السنن المأثورة
باب ما جاء في الصلاة على الراحلة— سواری پر نماز پڑھنے کا بیان
باب ما جاء في الصلاة على الراحلة باب: سواری پر نماز پڑھنے کا بیان
حدیث نمبر: 91
أَنْبَأَنَا عَبْدُ الْوَهَّابِ بْنُ عَبْدِ الْمَجِيدِ ، قَالَ : سَمِعْتُ يَحْيَى بْنَ سَعِيد ، قَالَ : أَخْبَرَنِي عَدِيُّ بْنُ ثَابِتٍ ، عَنِ الْبَرَاءِ بْنِ عَازِبٍ ، أَنَّهُ أَخْبَرَهُ ، " أَنَّهُ صَلَّى مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْعِشَاءَ فَقَرَأَ فِيهَا بِالتِّينِ وَالزَّيْتُونِ " .نوید مجید طیب
سیدنا براء بن عازب رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے عشاء کی نماز میں سورۃ والتین کی تلاوت فرمائی۔
وضاحت:
➊ گزشتہ احادیث میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا مختلف نمازوں میں مختلف سورتیں قراءت کرنے کا بیان ہے، نماز مغرب میں سورۃ الطور اور المرسلات کی تلاوت بھی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کی جبکہ آج کل اتنی لمبی سورتیں نماز فجر میں پڑھی جاتی ہیں، کیونکہ اکثر لوگ سمجھتے ہیں کہ شاید مغرب کا وقت بہت کم ہے صرف سورۃ الکوثر، الفلق، الناس کی ہی گنجائش ہے جبکہ ایسا نہیں کبھی کبھار لوگوں کی ذہن سازی کر کے نماز مغرب میں سورۃ الطور یا المرسلات بھی پڑھ لینی چاہیے۔
➋ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے عشاء میں ﴿وَالتِّينِ﴾ کی بھی تلاوت کی حالانکہ عشاء کا وقت رات کے آخری پہر تک ہے تو حالات کے پیش نظر تلاوت کم زیادہ کی جا سکتی ہے جیسا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے نماز فجر میں معوذتین بھی پڑھیں اور سورۃ الزلزال بھی بیان جواز کے لیے پڑھی۔
ان دلائل سے یہ بات واضح ہوتی ہے کہ مختلف نمازوں میں چھوٹی، بڑی سورتوں کی تلاوت کی جا سکتی ہے البتہ نماز فجر میں ساٹھ سے سو آیات کی کم از کم تلاوت ہونی چاہیے۔ [صحیح بخاری: 547، صحیح مسلم: 461]
➋ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے عشاء میں ﴿وَالتِّينِ﴾ کی بھی تلاوت کی حالانکہ عشاء کا وقت رات کے آخری پہر تک ہے تو حالات کے پیش نظر تلاوت کم زیادہ کی جا سکتی ہے جیسا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے نماز فجر میں معوذتین بھی پڑھیں اور سورۃ الزلزال بھی بیان جواز کے لیے پڑھی۔
ان دلائل سے یہ بات واضح ہوتی ہے کہ مختلف نمازوں میں چھوٹی، بڑی سورتوں کی تلاوت کی جا سکتی ہے البتہ نماز فجر میں ساٹھ سے سو آیات کی کم از کم تلاوت ہونی چاہیے۔ [صحیح بخاری: 547، صحیح مسلم: 461]