حدیث نمبر: 84
أَنْبَأَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ ، حَدَّثَنَا زِيَادُ بْنُ عِلاقَةَ قَالَ : سَمِعْتُ الْمُغِيرَةَ بْنَ شُعْبَةَ ، يَقُولُ : قَامَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَتَّى تَوَرَّمَتْ قَدَمَاهُ فَقِيلَ : أَلَيْسَ قَدْ غَفَرَ اللَّهُ لَكَ مَا تَقَدَّمَ مِنْ ذَنْبِكَ وَمَا تَأَخَّرَ ؟ فَقَالَ : " أَفَلا أَكُونُ عَبْدًا شَكُورًا " . ═════ متابعت ═════ أَخْبَرَنَا الطَّحَاوِي ، قَالَ الرَّبِيعُ بْنُ سُلَيْمَانَ الْجِيزِيُّ قَالَ : سَعِيدُ بْنُ أَبِي مَرْيَمَ ، قَالَ : أَنْبَأَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ سُوَيْدِ بْنِ حَيَّانَ ، قَالَ : أَنْبَأَنَا أَبُو صَخْرٍ عَنْ يَزِيدَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ قُسَيْطٍ ، عَنْ عُرْوَةَ ، عَنْ عَائِشَةَ زَوْجِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَتْ : كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا صَلَّى قَامَ حَتَّى تَنْفَطِرَ رِجْلاهُ ، قَالَتْ عَائِشَةُ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، أَتَصْنَعُ هَذَا وَقَدْ غَفَرَ اللَّهُ لَكَ مَا تَقَدَّمَ مِنْ ذَنْبِكَ وَمَا تَأَخَّرَ ! قَالَ : " أَفَلا أَكُونُ عَبْدًا شَكُورًا " .
نوید مجید طیب

سیدنا مغیرہ بن شعبہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اتنا لمبا قیام کیا کہ پاؤں سوج گئے آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے کہا گیا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو لمبے قیام کی کیا ضرورت ہے آپ کی تو اللہ تعالی نے بخشش فرما دی ہے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ”کیا میں اللہ کا شکر گزار بندہ نہ بن جاؤں؟“

وضاحت:
➊ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نماز تہجد میں لمبا قیام فرماتے تھے۔
➋ اللہ تعالیٰ نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو گناہوں اور غلطیوں سے پاک کر دیا ہے۔
➌ انسان پر جس قدر اللہ رب العزت کی نوازشیں اور عنایتیں ہوں اس کو اسی قدر شکر گزار بن کر زندگی گزارنی چاہیے۔ ہمارے ہاں لوگوں کا معاملہ بالکل مختلف ہے جس کے پاس جتنا زیادہ ہے وہ اتنا ہی شریعت سے دور اور عبادات سے بعید ہے۔ «اعاذنا الله منه!»
➍ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اطمینان، سکون، خشوع و خضوع اور ترتیل سے قرآن کی تلاوت فرماتے تھے، عبادت چاہے دو ہی رکعت ہو آرام آرام سے کرنی چاہیے، جو ایک رات میں کئی سو یا ہزار نوافل پڑھ کر خوش ہوتے ہیں نہ رکوع میں اطمینان نہ سجدے میں بلکہ کوے کی طرح ٹھونگے مارتے ہیں ایسی نماز کا کوئی فائدہ نہیں فرشتے منہ پر مار دیتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ کو بغیر سنت عمل کے پڑھی نمازیں نہیں چاہئیں ایک آدمی کو صحابی رسول سیدنا حذیفہ رضی اللہ عنہ نے ایسی نماز پڑھتے دیکھا جس میں رکوع و سجود مکمل نہ تھے تو فرمایا: تو نے نماز نہیں پڑھی اگر ایسی نمازیں پڑھتے مر گیا تو تیری موت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے طریقے پر نہیں ہوگی۔ [صحیح بخاری: 389]
بلکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے «مسيء الصلاة» والی حدیث میں ایسی تیز نماز پڑھنے پر فرمایا: «ارجع فصل فإنك لم تصل» جاؤ واپس پھر پڑھو تم نے نماز نہیں پڑھی۔ [صحیح بخاری: 757]
حوالہ حدیث السنن المأثورة / باب ما جاء في الصلاة على الراحلة / حدیث: 84
تخریج حدیث صحیح بخاری، التفسير ، باب قوله ليغفر لك الله ما تقدم من ذنبك وما تأخر، رقم : 4836 ، صحیح مسلم صفة القيامة والجنة والنار، باب اكثار الاعمال والاجتهاد في العبادة، رقم : 2819۔