کتب حدیثالسنن المأثورةابوابباب: سفر میں نماز کا بیان
حدیث نمبر: 1
أَنْبَأَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ بنِ أَبِي فُدَيْكٍ ، عَنِ ابْنِ أَبِي ذِئْبٍ ، عَنِ الْمَقْبُرِيِّ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي سَعِيدٍ ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ ، قَالَ : حُبِسْنَا يَوْمَ الْخَنْدَقِ عَنِ الصَّلاةِ , حَتَّى كَانَ بَعْدَ الْمَغْرِبِ بِهَوِيٍّ مِنَ اللَّيْلِ حَتَّى كُفِينَا , وَذَلِكَ قَوْلُ اللَّهِ تَعَالَى : وَكَفَى اللَّهُ الْمُؤْمِنِينَ الْقِتَالَ وَكَانَ اللَّهُ قَوِيًّا عَزِيزًا سورة الأحزاب آية 25 ، قَالَ : " فَدَعَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِلالا , فَأَمَرَهُ فَأَقَامَ الظُّهْرَ , فَصَلاهَا فَأَحْسَنَ صَلاتَهَا كَمَا كَانَ يُصَلِّيهَا فِي وَقْتِهَا , ثُمَّ أَقَامَ الْعَصْرَ فَصَلاهَا كَذَلِكَ , ثُمَّ أَقَامَ الْمَغْرِبَ فَصَلاهَا كَذَلِكَ , ثُمَّ أَقَامَ الْعِشَاءَ فَصَلاهَا كَذَلِكَ أَيْضًا " , قَالَ : وَذَلِكَ قَبْلَ أَنْ يُنْزِلَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ فِي صَلاةِ الْخَوْفِ : فَرِجَالا أَوْ رُكْبَانًا .
نوید مجید طیب
سیدنا ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ہم جنگ خندق کے دن نماز سے روک دیے گئے یعنی مشرکین نے جنگ میں مصروف رکھا یہاں تک کہ مغرب کے بعد رات کا کافی حصہ گزر گیا، پھر ہمیں کفایت کی گئی جس کا ذکر اللہ تعالیٰ کے فرمان : ﴿وَكَفَى اللهُ الْمُؤْمِنِينَ الْقِتَالَ وَكَانَ اللَّهُ قَوِيًّا عَزِيزًا﴾ [الاحزاب: 25] ”اس جنگ میں اللہ تعالیٰ خود ہی مومنوں کو کافی ہو گیا اللہ تعالیٰ بڑی قوت والا اور غالب ہے۔“ میں ہے۔ چنانچہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے بلال رضی اللہ عنہ کو بلا کر حکم دیا تو انہوں نے نماز ظہر کے لیے اقامت کہی آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسی اطمینان سے نماز پڑھائی جس طرح وقت پر پڑھایا کرتے تھے پھر عصر کے لیے اقامت کہی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے عصر بھی اسی طرح پڑھائی جس طرح وقت پر پڑھاتے تھے پھر بلال رضی اللہ عنہ نے نماز مغرب کے لیے اقامت کہی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مغرب بھی اسی طرح پڑھائی پھر نماز عشاء کے لیے اقامت کہی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے نماز عشاء بھی اسی طرح پرسکون ہو کر عاجزی سے پڑھائی۔ راوی کہتے ہیں: یہ نماز خوف کا طریقہ ﴿فَرِجَالًا اَوْ رُكْبَانًا﴾ [البقره: 239] نازل ہونے سے پہلے کی بات ہے۔
وضاحت:
➊ غزوہ خندق کا دوسرا نام غزوہ احزاب ہے جو 5ھ کو پیش آیا اس زمانے کا تمام کفر مل کر مدینہ منورہ پر حملہ آور ہوا کفر کے قائد ابو سفیان رضی اللہ عنہ تھے جو بعد میں مشرف بہ اسلام ہوئے ان کے جھنڈے تلے قریش، عطفانی، خیبر کے یہودی بعد میں مدینہ کے یہودی اور منافقین بھی تھے ان کی مجموعی تعداد دس ہزار سے متجاوز تھی جبکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ تین ہزار جانثار تھے۔
➋ خندق گڑھے کو کہتے ہیں جو سلمان فارسی رضی اللہ عنہ کے مشورے سے مدینہ کے ایک جانب جبل احد اور سبع المساجد کے درمیان کھودی گئی جس کے باعث دشمن کا داخلہ مدینہ میں بند ہو گیا دونوں لشکر دور سے ایک دوسرے پر تیراندازی کرتے رہے جس سے فریقین کا کچھ نقصان بھی ہوا۔ بالآخر اہلِ کفر شکست و ہزیمت کے ساتھ واپس لوٹنے پر مجبور ہو گئے۔
➌ فوت شدہ نمازیں ترتیب سے اداء کی جائیں گی جیسا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس موقع پر کیا۔
➍ فوت شدہ نمازیں با جماعت بھی ادا کی جاسکتی ہیں۔
➎ متعدد نمازیں جمع کرتے ہوئے ایک اذان اور ہر نماز کے لیے علیحدہ علیحدہ اقامت کہی جائے گی۔
➏ نماز فجر کی قضاء کے وقت بھی دورانِ سفر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اذان کا حکم دیا تھا۔ [ديكهئے صحيح بخاري، رقم الحديث: 344، صحيح مسلم، رقم الحديث: 681]
➐ فوت شدہ نمازوں کی قضا میں جلدی کرنی چاہیے تاخیر مناسب نہیں، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: «من نسى صلاة او نام عنها فكفارتها ان يصليها اذا ذكرها» جو شخص نماز پڑھنا بھول گیا یا نماز کی ادائیگی سے سویا رہ گیا تو اس کا کفارہ یہ ہے کہ جب یاد آئے فوراً پڑھ لے۔ [صحيح بخاري، رقم الحديث: 597، صحيح مسلم، رقم الحديث: 684]
➑ قضاء نماز بھی بر وقت نماز کی طرح سکون واطمینان سے اداء کرنی ضروری ہے۔
➒ کفار کی کثرت اہل ایمان کا کچھ نہیں بگاڑ سکتی جبکہ اللہ تعالیٰ کی نصرت شامل حال ہو۔
➓ نماز خوف کا حکم غزوہ خندق کے بعد نازل ہوا۔
⓫ نماز خوف کے متعدد طریقے کتب احادیث میں مذکور ہیں موقع کی مناسبت سے کسی بھی طریقہ کو اختیار کیا جاسکتا ہے۔
⓬ راوی حدیث ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ کا نام سعد بن مالک بن سنان ہے آپ خزرجی، انصاری صحابی ہیں، غزوہ احد کے وقت تیرہ برس کے تھے میدانِ جنگ میں شامل ہونا چاہتے تھے لیکن کم عمری کے باعث رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے واپس کر دیا، آپ کے والد غزوہ احد میں شہید ہوئے۔ آپ غزوہ خندق، غزوہ خیبر، حنین، تبوک، صلح حدیبیہ، فتح مکہ وغیرہ میں شریک ہوئے اور مجاہدین اسلام کے شانہ بشانہ لڑے بروز جمعہ 64ھ آپ مدینہ منورہ میں فوت ہوئے مقبرہ بقیع میں مدفون ہیں۔
حوالہ حدیث السنن المأثورة / باب ما جاء في الصلاة في السفر / حدیث: 1
تخریج حدیث سنن نسائی، الاذان، باب الأذان للفائت من الصلوت، رقم: 661، وقال الالبانی صحیح سنن دارمی، الصلاة باب الحبس عن الصلاة، رقم: 1565۔ وصححه ابن خزيمة و ابن حبان في صحيحهما۔
حدیث نمبر: 2
أَنْبَأَنَا مَالِكُ بْنُ أَنَسٍ ، عَنْ عَمِّهِ أَبِي سُهَيْلِ بْنِ مَالِكٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، أَنَّهُ سَمِعَ طَلْحَةَ بْنَ عُبَيْدِ اللَّهِ ، يَقُولُ : جَاءَ رَجُلٌ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ أَهْلِ نَجْدٍ ثَائِرَ الرَّأْسِ , يُسْمَعُ دَوِيُّ صَوْتِهِ , وَلا يُفْقَهُ مَا يَقُولُ , حَتَّى دَنَا , فَإِذَا هُوَ يَسْأَلُ عَنِ الإِسْلامِ , فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " خَمْسُ صَلَوَاتٍ فِي الْيَوْمِ وَاللَّيْلَةِ " , فَقَالَ : هَلْ عَلَيَّ غَيْرُهَا ؟ قَالَ : " لا , إِلا أَنْ تَطَوَّعَ " , قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " وَصِيَامُ شَهْرِ رَمَضَانَ " , قَالَ : هَلْ عَلَيَّ غَيْرُهُ ؟ قَالَ : " لا , إِلا أَنْ تَطَوَّعَ " , قَالَ : وَذَكَرَ لَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الصَّدَقَةَ , قَالَ : هَلْ عَلَيَّ غَيْرُهَا ؟ قَالَ : " لا , إِلا أَنْ تَطَوَّعَ " , فَأَدْبَرَ الرَّجُلُ وَهُوَ يَقُولُ : وَاللَّهِ لا أَزِيدُ عَلَى هَذَا , وَلا أَنْقُصُ مِنْهُ , فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " أَفْلَحَ إِنْ صَدَقَ " .
