ہے ایک نماز آخری وقت میں دوسری نماز پہلے وقت میں لیکن فہم الحدیث ایک دوسری شے ہے جسے ابن عباس رضی اللہ عنہما نے سمجھا کہ بھائی امت کو مشقت سے بچانا ہے لیکن معمول بنا کر شعائر اسلام کو معطل بھی نہیں کرنا جیسے روافض کا طرز عمل ہے۔
➎ متاخرین کی عادت شریفہ ہے کہ اپنے مسلک کی حمایت کے لیے فوراً اجماع کا دعوی کر بیٹھتے ہیں جبکہ خود اختلاف نقل بھی کرتے ہیں اس کے باوجود کہتے ہیں اس پر اجماع ہے۔ اسی مسئلے میں امام شوکانی رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ اتنے اماموں کا اختلاف موجود ہونے پر یہ نہیں کہا جا سکتا کہ نمازیں جمع کرنا بالاجماع ناجائز ہے۔
➋ دلائل کی رو سے دوسرا موقف درست ہے کیونکہ اس کی وضاحت ابن عباس رضی اللہ عنہما نے خود فرمائی کہ امت کو مشقت میں نہیں ڈالنا چاہتے تھے اس وضاحت کو سامنے رکھتے ہوئے ہم کہہ سکتے ہیں کہ مریض، تھکا ہوا، سفر سے واپس لوٹنے والا، طالب علم جو امتحانی کمرے میں جانے والا ہے جب نماز کے ضیاع کا خدشہ ہے تو حضر میں ہی جمع کر لے دین میں آسانی ان جیسے ہی مواقع پر کام آئے گی۔
➌ بعض حضرات نے جمع صوری پر کمر کسی وہ اس لیے نہیں کہ فہم حدیث میں بہت بڑا ملکہ حاصل کر گئے ہیں بلکہ محض اس لیے کہ ان کے دین میں جمع صرف اور صرف مزدلفہ میں ہے باقی سب جمع صوری ہے حقیقی نہیں۔ اتنی آسانیوں کو بھی جو ختم کر کے دعوی کرے کہ فقہ النوازل کا حل صرف فقہ حنفی میں ہے وہ مخطی ہے بلکہ ان چرواہوں کی مانند ہے جن کو مدینہ کی آب و ہوا موافق نہیں آئی تھی تو باہر نکال دیے گئے اسی طرح احادیث میں تاویلات کرنے والے کو فہم الحدیث کی آب و ہوا موافق نہیں آتی تو تنگ نظر متعصب مقلد بن کر رہ جاتا ہے اور یہ سزا علمی میدان کی سب سے بڑی سزا ہے۔
عقل سے جب گتھیاں اسلام کی سلجھاتا ہوں میں
اپنے ہی دامن کے تاروں میں الجھ جاتا ہوں میں
➍ حدیث میں ہے کہ آٹھ رکعات یعنی ظہر و عصر جمع کر کے پڑھی اور سات رکعات یعنی مغرب و عشاء جمع کر کے پڑھی۔ اگر جمع صوری ہوتی تو بڑے بڑے ائمہ کو وضاحتیں نہ کرنی پڑتیں کہ شاید بارش ہو جیسے امام مالک رحمہ اللہ نے کہا ہے کہ شاید بارش کے باعث ایسا کیا ہے۔ کسی نے کہا شاید بیماری ہو، صوری تو سیدھی سیدھی ہے کہ ہر نماز اپنے اپنے وقت کے اندر ادا ہوئی ہے ایک نماز آخری وقت میں دوسری نماز پہلے وقت میں لیکن فہم الحدیث ایک دوسری شے ہے جسے ابن عباس رضی اللہ عنہما نے سمجھا کہ بھائی امت کو مشقت سے بچانا ہے لیکن معمول بنا کر شعائر اسلام کو معطل بھی نہیں کرنا جیسے روافض کا طرز عمل ہے۔
➎ متاخرین کی عادت شریفہ ہے کہ اپنے مسلک کی حمایت کے لیے فوراً اجماع کا دعوی کر بیٹھتے ہیں جبکہ خود اختلاف نقل بھی کرتے ہیں اس کے باوجود کہتے ہیں اس پر اجماع ہے۔ اسی مسئلے میں امام شوکانی رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ اتنے اماموں کا اختلاف موجود ہونے پر یہ نہیں کہا جا سکتا کہ نمازیں جمع کرنا بالاجماع ناجائز ہے۔
حدیث نمبر: 25
أَنْبَأَنَا مَالِكُ بْنُ أَنَسٍ ، عَنْ زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ ، عَنِ الْقَعْقَاعِ بْنِ حَكِيمٍ ، عَنْ أَبِي يُونُسَ ، مَوْلَى عَائِشَةَ أُمِّ الْمُؤْمِنِينَ , أَنَّهُ قَالَ : أَمَرَتْنِي عَائِشَةُ أُمُّ الْمُؤْمِنِينَ أَنْ أَكْتُبَ لَهَا مُصْحَفًا , قَالَتْ : إِذَا بَلَغْتَ هَذِهِ الآيَةَ فَآذِنِّي : حَافِظُوا عَلَى الصَّلَوَاتِ وَالصَّلاةِ الْوُسْطَى سورة البقرة آية 238 ، قَالَ : فَلَمَّا بَلَغْتُهَا آذَنْتُهَا , فَأَمْلَتْ عَلَيَّ : حَافِظُوا عَلَى الصَّلَوَاتِ وَالصَّلاةِ الْوُسْطَى وَصَلاةِ الْعَصْرِ وَقُومُوا لِلَّهِ قَانِتِينَ قَالَتْ عَائِشَةُ : سَمِعْتُهَا مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ .
