حدیث نمبر: 94
أَنْبَأَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ ، عَنْ عَاصِمِ بْنِ بَهْدَلَةَ ، عَنْ بَكْرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ الْمُزَنِيِّ ، قَالَ : جَاءَ رَجُلٌ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ : رَأَيْتُ كَأَنَّ رَجُلا يَكْتُبُ الْقُرْآنَ فَلَمَّا مَرَّ بِالسَّجْدَةِ الَّتِي فِي ص سَجَدَتْ شَجَرَةٌ ، فَقَالَتِ : اللَّهُمَّ أَعْطِنِي بِهَا أَجْرًا وَاحْطُطْ بِهَا وِزْرًا أَوْ أَحْدِثْ بِهَا شُكْرًا . فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " فَنَحْنُ أَحَقُّ بِالسُّجُودِ مِنَ الشَّجَرَةِ " فَسَجَدَهَا وَأَمَرَ بِالسُّجُودِ فِيهَا .
نوید مجید طیب

بکر بن عبد اللہ رحمہ اللہ کہتے ہیں ایک آدمی رسول اللہ ﷺ کے پاس حاضر ہوا اور کہا کہ میں نے (خواب میں) ایک بندہ دیکھا جو قرآن لکھ رہا تھا، جب سورۃ ص کے سجدے پر پہنچا تو پاس درخت تھا جو سجدے میں گر گیا اور درخت نے کہا : ”اے اللہ! اس کے بدلے تو میرے لیے اجر لکھ دے اور میرا بوجھ مٹا دے، اور اس کو سجدہ شکر بنا دے۔“ نبی اکرم ﷺ نے یہ خواب سن کر فرمایا: ”ہم درخت سے زیادہ سجدہ کرنے کے حقدار ہیں۔“ پس رسول اللہ ﷺ نے سجدہ کیا اور اس سورت میں سجدہ کا حکم بھی دیا۔

وضاحت:
➊ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما نے بیان کیا ایک آدمی نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا تو اس نے کہا: اے اللہ کے رسول! رات میں نے خواب میں خود کو ایک درخت کے پیچھے نماز پڑھتے دیکھا، میں نے نماز میں سجدہ تلاوت کیا تو درخت نے بھی میرے ساتھ سجدہ کیا اور میں نے اسے پڑھتے سنا: ﴿اللهم اكتب لى بها عندك اجراً وضع عنى بها وزراً واجعلها لي عندك ذخرا و تقبلها منى كما تقبلتها من عبدك داؤد﴾ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں بعد ازاں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے بھی سجدہ تلاوت میں اس دعا کو پڑھا۔ [سنن ترمذی: 3424]
➋ سجدہ تلاوت مسنون ہے۔
➌ سجدہ تلاوت کا حکم تلاوت قرآن کا حکم ہے۔
حوالہ حدیث السنن المأثورة / باب ما جاء في الصلاة على الراحلة / حدیث: 94
تخریج حدیث السنن الكبرى للبيهقي : 320/2 ، مستدرك حاكم: 432/2 وقال الذهبي على شرط مسلم، مجمع الزوائد للهيثمي : 284/2 وقال رواه احمد ورجاله رجال الصحيح، السلسلة الصحيحة للالباني : 472/6۔