نوید مجید طیب
طلحہ بن عبید اللہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے فرماتے ہیں کہ اہل نجد کا ایک آدمی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا جس کے بال بکھرے ہوئے تھے، آواز کی بھنبھناہٹ سنائی پڑ رہی تھی مگر سمجھ نہیں آرہی تھی کہ کیا کہہ رہا ہے حتی کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے قریب آیا تو معلوم ہوا کہ اسلام کے بارے پوچھ رہا ہے تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : اسلام دن رات میں پانچ نمازیں پڑھنا ہے۔اس آدمی نے دریافت کیا: کیا ان پانچ کے علاوہ بھی کوئی نماز مجھ پر فرض ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ”نہیں الا کہ تو نفلی پڑھنا چاہے۔ “ پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ”اور رمضان کے روزے رکھنا بھی فرض ہیں۔“ اس آدمی نے کہا : کیا اس کے علاوہ بھی (روزے ہیں) ؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ”نہیں“ مگر یہ کہ تو نفلی رکھنا چاہیے (تو تیری مرضی۔ راوی لکھتے ہیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے صدقہ (زکاۃ) کا بھی بتایا، وہ آدمی کہنے لگا اس کے علاوہ تو کوئی زکاۃ مجھ پر نہیں ؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”نہیں الا کہ نفلی طور پر صدقہ کرنا چاہیے۔ راوی کہتے ہیں وہ شخص واپس پلٹا اور کہ رہا تھا اللہ کی قسم ! میں نہ اس فریضہ میں اضافہ کروں گا نہ کمی کروں گا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اگر اس نے سچ کہا تو کامیاب ہو گیا۔“
وضاحت:
➊ اس آدمی کا نام شارحین نے حماد بن ثعلبہ رضی اللہ عنہ لکھا ہے، جو پہلے سے مسلمان تھے اس لیے بات کا آغاز نماز سے کیا۔
➋ معلوم ہوا یہ فرضیت حج 9ھ سے قبل کا واقعہ ہے۔
➌ اس حدیث سے معلوم ہوا کہ فلاح کا دارومدار فرائض کی پابندی پر ہے جبکہ سنن و نوافل فرائض کا تکملہ ہیں روز قیامت اگر فرائض میں کمی رہ گئی تو سنن و نوافل سے پوری کی جائے گی۔
➍ دین میں اپنی طرف سے نہ اضافہ کیا جا سکتا ہے کہ پانچ نمازوں کی بجائے چھ فرض کر لی جائیں اور نہ کمی کی جاسکتی ہے کہ تیس روزوں کی جگہ پندرہ فرض سمجھ لیے جائیں۔
➎ اخروی نجات کے لیے محض شہادتین کی ادائیگی ناکافی ہے۔
➏ نوافل کی ادائیگی کا شریعت نے مسلمان کو مکلف نہیں بنایا بلکہ اس کی مرضی و منشا پر موقوف کر دیا۔ البتہ نوافل کی ادائیگی آخرت میں بلندی درجات کا باعث ہے۔
➐ اس حدیث سے دعوت دین کا بہترین انداز اور اسلوب بھی اخذ ہوتا ہے کہ نو مسلم کو پہلے صرف فرائض سے آگاہ فرمایا جائے تاکہ بوجھ محسوس نہ کرے جب دین کی مٹھاس دل میں بیٹھ گئی تو نوافل، سنن پر خود بخود عمل پیرا ہو جائے گا۔
حوالہ حدیث السنن المأثورة / باب ما جاء في الصلاة في السفر / حدیث: 2
تخریج حدیث صحیح بخاری، الايمان، باب الزكاة من الاسلام رقم: 46، صحيح مسلم، الایمان، باب بيان الصلوت التي هي احد ارکان الاسلام رقم: 11۔
حدیث نمبر: 3
أَنْبَأَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ دِينَارٍ ، عَنْ طَاوُسٍ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، " أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أُمِرَ أَنْ يَسْجُدَ عَلَى سَبْعَةِ أَعْظُمٍ , وَنُهِيَ أَنْ يَكُفَّ ثِيَابَهُ وَشَعْرَهُ " . قَالَ لَنَا الطَّحَاوِيُّ : قَالَ لَنَا الْمُزَنِيُّ : وَهِيَ عِنْدِي : يَكْفِتَ .
نوید مجید طیب
سیدنا عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو حکم تھا کہ سات ہڈیوں پر سجدہ کریں اور بال و کپڑے نہ سمیٹیں۔
وضاحت:
➊ سجدہ میں سات اعضاء کا زمین پر لگنا ضروری ہے، جبین مع ناک، دونوں ہاتھوں کی ہتھیلیاں، دونوں گھٹنے، اور دونوں پاؤں کے اگلے حصے۔
➋ اس حدیث میں سجدہ کا طریقہ بیان ہوا ہے جو لوگ سجدہ میں ناک اٹھائے رکھتے ہیں یا ایک پاؤں دوسرے پاؤں پر سوار کر لیتے ہیں ان کا سجدہ سجدہ محمدی نہیں۔
➌ جو لوگ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے نماز سیکھنے کی بجائے لغت سے سیکھنے کی کوشش کرتے ہیں کہ رکوع وسجود مطلق جھکنے کو کہتے ہیں اور اعتدال اطمینان کو ضروری نہیں سمجھتے ان کا بھی اس حدیث میں رد موجود ہے۔
➍ دورانِ نماز بالوں اور کپڑوں کو سنوارنا بھی درست نہیں ہے۔
➎ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم وحی الہی کے اوامر و نواہی کے پابند تھے، اور یہی آپ کے لیے حکم ربانی تھا۔
ارشاد باری تعالیٰ ہے: ﴿اتَّبِعْ مَا أُوحِيَ إِلَيْكَ مِنْ رَبِّكَ لَا إِلَهَ إِلَّا هُوَ وَأَعْرِضْ عَنِ الْمُشْرِكِينَ﴾ [الانعام: 106]
"آپ اس کی پیروی کریں جو آپ کی طرف آپ کے رب کی طرف سے وحی کی گئی ہے اس کے سوا کوئی معبود نہیں اور مشرکوں سے کنارا کر۔"
اسی طرح ایک مقام پر فرمایا: ﴿فَاسْتَمْسِكْ بِالَّذِي أُوحِيَ إِلَيْكَ إِنَّكَ عَلَى صِرَاطٍ مُسْتَقِيمٍ﴾ [الزخرف: 43]
"پس آپ اس کو مضبوطی سے پکڑے رکھیں جو آپ کی طرف وحی کی گئی ہے، یقیناً آپ سیدھے راستے پر ہیں۔"
حوالہ حدیث السنن المأثورة / باب ما جاء في الصلاة في السفر / حدیث: 3
تخریج حدیث صحیح بخاری، الاذان، باب السجود على سبعة اعظم، رقم: 809، صحیح مسلم، الصلاة، باب اعضاء السجود والنهى عن كف الشعر، رقم: 490۔
حدیث نمبر: 4
أَنْبَأَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا ابْنُ طَاوُسٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ : " أُمِرَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ يَسْجُدَ عَلَى سَبْعٍ : عَلَى يَدَيْهِ , وَجَبْهَتِهِ , وَأَنْفِهِ ، وَرُكْبَتَيْهِ , وَأَطْرَافِ أَصَابِعِهِ , وَنُهِيَ أَنْ يَكْفِتَ الشَّعْرَ وَالثِّيَابَ " . قَالَ سُفْيَانُ : وَأَرَانَا ابْنُ طَاوُسٍ , فَوَضَعَ يَدَهُ عَلَى جَبْهَتِهِ , ثُمَّ مَرَّ بِهَا عَلَى أَنْفِهِ , حَتَّى بَلَغَ طَرَفَ أَنْفِهِ , فَقَالَ : كَانَ أَبِي يَعُدُّ هَذَا وَاحِدًا .
نوید مجید طیب
سیدنا عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو حکم دیا گیا کہ سات اعضاء پر سجدہ کریں، اپنے دونوں ہاتھوں، پیشانی، ناک، دونوں گھٹنوں اور پاؤں کی انگلیوں کے اطراف پر اور آپ کو منع کیا گیا کہ نماز کی حالت میں بال اور کپڑے سمیٹیں۔ راوی حدیث سفیان رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ ابن طاؤس رحمہ اللہ نے عملاً اپنے ماتھے پر ہاتھ پھیر کر ناک کی نوک تک لے جا کر ہمیں دکھایا اور فرمایا : میرے والد طاؤس رحمہ اللہ یہ پورا حصہ ایک عضو شمار کرتے تھے۔
وضاحت:
➊ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم بھی وہی کام کرنے کے پابند تھے جو اللہ کا حکم ہوتا، اس سے ایک تو یہ ثابت ہوتا ہے کہ حدیث بھی وحی ہے آپ کو اللہ تعالیٰ نے سات اعضاء پر سجدہ کرنے کا حکم دیا جبکہ یہ حکم قرآن میں موجود نہیں تو ثابت ہوا بعض اللہ کے حکم بذریعہ حدیث معلوم ہوتے ہیں۔
➋ حالت نماز میں بے جا طور پر ہاتھوں کو حرکت دینے، کبھی بال درست کرنے، کبھی کپڑے سمیٹنے یا کوئی بھی ایسی حرکت جو عمل نماز کے منافی ہو اس سے اجتناب کرنا چاہیے۔
➌ بالوں کے جوڑے بنا کر، آستین چڑھا کر داڑھی کو گرہ لگا کر نماز پڑھنا اس حدیث کی روشنی میں منع ہے۔
➍ نماز کھیل تماشہ نہیں بلکہ اللہ تعالیٰ سے ہم کلامی کا ذریعہ ہے۔ اس لیے مؤدب انداز سے عاجزی کے ساتھ کھڑا ہونا چاہیے۔
➎ سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے چچا زاد بھائی ہیں ہجرت مدینہ سے تین سال قبل پیدا ہوئے ترجمان القرآن اور حبر الامہ ان کا لقب ہے آپ نے 68ھ طائف میں وفات پائی آپ کی روایات کی تعداد قریباً سولہ صد ساٹھ ہے۔
حوالہ حدیث السنن المأثورة / باب ما جاء في الصلاة في السفر / حدیث: 4
تخریج حدیث صحیح بخاری، الاذان، باب السجود على الانف، رقم: 812، صحيح مسلم، الصلاة، باب اعضاء السجود والنهي عن كف الشعر .... الخ، رقم: 490۔
حدیث نمبر: 5
وَأَنْبَأَنَا عَبْدُ الْمَجِيدِ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ ، قَالَ : حَدَّثَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ ، قَالَ : أَخْبَرَنِي عِمْرَانُ بْنُ مُوسَى ، قَالَ : أَخْبَرَنِي سَعِيدُ بْنُ أَبِي سَعِيدٍ الْمَقْبُرِيُّ ، أَنَّهُ رَأَى أَبَا رَافِعٍ مَوْلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَرَّ بِحَسَنِ بْنِ عَلِيٍّ عَلَيْهِمَا السَّلامُ يُصَلِّي , قَدْ غَرَزَ ضَفْرَتَهُ فِي قَفَاهُ , فَحَلَّهَا أَبُو رَافِعٍ , فَالْتَفَتَ حَسَنٌ إِلَيْهِ مُغْضَبًا , فَقَالَ أَبُو رَافِعٍ : أَقْبِلْ عَلَى صَلاتِكَ وَلا تَغْضَبْ , فَإِنِّي سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ : " ذَلِكَ كِفْلُ الشَّيْطَانِ " . يَقُولُ : مَقْعَدُ الشَّيْطَانِ , يَعْنِي مَغْرَزَ ضَفْرَتِهِ .