نوید مجید طیب
ابو یونس رحمہ اللہ مولی عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے مجھے سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے حکم دیا کہ میں مصحف قرآنی کا نسخہ لکھوں اور فرمایا: جب اس آیت پر پہنچو ﴿حَافِظُوا عَلَى الصَّلَوَاتِ وَالصَّلَاةِ الْوُسْطَى﴾ [سورة البقرة: 238] تو مجھے بتانا ابو یونس رحمہ اللہ کہتے ہیں میں جب اس آیت پر پہنچا تو انہیں بتایا تو مجھے ام المومنین رضی اللہ عنہا نے (یہ بھی) املاء کروایا «حَافِظُوا عَلَى الصَّلَوَاتِ وَالصَّلَاةِ الْوُسْطَى وَصَلَاةِ الْعَصْرِ وَقُومُوا لِلَّهِ قَانِتِينَ» اور فرمایا: میں نے یہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا تھا۔
وضاحت:
➊ صلاة العصر یہ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے «والصلاة الوسطى» کی تفسیر لکھوائی تھی، یہ الفاظ قرآنی نہیں بلکہ الفاظ قرآنی کی تفسیر ہے کیونکہ «والصلاة الوسطى» کا مطلب ہے افضل نماز اور افضل نماز عصر کی نماز ہے جب کاروبار عروج پر ہوتا ہے سب کچھ چھوڑ چھاڑ کر اللہ کی طرف آنا پڑتا ہے الوسطى کی تشریح رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے نماز عصر سے کی، نمازوں کی حفاظت کرو اور خصوصاً نماز عصر کی، یہ آیت نماز عصر کی افضلیت پر دلیل ہے۔
➋ «الوسطى» کا مطلب افضل نماز ہے نہ کہ درمیانی کیونکہ اگر اس کا معنی درمیانی نماز کیا جائے تو پھر ہر نماز درمیانی بن جاتی ہے مثلاً: نماز فجر سے پہلے دو جہری نمازیں ہیں اور بعد میں دوسری نمازیں ہیں لہذا نماز فجر درمیانی ہوئی۔ نماز ظہر دن کے درمیان میں ہے اس حساب سے درمیانی ہوئی۔ نماز مغرب تین رکعات ہے جو چار رکعات اور دو رکعات والی نمازوں کی درمیانی تعداد کے اعتبار سے ہے۔ نماز عشاء دو جہری نمازوں مغرب اور فجر کے درمیان میں ہے لہذا «الوسطى» سے مراد افضل نماز ہے۔ عصر کی فضیلت درمیانی ہونا نہیں بلکہ افضل ہونا ہے۔
➌ اس حدیث میں ان کا بھی رد ہے جو کہتے ہیں کہ حدیث مبارکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے میں نہیں لکھی گئی بعد میں عجمیوں نے لکھی ہے حالانکہ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں لکھو اور میں نے یہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا ہے۔
➍ معلوم ہوا حدیث رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم قرآن کی مبین و مفسر ہے اور فہم قرآن کے لیے حدیث از بس ضروری ہے۔
اصل دیں آمد کلام اللہ معظم داشتن
پس حدیث مصطفی بر جاں مسلم داشتن
➋ «الوسطى» کا مطلب افضل نماز ہے نہ کہ درمیانی کیونکہ اگر اس کا معنی درمیانی نماز کیا جائے تو پھر ہر نماز درمیانی بن جاتی ہے مثلاً: نماز فجر سے پہلے دو جہری نمازیں ہیں اور بعد میں دوسری نمازیں ہیں لہذا نماز فجر درمیانی ہوئی۔ نماز ظہر دن کے درمیان میں ہے اس حساب سے درمیانی ہوئی۔ نماز مغرب تین رکعات ہے جو چار رکعات اور دو رکعات والی نمازوں کی درمیانی تعداد کے اعتبار سے ہے۔ نماز عشاء دو جہری نمازوں مغرب اور فجر کے درمیان میں ہے لہذا «الوسطى» سے مراد افضل نماز ہے۔ عصر کی فضیلت درمیانی ہونا نہیں بلکہ افضل ہونا ہے۔
➌ اس حدیث میں ان کا بھی رد ہے جو کہتے ہیں کہ حدیث مبارکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے میں نہیں لکھی گئی بعد میں عجمیوں نے لکھی ہے حالانکہ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں لکھو اور میں نے یہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا ہے۔
➍ معلوم ہوا حدیث رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم قرآن کی مبین و مفسر ہے اور فہم قرآن کے لیے حدیث از بس ضروری ہے۔
اصل دیں آمد کلام اللہ معظم داشتن
پس حدیث مصطفی بر جاں مسلم داشتن
حدیث نمبر: 26
أَنْبَأَنَا مَالِكُ بْنُ أَنَسٍ ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ ، عَنِ السَّائِبِ بْنِ يَزِيدَ ، عَنِ الْمُطَّلِبِ بْنِ أَبِي وَدَاعَةَ السَّهْمِيِّ ، عَنْ حَفْصَةَ زَوْجِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهَا قَالَتْ : " مَا رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ صَلَّى فِي سُبْحَتِهِ قَاعِدًا قَطُّ , حَتَّى كَانَ قَبْلَ وَفَاتِهِ بِعَامٍ , فَكَانَ يُصَلِّي فِي سُبْحَتِهِ قَاعِدًا , وَيَقْرَأُ بِالسُّورَةِ فَيُرَتِّلُهَا , حَتَّى تَكُونَ أَطْوَلَ مِنْ أَطْوَلَ مِنْهَا " .
نوید مجید طیب
ام المومنین سیدہ حفصہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے میں نے کبھی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو نفل نماز بیٹھ کر پڑھتے نہیں دیکھا تھا حتی کہ وفات سے ایک سال قبل آپ صلی اللہ علیہ وسلم نفل نماز بیٹھ کر پڑھنے لگے اور کوئی سورۃ پڑھتے تو اس طرح ترتیل سے ٹھہر ٹھہر کر تلاوت فرماتے کہ وہ لمبی سے لمبی ہو جاتی۔
حدیث نمبر: 27
أَنْبَأَنَا مَالِكٌ ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ عَائِشَةَ ، زَوْجِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهَا أَخْبَرَتْهُ ، " أَنَّهَا لَمْ تَرَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُصَلِّي صَلاةَ اللَّيْلِ قَاعِدًا قَطُّ حَتَّى أَسَنَّ , فَكَانَ يَقْرَأُ قَاعِدًا , حَتَّى إِذَا أَرَادَ أَنْ يَرْكَعَ قَامَ , فَقَرَأَ نَحْوًا مِنْ ثَلاثِينَ , أَوْ أَرْبَعِينَ آيَةً , ثُمَّ رَكَعَ " .
نوید مجید طیب
ام المومنین سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ انہوں نے کبھی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو بیٹھ کر نماز پڑھتے نہیں دیکھا حتی کہ جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم عمر رسیدہ ہوئے تو بیٹھ کر نماز پڑھتے تو قراءت بھی بیٹھے بیٹھے کرتے لیکن جب رکوع کا ارادہ کرتے تو کھڑا ہو کر مزید تیس یا چالیس آیات پڑھتے پھر رکوع فرماتے۔
حدیث نمبر: 28
أَخْبَرَنَا مَالِكٌ ، عَنْ أَبِي النَّضْرِ مَوْلَى عُمَرَ بْنِ عُبَيْدِ اللَّهِ , وَعَبْدِ اللَّهِ بْنِ يَزِيدَ , عَنْ أَبِي سَلَمَةَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، عَنْ عَائِشَةَ أُمِّ الْمُؤْمِنِينَ ، " أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يُصَلِّي جَالِسًا فَيَقْرَأُ وَهُوَ جَالِسٌ , فَإِذَا بَقِيَ مِنْ قِرَاءَتِهِ قَدْرُ مَا يَكُونُ ثَلاثِينَ , أَوْ أَرْبَعِينَ آيَةً قَامَ فَقَرَأَ وَهُوَ قَائِمٌ , ثُمَّ رَكَعَ , ثُمَّ سَجَدَ , ثُمَّ يَفْعَلُ فِي الرَّكْعَةِ الثَّانِيَةِ مِثْلَ ذَلِكَ " .
