حدیث نمبر: 93
أَنْبَأَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ ، عَنْ عَبْدَةَ بْنِ أَبِي لُبَابَةَ ، وَعَاصِمِ ابْنِ بَهْدَلَةَ ، عَنْ زِرِّ بْنِ حُبَيْشٍ ، قَالَ : سَأَلْتُ أُبَيَّ بْنَ كَعْبٍ عَنِ الْمُعَوِّذَتَيْنِ ، فَقُلْتُ لَهُ : إِنَّ أَخَاكَ ابْنَ مَسْعُودٍ يُحْكِمُهَا مِنَ الْمُصْحَفِ ، فَقَالَ : إِنِّي سَأَلْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَقَالَ : قِيلَ لِي ، فَقُلْتُ : فَنَحْنُ نَقُولُ كَمَا قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ .
نوید مجید طیب

زر بن حبیش رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ میں نے سیدنا ابی بن کعب رضی اللہ عنہ سے معوذتین (سورۃ الفلق اور سورۃ الناس) کے بارے میں سوال کیا اور ان سے کہا کہ آپ کے دینی بھائی ابن مسعود رضی اللہ عنہ ان دونوں سورتوں کو مصحف سے کھرچ دیتے ہیں، تو سیدنا ابی بن کعب رضی اللہ عنہ نے فرمایا : میں نے اس بارے میں رسول اللہ ﷺ سے پوچھا تھا، تو آپ ﷺ نے فرمایا : (جبرائیل کے واسطے سے) مجھے یوں کہا گیا کہ ایسا کہو ﴿قل اعوذ...﴾ (یعنی وہی آئی) میں نے ﴿قل اعوذ...﴾ کہا سیدنا ابی بن کعب رضی اللہ عنہ نے فرمایا ہم بھی وہی کہتے ہیں جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا۔

وضاحت:
➊ سیدنا عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کا خیال یہ تھا کہ معوذتین کا نزول محض دم کے لیے ہوا ہے یہ دعائیہ کلمات ہیں جبکہ دیگر صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے ان کو مستقل قرآنی سورتیں شمار کیا ہے اور یہی بات صحیح اور راجح ہے کہ یہ قرآنی سورتیں ہیں۔
➋ عہد صحابہ میں عام لوگ اپنے اشکال دور کرنے کے لیے مختلف اہل علم اصحاب رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف رجوع کرتے تھے۔
➌ سیدنا عقبہ بن عامر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں معوذتین کے ساتھ نماز فجر کی امامت کرائی۔ اس حدیث سے بھی یہی بات ثابت ہوتی ہے یہ دونوں سورتیں قرآن کا حصہ ہیں، ممکن ہے سیدنا عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کو یہ بات نہ پہنچی ہو۔ [سنن ابی داؤد: 1462]
حوالہ حدیث السنن المأثورة / باب ما جاء في الصلاة على الراحلة / حدیث: 93
تخریج حدیث صحیح بخاری، التفسير ، باب سورة قل اعوذ برب الناس، رقم : 4977۔