نوید مجید طیب
سعید بن ابی سعید المقبری رحمہ اللہ سے روایت ہے انہوں نے سیدنا ابو رافع رضی اللہ عنہ کو دیکھا، وہ سیدنا حسن بن علی رضی اللہ عنہما کے پاس سے گزرے حسن رضی اللہ عنہما نماز پڑھ رہے تھے اور انہوں نے اپنی گدی میں بالوں کی چوٹی دھنسائی ہوئی تھی تو ابورافع رضی اللہ عنہ مولی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کا جوڑا کھول دیا اس پر حسن بن علی رضی اللہ عنہما نے غصے سے ان کی طرف دیکھا ابو رافع رضی اللہ عنہ نے کہا : نماز جاری رکھیں اور غصہ نہ ہوں بلاشبہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا : جوڑے کا یہ مقام شیطان کی بیٹھک ہے۔
وضاحت:
➊ ابو رافع رضی اللہ عنہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے آزاد کردہ غلام ہیں، اللہ رب العزت نے ان کو فہم و بصیرت دین سے نواز رکھا تھا۔ خلاف سنت ایک عمل کا مشاہدہ کیا فوراً اس کی اصلاح فرما دی۔
➋ غلطی کسی بھی شخصیت سے ممکن ہے البتہ کتاب و سنت سے دلیل مل جانے پر اس کی اصلاح کر لینا یہی اہل علم و دانش کا شیوہ ہے۔
➌ مردوں کے لیے عورتوں کی طرح اپنے بالوں کے جوڑے بنانا درست نہیں
➍ نمازی کی غلطی پر دورانِ نماز بھی اس کی اصلاح کرنا درست ہے۔ جیسا کہ ابو رافع رضی اللہ عنہ نے کیا۔
➎ بعض امور کی انجام دہی شیطان کی خوشنودی کا باعث بنتی ہے مومن و مسلمان ایسے امور سے اجتناب کرتے ہیں۔
حوالہ حدیث السنن المأثورة / باب ما جاء في الصلاة في السفر / حدیث: 5
تخریج حدیث سنن ابی داؤد، الصلاة، باب الرجل يصلى عاقصا شعره، رقم: 646، وقال الالباني: حسن سنن ترمذى الصلاة، باب كراهية كف الشعر في الصلاة، رقم: 384 وقال حسن۔
حدیث نمبر: 6
حَدَّثَنَا مَالِكُ بْنُ أَنَسٍ ، عَنْ زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ ، عَنْ رَجُلٍ مِنْ بَنِي الدِّيلِ يُقَالُ لَهُ : بُسْرُ بْنُ مِحْجَنٍ , عَنْ أَبِيهِ مِحْجَنٍ ، أَنَّهُ كَانَ فِي مَجْلِسٍ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , فَأُذِّنَ بِالصَّلاةِ , فَقَامَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَصَلَّى , ثُمَّ رَجَعَ وَمِحْجَنٌ فِي مَجْلِسِهِ , فَقَالَ لَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " مَا مَنَعَكَ أَنْ تُصَلِّيَ مَعَ النَّاسِ ؟ أَلَسْتَ بِرَجُلٍ مُسْلِمٍ ؟ ! " قَالَ : بَلَى يَا رَسُولَ اللَّهِ , وَلَكِنِّي قَدْ كُنْتُ صَلَّيْتُ فِي أَهْلِي , فَقَالَ لَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " إِذَا جِئْتَ فَصَلِّ مَعَ النَّاسِ , وَإِنْ كُنْتَ قَدْ صَلَّيْتَ " . قَالَ أَبُو جَعْفَرٍ : النَّاسُ كُلُّهُمْ يَقُولُونَ : بُسْرُ بْنُ مِحْجَنٍ غَيْرُ الثَّوْرِيِّ , فَإِنَّهُ يَقُولُ : بِشْرُ بْنُ مِحْجَنٍ . حَدَّثَنَا أَحْمَدُ قَالَ : سَمِعْتُ إِبْرَاهِيمَ بْنَ أَبِي دَاوُدَ الْبُرُلُّسِيَّ يَقُولُ : سَمِعْتُ أَحْمَدَ بْنَ صَالِحٍ مَسْجِدِ الْجَامِعِ قَبْلَ أَنْ يَلْزَمَ بَيْتَهُ يَقُولُ : سَأَلْتُ جَمَاعَةً مِنْ وَلَدِ ابْنِ مِحْجَنٍ هَذَا وَمِنْ رَهْطِهِ عَنِ اسْمِهِ فَمَا اخْتَلَفَ عَلَيَّ مِنْهُمُ اثْنَانِ أَنَّهُ بِشْرٌ كَمَا قَالَ الثَّوْرِيُّ وَلَيْسَ كَمَا قَالَ مَالِكٌ .
نوید مجید طیب
سیدنا محجن رضی اللہ عنہ سے روایت ہے وہ مجلس رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم میں تھے کہ مؤذن نے اذان دی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نماز کے لیے اٹھے، نماز پڑھی پھر واپس آئے تو دیکھا کہ محجن رضی اللہ عنہ اپنی جگہ پر ہی بیٹھے ہیں تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا : تمہیں ہمارے ساتھ نماز پڑھنے سے کس چیز نے روکا، کیا تو مسلمان نہیں؟ محجن رضی اللہ عنہ نے عرض کیا: کیوں نہیں! لیکن میں نے گھر میں نماز پڑھ لی تھی، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جب تم مسجد میں آؤ تو با جماعت نماز پڑھو اگر چہ پہلے اکیلے پڑھ چکے ہو۔
وضاحت:
➊ نماز نہ پڑھنا غیر مسلم کا شیوہ ہے اس لیے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے از راہ تعجب فرمایا: کیا تو مسلمان نہیں؟
➋ معلم اعظم صلی اللہ علیہ وسلم نے وجہ دریافت کی جبکہ پیروکار پہلے فتوی لگاتے ہیں حالانکہ ایسا نہیں کرنا چاہیے۔
➌ اکیلے نماز پڑھی پھر جماعت مل گئی تو جماعت کے ساتھ شامل ہو جائیں پہلی نفل ہو جائے گی عقل پرست کہتے ہیں کہ فجر اور عصر و مغرب دوبارہ نہ پڑھے کیونکہ فجر وعصر کے بعد نفل جائز نہیں اور مغرب تین رکعت ہے اور تین رکعت نفل نہیں ہوتے حالانکہ اگر پہلی نفل ہو جائے تو عصر و فجر کا اشکال رفع ہو جاتا ہے۔
➍ مزید مسائل کے لیے دیکھئے حدیث نمبر 8۔
حوالہ حدیث السنن المأثورة / باب ما جاء في الصلاة في السفر / حدیث: 6
تخریج حدیث سنن نسائی، الامامة، باب اعادة الصلاة مع الجماعة بعد صلاة الرجل لنفسه، رقم: 857 وقال الالباني : صحيح، وصححه ابن حبان في صحيحه والحاكم في المستدرك 1/244.
حدیث نمبر: 7
عَنْ سُفْيَانَ بْنِ عُيَيْنَةَ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ دِينَارٍ ، سَمِعَ جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ ، يَقُولُ : كَانَ مُعَاذُ بْنُ جَبَلٍ يُصَلِّي مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْعِشَاءَ , أَوْ قَالَ : الْعَتَمَةَ , ثُمَّ يَرْجِعُ فَيُصَلِّيهَا بِقَوْمِهِ فِي بَنِي سَلِمَةَ , قَالَ : فَأَخَّرَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ صَلاةَ الْعِشَاءِ أَوْ قَالَ الْعَتَمَةِ ذَاتَ لَيْلَةٍ , قَالَ : فَصَلَّى مُعَاذٌ مَعَهُ , ثُمَّ رَجَعَ , فَأَمَّ قَوْمَهُ , فَقَرَأَ سُورَةَ الْبَقَرَةِ , فَتَنَحَّى رَجُلٌ مِنْ خَلْفِهِ فَصَلَّى وَحْدَهُ , فَقِيلَ لَهُ : أَنَافَقْتَ ؟ قَالَ : لا , وَلَكِنِّي آتِي النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَأُخْبِرُهُ , فَأَتَى النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ : يَا رَسُولَ اللَّهِ , إِنَّكَ أَخَّرْتَ الْعِشَاءَ , وَإِنَّ مُعَاذًا صَلَّى مَعَكَ , ثُمَّ رَجَعَ فَأَمَّنَا , فَافْتَتَحَ سُورَةَ الْبَقَرَةِ , فَلَمَّا رَأَيْتُ ذَلِكَ تَأَخَّرْتُ فَصَلَّيْتُ , وَإِنَّمَا نَحْنُ أَصْحَابُ نَوَاضِحَ , نَعْمَلُ بِأَيْدِينَا , فَأَقْبَلَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى مُعَاذٍ فَقَالَ : " أَفَتَّانٌ أَنْتَ يَا مُعَاذُ ؟ ! أَفَتَّانٌ أَنْتَ ؟ ! اقْرَأْ بِسُورَةِ كَذَا , وَسُورَةِ كَذَا " .
نوید مجید طیب
سیدنا جابر بن عبد اللہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں سیدنا معاذ رضی اللہ عنہ نماز عشاء با جماعت نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ پڑھ کر واپس جا کر اپنی قوم بنی سلمہ کو عشاء کی جماعت کراتے تھے ایک رات نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے نماز عشاء تاخیر سے اداء کی سیدنا معاذ رضی اللہ عنہ نے نماز رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پیچھے پڑھی پھر جا کر قوم کی امامت کرائی اور سورہ بقرہ شروع کر دی۔ ایک آدمی علیحدہ ہو گیا اور اس نے اکیلے نماز پڑھی۔ اسے کہا گیا: کیا تو منافق ہے؟ اس نے کہا: نہیں لیکن میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس جاؤں گا اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو آگاہ کروں گا۔ وہ صبح نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس حاضر ہوا، اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے عرض کیا: اے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم! آپ نے عشاء تاخیر سے پڑھائی اور سیدنا معاذ رضی اللہ عنہ نے آپ کے ساتھ نماز پڑھی پھر واپس آکر ہمیں امامت کرائی اور سورۃ بقرۃ شروع کر دی، جب میں نے یہ دیکھا تو پیچھے ہٹ گیا اور اپنی علیحدہ نماز پڑھ لی ہم مزدور لوگ ہیں اونٹوں پر پانی لاتے ہیں یہ سن کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم معاذ رضی اللہ عنہ کی طرف متوجہ ہوئے اور فرمایا: اے معاذ! کیا تو فتنہ پھیلانے والا ہے؟ کیا تو فتنہ پھیلانے والا ہے؟ یہ یہ یعنی چھوٹی چھوٹی سورتیں پڑھ لیا کر۔
حوالہ حدیث السنن المأثورة / باب ما جاء في الصلاة في السفر / حدیث: 7
تخریج حدیث صحیح بخاری، الاذان، باب اذا طول الامام، رقم: 701، صحيح مسلم، الصلاة، باب القرأة في العشاء، رقم: 465.
