حدیث نمبر: 92
أَنْبَأَنَا مَالِكُ بْنُ أَنَسٍ ، عَنْ حَمْزَةَ بْنِ سَعِيدٍ الْمَازِنِيِّ ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُتْبَةَ ، أَنَّ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ سَأَلَ أَبَا وَاقِدٍ اللَّيْثِيَّ مَاذَا كَانَ يَقْرَأُ بِهِ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي الأَضْحَى وَالْفِطْرِ ؟ قَالَ : " كَانَ يَقْرَأُ ق ، وَالْقُرْآنِ الْمَجِيدِ ، وَاقْتَرَبَتِ السَّاعَةُ ، وَانْشَقَّ الْقَمَرُ " .
نوید مجید طیب

سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے ابو واقد لیثی رضی اللہ عنہ سے پوچھا کہ رسول اللہ ﷺ عید الاضحی اور عید الفطر کی نماز میں کون سی سورتیں پڑھتے تھے؟ انہوں نے کہا کہ آپ ﷺ سورہ ق اور سورہ قمر کی تلاوت فرماتے تھے۔

وضاحت:
➊ عیدین کی نمازوں میں قرآۃ بالجہر ہے۔
➋ نماز جمعہ اور نماز عیدین کی پہلی رکعت میں سورۃ الاعلیٰ اور دوسری رکعت میں سورۃ الغاشیہ کی تلاوت بھی مسنون ہے۔ اگر بروز جمعہ عید ہو تو نماز جمعہ اور نماز عید دونوں میں ان سورتوں کی تلاوت کرنی چاہیے۔ [صحیح مسلم: 878]
حوالہ حدیث السنن المأثورة / باب ما جاء في الصلاة على الراحلة / حدیث: 92
تخریج حدیث صحیح مسلم، صلاة العيدين، باب ما يقرأ به في صلاة العيدين، رقم : 891۔