نوید مجید طیب
ام المؤمنین سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم بیٹھ کر نماز پڑھتے تو قرآت بھی بیٹھ کر ہی فرماتے جب قرآت کی تیس یا چالیس آیات باقی ہوتیں تو کھڑے ہو جاتے اور کھڑے ہو کر پڑھتے پھر رکوع پھر سجدہ کرتے پھر دوسری رکعت میں بھی پہلی رکعت کی طرح عمل کرتے۔
حدیث نمبر: 29
أَنْبَأَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ عَنِ الْوَلِيدِ بْنِ أَبِي هِشَامٍ ، عَنْ أَبِي بَكْرِ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرِو بْنِ حَزْمٍ ، عَنْ عَمْرَةَ بِنْتِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا قَالَتْ : " كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقْرَأُ وَهُوَ قَاعِدٌ فَإِذَا أَرَادَ أَنْ يَرْكَعَ قَامَ قَدْرَ مَا يَقْرَأُ الإِنْسَانُ أَرْبَعِينَ آيَةً .
نوید مجید طیب
ام المومنین سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم بیٹھ کر قرآت کرتے جب رکوع کا ارادہ فرماتے تو اتنی مقدار پہلے کھڑا ہو جاتے جتنی دیر میں انسان چالیس آیات پڑھ سکتا ہے۔
وضاحت:
➊ مذکورہ احادیث میں کھڑے ہونے کی طاقت رکھنے کے باوجود نفلی نماز بیٹھ کر پڑھنے کا جواز موجود ہے، لیکن امتی اگر بیٹھ کر نفل پڑھیں تو ان کو کھڑے ہو کر پڑھنے کی نسبت آدھا ثواب ملتا ہے۔ سیدنا عمران بن حصین رضی اللہ عنہ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے بیٹھ کر نماز پڑھنے سے متعلق دریافت کیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اگر آدمی کھڑا ہو کر نماز پڑھے تو یہ افضل ہے اور جو بیٹھ کر نماز پڑھتا ہے تو اسے کھڑے ہو کر پڑھنے والے کی نسبت آدھا ثواب ہوتا ہے۔ [صحیح بخاری: 1115]
➋ فرض نماز کھڑا ہونے کی طاقت ہو تو بیٹھ کر پڑھنا جائز نہیں کیونکہ قیام رکن اور فرض ہے۔
➌ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اگر نفل نماز بیٹھ کر بھی ادا فرماتے تو ان کو نصف نہیں بلکہ پورا ثواب ملتا تھا سیدنا عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہ نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو بیٹھ کر نماز پڑھتے دیکھا تو کہنے لگے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی حدیث ہے کہ بیٹھ کر آدمی کی نماز آدھی نماز کے برابر ہے جبکہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم بیٹھ کر نماز پڑھ رہے ہیں آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: «أجل، ولكني لستُ كأحدٍ منكم» ہاں ایسا ہی ہے لیکن میرا معاملہ آپ لوگوں کی طرح نہیں۔ [صحیح مسلم: 735]
➍ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے بیٹھ کر نفل اس وقت شروع کیے جب جسم بھاری ہو گیا اور عمر رسیدہ ہوئے۔ [صحیح بخاری: 590، صحیح مسلم: 732]
➎ ہمارے معاشرے میں نوافل کو مستقل طور پر ہر عمر کے انسان کا بیٹھ کر بلا عذر پڑھنا خلاف سنت ہے۔
➏ نوافل سے متعلق یہ تصور گویا یہ فرضی نماز کا حصہ ہیں کسی طور پر بھی درست نہیں نیکی ایسے انداز میں نہیں کرنی چاہیے کہ وہ دین میں اضافہ اور رسم محسوس ہونے لگے۔
➐ ان احادیث میں اس امر کا بھی جواز ہے کہ ایک رکعت کا بعض حصہ کھڑے ہو کر اور بعض حصہ بیٹھ کر بھی پڑھا جا سکتا ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم اکثر رکوع کھڑے ہو کر فرماتے کیونکہ نماز کی ابتدا کھڑا ہو کر کی ہوتی درمیان میں بیٹھتے پھر رکوع کے لیے کھڑے ہو جاتے۔
➑ نفلی نماز میں زیادہ رکعات کی بجائے لمبی قرآت کرنا زیادہ افضل ہے۔ ہاں اگر قرآن یاد نہیں چھوٹی سورتیں ہی یاد ہیں تو ان کو ٹھہر ٹھہر کر متعدد دفعہ دہرایا بھی جا سکتا ہے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک آیت پر پوری رات بھی قیام فرمایا: ﴿إِن تُعَذِّبُهُمْ فَإِنَّهُمْ عِبَادُكَ وَإِن تَغْفِرْ لَهُمْ فَإِنَّكَ أَنتَ الْعَزِيزُ الْحَكِيمُ﴾ [المائدہ: 118] پوری رات بار بار پڑھتے گئے اور روتے گئے اور ساتھ ساتھ امت کے غم میں روتے گئے۔ [سنن نسائی: 1010، سنن ابن ماجہ: 1350]
➒ زیادہ رکعات خشوع و خضوع کا خیال رکھتے ہوئے پڑھنا بھی مشروع ہے جیسا کہ ایک صحابی رضی اللہ عنہ کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: عليك بكثرة السجود لله اللہ کے حضور کثرت سے سجدے کیا کرو۔ یہ عمل اللہ کو محبوب ہے۔ [صحیح مسلم: 488]
➓ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کا رات دن رسالت مآب صلی اللہ علیہ وسلم پر نظر رکھنا اور ایک ایک عمل نوٹ کر کے امت تک ابلاغ کرنا بھی احادیث بالا سے عیاں ہے۔
➋ فرض نماز کھڑا ہونے کی طاقت ہو تو بیٹھ کر پڑھنا جائز نہیں کیونکہ قیام رکن اور فرض ہے۔
➌ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اگر نفل نماز بیٹھ کر بھی ادا فرماتے تو ان کو نصف نہیں بلکہ پورا ثواب ملتا تھا سیدنا عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہ نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو بیٹھ کر نماز پڑھتے دیکھا تو کہنے لگے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی حدیث ہے کہ بیٹھ کر آدمی کی نماز آدھی نماز کے برابر ہے جبکہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم بیٹھ کر نماز پڑھ رہے ہیں آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: «أجل، ولكني لستُ كأحدٍ منكم» ہاں ایسا ہی ہے لیکن میرا معاملہ آپ لوگوں کی طرح نہیں۔ [صحیح مسلم: 735]