حدیث نمبر: 8
حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، مِثْلَهُ , وَزَادَ : إِنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ لَهُ : " اقْرَأْ بِ سَبِّحِ اسْمَ رَبِّكَ الأَعْلَى , وَاللَّيْلِ إِذَا يَغْشَى , وَالسَّمَاءِ وَالطَّارِقِ وَنَحْوِهَا " . قَالَ سُفْيَانُ : فَقُلْتُ لِعَمْرِو بْنِ دِينَارٍ : إِنَّ أَبَا الزُّبَيْرِ يَقُولُ : قَالَ لَهُ : " اقْرَأْ بِسَبِّحِ اسْمَ رَبِّكَ الأَعْلَى , وَاللَّيْلِ إِذَا يَغْشَى , وَالسَّمَاءِ وَالطَّارِقِ " . فَقَالَ عَمْرٌو : هُوَ هَذَا , أَوْ نَحْوُ هَذَا .
نوید مجید طیب
ابو زبیر رحمہ اللہ نے سابقہ روایت کی طرح سیدنا جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ سے روایت کیا اس میں اتنا اضافہ ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : سورۃ الاعلیٰ، سورۃ اللیل، سورۃ الطارق اور ان جیسی چھوٹی سورتیں پڑھ لیا کر راوی کہتے ہیں یہ یا اس طرح کی اور چھوٹی چھوٹی سورتیں پڑھنے کا حکم دیا۔
وضاحت:
➊ سیدنا معاذ رضی اللہ عنہ کی پہلی نماز فرضی اور دوسری نفلی شمار ہوتی تھی۔
➋ امام و مقتدی کی نیت ایک جیسی ہونا ضروری نہیں۔
➌ شریعت میں آسانیاں ہیں اور عقل سے شریعت مقدم ہے۔
➍ نماز عشاء میں آدمی اگر اس وقت پہنچے کہ امام نماز تراویح پڑھا رہا ہو تو فرض کی نیت سے امام کے ساتھ اس حدیث کی روشنی میں شامل ہو جانا چاہیے امام سلام پھیر دے تو کھڑے ہو کر بقیہ نماز پوری کر لے۔ اسی طرح آدمی ظہر پڑھنے مسجد میں آئے اور عصر کی جماعت ہو رہی ہو تو اسے ظہر کی نیت سے شامل ہو جانا چاہیے بعد میں عصر اپنی پڑھ لے۔
➎ اس حدیث میں اس بات کی طرف بھی رہنمائی ہے کہ آئمہ مساجد کو اپنی ذمہ داری کا احساس ہونا چاہیے جماعت کا اتفاق نہ توڑیں نیکی اگر فتنہ کا سبب بن رہی ہو تو متبادل جائز عمل اپنا لیں۔
➏ مزدور پیشہ لوگوں کے امام کو مختصر قراءت پر اکتفاء کرنا چاہیے باقی تقوی اکیلے میں قراءت کر کے پورا کر لینا چاہیے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم بھی بیماروں، معذوروں، اور بچوں کا خیال رکھتے تھے۔
➐ امام کی ذمہ داری محض جماعت کرانا ہی نہیں بلکہ اتفاق اتحاد برقرار رکھنا بھی امام کی ذمہ داری ہے۔
➑ نماز عشا میں چھوٹی سورتوں کی قرآت مسنون ہے البتہ نماز فجر میں لمبی قرآت کرنا اولی ہے۔
➒ فہیم و صاحب بصیرت انسان سے غلطی ہو جائے تو سخت الفاظ سے مواخذہ جائز ہے۔
➓ سیدنا معاذ بن جبل خزرجی انصاری رضی اللہ عنہ ہیں امام الفقہاء لقب ہے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کو یمن کا گورنر بنایا امیر المومنین سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے شام کا گورنر تعینات کیا نبوی ہجرت سے 18 سال قبل پیدا ہوئے 18 ھ کو 36 سال کی عمر میں عین جوانی کے عالم میں طاعون کی بیماری سے شام کے علاقوں میں کفر کے خلاف اسلامی سرحدوں کا پہرہ دیتے ہوئے وفات پائی۔
حوالہ حدیث السنن المأثورة / باب ما جاء في الصلاة في السفر / حدیث: 8
تخریج حدیث تخريج الحدیث: صحيح مسلم، الصلاة، باب القرأة في العشاء، رقم: 465.
حدیث نمبر: 9
وَأَنْبَأَنَا وَأَنْبَأَنَا عَبْدُ الْمَجِيدِ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ بْنِ أَبِي رَوَّادٍ ، عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ دِينَارٍ ، قَالَ : أَخْبَرَنِي جَابِرُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الأَنْصَارِيُّ ، قَالَ : كَانَ مُعَاذُ بْنُ جَبَلٍ " يُصَلِّي مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْعِشَاءَ , ثُمَّ يَنْطَلِقُ إِلَى قَوْمِهِ , فَيُصَلِّيهَا لَهُمْ , هِيَ لَهُ تَطَوُّعٌ , وَهِيَ لَهُمُ الْمَكْتُوبَةُ الْعِشَاءُ " .
نوید مجید طیب
جابر بن عبداللہ انصاری رضی اللہ عنہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کرتے ہیں کہ معاذ رضی اللہ عنہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ نماز عشاء پڑھتے پھر جا کر اپنی قوم کو نماز عشاء پڑھاتے جو ان کی نفلی نماز ہوتی اور لوگوں کی فرضی شمار ہوتی۔
وضاحت:
➊ معلوم ہوا سیدنا معاذ رضی اللہ عنہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی اقتداء میں فرض ادا کرتے اور بعد میں بطور امام نوافل پڑھتے تھے۔
➋ فرض ادا کرنے والے کے پیچھے متنفل اور نفل پڑھنے والے کے پیچھے فرائض کی ادائیگی درست ہے۔
➌ سیدنا جابر بن عبد اللہ بن حرام رضی اللہ عنہ کے والد بیعت عقبہ ثانیہ میں شامل ہوئے، غزوہ احد میں شہید ہوئے سیدنا جابر رضی اللہ عنہ 19 غزوات میں صف اول کے مجاہد رہے اور انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا حج اور غزوات کے واقعات خوب محفوظ کئے اور ان کو بیان کیا۔ ان کی وفات مدینہ میں 74 ھ اور بعض روایات کے مطابق 78 ھ میں ہوئی ہے جنازہ ابان بن عثمان رحمہ اللہ نے پڑھایا مرویات کی تعداد 1540 بتائی جاتی ہے۔
حوالہ حدیث السنن المأثورة / باب ما جاء في الصلاة في السفر / حدیث: 9
تخریج حدیث سنن دار قطني: 1/274,275، السنن الكبرى للبيهقي: 3/86.
حدیث نمبر: 10
أَنْبَأَنَا عَبْدُ الْوَهَّابِ بْنُ عَبْدِ الْمَجِيدِ الثَّقَفِيُّ ، عَنْ أَيُّوبَ السَّخْتِيَانِيِّ ، عَنْ أَبِي قِلابَةَ ، قَالَ : جَاءَنَا مَالِكُ بْنُ الْحُوَيْرِثِ , فَصَلَّى فِي مَسْجِدِنَا , وَقَالَ : وَاللَّهِ , إِنِّي لأُصَلِّي وَمَا أُرِيدُ الصَّلاةَ , وَلَكِنِّي أُرِيدُ أَنْ أُرِيَكُمْ كَيْفَ رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُصَلِّي , فَذَكَرَ أَنَّهُ يَقُومُ مِنَ الرَّكْعَةِ الأُولَى إِذَا أَرَادَ أَنْ يَنْهَضَ , قَالَ : قُلْتُ : كَيْفَ صَلَّى ؟ قَالَ : مِثْلَ صَلاتِي هَكَذَا " .
نوید مجید طیب
ابو قلابہ رحمہ اللہ کہتے ہیں مالک بن حویرث رضی اللہ عنہ ہمارے پاس تشریف لائے ہماری مسجد میں نماز پڑھی اور فرمایا: اللہ کی قسم میں نماز پڑھاؤں گا اور میری نیت نماز کی نہیں لیکن میں تمہیں نماز کا وہ طریقہ دکھانا چاہتا ہوں جس طریقے پر میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو نماز پڑھتے دیکھا۔ پھر انہوں نے پہلی رکعت کے بعد کھڑا ہونے کا طریقہ ذکر کیا راوی کہتے ہیں میں نے کہا کیسے نماز پڑھی جواب دیا کہ میری اس نماز کی طرح۔
حوالہ حدیث السنن المأثورة / باب ما جاء في الصلاة في السفر / حدیث: 10
تخریج حدیث سنن ابی داؤد، الصلاة، باب النهوض في الفرد، رقم: 843 وقال الالباني: صحيح.
حدیث نمبر: 11
وَأَخْبَرَنَا عَبْدُ الْوَهَّابِ ، عَنْ خَالِدٍ الْحَذَّاءِ ، عَنْ أَبِي قِلابَةَ ، مِثْلَهُ , غَيْرَ أَنَّهُ قَالَ : فَكَانَ مَالِكٌ إِذَا رَفَعَ رَأْسَهُ مِنَ السَّجْدَةِ الآخِرَةِ فِي الرَّكْعَةِ الأُولَى فَاسْتَوَى قَاعِدًا قَامَ وَاعْتَمَدَ عَلَى الأَرْضِ .
