حدیث نمبر: 96
وَأَنْبَأَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ ، عَنِ ابْنِ أَبِي ذِئْبٍ ، عَنِ الْحَارِثِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ ثَوْبَانَ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، " أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَرَأَ بِالنَّجْمِ فَسَجَدَ فِيهَا وَسَجَدَ النَّاسُ مَعَهُ إِلا رَجُلَيْنِ قَالَ : أَرَادَا الشُّهْرَةَ " .
نوید مجید طیب

سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے رسول اللہ ﷺ نے سورۃ نجم کی تلاوت فرمائی اور سجدہ تلاوت کیا تمام لوگوں نے آپ ﷺ کے ساتھ سجدہ کیا ماسوائے دو آدمیوں کے انہوں نے مشہور ہونے کے لیے سجدہ نہ کیا۔

وضاحت:
➊ جیسے شیطان سجدہ نہ کر کے مشہور ہوا، یہ مکہ کا واقعہ ہے تمام کافر بھی سجدہ میں پڑ گئے تھے سوائے ایک دو کے جو کہ امیہ بن خلف، عتبہ بن ربیعہ یا ولید بن مغیرہ تھے جو کفر کی حالت میں ہی مرے۔
➋ سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ نے ایک آدمی کا ذکر کیا ہے جبکہ سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ نے دو آدمیوں کا، ہر ایک نے اپنے علم کے مطابق بیان کر دیا کوئی تعارض نہیں۔
حوالہ حدیث السنن المأثورة / باب ما جاء في الصلاة على الراحلة / حدیث: 96
تخریج حدیث مسند احمد : 404/13، رقم : 8034 وقال الارنوؤط: اسناده قوی ، سنن دار قطنی : 409/1 ، مصنف ابن ابى شيبة : 8/2۔