➍ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے بیٹھ کر نفل اس وقت شروع کیے جب جسم بھاری ہو گیا اور عمر رسیدہ ہوئے۔ [صحیح بخاری: 590، صحیح مسلم: 732]
➎ ہمارے معاشرے میں نوافل کو مستقل طور پر ہر عمر کے انسان کا بیٹھ کر بلا عذر پڑھنا خلاف سنت ہے۔
➏ نوافل سے متعلق یہ تصور گویا یہ فرضی نماز کا حصہ ہیں کسی طور پر بھی درست نہیں نیکی ایسے انداز میں نہیں کرنی چاہیے کہ وہ دین میں اضافہ اور رسم محسوس ہونے لگے۔
➐ ان احادیث میں اس امر کا بھی جواز ہے کہ ایک رکعت کا بعض حصہ کھڑے ہو کر اور بعض حصہ بیٹھ کر بھی پڑھا جا سکتا ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم اکثر رکوع کھڑے ہو کر فرماتے کیونکہ نماز کی ابتدا کھڑا ہو کر کی ہوتی درمیان میں بیٹھتے پھر رکوع کے لیے کھڑے ہو جاتے۔
➑ نفلی نماز میں زیادہ رکعات کی بجائے لمبی قرآت کرنا زیادہ افضل ہے۔ ہاں اگر قرآن یاد نہیں چھوٹی سورتیں ہی یاد ہیں تو ان کو ٹھہر ٹھہر کر متعدد دفعہ دہرایا بھی جا سکتا ہے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک آیت پر پوری رات بھی قیام فرمایا: ﴿إِن تُعَذِّبُهُمْ فَإِنَّهُمْ عِبَادُكَ وَإِن تَغْفِرْ لَهُمْ فَإِنَّكَ أَنتَ الْعَزِيزُ الْحَكِيمُ﴾ [المائدہ: 118] پوری رات بار بار پڑھتے گئے اور روتے گئے اور ساتھ ساتھ امت کے غم میں روتے گئے۔ [سنن نسائی: 1010، سنن ابن ماجہ: 1350]
➒ زیادہ رکعات خشوع و خضوع کا خیال رکھتے ہوئے پڑھنا بھی مشروع ہے جیسا کہ ایک صحابی رضی اللہ عنہ کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: عليك بكثرة السجود لله اللہ کے حضور کثرت سے سجدے کیا کرو۔ یہ عمل اللہ کو محبوب ہے۔ [صحیح مسلم: 488]
➓ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کا رات دن رسالت مآب صلی اللہ علیہ وسلم پر نظر رکھنا اور ایک ایک عمل نوٹ کر کے امت تک ابلاغ کرنا بھی احادیث بالا سے عیاں ہے۔
حدیث نمبر: 30
أَنْبَأَنَا مَالِكُ بْنُ أَنَسٍ ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ عَائِشَةَ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " إِذَا نَعَسَ أَحَدُكُمْ فِي صَلاتِهِ فَلْيَرْقُدْ حَتَّى يَذْهَبَ عَنْهُ النَّوْمُ , فَإِنَّ أَحَدَكُمْ إِذَا صَلَّى وَهُوَ نَاعِسٌ لَعَلَّهُ يَذْهَبُ يَسْتَغْفِرُ فَيَسُبَّ نَفْسَهُ ! " .
نوید مجید طیب
ام المومنین سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جب تم میں سے کسی کو نماز میں اونگھ آنے لگے تو جا کر سو جاؤ حتی کہ نیند کا اثر زائل ہو جائے جب تم میں سے کوئی اونگھتے ہوئے نماز پڑھے گا تو شاید مغفرت طلب کرنے کی بجائے اپنے آپ پر بدعا کر بیٹھے۔“
حدیث نمبر: 31
وَأَنْبَأَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ عَائِشَةَ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " إِذَا نَعَسَ أَحَدُكُمْ وَهُوَ يُصَلِّي فَلْيَنْفَتِلْ , فَإِنَّهُ لا يَدْرِي لَعَلَّهُ يَسْتَغْفِرُ فَيَسُبَّ نَفْسَهُ " .
نوید مجید طیب
ام المومنین سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جب نماز کی حالت میں تم میں سے کوئی اونگھنے لگے تو وہ پلٹ جائے کیونکہ وہ نہیں جانتا کہ مغفرت کی بجائے بدعا کرنے لگے۔“
وضاحت:
➊ نماز میں انسان رب کے سامنے کھڑا ہوتا ہے اسے خشوع و خضوع عاجزی و انکساری اور حضور قلب سے کھڑا ہونا چاہیے۔
➋ دین اسلام میں دیگر مذاہب کی طرح اپنی جان پر بے انتہا تشدد نہیں جیسے بدھ مت یا صوفی نفس کو کمزور کرنا نیکی سمجھتے ہیں ہر طرح کی اذیت اپنی جان کو دے کر اللہ کا قرب تلاش کرتے ہیں جبکہ دین اسلام فطری دین ہے اس دین میں قوی مومن ضعیف مومن سے بہتر ہے۔ [صحیح مسلم: 2664]
➌ عبادات میں بھی اعتدال ہے، قیام الیل میں اگر نیند کا غلبہ ہے تو جس قدر ممکن ہو نماز پڑھ کر آرام کرنا چاہیے خود کو اذیت میں مبتلا کرنا شرعاً درست نہیں۔ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے ایک عورت کا تذکرہ کیا جو رات بھر قیام کرتی اور سوتی نہیں تھی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: «عليكم من العمل ما تطيقون» تم پر حسب استطاعت عمل کرنا لازم ہے۔ [صحیح مسلم: 785]
➍ فرضی نماز میں بھی اگر نیند کا غلبہ ہے تو ہلکی سی نماز مکمل کر کے سو جانا چاہیے، ارشاد باری تعالیٰ ہے: ﴿لَا تَقْرَبُوا الصَّلَاةَ وَأَنتُمْ سُكَارَىٰ﴾ [النساء: 43]
"نماز کے قریب نہ جاؤ اس حال میں کہ تم نشے میں ہو۔"
جب عقل کام نہ کر رہی ہو تو نفلی، فرضی کوئی بھی نماز نہیں پڑھنی چاہیے کہیں ایسا نہ ہو کہ نمازی مغفرت کی بجائے اپنے آپ کو گالی دے بیٹھے جب غلبہ ختم ہو جائے تو فوراً نماز پڑھ لی جائے۔ عربی زبان میں اگر زیر، زبر، تجوید کا خیال نہ رکھا جائے تو معنی تبدیل ہو جاتا ہے اور غلبہ نیند کی وجہ سے یہ سب تبدیلیاں متوقع ہیں۔
➎ مزید فوائد کے لیے دیکھئے حدیث نمبر 32۔