نوید مجید طیب
خالد الحذاء رحمہ اللہ کی روایت میں اتنا اضافہ ہے کہ سیدنا مالک بن حویرث رضی اللہ عنہ جب پہلی رکعت کے دوسرے سجدے سے سر اٹھاتے تو سیدھے بیٹھ جاتے کھڑے ہوتے ہوئے ہاتھ زمین پر ٹیکتے نہ کہ گھٹنے پکڑ کر کھڑے ہوتے۔
وضاحت:
➊ سیدنا مالک بن حویرث رضی اللہ عنہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی زندگی کے آخری سالوں میں آپ کے پاس رہے قبیلے کے ہم عمر نوجوانوں کے ساتھ مدینہ طیبہ آئے، اور انہوں نے مدینہ میں بیس دن قیام فرمایا، دورانِ قیام انہوں نے دین کے بنیادی امور کی تعلیم پائی، نماز اور اس سے متعلقہ مسائل خوب سیکھے۔
➋ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان ہے: «صَلُّوْا كَمَا رَأَيْتُمُونِي أُصَلَّى» تم اس طرح نماز پڑھو جس طرح تم نے مجھے پڑھتے ہوئے دیکھا۔ اس کو نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے سیدنا مالک بن حویرث رضی اللہ عنہ نے بیان کیا اور عملی طور پر لوگوں کو نماز نبوی کی تعلیم بھی ارشاد فرمائی۔ [صحيح بخاري، رقم الحديث: 631]
➌ بلا سبب و ضرورت محض تعلیم کے لیے نماز کی ادائیگی کرنا درست ہے۔
➍ وہی نماز عند اللہ مقبول و منظور ہے جو طریقہ نبوی سے مماثلت و مطابقت رکھتی ہوگی۔
➎ جلسہ استراحت مسنون عمل ہے۔
➏ جلسہ استراحت سے متعلق بعض الناس کا یہ تاویل پیش کرنا کہ اس کا تعلق نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے بڑھاپے سے ہے، لہذا اس پر عمل ضروری نہیں باطل ہے۔ سنت نبوی کا صدور کسی بھی صورت اور حالت میں ہوا ہو وہ قابل اتباع ہے۔
حوالہ حدیث السنن المأثورة / باب ما جاء في الصلاة في السفر / حدیث: 11
تخریج حدیث سنن الترمذى الصلاة، باب ماجاء كيف النهوض من السجود رقم 287 وقال حسن صحيح وقال الالباني: صحيح.
حدیث نمبر: 12
أَنْبَأَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ زَيْدِ بْنِ جُدْعَانَ ، عَنْ أَبِي نَضْرَةَ ، قَالَ : مَرَّ عِمْرَانُ بْنُ حُصَيْنٍ بِمَجْلِسِنَا , فَقَامَ إِلَيْهِ فَتًى مِنَ الْقَوْمِ , فَسَأَلَهُ عَنْ صَلاةِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي الْغَزْوِ وَالْحَجِّ وَالْعُمْرَةِ , فَجَاءَ فَوَقَفَ عَلَيْنَا , فَقَالَ : إِنَّ هَذَا سَأَلَنِي عَنْ أَمْرٍ , فَأَرَدْتُ أَنْ تَسْمَعُوهُ , أَوْ كَمَا قَالَ : غَزَوْتُ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , فَلَمْ يُصَلِّ إِلا رَكْعَتَيْنِ حَتَّى رَجَعَ إِلَى الْمَدِينَةِ , وَحَجَجْتُ مَعَهُ , فَلَمْ يُصَلِّ إِلا رَكْعَتَيْنِ حَتَّى رَجَعَ إِلَى الْمَدِينَةِ , وَشَهِدْتُ مَعَهُ الْفَتْحَ , فَأَقَامَ بِمَكَّةَ ثَمَانِ عَشْرَةَ لَيْلَةً , لا يُصَلِّي إِلا رَكْعَتَيْنِ , ثُمَّ يَقُولُ لأَهْلِ الْبَلَدِ : " صَلُّوا أَرْبَعًا , فَإِنَّا سَفْرٌ " , وَاعْتَمَرْتُ مَعَهُ ثَلاثَ عُمَرٍ لا يُصَلِّي إِلا رَكْعَتَيْنِ وَحَجَجْتُ مَعَ أَبِي بَكْرٍ , وَغَزَوْتُ , فَلَمْ يُصَلِّ إِلا رَكْعَتَيْنِ حَتَّى رَجَعَ إِلَى الْمَدِينَةِ , وَحَجَجْتُ مَعَ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ حَجَّاتٍ , فَلَمْ يُصَلِّ إِلا رَكْعَتَيْنِ حَتَّى رَجَعَ إِلَى الْمَدِينَةِ , وَحَجَّ عُثْمَانُ سَبْعَ سِنِينَ مِنْ إِمَارَتِهِ لا يُصَلِّي إِلا رَكْعَتَيْنِ , ثُمَّ صَلاهَا بِمِنًى أَرْبَعًا .
نوید مجید طیب
ابونصرہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ سیدنا عمران بن حصین رضی اللہ عنہ کا گزر ہماری مجلس سے ہوا تو قوم کا ایک نوجوان کھڑا ہوا اور اُن سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی نماز کے بارے میں سوال کیا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم غزوات، حج، عمرہ میں کتنی رکعات پڑھتے تھے؟ سیدنا عمران بن حصین رضی اللہ عنہ آئے اور ہم میں کھڑے ہو کر فرمانے لگے اس نوجوان نے ایک اہم سوال کیا ہے میں چاہتا ہوں اس کا جواب تم بھی سنو یا اس طرح کا کوئی کلمہ کہا۔ فرمایا: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ جہاد کیا آپ صلی اللہ علیہ وسلم غزوات میں دو دو رکعات ہی پڑھتے حتی کہ مدینہ واپس لوٹ آتے اور میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ حج بھی کیا آپ دو دو ہی رکعات پڑھتے حتی کہ مدینہ واپس لوٹ آتے اور میں فتح مکہ کے موقع پر بھی شریک ہوا، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اٹھارہ راتیں مکہ میں قیام کیا اس دوران دو رکعتیں ہی پڑھتے رہے پھر اہل مکہ کو کہتے کہ تم چار رکعات مکمل پڑھ لو ہم مسافر ہیں۔ سیدنا عمران رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے عمرہ و حج سیدنا ابو بکر رضی اللہ عنہ کے ساتھ بھی کیا غزوات میں بھی شریک ہوا ابو بکر رضی اللہ عنہ بھی دو رکعتیں ہی پڑھتے حتی کہ مدینہ واپس لوٹ آتے، میں نے سیدنا عمر فاروق رضی اللہ عنہ کے ساتھ بھی متعدد حج کیے۔ آپ بھی دو ہی رکعات پڑھتے حتی کہ مدینہ واپس آتے سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ نے اپنی خلافت میں سات سال حج کیا وہ بھی دو ہی رکعتیں پڑھتے پھر منی میں چار رکعتیں پڑھی۔
وضاحت:
➊ شروع اسلام میں حضر و سفر کی نماز کی رکعات یکساں فرض کی گئیں بعد ازاں حضر کی رکعات میں اضافہ ہو گیا جبکہ سفر کی نماز دو رکعات ہی رہیں۔ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ: «فرض الله الصلاة حين فرضها ركعتين ركعتين فى الحضر والسفر فاقرت صلاة السفر و زيد فى صلاة الحضر» اللہ تعالیٰ نے پہلے نماز میں دو دو رکعت فرض کی تھی سفر میں بھی اور حالت اقامت میں بھی، پھر سفر کی نماز تو اپنی اصلی حالت پر باقی رہی البتہ حالت اقامت کی نمازوں میں اضافہ کر دیا گیا [صحيح بخاري، رقم الحديث: 350، صحيح مسلم، رقم الحديث: 685]
➋ اس حدیث سے ثابت ہوتا ہے کہ سفر میں نماز قصر اداء کی جائے گی یعنی جو نماز آدھی ہو سکتی ہے وہ آدھی دو رکعات پڑھی جائے گی فجر پہلے ہی دو رکعات ہے دو رکعات ہی پڑھی جائے گی۔ نماز مغرب کی تین رکعات فرض ہیں تو تین ہی پڑھیں گے ڈیڑھ رکعت یا دو رکعت نہیں ہوگی البتہ سفر میں فجر کی سنتوں اور نماز وتر کا اہتمام کرنا بھی مسنون ہے۔
➌ شریعت نے مقدار سفر مقرر نہیں کی بلکہ عرف عام پر چھوڑ دیا ہے، جس کو لگے کہ وہ سفر کر رہا ہے اپنی آبادی، بستی سے نکلتے ہی نماز قصر شروع ہو جائے گی حتیٰ کہ اقامت گاہ پر پہنچ جائے۔ دوران سفر دو رکعات ہی پڑھے گا۔
➍ انسان کی اقامت گاہ دو طرح کی ہوتی ہے: (1) اقامت مستقلہ ... جو آدمی کا اپنا گھر ہے جدھر ہمیشہ رہتا ہے۔ وہ اقامت مستقلہ ہے۔
(2) اقامت موقتہ ... جہاں عارضی طور پر رہائش پذیر ہے جیسے سرکاری ملازم، ہاسٹل میں طلبہ، کاروباری حضرات جو عارضی رہائش رکھے ہوئے ہیں، طلبہ عرب ممالک جاتے ہیں بطور علامت اقامت شناختی کارڈ حاصل کرتے ہیں جو اقامت موقتہ کی واضح دلیل ہوتی ہے۔ تو اس طرح کی دونوں اقامت گاہوں میں پوری نماز ادا کرنا ہو گی، بعض طلبہ سعودی عرب میں چار سال تعلیم کے لیے جاتے ہیں اس دوران قصر نماز ادا کرتے ہیں ان کا نظریہ یہ ہوتا ہے کہ جب تک سعودی نیشنلٹی نہیں دیتا ہم قصر پڑھیں گے ہم مسافر ہیں ایسا عمل ہمارے نزدیک درست نہیں کیونکہ اقامت موقتہ کے احکام اقامت مستقلہ کے ہی ہیں۔
➎ سفر کی مقدار مسافت کسی نے نو میل، کسی نے 84 کلومیٹر کسی نے ایک دن رات کی مسافت اور کسی نے تین دن تین رات کی مسافت مقرر کی ہے یہ علماء کرام کے اپنے اپنے استدلال اور اجتہاد ہیں اس طرح کی قید کے مسئلہ میں کوئی واضح نص موجود نہیں سفر چونکہ ایک جیسے نہیں ہوتے اس لیے شریعت کو متعین کرنے کی ضرورت تھی۔
