السنن المأثورة
باب ما جاء في الصلاة على الراحلة— سواری پر نماز پڑھنے کا بیان
باب ما جاء في الصلاة على الراحلة باب: سواری پر نماز پڑھنے کا بیان
أَنْبَأَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي سُلَيْمَانَ ، سَمِعْتُ عِرَاكَ بْنَ مَالِكٍ ، سَمِعْتُ أَبَا هُرَيْرَةَ ، يَقُولُ : " وَرَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِخَيْبَرَ وَرَجُلٌ مِنْ بَنِي غَفَّارٍ يَؤُمُّ النَّاسَ فَسَمِعْتُهُ يَقْرَأُ فِي صَلاةِ الصُّبْحِ فِي الرَّكْعَةِ الأُولَى بِسُورَةِ مَرْيَمَ ، وَفِي الثَّانِيَةِ : قَدِمْتُ الْمَدِينَةَ بِ وَيْلٌ لِلْمُطَفِّفِينَ " . وَكَانَ عِنْدَنَا رَجُلٌ لَهُ مِكْيَالانِ يَأْخُذُ بِأَحَدِهِمَا وَيُعْطِي بِالآخَرِ ، فَقُلْتُ : وَيْلٌ لِفُلانٍ .سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ وہ مدینہ آئے، رسول اللہ ﷺ خیبر فتح کرنے گئے ہوئے تھے، بنی غفار کا ایک آدمی لوگوں کو امامت کرا رہا تھا، میں نے نماز فجر میں اسے پہلی رکعت میں سورۃ مریم اور دوسری میں سورة المطففين پڑھتے ہوئے سنا (چونکہ اس سورۃ میں ناپ تول میں کمی کرنے والوں کی مذمت کی گئی ہے) تو ہمارے علاقے کا ایک آدمی تھا جس نے دو ترازو رکھے ہوئے تھے، اگر سامان خریدنا ہو تو ایک ترازو سے وزن کرتا اور اگر سامان بیچنا ہوتا تو دوسرے ترازو سے وزن کرتا، تو میں نے کہا : ہلاکت ہو فلاں کے لیے۔
➋ سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں مجھ سے زیادہ کسی صحابی کے پاس رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی احادیث نہیں سوائے عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما کے، کیونکہ وہ لکھا کرتے تھے اور میں لکھتا نہیں تھا۔ [صحیح بخاری: 113]
➌ حدیث میں ناپ تول کا بھی بیان ہے کم تولنا بہت بڑا گناہ ہے۔ قوم شعیب علیہ السلام اس گناہ کے سبب ہلاک ہوئی، عصر حاضر میں مسلم دکاندار کس قدر دھوکے کا شکار ہیں۔
➍ ناپ تول میں کمی کرنے والوں کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے قحط سالی، مشکلات اور ظالم حکمرانوں کے تسلط کی وعید سنائی ہے۔ [سنن ابن ماجہ: 4019]