➋ دین اسلام میں دیگر مذاہب کی طرح اپنی جان پر بے انتہا تشدد نہیں جیسے بدھ مت یا صوفی نفس کو کمزور کرنا نیکی سمجھتے ہیں ہر طرح کی اذیت اپنی جان کو دے کر اللہ کا قرب تلاش کرتے ہیں جبکہ دین اسلام فطری دین ہے اس دین میں قوی مومن ضعیف مومن سے بہتر ہے۔ [صحیح مسلم: 2664]
➌ عبادات میں بھی اعتدال ہے، قیام الیل میں اگر نیند کا غلبہ ہے تو جس قدر ممکن ہو نماز پڑھ کر آرام کرنا چاہیے خود کو اذیت میں مبتلا کرنا شرعاً درست نہیں۔ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے ایک عورت کا تذکرہ کیا جو رات بھر قیام کرتی اور سوتی نہیں تھی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: «عليكم من العمل ما تطيقون» تم پر حسب استطاعت عمل کرنا لازم ہے۔ [صحیح مسلم: 785]
➍ فرضی نماز میں بھی اگر نیند کا غلبہ ہے تو ہلکی سی نماز مکمل کر کے سو جانا چاہیے، ارشاد باری تعالیٰ ہے: ﴿لَا تَقْرَبُوا الصَّلَاةَ وَأَنتُمْ سُكَارَىٰ﴾ [النساء: 43]
"نماز کے قریب نہ جاؤ اس حال میں کہ تم نشے میں ہو۔"
جب عقل کام نہ کر رہی ہو تو نفلی، فرضی کوئی بھی نماز نہیں پڑھنی چاہیے کہیں ایسا نہ ہو کہ نمازی مغفرت کی بجائے اپنے آپ کو گالی دے بیٹھے جب غلبہ ختم ہو جائے تو فوراً نماز پڑھ لی جائے۔ عربی زبان میں اگر زیر، زبر، تجوید کا خیال نہ رکھا جائے تو معنی تبدیل ہو جاتا ہے اور غلبہ نیند کی وجہ سے یہ سب تبدیلیاں متوقع ہیں۔
➎ مزید فوائد کے لیے دیکھئے حدیث نمبر 32۔
حدیث نمبر: 32
وَأَخْبَرَنَا عَبْدُ الْوَهَّابِ بْنُ عَبْدِ الْمَجِيدِ الثَّقَفِيُّ ، عَنْ حُمَيْدٍ الطَّوِيلِ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَأَى حَبْلا مَمْدُودًا بَيْنَ سَارِيَتَيْنِ , فَقَالَ : " مَا هَذَا الْحَبْلُ ؟ " فَقَالُوا : لِفُلانَةَ تُصَلِّي , فَإِذَا غُلِبَتْ تَعَلَّقَتْ بِهِ , فَقَالَ : " لا تَفْعَلْ , تُصَلِّي مَا عَقَلَتْ , فَإِذَا غُلِبَتْ فَلْتَنَمْ " .
نوید مجید طیب
سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے دو ستونوں کے درمیان ایک رسی لٹکی ہوئی دیکھی تو پوچھا: ”یہ رسی کیسی ہے؟“ لوگوں نے کہا: یہ فلاں عورت نے نماز کے لیے لٹکائی ہوئی ہے جب (قیام میں تھک جاتی ہیں) تو اس سے سہارا لیتی ہیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ایسا نہ کرو جب تک ہوش وحواس قائم رہیں نماز پڑھو جب نیند کا غلبہ ہو جائے تو جا کر سو جاؤ۔“
وضاحت:
➊ یہ عورت ام المومنین سیدہ زینب بنت جحش رضی اللہ عنہا ہوتی تھیں۔ [صحیح بخاری: 1150]
➋ اس حدیث سے معلوم ہوا عورت نفلی عبادت بھی مسجد میں کر سکتی ہے۔
➌ حدیث میں «ازالة المنكر» کا بھی بیان ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم عبادات کا جس طرح حکم دیتے تھے اسی طرح عبادات میں وقتاً فوقتاً اصلاح بھی فرماتے رہتے تھے، اسی طرح ایک دفعہ مسجد نبوی میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی موجودگی میں ایک صحابی رضی اللہ عنہ نے جلدی جلدی نماز پڑھی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے متعدد بار نئے سرے سے نماز پڑھائی اطمینان و اعتدال سمجھایا۔ [صحیح بخاری: 757]
➍ تبلیغ دین صرف لوگوں کو نمازی بنانا نہیں بلکہ سنت کے مطابق نمازیں پڑھانا، سکھانا بھی داعی کے فرائض میں شامل ہے۔
➎ داعی، معلم اور حاکم کا پہلے وجہ دریافت کرنا بعد از تحقیق مناسب حکم صادر کرنا بھی حدیث بالا سے معلوم ہوتا ہے۔
➋ اس حدیث سے معلوم ہوا عورت نفلی عبادت بھی مسجد میں کر سکتی ہے۔
➌ حدیث میں «ازالة المنكر» کا بھی بیان ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم عبادات کا جس طرح حکم دیتے تھے اسی طرح عبادات میں وقتاً فوقتاً اصلاح بھی فرماتے رہتے تھے، اسی طرح ایک دفعہ مسجد نبوی میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی موجودگی میں ایک صحابی رضی اللہ عنہ نے جلدی جلدی نماز پڑھی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے متعدد بار نئے سرے سے نماز پڑھائی اطمینان و اعتدال سمجھایا۔ [صحیح بخاری: 757]
➍ تبلیغ دین صرف لوگوں کو نمازی بنانا نہیں بلکہ سنت کے مطابق نمازیں پڑھانا، سکھانا بھی داعی کے فرائض میں شامل ہے۔
➎ داعی، معلم اور حاکم کا پہلے وجہ دریافت کرنا بعد از تحقیق مناسب حکم صادر کرنا بھی حدیث بالا سے معلوم ہوتا ہے۔
حدیث نمبر: 33
أَنْبَأَنَا مَالِكٌ ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ ، عَنِ ابْنِ أُكَيْمَةَ اللَّيْثِيِّ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ انْصَرَفَ مِنْ صَلاةٍ جَهَرَ فِيهَا بِالْقِرَاءَةِ فَقَالَ : " هَلْ قَرَأَ مَعِي أَحَدٌ مِنْكُمْ آنِفًا ؟ " قَالَ رَجُلٌ : نَعَمْ يَا رَسُولَ اللَّهِ . قَالَ : " إِنِّي أَقُولُ : مَا لِيَ أُنَازَعُ الْقُرْآنَ ؟ " قَالَ : فَانْتَهَى النَّاسُ بِالْقِرَاءَةِ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِيمَا جَهَرَ فِيهِ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنَ الصَّلَوَاتِ حِينَ سَمِعُوا ذَلِكَ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ .
نوید مجید طیب
سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ایک نماز سے فارغ ہوئے جس میں بآواز بلند آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے قرآت فرمائی تھی آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا: ”کیا ابھی تم میں سے کسی نے میرے ساتھ (کچھ) پڑھا ہے؟“ ایک آدمی نے کہا: جی ہاں اے اللہ کے رسول! آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”میں بھی کہوں قرآن پڑھنے میں مجھے وقت کیوں پیش آ رہی ہے۔“ امام زہری رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ جب لوگوں نے آپ کی یہ بات سنی تو جہری نمازوں میں قرآت سے رک گئے۔
وضاحت:
➊ اس حدیث سے معلوم ہوا کہ ایک آدمی امام کے پیچھے اونچا اونچا ساتھ ساتھ پڑھ رہا تھا جس کی آواز سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو پڑھنے میں دشواری پیش آرہی تھی، لہذا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے آئندہ ایسا کرنے سے منع کر دیا۔
➋ فاتحہ کے بعد والا قرآن مقتدیوں کو خاموشی سے سننا چاہیے۔ جیسا کہ سیدنا عبادہ بن صامت رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فجر کی نماز پڑھائی آپ صلی اللہ علیہ وسلم پر قرآت بھاری ہو گئی آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے نماز سے فارغ ہونے کے بعد پوچھا: میں دیکھ رہا ہوں کہ تم امام کے پیچھے قرآت بھی کرتے رہتے ہو؟ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے عرض کیا جی ہاں، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ایسا نہ کیا کرو صرف ام القرآن (سورہ فاتحہ) پڑھا کرو کیونکہ جس نے سورہ فاتحہ نہ پڑھی اس کی نماز نہیں۔ [سنن ترمذی: 311]
➌ اس واضح حدیث کے بعد مقتدی کے لیے عدم فاتحہ پر استدلال نقلی و عقلی دونوں اعتبار سے درست نہیں۔ کیونکہ قرآت کی دشواری اونچی آواز سے پڑھنے میں ہوتی ہے نہ کہ آہستہ آواز سے جبکہ فاتحہ آہستہ پڑھی جاتی ہے۔ دوسرا اس روایت کے راوی سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ ہیں: «الراوي ادري بماروي» وہ خود فاتحہ خلف الامام کا فتویٰ دیتے تھے۔ وہ کہتے تھے جس نماز میں فاتحہ نہیں پڑھی گئی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: وہ ناقص "خداج" قبل از وقت پیدا ہونے والے ناقص مردہ بچے کی مانند ہے پوری نہیں۔ [صحیح مسلم: 395]
➍ حدیث بالا میں جہری نماز میں قرآت بعد از فاتحہ سے منع کیا گیا جبکہ فاتحہ نہ پڑھنے والے ظہر و عصر جو سری نمازیں ہیں ان میں بھی سورہ فاتحہ نہیں پڑھتے۔
➎ قراءت کرنے سے رک گئے یہ امام زہری رحمہ اللہ کا قول ہے جیسا کہ علامہ ابن حجر رحمہ اللہ، ابن قیم رحمہ اللہ، وغیرہ ائمہ جرح و تعدیل کے اقوال و دلائل سے ثابت کیا ہے۔
➏ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم اس عمل سے رکے تھے جس سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے روکا تھا اور وہ فاتحہ کے بعد والی قرآت تھی۔
➋ فاتحہ کے بعد والا قرآن مقتدیوں کو خاموشی سے سننا چاہیے۔ جیسا کہ سیدنا عبادہ بن صامت رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فجر کی نماز پڑھائی آپ صلی اللہ علیہ وسلم پر قرآت بھاری ہو گئی آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے نماز سے فارغ ہونے کے بعد پوچھا: میں دیکھ رہا ہوں کہ تم امام کے پیچھے قرآت بھی کرتے رہتے ہو؟ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے عرض کیا جی ہاں، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ایسا نہ کیا کرو صرف ام القرآن (سورہ فاتحہ) پڑھا کرو کیونکہ جس نے سورہ فاتحہ نہ پڑھی اس کی نماز نہیں۔ [سنن ترمذی: 311]
➌ اس واضح حدیث کے بعد مقتدی کے لیے عدم فاتحہ پر استدلال نقلی و عقلی دونوں اعتبار سے درست نہیں۔ کیونکہ قرآت کی دشواری اونچی آواز سے پڑھنے میں ہوتی ہے نہ کہ آہستہ آواز سے جبکہ فاتحہ آہستہ پڑھی جاتی ہے۔ دوسرا اس روایت کے راوی سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ ہیں: «الراوي ادري بماروي» وہ خود فاتحہ خلف الامام کا فتویٰ دیتے تھے۔ وہ کہتے تھے جس نماز میں فاتحہ نہیں پڑھی گئی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: وہ ناقص "خداج" قبل از وقت پیدا ہونے والے ناقص مردہ بچے کی مانند ہے پوری نہیں۔ [صحیح مسلم: 395]
➍ حدیث بالا میں جہری نماز میں قرآت بعد از فاتحہ سے منع کیا گیا جبکہ فاتحہ نہ پڑھنے والے ظہر و عصر جو سری نمازیں ہیں ان میں بھی سورہ فاتحہ نہیں پڑھتے۔
➎ قراءت کرنے سے رک گئے یہ امام زہری رحمہ اللہ کا قول ہے جیسا کہ علامہ ابن حجر رحمہ اللہ، ابن قیم رحمہ اللہ، وغیرہ ائمہ جرح و تعدیل کے اقوال و دلائل سے ثابت کیا ہے۔
➏ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم اس عمل سے رکے تھے جس سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے روکا تھا اور وہ فاتحہ کے بعد والی قرآت تھی۔
حدیث نمبر: 34
حَدَّثَنَا مَالِكُ بْنُ أَنَسٍ ، عَنْ عَامِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الزُّبَيْرِ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ سُلَيْمٍ الزُّرَقِيِّ ، عَنْ أَبِي قَتَادَةَ السُّلَمِيِّ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " إِذَا دَخَلَ أَحَدُكُمُ الْمَسْجِدَ فَلْيَرْكَعْ رَكْعَتَيْنِ قَبْلَ أَنْ يَجْلِسَ " .