➏ ایک مسافر کتنے دن تک نماز قصر کر سکتا ہے اس سلسلہ میں جو مختلف اقوال ہیں: جائے پڑاؤ کے بارے میں احتیاط کے پیش نظر بعض نے کہا ہے کہ اگر سفر کا علم ہو جائے کہ اتنے دن بعد سفر کروں گا تو صرف چار دن قصر کرے پھر پوری نماز پڑھے اور اگر صورت حال غیر یقینی ہو تو جائے پڑاؤ پر چاہے پورا سال قیام کرے نماز قصر ہی ادا کرے گا۔ راقم کے نزدیک یقینی و غیر یقینی صورت حال کی بھی کوئی نص نہیں محض احتیاط ہی ہے۔ ہاں شاید یہ علماء چار ایام کے بعد اقامت موقتہ تصور کر لیتے ہیں۔
➐ حج وعمرہ والے اگر نماز اکیلے پڑھیں تو نماز قصر کریں گے اگر مقامی امام کی اقتداء میں پڑھیں تو پوری پڑھنا ہوگی۔
➑ سفر میں عام نوافل کوئی پڑھنا چاہے تو اجازت ہے اور مسنون ہے۔
➒ سفر جہاد اور سفر حج و عمرہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور خلفاء عظام نے قصر نماز ہی اداء کی سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ بھی چند سال نماز قصر ہی سفر حج میں ادا فرماتے تھے پھر منی میں چار رکعات یعنی مقیم کی نماز پڑھائی، تو بعض صحابہ نے اس پر اعتراض بھی کیا۔
➓ دوران سفر مکمل نماز پڑھنا بھی جائز ہے جیسا کہ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا دوران سفر نماز مکمل پڑھتی تھیں۔ [صحيح بخاري، رقم الحديث: 1090]
⓫ سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ کی منی میں مکمل نماز سے متعلق علماء کرام نے مختلف توجیہات بیان کی ہیں، بعض کا کہنا ہے کہ سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ نے چونکہ مکہ میں جائیداد بنالی تھی اس لیے وہ وہاں مکمل نماز پڑھتے تھے مولانا داؤد راز رحمہ اللہ لکھتے ہیں: سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ نے منی میں پوری نماز پڑھی تو فرمایا: میں نے یہ اس لیے کیا کہ بہت سے عوام مسلمان جمع ہیں ایسا نہ ہو کہ وہ نماز کی دو رکعت ہی سمجھ لیں۔ [حواله كتاب الصلاة من صحيح البخاري، ترجمه و شرح مولانا داؤد راز رحمه الله]
⓬ بعض حضرات کہتے ہیں اس وقت اونٹ گدھے گھوڑے پر سفر تھا اب سفر کی جدید ترین اور تیز رفتار سہولیات میسر ہیں لہذا قصر کی کیا ضرورت ہے؟ اس کا جواب یہ ہے کہ ٹیکنالوجی سنت رسول کو ختم نہیں کر سکتی یہی بات سیدنا یعلی بن امیہ رضی اللہ عنہ نے سیدنا عمر رضی اللہ عنہ سے دریافت کی کہ اب سفر پر امن ہو گئے ہیں تو سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا: میں نے یہی سوال رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے کیا تھا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: «صدقة تصدق الله بها عليكم فاقبلوا صدقته» یہ نماز قصر صدقہ ہے جو اللہ تعالیٰ نے تم پر کیا ہے، لہذا تم اللہ تعالیٰ کے صدقہ کو قبول کرو۔ [صحيح مسلم، رقم الحديث: 686]
⓭ بالا حدیث سے یہ بھی ثابت ہوا کہ اگر کوئی اہم سوال ہو تو داعی، معلم کو دیگر لوگوں کو متوجہ کرانا چاہیے تاکہ سب لوگوں کو دین کا علم ہو جائے۔
⓮ سیدنا عمران رضی اللہ عنہ نے اپنے جواب کے دلائل میں سنت رسول کے علاوہ خلفاء الراشدین کے عمل کا بھی تذکرہ فرمایا اور یہی عمل صالح کی معراج ہے کہ اس کے دلائل وحی سے ماخوذ ہوں اور اصحاب رسول اس پر عمل پیرا رہے ہوں۔
لوٹ جا عہد نبی کی سمت رفتار جہاں
پھر مری پسماندگی کو ارتقا در کار ہے
حوالہ حدیث السنن المأثورة / باب ما جاء في الصلاة في السفر / حدیث: 12
تخریج حدیث تخريج الحديث: مسند احمد: 33/104، رقم: 19871 وقال الارنوؤط: اسناده ضعیف، سنن ابی داؤد، الصلاة، باب متى يتم المسافر، رقم: 1229، مختصرا وقال الالباني: ضعيف.
حدیث نمبر: 13
وَأَنْبَأَنَا عَبْدُ الْوَهَّابِ بْنُ عَبْدِ الْمَجِيدِ الثَّقَفِيُّ ، عَنْ أَيُّوبَ السَّخْتِيَانِيِّ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ سِيرِينَ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ، " أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يُسَافَرُ مِنَ الْمَدِينَةِ إِلَى مَكَّةَ آمِنًا لا يَخَافُ إِلا اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ , يُصَلِّي رَكْعَتَيْنِ " .
نوید مجید طیب
سیدنا عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مدینہ سے مکہ کا سفر امن میں کرتے اللہ کے سواء کسی کا خوف نہ تھا اس کے باوجود نماز قصر دو رکعتیں پڑھتے۔
وضاحت:
➊ اس حدیث سے معلوم ہوا نماز قصر صرف حالت جنگ یا دشمن کے خوف کے ساتھ خاص نہیں، پُر امن سفر میں بھی نماز قصر سنت ہے۔
➋ مزید دیکھئے فوائد حدیث نمبر 15۔
حوالہ حدیث السنن المأثورة / باب ما جاء في الصلاة في السفر / حدیث: 13
تخریج حدیث سنن ترمذى السفر، باب ماجاء في التقصير في السفر، رقم : 547 وقال هذا حديث صحيح ، وقال الالبانی: صحیح سنن نسائی، تقصير الصلاة في السفر، رقم : 1435
حدیث نمبر: 14
حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَهَّابِ بْنُ عَبْدِ الْمَجِيدِ الثَّقَفِيُّ ، عَنْ أَيُّوبَ ، عَنْ أَبِي قِلابَةَ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ، " أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ صَلَّى الظُّهْرَ بِالْمَدِينَةِ أَرْبَعًا , وَصَلَّى الْعَصْرَ بِذِي الْحُلَيْفَةِ رَكْعَتَيْنِ " , قَالَ : وَأَحْسَبُهُ قَالَ : بَاتَ بِهَا حَتَّى أَصْبَحَ .
نوید مجید طیب
سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے مدینہ میں چار رکعات نماز پڑھائی پھر مدینہ سے سفر شروع کیا اور عصر ذی الحلیفہ مقام پر دو رکعت پڑھائی راوی کہتے ہیں کہ میرا خیال ہے سیدنا انس رضی اللہ عنہ نے یہ بھی کہا تھا نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ذی الحلیفہ کے مقام پر رات گزاری حتی کہ صبح ہو گئی۔
وضاحت:
➊ یہ حدیث اس بات کی دلیل ہے کہ سفر شروع ہونے کے ساتھ ہی نماز قصر شروع ہو جاتی ہے۔ ذی الحلیفہ اہل مدینہ اور جو اس سمت سے حج یا عمرہ کے لیے جانے والے ہیں ان کا میقات ہے جس کا موجودہ نام آبیار علی ہے۔
➋ اس حدیث میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے سفر حج کا بیان ہے آپ کی پہلی منزل یہی مقام تھا یہاں پڑاؤ کیا دوسرے دن ظہر کی نماز کے بعد احرام باندھا اور کوچ فرمایا۔
حوالہ حدیث السنن المأثورة / باب ما جاء في الصلاة في السفر / حدیث: 14
تخریج حدیث صحيح بخارى، الحج، باب من بات بذي الحليفة حتى أصبح، رقم: 1547 ، صحیح مسلم، المساجد ومواضع الصلاة، باب صلاة المسافرين وقصرها، رقم : 690
حدیث نمبر: 15
أَخْبَرَنَا عَبْدُ الْمَجِيدِ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ بْنِ أَبِي رَوَّادٍ ، وَمُسْلِمُ بْنُ خَالِدٍ , وَغَيْرُهُمَا قَالُوا : أَنْبَأَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ ، قَالَ : سَمِعْتُ ابْنَ أَبِي عَمَّارٍ ، يُحَدِّثُ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ بَابَاهْ ، عَنْ يَعْلَى بْنِ أُمَيَّةَ ، قَالَ : قُلْتُ لِعُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ : إِنَّمَا قَالَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ : أَنْ تَقْصُرُوا مِنَ الصَّلاةِ إِنْ خِفْتُمْ أَنْ يَفْتِنَكُمُ الَّذِينَ كَفَرُوا سورة النساء آية 101 وَقَدْ أَمِنَ النَّاسُ ! فَقَالَ عُمَرُ : عَجِبْتُ مِمَّا عَجِبْتَ مِنْهُ , فَسَأَلْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , فَقَالَ : " صَدَقَةٌ تَصَدَّقَ اللَّهُ بِهَا عَلَيْكُمْ , فَاقْبَلُوا صَدَقَتَهُ " .
