حدیث نمبر: 83
أَنْبَأَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي سُلَيْمَانَ ، سَمِعْتُ عِرَاكَ بْنَ مَالِكٍ ، سَمِعْتُ أَبَا هُرَيْرَةَ ، يَقُولُ : " وَرَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِخَيْبَرَ وَرَجُلٌ مِنْ بَنِي غَفَّارٍ يَؤُمُّ النَّاسَ فَسَمِعْتُهُ يَقْرَأُ فِي صَلاةِ الصُّبْحِ فِي الرَّكْعَةِ الأُولَى بِسُورَةِ مَرْيَمَ ، وَفِي الثَّانِيَةِ : قَدِمْتُ الْمَدِينَةَ بِ وَيْلٌ لِلْمُطَفِّفِينَ " . وَكَانَ عِنْدَنَا رَجُلٌ لَهُ مِكْيَالانِ يَأْخُذُ بِأَحَدِهِمَا وَيُعْطِي بِالآخَرِ ، فَقُلْتُ : وَيْلٌ لِفُلانٍ .
نوید مجید طیب

سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ وہ مدینہ آئے، رسول اللہ ﷺ خیبر فتح کرنے گئے ہوئے تھے، بنی غفار کا ایک آدمی لوگوں کو امامت کرا رہا تھا، میں نے نماز فجر میں اسے پہلی رکعت میں سورۃ مریم اور دوسری میں سورة المطففين پڑھتے ہوئے سنا (چونکہ اس سورۃ میں ناپ تول میں کمی کرنے والوں کی مذمت کی گئی ہے) تو ہمارے علاقے کا ایک آدمی تھا جس نے دو ترازو رکھے ہوئے تھے، اگر سامان خریدنا ہو تو ایک ترازو سے وزن کرتا اور اگر سامان بیچنا ہوتا تو دوسرے ترازو سے وزن کرتا، تو میں نے کہا : ہلاکت ہو فلاں کے لیے۔

وضاحت:
➊ سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ 7 ہجری کو اسلام لائے پھر مدینہ آئے تو پتہ چلا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم خیبر کے لیے نکل چکے ہیں تو سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ بھی آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پیچھے خیبر چلے گئے جب خیبر پہنچے تو خیبر فتح ہو چکا تھا، ان کو بھی مال غنیمت سے حصہ ملا، علم پر بہت حریص تھے چند سال رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی صحبت نصیب ہوئی لیکن سب صحابہ کرام رضی اللہ عنہم سے حفظ حدیث میں سبقت لے گئے آپ کی روایات کی تعداد پانچ ہزار تین سو چوہتر (5374) ہے، امام نووی رحمہ اللہ فرماتے ہیں: سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ کی ایک بڑی منقبت یہ بھی ہے کہ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم میں سے انہوں نے سب سے زیادہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے حدیثیں بیان کی ہیں۔ ان کے حافظے کے لیے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے خاص دعا فرمائی تھی۔ [شرح النووی: 67/1]
➋ سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں مجھ سے زیادہ کسی صحابی کے پاس رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی احادیث نہیں سوائے عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما کے، کیونکہ وہ لکھا کرتے تھے اور میں لکھتا نہیں تھا۔ [صحیح بخاری: 113]
➌ حدیث میں ناپ تول کا بھی بیان ہے کم تولنا بہت بڑا گناہ ہے۔ قوم شعیب علیہ السلام اس گناہ کے سبب ہلاک ہوئی، عصر حاضر میں مسلم دکاندار کس قدر دھوکے کا شکار ہیں۔
➍ ناپ تول میں کمی کرنے والوں کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے قحط سالی، مشکلات اور ظالم حکمرانوں کے تسلط کی وعید سنائی ہے۔ [سنن ابن ماجہ: 4019]
حوالہ حدیث السنن المأثورة / باب ما جاء في الصلاة على الراحلة / حدیث: 83
تخریج حدیث مسند احمد: 226/14، رقم : 8552 وقال الارنوؤط: اسناده صحیح علی شرط الشيخين ، السنن الكبرى للبيهقي : 390/2۔