نوید مجید طیب
سیدنا ابو قتادہ اسلمی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ”جب تم میں سے کوئی مسجد میں داخل ہو تو دو رکعتیں پڑھنے سے پہلے نہ بیٹھے۔“
وضاحت:
➊ اس حدیث میں تحیۃ المسجد کا حکم دیا گیا ہے کیونکہ مساجد عبادت الہی کے لیے بنائی جاتی ہیں لہذا ان میں داخل ہونے والا نماز پڑھ کر بیٹھے۔
➋ سیدنا ابو قتادہ رضی اللہ عنہ اس وقت مسجد میں آئے جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کے ساتھ مجلس میں تشریف فرما تھے سیدنا ابو قتادہ رضی اللہ عنہ بھی آکر بیٹھ گئے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا: بیٹھنے سے پہلے دو رکعت پڑھی؟ نہیں آپ لوگوں کو بیٹھے دیکھا تو میں بھی بیٹھ گیا تو اس پر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ حکم ارشاد فرمایا تھا۔ [صحیح مسلم: 714]
➌ امام ابن حبان رحمہ اللہ نے صحیح میں باب قائم کیا ہے۔ «ان تحية المسجد لا تفوت بالجلوس» کہ مسجد میں آکر بیٹھ جانے سے تحیۃ المسجد کا حکم ساقط نہ ہو گا، بلکہ اٹھ کر یاد آنے پر تحیۃ المسجد پڑھنا ہو گی، جیسا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے خطبہ کے دوران ایک آدمی مسجد میں آکر بیٹھ گیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے فرمایا: «قم فصل ركعتين» کھڑے ہو جاؤ اور دو رکعات ادا کرو۔ [صحیح مسلم: 875]
➍ اگر اوقات ممنوعہ میں مسجد میں داخل ہوا تو بعض محدثین بشمول امام شافعی رحمہ اللہ یہی رائے رکھتے ہیں کہ یہ سببی نماز ہے تب بھی دو رکعت پڑھے جبکہ ممنوعہ اوقات میں صرف عام نوافل جو بغیر سبب کے ہوں وہ منع ہیں۔ میں نے مسجد نبوی میں شیخ امین اللہ بشاوری رحمہ اللہ سے تحیۃ المسجد کے بارے میں سوال کیا کہ ممنوعہ اوقات میں پڑھنے چاہیے یا کہ نہیں انہوں نے کہا: پڑھنے چاہیے میں نے اوقات نہی والی حدیث کا حوالہ دیا تو فرمانے لگے یہ اس سے مستثنیٰ ہے کیونکہ ممانعت منع ہونے میں محفوظ نہیں بہت سی اشیاء اس سے مستثنی ہو گئی ہیں جیسے نماز جنازہ، نماز کی قضا، تحیۃ المسجد یہ نماز عصر کے بعد ادا ہو سکتی ہیں لہذا تحیۃ المسجد بھی منع سے مستثنی ہو گی۔
➎ کوئی بھی فرض، سنت مسجد میں داخلے کے وقت پڑھ لے تو تحیۃ ادا ہو جائے گا کیونکہ عموماً رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جماعت کے وقت تشریف لاتے اور آکر جماعت کرواتے علیحدہ سے تحیۃ المسجد کا اہتمام نہیں کرتے تھے۔
➋ سیدنا ابو قتادہ رضی اللہ عنہ اس وقت مسجد میں آئے جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کے ساتھ مجلس میں تشریف فرما تھے سیدنا ابو قتادہ رضی اللہ عنہ بھی آکر بیٹھ گئے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا: بیٹھنے سے پہلے دو رکعت پڑھی؟ نہیں آپ لوگوں کو بیٹھے دیکھا تو میں بھی بیٹھ گیا تو اس پر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ حکم ارشاد فرمایا تھا۔ [صحیح مسلم: 714]
➌ امام ابن حبان رحمہ اللہ نے صحیح میں باب قائم کیا ہے۔ «ان تحية المسجد لا تفوت بالجلوس» کہ مسجد میں آکر بیٹھ جانے سے تحیۃ المسجد کا حکم ساقط نہ ہو گا، بلکہ اٹھ کر یاد آنے پر تحیۃ المسجد پڑھنا ہو گی، جیسا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے خطبہ کے دوران ایک آدمی مسجد میں آکر بیٹھ گیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے فرمایا: «قم فصل ركعتين» کھڑے ہو جاؤ اور دو رکعات ادا کرو۔ [صحیح مسلم: 875]
➍ اگر اوقات ممنوعہ میں مسجد میں داخل ہوا تو بعض محدثین بشمول امام شافعی رحمہ اللہ یہی رائے رکھتے ہیں کہ یہ سببی نماز ہے تب بھی دو رکعت پڑھے جبکہ ممنوعہ اوقات میں صرف عام نوافل جو بغیر سبب کے ہوں وہ منع ہیں۔ میں نے مسجد نبوی میں شیخ امین اللہ بشاوری رحمہ اللہ سے تحیۃ المسجد کے بارے میں سوال کیا کہ ممنوعہ اوقات میں پڑھنے چاہیے یا کہ نہیں انہوں نے کہا: پڑھنے چاہیے میں نے اوقات نہی والی حدیث کا حوالہ دیا تو فرمانے لگے یہ اس سے مستثنیٰ ہے کیونکہ ممانعت منع ہونے میں محفوظ نہیں بہت سی اشیاء اس سے مستثنی ہو گئی ہیں جیسے نماز جنازہ، نماز کی قضا، تحیۃ المسجد یہ نماز عصر کے بعد ادا ہو سکتی ہیں لہذا تحیۃ المسجد بھی منع سے مستثنی ہو گی۔
➎ کوئی بھی فرض، سنت مسجد میں داخلے کے وقت پڑھ لے تو تحیۃ ادا ہو جائے گا کیونکہ عموماً رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جماعت کے وقت تشریف لاتے اور آکر جماعت کرواتے علیحدہ سے تحیۃ المسجد کا اہتمام نہیں کرتے تھے۔
حدیث نمبر: 35
وَأَنْبَأَنَا مَالِكُ بْنُ أَنَسٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ دِينَارٍ ، أَنَّ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عُمَرَ ، قَالَ : بَيْنَمَا النَّاسُ بِقُبَاءَ فِي صَلاةِ الصُّبْحِ إِذْ جَاءَهُمْ آتٍ , فَقَالَ : إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَدْ أُنْزِلَ عَلَيْهِ اللَّيْلَةَ قُرْآنٌ , " وَقَدْ أُمِرَ أَنْ نَسْتَقْبِلَ الْكَعْبَةَ , فَاسْتَقْبِلُوهَا " , وَكَانَتْ وُجُوهُهُمْ إِلَى الشَّامِ , فَاسْتَدَارُوا إِلَى الْكَعْبَةِ .