نوید مجید طیب
سیدنا یعلی بن امیہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہتے ہیں میں نے سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ سے عرض کیا کہ اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے جب تم سفر میں ہو تو تم پر نمازوں کے قصر کرنے میں کوئی گناہ نہیں ، اگر تمہیں ڈر ہو کہ کافر تمہیں ستائیں گے۔ سورۃ النساء، آیت نمبر: 101 اب لوگ امن میں ہیں کسی دشمن کا خوف نہیں پھر قصر کیوں؟ تو سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا : میں نے بھی اسی بات پر تعجب کیا تھا جس پر تمہیں تعجب ہے میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے یہی سوال کیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : نماز قصر اللہ کی طرف سے تم پر صدقہ ہے لہذا تم اللہ کا صدقہ قبول کرو۔
وضاحت:
➊ اس حدیث میں رہ نمائی ہے کہ جس بات کا پتہ نہ ہو اپنے سے علم میں بڑے سے پوچھ لینی چاہیے۔ شفاء العی السوال۔
➋ سیدنا یعلی بن امیہ رضی اللہ عنہ نے سوچا اب سب مسلمان ہو گئے ہیں کسی جنگ کا خطرہ نہیں تو نماز ابھی بھی قصر ہے کیونکہ آیت قرآنی کہتی ہے سفر میں قصر اس صورت میں ہے جب تمہیں دشمن کا ڈر ہو اب دشمن تو رہا نہیں پھر قصر کیوں؟ تو اس کا جواب خود رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے مل گیا کہ آیت کے نزول کے وقت کفار کے حملے کا ڈر تھا اس لیے اس کا ذکر آیت میں آیا ہے وگر نہ یہ حکم تا قیامت باقی ہے۔
➌ احادیث رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے بغیر فہم قرآن ممکن نہیں اور احادیث قرآنی آیات کی بہترین تفسیر ہیں۔
➍ سنت پر عمل کرنے سے سکون ملتا ہے اجر ملتا ہے سنت زندہ ہوتی ہے۔ امن سکون، سہولت، نت نئی ایجادات مسنون عمل کو ختم نہیں کرسکتیں۔
➎ سیدنا یعلی بن امیہ رضی اللہ عنہ فتح مکہ کے دن مسلمان ہوئے، غزوہ طائف،حنین اور تبوک میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے شریک سفر رہے۔ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ اور سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ کی خلافت میں بعض علاقوں کے گورنر بھی رہے۔ 43 ھ کے بعد وفات پائی۔
حوالہ حدیث السنن المأثورة / باب ما جاء في الصلاة في السفر / حدیث: 15
تخریج حدیث صحيح مسلم، المساجد ومواضع الصلاة باب صلاة المسافرين وقصرها، رقم : 686
حدیث نمبر: 16
أَنْبَأَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ ، قَالَ : أَخْبَرَنَا ابْنُ عَجْلانَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا عِيَاضُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ سَعْدِ بْنِ أَبِي سَرْحٍ ، قَالَ : رَأَيْتُ أَبَا سَعِيدٍ الْخُدْرِيَّ جَاءَ , وَمَرْوَانُ بْنُ الْحَكَمِ يَخْطُبُ , فَقَامَ يُصَلِّي رَكْعَتَيْنِ , فَجَاءَ إِلَيْهِ الْحَرَسُ لِيُجْلِسُوهُ , فَأَبَى أَنْ يَجْلِسَ حَتَّى صَلَّى الرَّكْعَتَيْنِ , فَلَمَّا قَضَيْنَا الصَّلاةَ أَتَيْنَاهُ , فَقُلْنَا لَهُ : يَا أَبَا سَعِيدٍ , كَادَ هَؤُلاءِ أَنْ يَقَعُوا بِكَ , فَقَالَ : مَا كُنْتُ لأَدَعَهُمَا لِشَيْءٍ بَعْدَ شَيْءٍ رَأَيْتُهُ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ جَاءَ رَجُلٌ وَهُوَ يَخْطُبُ , فَدَخَلَ الْمَسْجِدَ بِهَيْئَةٍ بَذَّةٍ , فَقَالَ : " أَصَلَّيْتَ ؟ " قَالَ : لا , قَالَ : " فَصَلِّ رَكْعَتَيْنِ " , قَالَ : ثُمَّ حَثَّ النَّاسَ عَلَى الصَّدَقَةِ , فَأَلْقَوْا ثِيَابًا , فَأَعْطَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الرَّجُلَ فِيهَا ثَوْبَيْنِ , فَلَمَّا كَانَتِ الْجُمُعَةُ الأُخْرَى جَاءَ الرَّجُلُ وَالنَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَخْطُبُ , فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " أَصَلَّيْتَ ؟ " قَالَ : لا , قَالَ : " فَصَلِّ رَكْعَتَيْنِ " , قَالَ : ثُمَّ حَثَّ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ النَّاسَ عَلَى الصَّدَقَةِ , فَطَرَحَ أَحَدَ ثَوْبَيْهِ , فَصَاحَ بِهِ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَقَالَ : " خُذْهُ " , فَأَخَذَهُ , ثُمَّ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " انْظُرُوا إِلَى هَذَا ! جَاءَ تِلْكَ الْجُمُعَةَ بِهَيْئَةٍ بَذَّةٍ , فَأَمَرْتُ النَّاسَ بِالصَّدَقَةِ , فَطَرَحُوا ثِيَابًا , فَأَعْطَيْتُهُ مِنْهَا ثَوْبَيْنِ , فَلَمَّا جَاءَتْ هَذِهِ الْجُمُعَةُ أَمَرْتُ النَّاسَ بِالصَّدَقَةِ , فَجَاءَ فَأَلْقَى أَحَدَ ثَوْبَيْهِ " .
نوید مجید طیب
عیاض بن عبد اللہ بن ابی سرح رحمہ اللہ کہتے ہیں میں نے سیدنا ابوسعید الخدری رضی اللہ عنہ کو دیکھا بروز جمعہ مسجد میں آئے مروان بن الحکم رحمہ اللہ خطبہ دے رہے تھے تو سیدنا ابوسعید رضی اللہ عنہ دو رکعت نماز پڑھنے کھڑے ہوئے پہرے دار ان کو بٹھانے آیا کہ گورنر کا خطبہ سنو لیکن سیدنا ابوسعید الخدری رضی اللہ عنہ نے بیٹھنے سے انکار کیا اور دو رکعت مکمل کیں جب نماز جمعہ ختم ہو گئی ہم سیدنا ابو سعید الخدری رضی اللہ عنہ کے پاس آئے ہم نے کہا: اے ابو سعید رضی اللہ عنہ یہ تو آپ سے ہاتھا پائی کرنے والے تھے سیدنا ابو سعید رضی اللہ عنہ نے کہا: میں تو یہ دو رکعتیں کسی صورت چھوڑنے والا نہیں تھا جبکہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا ہے ایک آدمی پراگندہ حالت میں مسجد میں آیا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم خطبہ ارشاد فرما رہے تھے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس آدمی سے پوچھا: کیا تو نے نماز دو رکعت تحیۃ المسجد پڑھی ؟ اس نے کہا: نہیں آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے حکم دیا کہ دو رکعت پڑھ پھر بیٹھ ، سیدنا ابوسعید رضی اللہ عنہ کہتے ہیں پھر بھی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے لوگوں کو صدقہ کی ترغیب دلائی لوگوں نے کپڑے صدقہ کیے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس آدمی کو دو کپڑے اس صدقہ میں سے دیئے پھر اگلے جمعہ وہی آدمی آیا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم خطبہ دے رہے تھے پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے پوچھا: کیا تو نے نماز دو رکعت پڑھ لی ؟ اس نے کہا: نہیں آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : دو رکعت پڑھ پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم صدقہ کی خطبہ میں ترغیب دینے لگے تو اسی آدمی نے اپنا ایک کپڑا سب سے پہلے پھینکا یعنی ایک چادر صدقہ کرنے کی غرض سے پھینک دی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے دیکھا تو سختی سے کہا: اپنی چادر واپس اٹھاؤ تو اس نے اٹھالی پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اس آدمی کو دیکھو پچھلے جمعہ کو پراگندہ حالت میں آیا تھا میں نے لوگوں کو کہا: صدقہ کرو لوگوں نے کپڑے صدقہ کیے تھے جس سے میں نے اسے دو کپڑے دیئے تھے اور آج صدقہ کا حکم دیا تو اس نے اپنی ایک چادر واپس صدقہ میں پھینک دی۔
حوالہ حدیث السنن المأثورة / باب ما جاء في الصلاة في السفر / حدیث: 16
تخریج حدیث سنن ابی داؤد ،الزكاة، باب الرجل يخرج من ماله، رقم : 1675 وقال الالبانی حسن مختصرا سنن ترمذی، الجمعة، باب الركعتين اذا جاء الرجل والامام يخطب، رقم : 511 وقال الالبانی حسن صحیح بدون ذكر الصدقة، سنن نسائی، الجمعة، باب حث الامام على الصدقة يوم الجمعة في خطبته ، رقم : 1408 وقال الالبانی حسن من غير ذكر الصلاة، سنن ابن ماجة، الصلاة، باب ماجاء فيمن دخل المسجد والامام يخطب ، رقم: 1113 مختصراً۔
حدیث نمبر: 17
وَأَنْبَأَنَا عَبْدُ الْمَجِيدِ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ بْنِ أَبِي رَوَّادٍ ، قَالَ : أَخْبَرَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ ، قَالَ : أَخْبَرَنِي عَمْرُو بْنُ دِينَارٍ ، أَنَّهُ سَمِعَ جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ ، يَقُولُ : جَاءَ رَجُلٌ وَالنَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى الْمِنْبَرِ يَوْمَ الْجُمُعَةِ يَخْطُبُ , فَقَالَ لَهُ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " أَرَكَعْتَ رَكْعَتَيْنِ ؟ " قَالَ : لا , قَالَ : " فَارْكَعْ " .
نوید مجید طیب
سیدنا جابر بن عبد اللہ رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم منبر پر بروز جمعہ خطبہ ارشاد فرما رہے تھے کہ ایک آدمی آیا اُس سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا : کیا تو نے دو رکعت پڑھ لی؟ آدمی بولا نہیں فرمایا : پڑھ۔
حوالہ حدیث السنن المأثورة / باب ما جاء في الصلاة في السفر / حدیث: 17
تخریج حدیث صحيح مسلم، الجمعة، باب التحية والامام يخطب، رقم : 875۔
حدیث نمبر: 18
أَنْبَأَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ دِينَارٍ ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، قَالَ : دَخَلَ رَجُلٌ الْمَسْجِدَ وَالنَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَائِمٌ عَلَى الْمِنْبَرِ يَوْمَ الْجُمُعَةِ يَخْطُبُ , فَقَالَ لَهُ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " أَصَلَّيْتَ ؟ " قَالَ : لا , قَالَ : " فَصَلِّ رَكْعَتَيْنِ " .
