حدیث نمبر: 95
وَأَنْبَأَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ ، عَنِ ابْنِ أَبِي ذِئْبٍ , عَنْ يَزِيدَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ قُسَيْطٍ ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ يَسَارٍ ، عَنْ زَيْدِ بْنِ ثَابِتٍ ، " أَنَّهُ قَرَأَ عِنْدَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِالنَّجْمِ فَلَمْ يَسْجُدْ فِيهَا " .
نوید مجید طیب

سیدنا زید بن ثابت رضی اللہ عنہ سے روایت ہے انہوں نے رسول اللہ ﷺ کے پاس سورہ نجم کی تلاوت کی آپ ﷺ نے سجدہ تلاوت نہیں کیا۔

وضاحت:
➊ سجدہ تلاوت فرض یا واجب نہیں ہے۔
➋ سجدہ تلاوت کا حکم تلاوت قرآن کا ہے۔ جو چیزیں تلاوت قرآن کے لیے ضروری ہیں وہی سجدہ تلاوت کے لیے ضروری ہیں۔
حوالہ حدیث السنن المأثورة / باب ما جاء في الصلاة على الراحلة / حدیث: 95
تخریج حدیث صحیح بخاری سجود القرآن باب من قرأ السجدة ولم يسجد ، رقم: 1072 ، صحیح مسلم، المساجد ومواضع الصلاة، باب سجود التلاوة، رقم : 577۔