نوید مجید طیب
سیدنا عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے لوگ قباء میں نماز فجر ادا کر رہے تھے کہ ایک آنے والے نے کہا: اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم پر آج رات وحی اتری ہے ہمیں کعبہ کی طرف منہ کر کے نماز پڑھنے کا حکم دیا گیا ہے لہذا تم کعبہ کی طرف منہ کر لو ان کے چہرے شام کی طرف تھے چنانچہ وہ کعبہ کی طرف گھوم گئے۔
حدیث نمبر: 36
وَأَخْبَرَنَا مَالِكٌ ، عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدِ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيِّبِ ، أَنَّهُ كَانَ يَقُولُ : " صَلَّى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَعْدَ أَنْ قَدِمَ الْمَدِينَةَ سِتَّةَ عَشَرَ شَهْرًا نَحْوَ بَيْتِ الْمَقْدِسِ , ثُمَّ حُوِّلَتِ الْقِبْلَةُ قَبْلَ بَدْرٍ بِشَهْرَيْنِ " .
نوید مجید طیب
سیدنا سعید بن مسیب رحمہ اللہ کہتے تھے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مدینہ میں آنے کے بعد سولہ ماہ بیت المقدس کی طرف منہ کر کے نماز پڑھی پھر غزوہ بدر سے دو ماہ پہلے قبلہ تبدیل کیا گیا۔
وضاحت:
➊ قباء بستی مدینہ سے جنوب کی جانب دو میل کے فاصلہ پر واقع ہے۔
➋ دو رکعت نماز اداء کرنے پر عمرہ کرنے کے برابر ثواب ہے۔
➌ قباء میں مذکورہ خبر اس وقت پہنچی جب لوگ نماز پڑھ رہے تھے دوران نماز ہی صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے سر تسلیم خم کیا ہے: وہ نقشہ جس میں صفائی ہو
ادھر فرمان محمد صلی اللہ علیہ وسلم ہو ادھر گردن جھکائی ہو
➍ معلوم ہوا خبر واحد حجت ہے۔
➎ تمام روایات کو جمع کرنے سے پتہ چلتا ہے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے پہلی نماز جو کعبہ کی طرف منہ کر کے پڑھی وہ نماز ظہر تھی وحی بھی ظہر کے وقت آئی تھی، آہستہ آہستہ خبر دوسری مساجد تک پہنچی مسجد بنو حارثہ میں یہ خبر عصر کے وقت پہنچی انہوں نے بھی نماز کی حالت میں اپنا رخ تبدیل کر لیا اس لیے اس مسجد کا نام قبلتین پڑ گیا۔
➏ یہ خبر قباء میں اگلی صبح کو پہنچی اس طرح مسجد بنو حارثہ نے نماز ظہر اور مسجد قباء والوں نے ظہر، عصر، مغرب، عشاء، اور آدھی نماز فجر غیر قبلہ کی طرف پڑھی اس سے یہ استدلال کیا جا سکتا ہے کہ اگر آدمی اپنے علم واجتہاد کے مطابق قبلہ کا تعین کر کے نماز پڑھ لے بعد میں پتہ چلے کہ غیر قبلہ کی طرف رخ کر کے نماز پڑھ لی ہے تو نماز دوہرانے کی ضرورت نہیں امام بخاری رحمہ اللہ اور دیگر محدثین نے یہی استدلال کیا ہے۔
➐ تحویل قبلہ سے متعلق قرآنی احکام سورہ بقرہ آیت نمبر 142 تا 150 میں تفصیلاً مذکور ہیں۔
➑ سیدنا براء بن عازب رضی اللہ عنہ کا بھی یہی بیان ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ہجرت مدینہ کے بعد سولہ یا سترہ ماہ مسجد اقصیٰ کی طرف رخ کر کے نماز پڑھی۔ [صحیح بخاری: 40]
➋ دو رکعت نماز اداء کرنے پر عمرہ کرنے کے برابر ثواب ہے۔
➌ قباء میں مذکورہ خبر اس وقت پہنچی جب لوگ نماز پڑھ رہے تھے دوران نماز ہی صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے سر تسلیم خم کیا ہے: وہ نقشہ جس میں صفائی ہو
ادھر فرمان محمد صلی اللہ علیہ وسلم ہو ادھر گردن جھکائی ہو
➍ معلوم ہوا خبر واحد حجت ہے۔
➎ تمام روایات کو جمع کرنے سے پتہ چلتا ہے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے پہلی نماز جو کعبہ کی طرف منہ کر کے پڑھی وہ نماز ظہر تھی وحی بھی ظہر کے وقت آئی تھی، آہستہ آہستہ خبر دوسری مساجد تک پہنچی مسجد بنو حارثہ میں یہ خبر عصر کے وقت پہنچی انہوں نے بھی نماز کی حالت میں اپنا رخ تبدیل کر لیا اس لیے اس مسجد کا نام قبلتین پڑ گیا۔
➏ یہ خبر قباء میں اگلی صبح کو پہنچی اس طرح مسجد بنو حارثہ نے نماز ظہر اور مسجد قباء والوں نے ظہر، عصر، مغرب، عشاء، اور آدھی نماز فجر غیر قبلہ کی طرف پڑھی اس سے یہ استدلال کیا جا سکتا ہے کہ اگر آدمی اپنے علم واجتہاد کے مطابق قبلہ کا تعین کر کے نماز پڑھ لے بعد میں پتہ چلے کہ غیر قبلہ کی طرف رخ کر کے نماز پڑھ لی ہے تو نماز دوہرانے کی ضرورت نہیں امام بخاری رحمہ اللہ اور دیگر محدثین نے یہی استدلال کیا ہے۔
➐ تحویل قبلہ سے متعلق قرآنی احکام سورہ بقرہ آیت نمبر 142 تا 150 میں تفصیلاً مذکور ہیں۔
➑ سیدنا براء بن عازب رضی اللہ عنہ کا بھی یہی بیان ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ہجرت مدینہ کے بعد سولہ یا سترہ ماہ مسجد اقصیٰ کی طرف رخ کر کے نماز پڑھی۔ [صحیح بخاری: 40]