نوید مجید طیب
سیدنا جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ ایک آدمی اس وقت مسجد میں داخل ہوا جبکہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم منبر پر کھڑے خطبہ جمعہ ارشاد فرما رہے تھے (وہ آدمی بیٹھنے لگا) آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا: ”کیا تو نے نماز پڑھ لی؟“ اس نے کہا: نہیں آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”دو رکعتیں پڑھو۔“
حوالہ حدیث السنن المأثورة / باب ما جاء في الصلاة في السفر / حدیث: 18
تخریج حدیث صحیح بخاری، الجمعة، باب من جاء والامام يخطب، رقم 931؛ صحیح مسلم، الجمعة، باب التحية والامام يخطب، رقم: 875
حدیث نمبر: 19
وَأَنْبَأَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ ، عَنْ جَابِرٍ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِثْلَهُ , وَزَادَ أَبُو الزُّبَيْرِ : هُوَ سُلَيْكٌ الْغَطَفَانِيُّ .
نوید مجید طیب
ابو الزبیر کی روایت میں حدیث جابر رضی اللہ عنہ کے بعد اتنا اضافہ ہے کہ آنے والے صحابی کا نام سلیک غطفانی رضی اللہ عنہ تھا۔
وضاحت:
➊ سیدنا ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ وہ جلیل قدر صحابی ہیں جو اکثر حکمرانوں کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی سنت و احادیث سکھایا کرتے تھے۔ ایک دفعہ مروان نے خطبہ عید نماز سے پہلے دینا چاہا تو ایک آدمی نے اسے طریقہ نبوی یاد دلایا، سیدنا ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ نے اس آدمی کی حوصلہ افزائی فرمائی۔ [صحیح مسلم: 49]
الحمد للہ آج بھی منہج سلف کے پیروکار علماء حقہ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کے راستے پر چلتے ہوئے عوام و خواص کو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی سنتوں پر عمل پیرا رہنے کے لیے زور دیتے ہیں۔ کثر اللہ امثالهم - ایک دفعہ سیدنا کعب بن عجرہ رضی اللہ عنہ مسجد میں گئے ایک اموی گورنر عبدالرحمن ابن ام حکم بیٹھ کر جمعہ کا خطبہ دے رہا تھا سیدنا کعب بن عجرہ رضی اللہ عنہ نے کہا: اس خبیث کو دیکھو بیٹھ کر خطبہ دے رہا ہے جبکہ اللہ کا فرمان ہے: "اور جب وہ تجارت یا کوئی مشغلہ دیکھتے ہیں تو ادھر ٹوٹ پڑتے ہیں اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو کھڑا جمعہ کا خطبہ دیتے ہوئے چھوڑ جاتے ہیں" [الجمعة: 11] [صحیح مسلم: 864]
➋ معلوم ہوا خطبہ جمعہ کھڑے ہو کر دینا فرض ہے اور یہی نبوی طریقہ ہے جس کی اتباع امت پر لازم ہے۔
➌ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی سنت ہی وہ واحد کسوٹی ہے جو اصلی عاشق اور دودھ پیتے مجنوں میں فرق کرتی ہے۔
➍ مذکورہ جملہ احادیث سے معلوم ہوتا ہے کہ بروز جمعہ مسجد میں دوران خطبہ بھی آنے والا پہلے دو رکعت تحیۃ المسجد پڑھے پھر بیٹھے، آج کل جو عقل پرست لوگوں کو بیٹھا دیتے ہیں پھر درمیان میں سنتوں کا ٹائم دیتے ہیں یہ محض دین سے جہالت کا نتیجہ ہے۔
➎ خطبہ شروع ہونے سے قبل مسجد میں آنے والوں کے لیے نوافل کی تعداد متعین نہیں وہ جتنے چاہیں نوافل پڑھ سکتے ہیں۔
➏ تحیۃ المسجد کا اہتمام حکم نبوی صلی اللہ علیہ وسلم ہے۔
➐ صحابہ کا جذبہ ایمان دیکھیں جس کو خود صدقہ کے کپڑے ملے وہ بھی فضائل صدقہ سن کر صدقہ سے لیا ہوا اللہ کی راہ میں دے دیتا تھا حتی کہ سرکار دو عالم صلی اللہ علیہ وسلم کو خود کہنا پڑتا کہ واپس لے لو یہ تمہارے اپنے ضرورت کی چیز ہے تم ہی اس کا زیادہ حقدار ہو
۔ ➑ یہ بھی معلوم ہوا کہ دوران خطبہ خطیب سامعین سے مخاطب ہو سکتا ہے بات چیت بھی کر سکتا ہے۔ خطبہ جمعہ کے دوران سامعین و حاضرین کا آس پاس لوگوں سے مصافحہ کرنا یا بات چیت کرنا منع ہے لیکن اگر خطیب بلائے تو اس کو جواب بھی دیا جا سکتا ہے۔
➒ سلیک غطفانی رضی اللہ عنہ کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مسلسل دو خطبہ جمعہ میں ایک ہی مسئلہ سمجھایا داعی کو ہر وقت حسب موقع لوگوں کی اصلاح کے لیے کمر بستہ رہنا چاہیے۔
➓ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے مسئلہ سن کر نہ صرف خود عمل کرتے تھے بلکہ جب تک زندہ رہے لوگوں کو بھی عمل کرواتے رہے اور آگے ابلاغ بھی کرتے رہے۔
حوالہ حدیث السنن المأثورة / باب ما جاء في الصلاة في السفر / حدیث: 19
تخریج حدیث سنن ابن ماجه، الصلاة باب ماجاء فيمن دخل المسجد والامام يخطب، رقم: 1112 وقال الالباني: صحيح
حدیث نمبر: 20
عَنْ سُفْيَانَ بْنِ عُيَيْنَةَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي سُلَيْمَانَ ، وَابْنُ عَجْلانَ , عَنْ عَامِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الزُّبَيْرِ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ سُلَيْمٍ الزُّرَقِيِّ ، سَمِعَ أَبَا قَتَادَةَ ، يَقُولُ : رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَؤُمُّ النَّاسَ وَأُمَامَةُ ابْنَةُ أَبِي الْعَاصِ وَهِيَ بِنْتُ زَيْنَبَ بِنْتِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى عَاتِقِهِ , فَإِذَا رَكَعَ وَضَعَهَا , وَإِذَا فَرَغَ مِنَ السُّجُودِ أَعَادَهَا .
نوید مجید طیب
سیدنا ابو قتادہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو میں نے دیکھا آپ لوگوں کی امامت کروا رہے تھے (اور آپ کی نواسی) سیدہ امامہ بنت ابی العاص رضی اللہ عنہا جو سیدہ زینب رضی اللہ عنہا بنت رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی بیٹی تھی وہ آپ کے کندھے پر سوار تھی جب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم رکوع کرتے اسے زمین پر رکھ دیتے جب سجدہ سے فارغ ہوتے دوبارہ اٹھا لیتے۔
حوالہ حدیث السنن المأثورة / باب ما جاء في الصلاة في السفر / حدیث: 20
تخریج حدیث صحيح مسلم، المساجد ومواضع الصلاة باب جواز حمل الصبيان في الصلاة، رقم: 543
حدیث نمبر: 21
وَأَنْبَأَنَا مَالِكُ بْنُ أَنَسٍ ، عَنْ عَامِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الزُّبَيْرِ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ سُلَيْمٍ الزُّرَقِيِّ ، عَنْ أَبِي قَتَادَةَ الأَنْصَارِيِّ ، " أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يُصَلِّي وَهُوَ حَامِلٌ أُمَامَةَ ابْنَةَ زَيْنَبَ بِنْتِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهِيَ لأَبِي الْعَاصِ بْنِ رَبِيعَةَ بْنِ عَبْدِ شَمْسٍ , فَإِذَا سَجَدَ وَضَعَهَا , وَإِذَا قَامَ حَمَلَهَا " .
نوید مجید طیب
سیدنا ابو قتادہ انصاری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدہ امامہ بنت زینب بنت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو اٹھا کر نماز پڑھی جو سیدنا ابو العاص بن ربیع بن عبد شمس رضی اللہ عنہ کی بیٹی تھی جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم سجدہ فرماتے اسے رکھ دیتے جب کھڑے ہوتے پھر اٹھا لیتے۔
وضاحت:
➊ اس حدیث سے معلوم ہوا کہ بچے کو اٹھا کر نماز پڑھنے سے نماز فاسد نہیں ہوتی۔
➋ یہ حدیث مسجد کے متولیوں کو بتاتی ہے کہ چھوٹے بچے مسجد میں آسکتے ہیں بچپن میں آئیں گے تو بڑے ہو کر بھی آئیں گے۔
➌ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جنس عورت کو اٹھا کر مسجد میں لاتے تھے تاکہ امت دیکھ لے عورت کے لیے مسجد کے دروازے بند نہیں۔
➍ یہ حدیث اس عورت کے لیے آسانیاں پیدا کرتی ہے جس کا بچہ رو رہا ہے اور نماز کا وقت بھی ہو چکا کہ وہ بچے کو اٹھا کر بھی نماز پڑھ سکتی ہے۔
➎ سیدہ امامہ رضی اللہ عنہا کا نکاح سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا کی وفات کے بعد 11ھ کو سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے ہوا، سیدنا علی رضی اللہ عنہ کی شہادت کے بعد مغیرہ بن نوفل رضی اللہ عنہ کے عقد میں تاحیات رہیں۔
➏ نماز میں بوقت ضرورت حرکات کرنا جائز ہے۔ نماز میں ہر حرکت منع نہیں بلکہ سلام کا اشارے سے جواب دیا جا سکتا ہے۔ موذی چیز سانپ وغیرہ کو قتل کیا جا سکتا ہے۔ ہاتھ کے قریب دروازہ ہے تو کھولا جا سکتا ہے۔ جوتا اتارا جا سکتا ہے، تکلیف دہ چیز ایک حرکت سے ہٹائی جا سکتی ہے، موبائل فون نماز کے دوران شور کرے تو اسے بند کیا جا سکتا ہے۔ جان لیوا شے سے بچایا جا سکتا ہے جیسے بجلی کا سوئچ بند کر دینا وغیرہ، آگے سے گزرنے والے کو لڑائی کی حد تک روکا جا سکتا ہے۔ بچے کو اٹھایا جا سکتا ہے، مہالک سے بچایا جا سکتا ہے یہ وہ فقہ الدین ہے جس سے نام نہاد فقیہ عاری ہے۔
حوالہ حدیث السنن المأثورة / باب ما جاء في الصلاة في السفر / حدیث: 21
تخریج حدیث صحيح بخارى، الصلاة، باب اذا حمل جارية صغيره على عنقه في الصلاة، رقم: 516، صحيح مسلم، المساجد ومواضع الصلاة باب جواز حمل الصبيان في الصلاة، رقم: 543